Saba 34:38

Saba · from ayah 38

34:38

وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓىِٕكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ ۟وَالَّذِيۡنَ يَسۡعَوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ اُولٰٓئِكَ فِى الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ

جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the ones who strive against Our verses to cause [them] failure - those will be brought into the punishment [to remain].

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:38

رہے وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں، تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے مقابلے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں یہی ہیں جو عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کو ناکام بنائیں، ان کو عذاب میں دھر لیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہو جو ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں وہ عذاب میں لادھرے جائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں (مخالفانہ) کوشش کرتے ہیں (ہمیں) عاجز کرنے کے گمان میں، وہی لوگ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو لوگ ہماری آیات کے بارے میں کوشش کرتے ہیں، اس حال میں کہ نیچا دکھانے والے ہیں، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ ہماری آیات کو نیچا دکھانے میں زور صرف کر رہے ہیں۔ انہیں عذاب میں حاضر کیا جائے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو زک دینے کے لئے ہماری آیات کے ابطال کی راہ میں سرگرم ہیں وہ لوگ عذاب میں داخل کئے جائیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں وہ عذاب میں پکڑے ہوئے حاضر کئے جائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے باب میں کوشش کررہے ہیں (نبی کو) ہرانے کے لئے تو وہی لوگ عذاب میں لائے جائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ جو کوشش کر رہے ہیں ہماری آیات کو ناکام کرنے کی وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہر ادیں وہ عذاب میں پکڑے ہوئے آئیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those who work against Our Signs so as to frustrate them, they shall be arraigned into the chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who strive against our signs trying to frustrate (them), they will be arraigned into the torment.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who strive against our signs trying to frustrate (them), they will be arraigned into the torment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who strive against Our Ayat, to frustrate them, they will be brought to the torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And as for those who strive against Our revelations, challenging, they will be brought to the doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the ones who strive against Our verses to cause [them] failure - those will be brought into the punishment [to remain].

— Saheeh International

Those who try to challenge Our revelations will be driven into torment.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who strive in opposing Our communications, they shall be caused to be brought to the chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

And those who endeavour to frustrate Our signs, Unto the torment they will be brought.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who strive against Our Signs, to frustrate them, will be given over into Punishment.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–39

نبی اکرم کے لئے تسلیاں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے۔ فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا، ہاں غربا نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنی نبی سے کہا تھا (قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ01101ۭ) 26۔ الشعراء :111) ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ یہی مضمون دوسری آیت (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ 27 ؀) 11۔ ھود :27) ، میں ہے۔ قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے ہیں (اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–38

سورة سَبـَا 57 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ سے قریب کرنے والی چیز مال اور اولاد نہیں ہے بلکہ ایمان و عمل صالح ہے۔ دوسرے یہ کہ مال اور اولاد صرف اس مومن صالح انسان ہی کے لیے ذریعہ تقرُّب بن سکتے ہیں جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اپنی اولاد کو اچھی تعلیم و تربیت سے خدا شناس اور نیک کردار بنانے کی کوشش کرے۔ سورة سَبـَا 58 اس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ ان کی یہ نعمت لازوال ہوگی اور اس اجر کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ کیونکہ جس عیش کے کبھی ختم ہوجانے کا خطرہ ہو اس سے انسان پوری طرح مطمئن ہو کر لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ اس صورت میں یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–38

(آیت) فاؤ لئک لہم جزاء الضعفب بما عملوا وہم فی الغرفات امنون، یہ ایمان و عمل صالح والوں کا حال بتلایا گیا ہے، کہ اللہ کے نزدیک مقبول یہی لوگ ہیں، دنیا میں کوئی ان کی قدر پہچانے یا نہ پہچانے، آخرت میں ان کو جزائے ضعف ملے گی۔ ضعف بکسر ضاد مصدر ہے جس کے معنی ایک شے کے مثل یا امثال کے آتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں دولت والے اپنی دولت کو بڑھانے میں لگے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی جزاء کو آخرت میں بڑھا دیں گے، کہ ایک عمل کی جزاء اس کے دس امثال ہوں گے اور اس میں بھی منحصر نہیں، اس کے اخلاص عمل اور دوسرے اسباب سے ایک عمل کی جزا اس کے سات سو گنا تک ملنا بھی احادیث صحیحہ میں ثابت ہے۔…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

والذین یسعون فی ایتنا معجزین اولئک فی العذاب محضرون (38) یہ ان لوگوں کے انجام کا بیان ہے جہوں نے مال واولاد کی زیادتی کو اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور رسول کو زچ کرنے کے لئے دلیل کے طور پر استعمال کیا۔ فرمایا کہ یہ لوگ پکڑ کر خدا کے عذاب میں لائے جائیں گے تاکہ اپنے کبر وغرو کی سزا بھگتیں۔ لفظ محضروان میں ان کی ذلت اور بےبسی کی جو تصویر ہے وہ ظاہر ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 37–38

37۔ 1 یعنی یہ مال اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہمیں تم سے محبت ہے اور ہماری بارگاہ میں تمہیں خاص مقام حاصل ہے۔ 37۔ 2 یعنی ہماری محبت اور قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تو صرف ایمان اور عمل صالح ہے جس طرح حدیث میں فرمایا ' اللہ تعالیٰ تمہاری شکلیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا، وہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے (صحیح مسلم) 37۔ 3 بلکہ کئی کئی گنا، ایک نیکی کا اجرکم از کم دس گنا مزید سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 36–40

18: اصل بات نہ سمجھنے کی وجہ سے انہیں یہ خیال ہوگیا ہے کہ جب دنیا میں انہیں مال و دولت میسر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں، حالانکہ دنیا میں رزق دینے کا معیار اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ جو جتنا مقرب ہو، اسے اتنا ہی زیادہ رزق دیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے تحت یہاں جس کو چاہتا ہے، رزق زیادہ دیتا ہے، اس کا اللہ تعالیٰ کے تقرب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 37–38

وما اموالکم ولا اولادکم ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (27 – 28) نہایت صراحت کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ رزق کی فراوانی کے ذریعہ کوئی اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوجاتا۔ ہاں اگر کوئی اپنی دولت میں سے فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے تو وہ اللہ کے ہاں مفید ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جو بدبخت اللہ کی آیات کو رد کرتے اور ان پر طعن کر کے لوگوں کو ادھر سے روکتے ہیں گویا سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ و رسول کو ہرا دیں گے۔ وہ سب عذاب میں گرفتار ہو کر حاضر کیے جائیں گے ایک بھی چھوٹ کر نہ بھاگ سکے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 38 { وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِکَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ } ”اور وہ لوگ جو کوشش کر رہے ہیں ہماری آیات کو ناکام کرنے کی وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔“ آیاتِ الٰہی کے نزول کا مقصد تو ایمان کی روشنی کو پھیلانا اور لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانا ہے۔ چناچہ جو لوگ اس عمل کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

58 نیچا دکھانے سے مراد ان کا مذاق اڑانا، انہیں تسلیم نہ کرنا، اللہ کے راستے میں روڑے اٹکانا، ایمانداروں کو ایذائیں دینا، اور ایسی تدبیریں اور سازشیں تیار کرنا جن سے وہ اسلام کو کمزور یا نیست و نابود کرسکیں۔ سب باتیں شامل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 38–39

55۔ تونگری، خوشحالی، اور فقروناداری کا تعلق دنیا کے تکوینی وانتظامی معاملات سے ہے اسے حق وصداقت کا معیار قرار دینا خود ایک باطل پرستی ہے۔ (آیت) ” یسعون فی ایتنا “۔ یہ کوششیں آیات الہی کے ابطال کی تھیں۔ اے فی ابطالھا (مدارک) ایات کی تعمیم میں کلام الہی، احکام الہی، معجزات نبوی ﷺ سب داخل ہیں۔ 56۔ (سو اس کے کاموں میں خرچ کرنے سے مفلسی کا ڈر کیوں مانع ہو) (آیت) ” ان ...... لہ “۔ معاش کی ساری راہوں کی آخری کلید اسی کے ہاتھ میں ہے۔ (آیت) ” وما انفقتم من شیء “۔ یعنی مرضیات الہی کے ماتحت جو خفیف سا بھی خرچ کرو گے۔ (آیت) ” فھو یخلفہ “۔ یہ عوض آخرت میں تو بہر حال ملے گا۔ اور کبھی دنیا میں بھی مل جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–45

آیت نمبر 37 تا 45 ترجمہ : اور تمہارے مال و اولاد ایسی چیز نہیں جو تم کو ہمارا مقرب بنادیں، ہاں ! جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے مثلاً نیک اعمال کی جزاء دس گنا یا اس سے بھی زیادہ اور وہ جنت کے بالا خانوں میں موت وغیرہ سے بےخوف ہوں گے اور ایک قراءت میں اَلغُرْفَۃُ ہے اور یہ معنی میں جمع کے ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں قرآن کے باطل کرنے کی تگ ودو میں ہم کو عاجز سمجھ کر لگے رہتے ہیں، یہ سمجھ کر ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، یہی ہیں وہ جو عذاب میں پکڑ کر حاضر کئے جائیں گے، آپ کہہ دیجئے میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے روزی امتحاناً کشادہ کردیتا ہے اور اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین یسعون فی ایتنا معجزین اولیک فی العذاب محضرون اور جو لوگ ہماری آیتوں کے متعلق ان کے ابطال کی کوشش کر رہے ہیں نبی کو ہرانے کیلئے ‘ ایسے لوگ عذاب میں لائے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں وہ ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتے ایسے لوگوں کو جہنم میں عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حج (51) اور سورة سبا (5) ”مُحْضَرُوْنَ“ یعنی کبھی تھوڑی دیر کے لیے بھی اس سے غائب نہیں ہو سکیں گے، ہمیشہ اس میں حاضر رکھے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 37–38

آیت : فا و لئک لھم جذاء الضعف بما عملوا اس سے مراد یہی قول ہے ـ: آیت : من جاء با لحسنتہ فلہ عشر امثالھا (الانعام : 160) ضعف کا معنی زیادتی ہے، یعنی ان کے لیے کئی گنا بدلہ ہے یہ اس باب سے ہے کہ مصدر مفعول کی طرف مضاف ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا : ان کے لیے کئی گنا بدلہ ہے۔ ضعف جمع کے معنی میں ہے ضعف کی نسبت جزا کی طرف اسی طرح ہے جس طرح شی کی نسبت اس کی ذات کی طرف ہوتی ہے، جس طرح حق الیعقین، صلاۃ الاولی، یعنی ان کے لیے کئی گنا بدلہ ہے، ایک کے بدلہ میں دس اور اس سے زیادہ جتنا اللہ تعالیٰ ارادہ کرے۔ اس آیت سے استدلال کیا جاتا ہے اس نے جس نے غنا کو فقر پر فضیلت دی۔ محمد بن کعب نے کہا : مومن جب غنی اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 37–38

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عندنا زلفی کہ ہمارے نزدیک قرب باعث نہیں۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں کا اندازہ مال کی زیادتی اور اولاد کی زیادت سے نہ لگاؤ کیونکہ کافر کو بھی مال دیا جاتا ہے اور بعض اوقات مومن سے اس کو روک لیا جاتا ہے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ وہ یوں دعا کرتے تھے اے اللہ مجھے ایمان اور نیک عمل عطا فرما اور مجھے مال اور اولاد سے دور رکھ۔ کیونکہ میں نے تیرا ارشاد سنا ہے آیت وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی اور تمہارے مال اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ [اور جو لوگ بھاگ دوڑ کرتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِنَا [ہماری نشانیوں میں ] مُعٰجِزِيْنَ [عاجز کرنے والے ہوتے ہوئے ] اُولٰۗىِٕكَ فِي الْعَذَابِ [وہ لوگ عذاب میں ] مُحْضَرُوْنَ [حاضر کئے ہوئے ہوں گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جو مومن بندے ہوں گے اور ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ میں بھی لگے ہوں گے، ان کے ایمان اور اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں بڑھ چڑھ کر بدلہ دیا جائے گا جس میں نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ہوگا اور یہ حضرات جنت کے بالا خانوں میں امن و چین کے ساتھ رہیں گے۔ آگے مخالفین کی سزا کا تذکرہ ہے (وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا) (الایۃ) اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں یعنی ہماری آیتوں میں طعن کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انکار کرکے کہیں دور نکل جائیں گے اور (العیاذ باللہ) اللہ کو ہرا دیں گے اور اس کی قدرت اور گرفت سے باہر ہوجائیں گے، یہ لوگ عذاب میں حاضر کردئیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–45

عیش پرستوں کے ایک شبہ کا جواب قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں ان عیش پرستوں کے وبال اور نکال کا ذکر تھا کہ جو نبوت کے منکر تھے اب ان آیات میں ان عیش پرستوں کا ایک شبہ ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ متکبرین کی اس قسم کی باتوں سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں۔ مشرکین اور کفار اپنے مال و دولت کی کثرت پر فخر کرتے تھے اور اس کو اپنی مقبولیت کی دلیل قرار دیتے تھے ان آیات میں ان کے اس شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا کہ مال و دولت اور جاہ و حشمت اور کثرت اولاد کو اپنی مقبولیت اور افضلیت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

40:۔ والذین یسعون الخ : یہ کافروں کے لیے تخویف اخروی ہے جو قرآنی دلائل کے باطل کرنے کے زعم باطل میں آیتوں پر محض عناداً طعن وتشنیع کرتے ہیں اور اپنے خیال میں سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے سبقت لے جائیں گے۔ ایسے معاندین کو عذاب جہنم میں مبتلا کیا جائے گا۔ معٰجزین : ہرانے کی غرض سے مقابلہ کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–39

پہلے توحید اور اس کے دلائل بیان ہوئے پھر اللہ نے قرآن کی حقانیت و صداقت کو واضح کیا اور منکرین کا رد فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے رسالت کا ذکر بھی کیا اور پھر مجرمین کا حال بیان کیا اور حشر میں پیش آنے والے بعض حالات سے آگاہ کیا۔ اب آج کے درس میں اللہ نے نبوت و رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ جب بھی کوئی نبی یا رسول کسی بستی شہر یا علاقے میں مبعوث ہوا اور اس نے لوگوں کو کتاب ، شریعت ، ایمان اور توحید کی دعوت دی تو سب سے پہلے اس بستی کے آسودہ حال لوگوں نے ہی مخالفت کی۔ ارشاد ہوتا ہے وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بستی میں کوئی ڈر سنانے والا یعنی نبی اور رسول الا قال مرفوھا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰۗىِٕكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ۝ 38 سعی السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] ، وقال : نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8] ، وقال : وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] ، وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] ، وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] ، إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] ، وقال تعالی: وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] ، كانَ سَعْيُهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 37–45

اور مال و اولاد کہ جس پر تم کو تفاخر ہے، اللہ کے نزدیک اس سے تمہارا کوئی مرتبہ بلند نہیں ہوجاتا ہے۔ ایماندار اس دنیا میں مسافر ہے، اس کا گھر اوپر ہے، اس کا عیش و آرام اور اس کی زینت و تجمل کی ہمیشہ رہنے والی چیزیں وہیں ہیں، اس کی طرف اس جملہ میں اشارہ فرماتا ہے۔ الامن آمن وعمل صالحا الخ اور وہ اس غرور میں آکر یسعون فی آیتنا معاجزین ہماری آیات کے ابطال میں کوشش کرتے ہیں، وہ وہاں عذاب دائمی میں گرفتار رہیں گے۔ یہ مال و اولاد کچھ کام نہ آوے گا اور یہ بھی خیال نہ کرو کہ کفر کرنے سے دنیا ملتی ہے اور نیکوں کو یہاں کچھ ملتا ہی نہیں بلکہ کہہ دیجئے ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء الخ میرا رب جس کو چاہتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْٓ اٰیٰـتـِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُوْلٰٓئِکَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ ۔ (السباء : 38) (اور جو لوگ ہماری آیات کے ابطال میں سرگرم رہتے ہیں وہ عذاب میں داخل کیے جائیں گے۔ ) اس آیت کے تیور دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ گزشتہ آیت میں جن خوش نصیب ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کا ذکر ہے اس میں اسلام کی بنیادی صداقتوں پر یقین اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل ہی شامل نہیں بلکہ اس کشمکش میں بڑھ چڑھ کر ایثار و استقامت بھی مراد ہے جو اس راستے کا لازمی حصہ ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کے برعکس کردار کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ حق و باطل کی کشمکش میں حق کو نیچا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–38

فہم القرآن ربط کلام : بےدین مال دار طبقہ کا جواب اور رزق کی حقیقت۔ مال دار آدمی کا آہستہ آہستہ یہ ذہن بن جاتا ہے کہ مال کی فراوانی میری محنت اور ذہانت کا نتیجہ ہے بالخصوص وہ مال دار طبقہ جنہیں کئی نسلوں سے مال کی کشادگی حاصل ہو اور وہ من مانی کی زندگی گزار رہے ہوں۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رسی دراز کردی جاتی ہے تو وہ یقین کر بیٹھتے ہیں کہ یہ مال ہماری اور ہمارے بڑوں کی محنت اور ذہانت کا صلہ ہے۔ ان لوگوں کو یہ حقیقت باور کروانے کے لیے نبی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں بتلائیں کہ رزق کی کشادگی اور اس کا کم کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔ انسان کو صرف محنت اور ذہانت کی بنیاد پر رزق کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

38: وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْ ٰایٰتِنَا (اور وہ لوگ جو ہماری آیات کے متعلق کوشش کر رہے ہیں) ان کو باطل کرنے میں مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓپکَ فِی الْعَذَابِ (تھکانے کیلئے وہ عذاب میں) مُحْضَرُوْنَ (حاضر کیے جائیں گے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 38۔ ، والذین یسعون، جو کوشش کرتے ہیں ، فی ایا تنا، ہمارے دلائل کو باطل کرنے میں ، معاجزین، معاندین لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نے ان کی نشانیوں کو باطل و عاجز کردیا ہے۔ ، اولئک فی العذاب محضرون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–39

34 تا 39۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کے سرکش دولتمندوں کا ذکر فرمایا تھا کہ وہ قرآن اور قرآن سے پہلے کسی کسی کتاب آسمانی کو نہیں مانتے اور پھر ان مشرکوں کو ڈرایا تھا کہ اب دنیا میں تو یہ لوگ سرکشی کر رہے ہیں میدان حشر میں پچتاویں گے اور ایک دوسرے کو ملامت کریں گے اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی تسکین کے لیے فرمایا ہے کہ قریش پر کچھ موقوف نہیں ہے دولتمند ہمیشہ سے اسی طرح عاقبت سے غافل اور اللہ کے رسولوں کے منکر رہے ہیں مصنف ابن ابی شیبہ تفسیر ابراہیم ابن منذر تفسیر سفیان ثوری اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی عبدالرحمن بن زید اور عبداللہ ابور زین کی روایت 2 ؎ سے بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–41

آیت 34 اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنہوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھات یپیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انہوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا (وقالوا نحن اکثر اموالاً و اولاداً ) ” اور انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں “ یعنی ان لوگوں سے جنہوں نے حق کی اتباع کی۔ (وما نحن بمعذبین) ” اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ “ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر ہمیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 38–39

87 منکر اور سرکش لوگوں کے انجام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس برعکس جو لوگ ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ان کو اللہ کے عذاب میں پکڑ اور جکڑ کر لایا جائے گا۔ سو جو لوگ اللہ کی آیتوں کو نیچا دکھلانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ ان میں شکوک و شبہات پیدا کرتے اور اپنے اثر و وسائل کی حد تک لوگوں کو ان سے روکتے اور ورغلاتے ہیں اور وہ اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح یہ لوگ نور حق کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھا دیں گے اور ہماری گرفت و پکڑ سے بچ نکلیں گے وہ بڑے ہی خسارے کی راہ پر چل رہے ہیں۔ سو ان سب کو کل قیامت کے روز ہمارے فرشتے گرفتار کر کے دوزخ میں ڈالیں گے۔ تب ان کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

عذاب کے حق دار تشریح : کفر و شرک کی جڑ وبنیاد ہی یہ ہے کہ اللہ کی آیات کو جھٹلایا جائے۔ اسی لیے ان کے لیے عذاب کو خاص کردیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 37–45

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 37 ۔ تا۔ 45 اسرار و معارف : دنیا کی نعمتوں میں مال اور اولاد بیشک بہت بڑی نعمت ہیں لیکن یہ سب کچھ طاقتور اقتدار اور صحت وغیرہ سب عظیم نعمتیں ہیں مگر انہیں اللہ کی رضا مندی کی دلیل سمجھ لینا سب سے بڑی جہالت ہے کہ یہ سب سب کچھ تو کفار و مشرکین کے پاس بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنی حکمت سے تقسیم فرماتا ہے اور اس کی حکمت سے وہ خود ہی واقف ہے ہاں اس کی رضامندی کی دلیل یہ ہے کہ ایمان کامل نصیب ہو اور نیک اعمال کی توفیق ارزاں ہو ایسے لوگوں کو یقینا ان کے اعمال سے کئی گنا زیادہ اجر دیا جائے گا اور یہ لوگ خوبصورت بالا خانوں کے جھروکوں میں مزے سے بیٹھے ہوں گے بغیر کسی قسم کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:38) یسعون۔ مضارع جمع مذکرغائب سعی (باب فتح) مصدر۔ کوشش کرتے ہیں۔ دوڑتے پھرتے ہیں۔ فی ایتنا۔ ای فی ابطالھا۔ یعنی ہماری آیات کی تکذیب میں۔ معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر معاجز واحد معاجزۃ (مفاعلۃ) مصدر مقابلہ کر کے اپنے حریف کو ہرا دینا۔ عاجز کردینا۔ عجز کے معنی پیچھے ہوجانا۔ پیچھے رہ جانا۔ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانا یہ القدرۃ کی ضد ہے۔ معاجزین۔ ہرانے والے۔ عاجز کردینے والے۔ معجزیناگرچہ باب مفاعلہ سے ہے جس میں اشتراک ایک اہم خاصیت ہے۔ لیکن یہاں باب مفاعلہ کے یہ معنی مقصود نہیں۔ اس باب کی ایک اور خاصیت موافقت فعل ہے۔ لہٰذا عاجز یعاجز بمعنی عجز یعجز ہے۔ معجزین بمعنی معجزین ہرا دینے والے ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–38

لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 38 مترفون : مال دار۔ دیش پسند لوگ یبسط : وہ کھولتا ہے یقدر : اندازے سے دیتا ہے تقرب : قریب کردے گی زلفی : درجہ ۔ مقام الضعف : دوگنا الغرفات (غرفۃ): بالاخانہ۔ بلندو بالا معجزین : عاجز و بےکس کرنے والے تشریح : آیات نمبر 34 تا 38 جن لوگوں کے پاس دنیا کی قوت و طاقت، حکومت و سلطلنت اور مال و دولت ہوتی ہے اور اس وجہ سے ان کو عزت کی نظروں سے دیکھا جانے لگتا ہے تو ان کے اندر ایک غلط اور جھوٹا اعتماد سا آجاتا ہے اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جب انہیں دنیا کی دولت و حشمت اور مال وزراء اور عزت و سر بلندی دی گئی ہے تو وہ آخرت میں ذلیل و رسوا کیوں ہوں گے ؟ یہی وہ غلط اور گمراہ کن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–39

(ف 1) اس آیت میں نبی ﷺ کی تسکین خاطر فرمائی گئی کہ اپ ان کفار کی تکذیب و انکار سے رنجیدہ نہ ہوں کفار کا انبیاء کے ساتھ یہ دستور رہا ہے اور مال دار لوگ اسی طرح اپنے مال اور اولاد کے غرور میں انبیاء کی تکذیب کرتے رہے۔ امت کے غرباومساکین کی دین سے وفاداری۔ شان نزول : دو شخص شریک تجارت تھے ان میں سے ایک مکہ مکرمہ میں رہا اور ایک ملک شام کو گیا وہاں اس نے نبی ﷺ کی خبر سنی تو اپنے ہم شریک کو مکہ مکرمہ میں خط لکھا ور اس سے نبی ﷺ کا مفصل حال دریافت کیا، اس شریک نے جواب میں لکھا کہ محمد ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان تو کیا ہے لیکن سوائے غریب لوگوں کے کسی نے ان کا اتباع نہیں کیا، جب یہ خط اس کے پاس پہنچا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–39

[27] یعنی روزی کی فراخی اور تنگی اللہ کے خوش یا ناخوش ہونے کی دلیل نہیں۔ دنیا میں کتنے ہی بدمعاش، ظالم، بےایمان پھلتے پھولتے اور مزے اڑاتے نظر آتے ہیں اور بہت سے توحید پرست، پرہیزگار اور نیک بندے تنگ دستی اور مصیبت میں مبتلا رہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ دولت و افلاس یا فراخی و تنگی اللہ کی نظر میں کسی کے محبوب یا مغضوب ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ معاملات تو دوسرے مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہیں جن کو اللہ ہی جانتا ہے مگر بہت سے لوگ اس نکتے کو نہیں سمجھتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–39

ف 1: یعنی مال و دولت کی کشائش اور تنگی تو قطعاً اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ چاہے تو ایک بندہ مفلس کو تاج وتخت کا مالک کردے ۔ اور چاہے تو پل بھر میں تخت نشین کو خاک نشین کردے ؎ عجب نادان ہیں جن کو ہے عجب تاج سلطانی فلک بال وہما کو پل میں سونپے ہے مگس رانی ہاں دولت وہ ہے ۔ جس کو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو ۔ جو جیبوں اور بنکوں سے نکل کر قومی ضروریات پر صرف ہو ۔ وہ دولت نہیں ۔ جو قومی نحوست ہو ۔ لعنت ہو ۔ عیاشی اور بدمعاشی ہو ۔ کبروغرور ہو ۔ اور لوہے کے صندقوں میں بند تہ خانوں میں پنہاں اور زمین میں دفن ہو ۔ حاشیہ صفحہ ھذا 1: مشرکین مکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور ان کی پرستش کرتے تھے میدان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(38) اور جو لوگ ہمارے ہرانے اور عاجز کرنے کو ہماری آیتوں کے خلاف کوشش کرتے اور دوڑے دوڑے پھرتے ہیں تو وہ لوگ گرفتار کرکے عذاب میں لائے جائیں گے۔ یعنی ہماری آیتوں کیخلاف ان آیات کو باطل ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم کو یا ہمارے پیغمبر کو عاجز کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے یہ وعید فرمائی۔ آگے پھر رزق کی کشادگی اور تنگی کا ذکر فرماتے ہیں شاید اس میں مسلمانوں کو سمجھانا ہے جیسا کہ وماانفقتم سے سمجھ میں آتا ہے اور اس توجیہ سے تکرار کا شبہ بھی مندفع ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ اوپر بسط و قدر رزق کے تعلق بالمشیة پر کفار کے بطلان زعم کو متفرع فرمایا تھا، آگے اسی پر مومنین کی ایک اصلاح کو متفرع فرماتے ہیں، جس کا حاصل یہ ہے کہ جب مال کی کمی بیشی محض مشیت پر ہے، تو مومن کو چاہئے کہ اس کے ساتھ قلب کو زیادہ متعلق نہ کرے اور کفار کی طرح اس کو مقصود نہ سمجھے، بلکہ اس کو آلہ حصول رضا و قرب الہی کا جو اصل مقصود ہے بنادے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو نیچا کرنے والے خود دوزخ کی گہرائیوں میں ہوں گے 38 ۔ زیر نظر آیت کا مضمون بھی بہت غور طلب ہے کیونکہ اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی کتاب کی آیات کو ہر ادینے اور نیچا دکھانے کے کام میں دن رات مصروف ہیں۔ راتوں کو مجلسیں لگا کر بیٹھتے ہیں تو ان کی اسکیمیں یہی ہیں اور دن کو کہیں جمع ہوتے ہیں تو ان کی سوچ کا محور یہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور آپس میں کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر مت خرچ کرو یہ لوگ خود بخود بھاگ جائیں گے اور اتنی بات نہیں سمجھتے کہ اس زمین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–39

Commentary This verse has appeared a little earlier (36) almost in the same words. As obvious, the same thing has been mentioned here, however, it has a difference. At this place, there is an addition of: مِنْ عِبَادِهِ (out of His servants) after: مَن يَشَاءُ whomsoever He wills) and: لَہ، (lahu: for him or whomever) after: یَقدِر (yaqdir: straitens). From the statement: مِنْ عِبَادِهِ (min 'ibadihi: from His servants), it is gathered that this rule of guidance has been put forth for His particular servants, that is, for the believers, and the purpose is to alert people of faith that they…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

57 This can have two meanings and both are correct: (1) That which brings the people nearer to Allah is not wealth and children but faith and righteous deeds; and (2) wealth and children can become a means of nearness to Allah only for that believing, righteous person, who spends his wealth in the way of Allah and tries to make his children God-conscious and righteous by good education and training. 58 Here there is also a subtle allusion that their blessing shall be imperishable, and their reward endless. For one cannot enjoy with full satisfaction of the heart a reward which is likely to…

Read the full tafseer →