Saba 34:36

Saba · from ayah 36

34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَقْدِرُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟۠قُلۡ اِنَّ رَبِّىۡ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Indeed, my Lord extends provision for whom He wills and restricts [it], but most of the people do not know."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 4 of surah · Ruku 10 of juzع

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:36

اے نبیؐ، اِن سے کہو میرا رب جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا عطا کرتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجیئے! کہ میرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشاده کردیتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : میرا پروردگار ! جس کے لیے چاہتا ہے رزق کی فراوانی کردیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے، لیکن اکثر لوگ اس بات کو سمجھتے نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے رِزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے بیشک میرا رب رزق فراخ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : رزق تو میرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہے کم بھی کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ (یہ بات) جانتے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہہ دو۔ میرا رب ہی ہے جو رزق کشادہ کرتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے، لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں مانتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ (مال و دولت پر اترانے والو یاد رکھو کہ) بیشک میرا رب کشادہ کرتا ہے روزی جس کے لئے چاہتا ہے اور وہی تنگ کرتا ہے (جس کے لئے چاہتا ہے) لیکن اکثر لوگ جانتے (اور مانتے) نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہیے کہ میرا پروردگار زیادہ روزی دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے (روزی جس کے لئے چاہتا ہے) لیکن اکثر لوگ (اس کا) علم نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہیے کہ یقینا میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے (دنیا کا) رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے } لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), say to them: “My Lord grants provision abundantly to whomsoever He pleases and straitens it for whomsoever He pleases. But most people do not know this.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :In fact, my Lord extends provision to whom He wills, and straitens (it for whom He wills), but most of the people do not know .

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :In fact, my Lord extends provision to whom He wills, and straitens (it for whom He wills), but most of the people do not know .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Verily, my Lord expands the provision to whom He wills and restricts, but most men know not."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (O Muhammad): Lo! my Lord enlargeth the provision for whom He will and narroweth it (for whom He will). But most of mankind know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Indeed, my Lord extends provision for whom He wills and restricts [it], but most of the people do not know."

— Saheeh International

Say, "My Lord increases and determines the sustenance of whomever He wants, but most people do not know."

— Muhammad Sarwar

Say: Surely my Lord amplifies the means of subsistence for whom He pleases and straitens (for whom He pleases), but most men do not know.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: verily my Lord expandeth the provision for whomsoever He will and stinteth it; but most of mankind know not.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Verily my Lord enlarges and restricts the Provision to whom He pleases, but most men understand not."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–39

نبی اکرم کے لئے تسلیاں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے۔ فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا، ہاں غربا نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنی نبی سے کہا تھا (قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ01101ۭ) 26۔ الشعراء :111) ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ یہی مضمون دوسری آیت (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ 27 ؀) 11۔ ھود :27) ، میں ہے۔ قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے ہیں (اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 56 یعنی دنیا میں رزق کی تقسیم کا انتظام جس حکمت و مصلحت پر مبنی ہے اس کو یہ لوگ نہیں سمجھتے اور اس غلط فہمی میں پڑجاتے ہیں کہ جسے اللہ کشادہ رزق دے رہا ہے وہ اس کا محبوب ہے، اور جسے تنگی کے ساتھ دے رہا ہے وہ اس کے غضب میں مبتلا ہے۔ حالانکہ اگر کوئی شخص ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے تو اسے نظر آسکتا ہے کہ بسا اوقات بڑے ناپاک اور گھناؤنے کردار کے لوگ نہایت خوشحال ہوتے ہیں، اور بہت سے نیک اور شریف انسان، جن کی کردار کی خوبی کا ہر شخص معترف ہوتا ہے، تنگدستی میں مبتلا پائے جاتے ہی۔ اب آخر کون صاحب عقل آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ کو یہ پاکیزہ اخلاق کے لوگ ناپسند ہیں اور وہ شریر و خبیث لوگ ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قرآن کریم نے تیسری اور چوتھی آیت میں ان کا یہ جواب دیا ہے (آیت) قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر اور ما اموالکم ولا اولادکم الآیہ، خلاصہ جواب کا یہ ہے کہ دنیا میں مال و دولت یا عزت وجاہ کی کمی بیشی اللہ کے نزدیک مقبول یا مردود ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ تکوینی مصالح کے پیش نظر دنیا میں تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے مال و دولت فراوانی کے ساتھ دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے، جس کی تکوینی حکمت کو وہی جانتا ہے، مگر مال واولاد کی بہتات کو اللہ کے نزدیک مقبولیت کی دلیل سمجھنا جہالت ہے، کیونکہ اس کے نزدیک مقبولیت کا مدار صرف ایمان اور عمل صالح پر ہے جس کو یہ حاصل نہیں مال واولاد کتنا ہی زیادہ ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل ان ربی یبسط الزرق لمن یشاء ویقدر ولکن اکثر لاناس لا یعلمون (36) فرمایا کہ ان کا یہ مغالطہ رفع کرنے کے لئے ان کی بتا دو کہ اس دنیا میں مال و اولاد کی زیادتی نہ تو خدا کے منظور ِ نظر ہونے کی دلیل ہے اور نہ اس کی کمی خدا کی نظروں میں حقیر ہونے کی۔ بلکہ یہ کمی و زیادتی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اختیار اور اس کی حکمت پر منحصر ہے۔ وہ کسی کے رزق میں کشادگی دیتا ہے تو اس کے شکر کا امتحان کرتا ہے اور کسی کے رزق کو تنگ کرتا ہے تو اس کے صبر کا جانچتا ہے اور اصل کامیابی کا انحصار درحقیقت اس امتحان کے نتیجہ پر ہے جو آخرت میں سامنے آئے گا۔ ’ ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔ ‘ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے ناآشنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36۔ 1 اس میں کفار کے مذکورہ مغالطے کا ازالہ کیا جا رہا ہے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کی رضا یا عدم کی مظہر نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اللہ کی حکمت و مشیت سے ہے۔ اس لئے وہ مال اس کو بھی دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے اور اس کو بھی جس کو ناپسند کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے غنی کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے فقیر رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 36–40

18: اصل بات نہ سمجھنے کی وجہ سے انہیں یہ خیال ہوگیا ہے کہ جب دنیا میں انہیں مال و دولت میسر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں، حالانکہ دنیا میں رزق دینے کا معیار اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ جو جتنا مقرب ہو، اسے اتنا ہی زیادہ رزق دیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے تحت یہاں جس کو چاہتا ہے، رزق زیادہ دیتا ہے، اس کا اللہ تعالیٰ کے تقرب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل ان ربی ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (26) ” “۔ یہ مسئلہ یعنی رزق کی فراوانی اور تنگی کا مسئلہ ، عیش و عشرت کے وسائل کی ملکیت اور زیب وزینت کے ذرائع اور ان سے محرومی کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے کئی لوگوں کے دلوں میں بےحد خلجان پیدا ہوتا ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ اہل شر ، اہل فساد اور باطل پرستوں پر دنیا کے مال و دولت کے دروازے کھلے ہیں۔ اہل حق ، اہل خیر اور نیک لوگ ان سے محروم ہیں اس لیے بعض لوگ یوں سوچتے ہیں کہ اگر اللہ ان لوگوں سے ناراض ہوتا تو ان پر وسائل کی یوں بارش کیوں کرتا۔ بعض اوقات لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نیکی ، سچائی اور پاکبازی ہمیشہ محروم رہتی ہے یہاں قرآن مجید دنیا کے مال و متاع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی روزی کی فراخی یا تنگی اللہ کے خوش یا ناخوش ہونے کی دلیل نہیں۔ دیکھتے نہیں۔ دنیا میں کتنے بدمعاش، شریر، دہریے ملحد (ناستک) مزے اڑاتے ہیں حالانکہ ان کو کوئی مذہب بھی اچھا نہیں کہتا۔ اور بہت سے خدا پرست پرہیزگار اور نیک بندے بظاہر فاقے کھینچتے ہیں، تو معلوم ہوا کہ دولت و افلاس یا تنگی و فراخی کسی کے محبوب و مقبول عند اللہ ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ معاملات تو دوسری مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہیں جن کو اللہ ہی جانتا ہے مگر بہت لوگ اس نکتہ کو نہیں سمجھتے ومن الدلیل علی القضاء وحکمہ بؤس اللبیب وطیب عیش الاحمق

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 36 { قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ } ”آپ ﷺ کہیے کہ یقینا میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے دنیا کا رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے“ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی نعمتوں کی تقسیم لوگوں کے اعمال یا اعتقاد کی بنیاد پر نہیں ہوتی۔ چناچہ اگر کسی کے ہاں مال و دولت کی کثرت ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کا منظورِ نظر ہے۔ حضرت سہل بن سعد الساعدی رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لَــوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقٰی کَافِرًا مِنْھَا شَرْبَۃَ مَائٍ 1 ”اگر دنیا کی وقعت اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

54 وہ یہ بات نہیں سمجھتے کہ رزق کی کمی بیشی کا معاملہ تو اللہ کی مشیت سے تعلق رکھتا ہے، اس کی رضا سے تعلق نہیں رکھتا۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں اپنے نافرمانوں اور فرمانبرداروں سب کو رزق دے۔ اسی صورت میں اس دنیا میں انسان کی آزمائش ہوسکتی ہے۔ اگر وہ اس دنیا میں نافرمانوں کو رزق نہ دے یا ان پر رزق تنگ کردے اور اپنے فرمانبرداروں کو ہی رزق دے یا انھیں وافر رزق عطا کرنے لگے۔ تو پھر تو ہر ایک ایمان لے آئے گا اس میں انسانوں کی آزمائش کی کیا گنجائش رہ گئی ؟ اور اس کا دوسرے پہلو یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات ظالموں، چوروں، ڈاکوؤں، خائنوں، مکاروں اور فریب کاروں کو وافر رزق عطا کیا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ قرآن مجید جواب دیتا ہے (اور ایک اسی جگہ نہیں، بارہا کہہ چکا ہے) کہ ظاہری خوشحالی ہرگز دلیل صدق وحقانیت نہیں جیسا کہ اکثر اہل جاہلیت سمجھ رہے ہیں، یہ انتظامات تو تمامتر مشیت تکوینی اور مصالح انتظامی کے ماتحت ہوتے ہیں، مرضیات الہی کے قانون سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ (آیت) ” ان ..... یقدر “۔ یہاں پھر یاد دلا دیا ہے کہ سلسلہ معاشیات میں بھی مسبب الاسباب حق تعالیٰ ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–36

آیت نمبر 31 تا 36 ترجمہ : اور مکہ کے کافر کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ ان کتابوں کو جو اس سے پہلے کی ہیں جیسا کہ تورات اور انجیل جو مرنے کے بعد زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ان کے بعث بعد الموت کا منکر ہونے کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا اور اے محمد اگر آپ ان ظالموں کافروں کو اس وقت دیکھیں جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے (آپس میں) ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے کمزور درجہ کے لوگ یعنی متبعین بڑے لوگوں سے یعنی سرداروں سے کہیں گے اگر تم ہم کو ایمان سے روکنے والے نہ ہوتے تو ہم نبی کو ماننے والے ہوتے یہ بڑے لوگ کمزوروں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشآء ویقدر . آپ کہہ دیجئے : بلاشبہ میرا رب جس کی روزی (دنیا میں بطور امتحان تنگ کرنا چاہتا ہے ‘ اس کی روزی) نپی تلی کردیتا ہے۔ یعنی روزی کی تنگی وفراخی ‘ تحقیر و اعزاز کا معیار نہیں ہے۔ دنیا امتحان گاہ ہے ‘ دارالجزاء نہیں ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے احوال (دولت و افلاس کے لحاظ سے) مختلف ہوتے ہیں باوجودیکہ اوصاف و خصوصیات (علمی و جسمانی) ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون لیکن اکثر لوگ (یعنی کافر) اس حقیقت کو نہیں جانتے اس لئے ان کا خیال ہوتا ہے کہ مال و اولاد کی کثرت عزت افزائی کا موجب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آزمائش کے طور پر تمہارا پروردگار جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے براہ ڈھیل کم دیتا ہے مگر مکہ والے اس کو نہیں سمجھتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ چناچہ اس کے بعد رسول اکرم نے ان کو کہلا بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بات کی تصدیق نازل کردی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ۔۔ : یعنی دنیا کی آسودگی اور خوش حالی اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل نہیں ہے، بلکہ اس کی حکمت و مشیّت یعنی بندوں کی آزمائش ہے۔ وہ بعض اوقات ناراض ہونے کے باوجود آزمائش کے لیے اور حجت تمام کرنے کے لیے کافر و فاسق کا رزق فراخ کردیتا ہے اور کبھی آزمائش کے لیے اور گناہوں کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے مومن کا رزق تنگ کردیتا ہے اور کبھی اپنی حکمت و مصلحت کی بنا پر کافر کا رزق تنگ اور مومن کا فراخ کردیتا ہے، تاکہ آزمائش قائم رہے اور دنیا کی خوش حالی دیکھ کر سب لوگ کفر ہی کی طرف مائل نہ ہوجائیں۔ (دیکھیے زخرف : 33 تا 35) لیکن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–36

آیت : وما ارسلنا فی قریتہ من نذیر الا قال متر فو ھا قتادہ نے کہا : مترفوھا سے مراد ان کے اغنیاء، ان کے روساء، ان کے جابر لوگ اور شریروں کے قائدین لوگ ہیں انہوں نے رسولوں سے کہا : آیت : انا بما ارسلتم بہ کافرون و قالوا نحن اکثراموالا و اولاد ہمیں تم ہر اموال اور اولاد میں فضیلت دی گئی ہے۔ اگر تمہارا رب اس دنیا اور فضل پر راضی نہ ہوتا جس پر ہم ہیں تو وہ ہمیں ہر چیز عطا نہ کرتا۔ آیت : و ما نحن بمعذبین کیونکہ اس کے نزدیک اچھی حالت میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے کے قول کو رد کیا اور غنا سے جو استدلال کی تھا اس کو رد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا : آیت : قل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–36

ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ دو آدمی جو آپس میں شریک تھے ایک ان میں سے ساحل کی طرف نکل گیا اور دوسرا گھر میں رہا۔ جب نبی ﷺ کی بعثت ہوئی تو ساحل کی طرف جانے والے نے اپنے ساتھی کو لکھا کہ نبی ﷺ کی بعثت کے بعد کیا معاملہ ہوا تو اس نے ساتھی کی طرف لکھا کہ قریش میں سے کسی نے اس کی اتباع نہیں کی مگر لوگوں میں سے گھٹیا اور مسکین لوگوں نے اس کی پیروی کی یہ خط پڑھ کر اس نے اپنی تجارت کو چھوڑا اور اپنے ساتھی کے پاس آکر کہا اس نبی کے بارے میں میری رہنمائی کر وہ خود کتابیں پڑھتا تھا وہ نبی ﷺ کے پاس آیا پوچھا آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں آپ نے فرمایا فلاں فلاں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنَّ رَبِّيْ [بیشک میرا رب ] يَبْسُطُ الرِّزْقَ [کشادہ کرتا ہے رزق کو ] لِمَنْ [اس کے لئے جس کے لئے ] يَّشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] وَيَــقْدِرُ [اور اندازے سے دیتا ہے ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ [اور لیکن لوگوں کی اکثریت ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتی نہیں ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ان کی تردید میں فرمایا : (قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ ) (الآیۃ) آپ فرما دیجیے کہ میرا رب جس کے لیے چاہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردیتا ہے۔ دنیا میں رزق کا زیادہ ہونا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہونے کی دلیل نہیں ہے جیسا کہ رزق کا تنگ ہونا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نامقبول ہونے کی دلیل نہیں ہے، وہ اپنی حکمت کے مطابق کبھی نافرمان کی روزی وسیع فرما دیتا ہے اور فرمانبرداروں کی روزی تنگ فرما دیتا ہے اور اس کا عکس بھی ہوتا رہتا ہے، بات یہ ہے کہ اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو نہیں جانتے اور یہ بھی نہیں جانتے کہ رزق کی فراخی اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہونے کی اور رزق کی تنگی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–45

عیش پرستوں کے ایک شبہ کا جواب قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں ان عیش پرستوں کے وبال اور نکال کا ذکر تھا کہ جو نبوت کے منکر تھے اب ان آیات میں ان عیش پرستوں کا ایک شبہ ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ متکبرین کی اس قسم کی باتوں سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں۔ مشرکین اور کفار اپنے مال و دولت کی کثرت پر فخر کرتے تھے اور اس کو اپنی مقبولیت کی دلیل قرار دیتے تھے ان آیات میں ان کے اس شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا کہ مال و دولت اور جاہ و حشمت اور کثرت اولاد کو اپنی مقبولیت اور افضلیت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

38:۔ قل ان ربی الخ : یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے۔ اور کافروں کے مذکورہ بالا زعم باطل کا جواب بھی ہے۔ رزق جوہر جاندار کی بنیادی ضرورت ہے وہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور پھر رزق کی تنگی اور فراخی بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ اس لیے وہی ساری کائنات کا الہ اور کارساز ہے۔ نیز رزق کی فراخی اور تنگی اللہ تعالیٰ کی تکوینی مصلحتوں پر مبنی ہے۔ اس لیے کثرت دولت دولت عنداللہ معزز ومحترم ہونے کی دلیل نہیں۔ نہ قلت مال عند اللہ مبغوض ہونے کی دلیل ہے۔ لہذا مشرکین کا کثرت مال و اولاد پر اترانا اور فخر کرنا بےسود ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–39

پہلے توحید اور اس کے دلائل بیان ہوئے پھر اللہ نے قرآن کی حقانیت و صداقت کو واضح کیا اور منکرین کا رد فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے رسالت کا ذکر بھی کیا اور پھر مجرمین کا حال بیان کیا اور حشر میں پیش آنے والے بعض حالات سے آگاہ کیا۔ اب آج کے درس میں اللہ نے نبوت و رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ جب بھی کوئی نبی یا رسول کسی بستی شہر یا علاقے میں مبعوث ہوا اور اس نے لوگوں کو کتاب ، شریعت ، ایمان اور توحید کی دعوت دی تو سب سے پہلے اس بستی کے آسودہ حال لوگوں نے ہی مخالفت کی۔ ارشاد ہوتا ہے وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بستی میں کوئی ڈر سنانے والا یعنی نبی اور رسول الا قال مرفوھا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ 36ۧ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ بسط بَسْطُ الشیء : نشره وتوسیعه، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] والبِسَاط : الأرض المتسعة وبَسِيط الأرض : مبسوطه، واستعار قوم البسط لکل شيء لا يتصوّر فيه تركيب وتأليف ونظم، قال اللہ تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–36

وقال الذین کفروا الخ یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ تیاری اور زاد آخرت حاصل کرنا تو درکنار وہ اس کی جگہ کفر بکتے ہیں کہ قرآن تو کیا ہم اس سے پہلی کسی کتاب کو بھی نہیں مانتے۔ یہ مشرکین کہ کا قول تھا، جہالت اور جوش میں آکر کہتے تھے۔ ولو تری اذا الظالمون الخ سے حشر کے دن پیش آنے والی مصیبت کا بیان کرتا ہے۔ وما ارسلنا فی قریۃ الخ سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ انکار کوئی نئی بات نہیں، ہر نبی سے پیٹ بھرے ایسا ہی کرتے آئے ہیں جو اپنے حق پر ہونے کی دلیل دنیاوی جاہ و حشم بیان کرتے ہیں۔ کہہ دے یہ قبولیت کی دلیل نہیں یہ کم زیادہ مصلحت سے ہر ایک کو ملتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُوَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (السباء : 36) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! بیشک میرا رب جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ ) غلط فہمی کا ازالہ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضگی کی دلیل ہے۔ آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ انھیں سمجھائیں کہ رزق کا کشادہ ہونا اللہ تعالیٰ کے محبوب ہونے کی دلیل نہیں۔ اور رزق کا تنگ ہونا اللہ تعالیٰ کے غضب کی علامت نہیں۔ دنیا میں آنکھیں کھول کر دیکھو کتنے بدقماش اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–38

فہم القرآن ربط کلام : بےدین مال دار طبقہ کا جواب اور رزق کی حقیقت۔ مال دار آدمی کا آہستہ آہستہ یہ ذہن بن جاتا ہے کہ مال کی فراوانی میری محنت اور ذہانت کا نتیجہ ہے بالخصوص وہ مال دار طبقہ جنہیں کئی نسلوں سے مال کی کشادگی حاصل ہو اور وہ من مانی کی زندگی گزار رہے ہوں۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رسی دراز کردی جاتی ہے تو وہ یقین کر بیٹھتے ہیں کہ یہ مال ہماری اور ہمارے بڑوں کی محنت اور ذہانت کا صلہ ہے۔ ان لوگوں کو یہ حقیقت باور کروانے کے لیے نبی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں بتلائیں کہ رزق کی کشادگی اور اس کا کم کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔ انسان کو صرف محنت اور ذہانت کی بنیاد پر رزق کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

36: قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ (کہہ دکیجئے کہ میرا پروردگار جس کو چاہتا ہے زیادہ روزی دیتا ہے) وَیَقْدِرُ (اور جس کو چاہتا ہے کم کردیتا ہے) ۔ قَدْ رُ الرزق کا معنی تنگ کرنا جیسا کہ فرمایا ومن قدر علیہ رزقہ ] الطلاق : 7 [ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن اکثر لوگ واقف نہیں) اس بات سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36، قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر، روزی کی تنگی اور فراخی تحقیر و اعزاز کا معیار نہیں ہے۔ پر دنیا امتحان گاہ ہے دارالجزاء نہیں ہے۔ اسی طرح روزی کی کشادگی اللہ کی رضا پر دلیل نہیں اور نہ ہی تنگی اللہ کی ناراضگی ولیل ہے۔ ، الکن اکثر الناس لایعلمون ،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–39

34 تا 39۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کے سرکش دولتمندوں کا ذکر فرمایا تھا کہ وہ قرآن اور قرآن سے پہلے کسی کسی کتاب آسمانی کو نہیں مانتے اور پھر ان مشرکوں کو ڈرایا تھا کہ اب دنیا میں تو یہ لوگ سرکشی کر رہے ہیں میدان حشر میں پچتاویں گے اور ایک دوسرے کو ملامت کریں گے اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی تسکین کے لیے فرمایا ہے کہ قریش پر کچھ موقوف نہیں ہے دولتمند ہمیشہ سے اسی طرح عاقبت سے غافل اور اللہ کے رسولوں کے منکر رہے ہیں مصنف ابن ابی شیبہ تفسیر ابراہیم ابن منذر تفسیر سفیان ثوری اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی عبدالرحمن بن زید اور عبداللہ ابور زین کی روایت 2 ؎ سے بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–41

آیت 34 اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنہوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھات یپیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انہوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا (وقالوا نحن اکثر اموالاً و اولاداً ) ” اور انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں “ یعنی ان لوگوں سے جنہوں نے حق کی اتباع کی۔ (وما نحن بمعذبین) ” اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ “ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر ہمیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

83 روزی کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ روزی کی تنگی اور کشادگی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ پس نہ تو روزی کی کشائش محبوبیت کی دلیل ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کی تنگی مبغوضیت کی علامت۔ بلکہ دنیا میں روزی کی تنگی و کشائش کچھ دوسری ہی حکمتوں پر مبنی ہوتی ہے جن کو اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمیں تو بس اس کی قضا و قدر پر راضی رہنا چاہیئے۔ کیونکہ وہ حاکم ہے۔ لہذا اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم فرمائے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ چونکہ حکیم بھی ہے لہذا اس کا کوئی فعل بھی حکمت سے خالی نہیں ہوسکتا خواہ وہ ہمیں سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ پس ہمارا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 34–37

نیک اعمال کی اہمیت تشریح : صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ مال اولاد اور رتبہ قیامت میں چھڑا نہ سکے گا صرف اعمال کے بدلے میں ہی جنت ملے گی یا دوزخ ملے گا۔ رزق تو اللہ اپنی مرضی اور اپنے حساب کتاب یعنی نظام دنیا کو چلانے میں توازن رکھنے کے لیے دیتا ہے۔ اور پھر اس دنیا میں آزمائش کا سب سے بڑا ذریعہ اولاد اور مال ہی تو ہے۔ یہ سب حقیقتیں بتانے کی وجہ سے ہی تو سیدنامحمد ﷺ کو ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا کہا گیا ہے، نذیر اور بشیر عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے (اقبال)

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–36

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 31 تا 36 ۔ اسرار و معاف : قیامت اور جزا و سزا کی بات سن کر کفار مذاق اڑاتے اور انکار کرتے ہیں کہ ہم سا قرآن پہ یقین ہی نہیں رکھتے اور نہ اس طرح کی پہلی کتابوں پر جو ایسی بات کرتی ہیں لیکن ان کا انکار قیامت قائم ہونے کو روک تو نہ سکے گا اور اے مخاطب تو دیکھے گا جب یہ سب بدکار اللہ کے حضور پیشی کے لیے کھڑے کیے جائیں گے تو گھبرا کر ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگیں گے۔ عام طبقے کے لوگ خواص سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان قبول کرچکے ہوتے ہماری گمراہی کا باعث تم لوگ ہو تو وہ لوگ جواب دینگے بھلا ہم نے تم کو زبردستی تھوڑی روک رکھا تھا یا مسلمان ہونے پہ کوئی اور پابندی لگا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی دنیا کی آسودگی اور خوش حالی اللہ تعالیٰ کے خوش ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اس میں جو حکمت اور مصلحت ہے وہ اسی کو معلوم ہے لیکن عوام یہ سمجھتے ہیں کہ مال و اولاد کا حاصل ہونا خوش قسمی کی علامت ہے اور یہ نہیں سوچتے کہ بعض اوقات سرکش اور نافرمان لوگوں کو اس لئے بھی ہر قسم کی نعمتیں ملتی رہتی ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں خوب بڑھ جائیں۔ اسی مضمون کو آنحضرت ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے۔ (ان اللہ لا ینظر الی صور کم واموالکم وانما ینظر الی قلوبکم واعمالکم) کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ ( ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:36) یقدر۔ مضارع واحد مذکر غائب قدر مصدر (باب ضرب) وہ تنگ کرتا ہے وہ کم کرتا ہے۔ محاورہ ہے قدرت علیہ الشیء میں نے اس پر تنگی کردی۔ گویا وہ چیز اسے معین مقدار میں تول کر جانچ کردی گئی ہے۔ اس کے بالمقابل بغیر حساب (بےاندازہ) آتا ہے ۔ مثلاً وترزق من تشاء بغیر حساب (3:27) اور تو جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق بخشتا ہے۔ یبسط کی ضد ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے اللہ یبسط الزرق لمن یشاء ویقدر (13:26) خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ یہ مادہ قدر سے مشتق ہے جس کے معنی قدرت رکھنے کے ہیں اسی سے القادر القدیر المقتدر اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ میں سے ہے پھر اندازہ لگانا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–38

لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 38 مترفون : مال دار۔ دیش پسند لوگ یبسط : وہ کھولتا ہے یقدر : اندازے سے دیتا ہے تقرب : قریب کردے گی زلفی : درجہ ۔ مقام الضعف : دوگنا الغرفات (غرفۃ): بالاخانہ۔ بلندو بالا معجزین : عاجز و بےکس کرنے والے تشریح : آیات نمبر 34 تا 38 جن لوگوں کے پاس دنیا کی قوت و طاقت، حکومت و سلطلنت اور مال و دولت ہوتی ہے اور اس وجہ سے ان کو عزت کی نظروں سے دیکھا جانے لگتا ہے تو ان کے اندر ایک غلط اور جھوٹا اعتماد سا آجاتا ہے اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جب انہیں دنیا کی دولت و حشمت اور مال وزراء اور عزت و سر بلندی دی گئی ہے تو وہ آخرت میں ذلیل و رسوا کیوں ہوں گے ؟ یہی وہ غلط اور گمراہ کن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–39

(ف 1) اس آیت میں نبی ﷺ کی تسکین خاطر فرمائی گئی کہ اپ ان کفار کی تکذیب و انکار سے رنجیدہ نہ ہوں کفار کا انبیاء کے ساتھ یہ دستور رہا ہے اور مال دار لوگ اسی طرح اپنے مال اور اولاد کے غرور میں انبیاء کی تکذیب کرتے رہے۔ امت کے غرباومساکین کی دین سے وفاداری۔ شان نزول : دو شخص شریک تجارت تھے ان میں سے ایک مکہ مکرمہ میں رہا اور ایک ملک شام کو گیا وہاں اس نے نبی ﷺ کی خبر سنی تو اپنے ہم شریک کو مکہ مکرمہ میں خط لکھا ور اس سے نبی ﷺ کا مفصل حال دریافت کیا، اس شریک نے جواب میں لکھا کہ محمد ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان تو کیا ہے لیکن سوائے غریب لوگوں کے کسی نے ان کا اتباع نہیں کیا، جب یہ خط اس کے پاس پہنچا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–39

[27] یعنی روزی کی فراخی اور تنگی اللہ کے خوش یا ناخوش ہونے کی دلیل نہیں۔ دنیا میں کتنے ہی بدمعاش، ظالم، بےایمان پھلتے پھولتے اور مزے اڑاتے نظر آتے ہیں اور بہت سے توحید پرست، پرہیزگار اور نیک بندے تنگ دستی اور مصیبت میں مبتلا رہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ دولت و افلاس یا فراخی و تنگی اللہ کی نظر میں کسی کے محبوب یا مغضوب ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ معاملات تو دوسرے مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہیں جن کو اللہ ہی جانتا ہے مگر بہت سے لوگ اس نکتے کو نہیں سمجھتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 34–37

روحانی تقاضے 1: مکہ والوں کو مال و دولت اور اپنی اولاد پر بڑا غرور تھا وہ سمجھتے تھے کہ اس سے زیادہ سعادت اور خوش بختی اور کیا ہوسکتی ہے ۔ کہ ایک شخص دولت سے بہرہ ور ہو ۔ اور اس کے اولاد بھی ہو ۔ ان دوچیزوں کی موجودگی میں روحانیت بےمعنی شے ہے ۔ اور مذہب کی ضرورت نہیں ۔ آج بھی مادہ پرست دنیا یہی سمجھتی ہے ۔ کہ جہاں تک حظوظ دنیا کا تعلق ہے اس سے استفادہ کرنا تو ضروری ہے ۔ اور ان کو پاکر پھر ما بعد الطبعی مسرتوں کے پیچھے دوڑنا حماقت ہے چودہ سو سال کی مادیت میں کوئی فرق نیں ۔ آج بھی وہی خیالات ہیں جو آج سے پہلے مکہ کے جاہلوں میں رائج تھے ۔ اضافہ صرف یہ ہوا ہے ۔ کہ ان لوگوں کی خواہشات محدود تھیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(36) آپ فرما دیجئے میرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے روزی کشادہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے اور نپی تلی روزی دیتا ہے لیکن اکثر لوگ اس تقسیم کی مصلحت کو نہیں جانتے۔ یعنی روزی کا کم و بیش ہونا کچھ بزرگی اور مرتبے کی یا حق پر ہونے کی بات نہیں کہ اس سے خوش حال لوگ اپنی صداقت پر دلیل پکڑیں بلکہ روزی کی تقسیم اور اس میں کمی و بیشی اللہ تعالیٰ کی دوسری مصلحتوں اور دوسری حکمتوں پر مبنی ہے کبھی نافرمان غنی ہوتا ہے اور فرماں بردار فقیر اور اس کا عکس لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ نحن اکثرا موالا و اولادا اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا بھی باطل ہے کہ کثرت مال و اولاد عذاب الٰہی سے بچا لے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–37

ف 2۔ یعنی اس حقیقت سے واقف نہیں کہ وسعت رزق کا مدار قبول عنداللہ نہیں ہے بلکہ مدار اس کا دوسری مصلحتوں پر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

روزی کا تنگ کرنا یا کشادہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے 36 ۔ گزشتہ آیت میں خوش حال لوگوں کا ذکر تھا جن کے پاس اللہ کا دیا ہوا مال اور اللہ کی عطا کردہ اولاد کی کثرت تھی لیکن انہوں نے اس کو اللہ تعالیٰ کا احسان ماننے سے انکار کردیا تھا اور ان چیزوں پر اترانے لگے تھے اور انبیاء کرام کی محض اس لئے گستاخیاں کرتے کہ ان کے پاس ان دنوں چیزوں کی کثرت تھی اور جن لوگوں کے پاس دنیا کی ان چیزوں کی کثرت ہو وہ اس وقت بھی اور آج بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اگر ہے تو وہ لوگوں پر بہت راضی ہے اور اس کے راضی ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان کے پاس مال و دولت کی ریل پیل ہے اور اولاد کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

This very subject has been taken up in several other verses of the noble Qur'an. In Surah al-Mu'minun, it was said: أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِ‌عُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَ‌اتِ بَل لَّا يَشْعُرُ‌ونَ Do they think that by consistently providing them with wealth and children, We are accelerating the (real) good things to them? The fact, however, is that they do not understand (the reality) - 23:55, 56. And the reality is that wealth and children that make man negligent of Allah become a curse for him. Then, in a verse of Surah At-Taubah, it was said: وَلَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

56 They do not understand the wisdom on which the system of the distribution of provisions is based in the world, and are thus involved in the misunderstanding that whoever is being given abundantly is a beloved of Allah and whoever is being given sparingly is under His wrath. The fact, however, is that if a person looks around with open eyes he will see that in most cases the people with filthy and repulsive character are prosperous, and many good and noble people, who are known and recognized as morally pure, are found living in poverty. Now, how can a sensible person say that Allah…

Read the full tafseer →