Saba 34:32

Saba · from ayah 32

34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰی بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ ۟قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰكُمۡ عَنِ الۡهُدٰى بَعۡدَ اِذۡ جَآءَكُمۡ بَلۡ كُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِيۡنَ

بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those who were arrogant will say to those who were oppressed, "Did we avert you from guidance after it had come to you? Rather, you were criminals."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 4 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:32

وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے "کیا ہم نے تمہیں اُس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟ نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ بڑے لوگ ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت آچکنے کے بعد ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم (خود) ہی مجرم تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو بڑے بنے ہوئے تھے ان سے کہیں گے جنہیں کمزور سمجھا گیا تھا کہ : کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا جبکہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم خود مجرم تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو اونچے کھینچتے تھے ان سے کہیں گے جو دبے ہوئے تھے کیا ہم نے تمہیں روک دیا ہدایت سے بعد اس کے کہ تمہارے پاس آئی بلکہ تم خود مجرم تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

متکبرّ لوگ کمزوروں سے کہیں گے: کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی، بلکہ تم خود ہی مُجرم تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ لوگ جو بڑے بنے تھے، ان لوگوں سے جو کمزور سمجھے گئے، کہیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا، اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آئی ؟ بلکہ تم مجرم تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو بڑا بنتے تھے وہ کمزور لوگوں کو جواب دیں گے کہ : جب تمہارے پاس ہدایت آگئی تھی تو کیا ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا ؟ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ لوگ جو بڑے نے، ان لوگوں کو جو دبا کے رکھے گئے، جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تم کو ہدایت سے روکا جب کہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی ! بلکہ تم خود ہی مجرم ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کے جواب میں وہ لوگ جو بڑے بنے ہوئے تھے دبا کر رکھے گئے ان لوگوں سے کہیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ہدایت (کی روشنی) سے جب کہ وہ تمہارے پاس پہنچ چکی تھی ؟ نہیں بلکہ تم لوگ خود مجرم تھے

— مولانا اسحاق مدنی

(اس پر) بڑے لوگ ادنی درجہ کے لوگوں سے کہیں گے کیا کہیں ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا تھا بعد اس کے کہ وہ تم تک پہنچ چکی تھی ؟ نہیں بلکہ تم ہی قصور وار رہے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(جواباً) وہ کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے ان سے جو کمزور تھے : کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آگئی تھی ؟ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تمہیں حق بات سے روکا تھا جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی ؟ ایسا نہیں ہے بلکہ تم ہی گنہگار تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The arrogant ones will retort to those who were suppressed: “What! Did we bar you from the guidance after it came to you? Not at all; rather you yourselves were evil-doers.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who were overbearing will say to those weak, :Had we stopped you from (accepting) guidance after it came to you? Rather, you yourselves were guilty.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who were overbearing will say to those weak, :Had we stopped you from (accepting) guidance after it came to you? Rather, you yourselves were guilty.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who were arrogant will say to those who were deemed weak: "Did we keep you back from guidance after it had come to you Nay, but you were criminals."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who were proud say unto those who were despised: Did we drive you away from the guidance after it had come unto you? Nay, but ye were guilty.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those who were arrogant will say to those who were oppressed, "Did we avert you from guidance after it had come to you? Rather, you were criminals."

— Saheeh International

The suppressing ones will say to the oppressed ones, "Did we prevent you from having guidance after it had come to you? In fact, you yourselves were criminals."

— Muhammad Sarwar

Those who were proud shall say to those who were deemed weak: Did we turn you away from the guidance after it had come to you? Nay, you (yourselves) were guilty

— Muhammad Habib Shakir

Those who were stiff-necked will say Unto those who were deemed weak: was it we who prevented you from the guidance after it had come Unto you? Aye! ye have been guilty yourselves.

— Abdul Majid Daryabadi

The arrogant ones will say to those who had been despised: "Was it we who kept you back from Guidance after it reached you? Nay, rather, it was ye who transgressed.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–33

کافروں کی سرکشی۔ کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں بھی دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے۔ بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے چھوٹے بڑوں کو، بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے، ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے دوسری جانب سے دلیلیوں کی برستی ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 52 یعنی وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس ایسی کوئی طاقت نہ تھی جس سے ہم چند انسان تم کروڑوں انسانوں کو زبردستی اپنی پیروی پر مجبور کردیتے۔ اگر تم ایمان لانا چاہتے تو ہماری سرداریوں اور پیشوائیوں اور حکومتوں کا تختہ الٹ سکتے تھے۔ ہماری فوج تو تم ہی تھے۔ ہماری دولت اور طاقت کا سر چشمہ تو تمہارے ہی ہاتھ میں تھا۔ تم نذرانے اور ٹیکس نہ دیتے تو ہم مفلس تھے۔ تم ہمارے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے تو ہماری پیری ایک دن نہ چلتی۔ تم زندہ باد کے نعرے نہ مارتے تو کوئی ہمارا پوچھنے والا نہ ہوتا۔ تم ہماری فوج بن کر دنیا بھر سے ہمارے لیے لڑنے پر تیار نہ ہوتے تو ایک انسان پر بھی ہمارا بس نہ چل سکتا تھا۔ اب کیوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–33

خلاصہ تفسیر اور یہ لوگ (قیامت کے متعلق مضامین (آیت) یجمع بیننا ربنا ثم یفتح الخ سن کر) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب (واقع) ہوگا اگر تم (یعنی نبی اور آپ کے متبعین) سچے ہو (تو بتلاؤ) آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے واسطے ایک خاص دن کا وعدہ (مقرر) ہے اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو (یعنی ہم وقت نہ بتائیں گے جو تم پوچھ رہے ہو مگر آئے گی ضرور جس کا اس پوچھنے سے انکار کرنا تمہارا مقصود ہے) اور یہ کفار (دنیا میں تو خوب خوب باتیں بناتے ہیں اور) کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر اور (قیامت میں یہ ساری لمبی چوڑی باتیں ختم ہوجائیں گی، چنانچہ) اگر آپ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قال الذین استکبروا للذین استجعفوا انحن صددنکم عن الھدی بعد اذا جائیکم بل کنتم مجرمین (32) لیڈر اپنے پیروئوں کو جھٹ جواب دیں گے کہ تمہارا الزام بالکل غلط ہے کہ تم کو ہم نے اللہ کی ہدایت سے روکا بلکہ مجرم تم خود ہو کہ نہایت واضح ہدایت آجانے کے بعد بھی تم ہمارے پیرو بنے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق نہ تو ہم پر مخفی تھا نہ تم پر۔ اللہ کے رسول نے حجت تمام کردی تھی۔ یہ بات نہ ہوئی ہوتی تب تو کسی حد تک ہم کو الزام دینے میں تم بجانب حق ہوتے لیکن جب تم نے، پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھائی تو ہم کو مجرم ٹھہرانے کے بجائے اپنے سر پیٹو۔ ہم بھ مجرم ہیں اور ہماری ہی طرح تم بھی مجرم ہو۔ یہ بات ہے تو کفار کے لیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32۔ 1 یعنی ہمارے پاس کون سی طاقت تھی کہ ہم تمہیں ہدایت کے راستے سے روکتے، تم نے خود ہی اس پر غور نہیں کیا اور اپنی خواہشات کی وجہ سے ہی اسے قبول کرنے سے گریزاں رہے، اور آج مجرم ہمیں بنا رہے ہو ؟ حالانکہ سب کچھ تم نے خود ہی اپنی مرضی سے کیا، اس لئے مجرم بھی تم خود ہی ہو نہ کہ ہم۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–32

16: آیت نمبر : 22۔ 23 میں مشرکین کے مختلف عقیدوں کی تردید کی گئی ہے، ان میں سے بعض مشرکین تو وہ تھے کہ وہ اپنے تراشے ہوئے بتوں ہی کو اپنا خدا مانتے تھے، اور انہی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ براہ راست ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں، ان کی تردید کے لئے آیت 22 میں فرمایا گیا ہے کہ : وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور بعض مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کی تردید کے لئے اسی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ : اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور بعض…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–33

وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔ بین یدیہ ” “۔ یہ ہے وہ عناد جس میں مخالفین اسلام اول روز سے مبتلا تھے۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہدایت کو مان کر نہ دیں گے اگرچہ اس کا منبع کتب سابقہ میں ہو۔ نہ قرآن کو مانیں گے اور نہ پہلی کسی کتاب کو۔ نہ اس کو نہ سابقہ کتب کو ۔ یہی فیصلہ مخالفین اسلام کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کفر پر اصرار کرتے ہیں ۔ پختہ فیصلہ انہوں نے کرلیا ہے کہ وہ کفر پر اصرار کریں گے اور دلائل ہدایت پر غور ہی نہ کریں گے۔ جب انہوں نے یہ فیصلہ کر ہی دیا ہے تو ان کا علاج یہی ہے کہ ان کے سامنے بس مناظر قیامت میں سے ایک منظر پیش کردیا جائے۔ ولو تری اذ ۔۔۔۔۔ الا ما کانوا یعملون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جب تمہارے پاس حق بات پہنچ گئی اور سمجھ میں آگئی تھی کیوں قبول نہ کی کیا ہم نے زبردستی تمہارے دلوں کو ایمان و یقین سے روک دیا تھا چاہیے تھا کہ کسی کی پروا نہ کر کے حق کو قبول کرلیتے۔ اب اپنا جرم دوسروں کے سر کیوں رکھتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 { قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْٓا اَنَحْنُ صَدَدْنٰکُمْ عَنِ الْہُدٰی بَعْدَ اِذْ جَآئَ کُمْ بَلْ کُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ } ”جواباً وہ کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے ان سے جو کمزور تھے : کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا ‘ اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آگئی تھی ؟ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 یعنی انبیاء نے جیسی دعوت ہمیں دی تھی ویسی ہی تہیں بھی دی تھی۔ ہم نے زبردستی کسی کو بھی ان کی دعوت قبول کرنے سے نہیں روکا تھا۔ اگر تم ایمان لانا چاہتے تو ہم تمہیں کیسے روک سکتے تھے۔ اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ تم خود بھی انبیاء کی پیش کردہ دعوت اور اس کی پابندیوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے نہ ہی تم ان سختیوں کو برداشت کرنے پر آمادہ تھے جو انبیاء کو ماننے والوں کو پیش آتی تھیں۔ اس لحاظ سے ہم اور تم دونوں ایک جیسے مجرم ہیں۔ اگر کچھ فرق ہے تو یہ صرف یہ کہ ہم نے تمہیں اپنی طرف بلایا۔ اور ہمارا یہ بلانا چونکہ تمہارے اپنے ہی ضمیر کی آواز اور اپنی ہی خواہش نفس کی تکمیل تھی۔ لہذاتم نے فوراً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

49۔ (کہ وقوع حق کے بعد بھی از خود قبول نہ کیا، اور اب ہمارے سر دھرتے ہو، ہم نے کیا کچھ زبردستی کی تھی ؟ ) غرب یہ کہ ادنی واعلی سب اپنے اپنے کو بچا لیں گے اور اپنا الزام دوسرے کے سر ڈالیں گے۔ (آیت) ” انحن ..... جآء کم “۔ اگر یہ شبہ ہو کہ بعض کفار نے تو اپنے اتباع پر زبردستی کی بھی ہے، تو جواب یہ ہے کہ اصل ایمان تو اعتقاد ہے اور اس کا محل قلب ہے، وہاں اکراہ ممکن نہیں (تھانوی (رح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–36

آیت نمبر 31 تا 36 ترجمہ : اور مکہ کے کافر کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ ان کتابوں کو جو اس سے پہلے کی ہیں جیسا کہ تورات اور انجیل جو مرنے کے بعد زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ان کے بعث بعد الموت کا منکر ہونے کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا اور اے محمد اگر آپ ان ظالموں کافروں کو اس وقت دیکھیں جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے (آپس میں) ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے کمزور درجہ کے لوگ یعنی متبعین بڑے لوگوں سے یعنی سرداروں سے کہیں گے اگر تم ہم کو ایمان سے روکنے والے نہ ہوتے تو ہم نبی کو ماننے والے ہوتے یہ بڑے لوگ کمزوروں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال الذین استکبروا للذین استضعفوا انحن صددنکم عن الھدی بعد اذجائکم بل کنتم مجرمین . وہ بڑے لوگ ‘ ادنیٰ درجہ کے لوگوں سے کہیں گے کہ کیا ہم نے (ہدایت کو ماننے اور اس پر عمل کرنے سے) تم کو زبردستی روک دیا تھا ‘ بعد اس کے کہ ہدایت تم کو پہنچ گئی تھی ؟ (نہیں) بلکہ تم خود ہی قصور وار ہو۔ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا سے مراد ہیں نچلے طبقہ والے ‘ یعنی پیروی کرنے والے۔ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا سے مراد ہیں سردارن قوم۔ لَوْلاَ اَنْتُمْ یعنی اگر تم ہم کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے نہ روکتے اور کفر کی دعوت نہ دیتے۔ لَکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ تو ہم پیغمبر پر ضرور ایمان لے آتے ‘ تم نے ہی ہم کو عذاب میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اس پر یہ بڑے لوگ ان ادنی درجہ کے لوگوں سے کہیں گے کیا ہم نے تمہیں ایمان لانے سے روکا تھا حالانکہ رسول اکرم تمہارے پاس آچکے تھے بلکہ تم تو آپ کی بعثت سے پہلے ہی مشرک تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِيْنَ : بلکہ تم خود مجرم تھے جو عقل اور سمجھ رکھنے کے باوجود محض دنیا کے لالچ میں ہمارے پیچھے چلتے رہے اور ہدایت قبول کرنے سے انکار کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : قال الزین استکبروا للذین استضعفوا انحن صددنکم عن الھدی یہ استفہام انکار کے معنی میں ہے یعنی ہم نے تمہیں ہدایت سے نہیں روکا اور نہ ہی تمہیں مجبور کیا۔ آیت : بعد اذ جاء کم بل کنتم مجر میں یعنی تم مشرک ہو اور کفر پر مصر تھے۔ آیت : و قال الذین استضعفو للذین استکبروا بل مکر الیل و النھار کلام عرب میں مکر کا اصل معنی حیلہ سازی کرنا اور دھوکہ دینا ہے یہ یوں باب چلتا ہے مکر بہ یمکر فھو ما کرو مکار۔ احفش نے کہا : کلام اس تقدیر کی بناء پر ہے ھذا مکر اللیل و النھار۔ نحاس نے کہا : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے بلکہ تمہارا دن اور رات کو مکر یعنی تمہرا ہمارے ساتھ سر گوشی کرنا اور تمہارا ہمیں کفر کی طرف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–33

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقال الذین کفروا لن نومن بہذا القراٰن (اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز اس قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے) یعنی یہ بات عرب کے مشرکوں نے کہی تھی جنہوں نے قرآن کا انکار کیا آیت ولا بالذی بین یدیہ اور نہ اس سے پہلے تورات وانجیل کو مانیں گے) یعنی نہ اس سے پہلی کتابوں اور انبیاء کو مانیں گے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا بالذی بین یدیہ یعنی اس قرآن سے پہلی کتابیں۔ انجیل اور تورات پر بھی ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ آیت یقول الذین استضعفوا یعنی وہ پیروی کرنے والے لوگ کہیں گے آیت للذین استکبرو۔ ان اپنے لڈروں سے آیت بل…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا [کہیں گے وہ جو بڑے بنے ] لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْٓا [ان سے جن کو کمزور سمجھا گیا ] اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ [کیا ہم نے روکا تھا تم کو ] عَنِ الْهُدٰى [ہدایت سے ] بَعْدَ اِذْ جَاۗءَكُمْ [اس کے بعد کہ جب وہ پہنچی تمہارے پاس ] بَلْ كُنْتُمْ [بلکہ تم لوگ تھے ] مُّجْرِمِيْنَ [جرم کرنے والے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–33

عذاب کی وجہ سے کافروں کی بدحالی اور ایک دوسرے پر جرم کو ٹالنے کی گفتگو ان آیات میں قیامت کے دن کا ایک منظر بیان فرمایا ہے جو کافروں کے آپس کے سوال و جواب سے متعلق ہے وہاں سبھی چھوٹے بڑے موجود ہوں گے، کفر کی سزا سامنے ہوگی، دوزخ کا داخلہ یقینی ہوچکا ہوگا، ان میں سے جو لوگ دنیا میں چھوٹے یعنی کم درجہ کے لوگ تھے وہ اپنے بڑوں سے (جن کی دنیا میں بات مانتے تھے) کہیں گے کہ تم نے ہی ہمیں برباد کیا اگر تم نہ ہوتے تو ہم اللہ کے نبیوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لے آتے اور آج کے دن پر بھی ایمان لاتے، ان کے بڑے کہیں گے کہ اپنا قصور ہمارے سر کیوں منڈھ رہے ہو، اپنی کرنی ہمارے ذمہ کیوں لگاتے ہو ؟ کیا ہم نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–33

اثبات رسالت محمدیہ وعموم بعثت و اثبات قیامت قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنک الا کافۃ للناس۔۔۔ الی۔۔۔ اھل یجزون الا ما کانوا یعملون۔ (ربط) اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی رازقیت کا ذکر تھا اب آگے رسالت محمد یہ کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت فقط عرب کے لئے مخصوص نہیں بلکہ آپ ﷺ کی بعثت تمام عالم کے لئے ہے۔ انبیاء سابقین کی طرح کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ بعثت سے مقصود ہی توحید اور تذکیر آخرت ہے اس لئے آئندہ آیات میں منکرین واحدانیت اور منکرین رسالت اور منکرین قیامت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں۔ (حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 92 ج 4)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

34:۔ قال الذین استکبروا الخ : پیشوایان شرک اور صنادید کفر انے اتباع و اذناب کو جواب دیں گے کیا جب تمہارے پاس ہدایت آچکی تھی اور تم نے اسے قبول کرنے کا پختہ عزم کرلیا تھا تو کیا ہم نے تمہیں اس پر ایمان لانے اور اسے قبول کرنے سے روکا تھا ؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی تم غلط کہتے ہو ہم نے تمہیں ایمان لانے سے ہرگز نہیں روکا تھا بلکہ تم خود مجرم ہو۔ تم نے اپنی مرضی سے ایمان پر کفر کو اور توحید پر شرک کو ترجیح دی اور ہدایت کو ٹھکرا کر گمراہی قبول کی۔ ای لسنا نحن الذین حلنا بینکم و بین الایمان بعد اذ صممتم علی الدخول فیہ بل انتم منعتم انفسکم خطہا باجرامکم وایثارکم الکفر علی الایمان (روح ج 22 ص 145)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–33

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور مشرکین کا رد فرمایا اور توحید کی عقلی دلیل بیان کی ، پھر رسالت کے تذکرے میں حضور ﷺ کی نبوت عامہ کا ذکر کیا کہ ہم نے آپ کو کافۃ للناس یعنی تمام بنی نوع انسان کی طرف رسول بنا کر مبعوث فرمایا ہے اور اس میں رنگ و نسل یا زمان و مکان کی کوئی قید نہیں۔ پھر اللہ نے منکرین قیامت کو جواب دیا کہ جس طرح تمہاری انفرادی زندگی کا ایک دن مقرر ہے ، اسی طرح مجموعہ عالم کا بھی ایک دن مقرر ہے۔ قیامت کا وعدہ اس مقررہ دن پر پورا ہوجائے گا اور اس گھڑی بھر کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوگی۔ اب قرآن پاک کی حقانیت کے ضمن میں قیامت والے دن اس کے منکرین کے دو گروہوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ الَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْٓا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْہُدٰى بَعْدَ اِذْ جَاۗءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِيْنَ۝ 32 صدد الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] ( ص د د ) الصدود والصد ۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–36

وقال الذین کفروا الخ یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ تیاری اور زاد آخرت حاصل کرنا تو درکنار وہ اس کی جگہ کفر بکتے ہیں کہ قرآن تو کیا ہم اس سے پہلی کسی کتاب کو بھی نہیں مانتے۔ یہ مشرکین کہ کا قول تھا، جہالت اور جوش میں آکر کہتے تھے۔ ولو تری اذا الظالمون الخ سے حشر کے دن پیش آنے والی مصیبت کا بیان کرتا ہے۔ وما ارسلنا فی قریۃ الخ سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ انکار کوئی نئی بات نہیں، ہر نبی سے پیٹ بھرے ایسا ہی کرتے آئے ہیں جو اپنے حق پر ہونے کی دلیل دنیاوی جاہ و حشم بیان کرتے ہیں۔ کہہ دے یہ قبولیت کی دلیل نہیں یہ کم زیادہ مصلحت سے ہر ایک کو ملتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَـکْبَرُوا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْٓا اَنَحْنُ صَدَدْنٰـکُمْ عَنِ الْھُدٰی بَعْدَ اِذْجَآئَ کُمْ بَلْ کُنْـتُمْ مُّجْرِمِیْنَ ۔ (السباء : 32) (وہ لوگ جو بڑے بنے رہے ان لوگوں کو جو دبا کے رکھے گئے، جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جبکہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی، بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ ) گزشتہ بات کی وضاحت ہر معاشرے میں کچھ لوگ رہنمائی کرتے اور قیادت و سیادت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ پیچھے چلنے والے ہوتے ہیں۔ رہنمائی کرنے والے بالعموم طبقہ امراء کے لوگ، سیاستدان، قبیلوں اور برادریوں کے سردار، علماء و پیشوا ہوتے ہیں۔ اور پیچھے چلنے والے غریب لوگ،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–32

فہم القرآن ربط کلام : منکرین قیامت کی ہٹ دھرمی کی انتہا اور اس کا جواب۔ توحید و رسالت اور قیامت کے دلائل سُننے اور ان کے سامنے جھکنے کی بجائے منکرین قیامت ہٹ دھرمی کی بنیاد پر کہا کرتے ہیں کہ ہم نہ اس قرآن کو ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اس سے پہلی کتابوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے جو شخص کسی دلیل کو ماننے اور کھلی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو اسے سمجھانا اور منوانا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی کیفیت منکرین قیامت کی تھی اس لیے ان کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! اب تو یہ لوگ پوری ڈھٹائی کے ساتھ انکار کیے جاتے ہیں۔ کاش ! آپ اس وقت ان کا حال دیکھیں جب ظالم اپنے رب کے سامنے کھڑے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32: قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْالِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا اَنَحْنُ صَدَدْنٰکُمْ عَنِ الْھُدٰی (یہ بڑے لوگ ان ادنیٰ درجہ کے لوگوں کو کہیں گے کیا ہم نے تم کو ہدایت سے روکا تھا) نحو : نحن اسم ضمیر پر ہمزئہ استفہام انکاری لایا گیا۔ کیونکہ رئوساء کا مقصد اس بات سے انکار کرنا ہے کہ انہوں نے ان کو حق و ہدایت سے روکا ہے اور اس بات کو ثابت کرنا ہے کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو ہدایت سے روکا اور اپنے اختیار سے گمراہی لی ہے۔ بَعْدَ اِذْجَآ ئَ کُمْ (اس کے بعد کہ وہ تمہیں پہنچ چکی تھی) نحو : اذ کو جاء کی طرف اضافت کے ساتھ لائے۔ اگرچہ اذ اور اذا ایسے ظروف میں سے ہے جن کو ظرفیت لازم ہے کیونکہ زمان میں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 32۔ ، قال الذین استکبرو، بڑے لوگ ادنی درجہ کے لوگوں سے کہیں گے، للذین استضعفوں انحن صدد ناکم عن الھدی بعد اذجاء کم بل کنتم مجرمین ، ایمان کے ترک کرنے کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–32

24 تا 30۔ اوپر گزرا کہ اہل مکہ کی سرکشی کے سبب سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور اس قحط کی بلا کے دفع کرنے میں اہل مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے آخر اللہ تعالیٰ نے ہی جب اپنے فضل سے مینہ بر سایا تو وہ قحط کی بلادفع ہوگئی اسی واسطے ان مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے سرول اللہ کے تم ان بت پرستوں سے یہ تو پوچھ کر آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیدا وار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے مکہ کے فحط کے تجربہ کے بعد اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ کام اللہ کا ہے اس جواب کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ مکہ کے قحط کے تجریہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–32

آیت 30 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لئے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوش خبری دے اور انہیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انہیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ (ولکن اکثر الناس لایعلمون) ” لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

76 گمراہ پیشواؤں کی اپنے پیرؤوں کو مزید ڈانٹ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ گمراہ پیشواؤوں سے کہیں گے کہ نہیں بلکہ اصل مجرم تم لوگ خود تھے۔ پس اصل قصور وار تم خود تھے۔ بلکہ ہمیں خراب و گمراہ کرنے میں بھی تمہارا ہی ہاتھ تھا کہ اگر تم لوگ ہمیں آسمان پر نہ چڑھاتے تو ہمارے دماغ اتنے خراب نہ ہوتے کہ ہم اپنی خدائی کے زعم میں مبتلا ہوجاتے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ پیراں نہ می پرند مریداں می پرانند ۔ " پیر خود نہیں اڑتے مرید ان کو اڑاتے ہیں " ورنہ تم لوگ اگر حق و ہدایت کو اپناتے اور اس کے نور مبین کو قبول کرتے جبکہ وہ تمہارے پس پہنچ چکا تھا تو تمہیں اس سے کون روک سکتا تھا۔ پس حق سے منہ موڑ کر اور باطل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–33

قیامت اور خراب رہنماؤں کی پریشانی تشریح : ان آیات میں قیامت کی سختی اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے پھر ان گنہگاروں کا ذکر کیا گیا ہے جو خوف اور دہشت سے گھبرا کر اپنے سرداروں اور لیڈروں پر الزام دیں گے اور لیڈر ورہنما ان پر الزام دیں گے، بہر حال معافی کسی کو بھی نہ ملے گی اور سب اپنے اپنے گناہوں کی سزا ضرور بھگتیں گے۔ مختصر یہ ہے کہ اس عالم کے خاتمے کے بعد اللہ ایک دوسرا عالم بنائے گا اور اس میں تمام انسان جو شروع دن سے آخر دن تک پیدا ہوئے ہوں گے مرنے کے بعد زندہ کر کے سب کو اکٹھا میدان حشر میں جمع کرے گا۔ ان کے دنیا میں کئے ہوئے اعمال کا حساب لے گا اور پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–36

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 31 تا 36 ۔ اسرار و معاف : قیامت اور جزا و سزا کی بات سن کر کفار مذاق اڑاتے اور انکار کرتے ہیں کہ ہم سا قرآن پہ یقین ہی نہیں رکھتے اور نہ اس طرح کی پہلی کتابوں پر جو ایسی بات کرتی ہیں لیکن ان کا انکار قیامت قائم ہونے کو روک تو نہ سکے گا اور اے مخاطب تو دیکھے گا جب یہ سب بدکار اللہ کے حضور پیشی کے لیے کھڑے کیے جائیں گے تو گھبرا کر ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگیں گے۔ عام طبقے کے لوگ خواص سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان قبول کرچکے ہوتے ہماری گمراہی کا باعث تم لوگ ہو تو وہ لوگ جواب دینگے بھلا ہم نے تم کو زبردستی تھوڑی روک رکھا تھا یا مسلمان ہونے پہ کوئی اور پابندی لگا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 جو عقل اور سمجھ رکھنے کے باوجود محض دنیا کے لالچ میں ہمارے پیچھے پیچھے ہوئے اور راہ ہدایت سے منہ پھیرلیا

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:32) انحن۔ میں ہمزہ استفہام انکاری ہے ۔ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا۔ یعنی ہم نے تو تمہیں نہیں روکا تھا۔ صددنکم۔ صیغہ ماضی جمع متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر صد و صدود ہم نے تم کو روکا تھا۔ بعد اذ جاء کم : ای بعد اذ جاء کم الھدی۔ جاء میں ضمیر فاعل واحد مذکر غائب الھدی کی طرف راجع ہے۔ بل۔ حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے استعمال ہوا ہے ہم نے تو تمہیں ہدایت سے نہیں روکا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم خود ہی مجرم تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 31–33

لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 33 موقوفون : کھڑے کیے گئے یرجع : وہ لوٹتا ہے استضعفوا : کمزور کردئے گئے لکنا : البتہ ہم ہوتے صددنا : ہم نے روک دیا تامرون : تم حکم دیتے ہو۔ تم سکھاتے ہو اسروا : انہوں نے چھپایا اغلال : طوق۔ زنجریں اعناق (عنق) : گردنیں تشریح : آیت نمبر 31 تا 33 جب نبی کریم ﷺ نے کفار عرب کے سامنے قرآن کریم کی آیات پیش کرکے بتایا کہ قرآن کریم اور اس سے پہلے نازل کی ہوئیں کتابیں توریت ، زبور اور انجیل وغیرہ یہ سب اللہ تعالیٰ نے انسانی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل فرمائی ہیں تو کفار بڑی ڈھٹائی اور بےشرمی سے کہتے تھے کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانتے ہیں اور نہ اس سے پہلی کتابوں کو مانتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–33

(ف 1) آیتوں میں فرمایا کہ جب ان مشرکوں کو قیامت کا یہ جواب دیا گیا کہ وہ وقت آجائے گا تو گھڑی بھر کی بھی دیرسویرنہ ہوگی تو ان مشرکوں نے یہ کہا قرآن پاک یا اس سے پہلے کی جن کتابوں میں قیامت کا ذکر ہے ان میں سے ایک کتاب کو بھی ہم نہیں مانتے پھر فرمایا اب تو اپنی سرداری کے گھمنڈ سے یہ سردار لوگ اور ان کے ماننے والے لوگ ان سرداروں کے بہکانے کے سبب سے یہ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں لیکن قیامت کے دن جب اس سرکشی کی سزا کا موقع آئے گا تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کا دشمن ہوجائے گا سردار لوگ اپنے تابع لوگوں کو گمراہ ہونے کا اور تابع لوگ سرداروں کو رات دن کے بہکانے کا الزام لگادیں گے اور کہیں گے کہ اگر تم ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 30–34

[25] ظاہر میں تو یہ لوگ قیامت کا وقت پوچھتے تھے اور مقصود ان کا یہ تھا کہ قیامت نہیں ہوگی۔ تو جواب میں اللہ نے وقت تو نہیں بتایا مگر ان کے اصل مقصود یعنی انکار کی تردید کردی کہ وقت کا بتانا منظور نہیں مگر قیامت اپنے وقت پر آ کر رہے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–33

زیر دتسوں کی گفتگو زبردستوں سے آفتاب جب چمکتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ لوگ اس کی روشنی کو محسوس نہ کریں ۔ رات کی تاریکی جب دور ہوتی ہے ۔ اور پوٹھپتی ہے تو ہر شخص ایک روحانی کیف کو محسوس کرتا ہے ۔ موسم بہار میں بوقلمون پھولوں کی بہار سے کون محفوظ نہیں ہوتا ؟ بالکل اس طرح دنیا میں طویل تاریکی اور ظلمت کے بعد مہر صداقت جب طلوع ہوتا ہے تو ساری دنیاکو منور کردیتا ہے ۔ جب فلاح وسعادت کی صبح رونما ہوتی ہے ۔ تو ہر سلیم الفطرت انسان اس کی کیفیتوں سے زندگی حاصل کرتا ہے اور جب کشت زار قلوب کی بہار کا موسم آتا ہے ۔ تو فیضان الٰہی کی تراوش ہوتی ہے ان کیفیات سے انکار کرنا جہود اور مجادلہ ہے ۔ اور چند حقیر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) بڑائی کرنیوالے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کیوں غلط بات کہہ رہے ہو کیا ہم نے تم کو اس ہدایت کے قبول کرنے سے بعد اس کے کہ وہ ہدایت تم کو پہنچ چکی تھی روکا تھا ؟ نہیں بلکہ تم خود ہی مجرم اور قصوروار تھے۔ یعنی ہم نے تم کو اسلامی ہدایت کے قبول کرنے سے کیا زبردستی روکا تھا ہم پر اپنے اسلام نہ قبول کرنے کا کیوں الزام رکھتے ہو اپنے جرم کا خود کیوں نہیں اعتراف کرتے ہم نے تم پر کوئی زور یا زبردستی نہیں کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–32

ف 5۔ یعنی توابع۔ 6۔ یعنی متبوعین سے۔ 7۔ یعنی ہم تو تمہارے سبب سے برباد ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

متکبرین ان کمزور بننے والوں کو پہچان کر بولیں گے تو کھری کھری ان کو سنائیں گے 32 ۔ انجام کار جب وہ ان کو پہچان لیں گے اور ان کو بھی معلوم ہوگا کہ ہیں تو وہی لوگ لیکن ان پر اسوقت حقیقت حال واضح ہوچکی ہے وہ وقت جب یہ لوگ آنکھیں بند کرکے ہمارے پیچھے جا رہے تھے ان کو معلوم ہی نہ تھا کہ ایک روز ایسا بھی آئے گا کہ ہم کو دھر لیا جائے گا وہ سہم کر بولیں گے کہ ہمارے پاس ایسی طاقت کہاں تھی جس سے ہم چند انسانوں نے تم کروڑوں انسانوں کو زبردستی اپنی پیروی پر مجبور کردیا تھا ؟ یہ تم نے کیسے کہہ دیا یا مان لیا کہ ہم نے تم کو آواز دی لیکن تم چاہتے تو ہماری آواز پر کان نہ دھرتے۔ تم ایمان لانا چاہتے تو ہماری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–34

Commentary The age-old shaitanic illusion of taking worldly riches and honours as a proof of being loved by Allah All along the lanes of time since the very beginning, people intoxicated with material wealth and luxury have always opposed the voice of truth and taken a stance of hostility against the prophets and the pious people, except those whom Allah willed otherwise. On top of this, they also used to argue in favor of their satisfaction with the existing stance against the people of truth by saying: Had Allah disliked our doings and ways, why would He give us wealth, recognition and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

52 That is, °They will say: We had no power by which a few of us could have compelled hundreds of thousands of the people like you to follow us: If you had the will to believe, you could have deposed us from leadership and power and authority and government. In fact, you were our army: you were the source of our wealth and power. But for your offerings and gifts and taxes we should havc been paupers. Had you not sworn allegiance to us, we could not have flourished as saints even for a day. Had you not appreciated and applauded us as leaders, we would have remained unknown. Had you not become…

Read the full tafseer →