Explained with ayahs 31–33
کافروں کی سرکشی۔
کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں بھی دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے۔ بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے چھوٹے بڑوں کو، بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے، ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے دوسری جانب سے دلیلیوں کی برستی ہوئی…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 53
دوسرے الفاظ میں ان عوام کا جواب یہ ہوگا کہ تم اس ذمہ داری میں ہم کو برابر کا شریک کہاں ٹھہرائے دے رہے ہو۔ کچھ یہ بھی یاد ہے کہ تم نے اپنی چال بازیوں، فریب کاریوں اور جھوٹے پروپیگنڈوں سے کیا طلسم باندھ رکھا تھا، اور رات دن خلق خدا کو پھانسنے کے لیے کیسے کیسے جتن تم کیا کرتے تھے۔ معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ تم نے ہمارے سامنے دنیا پیش کی اور ہم اس پر ریجھ گئے۔ امر واقعہ یہ بھی تو ہے کہ تم شب و روز کی مکاریوں سے ہم کو بیوقوف بناتے تھے اور تم میں سے ہر شکاری روز ایک نیا جال بن کر طرح طرح کی تدبیروں سے اللہ کے بندوں کو اس میں پھانستا تھا۔
قرآن مجید میں پیشواؤں اور پیروں کے اس جھگڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
خلاصہ تفسیر
اور یہ لوگ (قیامت کے متعلق مضامین (آیت) یجمع بیننا ربنا ثم یفتح الخ سن کر) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب (واقع) ہوگا اگر تم (یعنی نبی اور آپ کے متبعین) سچے ہو (تو بتلاؤ) آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے واسطے ایک خاص دن کا وعدہ (مقرر) ہے اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو (یعنی ہم وقت نہ بتائیں گے جو تم پوچھ رہے ہو مگر آئے گی ضرور جس کا اس پوچھنے سے انکار کرنا تمہارا مقصود ہے) اور یہ کفار (دنیا میں تو خوب خوب باتیں بناتے ہیں اور) کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر اور (قیامت میں یہ ساری لمبی چوڑی باتیں ختم ہوجائیں گی، چنانچہ) اگر آپ…
Read the full tafseer →وقال الذی استضعفوا اللذین استکبروا بل مکر الیل والنھار اذ تامرونان ان تکفر باللہ ونجعل لہ اندادا واسرو الندامہ لما راو العذاب وجعلنا الاغلل فی اعناق الذین کفروا ھل یجزون الا ما کانو ایعملون (33)
عوام لیڈروں کے جواب میں کہیں گے کہ یہ تمہاری رات دن کی سازشیں تھیں کہ ہم حق کی پیروی سے محروم رہے۔ تم نے رسول کی ہدایت سے برگشتہ کرنے کے لئے پروپیگنڈے کی مہم چلا رکھی تھی اور ہمیں تم یہ سمجھاتے اور سکھاتے تھے کہ ہم برابر کفر و شرک پر جمے رہیں۔ اس جواب سے یہ بات نکلی کہ ان کو اس امر کا تو اعتراف ہوگا کہ حق ان پر واضح تھا لیکن وہ اس وجہ سے اس کی پیروی نہ کرسکے کہ ان کے لیڈروں کی رات دن کی سازشوں نے…
Read the full tafseer →33۔ 1 یعنی ہم مجرم تو تب ہوتے جب ہم اپنی مرضی سے پیغمبروں کی تکذیب کرتے، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ تم دن رات ہمیں گمراہ کرنے پر اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کا شریک ٹھہرانے پر آمادہ کرتے رہے جس سے بالآخر ہم تمہارے پیچھے لگ کر ایمان سے محروم رہے۔
33۔ 2 یعنی ایک دوسرے پر الزام تراشی تو کریں گے لیکن دل میں دونوں ہی فریق اپنے اپنے کفر پر شرمندہ ہوں گے لیکن شماتت اعدا کی وجہ سے ظاہر کرنے سے گریز کریں گے۔
33۔ 3 یعنی ایسی زنجریں جو ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھیں گے۔
33۔ 4 یعنی دونوں کو ان کے عملوں کی سزا ملے گی، لیڈروں کو ان کے مطابق اور ان کے پیچھے چلنے والوں کو ان کے مطابق جیسے دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
17: یعنی ظاہر میں تو ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے، لیکن دل میں سمجھتے ہوں گے کہ در اصل جرم میں ہم سب شریک ہیں، اس لیے دل ہی دل میں پچھتا رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔ بین یدیہ ” “۔ یہ ہے وہ عناد جس میں مخالفین اسلام اول روز سے مبتلا تھے۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہدایت کو مان کر نہ دیں گے اگرچہ اس کا منبع کتب سابقہ میں ہو۔ نہ قرآن کو مانیں گے اور نہ پہلی کسی کتاب کو۔ نہ اس کو نہ سابقہ کتب کو ۔ یہی فیصلہ مخالفین اسلام کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کفر پر اصرار کرتے ہیں ۔ پختہ فیصلہ انہوں نے کرلیا ہے کہ وہ کفر پر اصرار کریں گے اور دلائل ہدایت پر غور ہی نہ کریں گے۔ جب انہوں نے یہ فیصلہ کر ہی دیا ہے تو ان کا علاج یہی ہے کہ ان کے سامنے بس مناظر قیامت میں سے ایک منظر پیش کردیا جائے۔
ولو تری اذ ۔۔۔۔۔ الا ما کانوا یعملون…
Read the full tafseer →1 یعنی بیشک تم نے زبردستی مجبور تو نہ کیا تھا۔ مگر رات دن مکرو فریب اور مغویانہ تدبیر سے ہم کو بہکاتے پھسلاتے رہتے تھے۔ جب ملے یہ تلقین کی کہ ہم پیغمبروں کے ارشاد کے موافق خدا کو ایک نہ مانیں۔ بلکہ بعض مخلوقات کو بھی اس کا مماثل اور برابر کا شریک سمجھیں۔ آخر تمہاری شب و روز کی ترغیب و ترہیب کا کہاں تک اثر نہ ہوتا۔
2 یعنی جس وقت ہولناک عذاب سامنے آئے گا تابعین اور متبوعین دونوں اپنے اپنے دل میں پچھتائیں گے۔ ہر ایک محسوس کرے گا کہ واقعی میں مجرم اور قصور وار ہوں۔ لیکن شرم کے مارے ایک دوسرے پر ظاہر نہ کریں گے اور شدید اضطراب و خوف سے شاید بولنے کی قدرت بھی نہ ہو۔
3 گردنوں میں طوق اور ہاتھ پاؤں…
Read the full tafseer →آیت 33 { وَقَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا بَلْ مَکْرُ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ } ”اس پر کہیں گے وہ جو کمزور تھے ان سے جو بڑے بنے ہوئے تھے بلکہ یہ تمہاری رات دن کی سازشیں تھیں“
{ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَآ اَنْ نَّکْفُرَ بِاللّٰہِ وَنَجْعَلَ لَہٗٓ اَنْدَادًا } ”جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کا کفر کریں اور اس کے لیے مد ِمقابل ٹھہرائیں۔“
{ وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ } ”اور وہ چھپائیں گے ندامت کو جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے۔“
{ وَجَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْٓ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”اور ہم نے طوق ڈال دیے ہیں ان کافروں کی گردنوں میں۔ ‘ ‘
{…
Read the full tafseer →50 اب عوام اپنے لیڈروں اور پیشواؤں سے یوں مخاطب ہوں گے کہ تمہارے دن رات کے پروپیگنڈے سے ہی ہم متاثر ہوجاتے تھے تم ہمیں پھانسنے کے لئے ہر روز کوئی نئے سے نیا جال لاتے رہے۔ تم لوگ نام تو اسلام کا لیتے رہے مگر حقیقتاً تم اپنی ہی حکومت اور اپنی ہی چودھراہٹ چاہتے تھے۔ تمہارے جھوٹے پروپیگنڈہ نے ہماری مت مار دی تھی۔ اور ہم تمہیں مخلص سمجھ کر تمہارا ساتھ دیتے رہے۔ لہذا ہماری گمراہی کا باعث تم ہی لوگ ہو۔
51 ان دونوں فریقوں کے مکالمہ سے ہر فری کو معلوم ہوجائے گا کہ دونوں فریق قصور وار ہیں۔ اور یہ مکالمہ محض بحث برائے بحث ہی ہے۔ لہذا ہم ان دونوں کو ایک جیسی سزا دیں گے ان کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں…
Read the full tafseer →50۔ (اور ہم تمہاری ان چالوں، تدبیروں کے شکار ہوگئے سو ہماری گمراہی کے بھی اصل ذمہ دار تمہیں ہو) (آیت) ” مکر “۔ یعنی ہر طرح کی ترغیب وترہیب، اور (آیت) ” مکرالیل والنھار “۔ کی تقدیر کلام یوں ہے۔ مکر کم ھنا فی اللیل والنھار۔
51۔ اپنے دل میں اپنے قصور پر حائل ہونے والے بڑے اور چھوٹے سب ہی ہوں گے، اپنی اپنی ذمہ داری سب محسوس کرکے رہیں گے۔ البتہ شماتت ہمسایہ کے خیال سے دوسروں پر اس کا اظہار حتی الامکان نہ ہونے دیں گے۔ (آیت) ” واسروا الندامۃ “۔ یہ اخفاء پیشمانی ایک دوسرے سے ہوگا اپنی مزید تفضیح ورسوائی کے خوف سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
آیت نمبر 31 تا 36
ترجمہ : اور مکہ کے کافر کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ ان کتابوں کو جو اس سے پہلے کی ہیں جیسا کہ تورات اور
انجیل جو مرنے کے بعد زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ان کے بعث بعد الموت کا منکر ہونے کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا اور اے محمد اگر آپ ان ظالموں کافروں کو اس وقت دیکھیں جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے (آپس میں) ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے کمزور درجہ کے لوگ یعنی متبعین بڑے لوگوں سے یعنی سرداروں سے کہیں گے اگر تم ہم کو ایمان سے روکنے والے نہ ہوتے تو ہم نبی کو ماننے والے ہوتے یہ بڑے لوگ کمزوروں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت…
Read the full tafseer →وقال الذین استضعفوا للذین استکبروا بل مکر الیل والنھار . (اس کے جواب میں) کم درجہ کے
لوگ ان بڑے لوگوں سے کہیں گے (ہم یہ نہیں کہتے کہ تم نے ہم پر زبردستی کی تھی) بلکہ تمہاری رات دن کی پرفریب تدبیروں نے (روکا تھا) ۔ بعض علماء نے کہا : رات دن کے مکر سے مراد ہے : زمانہ کا فریب ‘ طویل آرزو اور طول سلامتی۔
اذ تامروننا ان نکفر باللہ ونجعل لہ اندادا . جب کہ تم ہم کو مشورہ دیتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں
(یعنی اللہ کے ایک ہونے کے انکار کریں) اور اس کے شریک بنائیں۔
اَنْ نَّکْفُرَ میں ان مفسرہ ہے یا مصدریہ ‘ مؤخر الذکر صورت میں ب محذوف مانی جائے گی۔
واسروا الندامۃ لما راوا العذاب جب وہ (دونوں فریق…
Read the full tafseer →اس پر یہ ادنی درجہ کے لوگ ان سرداروں سے کہیں گے کہ بلکہ تمہاری رات دن کی تدبیروں نے روکا تھا جب کہ تم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں لیکن وہ سردار ان ادنی درجہ کے لوگوں سے اپنی شرمندگی چھپائیں گے یا یہ کہ ان دونوں کی شرمندگی خودبخود ظاہر ہوجائے گی جب یہ عذاب دیکھیں گے۔
اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے اور جیسی یہ کفریہ باتیں اور کام کرتے تھے قیامت کے دن اسی کی تو سزا بھگتیں گے۔
Read the full tafseer →بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ۔۔ : ”أَيْ بَلْ صَدَّنَا عَنِ الْھُدٰی مَکْرُکُمْ فِي اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ“ یعنی کمزور لوگ ان بڑوں سے کہیں گے کہ صرف یہی نہیں کہ ہم مجرم تھے اور تمہارا ہمیں ہدایت سے روکنے میں کوئی دخل نہ تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمہاری دن رات کی تدبیروں اور سازشوں نے ہمیں راہ راست سے روکے رکھا۔ جب تم ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے ساتھ شریک بنانے کا حکم دیا کرتے تھے۔
وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ : یعنی دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گے، مگر دونوں ہی اپنے اپنے کفر پر نادم ہوں گے، لیکن اپنی پشیمانی اور ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں…
Read the full tafseer →آیت : اذ تا مرو ننا ان نکفر با اللہ و نجعل لہ انداد ا، انداد کا معنی مشابہ، مثل اور نظیر ہے۔ محمد بن یزید نے کہا۔ فلان ند فلان فلاں فلاں کی مثل ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے : ندید۔ یہ شعر پڑھا :
اینما تجعلون الی ندا و ما انتملذی حسب ندید
تم میرا مثل کیسے بناتے ہو جب کہ تم کسی شریف کے ہم پلہ نہیں۔
سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ آیت : و اسروا الندامۃ انہوں نے ندامت کو اظہار کیا۔ یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔ یہ اخفا اور بداء کے معنی میں ہے۔ امراء لقیس نے کہا :
تجا وزت احراساو اھوال معشر علی حراصا لو یشرون مقتر
محل استدلال کلو یسرون ہے۔ اسے یشرون بھی روایت کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت : و اسروا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقال الذین کفروا لن نومن بہذا القراٰن (اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز اس قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے) یعنی یہ بات عرب کے مشرکوں نے کہی تھی جنہوں نے قرآن کا انکار کیا آیت ولا بالذی بین یدیہ اور نہ اس سے پہلے تورات وانجیل کو مانیں گے) یعنی نہ اس سے پہلی کتابوں اور انبیاء کو مانیں گے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا بالذی بین یدیہ یعنی اس قرآن سے پہلی کتابیں۔ انجیل اور تورات پر بھی ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ آیت یقول الذین استضعفوا یعنی وہ پیروی کرنے والے لوگ کہیں گے آیت للذین استکبرو۔ ان اپنے لڈروں سے آیت بل…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا [اور کہیں گے وہ جن کو کمزور سمجھا گیا ] لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا [ان سے جو بڑے بنے ] بَلْ [(نہیں) بلکہ ] مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ [دن اور رات کی (تمہاری) چالبازی ] اِذْ تَاْمُرُوْنَــنَآ [جب تم لوگ حکم دیتے تھے ہم کو ] اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ [کہ ہم انکار کریں اللہ (کے حکم) کا ] وَنَجْعَلَ لَهٗٓ [اور ہم بنائیں اس کے ] اَنْدَادًا ۭ [کچھ ہم پلہ ] وَاَسَرُّوا [اور وہ چھپائیں گے ] النَّدَامَةَ [ندامت کو ] لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ۭ [جب وہ دیکھیں گے عذاب کو ] وَجَعَلْنَا [اور ہم بنائیں (ڈالیں) گے ] الْاَغْلٰلَ [کچھ طوق ] فِيْٓ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ [ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
عذاب کی وجہ سے کافروں کی بدحالی اور ایک دوسرے پر جرم کو ٹالنے کی گفتگو
ان آیات میں قیامت کے دن کا ایک منظر بیان فرمایا ہے جو کافروں کے آپس کے سوال و جواب سے متعلق ہے وہاں سبھی چھوٹے بڑے موجود ہوں گے، کفر کی سزا سامنے ہوگی، دوزخ کا داخلہ یقینی ہوچکا ہوگا، ان میں سے جو لوگ دنیا میں چھوٹے یعنی کم درجہ کے لوگ تھے وہ اپنے بڑوں سے (جن کی دنیا میں بات مانتے تھے) کہیں گے کہ تم نے ہی ہمیں برباد کیا اگر تم نہ ہوتے تو ہم اللہ کے نبیوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لے آتے اور آج کے دن پر بھی ایمان لاتے، ان کے بڑے کہیں گے کہ اپنا قصور ہمارے سر کیوں منڈھ رہے ہو، اپنی کرنی ہمارے ذمہ کیوں لگاتے ہو ؟ کیا ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
اثبات رسالت محمدیہ وعموم بعثت و اثبات قیامت
قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنک الا کافۃ للناس۔۔۔ الی۔۔۔ اھل یجزون الا ما کانوا یعملون۔
(ربط) اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی رازقیت کا ذکر تھا اب آگے رسالت محمد یہ کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت فقط عرب کے لئے مخصوص نہیں بلکہ آپ ﷺ کی بعثت تمام عالم کے لئے ہے۔ انبیاء سابقین کی طرح کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ بعثت سے مقصود ہی توحید اور تذکیر آخرت ہے اس لئے آئندہ آیات میں منکرین واحدانیت اور منکرین رسالت اور منکرین قیامت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں۔ (حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 92 ج 4)…
Read the full tafseer →35:۔ وقال الذین استضعفوا الخ : اتباع و مریدین اپنے پیشواؤں کے جواب الجواب میں کہیں گے نہیں ! نہیں ! ہم خود گمراہ نہیں ہوئے۔ بلکہ ہمیں تمہاری چالوں اور تدبیروں ہی نے گمراہ کیا جو تم رات اور دن میں سوچا کرتے تھے۔ مکرالیل : مکر کا مضاف الیہ حذف کر کے ظرف کو اس کے قائم مقام رکھا گیا ہے۔ ای بل صدنا مکرکم بنا بالیل والنہار فحذف المضاف الیہ واقیم مقامہ الظرف اتساعا (ابو السعود ج 7 ص 22) ۔
36:۔ واسروا الخ : مشرک اتباع و متبوعین چونکہ دونوں گروہ ہی مجرم ہیں اور دونوں کو اپنے اپنے مجرم ہونے کا احساس بھی ہوگا۔ لیکن ذلت و رسوائی سے بچنے کے لیے وہ کئی بہانے اور باتیں بنائیں گے۔ آخر جب کوئی بہانہ کام نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور مشرکین کا رد فرمایا اور توحید کی عقلی دلیل بیان کی ، پھر رسالت کے تذکرے میں حضور ﷺ کی نبوت عامہ کا ذکر کیا کہ ہم نے آپ کو کافۃ للناس یعنی تمام بنی نوع انسان کی طرف رسول بنا کر مبعوث فرمایا ہے اور اس میں رنگ و نسل یا زمان و مکان کی کوئی قید نہیں۔ پھر اللہ نے منکرین قیامت کو جواب دیا کہ جس طرح تمہاری انفرادی زندگی کا ایک دن مقرر ہے ، اسی طرح مجموعہ عالم کا بھی ایک دن مقرر ہے۔ قیامت کا وعدہ اس مقررہ دن پر پورا ہوجائے گا اور اس گھڑی بھر کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوگی۔
اب قرآن پاک کی حقانیت کے ضمن میں قیامت والے دن اس کے منکرین کے دو گروہوں کے درمیان…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّہَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَــنَآ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللہِ وَنَجْعَلَ لَہٗٓ اَنْدَادًا 0 ۭ وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ 0 ۭ وَجَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِيْٓ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا 0 ۭ ہَلْ يُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 33
اسْتَضْعَفْ
واسْتَضْعَفْتُهُ : وجدتُهُ ضَعِيفاً ، قال وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ
[ النساء/ 75] ، قالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 97] ، إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
وقال الذین کفروا الخ یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ تیاری اور زاد آخرت حاصل کرنا تو درکنار وہ اس کی جگہ کفر بکتے ہیں کہ قرآن تو کیا ہم اس سے پہلی کسی کتاب کو بھی نہیں مانتے۔ یہ مشرکین کہ کا قول تھا، جہالت اور جوش میں آکر کہتے تھے۔ ولو تری اذا الظالمون الخ سے حشر کے دن پیش آنے والی مصیبت کا بیان کرتا ہے۔ وما ارسلنا فی قریۃ الخ سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ انکار کوئی نئی بات نہیں، ہر نبی سے پیٹ بھرے ایسا ہی کرتے آئے ہیں جو اپنے حق پر ہونے کی دلیل دنیاوی جاہ و حشم بیان کرتے ہیں۔ کہہ دے یہ قبولیت کی دلیل نہیں یہ کم زیادہ مصلحت سے ہر ایک کو ملتا ہے۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَـکْبَرُوْا بَلْ مَکْرُ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ اِذْتَاْمُرُوْنَنَـآ اَنْ نَّـکْفُرَبِاللّٰہِ وَنَجْعَلَ لَـہٗٓ اَنْدَادًا ط وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ط وَجَعَلْنَا الْاَغْلٰـلَ فِیْٓ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط ھَلْ یُجْزَوْنَ اِلاَّ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (السباء : 33)
(اور دبے ہوئے لوگ ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے تکبر کیا بلکہ تمہاری رات دن کی مکاری تھی (جوقبولِ حق میں مانع ہوئی) جبکہ تم ہمیں سمجھاتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں اور دلوں میں نادم ہوں گے جب عذاب کو دیکھیں گے،…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن مجرموں کا آپس میں تکرار اور کمزور لوگوں کا بڑے لوگوں کو جواب۔
تابع لوگ اپنے مطاع لوگوں کی بات کو رد کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہرگز نہیں ! بلکہ تمہاری صبح و شام کی مکاریاں تھیں کہ تم نے اپنے مکرو فریب سے ہمیں ایسے راستے پر چلایا کہ ہم اللہ کیساتھ کفر کریں اور دوسروں کو اس کا شریک بنائیں۔ صبح و شام کے مکروفریب سے مراد پیروں کے گھو رکھ دندھے، لیڈروں کی چالبازیاں اور علمائے سوء کی بدعات و رسومات ہیں جن کے لیے سیاست دان سیاست اور مذہبی پیشوا مذہب کے نام پر عوام کو قابو میں رکھتے ہیں۔ بہرحال ماتحت لوگ اپنے کفر و شرک کو بڑوں کے ذمّے لگائیں گے اور خود اپنی براءت کا اظہار…
Read the full tafseer →کمزوروں کا جواب :
33: وَقَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا (اور یہ کمزور لوگ اپنے ان رئوساء سے کہیں گے) ۔
سوال : یہاں حرف عطف وقال الذین استضعفوا میں لائے۔ جبکہ قال الذین استکبروا میں نہیں لایا ؟
جواب : الذین استضعفوا پہلے ان کے کلام میں گزر چکا اس کا جواب حرف عاطف کو حذف کر کے جملہ مستانفہ کے طریقہ سے لائے۔ پھر مستضعفین کا دوسرا کلام ذکر کیا۔ تو ان کے اولا کلام پر عطف کردیا۔
بَلْ مَکْرُ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ (بلکہ تمہاری رات دن کی تدابیر نے روکا) بلکہ تم ہمارے ذریعہ دن رات تدابیر اختیار کرتے تھے۔ ظرف کو وسعت دے کر مفعول کی جگہ لائے اور مکرؔ کی اضافت اس کی طرف کردی۔…
Read the full tafseer →33، وقال الذین استضعفواللذین استکبروابل مکر اللیل والنھار، یعنی تمہارے دن ورات کے مکر و فریب نے۔ عرب کے نزدیک کسی فعل کو دن یا رات کی طرف نسبت اس لیے کرتے ہیں تاکہ کلام میں مزید تو سع پیدا ہوجائے۔ بعض حضرات نے کہا کہ رات ودن کے مکر سے مراد ہے زمانے کافریب ، طول ، آرزو اور طول سلامتی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، فطال علیھم الا مد فقست قلوبھم،۔۔۔۔۔۔۔ ، اذتامروننا لنا ان نکفر باللہ ونجعل لہ اندا دا واسروا، اور ندامت کو ظاہر کردیا۔ ، الند امۃ، بعض نے کہا کہ اس ندامت کو چھپادیا۔ یہ اس صورت میں اضداد میں سے ہوگا۔ ، لما راوا العذاب وجعلناالا غلال فی اعناق الذین کفروا، آگ میں تابع اور متبوع…
Read the full tafseer →33۔ اوپر مشرکین مکہ کی اس سرکشی کا ذکر تھا کہ وہ قیامت کے آنے کا وقت گھڑ ی کھڑی سرکشی اور مسخراپن سے پوچھتے تھے ان آیتوں میں ذکر ہے کہ جب ان مشرکوں کو یہ جواب دیا گیا کہ وہ وقت آجاوے گا تو گھڑی بھر کی دیر سویر نہ ہوگی تو ان سرکشوں نے یہ کہا کہ قرآن پاک یا اس سے پہلے کی جن کتابوں میں قیامت کا ذکر ہے ان میں سے ایک کتاب کو بھی ہم نہیں مانتے پھر فرمایا اب تو اپنی سرداری کے گھمنڈ سے یہ سردار لوگ اور عام لوگ ان سرداروں کے بہکانے کے سب سے یہ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں لیکن قیامت کے دن جب اس سرکشی کی سزا کا موقع آوے گا تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کا دشمن ہوجائے گا سردار لوگ اپنے تابع لوگوں کو گمراہ ہونے…
Read the full tafseer →آیت 33
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں کے لئے عذاب کا جو وعدہ کیا گیا ہے اپنے وقت پر اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہاں فرمایا کہ اگر آپ اس روز ان کا حال دیکھیں، جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، سردار اور کفر و ضلالت میں ان کی پیروی کرنے والے اکٹھے کھڑے ہوں گے، تو آپ کو بہت بڑا اور انتہائی ہولناک معاملہ نظر آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی بات کو رد کرتے ہیں۔ (یقول الذین استضعفوا) ” وہ لوگ جو کمزور کئے گئے تھے وہ کہیں گے “ یعنی متبعین (للذین استکبروا) ” ان سے جنہوں نے تکبر کیا۔ “ اس سے مراد قائدین کفر ہیں (لولا انتم لکنا مومنین) ” اگر تم نہ ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →77 پیرؤوں کی طرف سے پیشواؤں کے قول کی تردید : سو اس سے پیرؤوں کی طرف سے بیشواؤں کی مکاریوں اور چالبازیوں کو ذمہ دار بنانے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پیشواؤں کے اس جواب کی تردید میں ان کے پیرو اور چیلے ان سے کہیں گے کہ نہیں بلکہ یہ تمہاری دن رات کی مکاری تھی جس نے ہمارا بیڑا غرق کیا۔ تمہاری مکاری یعنی مکر کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ اس کو حذف کر کے ظرف کو اس کے قائم مقام کردیا گیا۔ سو تقدیر عبارت یوں ہوگی " مَکْرُکُمْ بِنَا بَاللَّیْلِ وَ النَّہَارِ " (ابو المسعود : ج 7 ص 23) ۔ اَیْ مَکْرُکُمْ فِیْہِمَا و اِغْراَؤُکُمْ ۔ (محاسن التاویل : ج 14 ص 28) ۔ مطلب یہ ہے کہ چیلے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
قیامت اور خراب رہنماؤں کی پریشانی
تشریح : ان آیات میں قیامت کی سختی اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے پھر ان گنہگاروں کا ذکر کیا گیا ہے جو خوف اور دہشت سے گھبرا کر اپنے سرداروں اور لیڈروں پر الزام دیں گے اور لیڈر ورہنما ان پر الزام دیں گے، بہر حال معافی کسی کو بھی نہ ملے گی اور سب اپنے اپنے گناہوں کی سزا ضرور بھگتیں گے۔ مختصر یہ ہے کہ اس عالم کے خاتمے کے بعد اللہ ایک دوسرا عالم بنائے گا اور اس میں تمام انسان جو شروع دن سے آخر دن تک پیدا ہوئے ہوں گے مرنے کے بعد زندہ کر کے سب کو اکٹھا میدان حشر میں جمع کرے گا۔ ان کے دنیا میں کئے ہوئے اعمال کا حساب لے گا اور پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 31 تا 36 ۔
اسرار و معاف :
قیامت اور جزا و سزا کی بات سن کر کفار مذاق اڑاتے اور انکار کرتے ہیں کہ ہم سا قرآن پہ یقین ہی نہیں رکھتے اور نہ اس طرح کی پہلی کتابوں پر جو ایسی بات کرتی ہیں لیکن ان کا انکار قیامت قائم ہونے کو روک تو نہ سکے گا اور اے مخاطب تو دیکھے گا جب یہ سب بدکار اللہ کے حضور پیشی کے لیے کھڑے کیے جائیں گے تو گھبرا کر ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگیں گے۔ عام طبقے کے لوگ خواص سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان قبول کرچکے ہوتے ہماری گمراہی کا باعث تم لوگ ہو تو وہ لوگ جواب دینگے بھلا ہم نے تم کو زبردستی تھوڑی روک رکھا تھا یا مسلمان ہونے پہ کوئی اور پابندی لگا…
Read the full tafseer →۔3 یعنی اپنی شرمندگی دوسروں سے چھپائیں گے اور بظاہر بڑے حوصلہ مند بننے کی کوشش کریں گے۔
Read the full tafseer →(34:33) بل۔ یہاں بھی اضراب ہی کے لئے مستعمل ہے۔ پہلی صورت کو برقرار رکھتے ہوئے مابعد کو اس پر اور زیادہ کرنے کے لئے ہے۔ یعنی جرم محض ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارے صدود اور مزید برآں تمہارے رات دن کے مکروفریب نے ہمیں خدا کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا حکم دینا ہی (ہماری اس گمراہی کا ) باعث ہوا۔
مکر الیل والنھار۔ ای مکرکم بنا فی الیل والنھار۔ تمہارا رات دن کے مکروفریب نے ہمیں حق سے روکے رکھا۔
اذ تامروننا۔ یہ لیل ونہار کا بدل ہے یا مکر کی تعلیل ۔ جب تم ہمیں حکم دیتے تھے۔ یا دیا کرتے تھے۔ اندادا۔ اسم مفعول جمع مذکر ند واحد۔ شریک ۔ برابر۔ مقابل۔ ند اس کو کہتے ہیں جو کسی شے کی ذات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 33
موقوفون : کھڑے کیے گئے
یرجع : وہ لوٹتا ہے
استضعفوا : کمزور کردئے گئے
لکنا : البتہ ہم ہوتے
صددنا : ہم نے روک دیا
تامرون : تم حکم دیتے ہو۔ تم سکھاتے ہو
اسروا : انہوں نے چھپایا
اغلال : طوق۔ زنجریں
اعناق (عنق) : گردنیں
تشریح : آیت نمبر 31 تا 33
جب نبی کریم ﷺ نے کفار عرب کے سامنے قرآن کریم کی آیات پیش کرکے بتایا کہ قرآن کریم اور اس سے پہلے نازل کی ہوئیں کتابیں توریت ، زبور اور انجیل وغیرہ یہ سب اللہ تعالیٰ نے انسانی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل فرمائی ہیں تو کفار بڑی ڈھٹائی اور بےشرمی سے کہتے تھے کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانتے ہیں اور نہ اس سے پہلی کتابوں کو مانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
(ف 1) آیتوں میں فرمایا کہ جب ان مشرکوں کو قیامت کا یہ جواب دیا گیا کہ وہ وقت آجائے گا تو گھڑی بھر کی بھی دیرسویرنہ ہوگی تو ان مشرکوں نے یہ کہا قرآن پاک یا اس سے پہلے کی جن کتابوں میں قیامت کا ذکر ہے ان میں سے ایک کتاب کو بھی ہم نہیں مانتے پھر فرمایا اب تو اپنی سرداری کے گھمنڈ سے یہ سردار لوگ اور ان کے ماننے والے لوگ ان سرداروں کے بہکانے کے سبب سے یہ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں لیکن قیامت کے دن جب اس سرکشی کی سزا کا موقع آئے گا تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کا دشمن ہوجائے گا سردار لوگ اپنے تابع لوگوں کو گمراہ ہونے کا اور تابع لوگ سرداروں کو رات دن کے بہکانے کا الزام لگادیں گے اور کہیں گے کہ اگر تم ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
[25] ظاہر میں تو یہ لوگ قیامت کا وقت پوچھتے تھے اور مقصود ان کا یہ تھا کہ قیامت نہیں ہوگی۔ تو جواب میں اللہ نے وقت تو نہیں بتایا مگر ان کے اصل مقصود یعنی انکار کی تردید کردی کہ وقت کا بتانا منظور نہیں مگر قیامت اپنے وقت پر آ کر رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
زیر دتسوں کی گفتگو زبردستوں سے
آفتاب جب چمکتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ لوگ اس کی روشنی کو محسوس نہ کریں ۔ رات کی تاریکی جب دور ہوتی ہے ۔ اور پوٹھپتی ہے تو ہر شخص ایک روحانی کیف کو محسوس کرتا ہے ۔ موسم بہار میں بوقلمون پھولوں کی بہار سے کون محفوظ نہیں ہوتا ؟ بالکل اس طرح دنیا میں طویل تاریکی اور ظلمت کے بعد مہر صداقت جب طلوع ہوتا ہے تو ساری دنیاکو منور کردیتا ہے ۔ جب فلاح وسعادت کی صبح رونما ہوتی ہے ۔ تو ہر سلیم الفطرت انسان اس کی کیفیتوں سے زندگی حاصل کرتا ہے اور جب کشت زار قلوب کی بہار کا موسم آتا ہے ۔ تو فیضان الٰہی کی تراوش ہوتی ہے ان کیفیات سے انکار کرنا جہود اور مجادلہ ہے ۔ اور چند حقیر…
Read the full tafseer →(33) اس پر وہ کمزور اور ادنیٰ درجے کے لوگ ان بڑائی کرنیوالوں سے کہیں گے اور جواب دیں گے نہیں بلکہ تمہاری ہی رات دن کی پرفریب تدبیروں اور ریشہ دوانیوں نے ہم کو روکا تھا جب تم ہم سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے اور یہ مشورہ دیا کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور ہم دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہرائیں اور جب یہ لوگ عذاب کا معائنہ کریں گے اور جب یہ تابع اور متبوع عذاب کو دیکھیں گے تو اپنی ندامت اور پشیمانی کو تو چھپانے کی کوشش کریں گے اور دل ہی دل میں پچھتائیں گے اور ہم ان لوگوں کی گردنوں میں جو کفر کرتے رہے طوق ڈال دیں گے۔ ان لوگوں کو انہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو وہ کیا کرتے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 8۔ تدبیروں سے مراد ترغیب و ترہیب ہے۔
1۔ اگر شبہ ہو کہ بعض کفار نے تو اپنے اتباع پر زبردستی بھی کی ہے، پھر اس کے کیا معنی انحن صددنکم تو جواب یہ ہے کہ اصل ایمان اعتقاد ہے اور اس کا محل قلب ہے، وہاں اکراہ ممکن نہیں۔
Read the full tafseer →کمزور دوبارہ ان متکبرین کو جواب دینے کی مزید کوشش کریں گے
33 ۔ تم نے دیکھا کہ وڈیروں نے کمزوروں کو اپنے ساتھ برابر کا شریک ٹھہرالیا اور ان کی باتوں کا ترقی بہ ترقی جو ای دیا اور جواب دینے میں بھی انہوں نے باور کرانے کی پوری پوری کوشش کی کہ ہم پیرومرشد ، سردار اور حاکم تم محکوم ، حواری اور مرید تم نے اتنی جرات کیسے کی کہ ہمارے سامنے اتنے چڑھ کر بولنے لگے لیکن وہ بھی کیا کریں سامنے عذاب ان کو نظر آرہا ہے اس لئے ان کا دل بڑھ گیا ہے انہوں نے اپنے گمراہ کرنے والوں کی بات سنی اور دوبارہ ان کو جواب دینے لگے کہ تعجب ہے تم نے ہم کو اپنے ساتھ برابر کا شریک بنانے کی کوشش کی بلکہ ہم کو ساری مصیبت کا ذمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
Commentary
The age-old shaitanic illusion of taking worldly riches and honours as a proof of being loved by Allah
All along the lanes of time since the very beginning, people intoxicated with material wealth and luxury have always opposed the voice of truth and taken a stance of hostility against the prophets and the pious people, except those whom Allah willed otherwise. On top of this, they also used to argue in favor of their satisfaction with the existing stance against the people of truth by saying: Had Allah disliked our doings and ways, why would He give us wealth, recognition and…
Read the full tafseer →53 In other words, the common people's reply will be: "How can you hold us as equal partners in this responsibility? Do you also remember what sort of trickeries and deceptions and false propaganda you practised and what efforts you used to make to tempt and entice the people day and night. It is not just that you presented the world before us and we were allured, but this also is a fact that you used to befool us by your frauds and deceptions and each one of you brought a new bait every day to tempt and lure the simple people. "
The Qur'an has made mention of the dispute between the…
Read the full tafseer →