Explained with ayahs 31–33
کافروں کی سرکشی۔
کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں بھی دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے۔ بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے چھوٹے بڑوں کو، بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے، ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے دوسری جانب سے دلیلیوں کی برستی ہوئی…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 50
مراد ہیں کفار عرب جو کسی آسمانی کتاب کو نہیں مانتے تھے۔
سورة سَبـَا 51
یعنی عوام الناس، جو آج دنیا میں اپنے لیڈروں، سرداروں، پیروں اور حاکموں کے پیچھے آنکھیں بند کیے چلے جا رہے ہیں، اور ان کے خلاف کسی ناصح کی بات پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، یہی عوام جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ حقیقت کیا تھی اور ان کے یہ پیشوا انہیں کیا باور کرا رہے تھے، اور جب انہیں یہ پتہ چل جائے گا کہ ان رہنماؤں کی پیروی انہیں کس انجام سے دوچار کرنے والی ہے، تو یہ اپنے ان بزرگوں پر پلٹ پڑیں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ کم بختو، تم نے ہمیں گمراہ کیا، تم ہماری ساری مصیبتوں کے ذمہ دار ہو، تم ہمیں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
خلاصہ تفسیر
اور یہ لوگ (قیامت کے متعلق مضامین (آیت) یجمع بیننا ربنا ثم یفتح الخ سن کر) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب (واقع) ہوگا اگر تم (یعنی نبی اور آپ کے متبعین) سچے ہو (تو بتلاؤ) آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے واسطے ایک خاص دن کا وعدہ (مقرر) ہے اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو (یعنی ہم وقت نہ بتائیں گے جو تم پوچھ رہے ہو مگر آئے گی ضرور جس کا اس پوچھنے سے انکار کرنا تمہارا مقصود ہے) اور یہ کفار (دنیا میں تو خوب خوب باتیں بناتے ہیں اور) کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر اور (قیامت میں یہ ساری لمبی چوڑی باتیں ختم ہوجائیں گی، چنانچہ) اگر آپ…
Read the full tafseer →وقال الذین کفرو الن تو من بھذا القران ولا بالذی بین یدیہ ولوتری اذ الظلموان موقوفون عند ربھم یرجع بعضھم الی بعض القول یقول الذین استضرمنوا للذین استکبروا لو لا انتم لکنا مومنین (31)
’ ولا بالذی بین یدیہ ‘ کی دو تاویلیں لوگوں نے کی ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد قرآن سے پہلے نازل ہونے والے آسمانی صحیفے ہیں، دوسری یہ کہ یہ اس عذاب اور قیامت کی طرف اشارہ ہے جس سے قرآن اکو آگاہ کر رہا تھا۔ ہمارے نزدیک یہ دوسرا قول سیاق وسباق سے زیادہ اوفقہ۔ یعنی یہ کفار نہایت ڈھٹائی کے ساتھ قرآن کے انداز کا یہ جواب دیتے ہیں کہ نہ تو ہم اس قرآن ہی پر ایمان لانے والے ہیں اور نہ اس عذاب اور قیامت ہی کو ماننے کے لئے تیار…
Read the full tafseer →31۔ 1 جیسے تورات، زبور اور انجیل وغیرہ۔
31۔ 2 یعنی دنیا میں یہ کفر و شرک ایک دوسرے کے ساتھی اور اس ناطے سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے تھے، لیکن آخرت میں یہ ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کو مورد الزام بنائیں گے۔
31۔ 3 یعنی دنیا میں یہ لوگ، جو سوچے سمجھے بغیر، روش عام پر چلنے والے ہوتے ہیں اپنے ان لیڈروں سے کہیں گے جن کے وہ دنیا میں پیروکار بنے رہے تھے۔
31۔ 4 یعنی تم ہی نے ہمیں پیغمبروں کے پیچھے چلنے سے روکا تھا، اگر تم اس طرح نہ کرتے تو ہم یقینا ایمان والے ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
16: آیت نمبر : 22۔ 23 میں مشرکین کے مختلف عقیدوں کی تردید کی گئی ہے، ان میں سے بعض مشرکین تو وہ تھے کہ وہ اپنے تراشے ہوئے بتوں ہی کو اپنا خدا مانتے تھے، اور انہی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ براہ راست ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں، ان کی تردید کے لئے آیت 22 میں فرمایا گیا ہے کہ : وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور بعض مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کی تردید کے لئے اسی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ : اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔ بین یدیہ ” “۔ یہ ہے وہ عناد جس میں مخالفین اسلام اول روز سے مبتلا تھے۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہدایت کو مان کر نہ دیں گے اگرچہ اس کا منبع کتب سابقہ میں ہو۔ نہ قرآن کو مانیں گے اور نہ پہلی کسی کتاب کو۔ نہ اس کو نہ سابقہ کتب کو ۔ یہی فیصلہ مخالفین اسلام کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کفر پر اصرار کرتے ہیں ۔ پختہ فیصلہ انہوں نے کرلیا ہے کہ وہ کفر پر اصرار کریں گے اور دلائل ہدایت پر غور ہی نہ کریں گے۔ جب انہوں نے یہ فیصلہ کر ہی دیا ہے تو ان کا علاج یہی ہے کہ ان کے سامنے بس مناظر قیامت میں سے ایک منظر پیش کردیا جائے۔
ولو تری اذ ۔۔۔۔۔ الا ما کانوا یعملون…
Read the full tafseer →7 یعنی ہم نہ قرآن کو مانیں نہ اگلی کتابوں کو جنہیں تم آسمانی کتابیں بتلاتے ہو۔ مثلا تورات و انجیل وغیرہ یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں جہاں دیکھو وہ ہی حساب کتاب اور قیامت کا مضمون ہے۔ سو ان چیزوں کو ہم ہرگز تسلیم کرنے والے نہیں۔
8 یعنی جیسے ناکامیابی کے وقت ہوتا ہے کہ ہر ایک دوسرے کو ناکامیابی کا سبب گردانتا ہے۔ محشر میں بھی کفار ایک دوسرے کو مورد الزام بنائیں گے جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔
9 دنیا میں جو لوگ نیچے کے طبقہ میں شمار ہوتے تھے اور دوسروں کے پیچھے چلتے تھے وہ اپنے بڑے سرداروں کو الزام دیں گے کہ تم نے ہمیں اس مصیبت میں پھنسوایا۔ تمہاری روک نہ ہوتی تو ہم ضرور پیغمبروں کی بات مان لیتے…
Read the full tafseer →آیت 31 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ } ”اور کہا ان کافروں نے کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ہی اس قرآن پر جو اس سے پہلے تھا۔“
یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں لفظ قرآن کا اطلاق تورات پر بھی ہوا ہے۔ اس نکتہ کو سمجھنے کے لیے سورة القصص کی آیت 48 کی تشریح بھی مدنظر رہنی چاہیے ‘ جس میں کفار کا وہ قول نقل ہوا ہے جس میں انہوں نے قرآن اور تورات کو سِحْرٰنِ تَظَاہَرَا قرار دیا تھا۔ ان کے اس الزام کا مطلب یہ تھا کہ تورات اور قرآن دراصل دو جادو ہیں جنہوں نے باہم گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ تورات میں قرآن اور محمد ﷺ کے…
Read the full tafseer →46 یعنی مشرکین مکہ صرف قرآن کے ہی منکر نہ تھے۔ بلکہ پہلی آسمانی کتابوں مثلاً تورات، انجیل وغیرہ کے بھی منکر تھے اور ان کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ ان سب کتابوں کے مرکزی اور بنیادی مضامین ملتے جلتے تھے۔ سب کتابوں میں توحید کا دعوت دی گئی تھی اور مشرک کو ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح عقیدہ آخرت کے بارے میں بھی سب الہامی کتابیں ایک دوسری کی تائید و توثیق کرتی تھیں۔ اور یہی دو باتیں تھیں جن پر محاذ آرائی شروع ہوچکی تھی۔ اور مشرکین مکہ انھیں کسی قیمت پر بھی ماننے کو تیار نہ تھے۔ لہذاسب الہامی کتابوں کا انکار کردیتے تھے۔
47 قرآن کریم میں ان دو فریقوں کا مکامہ بہت سے مقامات پر مذکور ہے۔…
Read the full tafseer →48۔ ( اور اپنے کو ہر شخص الزام سے بچا رہا ہوگا) (آیت) ” وقال .... یدیہ “۔ یہ کہنے والے وہ مشرکین تھے، جو سرے سے سلسلہ وحی ونبوت ہی کے منکر تھے۔ مشرکوں کو اعتراض صرف ذات محمدی ﷺ پر نہ تھا بلکہ نفس نبوت ہی کے تخیل سے انہیں انکار تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
آیت نمبر 31 تا 36
ترجمہ : اور مکہ کے کافر کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ ان کتابوں کو جو اس سے پہلے کی ہیں جیسا کہ تورات اور
انجیل جو مرنے کے بعد زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ان کے بعث بعد الموت کا منکر ہونے کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا اور اے محمد اگر آپ ان ظالموں کافروں کو اس وقت دیکھیں جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے (آپس میں) ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے کمزور درجہ کے لوگ یعنی متبعین بڑے لوگوں سے یعنی سرداروں سے کہیں گے اگر تم ہم کو ایمان سے روکنے والے نہ ہوتے تو ہم نبی کو ماننے والے ہوتے یہ بڑے لوگ کمزوروں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت…
Read the full tafseer →وقال الذین کفروا لن نومن بھذا القران ولا بالذی بین یدیہ . اور کافروں نے کہا : ہم ہرگز نہ اس
قرآن کو مانیں گے اور نہ اس سے پہلے والی (توریت و انجیل) کو۔ کافروں نے اہل کتاب سے رسول اللہ ﷺ کے متعلق دریافت کیا (کہ کیا یہ نبی ہیں) اہل کتاب نے بتایا : ان کے اوصاف ہماری کتابوں میں موجود ہیں۔ اس پر مشرک غضبناک ہوگئے اور یہ بات کہی جو آیت ذیل میں بیان کی گئی ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ سے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مراد ہو۔ ایک قول یہ بھی آیا ہے کہ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ سے روز قیامت اور جنت و دوزخ مراد ہے (یہ سب چیزیں مستقبل میں آنے والی ہیں) ۔
ولو تری اذا لظلمون موقوفون عند ربھم…
Read the full tafseer →اور کفار مکہ یعنی ابو جہل وغیرہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس قرآن حکیم پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ ان سے پہلی کتابوں یعنی توریت، انیل، زبور تمام آسمانی کتب پر ایمان لائیں گے اور اگر محمد آپ اس وقت کی حالت دیکھیں جبکہ قیامت کے دن یہ مشرکین اپنے پروردگار کے سامنے حاضر کیے جائیں گے کہ ایک دوسرے پر الزام لگائے ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن و طعن کرتے ہوں گے۔ چناچہ ادنی درجہ کے لوگ سرداروں سے جنہوں نے ایمان لانے سے تکبر کیا تھا کہتے ہوں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لے آتے۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ۔۔ : نبی ﷺ کفار مکہ سے توحید، رسالت اور آخرت پر بات کرتے ہوئے کبھی اپنی وحی کی تائید کے طور پر تورات و انجیل کا ذکر فرماتے کہ قرآن کی طرح ان میں بھی توحید اور آخرت کا ذکر ہے، تو کفار مکہ کبر و عناد میں آکر کہتے کہ نہ ہم اس قرآن کو مانیں گے، نہ اس سے پہلی کسی کتاب کو۔ قرآن مجید نے ان کی اس بات کے جواب یا اس کی تردید کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی، کیونکہ انھوں نے بات ہی ایسی کی جس کا نتیجہ پہلے تمام پیغمبروں کا انکار تھا، جو واضح طور پر غلط تھا اور انھوں نے یہ بات محض ضد میں آکر کہی تھی، ورنہ وہ پہلے پیغمبروں اور ان کی کتابوں کو جانتے…
Read the full tafseer →آیت : و قال الذین کفروا مراد کفار قریش ہیں۔ آیت : لن نوء من بھذا القرآن ولا با الذی بین یدیہ سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے : آیت : و لا با الذی بین یدیہ سے مراد کتب اور انبیاء ﷺ ہیں۔ ایک قول کیا گیا : مراد آخرت ہے۔ ابن جریح نے کہا : یہ قول کرنے والا ابو جہل بن ہشام ہے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 451 ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اہل کتاب نے مشر کوں سے کہا حضرت محمد ﷺ کی صفت ہماری کتابوں میں ہے پس تم آپ ﷺ سے پو چھو۔ جب انہوں نے سوال کیا تو اہل کتاب نے جو کہا تھا اسی کے موافق پایا۔ مشرکوں نے کہا : ہم اس قرآن پر اور اس پر جو اس سے قبل نازل ہوا یعنی تو رات اور انجیل پر ایمان نہیں رکھتے بلکہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقال الذین کفروا لن نومن بہذا القراٰن (اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز اس قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے) یعنی یہ بات عرب کے مشرکوں نے کہی تھی جنہوں نے قرآن کا انکار کیا آیت ولا بالذی بین یدیہ اور نہ اس سے پہلے تورات وانجیل کو مانیں گے) یعنی نہ اس سے پہلی کتابوں اور انبیاء کو مانیں گے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا بالذی بین یدیہ یعنی اس قرآن سے پہلی کتابیں۔ انجیل اور تورات پر بھی ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ آیت یقول الذین استضعفوا یعنی وہ پیروی کرنے والے لوگ کہیں گے آیت للذین استکبرو۔ ان اپنے لڈروں سے آیت بل…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ [اور کہا ان لوگں نے جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] لَنْ نُّؤْمِنَ [ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ] بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ [اس قرآن پر ] وَلَا بِالَّذِيْ [اور نہ اس پر جو ] بَيْنَ يَدَيْهِ ۭ [اس کے آگے (پہلے) ہے ] وَلَوْ تَرٰٓى [اور اگر آپ ﷺ دیکھتے ] اِذِ الظّٰلِمُوْنَ [جب یہ ظلم کرنے والے ] مَوْقُوْفُوْنَ [ٹھہرائے ہوئے ہوں گے ] عِنْدَ رَبِّهِمْ ښ [اپنے رب کے پاس ] يَرْجِــعُ [لوٹائیں گے ] بَعْضُهُمْ [ان کے کوئی ] اِلٰى بَعْضِۨ [کسی کی طرف ] الْقَوْلَ ۚ [بات کو ] يَقُوْلُ الَّذِيْنَ [کہیں گے وہ لوگ جن کو ] اسْتُضْعِفُوْا [کمزور سمجھا گیا ] لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا [ان سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
عذاب کی وجہ سے کافروں کی بدحالی اور ایک دوسرے پر جرم کو ٹالنے کی گفتگو
ان آیات میں قیامت کے دن کا ایک منظر بیان فرمایا ہے جو کافروں کے آپس کے سوال و جواب سے متعلق ہے وہاں سبھی چھوٹے بڑے موجود ہوں گے، کفر کی سزا سامنے ہوگی، دوزخ کا داخلہ یقینی ہوچکا ہوگا، ان میں سے جو لوگ دنیا میں چھوٹے یعنی کم درجہ کے لوگ تھے وہ اپنے بڑوں سے (جن کی دنیا میں بات مانتے تھے) کہیں گے کہ تم نے ہی ہمیں برباد کیا اگر تم نہ ہوتے تو ہم اللہ کے نبیوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لے آتے اور آج کے دن پر بھی ایمان لاتے، ان کے بڑے کہیں گے کہ اپنا قصور ہمارے سر کیوں منڈھ رہے ہو، اپنی کرنی ہمارے ذمہ کیوں لگاتے ہو ؟ کیا ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
اثبات رسالت محمدیہ وعموم بعثت و اثبات قیامت
قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنک الا کافۃ للناس۔۔۔ الی۔۔۔ اھل یجزون الا ما کانوا یعملون۔
(ربط) اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی رازقیت کا ذکر تھا اب آگے رسالت محمد یہ کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت فقط عرب کے لئے مخصوص نہیں بلکہ آپ ﷺ کی بعثت تمام عالم کے لئے ہے۔ انبیاء سابقین کی طرح کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ بعثت سے مقصود ہی توحید اور تذکیر آخرت ہے اس لئے آئندہ آیات میں منکرین واحدانیت اور منکرین رسالت اور منکرین قیامت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں۔ (حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 92 ج 4)…
Read the full tafseer →33:۔ وقال الذین کفروا الخ : شکوہ مع تخویف اخروی۔ یہ کفار دنیا میں تو بڑے طمطراق سے کہتے ہیں کہ ہم نہ قرآن کو مانیں گے نہ ان کتابوں کو مانیں گے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔ یعنی تورات و انجیل وغیرہ جن میں مسئلہ توحید بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ اصل وجہ ٔ نزاع یہی ہے۔ ای مانزل قبل القران من کتب اللہ (مدارک) ۔ لیکن انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ ان کے اس عناد و انکار کا انجام کس قدر ہولناک ہونے والا ہے۔ ولو تری۔ تا۔ ما کانوا یعملون۔ تخویف اخروی ہے۔ اور اس میں کفار و مشرکین کے انجام بد اور میدان حشر میں اپنے راہنماؤں سے ان کی گفتگو کا ذکر ہے۔ قیامت کے دن جب یہ ظالم مشرکین اپنے مولائے حقیقی کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور مشرکین کا رد فرمایا اور توحید کی عقلی دلیل بیان کی ، پھر رسالت کے تذکرے میں حضور ﷺ کی نبوت عامہ کا ذکر کیا کہ ہم نے آپ کو کافۃ للناس یعنی تمام بنی نوع انسان کی طرف رسول بنا کر مبعوث فرمایا ہے اور اس میں رنگ و نسل یا زمان و مکان کی کوئی قید نہیں۔ پھر اللہ نے منکرین قیامت کو جواب دیا کہ جس طرح تمہاری انفرادی زندگی کا ایک دن مقرر ہے ، اسی طرح مجموعہ عالم کا بھی ایک دن مقرر ہے۔ قیامت کا وعدہ اس مقررہ دن پر پورا ہوجائے گا اور اس گھڑی بھر کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوگی۔
اب قرآن پاک کی حقانیت کے ضمن میں قیامت والے دن اس کے منکرین کے دو گروہوں کے درمیان…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْہِ 0 ۭ وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ 0 ۚۖ يَرْجِــعُ بَعْضُہُمْ اِلٰى بَعْضِۨ الْقَوْلَ 0 ۚ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِيْنَ 31
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
وقال الذین کفروا الخ یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ تیاری اور زاد آخرت حاصل کرنا تو درکنار وہ اس کی جگہ کفر بکتے ہیں کہ قرآن تو کیا ہم اس سے پہلی کسی کتاب کو بھی نہیں مانتے۔ یہ مشرکین کہ کا قول تھا، جہالت اور جوش میں آکر کہتے تھے۔ ولو تری اذا الظالمون الخ سے حشر کے دن پیش آنے والی مصیبت کا بیان کرتا ہے۔ وما ارسلنا فی قریۃ الخ سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ انکار کوئی نئی بات نہیں، ہر نبی سے پیٹ بھرے ایسا ہی کرتے آئے ہیں جو اپنے حق پر ہونے کی دلیل دنیاوی جاہ و حشم بیان کرتے ہیں۔ کہہ دے یہ قبولیت کی دلیل نہیں یہ کم زیادہ مصلحت سے ہر ایک کو ملتا ہے۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلاَ بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ ط وَلَوْتَرٰٓی اِذِا الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ج صلے یَرْجِعُ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضِ نِ الْقَوْلَ ج یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَـکْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْـتُمْ لَـکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ ۔ (السباء : 31)
(ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا کہ ہم ہرگز اس قرآن کو نہیں مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب پر ایمان لائیں گے، کاش آپ دیکھتے ان کا حال اس وقت جبکہ یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے اس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے، جو لوگ دبا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قیامت کی ہٹ دھرمی کی انتہا اور اس کا جواب۔
توحید و رسالت اور قیامت کے دلائل سُننے اور ان کے سامنے جھکنے کی بجائے منکرین قیامت ہٹ دھرمی کی بنیاد پر کہا کرتے ہیں کہ ہم نہ اس قرآن کو ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اس سے پہلی کتابوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے جو شخص کسی دلیل کو ماننے اور کھلی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو اسے سمجھانا اور منوانا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی کیفیت منکرین قیامت کی تھی اس لیے ان کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! اب تو یہ لوگ پوری ڈھٹائی کے ساتھ انکار کیے جاتے ہیں۔ کاش ! آپ اس وقت ان کا حال دیکھیں جب ظالم اپنے رب کے سامنے کھڑے…
Read the full tafseer →کفار نے قرآن کو واقعی ماننے سے انکار کیا تو قرآن نے ایک موقف محشر کی خبر دی :
31: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ( اور کافر کہتے ہیں) ابو جہل اور اس کے پیروکار۔ لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ (نہ تو اس قرآن پر ہم ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر) بین یدیہؔ قرآن مجید سے پہلے اترنے والی کتابیں۔ یا قیامت اور جنت و دوزخ۔ مطلب یہ ہے انہوں نے قرآن کو اللہ تعالیٰ کی واقعی کتاب ماننے سے انکار کردیا۔ اور جو قرآن مجید جزاء کے لئے دوبارہ اٹھائے جانے کی بات کہتا ہے اس کو واقعی ماننے سے انکار کردیا۔ وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْ قُوْفُوْنَ (اگر آپ اس…
Read the full tafseer →31، وقال الذین کفروالن نؤمن بھذا القرآن ولا بالذی بین یدیہ، اس سے مراد توریت اور انجیل ہے۔ ، ولوتری، اے محمد، اذالظالمون موقوفون، تم اگر قید کرلیے جاؤ۔ ، عند ربھم یرجع بعضھم الی بعض القول ، وہ ایک دوسرے پر جھگڑے والی بات ڈالیں گے۔
، یقول الذین استضعفوا، وہ ان کو حقارت سے کہیں گے جوان کے پیرو کارہوں گے۔ ، للذین استکبروا، مسرداران قوم ! ، لولا انتم لکنا مؤ منین، اگر تم ہمیں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے نہ روکتے تو ہم ضروران پر ایمان لے آتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
24 تا 30۔ اوپر گزرا کہ اہل مکہ کی سرکشی کے سبب سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور اس قحط کی بلا کے دفع کرنے میں اہل مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے آخر اللہ تعالیٰ نے ہی جب اپنے فضل سے مینہ بر سایا تو وہ قحط کی بلادفع ہوگئی اسی واسطے ان مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے سرول اللہ کے تم ان بت پرستوں سے یہ تو پوچھ کر آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیدا وار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے مکہ کے فحط کے تجربہ کے بعد اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ کام اللہ کا ہے اس جواب کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ مکہ کے قحط کے تجریہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت 30
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لئے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوش خبری دے اور انہیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انہیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔
(ولکن اکثر الناس لایعلمون) ” لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →73 کفار و منکرین کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : کہ " ہم نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں پر "۔ سو یہ ہے ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کا وہ شاخسانہ جس میں مبتلا ہو کر ایک شخص پوری ڈھٹائی کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیتا ہے اور کسی ناصح کی کسی نصیحت کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا کہ " میں نہ مانوں " (I never agree) کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔ اسی کو " مہر لگنے " سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسی میں آج کے جملہ باطل فرقے خاص کر غالی اہل بدعت بری طرح سے مبتلا ہیں کہ یہ لوگ بھی حق کے وضوح اور اس کے جاننے کے باوجود اس کو ماننے اور قبول کرنے کے لئے تیار اور آمادہ نہیں ہوتے ۔ {…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
قیامت اور خراب رہنماؤں کی پریشانی
تشریح : ان آیات میں قیامت کی سختی اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے پھر ان گنہگاروں کا ذکر کیا گیا ہے جو خوف اور دہشت سے گھبرا کر اپنے سرداروں اور لیڈروں پر الزام دیں گے اور لیڈر ورہنما ان پر الزام دیں گے، بہر حال معافی کسی کو بھی نہ ملے گی اور سب اپنے اپنے گناہوں کی سزا ضرور بھگتیں گے۔ مختصر یہ ہے کہ اس عالم کے خاتمے کے بعد اللہ ایک دوسرا عالم بنائے گا اور اس میں تمام انسان جو شروع دن سے آخر دن تک پیدا ہوئے ہوں گے مرنے کے بعد زندہ کر کے سب کو اکٹھا میدان حشر میں جمع کرے گا۔ ان کے دنیا میں کئے ہوئے اعمال کا حساب لے گا اور پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 31 تا 36 ۔
اسرار و معاف :
قیامت اور جزا و سزا کی بات سن کر کفار مذاق اڑاتے اور انکار کرتے ہیں کہ ہم سا قرآن پہ یقین ہی نہیں رکھتے اور نہ اس طرح کی پہلی کتابوں پر جو ایسی بات کرتی ہیں لیکن ان کا انکار قیامت قائم ہونے کو روک تو نہ سکے گا اور اے مخاطب تو دیکھے گا جب یہ سب بدکار اللہ کے حضور پیشی کے لیے کھڑے کیے جائیں گے تو گھبرا کر ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگیں گے۔ عام طبقے کے لوگ خواص سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان قبول کرچکے ہوتے ہماری گمراہی کا باعث تم لوگ ہو تو وہ لوگ جواب دینگے بھلا ہم نے تم کو زبردستی تھوڑی روک رکھا تھا یا مسلمان ہونے پہ کوئی اور پابندی لگا…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی ان میں سے ہر ایک اپنی گمراہی کا الزام دوسروں پر دھر رہا ہوگا جیسا کہ عموماً ناکامی کی صورت میں ہوتا ہے۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(34:31) لن نؤمن مضارع نفی۔ تاکید بلن منصوب بوجہ عمل لن۔ ہم ہرگز نہ مانیں گے۔ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔
بین یدیہ۔ بین بمعنی بیچ ۔ درمیان۔ اسم ظرف مکان۔ یدی مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ بین مضاف کے۔ اس کے دونوں ہاتھوں کے درمیان ۔ یا۔ سامنے۔ مراد آگے۔ سامنے۔ پہلے۔ ولا بالذی بین یدیہ اور نہ (ہم ایمان لائیں گے) ان کتابوں پر جو اس قرآن سے قبل (نازل کی گئی ) ہیں۔
بین کا استعمال یا تو وہاں ہوتا ہے جہاں مسافت پائی جائے مثلاً بین البلدین (دو شہروں کے درمیان یا جہاں دو یا دو سے زیادہ کا عدد موجود ہو۔ مثلاً بین الرجلین (دو شخصوں کے درمیان ) یا بین القوم (قوم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 33
موقوفون : کھڑے کیے گئے
یرجع : وہ لوٹتا ہے
استضعفوا : کمزور کردئے گئے
لکنا : البتہ ہم ہوتے
صددنا : ہم نے روک دیا
تامرون : تم حکم دیتے ہو۔ تم سکھاتے ہو
اسروا : انہوں نے چھپایا
اغلال : طوق۔ زنجریں
اعناق (عنق) : گردنیں
تشریح : آیت نمبر 31 تا 33
جب نبی کریم ﷺ نے کفار عرب کے سامنے قرآن کریم کی آیات پیش کرکے بتایا کہ قرآن کریم اور اس سے پہلے نازل کی ہوئیں کتابیں توریت ، زبور اور انجیل وغیرہ یہ سب اللہ تعالیٰ نے انسانی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل فرمائی ہیں تو کفار بڑی ڈھٹائی اور بےشرمی سے کہتے تھے کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانتے ہیں اور نہ اس سے پہلی کتابوں کو مانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
(ف 1) آیتوں میں فرمایا کہ جب ان مشرکوں کو قیامت کا یہ جواب دیا گیا کہ وہ وقت آجائے گا تو گھڑی بھر کی بھی دیرسویرنہ ہوگی تو ان مشرکوں نے یہ کہا قرآن پاک یا اس سے پہلے کی جن کتابوں میں قیامت کا ذکر ہے ان میں سے ایک کتاب کو بھی ہم نہیں مانتے پھر فرمایا اب تو اپنی سرداری کے گھمنڈ سے یہ سردار لوگ اور ان کے ماننے والے لوگ ان سرداروں کے بہکانے کے سبب سے یہ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں لیکن قیامت کے دن جب اس سرکشی کی سزا کا موقع آئے گا تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کا دشمن ہوجائے گا سردار لوگ اپنے تابع لوگوں کو گمراہ ہونے کا اور تابع لوگ سرداروں کو رات دن کے بہکانے کا الزام لگادیں گے اور کہیں گے کہ اگر تم ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
[25] ظاہر میں تو یہ لوگ قیامت کا وقت پوچھتے تھے اور مقصود ان کا یہ تھا کہ قیامت نہیں ہوگی۔ تو جواب میں اللہ نے وقت تو نہیں بتایا مگر ان کے اصل مقصود یعنی انکار کی تردید کردی کہ وقت کا بتانا منظور نہیں مگر قیامت اپنے وقت پر آ کر رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
زیر دتسوں کی گفتگو زبردستوں سے
آفتاب جب چمکتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ لوگ اس کی روشنی کو محسوس نہ کریں ۔ رات کی تاریکی جب دور ہوتی ہے ۔ اور پوٹھپتی ہے تو ہر شخص ایک روحانی کیف کو محسوس کرتا ہے ۔ موسم بہار میں بوقلمون پھولوں کی بہار سے کون محفوظ نہیں ہوتا ؟ بالکل اس طرح دنیا میں طویل تاریکی اور ظلمت کے بعد مہر صداقت جب طلوع ہوتا ہے تو ساری دنیاکو منور کردیتا ہے ۔ جب فلاح وسعادت کی صبح رونما ہوتی ہے ۔ تو ہر سلیم الفطرت انسان اس کی کیفیتوں سے زندگی حاصل کرتا ہے اور جب کشت زار قلوب کی بہار کا موسم آتا ہے ۔ تو فیضان الٰہی کی تراوش ہوتی ہے ان کیفیات سے انکار کرنا جہود اور مجادلہ ہے ۔ اور چند حقیر…
Read the full tafseer →(31) اور دین حق کے منکروں نے یوں کہا کہ ہم ہرگز اس قرآن کریم پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر ایمان لائیں گے اور کاش اے مخاطب تو ان منکروں کی حالت اس وقت دیکھتا جبکہ یہ ظالم اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے پر بات کو پلٹ رہے ہوں گے تو تجھ کو بڑا عجیب معلوم ہو جو لوگ کمزور اور تابع تھے وہ بڑائی کرنے والوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم یقینا ایماندار ہوتے۔
یعنی کفار قریش یوں کہتے ہیں نہ ہم قرآن کریم پر ایمان لائیں گے اور نہ دوسری کتب سماویہ پر ایمان لائیں گے کیونکہ دیگر کتب سماویہ میں بھی اس آخری کتاب یعنی قرآن کریم کا ذکر ہے اس لئے ہم کسی بھی آسمانی کتاب پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 5۔ یعنی توابع۔
6۔ یعنی متبوعین سے۔
7۔ یعنی ہم تو تمہارے سبب سے برباد ہوئے۔
Read the full tafseer →کافر قرآن کی کتاب اللہ ماننے کے لئے تیار نہیں ، نہ ہی کسی پہلی کتاب کو کتاب اللہ مانتے ہیں
31 ۔ ایک بات ہوتی ہے کسی دلیل سے اور ایک ہوتی ہے محض ضد اور ہٹ دھرمی سے۔ اگر کوئی شخص دلیل کے ساتھ بات کرے تو اس کو دلیل کے ساتھ منوایا جاسکتا ہے اگر اس کی دی گئی دلیل صحیح نہ ہو تو اس کو صحیح دلیل دی جاسکتی ہے اور اس کی غلط دلیل کو صحیح دلیل کے ساتھ رد کیا جاسکتا ہے اس میں بلا شبہ ماننے یا منوانے کا پہلو موجود ہوتا ہے اور بات کرنا بھی کسی حد تک مفید ہوسکتا ہے۔ لیکن جہاں کوئی دلیل موجود ہی نہیں صرف ایک آدمی ایک بات کہہ دے اور اس پر اڑ جائے اور ضد اور ہٹ دھرمی سے وہی بات کہتا جائے تو اس کے سامنے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
Commentary
The age-old shaitanic illusion of taking worldly riches and honours as a proof of being loved by Allah
All along the lanes of time since the very beginning, people intoxicated with material wealth and luxury have always opposed the voice of truth and taken a stance of hostility against the prophets and the pious people, except those whom Allah willed otherwise. On top of this, they also used to argue in favor of their satisfaction with the existing stance against the people of truth by saying: Had Allah disliked our doings and ways, why would He give us wealth, recognition and…
Read the full tafseer →50 The allusion is to the pagans of Arabia, who did not believe in any Divine Book.
51 That is, "The common people who are following their leaders, chiefs, saints and rulers blindly, and are not prepared to listen to any word of advice from a well-wisher against them. When the same people will sec the actual reality and will also remember how their religious leaders used to misrepresent things, and when they will realize what doom they are going to meet on account of following their leaders, they will turn on them, and say, "O wretched people, you led us astray: you are responsible for all…
Read the full tafseer →