Explained with ayahs 28–30
تمام اقوام کے لئے نبوت۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اپنے رسول حضرت محمد ﷺ سے فرما رہا ہے کہ ہم نے تجھے تمام کائنات کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا01508) 7۔ الاعراف :158) یعنی اعلان کردو کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں اور آیت میں ہے (تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا ۙ) 25۔ الفرقان :1) بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان کو ہوشیار کر دے۔ یہ بھی فرمایا کہ " اطاعت گذاروں کو بشارت جنت کی دے اور…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 49
دوسرے الفاظ میں اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے تمہاری خواہشات کے تابع نہیں ہیں کہ کسی کام کے لیے جو وقت تم مقرر کرو اسی وقت پر وہ اس کام کو کرنے کا پابند ہو۔ اپنے معاملات کو وہ اپنی ہی صوابدید کے مطابق انجام دیتا ہے۔ تم اسے کیا سمجھ سکتے ہو کہ اللہ کی اسکیم میں نوع انسانی کو کب تک اس دنیا کے اندر کام کرنے کا موقع ملنا ہے، کتنے اشخاص اور کتنی قوموں کی کس کس طرح آزمائش ہونی ہے، اور کونسا وقت اللہ ہی کی اسکیم میں مقرر ہے اسی وقت پر یہ کام ہوگا۔ نہ تمہارے تقاضوں سے وہ وقت ایک سکنڈ پہلے آئے گا اور نہ تمہاری التجاؤں سے وہ ایک سکنڈ کے لیے ٹل سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
خلاصہ تفسیر
اور یہ لوگ (قیامت کے متعلق مضامین (آیت) یجمع بیننا ربنا ثم یفتح الخ سن کر) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب (واقع) ہوگا اگر تم (یعنی نبی اور آپ کے متبعین) سچے ہو (تو بتلاؤ) آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے واسطے ایک خاص دن کا وعدہ (مقرر) ہے اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو (یعنی ہم وقت نہ بتائیں گے جو تم پوچھ رہے ہو مگر آئے گی ضرور جس کا اس پوچھنے سے انکار کرنا تمہارا مقصود ہے) اور یہ کفار (دنیا میں تو خوب خوب باتیں بناتے ہیں اور) کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر اور (قیامت میں یہ ساری لمبی چوڑی باتیں ختم ہوجائیں گی، چنانچہ) اگر آپ…
Read the full tafseer →قل کم میعاد یوم لا تستاخرون عنہ ساعۃ ولا تستقدمون (30)
فرمایا کہ ان کو جواب دے دو کہ اس چیز کے لئے جلدی نہ مچائو۔ اس کیظہور کے لئے ایک خاص وقت مقرر ہے۔ جب وہوقت آجائے گا تو پھر نہ تو اس سے پیچھے ہٹ سکوگے اور نہ آگے ہی بڑھ سکو گے۔ یہ حقیقت ہم جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں اور باغیوں کو بھی اتنی مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں تاکہ ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے اور یہ بات صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کسی قوم کو پیمانہ کب لبریز ہوا۔ اس بھید سے اللہ کا رسول بھی واقف نہیں ہوتا۔ لفظ ’ یوم ‘ یہاں وقت کے مفہوم میں ہے اور لفظ ’ ساعۃ ‘ لمحۃ، پل اور وقت قلیل…
Read the full tafseer →30۔ 1 یعنی اللہ نے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے جس کا علم صرف اسی کو ہے، تاہم جب وہ وقت مقرر آجائے گا تو ایک ساعت بھی آگے، پیچھے نہیں ہوگا (اِ نَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِ ذَا جَآءَ لَا یُئَوخَّرُ) 71۔ نوح :4)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
16: آیت نمبر : 22۔ 23 میں مشرکین کے مختلف عقیدوں کی تردید کی گئی ہے، ان میں سے بعض مشرکین تو وہ تھے کہ وہ اپنے تراشے ہوئے بتوں ہی کو اپنا خدا مانتے تھے، اور انہی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ براہ راست ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں، ان کی تردید کے لئے آیت 22 میں فرمایا گیا ہے کہ : وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور بعض مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کی تردید کے لئے اسی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ : اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
درس نمبر 197 ایک نظر میں
اس سبق میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اوپر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں مشرکین کا موقف بیان کیا گیا ہے۔ یہ ہر رسول کے مقابلے میں اختیار کیا جانے والا کھاتے پیتے لوگوں کا موقف ہے۔ اس قسم کے لوگ اپنے مال اور اولاد اور اپنے معاشرتی مقام کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر صرف اس دنیا کے مفادات ہوتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ دنیا کے مفادات حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے ہیں اس لیے کہ مختار اور افضل لوگ ہیں۔ اور یہ کہ اس دنیاوی دولت کی وجہ سے وہ دنیا و آخرت دونوں کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ چناچہ یہاں ان کے سامنے وہ منظر پیش کیا جاتا ہے جو آخرت میں ان کا ہوگا۔…
Read the full tafseer →6 یعنی گھبراؤ نہیں۔ جس دن کا وعدہ ہے ضرور آکر رہے گا۔ جب آئے گا تو ایک منٹ کی مہلت نہ ملے گی۔ جلدی مچانے کے بجائے اس کی ضرورت ہے کہ اس وقت کے آنے سے پہلے کچھ تیاری کر رکھو۔
Read the full tafseer →آیت 30 { قُلْ لَّکُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْہُ سَاعَۃً وَّلَا تَسْتَقْدِمُوْنَ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ تمہارے لیے ایک خاص دن کی میعاد مقرر ہے ‘ جس سے تم نہ تو ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو گے اور نہ آگے بڑھ سکو گے۔“
Read the full tafseer →45 یعنی یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ ابھی اس نے کتنے انسان اور پیدا کرنے ہیں۔ جن کا اسی دنیا اور اس نظام کائنات کے تحت امتحان لیا جانے والا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس کے پہلے سے طے شدہ سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ وہ ہو کے رہے گا۔ تمہاری طلب کرنے یا جلدی مچانے سے یا پوچھتے رہنے سے وہ وقت سے پہلے نہیں آسکتا ہاں جب اس کا وقت آگیا تو پھر اس میں تاخیر ناممکن ہے۔ لہذا کرنے کا کام یہ ہے کہ اس دن کے آنے سے پہلے پہلے جو بہتر سے بہتر کام تم اپنے لئے کرسکتے ہو کرلو۔
Read the full tafseer →47۔ جواب جو رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ادا کرایا جارہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کا ایک وقت علم الہی میں معین ومقرر ہے، وہ کسی کے طلب، تقاضہ، طنز وطعن سے نہیں آئے گی، اپنے وقت ہی پر آئے گی، جب بھی اس کا آنا حکمت الہی میں مناسب ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
آیت نمبر 22 تا 30
ترجمہ : اے محمد ! کفار مکہ سے کہہ دیجئے کہ جن چیزوں کے بارے میں تمہیں خدا کے سوا (خدائی) کا گمان ہے یعنی جن کو تم اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو ان کو پکارو تاکہ وہ تمہارے گمان کے مطابق تم کو نفع پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا وہ ذرہ برابر خیر و شر کا اختیار نہیں رکھتے، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونون (کے پیدا کرنے) میں شرکت ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کا ان معبودوں میں سے کوئی مددگار ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی یہ ان کے اس قول کو رد کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کے معبود اس کے سامنے سفارش کریں گے بجز ان کے کہ جن کے لئے اجازت…
Read the full tafseer →قل لکم میعاد یوم لا تستاخرون عنہ ساعۃ ولا تستقدمون . آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے (حساب
و کتاب اور عذاب وثواب) کیلئے ایک (خاص) دن کا وعدہ مقرر ہے ‘ جس سے نہ گھڑی بھر پیچھے رہ سکتے ہو نہ آگے بڑھ سکتے ہو۔
مِیْعَادُ یَوْمٍ یعنی (مقرر خاص) دن کا وعدہ یا وعدہ کا وقت ‘ یوم سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ضحاک نے کہا : موت کا وقت مراد ہے۔ آگے پیچھے نہ ہٹنے سے مرادیہ ہے کہ مدت عمر میں نہ زیادتی ہوسکتی ہے ‘ نہ کمی۔ اس کا سوال استہزائی اور انکاری تھا ‘ اسی کے مطابق جواب بھی تہدید آمیز دیا گیا۔
Read the full tafseer →آپ ان سے فرما دیجیے کہ قیام قیامت کے لیے ایک خاص دن کا وقت مقرر ہے کہ اس وقت سے نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو۔
Read the full tafseer →قُلْ لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً۔۔ : یعنی تمہارے لیے اس کا ایک وقت مقرر کیا گیا ہے جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے کہ تمہیں توبہ اور رجوع کی مہلت ملے، نہ ایک گھڑی آگے ہو گے کہ مقرر وقت سے پہلے عذاب آجائے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جتنی مہلت طے کر رکھی ہے وہ پوری ہونے کے بعد ہی عذاب آئے گا، خواہ تم کتنی ہی جلدی مچاتے رہو۔ خلاصہ یہ کہ یہ مت پوچھو کہ وہ وقت کب آئے گا، بلکہ اس کے لیے تیاری کرو۔ مزید دیکھیے سورة یونس (49)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت : وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیر او نذیرا ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے۔ کلام میں تقد یم و تاخیر ہے۔ زجاج نے کہا : مراد ہے ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر انذار اور ابلاغ کے ساتھ تمام لوگوں کو جمع کرنے والا۔ کافۃ یہ جامع کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : تمام لوگوں کو روکنے والا، یعنی آپ ﷺ ان کو کفر سے روکنے والے ہیں اور آپ ﷺ انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ باء مبالغہ کے لیے ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا : تقدیر کلام یہ ہے الا ذا کافۃ مضاف کو حذف کردیا گیا، معنی بنتا ہے لوگوں کو اس سے روکنے والے کہ وہ آپ ﷺ کی تبلیغ سے دور بھاگیں یا انہیں کفر سے روکنے والے۔ اسی سے ہے : کف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
1۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ارسلنک الا کافۃ للناس یعنی ہم نے آپ کو سارے لوگوں کی طرف بھیجا۔
2۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا کافۃ للناس سے مراد عام لوگوں کے لیے آپ کو بھیجا گیا۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت وما ارسلناک الا کافۃ للناس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو عرب اور عجم کی طرف بھیجا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے معزز وہ لوگ ہیں جو ان سے رسول اللہ ﷺ کے زیادہ اطاعت گزار ہیں۔
پانچ باتوں کے ذریعہ آپ کی فوقیت
4۔ ابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے…
Read the full tafseer →قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] لَّكُمْ [تم لو گوں کے لئے ] مِّيْعَادُ يَوْمٍ [ایک ایسے دن کا وعدہ ہے ] لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ [تم لوگ پیچھے نہیں رہو گے ] عَنْهُ [جس سے ] سَاعَةً [ایک گھڑی (لمحہ بھر ) بھی ] وَّلَا تَسْتَــقْدِمُوْنَ [اور آگے ہوگے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
قیامت کا وقت مقرر ہے اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی ہے
قیامت کے منکرین وقوع قیامت کا انکار کرتے ہوئے یوں بھی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اور قیامت کس دن آئے گی ؟ مقصود ان کا یہ تھا کہ قیامت آنے والی ہوتی تو آجاتی اور اگر آنے میں دیر ہے تو اس کی تاریخ بتادو، مقصد یہ تھا کہ نہ تو اب تک قیامت آئی ہے نہ آنے کی تاریخ بتاتے ہو، معلوم ہوا کہ یہ محض باتیں ہی باتیں ہیں، ان کے جواب میں فرمایا کہ تمہارے لیے ایک خاص دن مقرر ہے وہ اسی دن آئے گا نہ اس سے پیچھے ہٹ سکتے ہو نہ آگے بڑھ سکتے ہو، اپنے مقررہ وقت پر آہی جائے گی، تمہیں تاریخ نہ بتائی جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا وقوع ہی نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
اثبات رسالت محمدیہ وعموم بعثت و اثبات قیامت
قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنک الا کافۃ للناس۔۔۔ الی۔۔۔ اھل یجزون الا ما کانوا یعملون۔
(ربط) اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی رازقیت کا ذکر تھا اب آگے رسالت محمد یہ کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت فقط عرب کے لئے مخصوص نہیں بلکہ آپ ﷺ کی بعثت تمام عالم کے لئے ہے۔ انبیاء سابقین کی طرح کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ بعثت سے مقصود ہی توحید اور تذکیر آخرت ہے اس لئے آئندہ آیات میں منکرین واحدانیت اور منکرین رسالت اور منکرین قیامت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں۔ (حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 92 ج 4)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
32:۔ ویقولون الخ : یہ شکوہ ہے۔ مشرکین از راہ استہزاء و تمسخر کہتے ہیں وہ قیامت کب آئے گی جب محق و مبطل کے درمیان آخری فیصلہ ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کی آمد کا معین وقت بتاؤ۔ قل لکم الخ : یہ جواب شکوی ہے۔ فرمایا اس وعدے یعنی قیامت کی آمد کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور وہ اپنے مقررہ وقت پر ضرور آئے گی۔ اور اللہ تعالیٰ ان نادانوں کی عجلت پسندی کی وجہ سے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں فرمائے گا۔ اس لیے قیامت اپنے مقررہ وقت سے نہ پہلے آئے گی۔ اور نہ اس سے ایک لمحہ متاخر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
ربط آیات
ابتدائے سورة میں اللہ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے ، پھر درمیان میں شکر گزاروں اور ناشکر گزاروں کا حال ذکر کیا اس کے بعد شرک اور مشرکوں کا رد کیا ان کے تدبیر اور تصرف میں غلط عقائد کی نفی کی اور ساتھ ساتھ جبری اور قہری سفارش کے مزعومہ نظریات کی تردید کی۔ فرمایا بعض لوگ فرشتوں کو اپنا کارساز اور سفارشی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ تو خود خدا تعالیٰ کے سامنے خوفزدہ رہتے ہیں اور اللہ کے حضور ہمیشہ عاجزی کا اظہار کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے پر پھیلا دیتے ہیں۔ ان پر مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ پھر جب ان کی دہشت کسی حد تک دور ہوتی ہے تو نیچے طبقے والے فرشتے اوپر والوں…
Read the full tafseer →قُلْ لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْہُ سَاعَۃً وَّلَا تَسْتَــقْدِمُوْنَ 30ۧ
وعد
الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ
[ القصص/ 61] ،
( وع د ) الوعد
( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ترکیب : زعتمم ای زعتموھم الہۃ وھما مفعولا زعم حذف الاول لطول الموصول بصلۃ والثانی لقیام صفتہ مقامہ، قالوا قال القول الحق، لمن اذن یتعلق بالشفاعۃ فزع مالم یسم فاعلہ عن قلوبہم قائم مقام الفاعل۔ او ایاکم معطوف علی اسم ان و اما الخبر فیجب ان یکون 1 ؎ مکرا کقولک ان زید او عمرا قائم۔
تفسیر : شکر اور ناشکری کے نتائج بیان فرما کر عرب خصوصاً اہل مکہ کی ناشکری کا رد کرتا ہے۔ انسان کے لیے اس سے زیادہ اور کیا ناشکری ہے کہ وہ اپنے معبود حقیقی اور منعم کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرے، فقال قل ادعوا الذین زعمتم کہ بت پرستوں سے کہو کہ جن کو تم اس کا شریک سمجھتے ہو، ان کو پکارو، دیکھیں وہ تمہاری کہاں تک مدد…
Read the full tafseer →قُلْ لَّـکُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لاَّتَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْہُ سَاعَۃً وَّلاَ تَسْتَقْدِمُوْنَ ۔ (السباء : 30)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس سے نہ تم ایک گھڑی پیچھے ہٹو گے اور نہ آگے بڑھو گے۔ )
قیامت کی آمد تمہاری خواہشات کے تابع نہیں
اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کا آنا تو یقینی ہے اس کے لیے ایک دن یعنی ایک وقت بھی مقرر کردیا گیا ہے لیکن اس کا آنا تمہاری خواہشات کے تابع نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر کام اس کی مشیت اور اس کی حکمت کے تابع ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق اپنے امور سرانجام دیتا ہے۔ اس نے انسانوں کو قیامت کی تیاری کے لیے مہلت دے رکھی ہے۔ یہ مہلت کب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ لوگوں کو آخرت کے عذاب سے ڈراتے تو کفار اس بات کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں کہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟
سرور دو عالم ﷺ نے قرآن مجید کی روشنی میں یہ ثابت کردیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ لیکن منکرین قیامت ہر قسم کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے باربار مطالبہ کرتے تھے کہ جس قیامت کے برپا ہونے کا آپ بار بار تذکرہ کرتے ہیں اور اسے اپنے رب کا وعدہ قرار دیتے ہیں اگر آپ سچے ہیں تو بتائیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ کیونکہ اس سوال کے متعدد جواب دیئے جا چکے ہیں اس لیے اس موقعہ پر آپ ﷺ کو فقط یہ حکم ہوا کہ آپ انہیں یہ…
Read the full tafseer →30: قُلْ لَّکُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ (کہہ دیجئے تمہارے لئے ایک خاص دن کا وعدہ ہے۔ )
نحو : میعاد یہ الوعد کا ظرف زمان یا مکان ہے یہاں ظرف زمان ہے۔ اس پر وہ قراءت دلالت کرتی ہے جس نے میعاد ٌ یومٌ پڑھا۔ پس یومؔ اس کا بدل ہے۔ اور اضافت بیانیہ ہے جیسا کہتے ہیں بعیر سانیۃ۔
لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْہُ سَاعَۃً وَّلَا تَسْتَقْدِمُوْنَ (کہ اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو) مطلب یہ ہے تمہارے لئے اس سے پیچھے ہٹنا مہلت طلب کر کے بھی ممکن نہیں اور نہ جلدی مچا کر اس کو آگے بڑھا سکتے ہو۔
وجہ انطباق :
ان کے سوال پر یہ جواب اس طرح منطبق ہوتا ہے کہ انہوں نے قیامت کے بارے میں سوال کیا۔…
Read the full tafseer →30، قل لکم میعاد یوم لا تستا خرون عنہ ساعۃ ولا تستقدمون، وہ قیامت پر کسی چیز کو مقد م نہیں کرسکتے۔ ضحاک کا قول ہے کہ موت کا دن ان سے نہ مؤخرہوگا اور نہ ہی پہلے یعنی نہ تو ان کی زندگی طویل کی جائے گی اور نہ ہی ذرہ برابر کم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
24 تا 30۔ اوپر گزرا کہ اہل مکہ کی سرکشی کے سبب سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور اس قحط کی بلا کے دفع کرنے میں اہل مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے آخر اللہ تعالیٰ نے ہی جب اپنے فضل سے مینہ بر سایا تو وہ قحط کی بلادفع ہوگئی اسی واسطے ان مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے سرول اللہ کے تم ان بت پرستوں سے یہ تو پوچھ کر آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیدا وار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے مکہ کے فحط کے تجربہ کے بعد اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ کام اللہ کا ہے اس جواب کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ مکہ کے قحط کے تجریہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت 30
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لئے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوش خبری دے اور انہیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انہیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔
(ولکن اکثر الناس لایعلمون) ” لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →72 استہزا کرنے والوں کو جواب : سو اس سے استہزاء کرنے والوں کو جواب دیا گیا کہ عذاب کا وقت مقرر ہے۔ سو قیامت اور آخرت کے بارے میں استہزا کرنے والوں کے جواب کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ تمہارے عذاب کا وقت بہرحال مقرر ہے "۔ یعنی اللہ پاک کی اس انتہائی محکم اور حکیمانہ کائنات میں ہر چیز اپنے خاص نظام اور مخصوص وقت سے مربوط و مرتبط ہے۔ اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔ جس طرح آج ایک شخص شادی کر کے کہے کہ کل ہی میرے گھر بچہ پیدا ہوجائے تو یہ بات نہیں ہونے کی اگرچہ وہ اس کے لئے ہر جتن کرے اور ہر حربہ استعمال کرے۔ یا جس طرح آج ایک شخص کے گھر بچہ پیدا ہو اور وہ کہے کہ یہ میرا بچہ آج ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ساری انسانیت کے لیے نبوت
تشریح : سیدنامحمد ﷺ کے بارے میں ڈاکٹر غلام مرتضی صاحب نے اپنی تفسیر انوار القرآن میں بہت خوبصورت لکھا ہے میں اپنی تشریح کرتے ہوئے ان کی تحریر سے استفادہ کرنا چاہوں گی۔
حضور ﷺ آخری نبی ہیں کیونکہ تمام نبیوں پر آپ کو اس لحاظ سے فضیلت دی گئی ہے کہ آپ پوری دنیا کے لیے رہبر بنے۔ آپ کی کتاب و سنت اتنی مکمل اور وسیع ہے کہ اس میں وقت، زمانے اور علاقے کی قید کی ضرورت نہیں یعنی اس کے اصول دنیا کی ہر جگہ اور ہر زمانے کے ہر قسم کے لوگوں کے لیے قابل قبول، آسان اور قابل عمل ہیں۔ اسلام کا دوسرا بنیادی اصول رسالت محمدی پر ایمان لانا ہے۔ کیونکہ جب ہم مخلوقات پر غور کرتے ہیں تو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 تا 30:
اسرار و معارف :
آپ اپنے مخاطبین سے بھی فرما دیجیے کہ اپنے مشرکانہ عقاید میں اللہ کے علاوہ جن بتوں سے تم نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ان کی بھی کوئی حیثیت نہیں کہ اگر پہلی امتوں پر آنے والے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکا تو تمہارے معبودان باطلہ بھی تمہیں کوئی مدد نہ پہنچا سکیں گے اس لیے کہ کائنات میں وہ کسی ذرہ بھر شئے کے مالک نہیں نہ ان کی ذات باری کی ملکیت میں کسی طرح کی کوئی شراکت ہے اور نہ ہی ان میں یہ استعداد ہے کہ کسی کی مدد کرسکیں گے اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ ان کی شراکت تو نہیں لیکن یہ اللہ کریم کے نزدیک سفارش کرسکتے ہیں تو ان میں سفارش کرنے کی بھی استعداد نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 10 توحید و رسالت کے بعد حشر کا بیان فرمایا اور کفار کے اس استہزا کا جواب دیا کہ قیامت کب آئیگی ؟ مطلب یہ ہے کہ اس میں نہ دیر ہوسکتی ہے نہ سویر وہ اپنے وقت پر آئیگی اور ضرور آئیگی۔ ای لا ستجال فیہ ولا امھال) (رازی)
Read the full tafseer →(34:30) میعاد۔ ظرف زمان۔ وقت وعدہ۔ مضاف ہے یوم مضاف الیہ ہے۔ لکم میعاد یوم تمہارے لئے وقت مقررہ اس دن کا ہے۔ لا تستاخرون عنہ ساعۃ جس سے تم ایک لمحہ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ ساعۃ بوجہ مفعول فیہ ہونے کے منصوب ہے۔ لا تستاخرون مضارع منفی کا صیغہ جمع مذکر حاضر استیخار (استفعال) مصدر جس کے معنی پیچھے ہونے اور دیر کرنے کے ہیں۔ جس سے تم ایک لمحہ بھی پیچھے نہیں ہوسکتے یا۔ ہو سکو گے۔
ولا تستقدمون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر استقدام (استفعال) مصدر جس کے معنی آگے ہونے کے ہیں۔ آگے بڑھنے کی خواہش کرنے کے ہیں اور نہ تم آگے بڑھ سکتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 30
یرزق : وہ دیتا ہے
انا : بیشک ہم
ایاکم : تم ہی
لا تسئلون : تم سوال نہ کیے جاؤ گے
اجرمنا : ہم نے گناہ کیا
یفتح : وہ کھولتا ہے
الحقتم : تم نے ملا دیا
کلا : ہرگز نہیں
کافۃ : تمام۔ سب
متی : کب ؟
میعا : مقرر
لا تستاخرون : تم پیچھے نہ ہٹو گے
لا تستقدمون : تم آگے نہ بڑھو گے
تشریح : آیت نمبر 24 تا 30
کفار مکہ اللہ کا نام لیتے ، اس کی ہستی کو مانتے ، اس کے اختیا اور قدرت کے قائل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی تمام کنجیاں اس کے دست قدرت میں ہیں لیکن ان کا گمان یہ تھا کہ اللہ نے ساری دنیا اور اس کے نظام کو پیدا کر کے ا اس کو چلانے کا اختیار ان کے بتوں اور کاہنوں کو دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب تم ان بت پرستوں سے یہ پوچھو کہ آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیداوار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے اور جب مکہ میں قحط پڑا تو تم نے بتوں سے اس قحط کے رفع کی بہت ہی التجا کی ، آخرکار ہمارے محبوب ﷺ سے دعا کراکر اس قحط کو رفع کیا، اس کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیاجائے کہ مکہ کے قحط کے تجربہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں کون حق پر ہے پھر فرمایا کہ ان سے کہہ دیاجائے جو نصیحت تم کو کی جاتی ہے اگر تم لوگ اس کو نہ مانو گے تو ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ ہمیں تمہیں سب کو اللہ کے روبروکھڑا ہوناپڑے گا۔ اس دن حق ناحق سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
[25] ظاہر میں تو یہ لوگ قیامت کا وقت پوچھتے تھے اور مقصود ان کا یہ تھا کہ قیامت نہیں ہوگی۔ تو جواب میں اللہ نے وقت تو نہیں بتایا مگر ان کے اصل مقصود یعنی انکار کی تردید کردی کہ وقت کا بتانا منظور نہیں مگر قیامت اپنے وقت پر آ کر رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
زیر دتسوں کی گفتگو زبردستوں سے
آفتاب جب چمکتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ لوگ اس کی روشنی کو محسوس نہ کریں ۔ رات کی تاریکی جب دور ہوتی ہے ۔ اور پوٹھپتی ہے تو ہر شخص ایک روحانی کیف کو محسوس کرتا ہے ۔ موسم بہار میں بوقلمون پھولوں کی بہار سے کون محفوظ نہیں ہوتا ؟ بالکل اس طرح دنیا میں طویل تاریکی اور ظلمت کے بعد مہر صداقت جب طلوع ہوتا ہے تو ساری دنیاکو منور کردیتا ہے ۔ جب فلاح وسعادت کی صبح رونما ہوتی ہے ۔ تو ہر سلیم الفطرت انسان اس کی کیفیتوں سے زندگی حاصل کرتا ہے اور جب کشت زار قلوب کی بہار کا موسم آتا ہے ۔ تو فیضان الٰہی کی تراوش ہوتی ہے ان کیفیات سے انکار کرنا جہود اور مجادلہ ہے ۔ اور چند حقیر…
Read the full tafseer →(30) آپ ان سے فرما دیجئے تمہارے لئے وعدہ کا ایک دن مقرر ہے تم اس دن سے نہ گھڑی بھر پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ گھڑی بھر آگے بڑھ سکتے ہو۔ یعنی گو اس قیامت کا وقت نہ بتایا جائے مگر وہ آئے گی ضرور جو دن اس کا علم الٰہی میں مقرر ہے اس دن سے نہ تم پیش قدمی کرسکتے ہو نہ اس دن کو مؤخر کرنا تمہارے لئے ممکن ہے اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔
ضحاک ؓ فرماتے ہیں موت کا دن بہرحال موت بھی اگر مراد لی جاتی تو وہ بھی مرنے والے کی قیامت ہی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔
من مات فقد قامت قیامتہ
یعنی جو شخص مرگیا تو اس کی قیامت تو قائم ہوگئی۔
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی گو ہم وقت نہ بتلادیں گے مگر آوے گی ضرور۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ اس کے آنے کا جو دن مقرر ہے وہ اس سے پہلے یا پیچھے نہیں ہوسکتی
30 ۔ منکرین قیامت کی یہ رٹ کہ وہ گھڑی آکیوں نہیں جاتی بڑی پرانی ہے اور تقریباً ساری قوموں نے اپنے رسولوں سے اس کا مطالبہ کیا ہے جتنی بار انہوں نے اس کا مطالبہ کیا اتنی ہی بار ان کو یہ بتایا گیا کہ اس دنیا کا اختتام ہی اس کے آنے کا دن ہے تم اس ضد میں نہ آئو جب اس کے آنے کے لئے شرط ہے کہ یہ نظام دنیا ختم کردیا جائے اور جب یہ نظام ختم ہوگا وہی دن قیامت کا دن ہوگا تو تم اس نظام کے ختم کرنے کے آخر کیوں درپے ہو اور پھر یہ بھی کہ جب کوئی اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو سمجھ لو کہ اس کی قیامت تو آگئی کیونکہ وہ دوبارہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
Commentary
The age-old shaitanic illusion of taking worldly riches and honours as a proof of being loved by Allah
All along the lanes of time since the very beginning, people intoxicated with material wealth and luxury have always opposed the voice of truth and taken a stance of hostility against the prophets and the pious people, except those whom Allah willed otherwise. On top of this, they also used to argue in favor of their satisfaction with the existing stance against the people of truth by saying: Had Allah disliked our doings and ways, why would He give us wealth, recognition and…
Read the full tafseer →49 In other words, the reply means: "Allah's judgments arc not subject to your whims that He should be bound to do a thing at the time which you have fixed for it. He carries out His designs only according to His own discretion. You cannot understand how long is mankind to be allowed to function in this world in the scheme of Allah, how many individuals and how many nations are to be put to the test in different ways, and what Will be the right time for the Day of Judgment and summoning mankind of all ages for rendering their accounts. All this will be accomplished only at the time which…
Read the full tafseer →