Explained with ayahs 28–30
تمام اقوام کے لئے نبوت۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اپنے رسول حضرت محمد ﷺ سے فرما رہا ہے کہ ہم نے تجھے تمام کائنات کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا01508) 7۔ الاعراف :158) یعنی اعلان کردو کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں اور آیت میں ہے (تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا ۙ) 25۔ الفرقان :1) بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان کو ہوشیار کر دے۔ یہ بھی فرمایا کہ " اطاعت گذاروں کو بشارت جنت کی دے اور…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 48
یعنی جس وقت کے متعلق ابھی تم نے کہا ہے کہ " ہمارا رب ہم کو جمع کرے گا اور ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا "، وہ وقت آخر کب آئے گا ؟ ایک مدت سے ہمارا مقدمہ چل رہا ہے۔ ہم تمہیں بار بار جھٹلا چکے ہیں اور کھلم کھلا تمہاری مخالفت کیے جا رہے ہیں۔ اب اس کا فیصلہ کیوں نہیں کر ڈالا جاتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
خلاصہ تفسیر
اور یہ لوگ (قیامت کے متعلق مضامین (آیت) یجمع بیننا ربنا ثم یفتح الخ سن کر) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب (واقع) ہوگا اگر تم (یعنی نبی اور آپ کے متبعین) سچے ہو (تو بتلاؤ) آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے واسطے ایک خاص دن کا وعدہ (مقرر) ہے اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو (یعنی ہم وقت نہ بتائیں گے جو تم پوچھ رہے ہو مگر آئے گی ضرور جس کا اس پوچھنے سے انکار کرنا تمہارا مقصود ہے) اور یہ کفار (دنیا میں تو خوب خوب باتیں بناتے ہیں اور) کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر اور (قیامت میں یہ ساری لمبی چوڑی باتیں ختم ہوجائیں گی، چنانچہ) اگر آپ…
Read the full tafseer →ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدیقین (29)
یعنی وہ رسول کے انداز بالعذاب سے متنبہ ہونے اور اس سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کرنے کے بجائے رسول اور اس کے ساتھیوں کا استخفاف کرتے اور باندازِ ظنر سوال کرتے ہیں کہ اگر تم لوگ اپنے انداز میں سچے ہو تو یہ بتائو کہ یہ دھمکی کب ظہور میں آئے گی ؟ مطلب یہ ہے کہ یا تو اس کو دکھائو یا اس کا وقت معین کرو ورنہ ہم اس کو محض لاف زنی سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →29۔ 1 یہ بطور مذاق پوچھتے تھے، کیونکہ اس کا وقوع ان کے نزدیک بعید اور ناممکن تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
16: آیت نمبر : 22۔ 23 میں مشرکین کے مختلف عقیدوں کی تردید کی گئی ہے، ان میں سے بعض مشرکین تو وہ تھے کہ وہ اپنے تراشے ہوئے بتوں ہی کو اپنا خدا مانتے تھے، اور انہی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ براہ راست ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں، ان کی تردید کے لئے آیت 22 میں فرمایا گیا ہے کہ : وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور بعض مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کی تردید کے لئے اسی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ : اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
درس نمبر 197 ایک نظر میں
اس سبق میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اوپر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں مشرکین کا موقف بیان کیا گیا ہے۔ یہ ہر رسول کے مقابلے میں اختیار کیا جانے والا کھاتے پیتے لوگوں کا موقف ہے۔ اس قسم کے لوگ اپنے مال اور اولاد اور اپنے معاشرتی مقام کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر صرف اس دنیا کے مفادات ہوتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ دنیا کے مفادات حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے ہیں اس لیے کہ مختار اور افضل لوگ ہیں۔ اور یہ کہ اس دنیاوی دولت کی وجہ سے وہ دنیا و آخرت دونوں کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ چناچہ یہاں ان کے سامنے وہ منظر پیش کیا جاتا ہے جو آخرت میں ان کا ہوگا۔…
Read the full tafseer →5 یعنی جس گھڑی سے ڈراتے ہو وہ کب آئے گی۔ اگر سچے ہو تو جلدی لا کر دکھلا دو ۔
Read the full tafseer →آیت 29 { وَیَـقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”اور وہ پوچھتے ہیں کہ کب پورا ہوگا یہ وعدہ ‘ اگر تم لوگ سچے ہو !“
مشرکین کے اس سوال میں عذاب یا قیامت دونوں کی طرف اشارہ موجود ہے کہ آپ ﷺ ہمیں جو عذاب کی دھمکیاں دیتے ہیں یا قیامت برپا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ذرا یہ بھی تو بتائیں کہ آپ ﷺ کے یہ وعدے کب پورے ہوں گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
43 یعنی آپ صرف عرب کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے اور صرف اپنے دور کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک کے لئے اللہ کے رسول، ایمانداروں کو جنت کو بشارت دینے والے اور منکرین حق کو اخروی انجام بد سے ڈرانے والے ہیں۔ جبکہ آپ سے پہلے کے سب انبیاء کسی خاص قوم کے لئے، کسی خاص علاقہ کے لئے اور کس خاص دور کے لئے مبعوث کئے جاتے رہے ہیں۔ یہ مضمون قرآن کریم میں بھی متعدد مقامات پر وارد ہوا ہے اور احادیث صحیحہ میں بھی کثرت سے وارد ہے اس مضمون سے دو باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ سب انبیاء سے افضل و اشرف ہیں۔ اور دوسری یہ کہ آپ کے بعد تاقیامت کوئی رسول یا نبی آنے والا نہیں۔ لہذا صرف اہل عرب کو نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →46۔ (اپنے اس دعوے میں کہ قیامت کا آنا برحق ہے) (آیت) ” ھذا الوعد “۔ یعنی وعدۂ آمد قیامت۔ (آیت) ” یقولون “۔ یہ کہنے والے مشرکین، منکرین قیامت تھے جو مسلمانوں سے طنز و استہزاء کی راہ سے یہ سوال کررہے تھے۔ جاہلی تہذیبوں کا سب سے بڑا فتنہ یہی آخرت فراموشی، آخرت بیزاری کا ہے اور تقریبا سب میں مشترک رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
آیت نمبر 22 تا 30
ترجمہ : اے محمد ! کفار مکہ سے کہہ دیجئے کہ جن چیزوں کے بارے میں تمہیں خدا کے سوا (خدائی) کا گمان ہے یعنی جن کو تم اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو ان کو پکارو تاکہ وہ تمہارے گمان کے مطابق تم کو نفع پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا وہ ذرہ برابر خیر و شر کا اختیار نہیں رکھتے، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونون (کے پیدا کرنے) میں شرکت ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کا ان معبودوں میں سے کوئی مددگار ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی یہ ان کے اس قول کو رد کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کے معبود اس کے سامنے سفارش کریں گے بجز ان کے کہ جن کے لئے اجازت…
Read the full tafseer →ویقولون متی ھذا الوعد اور (انتہائی جہالت کی وجہ سے بطور استہزاء و تکذیب) کہتے ہیں کہ یہ (ڈرانے اور بشارت دینے کا) وعدہ کب آئے گا (یعنی کب پورا ہوگا) یا وعدہ بمعنیء موعود ہے ‘ یعنی جس عذاب وثواب کا تم وعدہ کر رہے ہو ‘ وہ کب آئے گا۔
ان کنتم صدقین . اگر تم سچے ہو (تو معین وقت بتاؤ) یہ خطاب کافروں کی طرف سے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تھا۔
Read the full tafseer →اور یہ کفا رم کہ یوں کہتے ہیں کہ وہ وعدہ جس کا آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں کب واقع ہوگا اگر آپ اپنے اس وعدے میں سچے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے۔
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ۔۔ : یعنی جس وقت کے متعلق تم نے ابھی کہا ہے کہ ”ہم سب کو ہمارا رب جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا“ وہ وقت آخر کب آئے گا ؟ ان کے پوچھنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس وقت کا علم ہونے پر وہ اس کے لیے تیاری کرنا چاہتے تھے، بلکہ یہ کہہ کر وہ قیامت کو جھٹلا رہے تھے اور اس کا مذاق اڑا رہے تھے، کیونکہ آخرت پر ایمان رکھنے والے اس کے جلدی لانے کا مطالبہ نہیں کیا کرتے، بلکہ اس سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ دیکھیے سورة شوریٰ (18)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت : وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیر او نذیرا ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے۔ کلام میں تقد یم و تاخیر ہے۔ زجاج نے کہا : مراد ہے ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر انذار اور ابلاغ کے ساتھ تمام لوگوں کو جمع کرنے والا۔ کافۃ یہ جامع کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : تمام لوگوں کو روکنے والا، یعنی آپ ﷺ ان کو کفر سے روکنے والے ہیں اور آپ ﷺ انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ باء مبالغہ کے لیے ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا : تقدیر کلام یہ ہے الا ذا کافۃ مضاف کو حذف کردیا گیا، معنی بنتا ہے لوگوں کو اس سے روکنے والے کہ وہ آپ ﷺ کی تبلیغ سے دور بھاگیں یا انہیں کفر سے روکنے والے۔ اسی سے ہے : کف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
1۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ارسلنک الا کافۃ للناس یعنی ہم نے آپ کو سارے لوگوں کی طرف بھیجا۔
2۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا کافۃ للناس سے مراد عام لوگوں کے لیے آپ کو بھیجا گیا۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت وما ارسلناک الا کافۃ للناس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو عرب اور عجم کی طرف بھیجا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے معزز وہ لوگ ہیں جو ان سے رسول اللہ ﷺ کے زیادہ اطاعت گزار ہیں۔
پانچ باتوں کے ذریعہ آپ کی فوقیت
4۔ ابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے…
Read the full tafseer →[وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں ][ مَتٰى: کب ہے ][ ھٰذَا الْوَعْدُ : وہ وعدہ ][ اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم لوگ ہو ][صٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
قیامت کا وقت مقرر ہے اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی ہے
قیامت کے منکرین وقوع قیامت کا انکار کرتے ہوئے یوں بھی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اور قیامت کس دن آئے گی ؟ مقصود ان کا یہ تھا کہ قیامت آنے والی ہوتی تو آجاتی اور اگر آنے میں دیر ہے تو اس کی تاریخ بتادو، مقصد یہ تھا کہ نہ تو اب تک قیامت آئی ہے نہ آنے کی تاریخ بتاتے ہو، معلوم ہوا کہ یہ محض باتیں ہی باتیں ہیں، ان کے جواب میں فرمایا کہ تمہارے لیے ایک خاص دن مقرر ہے وہ اسی دن آئے گا نہ اس سے پیچھے ہٹ سکتے ہو نہ آگے بڑھ سکتے ہو، اپنے مقررہ وقت پر آہی جائے گی، تمہیں تاریخ نہ بتائی جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا وقوع ہی نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
اثبات رسالت محمدیہ وعموم بعثت و اثبات قیامت
قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنک الا کافۃ للناس۔۔۔ الی۔۔۔ اھل یجزون الا ما کانوا یعملون۔
(ربط) اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی رازقیت کا ذکر تھا اب آگے رسالت محمد یہ کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت فقط عرب کے لئے مخصوص نہیں بلکہ آپ ﷺ کی بعثت تمام عالم کے لئے ہے۔ انبیاء سابقین کی طرح کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ بعثت سے مقصود ہی توحید اور تذکیر آخرت ہے اس لئے آئندہ آیات میں منکرین واحدانیت اور منکرین رسالت اور منکرین قیامت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں۔ (حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 92 ج 4)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
32:۔ ویقولون الخ : یہ شکوہ ہے۔ مشرکین از راہ استہزاء و تمسخر کہتے ہیں وہ قیامت کب آئے گی جب محق و مبطل کے درمیان آخری فیصلہ ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کی آمد کا معین وقت بتاؤ۔ قل لکم الخ : یہ جواب شکوی ہے۔ فرمایا اس وعدے یعنی قیامت کی آمد کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور وہ اپنے مقررہ وقت پر ضرور آئے گی۔ اور اللہ تعالیٰ ان نادانوں کی عجلت پسندی کی وجہ سے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں فرمائے گا۔ اس لیے قیامت اپنے مقررہ وقت سے نہ پہلے آئے گی۔ اور نہ اس سے ایک لمحہ متاخر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
ربط آیات
ابتدائے سورة میں اللہ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے ، پھر درمیان میں شکر گزاروں اور ناشکر گزاروں کا حال ذکر کیا اس کے بعد شرک اور مشرکوں کا رد کیا ان کے تدبیر اور تصرف میں غلط عقائد کی نفی کی اور ساتھ ساتھ جبری اور قہری سفارش کے مزعومہ نظریات کی تردید کی۔ فرمایا بعض لوگ فرشتوں کو اپنا کارساز اور سفارشی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ تو خود خدا تعالیٰ کے سامنے خوفزدہ رہتے ہیں اور اللہ کے حضور ہمیشہ عاجزی کا اظہار کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے پر پھیلا دیتے ہیں۔ ان پر مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ پھر جب ان کی دہشت کسی حد تک دور ہوتی ہے تو نیچے طبقے والے فرشتے اوپر والوں…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 29
متی
مَتَى: سؤال عن الوقت . قال تعالی: مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] ،
( م ت ی ) متی
۔ یہ اسم استفہام ہے اور کسی کام کا وقت دریافت کرنے کے لئے بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] یہ وعدہ کب ( پورا ہوگا )
وعد
الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ترکیب : زعتمم ای زعتموھم الہۃ وھما مفعولا زعم حذف الاول لطول الموصول بصلۃ والثانی لقیام صفتہ مقامہ، قالوا قال القول الحق، لمن اذن یتعلق بالشفاعۃ فزع مالم یسم فاعلہ عن قلوبہم قائم مقام الفاعل۔ او ایاکم معطوف علی اسم ان و اما الخبر فیجب ان یکون 1 ؎ مکرا کقولک ان زید او عمرا قائم۔
تفسیر : شکر اور ناشکری کے نتائج بیان فرما کر عرب خصوصاً اہل مکہ کی ناشکری کا رد کرتا ہے۔ انسان کے لیے اس سے زیادہ اور کیا ناشکری ہے کہ وہ اپنے معبود حقیقی اور منعم کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرے، فقال قل ادعوا الذین زعمتم کہ بت پرستوں سے کہو کہ جن کو تم اس کا شریک سمجھتے ہو، ان کو پکارو، دیکھیں وہ تمہاری کہاں تک مدد…
Read the full tafseer →وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْـتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (السباء : 29)
(اور یہ لوگ کہتے ہیں وہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ )
مخالفین کی ضد اور استہزاء
تعجب ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کو پوری نوع انسانی کی طرف بشیر اور نذیر بنا کے بھیجا ہے تو وہ بجائے اس کے کہ آپ کے انذار سے متنبہ ہو کر اپنے آپ کو بچانے کی فکر کریں آنحضرت ﷺ پر طعن توڑتے اور استہزاء کرتے ہوئے یہ سوال کرتے ہیں کہ تم بار بار ہمیں قیامت کے آنے سے ڈراتے رہتے ہو اور یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور اسی رکوع میں پیچھے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ لوگوں کو آخرت کے عذاب سے ڈراتے تو کفار اس بات کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں کہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟
سرور دو عالم ﷺ نے قرآن مجید کی روشنی میں یہ ثابت کردیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ لیکن منکرین قیامت ہر قسم کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے باربار مطالبہ کرتے تھے کہ جس قیامت کے برپا ہونے کا آپ بار بار تذکرہ کرتے ہیں اور اسے اپنے رب کا وعدہ قرار دیتے ہیں اگر آپ سچے ہیں تو بتائیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ کیونکہ اس سوال کے متعدد جواب دیئے جا چکے ہیں اس لیے اس موقعہ پر آپ ﷺ کو فقط یہ حکم ہوا کہ آپ انہیں یہ…
Read the full tafseer →وعدئہ قیامت کے سوال کا جواب :
29: وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ (اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا) الوعدؔ سے مراد قیامت جس کی طرف اس قول میں اشارہ فرمایا : (قل یجمع بیننا ربنا)] سبا : 26[ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) ۔
Read the full tafseer →29، ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صادقین ، مراد اس سے قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
24 تا 30۔ اوپر گزرا کہ اہل مکہ کی سرکشی کے سبب سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور اس قحط کی بلا کے دفع کرنے میں اہل مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے آخر اللہ تعالیٰ نے ہی جب اپنے فضل سے مینہ بر سایا تو وہ قحط کی بلادفع ہوگئی اسی واسطے ان مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے سرول اللہ کے تم ان بت پرستوں سے یہ تو پوچھ کر آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیدا وار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے مکہ کے فحط کے تجربہ کے بعد اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ کام اللہ کا ہے اس جواب کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ مکہ کے قحط کے تجریہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
آیت 27
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے ! (من یرزقکم من السموت والارض) ” آسمانوں اور زمین سے تمہیں رزق کون فراہم کرتا ہے ؟ “ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انہیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو (قل اللہ) ” کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔ “
آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کرسکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمہیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمہارے لئے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
70 پیغمبر کا کام انذار وتبشیر اور بس : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا اصل کام اور اس کی ذمہ داری انذار وتبشیر ہے اور بس۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے تو آپ کو صرف بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے "۔ پس جب آپ ہمارے فرستادہ اور رسول ہیں تو جو لوگ آپ کی نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہیں وہ دراصل ہمارے حکم و ارشاد کے منکر ہیں۔ جیسے جملہ کفار و مشرکین۔ اور جب ہم نے آپ ﷺ کو تمام لوگوں کے لئے مبعوث فرمایا ہے تو پھر جو لوگ اس کے بعد بھی دوسرے کسی اور دین کی تبلیغ کرتے اور آپ ﷺ کے بعد کسی اور کو نبی مانتے ہیں وہ پکے گمراہ اور پرلے درجے کے فسادی ہیں۔ جیسے عیسائیت وغیرہ دیانات محرفہ کی تبلیغ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ساری انسانیت کے لیے نبوت
تشریح : سیدنامحمد ﷺ کے بارے میں ڈاکٹر غلام مرتضی صاحب نے اپنی تفسیر انوار القرآن میں بہت خوبصورت لکھا ہے میں اپنی تشریح کرتے ہوئے ان کی تحریر سے استفادہ کرنا چاہوں گی۔
حضور ﷺ آخری نبی ہیں کیونکہ تمام نبیوں پر آپ کو اس لحاظ سے فضیلت دی گئی ہے کہ آپ پوری دنیا کے لیے رہبر بنے۔ آپ کی کتاب و سنت اتنی مکمل اور وسیع ہے کہ اس میں وقت، زمانے اور علاقے کی قید کی ضرورت نہیں یعنی اس کے اصول دنیا کی ہر جگہ اور ہر زمانے کے ہر قسم کے لوگوں کے لیے قابل قبول، آسان اور قابل عمل ہیں۔ اسلام کا دوسرا بنیادی اصول رسالت محمدی پر ایمان لانا ہے۔ کیونکہ جب ہم مخلوقات پر غور کرتے ہیں تو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 تا 30:
اسرار و معارف :
آپ اپنے مخاطبین سے بھی فرما دیجیے کہ اپنے مشرکانہ عقاید میں اللہ کے علاوہ جن بتوں سے تم نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ان کی بھی کوئی حیثیت نہیں کہ اگر پہلی امتوں پر آنے والے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکا تو تمہارے معبودان باطلہ بھی تمہیں کوئی مدد نہ پہنچا سکیں گے اس لیے کہ کائنات میں وہ کسی ذرہ بھر شئے کے مالک نہیں نہ ان کی ذات باری کی ملکیت میں کسی طرح کی کوئی شراکت ہے اور نہ ہی ان میں یہ استعداد ہے کہ کسی کی مدد کرسکیں گے اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ ان کی شراکت تو نہیں لیکن یہ اللہ کریم کے نزدیک سفارش کرسکتے ہیں تو ان میں سفارش کرنے کی بھی استعداد نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 10 توحید و رسالت کے بعد حشر کا بیان فرمایا اور کفار کے اس استہزا کا جواب دیا کہ قیامت کب آئیگی ؟ مطلب یہ ہے کہ اس میں نہ دیر ہوسکتی ہے نہ سویر وہ اپنے وقت پر آئیگی اور ضرور آئیگی۔ ای لا ستجال فیہ ولا امھال) (رازی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(34:28) کافۃ۔ لفظی رو سے یہ کف (مادہ ومصدر) سے اسم فاعل واحد مؤنث منصوب ہے اور کاف مذکر۔ یا یہ اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ اور ۃ علامت مبالغہ ہے۔ جیسا کہ راویۃ علامۃ میں ہے۔
الکف کے معنی ہاتھ کی ہتھیلی کے ہیں جس کے ساتھ انسان چیزوں کو اکٹھا کرنا ہے اور پھیلاتا ہے۔ کففتہ کے اصل معنی کسی کی ہتھیلی پر مارنے یا کسی کو ہتھیلی کے ساتھ مار کر دور ہٹانے اور روکنے کے ہیں پھر عرف عام میں دور ہٹانے اور روکنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا خواہ وہ ہتھیلی سے ہو یا کسی اور چیز سے۔
وما ارسلنک الا کافۃ للناس (آیت ہذا) اور (اے محمد ﷺ ) ہم نے تم کو گناہوں سے روکنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (راغب) ۔ یہ تنقیح لفظی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 30
یرزق : وہ دیتا ہے
انا : بیشک ہم
ایاکم : تم ہی
لا تسئلون : تم سوال نہ کیے جاؤ گے
اجرمنا : ہم نے گناہ کیا
یفتح : وہ کھولتا ہے
الحقتم : تم نے ملا دیا
کلا : ہرگز نہیں
کافۃ : تمام۔ سب
متی : کب ؟
میعا : مقرر
لا تستاخرون : تم پیچھے نہ ہٹو گے
لا تستقدمون : تم آگے نہ بڑھو گے
تشریح : آیت نمبر 24 تا 30
کفار مکہ اللہ کا نام لیتے ، اس کی ہستی کو مانتے ، اس کے اختیا اور قدرت کے قائل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی تمام کنجیاں اس کے دست قدرت میں ہیں لیکن ان کا گمان یہ تھا کہ اللہ نے ساری دنیا اور اس کے نظام کو پیدا کر کے ا اس کو چلانے کا اختیار ان کے بتوں اور کاہنوں کو دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب تم ان بت پرستوں سے یہ پوچھو کہ آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیداوار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے اور جب مکہ میں قحط پڑا تو تم نے بتوں سے اس قحط کے رفع کی بہت ہی التجا کی ، آخرکار ہمارے محبوب ﷺ سے دعا کراکر اس قحط کو رفع کیا، اس کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیاجائے کہ مکہ کے قحط کے تجربہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں کون حق پر ہے پھر فرمایا کہ ان سے کہہ دیاجائے جو نصیحت تم کو کی جاتی ہے اگر تم لوگ اس کو نہ مانو گے تو ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ ہمیں تمہیں سب کو اللہ کے روبروکھڑا ہوناپڑے گا۔ اس دن حق ناحق سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
[24] اتنی صراحت کے ساتھ کہ اپنے پیام و ہدایت کی عالم گیری کا دعویٰ دنیا کے کسی دین نے نہیں کیا ہے۔ یہ خصوصیت آسمانی کتابوں میں صرف قرآن کی ہے۔ قرآن ہی اعلان کرتا ہے کہ پیام محمدی ہر ملک، ہر قوم، ہر طبقہ انسانیت اور ہر زمانے کی ہدایت کے لئے ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت 158 صفحہ 368، سورة انبیاء آیت 107 صفحہ 758، سورة فرقان آیت 1 صفحہ 842۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
زیر دتسوں کی گفتگو زبردستوں سے
آفتاب جب چمکتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ لوگ اس کی روشنی کو محسوس نہ کریں ۔ رات کی تاریکی جب دور ہوتی ہے ۔ اور پوٹھپتی ہے تو ہر شخص ایک روحانی کیف کو محسوس کرتا ہے ۔ موسم بہار میں بوقلمون پھولوں کی بہار سے کون محفوظ نہیں ہوتا ؟ بالکل اس طرح دنیا میں طویل تاریکی اور ظلمت کے بعد مہر صداقت جب طلوع ہوتا ہے تو ساری دنیاکو منور کردیتا ہے ۔ جب فلاح وسعادت کی صبح رونما ہوتی ہے ۔ تو ہر سلیم الفطرت انسان اس کی کیفیتوں سے زندگی حاصل کرتا ہے اور جب کشت زار قلوب کی بہار کا موسم آتا ہے ۔ تو فیضان الٰہی کی تراوش ہوتی ہے ان کیفیات سے انکار کرنا جہود اور مجادلہ ہے ۔ اور چند حقیر…
Read the full tafseer →(29) اور یہ دین حق کے منکر کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ عذاب وثواب کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو تو بتائو یعنی قیامت کب آئے گی اور یہ فیصلے کب ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 3۔ یعنی خواہ جن ہوں یا انسان عرب ہوں یا عجم موجود ہوں یا آئندہ ہونے والے ہوں۔
Read the full tafseer →قیامت پر ایمان نہ رکھنے والے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی ؟
29 ۔ قیامت کب آئے گی ؟ پوچھنے والے کون ہیں ؟ وہی جو قیامت کے آنے کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور جو انہوں نے سوال کیا ہے تو معلوم کرنے کے لئے نہیں بلکہ استہزاء اور مذاق کرتے ہوئے وہ کہہ رہے ہیں مطلب ان کا یہ ہے کہ قیامت آئے گی ؟ قیامت آئے گی ؟ ایک مدت سے ہم سن رہے ہیں اور آپ ہم کو بار بار اس سے ڈرا رہے ہیں ۔ ہم نے ایک بات آپ ﷺ کو نہیں مانی بلکہ بڑھ چڑھ کر تیری مخالفت کی ہے اور ابھی تک قیامت ویامت کے کوئی آثار بھی نہیں آئے آخر کوئی فیصلہ کن بات کرو کہ وہ آئے گی کب ؟ تاکہ ہم اس کا انتظار کریں اور جب پھر بھی وہ نہ آئے تو ہم آپ کو کچھ کہہ سن تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
Commentary
The age-old shaitanic illusion of taking worldly riches and honours as a proof of being loved by Allah
All along the lanes of time since the very beginning, people intoxicated with material wealth and luxury have always opposed the voice of truth and taken a stance of hostility against the prophets and the pious people, except those whom Allah willed otherwise. On top of this, they also used to argue in favor of their satisfaction with the existing stance against the people of truth by saying: Had Allah disliked our doings and ways, why would He give us wealth, recognition and…
Read the full tafseer →48 That is, "When will the time come about which you say: `Our Lord will gather u: together, then He will judge between us rightly?' We have been denying you persistently and opposing you openly for so long. Why is not then the judgement being passed against us ?"
Read the full tafseer →