Saba 34:28

Saba · from ayah 28

34:28

وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ

اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have not sent you except comprehensively to mankind as a bringer of good tidings and a warner. But most of the people do not know.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:28

اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں سارے ہی انسانوں کے لیے ایسا رسول بنا کر بھیجا ہے جو خوشخبری بھی سنائے اور خبردار بھی کرے، لیکن اکثر لوگ سمجھ نہیں رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر اس طرح کہ (آپ) پوری انسانیت کے لئے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہی بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تو تم کو سب لوگوں کے واسطے بس بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جان رہے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو (اے پیغمبر !) مگر سب لوگوں کے لئے خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں (حق اور حقیقت کو)

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے تو آپ کو سارے ہی انسانوں کے لئے (پیغمبر بنا کر) بھیجا ہے بطور خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے کے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام بنی نوع انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر } لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اے محمد ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), We have not sent you forth but as a herald of good news and a warner for all mankind. But most people do not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Even if you do not find anyone in them, do not enter therein until permission is given to you. And if it is said to you, _Go back‘, just go back; it is more decent for you. Allah is All-Aware of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani

Even if you do not find anyone in them, do not enter therein until permission is given to you. And if it is said to you, _Go back‘, just go back; it is more decent for you. Allah is All-Aware of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have not sent you except as a giver of glad tidings and a warner to all mankind, and most of men know not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We have not sent thee (O Muhammad) save as a bringer of good tidings and a warner unto all mankind; but most of mankind know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have not sent you except comprehensively to mankind as a bringer of good tidings and a warner. But most of the people do not know.

— Saheeh International

We have sent you as a bearer of glad news and a warner to the whole of mankind, but most people do not know.

— Muhammad Sarwar

And We have not sent you but to all the men as a bearer of good news and as a warner, but most men do not know.

— Muhammad Habib Shakir

And We have not sent thee save as a bearer of glad tidings and a warner Unto all mankind; but most of man kind know not.

— Abdul Majid Daryabadi

We have not sent thee but as a universal (Messenger) to men, giving them glad tidings, and warning them (against sin), but most men understand not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 28–30

تمام اقوام کے لئے نبوت۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اپنے رسول حضرت محمد ﷺ سے فرما رہا ہے کہ ہم نے تجھے تمام کائنات کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا01508) 7۔ الاعراف :158) یعنی اعلان کردو کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں اور آیت میں ہے (تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا ۙ) 25۔ الفرقان :1) بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان کو ہوشیار کر دے۔ یہ بھی فرمایا کہ " اطاعت گذاروں کو بشارت جنت کی دے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 47 یعنی تم صرف اسی شہر، یا اسی ملک، یا اسی زمانے کے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کے لیے اور ہمیشہ کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہو۔ مگر یہ تمہارے ہم عصر اہل وطن تمہاری قدر و منزلت کو نہیں سمجھتے اور ان کو احساس نہیں ہے کہ کیسی عظیم ہستی کی بعثت سے ان کو نوازا گیا ہے۔ یہ بات کہ نبی ﷺ صرف اپنے ملک یا اپنے زمانے کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک پوری نوع بشری کے لیے مبعوث فرمائے گئے ہیں، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ مثلاً وَاُحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا القرآنُ لِاُنْذِرَکُم بِہ وَمَنْ بَلَغَ (لانعام 197) اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے میں تم کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کے واسطے (خواہ جن ہوں یا انسان، عرب ہوں یا عجم موجود ہوں یا آئندہ ہونے والے ہوں سب کے لئے) پیغمبر بنا کر بھیجا ہے (ایمان لانے پر ان کو ہماری رضا وثواب کی) خوش خبری سنانے والا اور (ایمان نہ لانے پر ان کو ہمارے غضب و عذاب سے) ڈرانے والا، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے (جہالت یا عناد کی وجہ سے انکار و تکذیب میں لگ جاتے ہیں)۔ معارف و مسائل سابقہ آیات میں توحید اور حق تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے کا بیان تھا، اس آیت میں رسالت کا اور بالخصوص ہمارے نبی ﷺ کی بعثت کا تمام اقوام عالم موجودہ و آئندہ کے لئے عام ہونا بیان کیا گیا ہے۔ کافة للناس لفظ کا فہ، عربی محاورہ میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

6۔ 1ٓگے کا مضمون۔ آیات 28۔ 39 آگے کی آیات میں مخالفین کے ان مطالبات و اعتراضات سے تعرض فرمایا ہے جو وہ قرآن کی دعوت اور اس کے انداز کی تکذیب کے لئے پیش کر رہے تھے۔ اعتراجات و مطالبات کے جواب بھی دیے ہیں اور اس انجام کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے وہ لوگ لازماً دو چار ہوں گے جو ان لاطائل اعتراضات و شبہات کی آڑلے کر حقیقت کو جھٹلائیں گے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا و نذیرا ولکن اکثر الناس لا یعلمون (28) یہ اظہور افسوس ہے ان لوگوں کی حالت پر جو قرآن کی دعوت توحید اور اس کے انداز عذاب و قیامت کی تکذیب کے لئے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے تاکہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک تو نبی کریم ﷺ کی رسالت عامہ کا بیان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کو پوری نسل انسانیت کا ہادی اور رہنما بنا کر بھیجا گیا ہے۔ دوسرا، یہ بیان فرمایا کہ اکثر لوگ آپ ﷺ کی خواہش اور کوشش کے باوجود ایمان سے محروم رہیں گے۔ ان دونوں باتوں کی و ضاحت اور بھی دوسرے مقامات پر فرمائی ہے۔ مثلا آپ ﷺ کی رسالت کے ضمن میں فرمایا، (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ) 7۔ الاعراف :158) (تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا) 25۔ الفرقان :1) ایک حدیث میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا ' مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–32

16: آیت نمبر : 22۔ 23 میں مشرکین کے مختلف عقیدوں کی تردید کی گئی ہے، ان میں سے بعض مشرکین تو وہ تھے کہ وہ اپنے تراشے ہوئے بتوں ہی کو اپنا خدا مانتے تھے، اور انہی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ براہ راست ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں، ان کی تردید کے لئے آیت 22 میں فرمایا گیا ہے کہ : وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور بعض مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کی تردید کے لئے اسی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ : اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور بعض…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 28–30

درس نمبر 197 ایک نظر میں اس سبق میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اوپر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں مشرکین کا موقف بیان کیا گیا ہے۔ یہ ہر رسول کے مقابلے میں اختیار کیا جانے والا کھاتے پیتے لوگوں کا موقف ہے۔ اس قسم کے لوگ اپنے مال اور اولاد اور اپنے معاشرتی مقام کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر صرف اس دنیا کے مفادات ہوتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ دنیا کے مفادات حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے ہیں اس لیے کہ مختار اور افضل لوگ ہیں۔ اور یہ کہ اس دنیاوی دولت کی وجہ سے وہ دنیا و آخرت دونوں کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ چناچہ یہاں ان کے سامنے وہ منظر پیش کیا جاتا ہے جو آخرت میں ان کا ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یہ توحید کے ساتھ رسالت کا ذکر کردیا۔ یعنی آپ ﷺ کا فرض اور آپ ﷺ کی بعثت کی غرض یہ ہی ہے کہ نہ صرف عرب بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو ان کے نیک و بد سے آگاہ کردیں سو کردیا۔ جو نہیں سمجھتے وہ جانیں۔ سمجھدار آدمی تو اپنے نفع نقصان کو سوچ کر آپ ﷺ کی بات کو ضرور مانیں گے۔ ہاں دنیا میں کثرت جاہلوں اور ناسمجھوں کی ہے۔ ان کے دماغوں میں کہاں گنجائش ہے کہ کار آمد باتوں کی قدر کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 { وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا } ”اور اے نبی ﷺ ! ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام بنی نوع انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر“ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام میں یہ اعزاز صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے حصے میں آیا کہ آپ ﷺ کو تمام بنی نوع انسانی کی طرف رسول ﷺ بنا کر بھیجا گیا۔ اس سلسلے میں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کیجئے کہ یہ فیصلہ تاریخ انسانی کے اس مرحلے پر کیا گیا جب انسانی تمدن اور ذرائع رسل و رسائل کی ترقی کے باعث آپ ﷺ کی دعوت کو دنیا کے کونے کونے میں ایک ایک شخص تک پہنچانا عملی طور پر ممکن ہونے کے قریب تھا۔ ورنہ اس سے پہلے عملی طور پر کسی نبی یا رسول کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 28–29

43 یعنی آپ صرف عرب کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے اور صرف اپنے دور کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک کے لئے اللہ کے رسول، ایمانداروں کو جنت کو بشارت دینے والے اور منکرین حق کو اخروی انجام بد سے ڈرانے والے ہیں۔ جبکہ آپ سے پہلے کے سب انبیاء کسی خاص قوم کے لئے، کسی خاص علاقہ کے لئے اور کس خاص دور کے لئے مبعوث کئے جاتے رہے ہیں۔ یہ مضمون قرآن کریم میں بھی متعدد مقامات پر وارد ہوا ہے اور احادیث صحیحہ میں بھی کثرت سے وارد ہے اس مضمون سے دو باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ سب انبیاء سے افضل و اشرف ہیں۔ اور دوسری یہ کہ آپ کے بعد تاقیامت کوئی رسول یا نبی آنے والا نہیں۔ لہذا صرف اہل عرب کو نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

45۔ اتنی صراحت کے ساتھ اپنے پیام ہدایت کی عالمگیری کا دعوی دنیا کے کسی دین نے بھی نہیں کیا، یہ خصوصیت آسمانی کتابوں میں صرف قرآن کی ہے۔ قرآن ہی اعلان کے ساتھ کہتا ہے کہ پیام محمدی ہر ملک، ہر قوم، ہر طبقہ انسانیت اور ہر زمانہ کی ہدایت کے لیے ہے۔ اسلام کے دو دعوے ایسے ہیں، جن میں دنیا کا کوئی دوسرا دین اس کا شریک نہیں، دونوں دعوے اسلام کے امتیازات خصوصی میں سے ہیں، ایک یہ بار بار تصریح ووضاحت کے ساتھ کہنا کہ میری تعلیم ساری دنیا کے لیے ہے۔ (دوسرے مذاہب جیسے اپنی قوم یا ملک کے باہر کسی کو جانتے ہی نہیں) دوسرے پیغمبر اسلام ﷺ کو سلسلہ انبیاء کا خاتم قرار دینا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–30

آیت نمبر 22 تا 30 ترجمہ : اے محمد ! کفار مکہ سے کہہ دیجئے کہ جن چیزوں کے بارے میں تمہیں خدا کے سوا (خدائی) کا گمان ہے یعنی جن کو تم اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو ان کو پکارو تاکہ وہ تمہارے گمان کے مطابق تم کو نفع پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا وہ ذرہ برابر خیر و شر کا اختیار نہیں رکھتے، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونون (کے پیدا کرنے) میں شرکت ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کا ان معبودوں میں سے کوئی مددگار ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی یہ ان کے اس قول کو رد کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کے معبود اس کے سامنے سفارش کریں گے بجز ان کے کہ جن کے لئے اجازت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کیلئے بھیجا ہے (جنت کی) بشارت دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا۔ کَآفَّۃً موصوف محذوف کی صفت ہے ‘ یعنی ارسالۃً کافۃً اور کافۃً کا معنی ہے عام جس سے کوئی مستثنیٰ نہیں۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ سب لوگوں کیلئے آپ کو رسالت عامہ دے کر ہم نے بھیجا ہے ‘ کوئی شخص کے آپ کے دائرۂ رسالت سے باہر نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافۃً میں ت مبالغہ کی ہو ‘ یعنی ہم نے آپ کو ایسی حالت میں بھیجا کہ آپ سب لوگوں کو اپنے دائرۂ رسالت میں جمع کرنے والے ہیں۔ حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے پانچ چیزیں (خصوصیت کے ساتھ) عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے اے نبی کریم آپ کو تمام جن و انس کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کہ آپ اہل ایمان کو جنت کی خوشخبری سنانے والے اور کفار کو دوزخ سے ڈرانے والے ہیں لیکن مکہ والے اس چیز کو نہیں سمجھتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّةً لِّلنَّاسِ : ”كَاۗفَّةً“ بمعنی ”عَامَّۃً“ ہے، یہ ”اَلنَّاسُ“ سے حال ہے، یعنی ہم نے تجھے نہیں بھیجا، مگر تمام لوگوں کی طرف۔ آخرت اور توحید کے بیان کے بعد نبی کریم ﷺ کی رسالت کا بیان فرمایا۔ داؤد و سلیمان ؑ کو نبوت کے ساتھ ایسی بادشاہت عطا ہوئی جو ان کا خاصہ تھی اور نبی کریم ﷺ کو ایسی رسالت عطا ہوئی جو آپ ﷺ کے سوا کسی نبی کو عطا نہیں ہوئی۔ وہ یہ کہ پہلے تمام انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے اور ان کی دعوت محدود وقت تک کے لوگوں کے لیے ہوتی تھی، جبکہ آپ ﷺ کو روئے زمین کی تمام اقوام اور سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا اور آپ ﷺ کی دعوت قیامت تک کے لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–30

آیت : وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیر او نذیرا ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے۔ کلام میں تقد یم و تاخیر ہے۔ زجاج نے کہا : مراد ہے ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر انذار اور ابلاغ کے ساتھ تمام لوگوں کو جمع کرنے والا۔ کافۃ یہ جامع کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : تمام لوگوں کو روکنے والا، یعنی آپ ﷺ ان کو کفر سے روکنے والے ہیں اور آپ ﷺ انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ باء مبالغہ کے لیے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : تقدیر کلام یہ ہے الا ذا کافۃ مضاف کو حذف کردیا گیا، معنی بنتا ہے لوگوں کو اس سے روکنے والے کہ وہ آپ ﷺ کی تبلیغ سے دور بھاگیں یا انہیں کفر سے روکنے والے۔ اسی سے ہے : کف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–30

1۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ارسلنک الا کافۃ للناس یعنی ہم نے آپ کو سارے لوگوں کی طرف بھیجا۔ 2۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا کافۃ للناس سے مراد عام لوگوں کے لیے آپ کو بھیجا گیا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت وما ارسلناک الا کافۃ للناس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو عرب اور عجم کی طرف بھیجا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے معزز وہ لوگ ہیں جو ان سے رسول اللہ ﷺ کے زیادہ اطاعت گزار ہیں۔ پانچ باتوں کے ذریعہ آپ کی فوقیت 4۔ ابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو ][ اِلَّا كَاۗفَّةً لِّلنَّاسِ : مگر سارے کے سارے لوگوں کے لئے ][ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا : خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ][ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ : اور لیکن لوگوں کی اکثریت ][لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتی نہیں ] نوٹ۔ 2: زیر مطالعہ آیت 28 سے واضح ہوجاتا ہے کہ نبی ﷺ صرف اپنے ملک یا اپنے زمانے کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک پوری نوع بشر کے لئے مبعوث فرمائے گئے ہیں۔ یہی بات قرآن مجید مین متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ مثلا الانعام 197 ۔ الاعراف 158 ۔ الانبیائ۔ 107 ۔ الفرقان۔ 1 ۔ وغیرہ ۔ یہی مضمون نبی ﷺ نے خوب بھی بہت سی احادیث میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ کا اعلان اس آیت کریمہ میں نبی امی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر ہے، چونکہ آپ کی بعثت عامہ ہے اس لیے ہر فرد و بشر کے لیے آپ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں، آپ کا دامن پکڑے بغیر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو راضی نہیں کرسکتا خواہ کتنی ہی عبادت کرتا ہو، جو ہدایت اللہ کے یہاں معتبر ہے وہ خاتم النبیین رسول الانس والجان کے اتباع میں مرکوز ہے اور منحصر ہے۔ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ کا دیگر مواضع میں بھی قرآن مجید میں تذکرہ فرمایا ہے، سورة اعراف میں فرمایا : (قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَانِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–33

اثبات رسالت محمدیہ وعموم بعثت و اثبات قیامت قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنک الا کافۃ للناس۔۔۔ الی۔۔۔ اھل یجزون الا ما کانوا یعملون۔ (ربط) اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی رازقیت کا ذکر تھا اب آگے رسالت محمد یہ کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت فقط عرب کے لئے مخصوص نہیں بلکہ آپ ﷺ کی بعثت تمام عالم کے لئے ہے۔ انبیاء سابقین کی طرح کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ بعثت سے مقصود ہی توحید اور تذکیر آخرت ہے اس لئے آئندہ آیات میں منکرین واحدانیت اور منکرین رسالت اور منکرین قیامت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں۔ (حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 92 ج 4)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ٖ 31:۔ وما ارسلنک الخ : یہ سوال مقدر کا جواب ہے، مشرکین کہتے تھے ہمارا منہ مانگا معجزہ دکھا دو تو ہم تمہیں رسول صادق مان لیں گے۔ بقرینۃ ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین۔ جواب میں ارشاد فرمایا۔ ہم نے آپ کو کائنات میں متصرف و مکتار بنا کر نہیں بھیجا کہ ہر شخص کا مطلابہ پورا فرما دیں بلکہ آپ کو تو ہم نے تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے کہ آپ اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں کو پہنچائیں۔ ماننے والوں کو جنت کی خوشخبری سنائی اور نہ ماننے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ اور وہ اپنی جہالت اور حماقت کی وجہ سے بےجا اور غیر متعلق سوالات پوچھنے لگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–30

ربط آیات ابتدائے سورة میں اللہ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے ، پھر درمیان میں شکر گزاروں اور ناشکر گزاروں کا حال ذکر کیا اس کے بعد شرک اور مشرکوں کا رد کیا ان کے تدبیر اور تصرف میں غلط عقائد کی نفی کی اور ساتھ ساتھ جبری اور قہری سفارش کے مزعومہ نظریات کی تردید کی۔ فرمایا بعض لوگ فرشتوں کو اپنا کارساز اور سفارشی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ تو خود خدا تعالیٰ کے سامنے خوفزدہ رہتے ہیں اور اللہ کے حضور ہمیشہ عاجزی کا اظہار کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے پر پھیلا دیتے ہیں۔ ان پر مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ پھر جب ان کی دہشت کسی حد تک دور ہوتی ہے تو نیچے طبقے والے فرشتے اوپر والوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ 28 رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–30

ترکیب : زعتمم ای زعتموھم الہۃ وھما مفعولا زعم حذف الاول لطول الموصول بصلۃ والثانی لقیام صفتہ مقامہ، قالوا قال القول الحق، لمن اذن یتعلق بالشفاعۃ فزع مالم یسم فاعلہ عن قلوبہم قائم مقام الفاعل۔ او ایاکم معطوف علی اسم ان و اما الخبر فیجب ان یکون 1 ؎ مکرا کقولک ان زید او عمرا قائم۔ تفسیر : شکر اور ناشکری کے نتائج بیان فرما کر عرب خصوصاً اہل مکہ کی ناشکری کا رد کرتا ہے۔ انسان کے لیے اس سے زیادہ اور کیا ناشکری ہے کہ وہ اپنے معبود حقیقی اور منعم کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرے، فقال قل ادعوا الذین زعمتم کہ بت پرستوں سے کہو کہ جن کو تم اس کا شریک سمجھتے ہو، ان کو پکارو، دیکھیں وہ تمہاری کہاں تک مدد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (السباء : 28) (اور اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ) اس آیت کریمہ میں متعدد حقائق کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ چند حقائق کی طرف توجہ 1 آنحضرت ﷺ کو صرف اہل مکہ کی ہدایت کے لیے مبعوث نہیں فرمایا گیا بلکہ آپ کی بعثت و رسالت تمام نوع انسانی کی طرف ہے۔ اس لحاظ سے اہل مکہ کو آپ کی ذات اور آپ کے پیغام کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے سو دفعہ سوچنا چاہیے کہ ان کا واسطہ کس عظیم شخصیت سے ہے۔ اگر انھوں نے آپ کی رسالت کا ہر اول…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اگر مشرکین ” اللہ “ کی توحید کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو اے نبی ﷺ ! آپ اپنا کام کرتے جائیں۔ کیونکہ آپ صرف مکہ والوں کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے رسول بنائے گئے ہیں۔ اس فرمان میں ایک طرف نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر آپ کے مخاطبین آپ کی دعوت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو آپ کو دل برداشتہ ہونے کی بجائے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی ایک بستی، قوم یا نسل کے لیے رسول منتخب نہیں کیا۔ آپ تو ہر دور کے تمام انسانوں کے لیے رسول منتخب کیے گئے ہیں۔ آپ کی دعوت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو اس پر ایمان لائیں گے وہ دنیا میں کامیاب اور آخرت میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آپ ﷺ سب کے لئے پیغمبر بنائے گئے ہیں : 28: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآ فَّۃً لِّلنَّاسِ (اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کیلئے پیغمبر بنا کر بھیجا ) ۔ کافۃ للناس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس طرح بھیجا جو بھیجنا ان کے لئے عام ہے اور ان کا احاطہ کرنے والا ہے کیونکہ جب وہ ارسال تمام کو شامل ہے تو پھر اس سے کوئی باہر رہ نہیں سکتا۔ قولِ زجاج (رح) : لغت میں کافۃ کا معنی احاطہ ہے مطلب یہ ہوگا ہم نے آپ کو اس طرح بھیجا کہ آپ لوگوں کیلئے انذارو ابلاغ کو جمع فرمانے والے ہیں۔ ک ضمیر سے یہ حال ہے اور تاء مبالغہ کی ہے جیسا کہ راویۃ اور علامۃ میں ہے۔ بَشِیْرًا (خوشخبری سنانے والے) اللہ تعالیٰ کے فضل کی جو اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28، وماارسلناک الا کافۃ للناس ، سب لوگوں کے لیے خواہ وہ سفید ہوں یاکالے گورے ۔ ، بشیرا ونذیرا، خوش خبری دینے والے وا ڈرانے والے ۔ ، ولکن اکثر الناس لا یعلمون، حضرت جابرؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نبی کو ایک خاص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا ہے اور میری بعث تمام لوگوں کے لیے ہے یا، کافۃ، میں تاء مبالغہ کے لیے ہو۔ یعنی ہم نے آپ کو ایسی حالت میں بھیجا کہ آپ سب لوگوں کو اپنے دائرئہ رسالت میں جمع کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–32

24 تا 30۔ اوپر گزرا کہ اہل مکہ کی سرکشی کے سبب سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور اس قحط کی بلا کے دفع کرنے میں اہل مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے آخر اللہ تعالیٰ نے ہی جب اپنے فضل سے مینہ بر سایا تو وہ قحط کی بلادفع ہوگئی اسی واسطے ان مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے سرول اللہ کے تم ان بت پرستوں سے یہ تو پوچھ کر آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیدا وار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے مکہ کے فحط کے تجربہ کے بعد اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ کام اللہ کا ہے اس جواب کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ مکہ کے قحط کے تجریہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–29

آیت 27 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے ! (من یرزقکم من السموت والارض) ” آسمانوں اور زمین سے تمہیں رزق کون فراہم کرتا ہے ؟ “ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انہیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو (قل اللہ) ” کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔ “ آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کرسکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمہیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمہارے لئے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–29

70 پیغمبر کا کام انذار وتبشیر اور بس : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا اصل کام اور اس کی ذمہ داری انذار وتبشیر ہے اور بس۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے تو آپ کو صرف بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے "۔ پس جب آپ ہمارے فرستادہ اور رسول ہیں تو جو لوگ آپ کی نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہیں وہ دراصل ہمارے حکم و ارشاد کے منکر ہیں۔ جیسے جملہ کفار و مشرکین۔ اور جب ہم نے آپ ﷺ کو تمام لوگوں کے لئے مبعوث فرمایا ہے تو پھر جو لوگ اس کے بعد بھی دوسرے کسی اور دین کی تبلیغ کرتے اور آپ ﷺ کے بعد کسی اور کو نبی مانتے ہیں وہ پکے گمراہ اور پرلے درجے کے فسادی ہیں۔ جیسے عیسائیت وغیرہ دیانات محرفہ کی تبلیغ کرنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 28–30

ساری انسانیت کے لیے نبوت تشریح : سیدنامحمد ﷺ کے بارے میں ڈاکٹر غلام مرتضی صاحب نے اپنی تفسیر انوار القرآن میں بہت خوبصورت لکھا ہے میں اپنی تشریح کرتے ہوئے ان کی تحریر سے استفادہ کرنا چاہوں گی۔ حضور ﷺ آخری نبی ہیں کیونکہ تمام نبیوں پر آپ کو اس لحاظ سے فضیلت دی گئی ہے کہ آپ پوری دنیا کے لیے رہبر بنے۔ آپ کی کتاب و سنت اتنی مکمل اور وسیع ہے کہ اس میں وقت، زمانے اور علاقے کی قید کی ضرورت نہیں یعنی اس کے اصول دنیا کی ہر جگہ اور ہر زمانے کے ہر قسم کے لوگوں کے لیے قابل قبول، آسان اور قابل عمل ہیں۔ اسلام کا دوسرا بنیادی اصول رسالت محمدی پر ایمان لانا ہے۔ کیونکہ جب ہم مخلوقات پر غور کرتے ہیں تو معلوم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–30

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 تا 30: اسرار و معارف : آپ اپنے مخاطبین سے بھی فرما دیجیے کہ اپنے مشرکانہ عقاید میں اللہ کے علاوہ جن بتوں سے تم نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ان کی بھی کوئی حیثیت نہیں کہ اگر پہلی امتوں پر آنے والے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکا تو تمہارے معبودان باطلہ بھی تمہیں کوئی مدد نہ پہنچا سکیں گے اس لیے کہ کائنات میں وہ کسی ذرہ بھر شئے کے مالک نہیں نہ ان کی ذات باری کی ملکیت میں کسی طرح کی کوئی شراکت ہے اور نہ ہی ان میں یہ استعداد ہے کہ کسی کی مدد کرسکیں گے اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ ان کی شراکت تو نہیں لیکن یہ اللہ کریم کے نزدیک سفارش کرسکتے ہیں تو ان میں سفارش کرنے کی بھی استعداد نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی آپ ﷺ کی قدر و منزلت نہیں جانتے اور انہیں احساس نہیں کہ کیسی عظیم الشان ہستی کی بعثت سے انہیں نوازا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کا عالمگیر اور تا قیامت ہونا متعدد آیات سے ثابت ہے۔ ( سورة اعراف، 58 1، فرقان : 1) ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ” پہلے ہر نبی خاص اپنے لوگوں کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔ ( بخاری، مسلم)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 28–29

(34:28) کافۃ۔ لفظی رو سے یہ کف (مادہ ومصدر) سے اسم فاعل واحد مؤنث منصوب ہے اور کاف مذکر۔ یا یہ اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ اور ۃ علامت مبالغہ ہے۔ جیسا کہ راویۃ علامۃ میں ہے۔ الکف کے معنی ہاتھ کی ہتھیلی کے ہیں جس کے ساتھ انسان چیزوں کو اکٹھا کرنا ہے اور پھیلاتا ہے۔ کففتہ کے اصل معنی کسی کی ہتھیلی پر مارنے یا کسی کو ہتھیلی کے ساتھ مار کر دور ہٹانے اور روکنے کے ہیں پھر عرف عام میں دور ہٹانے اور روکنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا خواہ وہ ہتھیلی سے ہو یا کسی اور چیز سے۔ وما ارسلنک الا کافۃ للناس (آیت ہذا) اور (اے محمد ﷺ ) ہم نے تم کو گناہوں سے روکنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (راغب) ۔ یہ تنقیح لفظی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–30

لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 30 یرزق : وہ دیتا ہے انا : بیشک ہم ایاکم : تم ہی لا تسئلون : تم سوال نہ کیے جاؤ گے اجرمنا : ہم نے گناہ کیا یفتح : وہ کھولتا ہے الحقتم : تم نے ملا دیا کلا : ہرگز نہیں کافۃ : تمام۔ سب متی : کب ؟ میعا : مقرر لا تستاخرون : تم پیچھے نہ ہٹو گے لا تستقدمون : تم آگے نہ بڑھو گے تشریح : آیت نمبر 24 تا 30 کفار مکہ اللہ کا نام لیتے ، اس کی ہستی کو مانتے ، اس کے اختیا اور قدرت کے قائل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی تمام کنجیاں اس کے دست قدرت میں ہیں لیکن ان کا گمان یہ تھا کہ اللہ نے ساری دنیا اور اس کے نظام کو پیدا کر کے ا اس کو چلانے کا اختیار ان کے بتوں اور کاہنوں کو دے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–30

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب تم ان بت پرستوں سے یہ پوچھو کہ آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیداوار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے اور جب مکہ میں قحط پڑا تو تم نے بتوں سے اس قحط کے رفع کی بہت ہی التجا کی ، آخرکار ہمارے محبوب ﷺ سے دعا کراکر اس قحط کو رفع کیا، اس کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیاجائے کہ مکہ کے قحط کے تجربہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں کون حق پر ہے پھر فرمایا کہ ان سے کہہ دیاجائے جو نصیحت تم کو کی جاتی ہے اگر تم لوگ اس کو نہ مانو گے تو ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ ہمیں تمہیں سب کو اللہ کے روبروکھڑا ہوناپڑے گا۔ اس دن حق ناحق سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–29

[24] اتنی صراحت کے ساتھ کہ اپنے پیام و ہدایت کی عالم گیری کا دعویٰ دنیا کے کسی دین نے نہیں کیا ہے۔ یہ خصوصیت آسمانی کتابوں میں صرف قرآن کی ہے۔ قرآن ہی اعلان کرتا ہے کہ پیام محمدی ہر ملک، ہر قوم، ہر طبقہ انسانیت اور ہر زمانے کی ہدایت کے لئے ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت 158 صفحہ 368، سورة انبیاء آیت 107 صفحہ 758، سورة فرقان آیت 1 صفحہ 842۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

فیضانِ عام 1: یعنی حضور ﷺ کی نبوت تمام کائنات کے لئے ہے ۔ کسی خاص عصر کے لوگوں کے ساتھ مختص نہیں ۔ کسی خاص حالات اور مقامات کے تابع نہیں ۔ ہر وقت اور ہر آن آپ کی تعلیمات لائق قبول اور قابل اتباع ہیں ۔ آپ ہر زمانے میں اپنے پیغام کے لحاظ سے زندہ ہیں ۔ اور یہ زندگی تا قیامت جاری رہے گی ۔ کافۃ للناس سے مقصود یہ ہے کہ کسی زمانہ اور کسی قرن میں بھی کسی رائے نبوت کے تلے پناہ گزین ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ کی نبوت کا پھر یرا ہر وقت لہراتا رہے گا ۔ اور لوگوں کوا من وسعادت کا پیغام پہنچاتا رہے گا ۔ حل لغات :۔ انفتاح ۔ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا کافۃ ۔ بمعنے ہمہ وتمام ۔ عموم واستغراق کے لئے ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے واسطے بشارت اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ تمام لوگ یعنی عرب و عجم اور ہر احمرواسود موجود یا آئندہ آنیوالے بلکہ ہر مکلف کی جانب آپ رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ خواہ وہ انسان ہوں یا جنات اتباع کرنیوالوں کو رضائے الٰہی کی خوشخبری دیتے ہیں اور نافرمانی کرنیوالوں کو ڈراتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے لیکن اکثر لوگ آپ کی بزرگی اور آپ کے مراتب علیا کی قدرومنزلت کو نہیں سمجھتے حضرت قتادہ نے مرفوعاً فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد کو عرب اور عجم یعنی سب کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تمام لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–29

ف 3۔ یعنی خواہ جن ہوں یا انسان عرب ہوں یا عجم موجود ہوں یا آئندہ ہونے والے ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کو پوری انسانیت کے لئے بشیرونذیر بنایا ہے 28 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کی خصوصیات میں سے ایک یہ خصوصیت بھی ہے کہ آپ ﷺ کو پوری انسانیت کی طرف نبی ورسول بنا کر بھیجا گیا جو آپ ﷺ کی بعثت سے لے کرتا قیامت آنے والے ہیں اور اس کی مزید وضاحت آپ ﷺ کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہونے کی نفی کرکے ختم نبوت کا اعلان کرادیا۔ فی نفسیہ سارے نبیوں اور رسولوں کی بعثت پر ایمان لانا شرط ہے لیکن یہ امان مجمل کہا جاسکتا ہے کہ جس کے متعلق معلوم بھی نہیں کہ وہ نبی یارسول تھا اور اس پر کیا پیغام اترا اس ایمان میں سب کے سب نبی ورسول برابر ہیں لیکن آپ ﷺ سے قبل جتنے رسول آئے وہ خاندانوں ، برادریوں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–28

Commentary That Allah is One and that His power is absolute was the subject in previous verses. In the present verse, it is being said that the Holy Prophet ﷺ “ was sent as the Messenger of Allah to all peoples of the world who are there now or will come in the future. The word: كَافَّةً (Kaaffah) in: كَافَّةً لِلنَاس Kaaffatal-lin-naas: for all peoples) is used in the sense of making something universal and inclusive of all without the exclusion of anyone from it. The grammatical arrangement of the text required saying: لِلنَاس (lin-naasi kaaffatan: for the people as a whole) because the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

47 That is, "You have not been sent as a Prophet for the people of this city, or this country, or this age alone, but for the people of the entire world and for ever, but your compatriots do not recognize your worth and they do not realize how great a person has been raised among them as a Prophet and how uniquely they have been blessed by Allah." The fact that the Holy Prophet has not been appointed a Prophet only for his own country or for his own age but for all mankind till Resurrection, has been stated at several places in the Qur'an. For instance, "And this Qur'an has been revealed to…

Read the full tafseer →