As-Sajda 32:9

As-Sajda · from ayah 9

32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـِٕدَةَ ؕ— قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ۟ثُمَّ سَوّٰٮهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ‌ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡــئِدَةَ ‌ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ

پھر اُس کو درست کیا پھر اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then He proportioned him and breathed into him from His [created] soul and made for you hearing and vision and hearts; little are you grateful.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah As-Sajda

All translations of 32:9

پھر اس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں اور دِل دیے تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اُس کو درست کیا پھر اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی، اور (انسانو) تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا کیے۔ تم لوگ شکر تھوڑا ہی کرتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اسے ٹھیک کیا اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے کیا ہی تھوڑا حق مانتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اس (میں اعضاء) کو درست کیا اور اس میں اپنی روحِ (حیات) پھونکی اور تمہارے لئے (رحمِ مادر ہی میں پہلے) کان اور (پھر) آنکھیں اور (پھر) دل و دماغ بنائے، تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت کم شکر کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اسے (رحم مادر) میں درست کیا اور اس میں اپنی (پیدا کی ہوئی) روح پھونکی اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر اس کے نوک پلک سنوارے اور اس میں اپنی روح پھونکی اور تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل بنائے…تم بہت ہی کم شکر گزار ہوتے ہو ! !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اس نے برابر کردیا اس (کے اعضاء وجوارح) کو (رحم مادر کے اندھیرے میں) اور پھونک دیا اس کے اندر اپنی روح میں سے اور اس نے نواز دیا تمہیں کانوں آنکھوں اور دلوں کی (عظیم الشان نعمتوں) سے بہت ہی کم شکر کرتے ہو تم لوگ

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اسے درست کیا۔ اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی۔ اور تم کو کان اور آنکھ اور دل دیئے تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اس کی نوک پلک درست کی اور پھونکا اس میں اپنی روح میں سے اور اس نے بنائے تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بہت ہی کم ہے جو شکر تم لوگ کرتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اس کو درست کیا اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی اور تمہارے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو“

— محترمہ رفعت اعجاز

then He duly proportioned him, and breathed into him of His spirit, and bestowed upon you ears and eyes and hearts. And yet, little thanks do you give.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then He gave him a proportioned shape, and breathed into him of His spirit. And He granted you the (power of) hearing and the eyes and the hearts. Little you give thanks.

— Muhammad Taqi Usmani

Then He gave him a proportioned shape, and breathed into him of His spirit. And He granted you the (power of) hearing and the eyes and the hearts. Little you give thanks.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then He fashioned him in due proportion, and breathed into him the soul; and He gave you hearing, sight and the sense of deduction. Little is the thanks you give!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then He fashioned him and breathed into him of His Spirit; and appointed for you hearing and sight and hearts. Small thanks give ye!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then He proportioned him and breathed into him from His [created] soul and made for you hearing and vision and hearts; little are you grateful.

— Saheeh International

then He gave it proper shape and blew His spirit in it. He made ears, eyes and hearts for you, but you give Him very little thanks.

— Muhammad Sarwar

Then He made him complete and breathed into him of His spirit, and made for you the ears and the eyes and the hearts; little is it that you give thanks.

— Muhammad Habib Shakir

Then He fashioned him and breathed into him something of a spirit from Him; and He ordained for you hearing and sight and hearts. Little is the thanks ye return.

— Abdul Majid Daryabadi

But He fashioned him in due proportion, and breathed into him something of His spirit. And He gave you (the faculties of) hearing and sight and feeling (and understanding): little thanks do ye give!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 32:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–9

بہترین خالق بہترین مصور ومدور فرماتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر چیز کو قرینے سے بہترین طور سے ترکیب پر خوبصورت بنائی ہے۔ ہر چیز کی پیدائش کتنی عمدہ کیسی مستحکم اور مضبوط ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کیساتھ ہی خود انسان کی پیدائش پر غور کرو۔ اس کا شروع دیکھو کہ مٹی سے پیدا ہوا ہے۔ ابو البشر حضرت آدم ؑ مٹی سے پیدائے ہوئے۔ پر ان کی نسل نطفے سے جاری رکھی جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے۔ پھر اسے یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک اور درست کیا اور اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی۔ تمہیں کان آنکھ سمجھ عطا فرمائی۔ افسوس کہ پھر بھی تم شکر گذاری میں کثرت نہیں کرتے۔ نیک انجام اور خوش…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سجدۃ حاشیۃ 15 یعنی انتہائی باریک خورد بینی وجود سے بڑھا کر اسے پوری انسانی شکل تک پہنچایا اور اس کا جسم سارے اعضاء وجوارح کے ساتھ مکمل کردیا۔ سورة السَّجْدَة 16 روح سے مراد محض وہ زندگی نہیں ہے جس کی بدولت ایک ذی حیات جسم کی مشین متحرک ہوتی ہے، بلکہ اس سے مراد وہ خاص جوہر ہے جو فکر و شعور اور عقل وتمیز اور فیصلہ و اختیار کا حامل ہوتا ہے، جس کی بدولت انسان تمام دوسری مخلوقات ارضی سے ممتاز ایک صاحب شخصیت ہستی، صاحب انا ہستی، اور حامل خلافت ہستی بنتا ہے۔ اس روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح یا تو اس معنی میں فرمایا ہے کہ وہ اسی کی ملک ہے اور اس کی ذات پاک کی طرف اس کا انتساب اسی طرح کا ہے جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

دنیا کی ہر چیز اپنی ذات میں حسن اور اچھی ہے برائی اس کے غلط استعمال سے آتی ہے (آیت) الذی احسن کل شئی خلقہ، یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے ہر چیز کی خلقت کو حسین اور بہتر بنایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس عالم میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا فرمایا وہ حکمت اور مصالح عالم کے اقتضا سے بنایا ہے۔ اس لئے ہر چیز اپنی ذات کے اعتبار سے ایک حسن رکھتی ہے۔ اور ان سب سے زیادہ حسین اور بہتر انسان کو بنایا ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا(آیت) لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ”یعنی ہم نے انسان کو سب سے زیادہ حسین تقویم اور بہتر شکل و صورت میں پیدا کیا ہے“ اور دوسری مخلوقات خواہ وہ ظاہر میں کتنی ہی قبیح اور بری سمجھی جاتی ہوں،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–9

الذی احسن کل شئی خلقہ وبداء خلق الانسان من طین الم جعل نسلہ من سللۃ منماء مھین ثم سومہ و نفخ فیہ من روحہ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون۔ (7۔ 9) اللہ تعالیٰ کی صفات عالم الغیب والشہادۃ اور عزیز و رحیم کو بنیاد قرار دے کر آگے قیامت کے انداز کے لئے تمہید استوار فرمائی کہ یہ اللہ ہیی ہے جس نے جو چیز بھی بنائی۔ یعنی اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اس کے بےنہایت علم کی شاہد ہے۔ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی لے کر انسان اگر اس پر غور کرے تو اس کی عقل صانع کی صنعت و کاریگری پر دن رہ جاتی ہے اور وہ بےخود ہو کر پکاراٹھتا ہے کہ تبارک اللہ احسن الخالقین (بڑی ہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9-1یعنی اس بچے کی ماں کے پیٹ میں نشو و نما کرتے، اس کے اعضا بناتے، سنوارتے ہیں اور پھر اس میں روح پھونکتے ہیں۔ 9-2یعنی ساری چیزیں پیدا کیں تاکہ وہ اپنی تخلیق کی تکمیل کر دے، پس تم سننے والی بات کو سن سکو دیکھنے والی چیز کو دیکھ سکو اور ہر عقل و فہم میں آنے والی بات کو سمجھ سکو۔ 9-3یعنی اتنے احسانات کے باوجود انسان اتنا ناشکرا ہے کہ وہ اللہ کا شکر بہت ہی کم ادا کرتا ہے یا شکر کرنے والے آدمی بہت تھوڑے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–12

4: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن دوسرے مفسرین کے مطابق اس آیت کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جو ایک ہزار سال کے برابر ہوگا، اور مطلب یہ ہے کہ جتنی مخلوقات کا انتظام اس وقت اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں، وہ سب آخر کار قیامت کے دن ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن امور کا فیصلہ فرماتے ہیں، ان کی تنفیذ اپنے اپنے طے شدہ وقت پر ہوتی ہے، چنانچہ بعض امور کی تنفیذ میں انسانوں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–9

اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9) یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔ اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی شکل و صورت، اعضاء موزوں و متناسب رکھے۔ 4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں جو مخلوق ہے اسی کا مال ہے مگر جس کی عزت بڑھائی اس کو اپنا کہا جیسے فرمایا (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) 19 ۔ مریم :93) حالانکہ سب خدا کے بندے ہیں کما قال " اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا۔ " سو انسان کی جان عالم غیب سے آئی ہے مٹی پانی سے نہیں بنی اس کو اپنا کہا۔ ورنہ اللہ کی جان کا اگر وہ مطلب لیا جائے جو مثلاً آدمی کی جان کا لیتے ہیں تو چاہے جان کسی بدن میں ہو، بدن ہوا تو ترکیب آئی، ترکیب آئی تو حدوث آیا، ذات پاک کہاں رہی (موضح…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 ثُمَّ سَوّٰٹہُ یہاں ثُمَّ کا لفظ اس تخلیقی مرحلے کی نشاندہی کر رہا ہے جس کا آغاز ماں کے پیٹ میں استقرار حمل سے ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ بچے کے اعضاء ترتیب پاتے ہیں۔ نسل انسانی کا ہر بچہ اس مرحلے سے گزرتا ہے۔ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ پھر ایک مرحلے پر اس حیوانی جسم میں روح پھونک کر اسے انسان بنادیا جاتا ہے۔ ماں کے پیٹ میں ایک بچہ جن مراحل سے گزرتا ہے اس کی تفصیل اس متفق علیہ حدیث میں بیان ہوئی ہے جس کا مطالعہ ہم سورة المؤمنون کی آیات 12 تا 14 کے ذیل میں کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو اسی جلد کا صفحہ 170 وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْءِدَۃَ ط۔ اَفْءِدَۃَجمع ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 پھر اسی انتہائی چھوٹے سے جرثومہ کو رحم مادر میں پیوست کیا تو اس کے بالکل ویسے ہی اعضاء بننے لگے اور ان پر گوشت پوست چڑھنے لگا جس چیز کا وہ جرثومہ تھا اللہ تعالیٰ نے پھر اپنی انفرادی توجہ سے اس میں چند نمایاں اختلاف بھی رکھ دیئے۔ لیکن اعصاء کے توازن و تناسب میں کچھ فرق نہ آنے دیا۔ پھر یہ سب کچھ درست کرنے اور آنکھ، ناک، کان، دل وغیرہ سب اعضاء کو درست اور ٹھیک ٹھاک کردینے کے بعد اس میں اپنے ہاں سے روح پھونک دی اور مقررہ وقت کے بعد وہ ایک تندرست اور جیتا جاگتا انسان بن کر رحم مادر سے باہر نکل آیا۔ یہ سب باتیں ایسے بدیہی امور ہیں جو سب انسانوں کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں۔ پھر بھی انسانوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ یعنی اس کے اعضاء وقوی ماں کے رحم میں درست کیے۔ اے عدلہ تکمیل اعضاۂ فی الرحم (روح) 12۔ (آیت) ” روحہ “۔ میں اضافت تشریفی ہے، اظہار تعظیم کے لیے، جیسے بیت اللہ میں گھر کی اضافت اللہ کی طرف۔ یہ مراد نہیں، کہ نعوذ باللہ، اللہ کی بھی کوئی روح ہے، اور اس کا کوئی جزوانسان کے اندر پھونک دیا گیا۔ مراد صرف یہ ہے کہ وہ روح جسے اللہ نے معزز ومکرم بنایا ہے، اپنی خلافت سے۔ واضافۃ الروح الی نفسہ کا ضافۃ البیت الیہ لتشریف (کبیر) بعض نے اضافت تملی کی قرار دی ہے۔ یعنی وہ روح جو اللہ کی مملوک ہے اے الروح التیھی ملکہ (کبیر) وھی اضافۃ ملک الی مالک وخلق الی خالق تعالیٰ (بحر) 13۔ یعنی ہر طرح کے حواس ظاہری وباطنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ اَلٓمّٓ اس کی مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بلاشبہ یہ کتاب قرآن تمام جہانوں کے پروردگار کیطرف سے نازل کی ہوئی ہے (تنزیل الکتاب) مبتداء ہے (لاشک فیہ) خبر اول ہے (من ربِّ العالمین) خبر ثانی ہے، کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، (نہیں) بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ اس قوم کو ڈرائیں کہ جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، مانافیہ ہے تاکہ وہ آپ کے ڈرانے سے ہدایت حاصل کریں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم سوں ہ . پھر اس کو (اعضاء کی شکل دے کر) ٹھیک کیا۔ ونفک فیہ من روحہ . اور اس میں اپنی روح پھونکی۔ مِنْ رَوْحِہٖ میں اضافت تخلیق انسانی کی عزت و بزرگی کو بتارہی ہے۔ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ انسان کی تخلیق ایسی عظیم الشان ہے جس کی نسبت ایسی چیز کی طرف ہے جس کی نہ کوئی نظیر ہے نہ کوئی کیفیت۔ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ . اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ یعنی پہلے تم نطفہ بےجان تھے ‘ پھر اللہ نے سننے کے لئے کان ‘ دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سمجھنے کے لے دل تم کو عطا کئے تاکہ تم سنو ‘ دیکھو اور سمجھو۔ قلیلا ما تشکرون . تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ یعنی تھوڑا شکر کرتے ہو یا تھوڑے وقت شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور پھر ماں کے پیٹ میں اس کے اعضاء درست کیے اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور تمہارے کان بنائے تاکہ تم ان سے حق اور ہدایت کی باتوں کو سنو اور تمہیں آنکھیں دیں تاکہ حق و ہدایت کو دیکھو اور حق و ہدایت کے سوچنے اور سمجھنے کے لیے دل دیے۔ مگر جتنے میں نے تم پر احسانات و انعامات کیے اس کے مقابلے میں تمہارا شکر کچھ بھی نہیں تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ سَوّٰىهُ : ”سَوّٰی یُسَوِّيْ تَسْوِیَۃً“ برابر کرنا، درست کرنا۔ پھر اس انتہائی چھوٹے سے جرثومے کو ماں کے رحم میں پیوست کیا اور علقہ اور مضغہ کی منزلوں سے بڑھاتے ہوئے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا کر، اسے گوشت پوست پہنا کر، ہر عضو کو اس کی بہتر سے بہتر جگہ رکھ کر ہر طرح سے درست اور مکمل کردیا۔ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ : ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی۔“ مراد اس سے اپنی پیدا کردہ روح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ”لَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ“ ہے، انسان کا شرف بیان کرنے کے لیے اس میں پھونکی جانے والی روح کو اپنی روح قرار دیا۔ کیونکہ ارواح جتنی بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–9

آیت الذی احسن کل شیء خلقہ ابن کثیر، ابو عمر و اور ابن عامر نے اسے رحمۃ اللہ علیہخلقہ لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اسے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے سہولت کی وجہ سے اسے اختیار کیا ہے۔ یہاں فعل ماضی ہے محل جر میں ہے کیونکہ یہ شی کی صفت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے جو معنی مروی ہے وہ یہ ہے : اللہ تعالیٰ نے جس شی کو بھی پیدا کیا اس کو محکم بنایا، یعنی جو ارادہ کیا اس کو لے آیا اس کے ارادہ میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا (1) ۔ ایک دوسرا قول ہے : اللہ تعالیٰ نے جس شی کو بھی پیدا کیا وہ خوبصورت ہے کیونکہ کوئی دوسرا بھی اس کی مثل لانے پر قادر نہیں۔ یہ اس کے خالق ہونے پر دال…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–10

1۔ ابن ابی شیبہ والحکیم والترمذی فی نوادر الاصول وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ اس آیت کی تلاوت کرتے آیت الذی احسن کل شیء خلقہ پھر فرمایا کیا تو نے بندر کی طرف تو نہیں دیکاھ کہ وہ خوبصورت نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کو محکم بنایا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں فرمایا خبردار بندر کی سرین خوبصورت نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کو محکم بنایا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی صورت کو خوبصورت بنایا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت احسن کل…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ سَوّٰىهُ [پھر اس نے نوک پلک درست کی اس کی ] وَنَفَخَ فِيْهِ [اور پھونکا اس میں ] مِنْ رُّوْحِهٖ [اپنی روح میں سے ] وَجَعَلَ لَكُمُ [اور بنایا تمہارے لئے ] السَّمْعَ [سننے (کی صلاحیت) کو ] وَالْاَبْصَارَ [اور آنکھیں ] وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ [اور دل ] قَلِيْلًا [بہت ہی تھوڑا ] مَّا تَشْكُرُوْنَ [تم لوگ شکر کرتے ہو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(ثُمَّ سَوّٰہُ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْءِدَۃَ ) (پھر اللہ نے اس کو ٹھیک طرح بنا دیا یعنی وہیں اندر اندر رحم مادر میں اس کی شکل و صورت بنا دی، اعضاء بنا دئیے پھر اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دی، اس روح کے پھونکے جانے کے بعد جیتی جاگتی تصویر بن گئی، اس تصویر میں کان بھی بنا دئیے اور آنکھیں بھی اور دل بھی) اب جو بچہ باہر آیا تو وہ ہاتھ پاؤں کے اعتبار سے صحیح جاندار سننے اور دیکھنے والا اور اپنے دل کو ادراک اور فہم میں استعمال کرنے والا سامنے آگیا، گو یہ قویٰ اور ادراکات بتدریج نشوونما کے ساتھ ترقی پذیر ہوتے ہیں لیکن ابتداء ہی سے اس پیدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–9

دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی خلق السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ قلیلا ما تشکرون۔ (ربط) اب اثبات رسالت کے بعد دلائل توحید بیان کرتے ہیں اللہ ہی ہے وہ جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے دنیا کے دنوں کے اعتبار سے چھ دن کی مقدار میں پھر وہ قائم اور جلوہ افروز ہوا عرش پر جو اس کی شان الوہیت ہے امت محمد یہ کے تمام سلف اور خلف کا اس پر اجماع ہے کہ عرش اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے نہیں کیونکہ اللہ رب العزت ازلی ہے اور وہ عرش کے پیدا کرنے سے پہلے سے موجود ہے اور عرش اللہ کا مخلوق ہے عقلا یہ محال ہے کہ کوئی عرش اور تخت اللہ کو اپنے اوپر اٹھا سکے اور تھام سکے اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–10

8:۔ وقالوا الخ۔ یہ شکوی ہے۔ مشرکین ایسے ناشکر گزار اور کج فہم ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی قدرت کاملہ اور ایسی نعمت شاملہ کے باوجود حشر و نشر کا انکار کرتے اور کہتے ہیں جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے جسموں کا ذرہ ذرہ مٹی میں مل کر گم ہوجائے گا تو پھر دوبارہ کس طرح زندہ ہوں گے ؟ بل ھم بلقاء الخ وہ نہ صرف بعث و نشور کے منکر ہیں بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے روبرو حساب کتاب کے بھی منکر ہیں ای لیس لھم جحود قدرۃ اللہ عن الاعادۃ لانہم یعترفون بقدرتہ ولکنہم اعتقدوا ان لا حساب علیہم وانہم لا یلقون اللہ تعالیٰ (قرطبی ج 14 ص 92) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–11

پہلے سورة کی ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، اور اس کے بعد رسالت کا ، پھر قرآن کے نزول کی غرض وغایت بیان ہوئی تاکہ ان پڑھ لوگ اس سے ہدایت پائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کمال کا ذکر ہوا ، خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں کو چھ دن کے وقفے سے پیدا کیا ، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا ۔ اس کے سوا تمہارے لئے کوئی حمائتی اور مددگار نہیں ہوگا ۔ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر کرتا ہے ، پھر اس تدبیر کے نتائج ایک دن میں اسکی طرف چڑھتے ہیں اور ایک دن کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ سَوّٰىہُ وَنَفَخَ فِيْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَۃَ۝ 0 ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۝ 9 سوا ( مساوات برابر) الْمُسَاوَاةُ : المعادلة المعتبرة بالذّرع والوزن، والکيل، وتَسْوِيَةُ الشیء : جعله سواء، إمّا في الرّفعة، أو في الضّعة، وقوله : الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ [ الانفطار/ 7] ، أي : جعل خلقتک علی ما اقتضت الحکمة، وقوله : وَنَفْسٍ وَما سَوَّاها [ الشمس/ 7] ، فإشارة إلى القوی التي جعلها مقوّمة للنّفس، فنسب الفعل إليها، وکذا قوله : فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، ( س و ی ) المسا واۃ کے معنی وزن کیل یا مسا حت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ثم سواء ونفخ فیہ من روحہ اس کے ماں کے پیٹ میں اس کو ٹھیک کیا، سر کی جگہ اس گوشت کے لوتھڑے میں سے سربنایا، کان کی جگہ کان ‘ آنکھ کی جگہ آنکھ، ناک کی جگہ ناک ہڈی، پٹھے، بال، کھال ایک تناسب طبعی سے بنائیں اور ہر چیز کو اس اندازہ سے بنایا کہ علم تشریح کے واقف ہونے کے بعد عاقل کو اس بات کا اقرار ہی کرنا پڑتا ہے کہ یہ کسی بڑے مدبر حکیم کا فعل اور بڑے باکمال کی کاریگری ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین اور اس کو ٹھیک کرکے اس میں اپنے ہاں کی روح پھونکی زندہ کردیا۔ من روحہ کے یہ معنی نہیں کہ اللہ نے اپنی روح یعنی اپنی جان کا کوئی ٹکڑا اس میں ڈال دیا، بلکہ یہ معنی وہ روح کہ جو اللہ کی عمدہ اور لطیف چیزوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ سَوّٰہُ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ وَجَعَلَ لَـکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ ط قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 9) (پھر اس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونکی، اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت ہی کم شکرگزار ہوتے ہو۔ ) پہلے انسان کو تو اللہ تعالیٰ نے دست قدرت سے بنایا اور اس کا قالب مختلف دھاتوں اور مٹی سے تیار ہوا اور پھر اس میں روح پھونکی گئی۔ لیکن پھر اس پہلے انسان سے جو سلسلہ توالد و تناسل چلا اس کے لیے حیران کن طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ پانی کی ایک بوند جسے مادہ منویہ کہا جاتا ہے وہ شوہر سے بیوی کے رحم میں منتقل ہونے کے بعد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–9

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ “ نے زمین و آسمان اور ہر چیز بنائی اور پورے کے پورے نظام کو بلا شرکت غیرے چلارہا ہے اسی نے انسان کو مٹی سے بنایا اور ہر چیز کو اس کے مناسب حال نہایت خوبصورت پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی اور پیدا کی ہے اسے نہایت ہی خوبصورت اور متوازن بنایا ہے۔ پھول کی پتیوں کو دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کس قدر بھولی بھالی، پیاری، پیاری اور نہایت ہی دلکش ہوتی ہے پتیوں کی تراش، خراش دیکھو تو یوں لگتا ہے کہ کسی خاص ڈائی سے نکالی ہوئی ہیں رنگت پر نظر پڑتی ہے تو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہی پتی پر رنگ کے کسی شیڈ میں۔ گلاب کی پتی کا ابتدائی حصہ سفیدی لئے ہوئے ہے اوپر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دوسری دلیل : 9: ثُمَّ سَوّٰ ہٗ (پھر اس کے اعضاء درست کئے) جیسا کہ فرمایا فی احسن تقویم ] التین : 4[ وَنَفَخَ (اور اس نے پھونکی) داخل کی۔ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ (اس میں اپنی روح) نحو : اس میں اضافت تخصیص کیلئے ہے گویا اس طرح فرمایا ونفخ فیہ من الشی الذی اختص ہو بہ و بعلمہ اس نے اس میں ایسی شئی پھونک دی جس کے وہ خاص ہے۔ اپنے علم کے ساتھ خاص ہے۔ تیسری دلیل : وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ (اور اس نے کان، آنکھیں اور دل بنا دیے) تاکہ تم سن، دیکھ اور سمجھ سکو۔ قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ (بہت کم شکریہ تم لوگ ادا کرتے ہو) تم شکر کم کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9، ثم سواہ، پھر اس کی خلقت کو برابر کیا۔ ونفع فیہ من روحہ، پھر وہ ذریت کی طرف لوٹے گا اور کہا، وجعل لکم ، اس نطفے کے بعد تمہیں بنایا۔ ، السمع والا بصار والافئدقلیلا ماتشکرون، وہ اپنے رب کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اس کی توحید کا اقرار کم کرتے ہو اور اس کی عبادت کم کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–11

6 تا 11۔ دنیا کے بادشاہوں کے انتظام میں اس واسطے خامی رہ جاتی ہے کہ ان کو آئندہ کا غیب کا حال معلوم نہیں ہوتا برخلاف اس کے دنیا کے پیدا کرنے اور دنیا کی تدبیر کا انتظام الٰہی اس لیے پختہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا اور ایسا زبردست ہے کہ اس نے تمام چیزوں کو زیر کر رکھا ہے اور وہ انے ایمان والے بندوں پر مہربان ہے پھر فرمایا اللہ وہ ہے جس نے ہر چیز کی پیدائش کو اچھا بنایا اور پیدائش آسمان اور زمین کے بعد آدمی کی پیدائش کا اللہ نے ذکر اس طرح فرمایا کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے مراد انسان سے حضرت آدم ( علیہ السلام) ہیں جو سب آدمیوں کے باپ ہیں ان کو اول اللہ تعالیٰ نے مٹی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–9

آیت نمبر : 4 ۔ 9 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : (اللہ الذی خلق السموٰت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام) ” وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔ “ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا ‘ حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے ‘ مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ (ثم استوی علی العرش) ” پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ “ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔ (مالکم من دونہ من ولی) ” اس کے سوا تمہارا کوئی دوست نہیں “ جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

11 انسانی اعضاء وجوارح کا تسویہ بطن مادر کے اندھیروں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس نے اس کو برابر کردیا یعنی بطن مادر کے تہ در تہ اندھیروں میں اور اس طرح کہ اس میں کسی اور کا کوئی اثر اور عمل دخل نہیں ہوتا یہاں تک کہ خود اس ماں کو بھی کچھ خبر تک نہیں ہوتی جس کے پیٹ کے اندر اس قدر حکمت اور باریکی کے ساتھ جنین کی یہ صورت گری ہو رہی ہوتی ہے۔ بلکہ یہ سب کچھ وہ قادر مطلق تنہا اور خود بخود کرتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { ہُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَائُ } ۔ (آل عمران : 6) یعنی " وہ اللہ وہی ہے جو تمہاری صورت گری فرماتا ہے جیسے چاہتا ہے "۔ اور "…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–9

آسمان و زمین اور انسان کی تخلیق کے دلائل تشریح : ” آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا چھ دن میں کرنا “ قرآن پاک میں سات دفعہ آیا ہے۔ تفسیر کبیر میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔ ” دن صرف زمانہ کو ظاہر کرنے کیلئے بولا گیا ہے۔ ورنہ آسمانوں کے پیدا ہونے سے پہلے نہ رات تھی نہ دن تھا اور یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی کہے میں فلاں دن پیدا ہوا، حالا ن کہ ممکن ہے کہ رات کو پیدا ہوا ہو۔ ایسا کہنے کا مطلب صرف زمانہ ہے جس میں وہ پیدا ہوا۔ (تفسیر سورة سجدہ) یہاں تخلیق کے چھ دن سے مراد صرف وہ تخلیقی مدت ہے جو آسمانوں اور زمین کے بنانے میں صرف ہوئی۔ اس طرح یہ کہا گیا کہ ” آخرت کا ہر دن ہزار سالوں کے برابر ہے “۔ مطلب صرف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة السجدہ آیات 1 تا 11 اسرارومعارف نزول کتاب ربویت کا تقاضا ہے : اس کتاب کا نازل ہونا حق ہے یہ کوئی دھوکہ نہیں۔ اللہ رب العزت جو سارے جہانوں کے رب ہیں ان کی ربویت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو جسمانی رزق کے ساتھ اس کی روحانی ضروریات بھی پوری فرمائے لہذا یہ اس کی طرف سے ہے اور اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ آپ ﷺ سے قبل عربوں کے پاس کوئی نبی نہ آیا تھا : اگرچہ کفار تو کہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے مگر یہ حق ہے اور ایسی قوم کے لیے کہ جس کے پاس پہلے کوئی نبی یا رسول کفر کے انجام بد سے باخبر کرنے مبعوث نہ ہوا تھا۔ نیز صحابہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں : نازل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–11

ف 5 یعنی تم اپنے آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے، ایسا نہیں بلکہ تم جان ہو جسے فرشتے لے جاتا ہے بالکل فنا نہیں ہوجاتے۔ (موضح) ۔ موت کے فرشتہ کا نام بعض آثار میں ” عزرائیل “ آیا ہے اور یہی مشہور ہے۔ حدیث میں ہے کہ ” ملک الموت “ کے بہت سے نائب اور مددگار ہیں جو تمام جسموں سے روحیڈ نکالتے ہیں اور جب وہ گلے تک پہنچتی ہیں تو موت کا فرشتہ انہیں لے لیتا ہے۔ ( ابن کثیر)6 تاکہ تمہارے اعمال کا جائزہ لیا جائے پھر اگر وہ اچھے ہوں تو تمہیں جزا دی جائے اور اگر برے ہوں تو سزا دی جائے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(32:9) سوہ : سوی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ سوی یسوی تسویۃ (تفعیل) مصدر سے۔ کسی چیز کو بلندی و پستی میں برابر بنانا۔ برابر کرنا۔ پورا پورا بنانا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان کی طرف راجع ہے۔ (پھر) اس نے اس کو درست کیا۔ مکمل کیا۔ نفخ۔ ماضی واحد مذکر غائب نفخ (نصر) مصدر سے۔ اس نے پھونکا۔ نفخۃ ایک پھونک۔ ایک بار پھونکنا۔ نفخ سے مراد ہے کہ پہلے بےجان تھا پھر اس کو زندہ اور حساس بنادیا۔ من روحہ۔ اپنی روح سے۔ تفسیر ماجدی میں ہے کہ :۔ روحہ میں اضافت تشریفی ہے اظہار تعظیم کے لئے جیسے بیت اللہ میں گھر کی اضافت اللہ کی طرف ہے۔ یہ مراد نہیں کہ نعوذ باللہ اللہ کی بھی کوئی روح ہے اور اس کا کوئی جزو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 4–11

لغات القرآن آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ستتہ (چھ (چھ مدتیں) ۔ استوی (برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ ٹھہرا) ۔ یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے) ۔ الامر (حکم۔ بات۔ کام) ۔ یعرج (وہ چڑھتا ہے) ۔ الف سنتہ (ایک ہزار سال) ۔ طین (مٹی) ۔ سللتہ (ست نچوڑ) ۔ یتوفی (وہ موت دیتا ہے) ۔ وکل (سپرد کیا گیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ” سورة السجد کی آیت نمبر ا تا 3 میں آپ نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو پوری طرح آگاہ کردیا جائے جن کے پاس صدیوں سے کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ جس اللہ نے اس قرآن جیسی کتاب کو نازل کیا ہے بتایا جارہا ہے کہ اس کی شان یہ ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–12

(ف 2) ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اب تو منکرین حشر دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے منکر ہیں لیکن جب مرتے ہی ان کو حشر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اس نتیجہ کے ظہور کے لیے یہ لوگ اللہ کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو ان کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ وہ اپنے رب کے روبرو حقیر ہو کھڑے ہوں گے اور شرم کے مارے گردنوں کو جھکا کر کے زبان سے کہیں گے اے رب ہمارے ہم نے دیکھا اور سنا اب ہم تیرے حکم کو مانتے ہیں دیکھا اور سنا کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا، اور رسولوں کے بیان کی صداقت سن لی، پھر کہیں گے ، اب ہم کو دنیا میں پھر بھیج دیاجائے تاکہ ہم اچھے عمل کریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[7] یعنی شکل، صورت، اعضاء موزوں و متناسب رکھے۔ [8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 14 صفحہ 598۔ [9] روح پھونکنے تک انسان کا ذکر صیغہ غائب میں کیا جاتا رہا اس لئے کہ وہ خطاب کے لائق نہ تھا۔ روح پھونکنے کے بعد جب وہ اس قابل ہوا کہ اس سے خطاب کیا جائے تو اس سے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے تم کو کان، آنکھیں اور دل دئیے۔ یہ ایک لطیف انداز بیان ہے۔ کان اور آنکھوں سے مراد وہ ذرائع ہیں جن سے انسان علم حاصل کرتا ہے اگرچہ حصول علم کے ذرائع لامسہ اور شامہ بھی ہیں لیکن سماعت اور بینائی تمام دوسرے حواس سے زیادہ بڑے اور اہم ذرائع ہیں۔ '' دل '' سے مراد وہ ذہن ہے جو حواس کے ذریعے سے حاصل شدہ معلومات کو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–9

ملک الموت 1: مکہ والوں کو دو عقیدوں سے بہت زیادہ اختلاف تھا ۔ ایک تو یہ کہ خدا ایک ہے اور سب انسانوں کو اس ایک خدا کے سامنے جھکنا چاہیے ، دوسرا یہ کہ مرنے کے بعد ہر شخص پھر زندہ ہوگا ۔ اور اللہ کے حضور میں پیش کیا جائے گا ۔ چناچہ قرآن حکیم کہتا ہے ۔ بل ھم یھا ی ربھم کفرون ۔ کہ یہ لوگ پروردگار کے سامنے جانے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ کہ یہ ناممکن ہے ۔ اس آیت میں ان کی اس غلط فہمی کو دور فرمایا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ فرشتہ موت وقت مقررہ پر ضرور تمہاری روحوں کو قبض کریگا ۔ مگر پھر تم رب ذوالجلال کی طرف ضرور لوٹوگے ۔ اور اپنے اعمال کے متعلق جواب دوگے ۔ یہ یاد رہے کہ موت کے ظاہری اسباب و طبعی وجہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

9۔ پھر اس کو برابر کیا اور اس کے اعضا کو درست کیا اور درست اندام کیا اور اس میں اپنی روح کو پھونکا اور داخل کیا اور تمہارے نفع کیلئے تم کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے تم لوگ بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو ۔ یعنی اعضاء میں تناسب رکھا اور درست اندام بنایا روح چونکہ اس کی طرف سے ہے اس لئے اس کی شرافت اور عزت کیلئے اپنی روح فرمایا۔ پھر آنکھیں اور کان اور دل دیئے تاکہ دیکھو اور آیات تنزیلیہ سنو اور دل سے سمجھ کر ایمان لائو اور اس کی توحید کا اقرار کرو مگر تم لوگ بہت ہی کم شکرادا کرتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اپنی جان میں سے جو مخلوق ہے اسی کا مال ہے مگر جسکو عزت دی اس کو اپناکہا۔ جیسے ان عبادی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قدرت کی کرشمہ سازیوں کا ذکر کہ کس طرح اس میں سماعت و بصارت رکھ دی : 9۔ تخلیق نسل انسانی کی ابتداء کیا تھی ؟ (ماء مھین) تھا جو خود کمزور ہے اور انسان کو کمزور کرتا ہے جو خود ذلیل ہے اور انسان کو ذلیل کرتا ہے ‘ جو خود رسوا ہے اور انسان کو رسوا کرتا ہے پھر کیا شان خداوندی ہے کہ اس نے اسی پانی سے انسان کو درست کردیا فطری طور پر اس کا رحم مادر تک پہنچنا تھا کہ اس پر عجیب قسم کا فطری عمل شروع ہوگیا اور اس میں عجیب و غریب تبدیلیاں وقوع پذیر ہونا شروع ہوگئیں اور یہ نہ دکھائی دینے والا جرثومہ چند دنوں میں ایک لوتھڑے کی شکل اختیار کر گیا ‘ وہ کیا تھا ایک تھرتھراتا ہوا پانی اور خون کا آمیزہ جو ایک جھلی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–10

Everything is good in this world. Evil comes through its wrong use. In verse 7, it was said: الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ "Who made well whatever He created good”. The reason is that Allah Ta’ ala has made whatever He has created in this world under the dictate of His wisdom, and under the essential consideration of what is beneficial for the whole system. Therefore, everything has a beauty of its own. And the most beautiful and better than all is the making of man as it was said: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (Surely, We did create man in the best of symmetry…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 "Shaped him": developed him from a microscopic organism into a full-fledged human being and perfected him with limbs and other organs of the body. 16 "Spirit" dces not merely imply the life because of which a living thing moves, but the essential human characteristic which imbues man with consciousness and thought, discretion and judgement, discernment, -and discrimination, by virtue of which he is distinguished from all other earthly creations and becomes possessor of a personality and self and worthy of Allah's vicegerency. Allah has called this "Spirit" His own either because it belongs…

Read the full tafseer →