32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsانوار البیان

Ayahs 32:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے

(32:2) تنزیل الکتاب لاریب فیہ من رب العلمین ۔ اس کی ترکیب میں چند اقوال ہیں :۔ (1) تنزیل مصدر (نزل ینزل سے) بمعنی منزل اور یہ خبر ہے مبتدا محذوف کی ای ھذا تنزیل ۔۔ الخ۔ (2) تنزیل مبتدا ہے اور لا ریب فیہ اس کی خبر ہے اور من رب العالمین حال ہے فیہ کی ضمیر کا۔ یا من رب العلمین خبر ہے اور کا ریب فیہ جملہ معترضہ ہے۔ (3) الم : سورة م ہے اس سے پہلے مبتدا (ھذا) محذوف ہے یہ الم اس کی خبر ہے۔ تنزیل الکتاب خبرثانی لا ریب فیہ خبر ثالث۔ اور من رب العلمین خبر رابع ہے۔ وغیرہ ۔۔ وغیرہ ۔۔ تنزیل الکتاب مضاف مضاف الیہ اس کتاب کا نزول۔ فیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع جملہ کا مضمون ہے کانہ قیل لا ریب فی ذلک ای فی کونہ منزلا من رب العلمین یعنی اس کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو ازخود بنا لیا ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ راستے پر چلیں

(32:3) ام۔ کبا۔ یا۔ خواہ۔ یہاں بمعنی بل (حرف اضراب) آیا ہے۔ یعنی یہ منکرین و کافرین نہ صرف اس کے منزل من اللہ ہونے میں شک کرتے ہیں بلکہ وہ تو اس سے بھی بڑھ کر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ یہ افتراء (من گھڑت) ہے۔ افترہ : افتری ماضی واحد مذکر غائب افتری یفتری افتراء (افتعال) مصدر سے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب الکتب کی طرف راجع ہے اس نے اس (کتاب) کو خود گھڑ لیا ہے ۔ بل۔ حرف اضراب ہے۔ یہاں اضراب انکار سے اثبات کی طرف ہے یعنی ان کا شک کرنا یا اس کو من گھڑت قرار دینا غلط ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تیرے پروردگار کی طرف سے یہ الحق ہے۔ ال استغراق کا ہے۔ لتنذر۔ میں لام تعلیل کا ہے ای انزلہ لتنذر اس نے اس کتاب کو نازل فرمایا تاکہ آپ ڈرائیں (اس قوم کو) تنذر مضارع منصوب (بوجہ لام تعلیل) صیغہ واحد مذکر حاضر۔ (تاکہ) تو ڈرائے۔ انذار (افتعال) مصدر۔ ما اتہم : ما نافیہ ہے۔ اتی ماضی واحد مذکر غائب ۔ اتیان مصدر سے اتی یاتی (ضرب) ہم ضمیر جمع مذکر غائب اس کا مرجع قوما ہے نہیں آیا ان کے پاس کوئی (نذیر) یعنی اس قوم کے پاس (کوئی ڈرانے والا) نہیں آیا۔ قوم سے مراد اہل عرب اور خاص کر قوم قریش ہے۔ تفسیر الماجدی میں ہے :۔ قوم قریش اسماعیلی تھی ۔۔ دین ابراہیمی و اسماعیلی چھوڑنے کے بعد جب سے یہ قوم عرب میں آباد ہوکر کفرو شرک میں مبتلا ہوگئی تھی۔ اس وقت سے ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ امام المفسرین امام رازی سے یہی تفسیر مفعول ہے۔ ولامہ مودودی رقمطراز ہیں :۔ اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس قوم میں کبھی کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا تھا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مدت دراز سے یہ قوم ایک متنبہ کرنے والے کی محتاج چلی آرہی تھی۔ لعلہم یھتدون۔ اس کی تفسیر میں صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ بغوی نے اپنی تفسیر میں واقدی سے نقل کیا ہے کہ قرآن کریم میں جہاں بھی لعل استعمال ہوا ہے اس کا مقصد علت بیان کرنا ہے یعنی آپ کے ڈرانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ہدایت پاجائیں اور جن لوگوں نے بعض مقامات پر لعل کو ترجی یعنی آرزو اور امید کے معنی میں استعمال کیا ہے تو وہ آرزو متکلم یا مخاطب کی طرف سے ہوگی کیونکہ یہ جہالت کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے۔ مطلب یہ کہ :۔ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ہے ۔ اور اس مقصد کے لئے نازل کی گئی ہے کہ تو مشرکین کو شرک و کفر کے مآل سے ڈرائے تاکہ تیرے ڈرانے سے وہ ہدایت پائیں۔
Ayahs 32:4–5

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا اس کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے ؟

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہی آسمان سے زمین تک (کے) ہر کام کا انتظام کرتا ہے پھر وہ ایک روز جس کا مقدار تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگی اس کی طرف صعود (اور رجوع) کرے گا

(32:5) یدبرـ دبر یدبر تدبیر (تفعیل) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب التدبیر کے معنی ہیں کسی معاملہ کے انجام پر نظر رکھئے ہوئے اس میں غور و فکر کرنا۔ جیسے التدبیر کے معنی ہیں کسی معاملہ کے انجام پر نظر رکھتے ہوئے اس میں غور و فکر کرنا۔ جیسے فالمدبرات امرا (79:5) پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہوئے۔ یدبر وہ انتظام کرتا ہے وہ تدبیر کرتا ہے۔ (ہرامر کی) من السماء الی الارض۔ آسمان سے زمین تک۔ مراد تمام کائنات ہے۔ یعرج مضارع واحد مذکر غائب عرج یعرج عروج (نصر) مصدر سے۔ وہ چڑھتا ہے۔ یا وہ چڑھیگا۔ یا لوٹے گا۔ اس کا فاعل امر ہے یعنی ہر امر آغاز سے انجام تک اپنی تمام روئداد سمیت قیامت کے روز خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوگا۔ اور وہ ذات باری تعالیٰ ان کے متعلق فیصلہ فرمائے گی۔ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ۔ اس دن جس کی مقدار (تمہارے شمار کے مطابق) ایک ہزار سال ہوگی۔ ایک اور جگہ آیا ہے فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ (70:40) وہ دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ مراد روز قیامت کی طوالت کو ذہن نشین کراتا ہے۔ مما تعدون ۔ مما، من اور ما سے مرکب ہے تعدون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر عد یعد (نصر) عد مصدر سے۔ جو تم شمار کرتے ہو۔ یا گنتے ہو۔
Ayah 32:6

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہی تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا (اور) غالب (اور) رحم والا (خدا) ہے

(32:6) ذلک۔ یہ۔ یہی۔ ذلک علم الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم۔ یہ ہے (یعنی ان خوبیوں کا مالک (جو اوپر بیان ہوئیں) وہ عالم الغیب الشہادۃ العزیز الرحیم ۔ جو غیب اور ظاہر کا جاننے والا۔ سب پر غالب اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 32:7

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا

(32:7) احسن۔ اس نے اچھا بنایا۔ اس نے اچھا کیا۔ اس نے احسان کیا۔ احسان (افعال) مصدر کل شیء مضاف مضاف الیہ مل کر احسن کا مفعول۔ خلقہ میں ہ ضمیر کا مرجع شیء ہے جملہ خلقہ محل جر میں شئے کی صفت ہے الذی احسن کل شیء خلفہ جس نے جو چیز بنائی بہت خوب بنائی ہے۔ بدا۔ اس نے شروع کیا۔ اس نے ابتدا کی۔ اس نیے پہلی مرتبہ کیا۔ طین۔ مٹی ۔ گارا۔ مٹی اور پانی دونوں کا آمیزہ طین ہے۔ خلق الانسان۔ مضاف مضاف الیہ۔ انسا کی پیدائش۔ بدا خلق الانسان من طین۔ اس نے انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا ۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اسکی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی

(32:8) نسلہ۔ اس کی نسل۔ انسان کی نسل۔ سللۃ اسم مشتق ہے سل یسل سل (باب نصر) سے مصدر۔ سل الشیء من الشیء ایک چیز کا دوسری چیز سے کھینچ لینا۔ جیسے تلوار کا نیام سے سوتنا۔ یا گھر سے چوری چیز کھسکالینا۔ باپ کے نطفہ کو بھی سللۃ اسی نسبت سے کہتے ہیں۔ سللۃ نچوڑی ہوئی نچوڑ۔ خلاصہ۔ جوہر۔ ماء مہین موصوف وصفت۔ مھین ھون سے اسم مفعول ہے اصل میں مھیون تھا۔ بمعنی حقیر چیز۔ من سللۃ من ماء مھین۔ ایک جوہر سے (یعنی) حقیر پانی سے۔ دوسرا من بیانیہ ہے۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اسکو درست کیا پھر اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم بہت کم شکر کرتے ہو

(32:9) سوہ : سوی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ سوی یسوی تسویۃ (تفعیل) مصدر سے۔ کسی چیز کو بلندی و پستی میں برابر بنانا۔ برابر کرنا۔ پورا پورا بنانا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان کی طرف راجع ہے۔ (پھر) اس نے اس کو درست کیا۔ مکمل کیا۔ نفخ۔ ماضی واحد مذکر غائب نفخ (نصر) مصدر سے۔ اس نے پھونکا۔ نفخۃ ایک پھونک۔ ایک بار پھونکنا۔ نفخ سے مراد ہے کہ پہلے بےجان تھا پھر اس کو زندہ اور حساس بنادیا۔ من روحہ۔ اپنی روح سے۔ تفسیر ماجدی میں ہے کہ :۔ روحہ میں اضافت تشریفی ہے اظہار تعظیم کے لئے جیسے بیت اللہ میں گھر کی اضافت اللہ کی طرف ہے۔ یہ مراد نہیں کہ نعوذ باللہ اللہ کی بھی کوئی روح ہے اور اس کا کوئی جزو انسان کے اندر پھونک دیا گیا۔ مراد وصرف یہ ہے کہ وہ روح جسے اللہ نے معزز و مکرم بنایا ہے اپنی خلافت سے۔ نفخ فیہ من روحہ اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی۔ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ۔ اور تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنا دئیے۔ یہاں التفات ضمائر ہے غیبت سے خطاب کی طرف۔ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں :۔ اول : یہ کہ اس نے انسان بےجان میں اپنی طرف سے روح پھونک کر جان ڈال دی۔ اس کو اپنی خلافت کا شرف بخشا تو اس کو اس قابل بنادیا کہ اس سے براہ راست خطاب کیا جائے۔ دوم : اپنے احسان و کرم بخشش کو انسان پر واضح کرنے اور اس کے ذہن نشین کرانے کے لئے اس سے براہ راست خطاب کیا۔ قلیلا ما تشکرون ۔ اس میں ما زائدہ مؤکدہ ہے قلت کی تاکید میں ہے۔ قلیلا صفت ہے شکرا کی جو محذوف ہے ای شکرا قلیلا تشکرون ۔ او تشکرون شکرا قلیلا (بیضاوی) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ یہ جملہ معترضہ ہے ہوسکتا ہے کہ جملہ حالیہ ہو۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جب ہم زمین میں ملیا میٹ ہوجائیں گے تو کیا ازسر نو پیدا ہوں گے حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جانے ہی کے قائل نہیں

(32:10) ی اذا۔ کیا جب۔ ضللنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ضللنا فی الارض ای ضعنا فیہا بان صرنا ترابا مخلوطا بترابھا بحیث لا نتمیز منہ۔ ہم زمین میں رل مل گئے اور مٹی ہوکر اس کی مٹی میں خلط ملط ہوگئے کہ پہچانے ہی نہ جاسکیں۔ ضل یضل (ضرب) ضلال و ضلال مصدر۔ ء انا۔ تو کیا ہم انکار میں تاکید پیدا کرنے کے لئے آیا ہے۔ لفی خلق جدید : ایء نبعث فی خلق جدید تو کیا ہم نئے جنم میں اٹھائے جائیں گے یا نئے سرے سے پیدا کئے جاویں گے بل ہم بلقای ربھم کفرون ۔ بل حرف اضراب ہے۔ یعنی نہ صرف یہ بعث بعد الموت کے منکر ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ تو اپنے رب سے ملاقات کے ہی منکر ہیں۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے

(32:11) یتوفکم۔ مضارع واحد مذکر غائب توفی (تفعل) مصدر سے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تمہاری جانوں کو لے لیگا۔ تمہاری جان قبض کرے گا۔ وکل۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب توکیل (تفعیل) مصدر۔ مقرر کردیا گیا ہے۔ ذمہ دار بنادیا گیا ہے۔ وکیل نگران ۔ نگہبان، ضامن ۔ ذمہ دار۔
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور (تم تعجب کرو) جب دیکھو کہ گنہگار اپنے پروردگار کے سامنے سر جھکائے ہوں گے اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے کہ نیک عمل کریں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں

(32:12) لو تری۔ یہاں لو بطور حرف تمنائی استعمال ہوا ہے۔ کاش تو دیکھے۔ المجرمون سے مراد وہ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیںء اذا ضللنا فی الارض ۔۔ الخ۔ ناکسوا رؤسھم : ناکسوا اسم فاعل جمع مذکر۔ نکسر (باب نصر) مصدر سے اصل میں نکسون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون گرگیا۔ مضاف۔ سروں کو جھکانے والے رؤسھم مضاف مضاف الیہ مل کر ناکسوا کا مضاف الیہ۔ اپنے سروں کو جھکانے والے۔ ناکش واحد۔ سر جھکانے والا۔ ربنا ۔۔ موقنون : ای یقولون ربنا ۔۔ الخ جملہ حالیہ ہے یعنی جب مجرمین اپنے رب کے حضور سر جھکائے ہوئے ہوں گے اور حال ان کا یہ ہوگا کہ وہ کہہ رہے ہوں گے ربنا ۔۔ موقنون۔ ابصرنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ابصار (افعال) مصدر سے۔ ہم نے دیکھ لیا (اپنی آنکھوں سے) وسمعنا اور ہم نے سن لیا (اپنے کانوں سے) ۔ یعنی اب اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور اپنے کانوں سے سن کر ہم جان گئے ہیں کہ تیرے سارے وعدے اور وعیدیں۔ تیرے رسل اور ان کے ارشادات سب سچے تھے اور ہم ہی دنیا میں اندھے اور بہرے تھے کہ حقیقت کو نہ پاسکے۔ فارجعنا : ای فارجعنا الی الدنا۔ لعمل۔ مضارع مجزوم جمع متکلم مجزوم بوجہ جواب امر۔ فارجعلنا نعمل صالحا۔ پس تو (ایک بار) ہمیں واپس (دنیا میں) بھیج دے۔ ہم (ضرور) نیک عمل کریں گے۔ انا موقنون ۔ اسم فاعل جمع مذکر موقن واحد۔ ایقان (افعال) مصدر یقین کرنے والے۔ یعنی اب ہم کو یقین آگیا ہے۔ (کیونکہ ہم نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اور اپنے کانوں سے سن لیا ہے) ۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا

(32:13) ولو شئنا۔ میں نا ضمیر جمع متکلم اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ شئنا ماضی جمع متکلم شاء یشاء (سمع) شاء اصل میں شیء تھا۔ ی متحرک ما قبل مفتوح ہے اسلئے ی کو الف سے بدلا گیا۔ شائہوگیا اس کا مصدر مشیئۃ (چاہنا) ۔ ولو شئنا۔ اور اگر ہم چاہتے لاتینا۔ میں لام تاکید لو کا جواب میں ہے۔ اتینا۔ ماضی جمع متکلم ہم نے دیا۔ ہم نے بخشاء ایتاء (افعال) مصدر۔ (اگر ہم چاہتے) تو ہم عطا کردیتے۔ ھدھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی ہدایت۔ اس کی (راہ) ہدایت۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔ حق۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس کا فاعل القول ہے۔ حق یحق حق وحقۃ (باب ضرب) سے ثابت ہونا۔ یقینی ہونا یعنی میرا یہ قول یقینی ہے۔ یا محقق ہوچکا ہے۔ لاملئن ۔۔ اجمعین ۔ یہ ہے وہ قول۔ لاملئن مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ تاکید۔ ملأ یملأ سلأ مصدر سے (باب فتح) بھرنا۔ مل مادہ۔ میں ضرور بھر دوں گا۔ مملوء بھرا ہوا۔ الجنۃ والناس۔ میں الف لام عہد کا ہے۔ مراد ہے جنوں اور انسانوں میں سے سرکش اور باغی۔ جیسا کہ شیطان کے قول : فیعزتک لاغوینھم اجمعین الا عبادک منھم المخلصین (38:84-85) کے جواب میں ارشاد باری تعالیٰ ہے قال فالحق والحق اقول لا ملئن جھنم منک وممن تبعک منہم اجمعین (38:84-85) یعنی اے شیطان ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میرے بندوں سے جو بھی تیری تابعداری کرے گا۔ میں ان سب کو تیرے سمیت جہنم میں بھردونگا۔
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو (اب آگ کے) مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا (آج) ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے اور جو کام تم کرتے تھے انکی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھتے رہو

(32:14) ذوقوا (ای یقول لہم اللہ۔ اللہ تعالیٰ سن سے کہیگا) ۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ذوق مصدر (باب نصر) چکھنا۔ العذاب۔ عذاب بھگتنا۔ فذوقوا۔ پس (اب) چکھو (سزا) ۔ بما نسیتم لقاء یومکم ھذا۔ میں ب سببیہ ہے ما مصدریہ ہے ھذا یوم کی صفت ہے ذوقوا کا مفعول (العذاب) محذوف ای فذوقوا العذاب بسبب نسیانکم لقاء ھذا الیوم۔ یعنی آج کے دن کی ملاقات بھلا کر سبب سے عذاب کا مزہ چکھو۔ نسینکم۔ ماضی جمع متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ نسیان بھلا دینا۔ فراموش کردینا۔ یا ترک کردینا اور نظر انداز کردینا۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو ترک کرنے اور نظر انداز کرنے کے معنہ میں آئیگا کیونکہ بھولنا ایک انسانی عیب ہے اور ذات باری تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے۔ انا نسینکم تحقیق ہم نے تمہیں نظر انداز کردیا ہے اور اپنی رحمتوں سے محروم کردیا ہے۔ عذاب الخلد۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمیشہ کا عذاب۔ بما۔ ب سببیہ ہے اور ما موصولہ ۔ بسبب ان (اعمال) کے (جو تم کرتے تھے) ۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے

(32:15) ذکروا۔ بما ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ تذکیر (تفعیل) مصدر سے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اتینا کی طرف راجع ہے (جب ان کو ہماری آیات یاد کرائی جاتی ہیں یا سمجھائی جاتی ہیں۔ خروا۔ ماضی مجہول (بمعنی حال) جمع مذکر غائب۔ خر یخر (ضرب) خر مصدر سے وہ گرپڑتے ہیں۔ خر کا اصل معنی کسی چیز کا آواز کے ساتھ نیچے گرنا ہے۔ یہاں خروا کا لفظ دو معنوں پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی :۔ (1) گرنا۔ (2) ان سے تبیح کی آواز کا آنا۔ اور اس کے بعد وسبحوا بحمد ربہم سے تنبیہ کی ہے کہ ان کا سجدہ ریز ہونا اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ساتھ ہوتا ہے نہ کسی اور امر کے ساتھ۔ سجدا : ساجد کی جمع ہے حالت نصب۔ سجدہ کرنے والے۔ نصب بوجہ حال ہونے کے ہے۔ یعنی سجدہ کرتے ہوئے گرپڑتے ہیں۔ وسبحوا بحمد ربھم۔ یہ جملہ معطوف ہے اور اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ سبحوا ماضی جمع مذکر غائب (بمعنی حال) وہ تسبیح کرتے ہیں۔ وہ پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ تسبیح (تفعیل) مصدر۔ سبحان اللہ کہنا۔ پاکی بیان کرنا۔ بحمد ربھم میں ب ۔ ملابستہ یا باء المصاحبۃ کی ہے اور المجار والمجرور موضع حال میں ہے۔ یعنی وہ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں مع اس کی حمد وثناء کرنے کے۔ وہم لایستکبرون ۔ جملہ حال ہے خروا یا سبحوا کی ضمیر فاعل سے۔ اور وہ تکبر و غرور نہیں کرتے۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

(32:16) تتجافی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ تجافی (تفاعل) مصدر سے جس کے معنی جگہ سے دور ہونے کے ہیں ۔ جگہ سے علیحدہ ہونا۔ الگ ہونا۔ کہتے ہیں۔ تجافی السرج عن ظھر الفرس۔ زین گھوڑے کی پیٹھ سے ہٹ گئی۔ تجافی جنبہ عن الفراش اس کا پہلو بستر ست دور رہا۔ جنوبھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ جنوب، جنب کی جمع۔ ان کے پہلو۔ المضاھع۔ اسم ظرف مکان جمع۔ المضجع واحد ۔ خوابگا ہیں۔ بستر۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع۔ ان کے پہلو اپنے بستروں سے دور رہتے ہیں۔ بمصداق ؎ بہ نیم سب کہ ہمہ مست خواب خوش باشد من و خیال تو و نالہ ہائے درد آلود یدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب دعاء و دعوۃ مصدر۔ دعا یدعوا۔ باب نصر، وہ پکارتے ہیں۔ ضمیر جنوبھم سے حال ہے خوفا وطمعا۔ دونوں ضمیر یدعون سے حال ہیں۔ خائفین من عذابہ وسخطہ وعدم قبول عبادتھم وطمعا فی رحمتہ اس کے عذاب اور غضب سے ڈرتے ہوئے اور اپنی عبادت کے عدم قبولت کے ڈر سے اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے۔ ینفقون۔ مضارع جمع مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر۔ وہ خرچ کرتے ہیں (نیکی کے کاموں میں) ۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے

(32:17) فلا تعلم نفس میں فاء فصیحت کے لئے ہے لا تعلم نفس نہیں جانتی کوئی جان۔ یعنی کوئی شخص نہیں جانتا۔ کسی کو علم نہیں۔ ما اخفی۔ میں ما موصولہ ہے اخفی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ صلہ جو کچھ چھپا رکھا ہے۔ جو کچھ چھپایا ہوا ہے۔ ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ کیا چھپا رکھا ہے۔ یاء کیا چھپایا ہوا ہے۔ فھم میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہ مؤمنین ہیں جن کی صفت آیات 15-16 میں بیان ہوئی ہیں۔ قرۃ اعین۔ مضاف مضاف الیہ ۔ آنکھوں کی ٹھنڈک ۔ قرۃ قر سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ٹھنڈک کے ہیں ۔ مثلاً قرت لیلتنا۔ رات کا ٹھنڈا ہونا۔ قر فلان فلاں کو سردی لگ گئی۔ قرت عینہ آنکھ کا ٹھنڈا ہونا۔ مراد خوشی حاصل ہونا۔ قرآم مجید میں ہے کی تقرعینھا (20:4) تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اور جسے دیکھ انسان کو خوشی حاصل ہوا اسے قرۃ عین کہا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ قرار سے مشتق ہے اور معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز بخشے جس سے اس کی آنکھ کو سکون حاصل ہو یعنی اسے دوسری چیز کی حرص نہ رہے۔ جملہ کا ترجمہ یوں ہوگا :۔ کوئی متنفس نہیں جانتا جو (نعمتیں) ان کے لئے چھپا رکھی ہیں جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ یا آنکھوں کی ٹھنڈک ٹھنڈک نصیب ہوگی۔ جزائ۔ مصدر ہے اور فعل محذوف کے بعد تاکید کے لئے لایا گیا ہے اصل میں جزوا جزاء بما کانوا یعملون ۔ ان کے اعمال کا ان کو صلہ دیا جائے گا۔ بما میں ب سببیہ ہے اور ما موصولہ بمعنی الذی۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو ؟ دونوں برابر نہیں ہوسکتے

(32:18) مومنا وفاسقا بوجہ خبر کان منصوب ہیں۔ فاسق فسق یفسق (ضرب) وفسق یفسق (نصر) اور فسق یفسق (کرن) فسق و فسوق سے اسم فاعل واحد مذکر ہے (لیکن مؤمنا وفاسقا سے یہاں مراد طبقہ مومنین و طبقہ فاسقین ہے) ۔ فسق فلان کے معنی کسی شخص کے دائرہ شریعت سے نکل جانے کے ہیں۔ یہ فسق الرطب (کھجور پک کر اپنے چھلکے سے باہر نکل آئی) سے ماخوذ ہے۔ شرعا فسق کا مفہوم کفر سے اعجم ہے کیونکہ فسق کا لفظ چھوٹے اور بڑے ہر قسم کے گناہ کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اگرچہ عرف میں بڑے گناہوں کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے ۔ اور عام طور پر فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام و اقرار کرنے کے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔ اور کافر حقیقی پر فاسق کا لفظ اس لئے بولا جاتا ہے کہ وہ حکم عقل یا فطرت کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ کمن میں کاف تشبیہ کے لئے ہے۔ یستو ون : استوی یستوی استواء (افتعال) مصدر سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب لا یستو ون وہ برابر نہیں ہیں ۔ پہلے جملہ کے جواب میں آیا تھا کہ کیا وہ جو مومن ہے وہ اس جیسا ہے جو فاسق ہے ؟ جواب ہے ۔ نہیں۔ وہ یکساں نہیں ہوسکتے اگر پہلا جملہ استفہام انکاری کے معنوں میں لیا جائے تو یہ انکار مزید تاکید کے لئے ہوگا۔ جملہ سابقہ میں مؤمنا اور فاسقا سے مراد طبقہ مؤمنین اور طبقہ فاسقین ہے۔ لہذا اس رعائت سے جمع کا صیغہ لایا گیا ہے۔
Ayah 32:19

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے (رہنے کے) لئے باغ ہیں یہ مہمانی ان کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے

(32:19) اما۔ لیکن ، سو۔ یہاں بطور حرف شرط آیا ہے اس صورت میں اما الذین امنوا وعملوا الصلحت شرط۔ اور فہم جنت الماوی جواب شرط ہے۔ اس کی مثال ہے فاما الذین امنوا فیعلمون انہ الحق من ربہم (2:26) اما کے حرف شرط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد حرف فاء کا آنا لازم ہے۔ جنت الماوی۔ مضاف مضاف الیہ۔ جنت جمع جنۃ کی۔ الماوی اسم ظرف۔ مقام سکونت۔ ٹھکانا۔ ال تعریف کا ہے۔ لانھا المسکن الحقیقی کیونکہ حقیقی ٹھکانہ وہی ہے بعض کے نزدیک جنت عدن کی طرح مخصوص نام ہے۔ واحد کے صیغہ کے ساتھ بھی آیا ہے مثلاً عندھا جنۃ الماوی (53:15) اس کے پاس رہنے کی بہشت ہے۔ یا فلان الجنۃ ہی الماوی (79: 41) اس کا ٹھکانا بہشت ہے۔ لیکن الماوی دوزخ کے لئے بھی آیا ہے مثلاً فان الجحیم ہی الماوی (79:39) اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ الماوی : اوی یاوی (باب ضرب) سے مصدر بھی ہے اوی بھی مصدر ہے اگر صلہ میں الی ہو تو پناہ پکڑنے اور ٹھکانا بنانے کے معنی ہوں گے۔ جیسے قال ساوی الی جبل (11:43) وہ بولا میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں۔ باب افعال سے اوی یؤوی ایواء فعل متعدی بمعنی کسی کو جگہ دینا۔ یا ٹھکانا دینا۔ مثلاً ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ (12:69) اور جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے (حقیقی) بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔ نزلا۔ طعام ضیافت۔ مہمانی کا کھانا۔ اسم ہے ۔ منصوب بوجہ حال ہونے کے جنت سے ۔ بما کانوا یعملون باء سببہ ما موصولہ (بمعنی الذی ای بسبب الذی کانوا یعملونہ فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ یعنی بسبب ان اعمال صالحہ کے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔
Ayah 32:20

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے نافرمانی کی ان کے رہنے کے لئے دوزخ ہے جب چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں تو اس میں لوٹا دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو

(32:20) واما واؤ عطف کا ہے ۔ جملہ ہذا معطوف ہے جملہ سابقہ پر۔ اما یہاں بھی انہی معنوں میں مستعمل ہے جن میں آیۃ سابقہ (32:19) میں آیا ہے۔ فسقوا۔ ماضی جمع مذکر غائب فسق مصدر (باب ضرب۔ نصر) انہوں نے فسق کیا۔ وہ راہ حق و صلاح سے ہٹ گئے۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ وہ حدود شریعت سے نکل گئے۔ اعیدوا۔ ماضی مجہول (بمعنی مستقبل) جمع مذکر غائب اعادۃ (افعال) مصدر سے وہ لوٹا دئیے جائیں گے ! ذوقوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ذوق (باب نصر) تم چکھو۔
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم ان کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا عذاب دنیا کا بھی مزہ چکھائیں گے شاید (ہماری طرف) لوٹ آئیں

(32:21) لنذیقنھم مضارع بلام تاکید و نون ثقیلہ تاکید۔ صیغہ جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ ہم ان کو ضرور چکھائیں گے۔ من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر اس میں من تبعیضیہ ہے اور دون معنی پہلے۔ العذاب الادنی سے مراد اس دنیا کا عذاب۔ از قسم قحط۔ قتل۔ قید ، شکست ، وبا وغیرہ۔ عذاب الاودنی کی تفسیر عذاب اصغر یا ہلکے عذاب سے بھی کی گئی ہے وقیل الاقل (روح) اور ظاہر ہے کہ دنیا کا عذاب ہر صورت میں عذاب آخرت سے ہلکا ہی ہے ذکر یہاں مختلف عذابوں کا ہے ایک عذاب الاودنی دوسرا عذاب الاکبر۔ لیکن تقابل کے لئے ہم وزن الفاظ یا عذاب الاصغر و عذاب الاکبر ہونا تھے یا پھر عذاب الادنی اور عذاب الاقصی۔ پھر قرآن مجید میں بجائے ان کے مقابلہ کے لئے ایک طرف صفت ادنی (بمعنی قریب) اور دوسری طرف صفت اکبر کو کیوں رکھا ؟ امام رازی (رح) نے سوال پیدا کرکے حسب معمول نکتہ سبخی سے جواب دیا ہے کہ ذکر عذاب سے مقصود تخویف (خوف دلانا) ہے اور یہ اثر پیدا نہیں ہوسکتا ہے اگر دنیا کے عذاب کو ہلکا عذاب ، یا آخرت کے عذاب کو ” دور کا عذاب “ کہہ کر پیش کیا جائے تو اس صورت میں ایک عذاب کا ہلکا پن اور دوسرے عذاب کی دوری گہرے اثر تخویف کے منافی ہے۔ اس لئے قرآن مجید نے بکمال بلاغت دونوں عذابوں کے وہی خصوصیات چن لئے جو اثر تخویف کو بڑھانے والے ہیں۔ یعنی دنیوی عذاب گونسبۃ ہلکا ہو لیکن قریب کتنا ہے بس آیا ہی سمجھو۔ اسی طرح عذاب آخرت گوبجائے آج کے کل آئے گا لیکن اس سے کس قدر شدید ! ایک ہی قرب کا خیال رکھا دوسرے میں شدت کا۔ اللہ تعالیٰ امام علیہ الرحمہ کی تربت کو رحمت کے پھولوں سے بھر دے۔ (تفسیر الماجدی) لعلہم یہ لنذیقنھم سے متعلق ہے۔ یعنی ہم ان کو عذاب الاکبر سے پہلے عذاب الٰہی چکھاتے رہیں گے تاکہ وہ (فسق و فجور) سے باز آجائیں۔ یرجعون : ای یرجعون من الفسق وہ باز آجائیں۔ وہ لوٹ آویں (توبہ کرلیں) رجح رجوح (باب ضرب) مصدر سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیر لے ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں

(32:22) من اظلم : مناستفہام انکاری کے لئے ہے۔ کون ؟ یعنی کوئی نہیں اظلم افعل التفضیلکا صیغہ ، واحد مذکر ہے زیادہ ظالم ممن۔ مرکب ہے من حرف جر اور من اسم مفعول سے۔ ذکر۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ تذکیر (تفعیل) سے۔ اس کو سمجھایا گیا۔ اس سے ذکر کیا گیا۔ اس کو بتایا گیا۔ اس کو نصیحت کی گئی۔ ثم۔ پھر ۔ یہاں استعاد کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی خداوند تعالیٰ کی آیات سے باوجود ان کے وضاحت و صراحت کے اور ان کے ہادی الی سواء السبیل وفوزالکبیر ہونے کے ان سے روگردانی کرنا عقل و عدل سے بعید ہے (اور ایسا کرنے والا شخص بہت بڑا ظالم ہے) اعرض۔ ماضی واحد مذکر غائب اعراض (افعال) مصدر۔ اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے روگردانی کی۔ اس نے کنارہ کیا۔ عنھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ۔ ایت کے لئے ہے۔ منتقمون ۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ انتقام (افتعال) مصدر سے۔ بدلہ میں سزا دینے والے۔ نقمت الشی ونقمتہ کسی چیز کو برا سمجھنا۔ یہ کبھی زبان سے عیب لگانے اور کبھی عقوبت (سزا دینے پر) بولا جاتا ہے۔ مثلاً وما نقموا منہم الا ان یؤمنوا باللہ (85:8) ان کو مؤمنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ اور عقوبت سزا دینے کے معنوں میں فانتقمنا من الذین اجرموا (30:47) سو جو لوگ نافرمانی کرتے تھے ہم نے ان سے بدلہ لے کر چھوڑا۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو تم اس کے ملنے سے شک میں نہ ہونا اور ہم نے اس (کتاب) کو (یا موسیٰ کو) بنی اسرائیل کے لئے (ذریعہ) ہدایت بنایا

(32:23) الکتب۔ اس سے مراد جنس کتاب ہے یا ال عہد کا ہوسکتا ہے اور الکتب سے مراد تورات ہے۔ لاتکن۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو نہ ہو۔ کون مصدر۔ مرید۔ اسم مصدر۔ تردد۔ یہ شک اور ریب سے خاص ہے گویا جس شک سے تردد پیدا ہو۔ اس کو مریۃ کہتے ہیں۔ مری مادہ۔ لقائہ : لقی یلقی (سمع) لقاء کے معنی کسی کے آمنے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں۔ اور ان دونوں معنوں میں سے ہر ایک پر الگ الگ بھی بولا جاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا (18:62) اس سفر سے ہم کو بہت تھکان ہوگئی ہے۔ یہاں لقاء بمعنی تلقیہ بھی ہے جس کے معنی کسی چیز کو کسی کی طرف پھینکنے کے ہیں لیکن اللہ کی طرف سے تلقیہ کے معنی وحی اور عطا کے ہیں جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وانک لتلقی القرآن من لدن حکیم علیہم (27:6) اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔ لقائہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کس طرف راجع ہے ؟ اس میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) ضمیر جنس کتاب طرف راجع ہے ای لقائک الکتاب (ایسی ہی کتاب کا عطا کیا جانا) ۔ یعنی کتاب الٰہی کا کسی بندے پر نزال ہونا کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی انبیاء پر خدا کی طرف سے کتابیں نازل رہی ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کا نازل ہونا۔ یہ کفار کے اعتراض ام یقولون افترہ (آیت 3 سورة ہذا) کے جواب میں ہے۔ (2) ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے ای لقاء موسیٰ لیلۃ المعراج (معراج کی رات حضور ﷺ کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کرنا ۔ وغیرہ وغیرہ۔ فلا تکن فی مریۃ من لقائہ میں اگرچہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن مراد مخاطبین کفار مکہ ہیں جو قرآن کے منزل من اللہ ہونے اور معراج کی رات حضور ﷺ کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملنے میں شک کرتے تھے۔ (یہاں یہ جملہ معترضہ ہے) وجعلنہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الکتب کی طرف راجع ہے۔ ھدی اسم ومصدر (باب ضرب) ہدایت کرنا۔ ہدایت۔
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

(32:24) منھم : ای من بنی اسرائیل۔ ائمۃ۔ امام کی جمع پیشوا ۔ مقتدائ۔ امام افتعال کے وزن پر اسم ہے بمعنی من یؤتم بہ (جس کا قصد کیا جائے۔ چونکہ رہنما اور مقتدا کا قصد کیا جاتا ہے اس لئے اس کو امام کہتے ہیں ۔ غرض جس کی بھی پیروی کی جائے وہ امام ہے ۔ یہ پیروی حق میں ہو یا ناحق میں۔ مذکر مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے۔ لما (جب) یہ یہاں دو صورتوں میں استعمال ہوسکتا ہے :۔ (1) حرف شرط۔ یا وجود لوجود (ثبوت ثانی بوجہ ثبوت اول ہے) اس صورت میں لما فعل ماضی پر داخل ہوکر ایسے دو جملوں کا مقتضی ہوتا ہے۔ جن میں سے دوسرے جملہ کا وجود پہلے جملے کے پائے جانے کے وقت ہوتا ہے۔ یہاں عبارت یوں ہوگی :۔ لما صبروا جعلنا منہم ائمۃ۔ یعنی ان کا صبر کرنا اور مقتدا ہونا ایک ہی زمانہ کو مستلزم ہے۔ (2) بطور اسم ظرف بمعنی حین۔ یعنی جب تک وہ صبر کرتے رہے تب تک وہ مقتدا و پیشوا رہے۔ (صبر سے مراد یہاں تبلیغ اور نصرت دین میں وہ مخالف عنصر کی سختیاں صبر سے جھیلتے رہے۔ کانوا یوقنون ۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب وہ (ہماری آیات کا) یقین رکھتے تھے۔ ایقان (افعال) مصدر۔
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا پروردگار ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا

(32:25) یفصل بینھم۔ مضارع واحد مذکر غائب فصل (باب ضرب) مصدر وہ فیصلہ کرے گا۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کو اس (امر) سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو جن کے مقامات سکونت میں یہ چلتے پھرتے ہیں ہلاک کردیا بیشک اس میں نشانیاں ہیں تو یہ سنتے کیوں نہیں ؟

(32:26) اولم یہد۔ الف استفہامیہ واؤ عاطفہ لم یھد نفی جحد بلم اس میں فاعل اللہ کی طرف راجع ہے جس کا ذکر آیہ ماسبق ان ربک میں ہے اور جس کی تائید زید کی قرأت ولہم نھد لہم (کیا ہم نے ان کو راہ ہدایت نہ دکھائی) سے بھی ہوتی ہے۔ بعض نے ضمیر فاعل کا مرجع جملہ مابعد کم اہلکنا من قبلہم من القرون کو لیا ہے۔ تقدیر کلام ہوگی اولم یھدلہم کثرۃ اہلاکنا القرون الماضیۃ کیا متعدد گزشتہ قوموں کی ہلاکت ان کی ہدایت کا باعث نہ بن سکی۔ یا کیا متعدد گذشتہ قوموں کی ہلاکت نے ان کو راہ ہدایت نہ دکھائی۔ لہم۔ اس میں ضمیر جمع مذکر غائب اہل مکہ کی طرف راجع ہے۔ کم ۔۔ من القران : کم استفہام کے لئے آتا ہے کتنی تعداد۔ کتنی مقدار ۔ کتنی دیر۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے مثلا کم درھما کتنے درہم۔ لیکن یہاں کم خبر یہ آیا ہے جو مقدار کی بیشی اور تعداد کی کثرت کا ظاہر کرتا ہے اس کی تمیز مجرور آتی ہے ۔ کم قریۃ۔ کتنی ہی بستوں کو۔ یعنی بہت بستیوں کو۔ کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسے کم من فئۃ کتنے ہی گروہ۔ یعنی بہت سے گروہ۔ کم من القرون۔ کتنی ہی قومیں۔ یعنی بہت سی قومیں۔ القرون جمع ہے القرن کی بمعنی قوم جو ایک خاص زمانہ کے متعلق ہو۔ القرون وہ قومیں جن میں سے ہر ایک کا زمانہ دوسری سے جدا ہو۔ یمشون مضارع جمع مذکر غائب مشی مصدر۔ وہ چلتے ہیں۔ ضمیر فاعل کا مرجع لہم کی ضمیر کے مطابق اہل مکہ ہی ہیں۔ مسکنہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے مکان۔ ان کے مسکن۔ ان کی سکونت کے مقامات ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع القرون ہے۔ یعنی ان ہلاک شدہ قوموں کے دیار۔ (جو برباد پڑے ہیں۔ اور یہ اہل مکہ شام و یمن آتے جاتے ہوئے ان میں سے گزرتے ہیں) ۔
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ بھی (کھاتے ہیں) تو یہ دیکھتے کیوں نہیں ؟

(32:27) نسوق مضارع جمع متکلم۔ ساق یسوق (نصر) سوق مصدر سے۔ ہم چلاتے ہیں۔ ہم رواں کرتے ہیں۔ ہم ہانک کر لیجاتے ہیں۔ المای پانی ، ندی نالوں کی صورت ، بادلوں کی صورت۔ الی الارض الجرز۔ موصوف و صفت۔ الجرز اس زمین کو کہتے ہیں جو ویسے تو زرخیر ہو مگر پانی دستاب نہ ہونے سے بنجر ہوگئی ہو۔ گھاس اور چارہ جڑ سے اکھڑ کر رہ گیا ہو۔ یا اونٹوں اور بکریوں نے اسے چر کر ختم کردیا ہو۔ اور اب وہاں سبز تنکا تک دکھائی نہ دیتا ہو۔ ارض مجروزۃ۔ وہ زمین جس سے گھاس چر کر ختم کردیا گیا ہو۔ اور جگہ آیا ہے صعیدا جرزا (18:8) چٹیل ۔ بےآب وگیاہ زمین۔ رزعا۔ مصدر۔ اسم ۔ زرع یزرع (فتح) کھیتی کرنا۔ کھیتی اگانا۔ بطور اسم بمعنی کھیتی۔ زراعۃ کاشتکاری۔ زرعۃ۔ قابل کاشت زمین ، مزروع۔ بوئی ہوئی (زمین یا غلہ) ۔ منہ ای من زرع۔ اس اگی ہوئی کھیتی سے۔
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟

(32:28) الفتح : ای یوم الفتح۔ فیصلہ کا دن ۔ یعنی قیامت۔ فتح بمعنی حکم یا فیصلہ۔ قرآن مجید میں متعدد جگی آیا ہے مثلا :۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفتحین ۔ (7:89) اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ یا قال رب ان قومی کذبون فافتح بینی وبینھم فتحا (26:117-118) حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار میری قوم مجھے جھٹلا رہی ہے سو آپ ہی میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا ہوا فیصلہ کر دیجئے۔ کان المسلمون یقولون : ان اللہ یفتح بیننا وین المشرکین فاذا سمع المشرکون قالوا (متی ھذا الفتح) ۔ مسلمان کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور مشرکین کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ مشرکین سن کر کہنے لگے کب ہوگا وہ فیصلہ۔ فتح۔ بمعنی فتح۔ کھول کر بیان کرنا۔ کھولنا بھی ہے۔ ان کنتم صدقین ۔ : ای ان کنتم صدقین فی انہ کائن اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو (کہ یوم الفتح یا یوم الفصل ضرور آئے گا)
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

(32:29) قل : ای قل لہم یا محمد ﷺ یوم الفتح۔ مضاف مضاف الیہ۔ فیصلہ کا دن۔ یوم القیامۃ۔ ولاہم ینظرون۔ واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ لا ینفع ۔۔ پر ہے۔ لاینظرون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے نظر ینظر (باب نصر) نضر سے۔ ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ مہلت اس مار کہ دینا میں بھیج کر ان کا ایمان قبول کیا جائے۔ ای لایمہلون بالاعادۃٰ الی الدنیا لیؤمنوا۔ فائدہ : یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے سوال تو یہ کیا کہ یہ فیصلہ کا دن جس کا تم دعوی کرتے ہو کب آئے گا ؟ اس کا جواب میں فیصلہ کی نوعیت بیان کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا اصل مقصد جلد بازی دکھانا اور استہزاء کرنا تھا۔ سو اس کے مقصد کے مد نظر کہا گیا ہے کہ :۔ لا تستعجلوا ولا تستھزء وا۔ (تم جلدی مت مچاؤ اور استہزاء مت کرو) یہ فیصلہ ہو کر رہے گا اور اس وقت تمہارا ایمان تمہیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ (ایمان نافع وہی ہے جو اس دنیا میں لایا جائے ورنہ روز قیامت حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر تو پکے سے پکے کافر کا پتہ بھی پانی ہوجائے گا۔ اور وہ ایمان پر مجبور ہوجائے گا) ۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو ان سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

(32:30) فاعرض۔ تو منہ پھیر لے۔ تو کنارہ کر جا۔ تو اعراض کر۔ رخ گردانی کر۔ (ان کی دل آزار باتوں پر غم نہ کر) انتظر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو انتظار کر۔ تو منتظررہ۔ انتظار (افتعال) مصدر یعنی ان کی انجام کار ہلاکت کا انتظار کر۔ انھم منتظرون ۔ اسم فاعل جمع مذکر حاضر۔ انتظار کرنے والے۔ تحقیق یہ بھی (اپنی انجام کار ہلاکت و بربادی کا) انتظار ہی کر رہے ہیں۔