Ayahs 32:1–21۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
الم تنزیل الکتب لاریب فیہ من رب العلمین (1۔ 2)
’ الم ‘ کی تحقیق سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ سابق سورة کی طرح اس سورة کی تمہید بھی بقرہ کی تمہید سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔
’ تنزیل ‘ کے معنی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ صرف اتارنے کے نہیں بلکہ اہتمام خاص کے ساتھ درجہ بدرجہ اتارنے کے ہیں۔ ’ الکتب ‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی اس کتاب کی تنزلی اللہ رب العلمین کی طرف سے ہے۔ اس کے اللہ رب العلمین کی طرف سے ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لاریب فیہ کا یہی مفہوم ہم نے سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ اس آیت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ قریش اور یہود دونوں کو سب سے زیادہ اختلاف آنحضرت ﷺ کے اس دعوے سے تھا کہ یہ کتاب آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جاتی ہے۔ اس دعوے کی وہ، جیسا کہ آگے کی آیت سے واضح ہوگا ’ افتراء ‘ قرار دیتے یعنی آنحضرت صلعم پر یہ الزام لگاتے کہ نعوذباللہ اس کتاب کو یہ تصنیف تو خود کرتے ہے لیکن ہمارے اوپر دھونس جمانے کے لے اس کو جھوٹ موٹ منسوب اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔
Ayah 32:3ام یقولون افترہ بل ھو الحق من ربک لتنذر قوما ما اتھم من نذیر من قبلک لعلھم یھتدون (3)
یہ سوال حیرت و تعجب کی نوعیت کا ہے کہ کیا یہ لوگ حق کی مخالفت میں ایسے اندھے بہرے ہوگئے ہیں کہ اس کتاب کے کتاب الٰہی ہونے کے دعوت کو افتراء قرار دیتے ہیں ! مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے اندار انصاف اور سچائی کی کوئی رمق ہوتی تو یہ بات وہ زبان سے نہ نکالتے لیکن یہ لوگ مخالفت کے جوش میں بالکل اندھے بہرے بن چکے ہیں۔
’ بل ھو الحق من ربک ‘ اس الزام کا قرآن مجید نے مختلف پہلوئوں سے دیا ہے جن کی وضاحت پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ یہاں کوئی تفصیلی جواب دینے کے بجائے نہایت سخت دھمکی کے انداز میں دعوے کو مزید کو کد کردیا ہے۔ اور یہ تاکید یہاں دو پہلوئوں سے نمایاں ہوئی ہے۔ ایک یہ کہ یہی حق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جس دین آبائی کے علمبردار ہیں وہ بالکل باطل ہے، صحیح دین یہی ہے کہ جس کی جھوٹ موت نسبت دی جا رہی ہے۔ یہ فی الحقیقت خدا ہی کی طرف سے ہے، اگر یہ لوگ اسی طرح اس کو جھٹلاتے رہے تو اس کا انجام خود بھگتیں گے۔
لتنذر قوما اتھم من نذیرمن قبلک لعلھم یھتدون۔ یہ اس کتاب کے اس اہتمام کے ساتھ اتارنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے اتاری ہے کہ اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو اس زندگی کے انجام اور آخرت کے احوال سے آگاہ کردو جن کے اندر تم سے پہلے کوئی منذر نہیں آیا۔ یہاں ’ قوم ‘ سے مراد اہل عرب ہیں جن کے اندر حضرت اسماعیل ؑ کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ یہ اس کتاب کے احسان کا پہلو نمایاں فرمایا گیا ہے کہ امی عربوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب نازل کے بہت بڑا فضل فرمایا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اس عظیم نعمت کی قدر کریں۔
ساتھ ہی اس کے اندرا انداز کا پہلو بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کے اندر اپنا منذر بھیج دیتا ہے تو اس قوم کی قسمت میزان میں آجاتی ہے۔ اگر اس کے بعد بھی وہ اپنے رویہ کی اصلاح نہیں کرتی تو ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو لازماً تباہ کردیتا ہے۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت جگہ جگہ اس کتاب میں ہوچکی ہے۔
Ayah 32:4اللہ الذین خلق السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش ما لکم من دونہ من ولی ولا شفیع افلا تتذکرون (4)
اوپر کی آیت میں اس کتاب کی تنزلی اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کا خاص مقصد انداز بتایا گیا ہے۔ اب یہ اسی کی تفصیل آرہی ہے۔ انداز کا خاص موضوع دو چیزیں ہیں۔ ایک توحید دوسری قیامت قرآن مجید اول تو اس بات سے ڈراتا ہے کہ لوگ غلط سہاروں اور فرضی معبودوں کی شفاعت کی امید پر زندگی نہ گزاریں۔ اس کائنات کا خالق و مدبرتنہا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ سب کو بالآخر اسی کی طرف لوٹنا اور اسی کے آگے جواب دہ ہونا ہے۔ اس وجہ سے اسی کی شکر گزاری اور اسی کی عبادت و اطاعت سب پر واجب ہے۔
دوسرے وہ قیامت سے ڈراتا ہے کہ قیامت شدنی ہے۔ بالآخر سب کی پیشی خدا ہی کے آگے ہوگی۔ اس وقت مجرم اپنے جرم کا اعتراف اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ اگر ایک مرتبہ پھر انہیں دنیا میں جانے کی مہلت نصیب ہو تو وہ ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاریں گے لیکن وہاں اس قسم کی درخواستوں اور التجائوں کا موقع باقی نہیں رہے گا۔
آیت زیر بحث اور بعد کی چند آیتوں میں توحید کا بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد قیامت اور احوالِ قیامت کا ذکر آئے گا۔
’ اللہ الذی خلق السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش۔ چھ دنوں سے مراد، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں، خدائی ایام میں اور آگے وضاحت آرہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کا ایک دن ہمارے ہزار سالوں کے برابر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے چھ دنوں سے مراد چھ ادوار ہوں گے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کی خلقت کسی اتفاقی واقعہ کی طرح ظہور میں نہیں آئی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت تدریج و اہتمام کے ساتھ وجود بخشا ہے۔ یہ تدریج و اہتمام اس کی غایت و حکمت پر دلیل ہے اور اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کوئی کھیل تماشا نہیں ہے بلکہ ایک بامقصد باغایب کارخانہ ہے۔
’ ثم استوی علی العرش۔ یعنی اس اہتمام و انتظام سے اس دنیا کو پیدا کرکے اور اللہ تعالیٰ اس سے بےتعلق نہیں ہو بیٹھا ہے بلکہ وہ اپنے عرش حکومت پر متمکن ہو کر براہ راست اور بالفعل اس کا انتظام بھر فرما رہا ہے۔ یہ مشرکین کے اس خیال کی تردید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کرکے اس کا انتظام اپنی دوسری مقرب ہستیوں کے سپرد کردیا ہے اور خود اس سے بالکل الگ ہوبیٹھا ہے۔ اس تصور کی بنیاد جس وہم پر تھی اس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں۔
مالکم من دونہ من ولی ولا شفیع۔ یہ اس کے لازمی نتیجہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ جب براہ راست تمام امور کی باگ اسی کے ہاتھ میں ہے تو سب کی پیشی بھی اسی کے آگے ہونی ہے اور وہی سارے معاملات کا فیصلہ فرمائے گا۔ اس وقت اس کے سوا نہ کوئی کسی کا کارساز و مددگار بن سکے گا اور نہ اس کے مقابل میں کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا۔ لفظ دون میں سوا اور مقابل دونوں کا مفہوم پایا جاتا ہے اس وجہ سے یہاں ’ ولی ‘ کے ساتھ شفیع کی بھی نفی فرما دی۔
’ افلا تتذکرون۔ یہ تمام نتائج چونکہ مخاطب کے مسلمات پر مبنی ہیں اس وجہ سے ان کو سامنے رکھ دینے کے بعد متنبہ کیا کہ آخر ایسی واضح باتیں تم لوگ کیوں نہیں چیتے ! !
Ayahs 32:5–6یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون ذلک الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم (5۔ 6)
یعنی آسمان سے لے کر زمین تک امور کی تدبیر وہی فرماتا ہے۔ یہ مشرکین کے اس گروہ کی تردید ہے جو اس وہم میں مبتلا تھا کہ زمین چونکہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کا ایک دور دراز علاقہ ہے اس وجہ سے اس نے اپنی حکومت صرف آسمان تک محدود رکھی ہے، زمین کا انتظام اس نے اپنے دوسرے کارندوں کے حوالہ کردیا ہے۔ اسی گروہ کو مخاطب کرکے قرآن میں بعض جگہ یہ سوال آیا ہے کہ کیا زمین میں الگ خدا اور آسمان میں الگ خدا ہیں ! کیسی بےعقلی کی باتیں کرتے ہو !
’ ثم یعرج الیہ ‘ یعنی تمام امور صادر بھی اسی کی طرف سے ہوتے ہیں اور پھر رجوع بھی اسی کی طرف ہوتے ہیں۔ یعرج الیہ ‘ یہاں (free) ہونے کے مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ احکام صادر کرکے پھر بےتعلق نہیں ہو بیٹھتا بلکہ ہر چیز اس کے سامنے پیش ہوتی رہتی ہے اور وہ پوری طرح باخبر رہتا ہے کہ کارکنانِ قضا و قدر نے کیا فرائض انجام دیے اور کس طرح انجام دیے۔
’ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون۔ ‘ عام طور پر لوگوں نے اسے سے مراد قیامت کا دن لیا ہے اور اس دن لوگوں کے اعمال کی جو پیشی خدا کے سامنے ہوتنی ہے ان کے نزدیک یہ اس کی طرف اشارہ ہے۔ قیامت کے دن چونکہ بہت سخت ہوگا اس کی اس سختی کو بطریق استعارہ یوں تعبیر فرمایا کہ وہ ہزار سال کے برابر بن جائے گا۔ ہمارے نزدیک یہ خیال میں صحیح نہیں ہے۔ یعینہ یہی مضمون سورة ھج میں اس طرح آیا ہے :
وان یوم عند ربک لالف سنۃ مما تعدون (47)
اور تمہارے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار سے ہزار سالوں کے برابر کا ہوتا ہے۔
وہاں یہ آیت عذاب کے لئے لوگوں کی جلد بازی کے جواب میں وارد ہوئی ہے کہ جب ان کو عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ اس عذاب کے دھمکی ہم ایک مدت سے سن رہے ہیں لیکن وہ آیا نہیں، اگر اس کو آنا ہے تو آکیوں نہیں جاتا ! ان کے جواب میں فرمایا ہے کہ خدا کے کاموں کو اپنے محدود پیمانوں سے نہ ناپو۔ تمہارے دن چوبیس گھنٹوں کے ہوتے ہیں اس وجہ سے تمہیں چند سالوں کی مدت بھی بہت طویل محسوس ہوتی ہے لیکن خدا کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار سے ایک ہزار سال کے برابر کا ہوتا ہے اور اسی کے حساب سے اس کے سارے پروگرام اور منصوبے بنتے ہیں۔ تم اپنے دنوں کو پیش نظر رکھ کر گھبرانے لگتے ہو کہ فلاں بات پر اتنی مدت گزر گئی لیکن اب تک وہ واقع نہیں ہوئی اور پھر اس سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہو کہ یہ دھمکی تمہیں جھوٹ موٹ سنائی گئی حالانکہ خدائی دنوں کے اعتبار سے ابھی اس پر ایک گھڑی بھی نہیں گزری ہوتی ہے۔
بعینہ اسی سیاق میں آیت زیر بحث بھی وارد ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمام امرو تدبیر خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اسی کی طرف سے احکام صادر بھی ہوتے ہیں اور پھر اسی کی طرف لوٹتے بھی ہیں لیکن یہ صادر ہونا اور لوٹنا سب خدائی دنوں کے حساب سے ہوتا ہ۔ اس وجہ سے نہ ہر شخص ان کے نتائج سے آگاہ ہوسکتا اور نہ ہر شخص ان کی حکمتوں کو سمجھ سکتا ہے۔ بندوں کے لئے صحیح روش یہ ہے کہ وہ خدا کے معاملات میں جلد بازی نہ کریں بلکہ صبر کے ساتھ انتظار کریں۔
’ ذلکء السد الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم۔ غیب اور حاضر کا جاننے والا اور عزیز و رحیم دہی ہے۔
دوسرے کسی کا بھی یہ درجہ نہیں ہے کہ وہ کائنات کے تمام اسرار سے واقف ہوسکے۔ وہ تمام غائب و حاضر سے واقف بھی ہے اور عزیز و رحیم بھی ہے۔ اس وجہ سے بندوں کو چاہیے کہ وہ کامل حسن ظن کے ساتھ اس پر بھروسہ کریں۔
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہی مضمون سورة معارج میں یوں وارد ہوا ہے :
تعرج الملئکۃ والروحالیہ فییوم کان مقدارہ حمیسین الف سنۃ (4)
فرشتے اور جبریل اس کی طرف صعود کرتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مدت پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔
بظاہر اس آیت اور اوپر کی آیت میں تضاد معلوم ہوتا ہے لیکن یہ تضاد نہیں یہ۔ دنوں کا یہ تفاوت مداروں کے اختلاف پر مبنی ہے۔ چناچہ اسی وجہ سے مختلف سیاروں کے دن الگ الگ ہیں۔ پھر یہ بات بھی توجہ کے قابل ہے کہ آیت زیر بحث میں امور کے پیش کیے جانے کا ذکر ہے اور سورة معارج میں ملائکہ اور جبریل کی پیشی کا ذکر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ امور کی پیشی ہزار سال کے دن میں ہوتی ہے اور ملائکہ اور جبریل کی براہ راست پیشی کا دن پچاس ہزار سال کے برابر ہو۔ یہ امور ِ غیب ہیں۔ ان کے باب میں کوئی بات جزم کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی تاہم اتنی بات بالکل واجح ہے کہہ دونوں آیتوں میں کوئی تناقض نہیں ہے۔ سورة حج کی تفسیر میں اس مسئلہ پر ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے۔ سورة معارج کی تفسیر میں انشاء اللہ ھم اس کے بعض دوسروں گوشوں پر بھی نظر ڈالیں گے۔
Ayahs 32:7–9الذی احسن کل شئی خلقہ وبداء خلق الانسان من طین الم جعل نسلہ من سللۃ منماء مھین ثم سومہ و نفخ فیہ من روحہ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون۔ (7۔ 9)
اللہ تعالیٰ کی صفات عالم الغیب والشہادۃ اور عزیز و رحیم کو بنیاد قرار دے کر آگے قیامت کے انداز کے لئے تمہید استوار فرمائی کہ یہ اللہ ہیی ہے جس نے جو چیز بھی بنائی۔ یعنی اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اس کے بےنہایت علم کی شاہد ہے۔ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی لے کر انسان اگر اس پر غور کرے تو اس کی عقل صانع کی صنعت و کاریگری پر دن رہ جاتی ہے اور وہ بےخود ہو کر پکاراٹھتا ہے کہ تبارک اللہ احسن الخالقین (بڑی ہی بابرکت ذات ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا ! !) یہیں سے انسان پر اس حقیقت کا دروازہ کھلتا ہے کہ جو ذات اتنی قدرت رکھنا والی، اتنی حکیم، اتنی باریک بیں اور ایسی رحمان و رحیم ہے اس کی نسبت یہ کس طرح باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اتنا بڑا عالم بالکل بےمقصد کھڑا کردے۔ پس ضرور ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن آئے جس میں وہ حق و باطل میں امتیاز کرے۔ ان لوگوں کو جزا دے جنہوں نے اس کی نعمتوں کا حق پہنچانا اور ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے اس دنیا میں اندھوں بہروں کی زندگی گزاری، نہ انہوں نے خود اس کی حکمتوں پر غور کیا اور نہ دوسرے غور کرنے والوں کی باتوں کو لائق اعتناء سمجھا۔
’ بد اخلق الانسان من طین ‘۔ اوپر والے ٹکڑے میں یہ بات جو فرمائی ہے کہ اس نے جو چیز بھی بنائی خوب بنائی، اس کے ثبوت میں خارج کی مثالیں پیش کرنے کے بجائے خود انسان ہی کی خلقت کو بطور مثال پیش کیا ہے کہ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ خود اپنی ہی خلقت کے مراحل و مدارج پر غور کرو اور دیکھو کہ خدا کی قدرت و حکمت اور اس کی ربوبیت کی یا کیا شانیں تمہارے اندر ظاہر ہوئی ہیں ! فرمایا کہ یہ انسان جو آج اپنی قابلیتوں پر اتنا نازاں ہے، اس کا آغاز خدائے حکیم و قدیر نے کسی بڑے قیمتی جوہر سے نہیں کیا بلکہ مٹی سے کیا، اسی سے اس کا قالب بنا اور اسی مٹی کے اندر سے اس کے اندر زندگی کی حرکت نمودار ہوئی لیکن دیکھو خالق کی قدرت و حکمت کہ اس نے مٹی کے لوندے کو کیا سے کیا بنادیا ! !
’ ثم جعل نسلہمن سللۃ من مفا مھین۔ یہ انسان کی خلقت کے دوسرے مرحلہ کی طرف اشارہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں اس کی حیثیت یہ ہوئی کہ مٹی کے بجائے اس کی نسل کے چلنے کا ذریعہ حقیر و ناپاک پانی کا خلاصہ بنا۔
ثم سوہ ونفخ فیہ من زوجہ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ۔ ’ تسویۃ ‘ کے معنی جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں، کسی چیز کو سنوارنے اور اس کی نوک پلک درست کرنے کے ہیں۔ آرٹ کی اصطلاح میں جس چیز کو تکمیلی یا اتمامی عمل (Finishing Touch) کہتے ہیں ٹھیک وہی مفہوم تسویۃ کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تیسرے مرحلے میں آکر اس نے مٹی سے بنے ہوئے اس انسان کے نوک پلک سنوارے اور اس کے اندر اپنی روح پھونکی تب اس کے اندر سمع و بصرا اور دل کی وہ صلاحیتیں نمودار ہوئیں جو دوسری حیوانی مخلوقات کے مقابل میں اس کے لئے وجہ امتیاز بنیں۔
’ نفخ فیہ من رومہ ‘ میں روح سے مراد وہ روح ہے جس کو ہم روح ملکوتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ انسان کے اندر حیوانی روح کے ساتھ ایک نوریز دانی (Diyine Spark) بھی ہے اور اسی نور کے فیض سے انسان کے سمع و بصر اور فواد میں وہ روشنی پیدا ہوئی ہے جس سے اس کو اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ اگر اس روشنی سے وہ محروم ہوجائے تو پھر اس کا باطن بھی اسی طرح تیرہ و تار ہے جس طرح حیوانات کا ہے۔ کان، آنکھ اور دل حیوانات کے پاس بھی ہیں لیکن وہ نور یزدانی سے محروم ہیں اس وجہ سے ان کے کانوں، آنکھوں اور دلوں میں وہ صلاحیت نہیں ہے جو انسان کے سمع و بصر اور دل میں ہے۔ اگر انسان اپنے کو اس نور سے محروم کرلے تو پھر وہ بھی ایک حیوان ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس نور کی باقی رکھنا اور اس کو بڑھانا یا گھٹانا انسان کے اپنے اختیار پر منحصر ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس نور کو باقی رکھنا اور اس کو بڑھانا یا گھٹانا انسان کے اپنے اختیار پر منحصر ہے۔ جو لوگ اس کی قدر کرتے اور اس کے حقوق ادا کرتے ہیں وہ اس میں اضافہ کرتے ہیں اور ان کے اندر یہ قوی سے قوی تر ہوتا جاتا ہے اور جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے ان کے اندر یہ ضعیف ہوتے ہوتے بالکل ہی بجھ جاتا ہے۔
’ من روحہ ‘ میں اضافت سے مقصود فی الجملہ اس روح کے اختصاص کا اطہار ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فیوض و برکات میں سے ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حصہ ہے۔ اسی غلط فہمی پر تنبیہ اس لئے ہم نے ضروری سمجھی ہے کہ وحدت الوجود کی گمراہیوں میں بڑا دخلی اسی غلط فہمی کا ہے۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تسویہ اور نفخ روح سے پہلے انسان پر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب انسان حیوانات کی طرح ناتراشیدہ اور بصیرت و ادارک سے محروم تھا۔ اس دور کے بعد تسویہ نے اس کے ظاہر کو سنوارا اور نفخ روح نے اس کے باطن کو منور کیا۔
’ قلیلا ما تشکرون۔ ‘ یعنی اپنی خلقت کے ان تمام مراحل پر غور کرو کہ کس طرح خدا نے تمہارا آغاز کیا اور پھر کس درجے تک تم کو پہنچایا ! حق تھا کہ تمہارا بال بال اپنے رب کی اس عنایت و ربوبیت کا شکر گزار ہوتا اور جو نعمتیں و صلاحیتیں اس نے تم کو بخشیں ان کو تم اس کی رضا کے کاموں میں استعمال کرتے لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم بہت ہی کم اس کے شکر گزار ہوتے ہو۔
Ayah 32:10وقالوا اذا ضللنافی الارضء انا لفی خلق جدید ط بل ھم بلقاء ربھم کفرون (10)
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو سمع و بصر اور ادارک و تعقل کی جو صلاحیتیں بخشی تھیں وہ اس لئے بخشی تھیں کہ ان سے وہ کام لیں اور خدا کی قدرت و حکمت و رحمت و ربوبیت کے آثار کے مشاہدہ سے اس نتیجے تک پہنچیں کہ یہ دنیا عبث نہیں پیدا ہوئی ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ اسکے بعد ایک ایسا دن آئے جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے اپنے رب کے حضور حاضر کیا جائے اور وہ جزا یا سزا پائے لیکن اس انسان کی کج فہمی کا یہ حال ہے کہ جب اس کو قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو خدا کی قدرت کی اتنی شانیں دیکھنے کے باوجود، وہ طنز و استہزاء کے ساتھ یہ سوال کرتا ہے کہ کیا جب ہم گل سڑ کر زمین میں رل مل جائیں گے تو اس کے بعد از سرنو زندہ کیے جائیں گے ! !
’ بل ھم بلقاء ربھم کفرون۔ یعنی یہ باتیں سب اوپر کے بہانے ہیں۔ آخر خدا کی اتنی شانیں اپنے وجود کے اندر اور باہر دیکھتے ہوئے یہ اتنے غبی کس طرح ہوسکتے ہیں کہ اپے دوبارہ پید اکیے جانے کو اس کی قدرت سے بعید سمجھیں ! اصل چیز یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کے آگے پیشی اور اعمال کی جواب دہی کے منکری ہیں، اس خیر کو تسلیم کرنا ان کے دلوں پر بہت شاق ہے اس وجہ سے اس سے گریز کے لئے یہ تمام عقلی استمالے اور شبہات گھڑے اور اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بسا اوقات انسان انکار تو کسی اور چیز کا کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے انکار کے لئے بہانہ کسی اور چیز کو بناتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ براہ راست اس حقیقت کے انکار کی کچھ زیادہ گنجائش وہ نہیں پاتا۔ مشرکینِ عرب کا حال بھی یہی تھا۔ وہ خدا کے قائل تھے اس وجہ سے خدا کے آگے پیشی کا صریح انکار ان کے لئے مشکل تھا لیکن اس کو ماننے سے جو بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں وہ ان کے لئے بھی تیار نہیں تھے اس وجہ سے اس گریز کے لئے اول تو وہ قیامت پر اس قسم کے شبہات وارد کرتے تھے جس کی ایک مثال اوپر گزری اور بدرجہ ٔ آخر اس کو مانتے تبھی تھے تو اس کے نتائج سے بچائو کے لئے انہوں نے سرکاء و شفعار ایجاد کرلیے تھے۔
Ayahs 32:11–12قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون (11)
یہ اوپر کی دونوں باتوں کا جواب ہے کہ جو مرتا ہے اس کو خدا کا وہ فرشتہ ہی وفات دیتا ہے جو خدا کی طرف سے ہر شخص پر مامور ہے۔ اس وجہ سے کوئی شخص مرنے کے بعد بھی خدا اور اس کے مامور ملائکہ کی نگاہیوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ ہر شخص کو اٹھا کھڑا کرے گا اور وہ اس کے مامور ملائکہ کی نگرانی میں ان کے سامنے حاضر کیا جائے گا۔
’ ثم الی ربکم ترجعون۔ یعنی کوئی اس طمع خام میں بھی متبال نہ رہے کہ اس کی واپسی اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء کی طرف ہونی ہے۔ اس دن ان شرکاء شفعاء کا کوئی وجود نہیں ہوگا۔ سب کی پیشی اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سامنے ہی ہوگی اور وہی سب کا فیصلہ فرمائے گا۔
ولو تری اذا لمجرمون ناکسوا روسھم عند ربھم۔ طبنا ابصرنا وسمعان فارجعنا ولو تری میں خطاب آنحضرت ﷺ سے بھی ہوسکتا ہے اور عام مخاطبوں سے بھی۔ پہلی شکل میں یہ آیت تسلی کے سیاق و میں ہوگی اور دوسری صورت میں تہدید کے سیاق ہیں۔ اگر پہلی صورت اختیار کیجئے تو مطلب یہ ہوگا کہ آج تو یہ لوگ تمہارے آگے بہت اکڑ رہے اور برے تبختر و رعونت کے ساتھ قیامت اور خدا کے آگے پیشی کا انکار کر رہے ہیں لیکن اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے جب یہ تمام مجرمین سرنہیوڑائے اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے تو… یہاں تمنی کا جواب مخدوف ہے اور اس حذب میں بڑی بلاغت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اس وقت ان کی بےبسی کا وہ منظر دیکھتے جس کا آج تصور بھی نہیں کرسکتے !
ربنا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون۔ یعنی اس وقت ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ اعتراف ہوگا کہ اے ہمارے رب ! ہم نے اچھی طرح دیکھ اور سن لیا۔ اب ہمیں ایک بار دنیا میں پھر لوٹا تاکہ ہم کچھ نیکی کمائیں۔ ہمیں ہر بات کا پورا یقین ہوگیا۔
Ayah 32:13دلو شئنا لا تینا کل نفس ھذلھا ولکن حق القول منی لاملنئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین (13)
یہ ان کے اعترا اور ان کی درخواست کا جواب ہے جو برسر موقع ان کو دیا جائے گا کہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد تمہارا یہ اقرار و ایمان بالکل بےسود ہے۔ اگر اللہ کو اس طرح کا مجبورانہ ایمان پسند ہوتا تو وہ ہر شخص کو ایمان و ہدایت پر ہی پیدا کرتا۔ یہ اس کے لئے ذرا بھی مشکل نہیں تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا کہ بلکہ ہدایت کے معاملے میں اس نے لوگوں کو اختیار دیا کہ وہ امتحان کرے کہ کون اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر ایمان کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون اپنی خواہشوں کی پیروی میں شیطان کی راہ پسند کرتا ہے۔
ولکن حق القول منی لاملئن جھم من الجنۃ والناس اجمعین۔ یہ اس فیصلہ کی طرف اشارہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اس کے چیلنج کے جواب میں آگاہ فرما دیا تھا۔ قرآن میں اس کا ذکر جگہ جگہ آیا ہے۔ سورة ص میں اس کا حوالہ یوں ہے :
قال فبعزتک لا غوینھم اجمعین الا عبادک منھم المخلصین قال فالح والحق اقول لا ملئن جھنم منک وممن ببعک منھم اجمعین (ص : 82۔ 85)
ابلیس نے کہا تیرے عزت و جلال کی قسم ! میں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ بس ان میں سے تیرے خاص بندے ہی بچ رہیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ پھر یہ بات بھی حق ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں کہ میں بھی تجھ سے اور تیری ذریت سے اور ان انسانوں میں سے جو تیری پیروی کریں گے، سب کو جہنم میں بھر کے رہوں گا۔
یہاں اس قول کا حوالہ دینے سے مقصود مجرموں کو اس بات سے آگاہ کرنا ہوگا کہ اب عذرومعذرت کا وقت گزر گیا۔ اللہ نے شیطان کے جواب میں پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا تھا کہ وہ نبی آدم میں سے جن کو گمراہ کرسکتا ہے گمراہ کرلے۔ انسان کو خدا نے یہ آزادی دی کہ وہ چاہے تو رحمان کی راہ اختیار کرے اور چاہے تو شیطان کی راہ اختیار کرے۔ دنیا کی زندگی میں یہ امتحان تھا۔ اب امتحان کا مرحلہ گزر چکا اور نتائج بھگتنے کی باری ہے چناچہ آج وہ انجام تمہارے سامنے آگیا اور میری بات تم پر پوری ہوئی۔
Ayah 32:14فذوقا بما نسی لقاء یومکم ھذا انا نسینکم و ذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون (14)
’ نسی ‘ کے معنی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، نظر انداز کرنے اور ٹالنے کے بھی آتے ہیں۔ یہاں یہ نظر انداز کرنے ہی کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب کسی سوال و درخواست کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ جس طرح تم نے اس دن کو نظر انداز کیے رکھا آج ہم نے تم کو نظر انداز کیا۔ اب تمہاری کوئی درخواست والتجا ہمارے نزدیک درخور اعتنا نہیں رہی۔ اب اپنے اعمال کو پاداش میں ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ یعنی یہ تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہے بلکہ عمر بھر جس فصل کی تم نے کاشت کی ہے یہ اسی کا حاصل تمہارے سامنے آیا ہے۔
Ayah 32:152۔ آگے کا مضمون۔ آیات 15۔ 22
اوپر کی آیات سے واضح ہوا کہ جو لوگ قرآن پر ایمان لانے سے گریز کر رہے تھے ان کے گریز کے اسباب کیا تھے۔ اب آگے کی آیات میں یہ بتایا ہے کہ کس قسم کے لوگ ہیں جو اس کتاب پر ایمان لا رہے ہیں یا لائیں گے اور ان کے لئے خدا کے ہاں کیا اجرو ثواب اور کیا مرتبہ و مقام ہے اور جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کس انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
انما یومن بایتنا الذی اذ ذکروا بھا خروا سجد وسبحوا بعمد ربھم وھم لا یستکرون (15)
یہ آیت نبی ﷺ کے لئے تسلی کے سیاق میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی دنیوی برتری کے زعم میں اپنے کو حق سے بھی بڑا سمجھے لگے ہیں ان سے کسی خیر کی امید نہ رکھو، ہماری ان آیات پر صرف وہ لوگ ایمان لائیں گے جن کے دلوں کے اندر خشیت وانابت ہے۔ ان کو جب ان کے ذریعہ سے خدا اور آخرت کی یاددہانی کی جاتی ہے تو وہ جھگڑنے کے بجائے بےتحاشا مسجدوں میں گر پڑتے اور اپنے رب کی تسبیح کرتے ہیں اس کی حمد کے ساتھ۔ یعنی ان آیات سے اثر پذیر وہ لوگ ہوں گے جن کے دلوں کے اندر قساوت نہیں پیدا ہوئی ہے۔ اس طرح کے لوگوں کے دلوں پر اگر غفلت کا کچھ غبار ہوتا ہے تو وہ تذکیر و تنبیہ سے فوراً صاف ہوجاتا ہے اور پھر وہ حق کو ایسے جوش و جذبہ کے ساتھ اختیار کرتے ہیں کہ سالوں کی منزل، دنوں میں طے کرتے ہیں۔
’ سبحوا بحمد ربھم۔ ‘ تسبیح اور حمد ‘ دونوں کے ایک ساتھ ذکر کرنے کے فائدے پر ہم دوسری جگہ روشنی ڈال چکے ہیں۔ ’ تسبیح ‘ کے اندر تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور ’ حمد ‘ کے اندر اثبات کا…خدا کی صحیح معرفت ان دونوں ہی پہلوئوں کو ملحوظ رکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی پہلو بھی نگاہوں سے اوجھل ہوجائے تو انسان خدا کے باب میں ایسی غلط فہمیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ خدا کا وجود اور عدم دونوں اس کے لئے یکساں ہو کے رہ جاتا ہے۔
’ وھم لایستکبرون ‘۔ یہ اصل گر کی بات ارشاد ہوئی ہے کہ ان لوگوں کے اندر یہ صلاحیت اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ ان میں استکبار نہیں ہے۔ استکبار کی حقیقت پر ہم دوسری جگہ روشنی ڈال چکے ہیں۔ اس کا صحیح مفہوم حق کے مقابل میں اکڑنا ہے۔ یہ بیماری ام الامراض ہے۔ جو لوگ اس مہلک مرج میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اپنی خواہشوں اور اپنی رائے کے مقابل میں کسی واضح حق کو بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو قبول حق کی صلاحیت سے بالکل ہی محروم کردیتا ہے۔ قبولِ حق کی توفیق صرف ہی لوگ پاتے ہیں جو حق، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر چیز سے بالاسمجھتے ہیں اور جب وہ ان کے سامنے آتا ہے تو خواہ کسی گوشے سے آئے، یہاں تک کہ اگر ان کا دشمن بھی اس کو پیش کرے، تو وہ فوراً اس کے آگے گردن جھکا دیتے ہیں۔
Ayah 32:16تنجانی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوف وطمعا ومما رزقنھم ینفقون (16)
یعنی ان لوگوں پر خدا کے حضور پیشی اور آخرت کے باز پس کو خوف چونکہ ہر وقت طاری رہتا ہے اس وجہ سے وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اور بستروں کی لذت و راحت سے اپنے کو محروم رکھ کر اپنے رب کو پکارتے اور اس کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ یہ ڈرتے بھی اسی سے ہیں اور امید بھی اس سے رکھتے ہیں۔ اور جو کچھ خدا نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خد ا کی راہ میں وہ خرچ کرتے ہیں۔
اس آیت میں دو چیزوں کا ذکر آیا ہے۔ ایک نماز، دوسری انفاق۔ ایمان کے بعد یہی دو چیزیں اس کے اولین مظاہر کی حیثیت رکھتی ہیں اور پھر انہی دو پر پورے دین کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اس مسئلہ پر ہم اس کتاب میں جگہ جگہ بحث کرچکے ہیں۔
Ayah 32:17فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزاء بما کانوا یعلمون (17)
یہ ان لوگوں کی شب بیداری اور انفاق کا صلہ بیان ہوا ہے کہ ان کے لئے اللہ نے آنکھوں کی جو ٹھنڈک چھپا رکھی ہے اس دنیا میں اس کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ ایک نادیدہ عالم کی زندگی کی خاطر ان لوگوں کی ان جانفشانیوں پر آج جو لوگ ہنس رہے ہیں وہ بھی اس کو دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے اور اہل ایمان بھی نہال جائیں گے کہ ان کی قربانیوں کا صلہ ان کے اندازوں اور قیاسوں سے کہیں بڑھ کر ملا۔
’ جزاء بما کانو یعملون۔ یعنی یہ جو کچھ ان کو ملے گا ان کے اپنے ہی اعمال کا صلہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان کی چند روزہ مساعی کا صلہ ایک ابدی بادشاہی کی صورت میں دے گا اور فرمائے گا کہ یہ تمہارے اپنے ہی اعمال کا صلہ ہے۔ ہر چید یہ جو کچھ ملے گا یہ ہوگا اللہ تعالیٰ کا فضل لیکن اس کو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا ثمرہ قرار دے گا اس لئے کہ آدمی کو اپنے کارناموں کے ثمرات و نتائج سے جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ کسی دوسری چیز سے نہیں حاصل ہوتی۔
Ayah 32:18افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لایستوی (18)
یہ اوپر والی بات کی دلیل ارشد ہوئی ہے کہ یہ جو کچھ کہا گیا ہے اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ایسا ہی ہوگا اور ایساہ ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس دنیا کے خالق کے نزدیک مومن اور فاسق دونوں یکساں ہیں اور وہ اپنے وفادار بندوں اور اپنے باغیوں اور غداروں میں کوئی فرق نہیں کرے گا۔ ایسا سمجھنا اس کارخانہ کائنات کے مبنی بر حکمت ہونے کی نفی اور اس کے خالق کے عادل، رحیم اور حکیم ہونے کا انکار ہے اس وجہ سے یہ بات صریحاً باطل ہے۔ دونوں خدا کے نزدیک یکساں نہیں ہوسکتے پس ضروری ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں خدا کے وفادار بندے اپنی وفاداریوں کا صلہ پائیں اور اس کے نافرمان اپنی نافرمانیوں کی سزا بھگیتیں۔
Ayah 32:19واما الذین امنوا وعملوا الصلحت فلھم جنت الماوی نذلا بما کانو یعلمون (19)
یہ اس جزا اور سزا کی تفصیل بیان فرمائی کہ جو لوگ ایمان و عمل صالح کی زندگی بسر کری گے ان کے لئے راحت کے باغ ہوں گے جو ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں اولین سامان میزبانی کی حیثیت سے ملیں گے۔ نزل اس سامانِ ضیافت کو کہتے ہیں جو مہمان کے سامنے اس کے مرکب سے اترتے ہی پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ جنات الماوی ‘ سے مراد وہ جنتیں ہیں جن میں یہ اہل ایمان اول اول اتارے جائیں گے۔ وہاں ان کی ابتدائی ضیافت ہوگی اور پھر وہ اصل جنت میں بھیجے جائیں گے۔ گویا ان باغوں کی حیثیت اہل جنت کے لئے (Rest House) کی ہوگی اور اس کے جمع لانے سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ باغ تمام اہل جنت کے لئے الگ الگ ہوں گے۔ سورة نجم کی آیت 15 سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ جنت الماوی، سدرۃ المنتھی ‘ کے پاس ہے اور ’ سدرۃ المنتھی ‘ عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے درمیان آخری نقطہ اتصال ہے اس وجہ سے اگر اس کے پاس جنات الماوی ہوں تو یہ ان کے لئے موزوں ترین مقام ہے۔ یہ امور غیب کی باتیں ہیں، ان کے باب میں کوئی بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے لفظ ’ نزل ‘ کے مقتضیات کی وضاحت کے لئے لکھا ہے۔ انشاء اللہ سورة نجم کی تفسیر میں جنت ا۔۔۔ ‘ پر مزید بحث آئے گی۔
Ayah 32:20واما الذین فسقوا فماولھم النار کلما ارادوا ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا وقیل لھم ذوقوا عذاب النار الذی کنتم بہ تکذبون (20)
اہل ایمان کی جزا بیان کرنے کے بعد یہ فساد و فجار کی سزا کا بیان ہے۔ فرمایا کہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہوگی۔ یہ اس میں سیدھے دھکیل دیے جائیں گے۔ دوخ میں ان کے لئے اولین سامانِ ضیافت، قرآن کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ کھولتا ہوا پانی اور زقوم ہوگا۔ یہ وہاں سے نکلنے کے لئے زور لگائیں گے لیکن جب جب نکلنے کی کوشش کریں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اب یہاں سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ یہ وہی دوزخ اور اس کا عذاب ہے جس کا تم مذاق اڑاتے رہے تھے۔ اب اس کا مزا چکھو !
Ayah 32:21ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون (21)
’ عذاب ادنی ‘ سے مراد اس دنیا کا عذاب ہے جو تذکیر و تنبیہ کے لئے آتا ہے۔ اوپر کی آیات میں ’ عذاب اکبر ‘ کا ذکر تھا جس سے کفار کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا۔ فرمایا اس ’ عذاب اکبر ‘ سے پہلے اس دنیا میں بھی ہم ان لوگوں کو اپنے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ ان لوگوں سے مراد ظاہر ہے کہ قریش ہیں۔ یہاں جو باتیں فرمائی گئی ہیں اگرچہ عام الفاط میں فرمائی گئی ہیں لیکن ان کے اول مخاطب قریش ہی ہیں۔ ان کو دھمکی دی ہے کہ وہ متنبہ رہیں کہ اس دنیا میں بھی ان کو سزا ملے گی اور مقصود اس سے یہ ہوگا کہ وہ اپنی غلط روش سے باز آئیں اور صحیح زندگی کی طرف پلٹیں۔ اس عذاب ادنی کا سلسلہ قریش کے لئے غزوہ بدر سے شروع ہوا جس میں ان کو پہلا چرکا لگا اور ان کے بڑے برے سردار مارے گئے۔ پھر یکے بعد دیگرے اسی طرح کے حالات سے ان کو سابقہ پیش آتا رہا۔ یہاں تک کہ فتح مکہ کے موقع پر ان کی قوت ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔ ان کے اندر جو اچھے لوگ تھے وہ آہستہ آہستہ حلقہ بگوش اسلا ہوگئے اور جو اشرار و مفسدین تھے وہ بالتدریج ختم ہوگئے۔ چونکہ ان کی اکثریت آنحضرت ﷺ پر ایمان لائی اس وجہ سے ان پر کوئی اس قسم کا فیصلہ کن عذاب نہیں آیا جس قسم کے عذاب پچھلی قوموں پر آئے بلکہ یہ صرف تنبیہ کرکے چھوڑ دیے گئے، جیسا کہ لعلھم یرجعون کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے۔
Ayah 32:22ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ ثم اعرض عنھا انا من المجرمین منتقمون (22)
اوپر کی آیت میں عذاب کی جو دھمکی دی ہے یہ اس کی وجہ بیان فرمائی ہے کہ آخر ہم ان کو عذاب کیوں نہ دیں ! ان سے بڑھ کر ظالم و مجرم کون ہوسکتا ہے جن کو ہماری آیات کے ذریعہ سے تذکیر و تنبیہ کی جائے اور وہ ان سے روگردانی کریں ! تذکیر و تنبیہ کا سب سے بڑا ذریعہ خدا کی کتاب اور اس کا رسول ہی ہوسکتا ہے۔ جو لوگ اس آخری ذریعہ تذکیر و تنبیہ سے بھی نہ جاگے اب سنت الٰہی کے تحت ان کے جگانے کے لئے کوئی دوسری چیز باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اب لاریب وہ مجرم ہیں اور ہم ایسے مجرموں سے لازماً انتقام لے کے رہیں گے۔ کسی قوم میں رسول کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ اس قوم کے ساتھ جو معاملہ کرتا ہے اس کی وضاحت ہم اس کتاب میں جگہ جگہ کرتے آئے ہیں۔ اس آیت کو اس کی روشنی میں سمجھئے۔
Ayahs 32:23–244۔ آگے کا مضمون۔ آیات 23۔ 30
آگئے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ اوپر کے پیرے میں قریش کو یہ دھمکی جو دی ہے کہ ہدایت کے اتارنے کے بعد اگر وہ اس پر ایمان نہ لائے تو لازماً وہ اس دنیا میں بھی خدا کے عذاب سے دو چار ہوں گے اور آخرت میں بھی ان کو عذاب سے سابقہ پیش آئے گا۔ آگے کی آیات میں اسی حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں مبرہن کیا ہے اور آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کو بشارت دی ہے کہ اگر وہ ثابت قدرم رہے تو بالآخر کامیابی انہی کو حاصل ہوگی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
5۔ الفاط کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ولقد اتینا موسیٰ الکتب فلا تکن فی مریۃ من تقابہ وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل وجعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا لما صبروا تن و کانوا بایتنا یوقنون (23۔ 24)
’ الکتب ‘ سے مراد تورات ہے۔ جن لوگوں نے اس کو جنس کتاب کے مفہوم میں لیا ہے ان کی رائے قرآن کو تصریح کے خلاف ہے۔ ’ فجعلنہ ‘ میں ضمیر کا مرجع بہرحال یہی کتاب ہے اور اس کی تعریف یہ بیان ہوئی ہے کہ اس کو ہم نے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا ‘۔ اس تعریف نے خود متعین کردیا کہ یہ لفظ جنس کتاب کے مفہوم میں نہیں بلکہ تورات کے لئے استعمال ہوا ہے۔
’ من لقائۃ ‘ میں جمیر کا مرجع سیاق وسباق دلیل ہے کہ الکتب نہیں بلکہ وہ یوم انتقال یا یوم عذاب ہے جس کی دھمکی اوپر کی آیات 21۔ 23 میں دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اس کی تکذیب کرنے والوں کو ہم نے اس دنیا میں بھی عذاب دیا اور آخرت میں بھی ان کو عذاب دیں گے اسی طرح ہم نے تمہارے ذریعے سے جو کتاب اتاری ہے اس کی تکذیب کرنے والوں کو بھی ہم دنیا اور آخرت دونوں میں سزا دیں گے۔
’ فلاتکن فر مریۃ من لقائہ۔ یعنی اس یوم انتقام اور یوم عذاب کے ظہور کے باب میں تم کسی شک میں نہ ہرو۔ یہ فیصلہ کی گھڑی آکے رہے گی۔ اس جملہ کا خطاب اگرچہ ظاہر الفاظ کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اس میں جو وعید ہے اس کا رخ مخالفین و مکذبین کی طرف ہے، گویا بات ان سے منہ پھیر کر کہی گئی ہے۔
یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ رسول کی بعثت اور کتاب کی نزول کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ جو لوگ اس کی تکذیب کریں وہ دنیا و آخرت دونوں میں اس کی سزا پائیں۔ اسی حقیقت کو اسی اختصار و جامعیت کے ساتھ دوسرے مقام میں اس طرح بیان فرمایا ہے :
ولقد اتینا موسیٰ الکتب وجعلنا معہ اخاہ ھرون وزیرا نقلنا اذھبا الی القوم اللذین کذبوا بایتینا فدمرنھم تد میرا (الفرقان : 35۔ 36)
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو اس کا وزیر بنایا اور ان کو حکم دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کے پاس جائو جنہوں نے ہماری نشانیوں کی تکذیب کی ہے۔ پس ہم نے ان کو پامالی کرکے رکھ دیا۔
یہی مضمون سورة مومنون میں یوں آیا ہے :
فکذبوھما فکانوامن المھلکین ولقد اتینا موسیٰ الکتب لعلھم یھتدون۔ (المومنون : 48۔ 49)
پس ان دونوں کی (موسیٰ اور ہارون کی) انہوں نے تکذیب کردی اور ہلاک ہونے والوں میں سے بنے اور ہم نے موسیٰ کو کتاب سے نوازا کہ وہ ہدایت پانے والے بنیں۔
یہی بات ایک کلیہ کے طور پر تمام رسولوں سے متعلق بھی ارشاد ہوئی ہے :
ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الی قومھم فجاء وھم بانبینت فانتقمنا من الذین اجرموا وکان لقا علینا نصرا المومنین (الروم : 37)
اور ہم نے تم سے پہلے بھی رسول بھیجے ان کی قوموں کی طرف تو وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ بالآخر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جو جرم کے مرتکب ہوئے اور اہل ایمان کی مدد ہم پر واجب ہے۔
ان نظائر کی روشنی میں آیت زیربحث پر غور کیجئے تو اس کا ہر جزو پوری طرح واضح ہوجائے گا۔ ہمارے مفسرین نے اس کو چونکہ اس کے سیاق وسباق اور اس کے شواہد کی روشنی میں نہیں دیکھا اس وہ سے اس کی تاویل میں ان کو بڑی الجھن پیش آئی ہے۔
’ وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل ‘ یعنی تورات کے مکذبین تو اس انجام سے دوچار ہوئے جو کتاب الٰہی کے مکذبین کے لئے ازل سے مقدر رہے البتہ بنی اسرائیل کے لئے، جنہوں نے اس کو قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو صحیفہ ہدایت بنایا۔ بدقسمتوں نے اس سے ٹھوکر کھائی اور جنہوں نے اس کی قدر کی انہوں نے اسی سے ہدایت حاصل کی۔ اوپر سورة مومنون کی جس آیت کا حوالہ گزرا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے۔
’ وجعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا لما صبروا۔ ‘ یہ اس کتاب کا ثمرہ بیان ہوا ہے کہ اس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ان کو قوموں کی پیشوائی اور قیادت کے منصب پر سرفراز فرمایا اور ان کے اندر ایسے رہنما اٹھائے جو لوگوں کی رہنمائی اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ قیادت و امامت کتاب الٰہی کے لازمی ثمرات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جس قوم کو اپنی کتاب سے سرفراز فرماتا ہے وہ جب تک اس کتاب پر قائم رہتی ہے اس کو قوموں کی امامت حاصل رہتی ہے اور اس کے دشمن اس کے آگے ذلیل و پامال ہوتے ہیں۔
یھدون بامرنا لما صبروا۔ یہ اس امامت کے شرائط و اوصاف بیان ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی کتاب عطا کی تھی اس وجہ سے وہ اللہ کے حکم کے مطابق ہی لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ یہ نہیں تھا کہ بغل میں تو اللہ کی کتاب ہو اور آگے پیروی کے ئے سنتِ ابلیس ہو۔
’ لما صبروا ‘ یہ اس بنیاد کا ذکر ہے جس پر ساری شریعت قائم ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کی توفیق انہوں نے اس وقت تک پائی جب تک وہ شریعت پر خوف و طمع سے بےنیاز ہو کر، جمے رہے۔
’ وکانو بایتنا یوقنون۔ یہ ان کے صبر کی اساس و بنیاد کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو اللہ کی آیات پر پختہ یقین تھا اور وہ جزا و سزا پر مضبوط عقیدہ رکھتے تھے۔ اس وہ سے وہ صبر کے اس امتحان میں پورے اترے۔
ان آیات پر تدبرکیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان میں مسلمانوں کے لئے بشارت اور مستبقل کی عظیم ذمہ داریوں کی یاددہانی بھی ہے اور وقت کے یہود پر تعریض بھی کہ وہ کیا بنائے گئے تھے اور اب کیا بن کے رہ گئے ہیں !
Ayah 32:25ان ربک ھو یفصل بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون (25)
یعنی اس دنیا کے بعد ان کا معاملہ خدا کی اخروی عدالت میں بھی پیش ہوگا اور وہ ان تمام چیزوں کے باب میں آخری فیصلہ فرمائے گا جن میں یہ اختلاف کررہے ہیں۔ ’ فیصلہ فرمائے گا ‘ سے مقصود اس کا نتیجہ ہے کہ اس دن یہ اپنے اس اختلاف و نزاع کی سزا بھگتیں گے۔
Ayah 32:26اولم یھدلھم کم اھلکنا من قبلھم من القرون یمشون فی مساکنھم ان فی ذلک لایت افلا یسمعون (26)
حضرت موسیٰ کے مخالفین کے انجام کی طرف خاص طور پر اشارہ کرنے کے بعد یہ پچھلی قوموں کی طرف بھی اجمالاً اشارہ کردیا کہ کیا ان کی رہنمائی کے لئے یہ چیز کافی نہی ہوئی کہ ان سے پہلے ہم کتنی قوموں کو رسولوں کی تکذیب کے جرم میں ہلاک کرچکے ہیں جن کی بستیوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ یہ اشارہ عادو ثمود او قوم لوط وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں بیان ہوچکی ہیں۔ قریش اپنے تجارتی سفروں میں ان قوموں کی برباد بستیوں پر سے برابر گزرتے تھے۔ اولم یھدلھم کے اسلوب کلام سے یہ بات نکلتی ہے کہ آخر یہ اپنے ہی ملک کی تاریخ سے سبق کیوں نہیں لیتے ! کیوں یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ ان پر گزرا وہی کچھ ان پر بھی گزر جائے !
’ ان فی ذلک لایت ‘۔ یعنی ان سرگزشتوں کے اندر نشانیاں ہیں۔ اگر یہ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں تو انہیں ان نشانیوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
پہلی نشانی اس کے اندر اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعے سے یاددہانی کرتا ہے اگر وہ اس سے اعتراض کرتے ہیں تو وہ مجرم قرار پاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے ضرور انتقام لیتا ہے۔
دوسری نشانی اس کے اندر یہ ہے کہ اس قسم کے مجرموں کو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی عذاب دیتا ہے اور اس کے بعد آخرت میں بھی ان کو عذاب دے گا۔
تیسری نشانی یہ ہے کہ مجرموں کو سزا دینے کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قیادت و امامت کے منصب پر سرفراز فرماتا ہے جو پورے استقلال کے ساتھ حق کا ساتھ دیتے ہیں۔
’ افلا یسمعون ‘۔ یعنی کیا یہ لوگ ان قوموں کی سرگزشتیں سنتے نہیں ! مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی تذکیر وتعلیم ہی کی خاطر قرآن نے ان قوموں کی سرگزشتیں نہایت تفصیل کے ساتھ، ان کے نتائج و عبر کی وضاحت کرتے ہوئے سنائی ہیں۔ اگر اب بھی یہ پنے کان بند کئے ہوئے ہیں تو ان کی بدقسمتی پر افسوس ہے ! سننا ‘ یہاں سمجھنے اور عبرت حاصل کرنے کے مفہوم میں ہے اس لئے کہ اصل سننا درحقیقت وہی ہے۔ گویا فعل یہاں اپنے حقیقی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 32:27اولم یروا انما نسوق الماء الی الارض الجرز فنخرج بہ زرعا تاکل منہ انعامھم وانفسھم افلا یبصرون (27)
’ الماء ‘ سے یہاں مراد چونکہ پانی والے بادل ہیں اس وجہ سے اس کے لئے لفظ نسوق کا استعمال موزوں ہوا۔ ’ ارض جرز ‘ چٹیل اور بنجر زمین کو کہتے ہیں۔
اوپر کی آیات میں ان تاریخی آثار و واقعات کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس دنیا میں خدا کے قانون مجازات کے شاہد ہیں۔ اب یہ آخرت کی طرف توجہ دلائی کہ اس کے وقوع کو بھی بعید از امکان نہ سمجھو، وہ بھی واقع ہو کے رہے گی اور اس دن اللہ تعالیٰ اپنا آکری فیصلہ صادر فرمائے گا۔ فرمایا کہ کیا یہ لوگ خدا کی اس قدرت و ربوبیت کو نہیں دیکھتے کہ ہم پانی سے بوجھل بادلوں کو ہانک کر چٹیل زمیوں کی طرف لے جاتے ہیں اور پھر اس پانی سے مختلف قسم کی فصلیں اگاتے ہیں جو ان کے مویشیوں کے کام بھی آتی ہیں اور خود ان کے کام بھی !
’ افلا یبصرون ‘۔ اوپر کی آیت میں ان کو عدم سماعت پر ملامت کی ہے۔ یہ ان کی عدم بصارت پر ملامت ہے کہ جس طرح ان کے کان بہرے ہوچکے ہیں اسی طرح ان کی آنکھوں کی بصارت بھی سلب ہوچکی ہے۔ یہ اس زمین کو مردہ اور زندہ ہوتے آئے دن دیکھتے ہیں لیکن پھر بھی یہ اس شک میں مبتلا ہیں کہ خدا ان کو اس سے دوبارہ اٹھا سکنے پر قادر نہیں ہے۔
اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور ربوبیت کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔ اور یہ دونوں صفتیں قیامت کے وقوع اور اس کی ضرورت کی نہایت واضح دلیلوں میں سے ہیں۔ ان کی وضاحت پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔
Ayah 32:28ویقولون متی ھذا الفتح ان کتنم صدقین (28)
یعنی ان لوگوں کی بےبصیرتی اور بلاوت کا حال یہ ہے کہ تاریخ اور آفاق کے ان سارے شواہد و آثار کی طرف جب ان کو توجہ دلائی جاتی ہے تو طنز و استہزا کے انداز میں یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر سچ مچ اسی طرح کے فیصلہ کو کوئی دن آنا ہے اور تم لوگ اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو وہ آخر آکیوں نہیں جاتا ! مطلب یہ ہوا کہ وہ کسی چیز کو دلائل و شواہد کی روشنی میں ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ اس وقت مانیں گے جب آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
Ayah 32:29قل یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ایمانھم ولا ھم ینظرون (29)
یہ ان کے مطالبے کا جواب ہے کہ اگر وہ فیصلہ کے دن کو دیکھ کر ایمان لانا چاہتے ہیں تو ان کو بتا دو کہ اس کے ظہور کے بعد ایمان لانا کسی کے لئے کچھ نافع نہیں ہوگا اور اس کے بعد کسی کو اس بات کی مہلت بھی نہیں دی جائے گی کہ وہ توبہ و اصلاح کرکے تلافیٔ مافات کرسکے۔ ’ یوم الفتح ‘ سے مراد فیصلہ کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے آگاہ کیا ہے۔ ایک قیامت کے عذاب سے، دوسرے اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں قوم پر فیصلہ کن عذاب کی شکل میں آتا ہے۔ اوپر جو سنت الٰہی بیان ہوئی ہے وہ ان دونوں ہی صورتوں میں قوم پر فیصلہ کن عذاب کی شکل میں آتا ہے۔ اوپر جو سنت الٰہی بیان ہوئی ہے وہ ان دونوں ہی صورتوں سے متعلق ہے۔ جس طرح قیامت کے ظہور کے بعد کسی کا یمان نافع نہیں ہوگا اسی طرح فیصلہ کن عذاب کے ظہور کے بعد بھی کسی کا ایمان نافع نہیں ہوگا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول صرف وہ ایمان ہے جو عقل و بصیرت کی رہنمائی میں، اختیار و ارادہ کی آزادی کے ساتھ، لایا گیا ہو۔ مجبورانہ ایما کی اس کے ہاں کوئی دقعت نہیں ہے۔ اگر مجبورانہ ایمان اس کو پسند ہوتا تو، جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا ہے، وہ سب کو ایمان ہی پر پیدا کرتا۔ اس کے لئے ایسا کرنا ذرا بھی مشکل نہیں تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔
Ayah 32:30فاعرض عنھم وانتظر انھم منتظرون (30)
یہ آخر میں نبی ﷺ کو ہدایت ہے کہ اگر یہ لوگ فیصلہ کا دن دیکھنے ہی کے لئے مچلے ہوئے ہیں تو اب ان سے کوئی مزید بحث و گفتگو بالکل بےسود ہے۔ اب ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ اور تم بھی اسی فیصلہ کے دن کا انتظار کرو جس کے یہ منتظر ہیں۔ اللہ نے جتنی مہلت ان کے لئے مقدر کی ہے اس کے پورے ہوجانے کے بعد یہ گھڑی آجائے گی۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فللہ الحمد والمنۃ۔
ہفتہ، 9 بجے دن، 17 اگست، 1974ء، رحمان آباد۔