Ayah 31:11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
الم (1)
حروفِ مقطعات پر ایک جامع بحث سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 31:2–3تلک آیت الکتب الحکیم۔ ھدی ورحمتہ للمحسنین (2۔ 3)
تلک کا اشارہ الم کی طرف ہے۔ اس سورة کا قرآنی نام یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورة ایک پُر حکمت کتاب کی آیات پر مشتمل ہے لیکن حکمت کے جواہر ریزوں کا قدردان ہر شخص نہیں ہوتا۔ ان کی قدر کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو ’ محسن ‘ ہوں گے۔ ’ محسن ‘ سے مراد وہ خوب کار لوگ ہیں جنہوں نے اپنے سوچنے سمجھنے کی قوتوں سے صحیح کام لیا، اپنی فطرت کی صلاحیتوں کو زندہ رکھا اور اپنی بصیرت کے حد تک جو قدم بھی اٹھایا صحیح سمت میں اٹھایا۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لئے یہ آیات ہدایت اور رحمت ہیں۔ وہ دنیا میں ان سے ہدایت حاصل کریں گے اور آخرت میں ان کے لئے یہ باعث فضل و رحمت ہوں گی۔ لفظ محسن پر ہم پیچھے بھی اس کتاب میں بحث کرچکے ہیں اور آگے آیت 22 میں بھی یہ آرہا ہے۔ وہاں انشاء اللہ اس کی مزید وضاحت ہوجائے گی۔ اس تمہید ہی سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو لوگ اس کتاب کی ناقدری کر رہے ہیں ان کی یہ ناقدری اس کتاب کے بےقیمت ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ ان ناقدروں کی فطرت کے مسخ ہونے کی دلیل ہے۔ اس وجہ سے پیغمبر ﷺ کو ان لوگوں کے رویے سے بددل نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 31:4الذین یقیمون الصلوۃ ویوتون الذکوۃ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون (4)
یہ محسنین کی صفات بیان ہوئی ہیں اور ان کے پردے ہیں وہ لوگ نگاہوں کے سامنے کردیے گئے ہیں جو اس وقت اس لفظ کے صحیح مصداق تھے۔ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں۔
’ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون ‘ میں ان اہل ایمان کی غایت درجہ تحسین ہے۔ یعنی درحقیقت یہی لوگ ہیں جو آخرت پر پکا یقین رکھنے والے ہیں۔ اسی یقین کا یہ ثمرہ ہے کہ ان کو نماز اور زکوٰۃ کے اہتمام کی توفیق حاصل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ نماز اور زکوٰۃ سے غافل ہیں وہ درحقیقت آخرت کے یقین سے محروم ہیں اور اگر وہ اس کے مدعی ہیں تو اپنے دعوے پر جھوٹے ہیں۔
Ayah 31:5اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون (5)
فرمایا کہ یہی لوگ اس دنیا میں اپنے رب کی صراط مستقیم پر ہیں اور یہی لوگ آخرت میں فلاح پانے والے بنیں گے۔ باقی سارے لوگ گمراہی پر ہیں اور وہ آخرت میں جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔
Ayah 31:6ومن الناس من یشتری لھوا لحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ویتخذھا ھزوا اولئک لھم عذاب مھین۔ (6)
’ اشترو ‘ کے معنی، جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، ترجیح دینے کے بھی آتے ہیں۔ لھو الحدیث ‘ اسی طرح کی ترکیب ہیجس طرح دوسرے مقام میں ’ زخرف القولہ ‘ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ یہاں یہ لفظ کتاب حکیم کی آیات کے مقابل میں استعمال ہوا ہے۔ اس وجہ سے اس سے مراد وہ گمراہ کن باتیں ہیں جو وقت کے مفسدین لوگوں کو آیات الٰہی سے برگشتہ کرنے کے لئے پھیلاتے تھے۔ قرآن لوگوں کو زندگی کے اصل حقائق کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا تھا لیکن مخالفین کی کوشش یہ تھی کہ لوگ انہی مزخرفات میں پھنسے رہیں جن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہاں اسی صورت حال کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور اسلوبِ بیان اظہار تعجب کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو لوگوں کی ہدایت کے لئے ایک پر حکمت کتاب اتاری ہے لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان میں بہتریے اس کے مقابل میں انہی فضول باتوں کو ترجیح دیتے ہیں جو ان کی خواہشوں اور بدعتوں کے لئے سند تصدیق فراہم کرتی ہیں۔
’ لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ویتخذھا ھزوا۔ ’ علم ‘ سے مراد دلیل وبرہان ہے۔ آگے آیت 30 میں بھی یہ لفظ آرہا ہے۔ وہاں اس کی مزید وضاحت ہوجائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ مفسدین کی یہ تمام سععی نامراد اس لئے ہے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں حالانکہ اللہ کی راہ چھوڑ کر جس راہ پر وہ چل رہے ہیں اور جس پر لوگوں کو بھی چلانا چاہتے ہیں اس کے حق میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جسارت کا یہ عالم ہے کہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے اور اپنی بےسروپات باتوں کی تائید میں آسمان و زمین کے قلابے ملاتے ہیں۔
’ اولئک لھم عذاب مھین۔ ‘ اوپر اہل ایمان کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہی لوگ ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے ؟ اس کے مقابل میں یہ ان لوگوں کو انجام بیان فرمایا جو قرآن کی آیات حکمت کے مقابل میں اپنی خرافات بدعت و ضلالت کو پھیلانے میں سرگرم تھے۔ فرمایا کہ ان کے لئے ایک نہایت سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔ ’ ذلیل کرنے والا عذاب ‘ اس وجہ سے ہوگا کہ حق کے مقابل میں اپنی بات کی پچ استکبار ہے اور استکبار کی سزا اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلت و رسوائی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوط رہے کہ عذاب اور عذاب میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یوں تو ہر عذاب عذاب ہے، اللہ تعالیٰ اس سے امان میں رکھے، لیکن سب سے زیادہ سخت وہ عذاب ہے جو رسوا کردینے والا ہو۔
Ayah 31:7واذا تتلی علیہ ایتنا ولی متکبرا کان تم یسمعھا کان فی اذنیہ وقرا۔ فبشرہ بعذاب الیم (7)
یہ ان لوگوں کے اس اشکبار کی تصویر ہے جس کے سبب سے یہ ذلت کے عذاب کے مستحق ہوں گے۔ فرمایا کہ ان کا حال یہ ہے کہ جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ نہایت غرور کے ساتھ اس طرح پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں گویا انہوں نے ان کو سرے سے سنا ہی نہیں، گویا ان کے دونوں کان بہرے ہیں۔ یعنی یہ ہماری آیات کو یک قالم ناقابلِ التفات سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ان کا پندار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ہماری باتیں ان کے لئے لائق توجہ ہی نہیں رہ گئی ہیں تو پھر ہماری طرف سے ان کو ایک درد ناک عذبا کی خوش خبری سنادو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر معاملہ مجرد غفلت کا ہو تو اس کی اصلاح تذکری و تنبیہ سے ہوسکتی ہے لیکن جب تذکیر و تنبیہ کے جواب میں رعونت و استکبار کا مظاہرہ ہونے لگے تو یہ مرض لاعلاج ہے۔ اس طرح کے لوگ دوزخ ہی کا ایندھن بننے والے ہیں۔
Ayahs 31:8–9ان الذین امنوا وعملو الصلحت لھم جنت النعیم۔ خلدین فیھا وعد اللہ حقا وھو العزیز الحکیم (8۔ 9)
یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے اور ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو بنانے اور سنوارنے والے ہیں۔ فرمایا کہ ان کے لئے نعمت کے باغ ہوں گے جن میں ہمیشہ رہیں گے۔ ’ وعد اللہ حقا ‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے جو پورا ہو کے رہے گا۔ اس جملے میں تاکید در تاکید کا جو مضمون مضمر ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اوپر آیت 6 میں ذکر ہوچکا ہے کہ متکبرین اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے استہزا کا خاص ہدف وہ آیتیں تھیں جن میں اس دور کے لئے بےبس اور غریب مسلمانوں کو ایک ابدی بادشاہی کی خوش خبری سنائی جاتی تھی۔ معاملے کا یہ پہلو مقتضی ہوا کہ یہ بات پورے زور اور تاکید سے کہی جائے کہ مذاق اڑانے والے اگر اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو اڑائی لیکن اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ اللہ کا یہ وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔
’ وھو العزیز الحکیم ‘۔ یہ اسی وعدے کے حتمی ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات سے دلیل پیش کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر مستکبروں اور ظالموں کو سزا اور ایمان و عمل صالح والوں کو جزا نہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ نہ وہ عزیز ہے نہ حکیم ہے بلکہ العیاذ باللہ وہ ایک بالکل عاجز و بےبس ہستی ہے جس نے بالکل بےغایت و بےحکمت یہ دنیا بناڈالی۔ حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ خدا نہ صرف عزیز و حکیم ہے بلکہ حقیقی عزیز و حکیم وہی ہے۔ اس طرز استدلال کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ یہاں اشارے پر اکتفا فرمائیے۔
Ayah 31:10خلق السموات بغیر عمد ترونھا والقی فی الارض رواسی ان تمید بکم وبث فیھا من کلہ دابۃ وانزلنا من السماء ما ئا بانبتتا فیھا من کل زوج کریم (10)
یہ اس کائنات کے ان دلائل و شواہد کی طرف توجہ دلائی ہے جن پر ایک نظر ڈال کر ایک متوسط درجہ کی عقل کا آدمی بھی، یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ اس کائنات کا خالق عزیز یعنی ہر چیز پر غالب ومقتدر بھی ہے اور اس کے ہر کام میں اس کی قدرت کے ساتھ اس کی بےپایاں حکمت بھی نمایاں ہے۔ فرمایا کہ یہ اسی کی قدرت و حکمت ہے کہ اس نے آسمانوں کی یہ عظیم چھت ایسے ستونوں کے بغیر ہی کھڑی کردی جو تمہیں نظر آئیں اور ساتھ ہی زمین میں پہاڑ لنگر انداز کردیے کہ یہ کہیں تمہارے ساتھ لڑکھ نہ جائے۔ پھر اس چھت کے نیچے اور اس زمین کے اوپر بیشمار قسم کے جاندار پھیلا دیے اور ان کی پرورش کے لیے آسمان سے پانی برسایا اور اس پانی سے ہر قسم کی فیض بخش چیزیں اگائیں۔
بغیر عمد ترونھا ‘ میں ترونھا ’ عمدا ‘ کی صفت ہے۔ یعنی یہ عظیم چھت اس کے عظیم خالق نے کھڑی تو کی ہے ستونوں پر لیکن یہ اس کی قدرت، حکمت اور کاریگری کا اعجاز ہے کہ یہ ستون کسی کو نظر نہیں آتے۔ اس نے اس کائنات کے اجائے مختلفہ کو جذب و کشش کے ایسے قوانین کے ساتھ باندھ رکھا ہے جو صرف اسی کو نظر آتے ہیں۔
’ زوج کریم ‘ میں لفظ ’ کریم ‘ کا صحیح لغوی مفہوم فیض بخش ہے۔ یہ خدا کی قدرت کے ساتھ ساتھ اس کی رحمت و ربوبیت کی طرف اشارہ ہے کہ اس نے یہ عظیم محل اور یہ قصر بےستون تعمیر کرکے اس کے مکینوں کی پرورش کے لئے اپنی گوناگوں نعمتوں کے انبار بھی لگا دیے۔
Ayah 31:11ھل خلق اللہ فارونی ماذ خلق ؒ اذین من دونہ۔ بل الظلمون فی ضلل مبین (11)
مطلب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں تو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور تم کو بھی یہ اعتراف ہے کہ یہ اللہ کی بنائی ہوئی ہیں تو اب بتائو کہ تم اس کے سوا دوسری چیزوں کو جو پوجتے ہو تو انہوں نے کیا پیدا کیا ہے اور ان کا کیا کارنامہ ہے کہ تم نے خدا کی خدائی اور اس کے حقوق میں ان کو بھی شریک بنا دیا ہے !
’ بل الظلمون فی ضلل مبین ‘۔ یہ ان سے منہ پھیر کر ان کے حال پر اظہار افسوس فرمایا ہے کہ ان ظالموں کے پاس اس حرکت کے جواز کی کوئی دلیل تو ہے نہیں جسے وہ پیش کرسکیں بلکہ ایک کھلی ہوئی گمراہی ہے جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 31:122۔ آگے کا مضمون۔ آیات 12۔ 19
آگے لقمان کی حکمت اور ان کی ان حکیمانہ نصیحتوں کا حوالہ ہے جو انہوں نے اپنے سعادتمند فرزند کو فرمائی ہیں ور ان کے حوالے سے مقصود۔ جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا، اہل عرب کے سامنے خود ان کے حکماء اور ان کی حکمت کو پیش کرکے یہ دکھانا ہے کہ تمہارے اندر جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی حکمت و معرفت میں سے کچھ حصہ ملا انہوں نے بھی اپنے متعلقین کو انہی باتوں کی تعلیم دی جنکی تعلیم تم کو یہ پر حکمت کتاب دے رہی ہے، لیکن یہ تمہاری بدبختی و محرومی یہ کہ تم اپنے آبائو اجداد کی اندھی تقلید پر تو بہت نازاں ہو، جنہوں نے بےسوچے سمجھے شیطان کی پیروی کی لیکن اپنے ان اسلاف کی حکمت سے تم نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جنہوں نے زندگی کے حقائق پر سنجیدگی سے غور کیا اور اپنے قول و عمل سے اپنے بعد والوں کے لئے نہایت پاکیزہ روایات چھوڑیں۔ اس بےخردی کا نتیجہ تمہارے سامنے یہ آیا کہ جن باتوں کی لقمان اپنے فرزند کو نہایت دردمندی کے ساتھ تعلیم دیتے تھے انہی باتوں سے آج تم اپنی اولاد کو روکنے کے لئے نہایت ظالمانہ سزائیں دیتے ہو۔
یہ لقمان کون تھے ؟ بعض لوگوں نے ان کو حبشی النسل قرار دیا ہے لیکن یہ بات ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ محمد بن اسحاق نے ان کا نسب سیدنا ابراہیم ؑ سے ملایا ہے۔ لیکن یہ بات بھی صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ شعرائے جاہلیت میں سے طرفہ بن عبد اور سلمیٰ بن ربیعہ نے اپنے شعروں میں ان کا اور ان کے قبیلہ کا ذکر کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یمن میں ان کو اور ان کی قوم کو بڑی شان و شوکت حاصل تھی اور یہ قوم عاد کے بقایا میں سے تھے۔
بعض لوگوں نے ان کو نبی قرار دیا ہے لیکن مذہب جمہوریہ ہے کہ یہ نبی نہیں بلکہ ایک حکیم تھے۔ عرب کے لٹریچر سے بھی اسی بات کی تائید ہوتی ہے اور قرآن نے بھی ان کا ذکر ایک حکیم ہی کی حیثیت سے کیا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ بعض شعراء نے اپنے شعروں میں ان کی اس نصیحت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جس کا حوالہ قرآن نے دیا ہے لیکن دمِ تحریر میرے پاس حوالہ کی کتابیں نہیں ہیں اس وجہ سے میں اس باتب میں کوئی بات وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا۔
بعض مورخین نے ان کو بادشاہ مانا ہے۔ بادشاہ نہ سہی لیکن ان کو سرداری کا منصب ضرور حاصل تھا۔ شعرائے جاہلیت نے جس انداز سے ان کا ذکر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یمن میں اپنے قبیلہ پر ایک پدر سرانہ قسم کی سرداری حاصل تھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں فرمائی ہیں۔ ان سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ نصحیتیں اس کو سرداری کی ذمہ داریاں سونپتے وقت کی ہیں۔ آگے اس کی وضاحت آئے گی…اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ولقد اتینا لقمن الحکمۃ ان اشکر اللہ ومن یشکرفانما یشکر لنفہ ومن کفرفان اللہ غنی حمید (12)
حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔ اللہ اپنے جس بندے کو اس دولت سے بہرہ مند کرتا ہے اس کا اولین اثر جو اس پر مترتب ہوتا ہے وہ یہی یہ کہ وہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے، اور یہی شکر تمام حقوق اللہ اور تمام حقوق العباد کی معرفت کی بنیاد ہے۔ سورة فاتحہ کی تفسیر میں ہم اس پر مفصل گفتگو کرچکے ہیں۔ حضرت دائود، ؑ حضرت سلیمان ؑ اور ذوالقرنین کے واقعات کے سلسلہ میں بھی اس حقیقت کی طرف مفید اشارات گزر چکے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کے صاحب حکمت اور حکیم ہونے کی اولین شناخت یہ ہے کہ اس کے اندر اپنے رب کی شکر گزاری ہو۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو وہ بالکل کھوکھلا ہے، اگرچہ وہ علم و فلسفہ کا کتنا ہی بڑا ماہر اور امام کیوں نہ سمجھا جاتا ہو۔
ومن یشکر فانما یشکر لنفسہ ومن کفرفان اللہ غنی حمید۔ یہ برسر موقع ایک دفع دخل مقتدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہ گمان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں سے اپنی شکر گزاری کو جو مطالبہ کیا ہے یا اس کو جو اس نے پسند فرمایا ہے تو اس میں اس کا کوئی نفع ہے بلکہ اس کو اس نے بندوں ہی کے نفع کے لئے پسند فرمایا ہے۔ جو شخص خدا کا شکر گزار رہتا ہے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے لئے اللہ کی نعمتوں کو بڑھاتا ہے۔ رہا اللہ کا معاملہ تو وہ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ نہ کسی کی شکر گزاری سے اس کو کوئی نفع پہنچتا اور نہ کسی کی ناشکری سے کوئی نقصان۔ ساتھ ہی وہ حمید بھی ہے یعنی تمام اعلیٰ صفات سے متصف اور یہ تمام صفات اس کی ذاتی ہیں۔ نہ ان میں کوئی اضافہ کرسکتا، نہ کمی۔ اس کی اس صفت ہی کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ خواہ کوئی اس کے احسانات کی قدر کرے یا ناقدری لیکن اس دنیا میں اپنے رزق وفضل سے وہ کسی کو بھی محروم نہیں کرتا۔ آگے آیت 26 میں بھی انہی صفات کا حوالہ آرہا ہے، وہاں مزید وضاحت ہوجائے گی۔
Ayah 31:13واذقال لقمن لابنہ وھو یعظہ یبنی لا تشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم (13)
جس طرح حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے اسی طرح شکر کی اصل روح شرک سے اجتناب ہے۔ بندے کو تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی سے ملتی ہیں اس وجہ سے جس طرح اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے اسی طرح یہ بھی واجب ہے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرے۔ دوسروں سے اگر بندے کو کوئی نفع پہنچتا ہے تو وہ اللہ ہی کے حکم سے پہنچتا ہے اس وجہ سے شکر کا اصل سزا وار اللہ ہی ہے۔ دوسروں کا حق اللہ تعالیٰ کے حق کے تحت ہے۔ اللہ کا حق سب سے بڑا ہے اگر کوئی شخص خدا کے حق میں دوسروں کو شریک کرتا ہے تو وہ سب سے بڑے حق کو تلف کرن والا بنتا ہے جو ایک ظلم عظیم ہے۔
یہاں یہ امر بھی توجہ کے لائق ہے کہ لقمان نے یہ باتیں اس وقت کہی ہیں جب وہ بیٹے کی نصیحت کر رہے تھے۔ اس سے موقع اور بات دونوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی سرسری بات نہیں ہے ج راہ چلتے کہہ دی گئی ہو بلکہ لقمان نے خاص اپنے بیٹے کو، ایک اہم موقع پر، خاص اہتمام کے ساتھ، بطور ایک موعظت کے بتائیں اور ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کی تاکید کی۔ اس سے مقصود قرآن کے مخاطبوں کو توجہ دلانا ہے کہ ایک دانش مند باپ اپنے بیٹے کو کیا تعلیم دیتا تھا اور آج اس کے احمق نام لیوا اپنی اولاد کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں !
Ayahs 31:14–15ووصینا الانسان بوالدیہ ج حملتہ امہ وھنا علی وھن و فضلہ فی عا میر ان اشکرلی ولوالدیک الی المصیرا وان جاھدک علی ان تشرک بی ما لیس لک بااعلم فلا تطعھما وصا حبھما فی الدنیا معروفا فاتبع سبیل من اناب الی ثم الی مرجعکم فالبئکم بما کنتم تعملون (14۔ 15)
یہ دو آیتیں لقمان کی موعظت کے بیچ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین ہیں۔ لقمان نے بیٹے کو خد کی شکر گزاری کا حق ادا کرنے کی تاکید تو فرمائی لیکن اللہ تعالیٰ جل شانہ کے حق کے پہلو بہ پہلو اپنے حق کا ذکر انہوں نے ادب کے خلاف تصور فرمایا اس وجہ سے اس کو نظر انداز کرکے قیامت کے ذکر کی طرف بڑھ گئے۔ یہ بات انہوں نے ادباً کی اور ان کی تواضع کے شایانِ شان بات یہی تھی، لیکن خدا کے حق کے بعد فطرت کی تربیت میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لقمان کے اس چھوڑے ہوئے خلا کو اپنی طرف سے بھر دیا۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے باب میں ہدایت کی۔ اس ہدایت کا ذکر عنکبوت آیت 8 میں بھی گزر چکا ہے اور سورة نبی اسرائیل میں بھی۔ وہاں ہم نے واضح کیا ہے کہ خدا کے حق کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم تمام انبیائے کرام اور تمام آسمانی صحیفوں نے بالاتفاق دی ہے۔ یہاں اس ہدایت کی تفصیل آگے والے ٹکڑے سے ہوگئی ہے کہ ان اشکرلی ولوالدیک (کہ میرا شکر گزارورہ اور اپنے ماں باپ کا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی شکر گزاری کے ساتھ انسان کو اس کے والدین کی شکر گزاری کی ہدایت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اوپر خدا کے بعد سب سے بڑا حق اس کے والدین کا ہے اس لئے کہ وہی اس کے وجود میں آن اور پرورش پانے کا ذریعہ بنتے ہیں، والدین سے بڑا کسی کا حق بھی نہیں ہے، لیکن یہ حق شکر گزاری اور خدمت کا ہے نہ کر عبادت کا۔ شکر کا مفہوم اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں اس کی اصل حقیقت ایفائے حق ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو مجرد زبان سے شکر ایک بالکل بےحقیقت چیز یہ۔
’ وان جاھدک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ‘۔ یعنی اگر والدین اس بات کے لئے اولاد پر دبائوڈالیں کہ وہ کسی چیز کو بےدلیل خدا کا شریک بنائے تو یہ حق ان کو حاصل نہیں ہے، اولاد کا فرض ہے کہ اس معاملے میں ان کی اطاعت سے صاف انکار کر دے۔ شرک کے بےدلیل ہونے پر اس کتاب میں ہم جگہ جگہ بحث کرچکے ہیں۔ یہ اس کی متصل صفت ہے اس لئے کہ اب تک شرک کی تائید میں اس کے حامی کوئی دلیل پیش نہیں کرسکے، جب کہ خدا کا حال یہ ہے کہ ہر مشرک اس کو لازماً تسلیم کرتا ہے۔ ’ وصاحبھما فی الدنیا ‘ یعنی اگر والدین شرک اختیار کرنے کے لے زور لگائیں تو اس معاملے میں تو ان کی اطاعت نہ کی جائے لیکن جہاں تک دنیا کا معاملہ ہے اس کے اندر ان کے ساتھ حسن ِ سلوک دستور کے مطابق باقی رکھا جائے۔ ان کی ضروریات حتی الامکان پوری کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کی ہدایت کے لئے برابر دعا بھی کی جائے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس وقت تک اپنے باپ کے لئے دعا جاری رکھی جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اس سے روک نہیں دیا گیا۔ کافر والدین سے بیٹے کے لئے کلی انقطاع صرف اس شکل میں صحیح ہیجب مسلم معاشرہ جماعتی حیثیت سے ان سے اور ان کی قوم سے براءت کا اعلان کردے۔ اس کی وضاحت سورة برا ئت میں ہوچکی ہے۔
یہاں ایک چیز یہ بھی قابل غور ہے کہ جہاں تک شکر گزاری اور خدمت کا تعلق ہے اس کی ہدایت تو باپ اور ماں دونوں کے لئے فرمائی ہے لیکن قربانیں اور جانفشانیاں صرف ماں کی گنائی ہیں، باپ کی کسی قربانی کا حوالہ نہیں دیا ہے۔ فرمایا ہے حملتہ امہ وھناعلی وھن وفصالہ فی عامین ‘ (اس کی ماں نے اس کو اٹھایا دکھ کے بعد دکھ جھیل کر اور پھر اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سالوں کے اندر)۔ یہاں حمل، ولادت اور رضاعت تینوں مراحل کی طرف اشارہ ہے (اگرچہ ولادت کا ذکر غایت و ضاحت کے سبب سے مخدوف ہے) اور ان تینوں ہی کا تعلق ماں سے ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ کے مقابل میں زیادہ ہے۔ اسی پر وہ حدیث مبنی ہے جس میں نبی ﷺ نے مان کا حق باپ کے مقابل میں تین درجہ زیادہ قرار دیا ہے۔
’ الی المصیر ‘ میں تنبیہ ہے کہ یہ بات ہر شخص کو یاد رکھنی چاہیے کہ بالآخر سب کو میری ہی طرف پلٹنا یہ۔ اگر کسی نے میری شکر گزاری اور والدین کے حق میں کوتاہی کی تو وہمیر باز پرس سے نہیں چھوٹ سکتا۔
’ واتبع سبیل من اناب الی ثم الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون۔ شرک کے معاملے میں والدین کی اطاعت نہ کرنے کی ہدایت کے ساتھ یہ اولاد کو تاکید مزید ہے کہ اسے بہرحال انہی لوگوں کی پیروی کرنی ہے جو خدا کی طرف متوجہ ہیں، ان لوگوں کی راہ نہیں اختیار کرنی چاہیے جو خدا سے منحرف ہیں اگرچہ وہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ سورة عنکبوت میں والدین کا قول نقل ہوچکا ہے کہ وہ اپنی اولاد اور اپنے زیر دستوں سے کہتے ہیں کہ اتبعوا سبیلنا ولنحمل خطیکم۔ 12 (تم ہمارے طریقے کی پیروی کرتے رہو، ہم تمہاری غلطیوں کو بوجھ اٹھانے کے ذمہ دار ہیں) یہاں اسی قول پر تعریض کرتے ہوئے فرمایا کہ جو بھی خدا کے خلاف کسی راستہ کی پیروی کی دعوت دے اس کی پیروی جائز نہیں ہے۔ پیروی صرف ان لوگوں کی کرنی ہے جو خدا کی راہ پر ہیں۔
ثم الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون۔ یہ خطاب والدین اور اولاد دنوں سے یکساں ہے اور اسمی تنبیہ بھی ہے اور اطمینان دہانی بھی۔ مطلب یہ ہے کہ ایک دن سب کی واپسی میری ہی طرف ہونی ہے اور اس دن جو کچھ جس نے کیا ہوگا میں اس کے سامنے رکھ دوں گا۔ اگر کسی کے والدین نے میرے بخشے ہوئے حق سے غلط فائدہ اٹھا کر اولاد کو مجھ سے منحرف کرنے کی کوشش کی تو وہ اس کی سزا بھگتیں گے اور اگر اولاد نے والدین کے ھق کے ساتھ ساتھ میرے حق کو بھی کما حقہ، پہنچانا اور اس حق پر قائم رہن میں استقامات دکھائی تو وہ اپنی اس عزیمت کا بھرپور صلہ پائے گی۔
Ayah 31:16یبنی انھا ان تک مثقا حبۃ من خردل فتکن فی صخرۃ اوفی السموات او فی الارض یات بھا اللہ ان اللہ لطیف خبیر (16)
تضمین کی آیات کے بعد لقمان کی موعظت پھر شروع ہوگئی۔ اوپر لقمان نے بیٹے کو شرک سے اجتناب اور توحید کی تعلیم دی ہے اور یہ بات اپنے محل میں واضح ہوچکی ہے کہ اسی عقیدے پر تمام عقائد کی بنیاد ہے۔ توحید کے بعد دوسرا بنیادی عقیدہ آخرت کا عقیدہ ہے۔ اس آیت میں آخرت سے متعلق ان کا موعظت کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ اے بیٹے ! اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی نیک یا بدعمل کسی کا ہوگا تو خواہ وہ کسی پہاڑی یا گھاٹی کے اندر ہو یا لا متناہی یا ناپیدا کنار فضائوں اور آسمانوں میں ہو یا زمین کی تہوں کی بتوں میں ہو، جہاں کہیں بھی ہوگا، خد قیامت کے دن اس کو حاضر کردے گا، اس لئے کہ اللہ نہایت باریک بیں اور نہایت باخبر ہے۔
یہ امر یہاں ملحاظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم سے ناآشنائی ہی ہے جس کے سبب سے قوموں کو توحید کے معاملے میں مغالطہ پیش آیا اور وہ شرک میں مبتلا ہوئیں اور یہی چیز آخرت کے باب میں بھی بہت سی گمراہیوں کا سبب ہوئی۔ اس وجہ سے لقمان نے اس حکمت کی یاددہانی کی جو توحید اور قیامت دونوں کے باب میں ان کے فرزند کے ذہن کو بالکل صاف کردے۔
’ انھا ‘ میں ضمیر قصہ یا ضمیر شان ہے۔ اس صورت میں متکلم، ضمیر اپنے معہودِ ذہنی کو پیش نظر رکھ کر استعمال کرتا ہے۔ یہاں مہود ذہنی ’ جتہ خردل ‘ کے برابر عمل ہے اس وجہ سے ’ حبۃ ‘ کی رعایت سے ضمیر مونث استعمال ہوئی۔
’ صخرۃ ‘ سے پتھر مراد لینا ضروری نہیں ہے۔ اس سے پہاڑی اور گھاٹی بھی مراد لے سکتے ہیں۔ یہ بات عربیت کے بالکل مطابق ہوگی۔ میں نے ترجمہ میں اسی مفہوم کو پیش نظر رکھا ہے۔ ابن جریر نے بھی ایک گروہ کا یہی قول نقل کیا ہے۔
Ayah 31:17یبنی اقم الصلوۃ وامر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک ان ذلک من عزم الامور (17)
اللہ تعالیٰ کے شکر کی تعلیم دینے کے بعد اس شکر کا زندگی میں جو اثر نمایاں ہونا چاہیے اس کی ہدایت فرمائی۔ اس سلسلہ میں سب سے اول، نماز کو لیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر کا سب سے اول اور سب سے بڑا مظہر نماز ہی ہے۔ یہی تمام انبیاء اور تمام مذاہب کی متفق علیہ تعلیم ہے۔ فرمایا کہ اے میرے بیٹے ! نماز قائم کرو۔ دوسرے مقام میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ ’ نماز قائم کرو، کا مفہوم یہ ہے کہ نماز کا اہتمام کرو۔ یعنی خود بھی نماز کی پابندی کرو اور دوسروں کے لئے بھی اس کا انتظام کرو اور ان کو اس کے لئے ابھارو۔
’ وامر بالمعروف ‘۔ یہ خدا کی شکر گزاری ہی کا دوسرا پہلو ہے جو بندے کو خلق سے مربوط کرتا ہے۔ نماز بندے کو اس کے رب سے جوڑتی ہے اور امر بالمعروف کے ذریعے سے وہ اللہ کے بندوں سے جڑتا ہے۔ معروف میں وہ تمام کام شامل ہیں جو ادائے حقوق سے متعلق ہیں۔ مثلاً اللہ کی راہ میں انفاق، یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں اور دوسرے مستحقین کی مدد اور اس نوع کے دوسرے کام جو ہر اچھی سوسائٹی میں معلوم و معروف ہیں اور جن کا یہ اہتمام ہر وہ شخص کرتا ہے اور اس کو کرنا چاہیے جو اپنے رب کا شکر گزار بندہ ہے۔
’ وانہ عن المنکر ‘۔ یہ ان چیزوں سے باز رکھنے کی ہدایت ہے جو معروف کی ضد ہیں۔ بخالت، غصبِ حقوق، تعدی، عہد شکنی، فخر و غرور اور اس قبیل کی ساری چیزیں اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔
’ واصبر علی ما اصابک ‘۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی یہ راہ کوئی آسان راہ نہیں ہے۔ جب اس فرض کو ادا کرنے کے لئے اٹھو گے تو ہر قدم پر تمہیں راہ مشکلات و مصائب سے رندھی ہوئی نظر آئے گی، اگر تم میں صبر نہیں ہوگا تو ایک قدم بھی تم آگے نہیں بڑھا سکو گے۔ اگر اس راہ کی بازیاں جیتنی ہیں تو ضروری ہے کہ جو کچھ پیش آئے اس کا پوری عزیمت سے مقابلہ کرو۔
’ ان ذلک من عزم الامور۔ ‘ یہ اسی مضمون کو مزید تاکید اور وضاحت ہے کہ یہ کام نیم دلی کے ساتھ اور ڈھیلے ڈھالے ہاتھوں سے نہیں انجام پاتے۔ ان سے وہی لوگ عہدہ برآہوتے اور ہوسکتے ہیں جو پوری عزیمت کے ساتھ ان کے انجام دینے کے لئے اٹھتے اور سردھڑ کی بازی لگا کر ان کو انجام دیتے ہیں۔ سورة عصر میں حق کے ساتھ صبر کا جو ذکر آیا ہے وہ بھی اسی تعلق سے آیا ہے۔
Ayah 31:18ولا تصعر خدک للناس ولا تمش فی الارض مرحا ط ان اللہ لایحب کل مختال فخور (18) ’ تصعیر خد ‘ کے معنی ہیں بربنائے غرور وتکبر لوگوں سے بےرخی و بےپروائی اختیار کرنا۔
’ للناس ‘ ہے مراد عوام الناس خصوصاً غریا وفقراء میں جن کو امراء واغنیا و حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے موجبات بیان ہوئے ہں۔ اب یہ ان باتوں کا ذکر آرہا ہے جو اس شکر گزاری کے منافی ہیں۔ شکر کا مظہر جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہوچکی ہے، اخبات و تواضع ہے اور اس کا ضد غرور وتکبر ہے۔ جو لوگ سفلہ اور کم ظرف ہوتے ہیں وہ نعمت پاکر اکڑنے اور اترانے والے بن جاتے ہیں اور ان لوگوں کو نہایت حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں جو ان کے ہم سر نہیں ہوتے۔ لقمان نے اس روش کے اختیار کرنے سے اپنے فرزند کو روکا۔
’ ولاتمش فی الارض مرحا ‘ یہ آیت بعینہ سورة نبی اسرائیل میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے ساتھ یہ تنبیہ بھی ہے کہ ’ لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولا ‘۔ 37‘ یعنی کوئی کتنا ہی اکڑ کے اور سر اونچا کرکے چلے لیکن اسے یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ نہ وہ زمین کو پھاڑ سکتا اور نہ وہ پہاڑ کی بلندی کو پہنچ سکتا تو جس خدا کی قدرت و عظمت کے یہ آثار ہر شخص دیکھ رہا ہے اس کی خدائی میں اکڑنے اور اترانے کے کیا معنی ! آدمی کا غرور اس کے چہرے اور اس کی گردن سے بھی نمایاں ہوتا ہے اور اس کی چال سے بھی، لقمان نے ان دونوں ہی چیزوں میں غرور کی روش اختیار کرنے سے اپنے بیٹے کو روکا۔
’ ان اللہ لا یحب کل مختال فخور۔ ‘ یہ تنبیہ ہے اور بڑی ہی سخت تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی اکڑنے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ جن کو مال و جاہ حاصل ہوا اور وہ اس کو اللہ تعالیٰ کے انعام کے بجائے اپنی قابلیت و استحقاق کو کرشمہ سمجھ بیٹھیں ان کے اندر شکر کے بجائے لازماً فخر و غرور کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ لقمان نے اسی خطرے سے اپنے بیٹے کا آگاہ فرمایا ہے کہ نعمت کو اللہ کا انعام اور اس کا امتحان سمجھنا، اس کے سبب سے مغرور ہو کر اپنے کو خدا کے غضب کا مستحق نہ بنا لینا۔
Ayah 31:19واقصد فی مشیک واغضض من صوتک ط ان انکر الاصوات لصوت الحمیر (19)
اوپر کی باتیں نہی کے اسلوب میں ہیں۔ اب یہ اسی تواضع و فروتنی کی تعلیم مثبت انداز میں دی ہے کہ اپنی چال پر اکڑ کے بجائے فروتنی و تواضع اور اپنی آواز میں کرختگی اور خشونت کی جگہ نرمی اور لینت پیدا کرو۔ ’ من ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ جب خالق نے انسان کو ایک ہی قسم کی آواز پر نہیں پیدا کیا ہے بلکہ اس کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے کہ اس کو وہ پست بھی کرسکتا ہے اور بلند بھی تو موقع و محل کے مطابق وہ اس صلاحیت کو استعمال کرے، گدھے کی طرح ہمیشہ اپنا حلق اور لوگوں کے کان پھاڑنے ہی کی کوشش نہ کرو، ’ ان انکرالا صوات لصوت الحمیر ‘ کا ٹکڑا یہاں کرخت اور سخت لب و لہجہ سے نفرت دلانے کے لئے ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کو حسن بیان اور حسن کلام کی نعمت سے نوازا ہے کہ تو وہ اس مقام کو چھوڑ کر گدھوں کی صف میں شامل ہونے کی کوشش کیوں کرے ! یہ بلبل کی بدقسمتی ہے کہ وہ زاغ و زعن کو ہمنوائی کرے ! !
لقمان کی یہ نصیحتی اگرچہ ہر شخص کے لئے اپنے اندر یکساں خیرو برکت رکھتی ہیں لیکن ان لوگوں کے لئے یہ خاص ہمیت رکھنے والی ہیں جن کی قیادت و سربراہی اور امارت و حکومت کا مقام حاصل ہو۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، لقمان صرف ایک حکیم نہیں بلکہ ایک حکمران حکیم تھے۔ ان کو اپنی قوم کی سربراہی حاصل تھی اور یہ نصیحتیں اپنے بیٹے کو انہوں نے سرداری و قیادت کی ذمہ داریاں سمجھانے کے لئے کی ہیں۔ یہ اگرچہ نہیں تھے لیکن ان کو حضرت دائود ؑ سے فی الجملہ مشابہت ہے۔
Ayah 31:204۔ آگے کا مضمون۔ آیات 20۔ 34
لقمان کی نصیحت میں سرفہرست اللہ واحد کی شکر گزاری کی تلقین ہے۔ اب آگے یہ بتایا جا رہا ہے کہ کیوں اللہ ہی شکر کا سزاوار ہے۔ آفاق وانفس میں اس کے دلائل کیا ہیں ؟ ساتھ ہی نبی ﷺ کو صبرو استقامات کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ اپنے مخالفین کے معاملے کو اب ہمارے اوپر چھوڑ دو ، ہم ہی انکا فیصلہ کریں گے۔ یہ لوگ نشانیوں کا جو مطالبہ کر رہے ہیں اس کی پروانہ کرو۔ اللہ کی اتنی نشانیاں موجود ہیں کہ اگر زمین کے سارے درخت قلم اور سمندر، مزید سات سمندروں کے اضافہ کے ساتھ، روشنائی بن جائیں جب بھی اس کی نشانیوں کو قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ یہ عہد شکن اور غدار لوگ ہیں۔ جب یہ کسی پکڑ میں آتے ہیں تو اللہ کی اطاعت و وفاداری کا عہد کرتے ہیں لیکن جب ذرا ڈھیل ملتی ہے تو وہی سرکشی ان پر پھر عود کر آتی ہے اور اپنے قول وقرار کو بالکل بھول جاتے ہیں۔ اس قسم کے عہد شکن ناشکروں پر کوئی نشانی کارگر نہیں ہوسکتی۔ آخر میں کی یاددہانی ہے کہ لوگو ! اس دن سے ڈرو جس دن نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے بلکہ ہر ایک کو اپنی جواب دہی خود کرنی ہے۔ اگر آج یہ نہیں معلوم ہے کہ قیامت کا ظہور کب ہوگا تو اس سے کسی کو یہ مغالطہ نہیں ہونا چاہے کہ اس کا ڈراوا مھض ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ کتنے حقائق ہیں جن کے ظہور کا وقت کسی کو معلوم نہیں لیکن کوئی عاقل بھی ان کا انکار نہیں کرسکتا۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
الم تروا ان اللہ سخر لکم ما فی السموت وما فی الارض واسبغ علیکم نعمہ ظاھرۃ وباطنۃ ط ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولا ھدی ولا کتب منیر (20)
اس سورة کی تمہید آیات 11 پر بدیں الفاظ ختم ہوئی تھی۔ ھذا خلق اللہ فارونی ماذا اختر الذین من دھنہ بل الظلمون فی ضلل مبین (یہ ساری چیزیں تو اللہ کی مخلوق ہیں تو تم مجھے دکھائو کہ انہوں کے کیا چیزیں پیدا کی ہیں جن کو تم اس کے سوا معبود بنائے بیٹھے ہو ! بلکہ یہ ظالم نہایت کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں !) اس کے بعد اسی حقیقت کی تائید میں لقمان کی حکمت کا حوالہ آگیا تھا کہ انہوں نے بھی اپنے فرزند کو خدا ہی کا شکر گزار رہنے کی تلقین کی تھی۔ اب اسی مضمون کو آفاق کے دلائل کی روشنی میں مزید واضح فرمایا اور اندازِ کلام اظہارِ تعجب اور زجر کا ہے کہ خدا کے بندو، تم نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ آسمانوں اور زمین کی جتنی چیزیں بھی تمہارے کام آرہی ہیں ان سب کو تمہاری مقصد برآوری میں خدا نے لگایا ہے، ان میں سے کسی چیز کے متعلق بھی تم یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ خدا کے سوا کسی اور نے ان کو پیدا کیا ہے تو آخر کس دیس سے تم نے دوسروں کو شریک بنایا اور ان کی عبادت کر رہے ہو !
’ واسبغ علیکم نعمہ ظاھرۃ وباطنۃ ‘۔ ’ اسباغ ‘ کے اصل معنی وسیع اور کشادہ کرنے کے ہیں پھر یہیں سے یہ اتمام و تکمیل کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا۔ ’ واسبغع علیکم نعمہ ‘ یعنی اس نے ہر پہلو سے اپنی نعمتیں تم پر تمام کردی ہیں۔ یہ نعمتیں ظاہری و مادی بھی ہیں ور عقلی و روحانی بھی۔ شکل و صورت، قدوقامت، ہاتھ پائوں، غذا، لباس اور اس قبیل کی دوسری تمام چیزیں بھی اس کی بخشی ہوئی ہیں اور سمع و بصر، عقل و ادراک اور بصیرت و ہدایت کی نعمتیں بھی اسی کی عطا کردہ ہیں، ان میں سے کسی چیز کے متعلق کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ خدا کے سوا کسی اور سے اس کو ملی ہیں یا کوئی دوسرا ان کے ملنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تو جب تمام نعمتوں کو بخشنے والا اللہ ہی ہے تو بندے کی تمام شکرگزاری دنیا زمندی کا حق دار بھی وہی ہوا، پھر بلا کسی دلیل کے کوئی دوسرا اس کے اس حق میں کس طرح ساجھی بن سکتا ہے !
’ ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولا ھدی ولا کتب منیر۔ یعنی جہاں تک خدا اور اس کی شکر گزاری کے حق کا تعلق ہے وہ تو ایک ثابت شدہ حقیقت ہے جس سے کسی کے لئے مجال انکار نہیں ہے، لیکن یہ عجیب ماجرا ہے کہ لوگوں میں ایسے شامت زدہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کی توحید کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ ان کے پاس نہ کوئی دلیل ہے، نہ کوئی رہنمائی ہے اور نہ کسی روشن کتاب کی سند ہے۔ ’ یجادل فی اللہ، میں مضاف مخدوف ہے، یعنی فی توحید اللہ ‘ مشرکین عرب خدا کے منکر نہیں تھے، ان کا سارا جھگڑا توحید کے باب میں تھا۔ ’ بغیر علم ‘ میں علم سے مراد کوئی دلیل ہے خواہ، وہ عقلی ہو یا نقلی۔ اوپر آیت 6 میں بھی یہ لفظ گزر چکا ہے۔ یہ لفظ جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں ’ ظن ‘ کے مقابل میں بھی آتا ہے، اس وجہ سے اس سے ہر وہ چیز مراد ہوسکتی ہے جو یقین واعتماد پیدا کرنے والی ہو۔ لفظ ’ ھدی ‘ یہاں ’ کتب منیر ‘ کے ساتھ آیا ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ خاص سے پہلے عام کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت خلق کو انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی تعلیم کے ذریعہ سے بھی پہنچی ہے اور روشنی صحیفوں کے ذریعہ سے بھی مثلاً تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید کے ذریعے سے۔ میرا خیال ہے کہ ’ ھدی ‘ سے یہاں پہلی قسم کی دلیل مراد ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ دلیل کی یہ نفی اصل حقیقت کے اعتبار سے ہے۔ مشرکین اپنے موقف کی تائید میں جو کچھ کہتے تھے اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اس کی نوعیت مجرد تقلید کی ہے اور مجرد تقلید کوئی دلیل نہیں ہے۔
Ayah 31:21واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما وجدنا علیہ اباء نا اولو کا نا الشیطن یدعوھم الی عذاب السعیر (21)
یہ ان کے مجادلہ بلا علم کی تفصیل ہے کہ جب ان کو اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی پیروی کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ہم نے باپ دادا سے جو طریقہ پایا ہے ہم اسی پر چلتے رہیں گے، اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ اختیار کرنے کے لئے ہم تیار نہیں ہیں۔ فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ کیا اس شکل میں بھی یہ اس روش پر جامد رہیں گے جب کہ شیطان ان کو تقلید آباء کے اس تعصب میں مبتلا کرکے ان کو جہنم کی طرف بلا رہا ہو ! مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کی صحت و صداقت کی مجرد یہ دلیل کافی نہیں ہے کہ وہ آباء و اجداد سے چلی آرہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جس طرح بےسوچے سمجھے تم باپ دادا کے طریقہ کو دین بنائے بیٹھے ہو اسی طرح تمہارے باپ دادا نے بھی بےسوچے سمجھے اگلوں سے جو پایا ہو اس کو دین بنا لیا ہو۔ اس وجہ سے دانش مندی اور حق پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی جس کتاب کی تم کو دعوت دی جا رہی ہے اس کو سنو، اس پر غور کرو اور اس کے دلائل کی روشنی میں اپنے عقائد و اعمال کا جائزہ لو۔ ایسا نہ ہو کہ اس اندھے بہرے تعصب میں مبتلا ہو کر شیطان کی پیروی میں جہنم میں جاگرو۔ یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ قومی دین، قومی تہذیب اور قومی روایات کے نعروں میں بڑی کشش ہوتی ہے۔ جو لوگ یہ نعرے بلند کرتے ہیں وہ قومی تہذیب و روایات کے محافظ سمجھے جاتے ہیں اور عوام ان کے نعروں سے اس طرح مسحور ہوجاتے ہیں کہ اس کے خلاف وہ کوئی بات بھی سننے کے روادار نہیں ہوتے، خواہ وہ کتنی ہی بڑی حقیقت ہو۔ میرے نزدیک یدعوھم میں ضمیر مفعول کا مرجع اباء نہی بلکہ خود اس قول کے قائلین ہیں۔
Ayah 31:22ومن یسلم وجھہ الی اللہ وھو محسن فقد استمسک بالعروۃ الوثقی والی اللہ عاقبۃ الامور (22)
’ اسلم ‘ کا صلہ ’ ل ‘ کے ساتھ بھی قرآن میں آیا ہے اور ’ الی ‘ کے ساتھ بھی۔ دونوں کے مواقع استعمال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صورت میں تو یہ کامل تفویض و سپردگی کے مفہوم میں آیا ہے جو اسلام کی اصل حقیقت ہے۔ دوسری صورت میں تو یہ کامل تفویض و سپردگی کے مفہوم میں آیا ہے جو اسلام کی اصل حقیقت ہے۔ دوسری صورت میں جیسا کہ یہاں ہے یہ نیاز مندانہ متوجہ ہونے کے مفہوم میں آیا ہے۔ یہ متوجہ ہونا حقیقی بھی ہوسکتا ہے اور غیر حقیقی بھی اس وجہ سے اس کے ساتھ محسن کی قید لگی ہوئی ہے۔ ’ احسان ‘ کے معنی، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہں، کسی کام کا کمال درجہ خوبی و اخلاص کے ساتھ کرنے کے آتے ہیں۔ اس قید کے لگ جانے سے لفظ ’ اسلام ‘ کا مفہوم یہاں متعین ہوگیا کہ آدمی خدا کی طرف متوجہ ہو اور کمال درجہ خوبی و یکسوئی اور پوری وفا داری و جان نثاری کے ساتھ متوجہ ہو۔ مشرکین و منافقین کی طرح نہیں کہ نام تو خدا کا لیتے ہیں لیکن اس کی خدائی اور اس کے حقوق میں دوسروں کو بھی شریک کیے بیٹھے ہیں اور ان کے نزدیک اصلی اہمیت خدا اور اس کے حقوق میں دوسروں کو بھی شریک کیے بیٹھے ہیں اور ان کے نزدیک اصلی اہمیت خدا اور اس کے احکام کی نہیں بلکہ اس کے شریکوں اور ان سے متعلق رسوم داد بام کی ہے۔
یہ آیت تقلید ِ آباء کے علم برداروں اور شرک کی حمایت میں لڑنے والوں کے جواب میں ارشاد ہوئی ہے کہ نہ باپ دادا کے طریقہ کی اندھی تقلید کوئی کام آنے والی چیز ہے اور نہ دیویوں دیوتائوں کا سہارا کچھ کام آنے والا بنے گا۔ البتہ جو لوگ پورے اخلاص اور حسن عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں انہوں نے اپنے رب کے ساتھ وابستہ کرنے والی ایک مضبوط رسی تھام لی ہے جو ان کے لئے خدا کے ساتھ تعلق و توصل کا ایک محکم ذریعہ ہوگی اور یہ کبھی ٹوٹنے والی نہیں ہے۔
’ والی اللہ عاقبۃ الامور۔ ‘ یہ تنبیہ ہے اور بڑی ہی سخت تنبیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس رسی کے سوا دوسری رسیاں جو لوگوں نے تھام رکھی ہیں، وہ بھی ان کے لئے کچھ کام آنے والی بن سکیں گی۔ ان جھوٹے سہاروں میں سے کوئی بھی کام آنے والا نہیں ہے اس لئے کہ تمام امور بالآخر اللہ ہی کے آگے پیش ہوں گے، کوئی دوسرا مولیٰ و مرجع بننے والا نہیں ہے کہ اس کا سہارا کچھ کام آسکے۔
Ayah 31:23ومن کفر فلا یحزنک کفرہ الینا مرجعھم فننبئھم بما عملوا ط ان اللہ علیم بذات الصدور (23)
یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور ساتھ ہی اوپر والی آیت میں مخالفین کے لئے جو دھمکی ہے وہ مزید موکد کی گئی ہے۔ فرمایا کہ جو لوت تمہاری دعوت کی مخالف کر رہے ہے ان کی مخالفت تمہارے لئے ذرا بھی باعث ِ غم نہ ہو۔ بالآخر ان سب کی پیشی ہمارے ہی سامنے ہونی ہے۔
اس دن ہم ان کے آگے ان کا سرا کچا چٹھا رکھ دیں گے۔ ان اللہ علیم بذات الصدور یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ساری دنیا کے اعمال و اقوال سے واقف ہونا اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم کا حال یہ ہے کہ لوگوں کے سینوں میں جو راز چھپے ہوئے ہیں وہ ان سے بھی باخبر ہے۔
Ayah 31:24نمتعھم قلیلا ثم نظرھم الی عذاب غلیظ (24)
’ اضطرار ‘ کے بعد الی کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہ لفط مجبور کرکے کشاں کشاں لے جانے کے مفہوم پر متضمن ہے۔ اس تضمین کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ آخرت کا معاملہ بہت دور کا معاملہ ہے۔ اس دنیا کی مہلت ایک بالکل محدود مہلت ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ان کو جو مہلت دی ہے یہ چند روزہ ہے۔ یہاں ہم کچھ ان ان کو اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کریں گے پھر ہم ان کو کشاں کشاں ایک شدید عذاب کی طرف گھسیٹ کرلے جائیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ انسان اس دنیا میں قدرت کے ایسے نوامیس و قوانین میں جکڑا ہوا ہے جن سے کسی کے لئے کسی حال میں بھی مفر نہیں ہے۔ شاہ و گدا سب ان کے آگے یکساں بےبس ہیں اور ہر ایک کو بہرحال وہیں جانا ہے جہاں ان قوانین کی زنجیر ان کو گھسیٹ کرلے جائے۔
Ayah 31:25ولئن سالتھم من خلق السموات والارض لیقولن اللہ ط قل الحمد اللہ ط بل اکثر ھم لا یعلمون (25)
یہ خدا کی شکر گزاری کی وہ دلیل بیان ہوئی ہے جس کے بنیادی مقدمہ کا اعتراف خود مخالفوں کو بھی ہے۔ فرمایا کہ اگر ان سے پوچھھو کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کس نے کیا ہے تو اس کا جواب وہ یہی دیں گے کہ اللہ نے۔ ان سے کہو کہ جب تم تمام چیزوں کو خالق خدا ہی کو مانتے ہو تو پھر شکر کا حق دار بھی وہی ہوا، آخر یہ بات کس قاعدے سے جائز ہوسکتی ہے کہ خالق تو تنہا وہ ہو لیکن شکر کے سزاوار دوسرے بھی بن جائیں، جن کا نہ اس کائنات کے خلق میں کوئی حصہ اور نہ اس کی تدبیر میں !
’ بل اکثرھم لا یعلمون ‘۔ یعنی یہ بات نہیں ہے کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کی بنیاد کس دلیل پر ہے۔ بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کو خود اپنے تسلیم کردہ مقدمات کے بدیہی نتائج و لوازم کا بھی علم نہیں ہے۔ اس جہل کا نتیجہ یہ ہے کہ خود اپنے مانے ہوئے مسلمات کو خود اپنے اہی دوسرے اعمال و عقائد سے جھٹلا دیتے ہیں۔
Ayah 31:26للہ فی السموات والارض ط ان اللہ ھو الغنی الحمید (26)
یہ اصل حقیقت کا اظہار ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کی مخلوق و مملوک اور سب اسی کے دروازے کے سائل و متحاج ہیں۔ بےنیاز اور ستو وہ صفات صرف اسی کی ذات ہے۔ اس وجہ سے شکر کا سزاوار حقیقی تنہا وہی ہے، اس کے سوا کسی کا بھی یہ درجہ و مرتبہ نہیں ہے کہ اس کے اس حق میں وہ شریک قراردیا جاسکے۔
Ayah 31:27ولو ان فی الارض من شجرۃ اقلام والبحر یمدہ من بعدہ سبعۃ البحرما نفدت کلمت اللہ ان اللہ عزیز حکیم (27)
سورة کہف میں یہی مضمون بدیں الفاظ گزرا ہے :
قل لو کان البحر مدادا لکلمت ربی النفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی ولو جئنا بمثلہ مدادا (109)۔
ان سے کہہ دو کہ اگر میرے رب کی نشانیوں کو قلم بند کرنے کے لئے سمندر بھی روشنائی بن جائے تو میرے رب کی نشانیوں کے قلم بندہونے سے پہلے سمندر خشک ہوجائے گا اگرچہ اسی کے برابرہم اور روشنائی فراہم کرلیں۔
’ کلمنت ‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ نشانیاں ہیں جو اس کی ذات وصفات اور اس کی قدرت و حکمت پر گواہی دیتی ہیں۔ چونکہ ہر نشانی اللہ کے کلمہ کن کا مظہر ہے اور ہر نشانی زبان حال سے ناطق بھی ہے اس وجہ سے یہاں نشانیوں کو کلمات سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ تعبیر نہایت ہی معنی خیز تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کوئی ایسی مبہم و مجہول چیز نہیں ہے کہ اس کے باب میں لوگوں کو ایسا التباس پیش آئے کہ لوگ جس اینٹ پتھر کو چاہیں خدا سمجھ کر اس کو ڈنڈوت شروع کردیں۔ اس کائنات میں دا کی اتنی نشانیاں ہیں کہ اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندر، مزید سات سمندروں کے اضافے کے ساتھ، روشنائی بن جائیں جب بھی ان کا قلم بند کیا جانا ممکن نہیں ہے۔ اور یہ تمام نشانیاں اس بات پر شاہد ہیں کہ اس کا خالق عزیز و حکیم ہے۔ ان دونوں صفتوں کی وضاحت جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفات میں سے ہیں اور قرآن میں ان سے جگہ جگہ توحید، قیامت اور رسالت تینوں پر استدلال کیا گیا ہے اور یہی مسائل قرآن کے اصول مسائل ہیں۔ گویا اس کائنات کی ہر چیز اس کے خالق کے عزیز و حکیم ہونے کی گواہی دے رہی ہے اور انہی کے مقضیات ہیں جن کو تسلیم کرنے کی قرآن دعوت دے رہا ہے۔
اس آیت میں ’ اقلام ‘ کا مقابل لفظ ’ مداد ‘ حذف ہے۔ اس حذف کو کھول دیجئے تو پوری عبارت یوں ہوگی۔ ما فی الارض من شجرۃ اقلام و البحر مداد ‘ حذف کے اس اسلوب کی مثالیں ہم جگہ جگہ پیش کرتے آرہے ہیں۔
سورة کف کی مذکورہ بالاآٰت کے تحت ہم یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ کوئی مبالغہ کا اسلوب نہیں ہے بلکہ یہ بیان حقیقت ہے۔ وہاں ہم نے لکھا ہے کہ اگر سمندر روشنائی بن جائے تو یہ روشنائی خود سمندر ہی کے عجائب کو قلم بند کرنے کے لئے کافی نہیں ہوگی چہ جائیکہ اس پوری کائنات کے عجائب۔ یہ زمین جو ہمارے قدموں کے نیچے ہے خدا کی لامتناہی کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر حصہ ہے۔ لیکن سائنس کی تمام ترقیوں کے باوجود اب تک انسان اس کے جو عجائب دریافت کرسکا ہے اس کی حیثیت سمندر کے ایک قطرے سے زیادہ نہیں ہے۔
Ayah 31:28ما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ ط ان اللہ سمیع بصیر (28)
یہ اوپر کے تمام مقدمات کا نتیجہ اور خلاصہ سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ جب اس کائنات کی ہر چیز شاہد ہے کہ اس کا خالق عزیز بھی ہے اور سکیم بھی تو اس امر میں کسی شک کی گنجائش کہاں باقی رہی کہ ایک دن اللہ تعالیٰ سب کو ازسرنو پیدا کرکے قبروں سے اٹھائے گا۔ وہ عزیز ہے اس وجہ سے اس کے لئے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں ہے اور حکیم ہے اس وجہ سے یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو وہ عزیز نہیں رہتا اور اگر کرسکنے کے باوجود نہ کرے تو یہ اس کی حکمت کے مناف ہے اس لئے کہ قیامت کے بغیر یہ دنیا ایک بازیچہ اطفا بن کے رہ جاتی ہے۔ اس حقیقت کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔
الا کنفس واحدہ میں مضاف مخدوف ہے یعن کخلق نفس واحدۃ یا کبعث نفس واحدہ یعنی کسی کو یہ گمان نہ ہو کہ اتنی ساری مخلوق کو ازسر نو پیدا کرنا اور ان کو اکٹھا کرنا کس کے امکان میں ہے۔ فرمایا کہ اللہ کے لئے ایک نفس کو پیدا کردینا اور تمام جہان کو پیدا کردینا اور اس کو اٹھا کھڑا کرنا یکسا ہے۔ اس کے ایک ہی کلمہ کن، یا ایک ہی نفخ صور سے ساری دنیا از سرِ نوزندہ ہو کر اٹھ کھڑی ہوگی۔ وہ ہر چیز پر قادر اور عزیز ہے۔
’ ان اللہ سمیع بصیر۔ ‘ یہ قیامت کے اصل مقصد، حساب کتاب، کی یاد دہانی ہے کہ کسی کو یہ غلط فہمی بھی نہ ہو کہ اتنی وسیع خلقت کے احوال و معاملات کا علم کسے ہے کہ وہ ان کا حساب کرنے بیٹھے گا۔ فرمایا کہ اللہ سب کچھ سن اور دیکھ رہا ہے۔ کوئی چیز اس کے علم و مشاہد سے باہر نہیں ہے اس وجہ سے اس کو لوگوں کا حساب کرنے اور ان کو جزا یا سزا دینے میں کوئی زحمت نہیں پیش آئے گی۔
Ayah 31:29الم تران اللہ یولج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل وسخر الشمس والقمر کل یجری الی اجل مسمی وان اللہ بما تعملون خبیر (29)
اوپر آیت 20 میں ’ الم تروا ‘ جمع کے صیغہ سے اپنی آیات کی طرف توجہ دلائی تھی یہاں ’ الم تر ‘ واحد کے صیغہ سے توجہ دلائی ہے۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ ’ الم تر ‘ کا خطاب جمع کے لئے بھی آتا ہے۔ اس صورت میں گویا مخاطب گروہ کے ایک ایک شخص کو فرداً فرداً توجہ دلائی جاتی ہے اور اس میں جمع کے مقابل میں زیادہ زور ہوتا ہے۔
فرمایا کہ یہ خدا ہی کی قدرت و حکمت ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنا، تصویر ہے یکے بعد دیگرے، پوری سرگرمی کے ساتھ، ایک دوسرے کے تعاقب اور پوری پابند اوقات کے ساتھ، ان کی آمد و شد کی۔
’ وسخرا الشمس والقمر کل یجری الی اجل مسمی اور یہ اسی کی قدرت و حکمت ہے کہ س نے سورج اور چاند کو اپنی خلق کی خدمت گزاری کے لئے مسخر کر رکھا ہے اور یہ دونوں پوری پابندی اوقات کے ساتھ اپنے عار میں گردش کرتے ہں۔ مجال نہیں ہے کہ مدار سے سرموانحراف ہو یا نظام اوقات کی پابندی میں منٹ یا سکینڈ کا بھی فرق واقع ہونے پائے۔
ان نشانیوں کی طرف توہ دلانے سے مقصود انہی حقائق کو مبرہین کرنا ہے جو اوپر زیر بحث آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی قدرت کی یہ نشانیاں دیکھتے ہو اس کی نسبت تم یہ گمان کرتے ہو کہ وہ تم کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ جو رات اور دن اور سورج اور چاند کو اس طرح گردش دے رہا ہے کیا اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کا شریک ہونے کا درجہ رکھتی ہے ! اور کیا جس نے اپنی ربوبیت کی یہ شانیں دکھائی ہیں اس کی نسبت اس سوئے ظن کی کوئی گنجائش ہے کہ اس نے یہ سارا کارخانہ بالکل عبث بنایا ہے، اس کے پیچھے کوئی روزِ اجر نہیں ہے۔
’ فان اللہ بما تعملون خبیر ‘۔ یعنی اگر تم اس نظام ربوبیت وقدرت پر غور کرو تو اس امر میں ذرا شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہے گی کہ جو اس سارے نظام کو چلا رہا ہے وہ تم سے اور تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ہوسکتا۔ اگر وہ بیخبر ہو تو وہ تمہاری پرورش کس طرح کرے گا ؟ اور اگر باخبر ہے تو آخر وہ تم سے پرسش کیوں نہیں کرے گا کہ تم نے اس کی پروردگاری کا حق ادا کیا یا نہیں !