30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

الروم ١۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق یہ سورة ، سابق سورة ۔ عنکبوت۔ کا مثنی ہے اور دونوں کا قرآنی نام بھی ایک ہی یعنی الم ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورة میں ظاہری حالات کے علی الرغم مسلمانوں کو نصرت الٰہی اور غلبہ کی بشارت دی گئی ہے اور اس بشارت کی بنیاد اس حقیقت پر رکھی گئی ہے کہ اس کارخانہ کائنات کو اللہ تعالیٰ نے بالحق پیدا کیا ہے۔ وہ وحدہ لاشریک ہے۔ تمام امرونہی اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اس دنیا میں بھی اپنے رسول اور اپنے ساتھیوں کو غلبہ بخشے گا اور اس دنیا کے بعد آخرت بھی ہے جس میں اس کے کامل حق و عدل کا ظہور ہوگا۔ اس وقت باطل یکسر نابود ہوجائے گا اور حق و اہل حق کو ابدی بادشاہی حاصل ہوگی۔ یہ مسائل مشرکین مکہ اور مسلمانوں کے درمیان زیر بحث ہی تھے کہ اسی اثناء یعنی ٢١٤؁ء میں پڑوس کے ملک یعنی شام اور فلسطین میں یہ انقلاب پیش آیا کہ مجوسیوں نے حملہ کرکے رومیوں کو وہاں سے بےدخل کردیا۔ رومی چونکہ نصرانیت کے پیرو تھے اس وجہ سے دین و عقیدہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں سے قریب تھے اور اس قربت کے سبب سے قدرتی طور پر مسلمانوں کو ان سے ہمدردی تھی۔ اس کے برعکس مجوسیدین شرک کے پیرو تھے اس وجہ سے مشرکین کی تمام ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔ مجوسیوں کے ہاتھوں رومیوں کی اس شکست سے مشرکین مکہ کو بڑی شہ ملی۔ اس کی آر میں انہوں نے قرآن کی ان تمام باتوں کا مذاق اڑانا شروع کردیا جو ان کی خواہشوں کے خلاف تھیں۔ مثلاً یہ کہ مسلمان جو یہ کہتے ہیں کہ دین توحید ہی حق ہے یا مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوگا یا قیامت آنے والی ہے جس میں حق کا بول بالا ہوگا، یہ سب باتیں ان کی محض لا یعنی ہیں۔ اگر ان کی یہ باتیں سچی ہوتیں تو بھلا مجوسیوں کو رومیوں پر کس طرح غلبہ حاصل ہوتا ! یہ واقعہ تو اس بات کی صاف شہادت ہے کہ ہمارا ہی دین و عقیدہ اور ہمارا ہی نظر یہ زندگی صحیح ہے اور ہم ہی غالب و حاکم رہیں گے۔ قرآن نے اس سورة میں اسی واقعہ کو بنیاد بنا کر ان تمام حقائق کو ازسر نو مبرہین کیا ہے جن کو مشرکین نے مشتبہ بنانے کی کوشش کی۔ اس سورة کا نظام سمجھنے کے لئے اگرچہ یہ تمہید بھی کافی ہے لیکن ہم سہولت کے لئے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (٧٠١) رومیوں اور مجوسیوں کے واقعہ کی طرف ایک اجمالی اشارہ اور اس حقیقت کا اظہار کہ اس دنیا میں قوموں کے ردّو و بدل کے جو واقعات پیش آتے ہیں وہ اتفاقی واقعات کے طور پر نہیں پیش آتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک مبنی برعدل سنت کے تحت ظہور میں آتے ہیں لیکن اس سنت تک ان لوگوں کی نگاہیں نہیں پہنچ سکتیں جو صرف اس دنیا کے ظواہر کو دیکھنے کے عادی ہیں۔ ّ (١٨٠٨) اس دنیا کے نظام اور اس کی تاریخ پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے گا کہ اس کے خالق نے اس کو کھیل تماشہ نہیں بنایا ہے اس وجہ سے یہ لازماً جزا و سزا پر منتہی ہوگی۔ قوموں کی تاریخ سے بھی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے کردار کے مطابق معاملہ کیا ہے اس وجہ سے قیامت ناگزیر ہے۔ جو لوگ اس کا انکار کر رہے ہیں وہ ایک بدیہی حقیقت کا انکار کر رہے ہیں۔ جب قیامت آئے گی تو اس دن اہل ایمان کو فلاح حاصل ہوگی اور اہل کفر نامراد ہوں گے۔ جن لوگوں نے شرکاء و شفعاء بنا رکھے ہیں وہ نہایت ہی غلط سہارے پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ قیامت کے دن یہ شفعاء بالکل بےحقیقت ثابت ہوں گے۔ عبادت و اطاعت کا اصلی حقدار اللہ ہے۔ اسی کی حمدو تسبیح اس کائنات کی ہر چیز کر رہی ہے۔ اس وجہ سے انسانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ صبح و شام اسی کی تسبیح کریں۔ (١٩۔ ٢٩) قیامت اور توحید کے آفاقی وانفسی دلائل (٣٠۔ ٤٥) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) کو اصل دین فطرت پر قائم رہنے اور اسی کی دعوت دینے کی تاکید۔ اس دین کی بنیاد نماز اور زکوٰۃ پر ہے۔ جن لوگوں نے اس دین فطرت کو بگاڑا ہے ان کو زجرو تنبیہ کہ اب ان کے محاسبہ کا وقت آگیا ہے، وہ پچھلی قوموں کی تاریخ سے سبق ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ تم صبر کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہو اور فیصلہ کے دن کا انتظار کرو۔ (٤٦۔ ٦٠) اللہ تعالیٰ کے وعدہ نصرت کے ظہور کے جو دلائل و آثار تاریخ و آفاق میں موجود ہیں ان کی طرف اشارہ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ تم اپنی دعوت انہی لوگوں کے دلوں میں اتار سکتے ہو جو سننے سمجھنے والے ہیں۔ اس وجہ سے ان لوگوں کے رویہ سے بددل نہ ہو جو اندھے بہرے بن چکے ہیں۔ سوچنے سمجھنے والوں کے لئے یہ قرآن کافی ہے۔ باقی رہے ضدی اور ہٹ دھرم تو ان کو کوئی معجزہ بھی قائل نہیں کرسکتا۔ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو۔ اللہ کا وعدہ نصرت پورا ہو کر رہے گا۔

Ayah 30:1
1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت الم (1) یہ ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آرہے ہیں، مستقل جملہ ہے۔ یعنی یہ سورة الم ہے۔ یہ اس سورة کا اصل قرآنی نام ہے۔ یہی نام سابق سورة کا بھی ہے۔ قرینہ ہے اس بات کا کہ عمود کے اعتبار سے دونوں سورتوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورة میں اس کائنات کا جو فلسفہ بیان ہوا تھا اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر رسول اور اس کے ساتھیوں کے لئے دنیا اور آخرت میں جس نصرت الٰہی اور غلبہ کی بشارت دی گئی تھی۔ ایک خاص واقعہ کو جس کی تفصیل آگے ارہی ہے، دلیل بنا کر کفار نے اس کا خوب مذاق اڑایا اور اس طرح ان کے زعم میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی تکذیب کے لئے ان کو ایک ایسی شہادت مل گئی جس پر وہ بہت مسرور ہوئے اور قدرتی طور پر ان کی یہ شادمانی مسلمانوں کے لئے باعث رنج ہوئی۔ قرآن نے اس سورة میں اسی واقعہ کو تمہید بنا کر ان تمام پہلوئوں کی وضاحت فرمائی جن سے بیخبر ی کی بنا پر کفار مغالطہ میں مبتلا ہوئے اور جن کے اچھی طرح ذہن نشین نہ ہونے کے سبب سے مسلمانوں کی ایک جماعت کو بھی خلجان لاحق ہوا۔ اس طرح یہ سورة گویا سابق سورة کے مطالب کو ازسر نو مدلل و مبرہن اور ان تمام شبہات کا ازالہ کر رہی ہے جو اس سلسلہ میں پیدا ہوئے یا پیدا ہوسکتے تھے۔ گویا دونوں سورتوں میں زیر بحث موضوع ایک ہی ہے۔ فرق صرف پہلو اور نہج استدلال کا ہے۔ ان دونوں میں نبی ﷺ کی رسالت آپ کے پیش کردہ اصولوں کی صداقت کے پہلو سے واضح کی گئی ہے۔
Ayahs 30:2–4

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

رومی مغلوب ہوئے

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

پاس کے علاقے میں اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

چند سالوں میں اللہ ہی کے حکم سے ہوا جو پہلے ہوا اور اللہ ہی کے حکم سے ہوگا جو بعد میں ہوگا اور اس وقت اہل ایمان مسرور ہوں گے۔

غلبت الروم۔ فی ادنی الارض و ھم من بعد غلبھم سیغلبون فی بضع سنین للہ الامر من قبل ومن بعد ویومئذ یفرح المومنون (2۔ 4) ادنی الارض سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو عرب کی سرزمین سے بالکل متصل تھی۔ اس علاقے پر اس زمانے میں رومیوں کی حکومت تھی لیکن وہ اس وقت سخت اندرونی خلفشار میں مبتلا تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر ایرانیوں نے ان پر حملہ کردیا اور ان علاقوں سے ان کو بےدخل کردیا۔ یہ واقعہ 214 ء؁ یعنی نبی ﷺ کی بعثت کے چھٹے یا ساتویں سال پیش آیا۔ وھم من بعد غلبھم سیغلبون۔ غلب اپے مفعول کی طرف مضاف ہے۔ یہ قرآن نے پیش گوئی فرمائی کہ اگرچہ رومی اس وقت مغلوب ہوگئے ہیں لیکن یہ مغلوبیت ان کی عارضی ہے، بہت جلد وہ پھر ایرانیوں پر غالب ہوجائیں گے۔ ’ فی یضع سنین ‘ یعنی اس انقلاب میں، جس کی قرآن خبر دے رہا ہے، زیادہ دن نہیں لگیں گے۔ صرف چند سالوں کے اندر اندر یہ واقع ہوجائے گا۔ اگرچہ ’ سیغلبون ‘ کے اندر بھی مستقبل قریب کا مفہوم موجود تھا لیکن اس میں ایک قسم کا ابہام تھا اس۔۔۔ کو رفع کرنے کے لئے اس کے ساتھ فی بضع سنین کی قید لگا دی جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ انقلاب زیادہ سے زیادہ اگلی دہائی کے اندر واقع ہوجائے گا۔ لفظ بضع کا اطلاق دس سے زیادہ کی تعداد کے لئے نہیں ہوتا۔ اس تعین یا تصریح کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اس واقعہ کو۔ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مشرکین نے اپنے فکر و فلسفہ کی صحت کی دلیل بنا لیا تھا جس سے قدرتی طور پر مسلمانوں کو صدمہ پہنچا۔ قرآن نے اس موکد پیشین گوئی کے ذریعے سے ایک طرف تو مسلمانوں کو اطمینان دلایا کہ تمہارے مخالفوں نے اس واقعہ کو اپنے حق میں جو دلیل بنایا ہے اور جس سے وہ بہت خوش ہیں، ان کی یہ خوشی چند روزہ ہے، بہت جلد یہ غم سے بدل جائے گی۔ دوری طرف مشرکین کے سامنے آنحضرت ﷺ کی صداقت کے جانچنے کے لئے ایک کسوٹی رکھ دی کہ یہ پیشین گوئی آپ کی نبوت کی ایک دلیل ہوگی۔ تاریخوں سے ثابت ہے کہ اس واقعہ کے تقریباً نو سال بعد ہرقل نے رومیوں کو ازسر نو منظم کرکے ایرانیوں کو سخت شکست دی، اور ان سے نہ صرف اپنے علاقے واپس لے لیے بلکہ ان کے بھی بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیا اور اس طرح قرآن کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوگئی۔ ’ للہ الامر من قبل ومن بعد ‘ یعنی جو کچھ ہوا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہوا ہے اور آگے جو کچھ ہوگا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہوگا۔ قوموں کی زندگی میں اتنے بڑے بڑے انقلابات محض اتفاقات زمانہ اور گردش روزگار سے نہیں پیش آتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیش آتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا ہر حکم حق و عدل پر مبنی ہوتا ہے۔ رومیوں نے جب اپنے اندر وہ خرابیاں پیدا کرلیں جو کسی قوم کو خدا کے تازیانہ تنبیہ کا مستحق بناتی ہیں تو وہ اس سے مجردا اس بنیاد پر نہیں بچ سکتے تھے کہ وہ بعض اچھے عقائد و رسوم کا اظہار کرتے ہیں۔ صرف رسوم و عقائد اجتماعی زندگی کے بنانے بگاڑنے میں اصلی دخل نہیں رکھتے بلکہ اصل شے وہ انفرادی و اجتماعی کردار ہے جو ان عقائد و رسوم سے پیدا ہوتا ہے یا پیدا ہونا چاہیے۔ اگر وہ کردار نہ پیدا ہو تو محض کھوکھلے رسوم کچھ بھی کارآمد نہیں ہوتے۔ چناچہ رومیوں کا یہی کھوکھلا پن مجوسیوں کے آگے ان کی شکست کا سبب ہوا اور اب مستقبل قریب میں ان کے لئے جس غلبہ کی بشارت دی جا رہی ہے تو وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہوگا اور اللہ کا ہر حکم عدل و حق پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے لازماً یہ غلبہ اس وجہ سے ان کو حاصل ہوگا اور اللہ کا ہر حکم عدل و حق پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے لازماً یہ غلبہ اس وجہ سے ان کو حاصل ہوگا کہ وہ اپنے حالات کی اصلاح کرکے ایرانیوں کے مقابل میں اپنے کو اللہ کی مدد کا مستحق بنائیں گے۔ ’ ویومئذ یفرح المومنون۔ اس دن مسلمان خوش ہوں گے۔ اس وجہ سے بھی کر جو لوگ مذہب اور فکرو فلسفہ میں ان سے قریب تر ہیں ان کو فتح ہوگی اور اس وجہ سے بھی کہ قرآن کی ایک عظیم پیشین گوئی جو نبی ﷺ کی رسالت کی ایک بہت بڑی دلیل سے پوری ہوگی۔ یہ امر یہاں قابل توجہ ہے کہ باوجودیکہ رومی صحیح نصرانیت کے پیرو نہیں تھے بلکہ ان کے عقائد و اعمال میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوچکی تھیں لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو مجوسویں کے مقابل میں ان سے ہمدردی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ہمدردی کی تحسین فرمائی۔ اسلام نے دوسری غیر مسلم قوموں کے ساتھ اسی اصول پر اپنے قانون اور معاملات کی بنیادر کھی ہے۔ یعنی جو قوم اپنے نظریات و عقائد اور فکرو فلسفہ میں اسلام سے جتنی ہی قریب ہوگی بین الاقوامی میدان میں مسلمانوں کی ہمدردیاں اور دوسروں کے مقابل میں ان کے ساتھ اتنی ہی زیادہ ہوں گی۔
Ayah 30:5

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کو چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور عزیز و رحیم تو وہی ہے۔

بنصر اللہ ط ینصر من یشاء و ھو العزیز الرحیم (5) بنصر اللہ کا تعلق سیغلبون سے بھی ہوسکتا ہے اور یفرح المومنون سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ غلبہ جو ان کو حاصل ہوگا اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہوگا، اس لئے کہ اللہ ہی جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ یہ امریہاں ملحاظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تمام ترحق و عدل پر مبنی ہے اس وجہ سے وہ انہیں کی مدد فرماتا ہے جو اس کے عدل و حکمت کی رو سے اس کی مدد کے سزا وار ہوتے ہیں۔ ’ عزیز ورحیم ‘ کی صفات کا حوالہ یہاں اس کی مشیت کی نوعیت کے اظہار کے لئے ہے کہ وہ غالب و مقتدر ہے اس وجہ سے اس کی مشیت میں کوئی مزاحم تو نہیں ہوسکتا لیکن ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے اس وجہ سے اس کا ہر ارادہ عدل و رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ اپنی مشیت کے زور میں یہ نہیں کرتا کہ قوموں کو قوموں سے ٹکرا کر ان کے فساد فی الارض کا تماشا دیکھے۔
Ayah 30:6

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وعد اللہ لایخلف اللہ وعدہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (6) ’ وعد اللہ ‘ یہاں مصدر موکد ہے اس وجہ سے اس کے اندر تاکید کا مفہوم پیدا ہوجائے گا۔ یعنی اہل ایمان کی مدد کا یہ وعدہ بالکل قطعی اور اٹل ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا لیکن جن لوگوں کی نظر صرف ظاہری اسباب و حالات تک محدود ہے وہ اس مخفی ہاتھ کو نہیں دیکھ رہے ہیں جو ان ظواہر کے اندر کا رفرما ہے۔ اس وجہ سے وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ یہاں جس وعدے کے پورے ہونے کی طرف اشارہ وہ صرف رومیوں کے غلبہ کا وعدہ نہیں ہے بلک پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کے غلبہ کہ وہ وعدہ بھی ہے جس کی تکذیب کے لئے قریش نے مجوسیوں کی فتح کو دلیل بنایا تھا۔ اس واقعہ پر تبصرہ کرنے کے بعد یہ قرآن نے نہایت تاکید کے ساتھ اس وعدے کے پورے ہونے کا اظہار فرمایا جو اصلاً اس سورة میں زیر بحث ہے۔ آگے اسی سورة کی آیات 47، 60 میں اس کی پوری وضاحت ہوجائے گی۔
Ayah 30:7

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

وہ اس دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ بالکل ہی بیخبر ہیں۔

یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا و وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (7) اوپر والی آیات میں ان ظاہر پرستوں کے جس اندھے پن کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ اس کی توجیہ ہے کہ اول تو یہ لوگ اس دنیا کے صرف ظاہر حالات کو دیکھتے ہیں، ان کے باطن تک ان کی نگاہ نہیں پہنچتی کہ اصل متصرف اس کے اندر کون ہے اور اس کی صفات کیا ہیں اس وجہ سے یہ ان کے لئے ایک کھیل تماشا بن کر رہ گئی ہے، دوسرے یہ آخرت سے بالکل غافل ہیں اور جب یہ آخرت سے غافل ہیں تو آخرت کے بغیر اس کارخانہ کائنات کو مبنی عدل و حکمت تصّور کرنا ناممکن ہے۔ وھم من الاخرۃ ھم غفلون میں مبتدا کا اعادہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اس حقیقت کو زور تاکید کے ساتھ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ آخرت سے اصلی غافل یہی لوگ ہیں۔ اس تاکید کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین عرب اگرچہ آخرت کا صاف الفاظ میں انکار نہیں کرتے تھے لیکن انہوں نے شرک و شفاعت کا ایک ایسا نظام کھڑا کر رکھا تھا کہ آخرت ان کے لئے ایک بالکل بےحقیقت چیز بن کر رہ گئی تھی۔ قرآن یہاں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کوئی یہ نہ گمان کرے کہ یہ لوگ آخرت کو کسی درجے میں بھی مانتے ہیں۔ اصلی حقیقت یہ ہے کہ آخرت سے یہ لوگ بالکل ہی بیخبر ہیں۔
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا ! اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے نہیں پیدا کیا ہے مگر غایت و حکمت اور ایک مدت مقرر کے ساتھ۔ اور لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔

اولم یتفکروا فی انفسھم، ما خلق اللہ السموات والارض وما بینھا الا بالحق ماجل مسمی ط وان کثیرام الناس بلقاء ربھم للکفرون (8) اس آیت میں اور آگے کے چند آیات میں اسی حقیقت کی تائید میں، جو اوپر بیان ہوئی، آفاق کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ خود اپنے باطن میں اتر کو غور کرتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، ان میں سے کسی چیز کو بھی بےغایت و مقصد، محض کھیل تماشے کے طور پر، نہیں بنایا ہے بلکہ ہر چیز ایک غایب و مقصد اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ بندھی ہوئی پیدا ہوئی ہے۔ تو جب اس کائنات کی ہر چیز اپنے اندر ایک غایت و حکمت رکتھی ہے اور اس کے لئے ایک مدت بھی مقرر ہے تو یہ کس طرح باور کیا جاسکتا ہے کہ انسان جو اس کے اندر، واضح طور پر، ایک برتر مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے، بالکل بےمقصد اور عبث پیدا کیا گیا ہو۔ اس چیز کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک روز جزا و سزا آئے جس میں وہ اپنے اعمال کے بابت مسئول ہو، اپنی نیکیوں کا صلہ پائے اگر اس نے نیکیاں کی ہوں اور اپنی بدیوں کی سزا بھگتے اگر اس نے بدیاں کمائی ہوں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ کارخانہ کائنات ایک کھلنڈرے کا کھیل اور انسان ایک شتر بےمہارا اور بےغایت و مقصد وجود بن کے رہ جاتا ہے اور یہ بات اس کائنات کی اس مقصدیت اور حکمت کے بالکل منافی ہے جس کی شہادت اس کے ہر گوشہ سے مل رہی ہے۔ یہی مضمون دوسری جگہ اس طرح بیان ہوا ہے ’ ویتفکرون فے خلق السموات ولارض ط ربنا ما خلقت ھذا باطلا، سجنک ربنا عذاب النار (اور وہ آسمانوں اور زمین کی خلقت میں غور کرتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارا رب ! تو نے یہ کارخانہ عبث نہیں پیدا کیا۔ تیری ذات پاک ہے تو ہمیں عذاب نار سے بچائیو !) اولم یتفکرو فی انفسھم ‘ کے الفاظ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ آسمان و زمین کی خلقت کی یہ حکمت ان لوگوں پر کھلتی ہے جو بالکل غیر جانبدار ہو کر اپنے باطن میں غوطہ لگارے اور اصل حقیقت کو پانا چاہتے ہیں۔ رہے وہ جو محض دوسروں کے اندھے مقلد یا حقیقت کو جھٹلانے کے لئے معجزات اور نشانیوں کے طالب اور مناظرہ و مجادلہ کے لئے آستینیں چڑھائے رہتے ہیں وہ اس سے محروم ہی رہتے ہیں۔ ’ وان کثیر من الناس بلقائی ربھم لکفرون ! یعنی ہے تو یہ حقیقت بالکل واضح لیکن اس کے باوجود بہت سے نادان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف کھانے پینے اور عیش کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور اسی طرح ایک دن ختم ہوجائیں گے۔ ان کے لئے خدا کے آگے پیشی کا کوئی دن آنا نہیں ہے۔
Ayahs 30:9–10

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جوان سے پہلے تھے۔ وہ ان سے قوت میں زیادہ اور زمین کو زرخیز بنانے اور آباد کرنے میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھے اور ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیا لے کر آئے۔ پس اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کا انجام، جنہوں نے بری روش اختیار کی، برا ہوا۔ بوجہ اس کے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑاتے رہے۔

اولم یسروا فی الارض ینظرو اکیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم ط کانواشد منھم قوۃ واثما روا الارض و عمر و ھا اکثر مما عمروھا وجاء تھم وسلھم بالبینت، فما کان اللہ لیطلمھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون ثم کان عاقبۃ الذین اساء والسوای ان کذبوا بایت اللہ وکانو بھا یستھزون (9۔ 10) یہ اسی حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے تاریخ کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنے ہی ملک کے آثار اور اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ جو قومیں اپنی عسکری قوت میں ان سے کہیں بڑ چڑھ کر اور تمدنی و تعمیری صلاحیتوں میں ان سے کہیں آگے تھیں، ان کا انجام کیا ہوچکا ہے ! شارہ قوم عاد، ثمود، قوم مدین وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بیان ہوچکی ہیں۔ فرمایا کہ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن انہوں نے اپنی آنکھیں اس طرح بند رکھیں کہ وہ کسی نشانی سے بھی نہ کھیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کو عذاب میں پکڑا اور ان کا عذاب میں پکڑا جانا ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہوا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اس لئے کہ انہوں نے اس انداز کی کوئی قدر نہیں کی جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اہتمام فرمایا بلکہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور نہایت جسارت کے ساتھ ان کا مذاق اڑاتے رہے…مطلب یہ ہے کہ قریش قوموں کی اس تاریخ پر غور کریں کہ اس سے کیا بات ثابت ہوتی ہے ؟ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے، جس میں ہر شخص اپنے زور میں جو چاہے کرتا پھرے۔ کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے، یا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ قوموں کے ساتھ اپنے قانون عدل و حکمت کے مطابق معاملہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہی دوسری بات ثابت ہوتی ہے اور پھر اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن بھی آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ ایک ایک فرد کا محاسبہ کرے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جز ایا سزا دے گا۔
Ayah 30:11

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ ہی خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔

اللہ یبدوا لخلق ثم بعیدہ چم الیہ ترجعون (11) اوپر کی آیات میں اس کائنات کے ’ بالحق ‘ ہونے سے قانونِ مجازات کی صھت و صداقت پر استدلال فرمایا ہے۔ اب اس آیت اور بعد کی چند آیات میں نہایت آشکارا الفاظ میں وہ اصل حقیقت سامنے رکھ دی ہے جس سے ہر ایک کو سابقہ پیش آنا ہے۔ فرمایا کہ اللہ ہی خلق کا آغاز فرماتا ہے اور وہی اس کا اعادہ فرمائے گا۔ ان دو لفظوں میں دعویٰ اور دلیل دونوں جمع ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ اللہ اس خلق کا اعادہ فرمائے گا، دلیل اس کی یہ ہے کہ اسی نے اس کا آغاز کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس نے اس کا آغاز کیا اور اس کام میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی اس کو اس کے اعادے میں بھی کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ بلکہ اعادہ ابداء کے مقابل میں زیادہ آسان ہے۔ یہ جواب ہے منکرین قیامت کے شبہ کا کہ وہ قیامت کو نہایت مستبعد چیز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جب خلق کا ابداء مستبعد نہیں ہے تو اس کے اعادے میں کیا استبعاد ہے ! ’ ثم الیہ ترجعون۔ ‘ یہ منکرین کے ایک دوسرے مغالطے کو رفع فرمایا۔ منکرین اول تو قیامت کے وقوع ہی کو نہایت مستبعد خیال کرتے تھے اور اگر ایک مفروضہ کے درجے میں مانتے بھی تھے تو ان کا گمان یہ تھا کہ ہمارا لوٹنا تو ہمارے معبودوں کی طرف ہوگا اور ان کو خدا کے ہاں اتنا تقریب حاصل ہے کہ اول تو وہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے اوپر ہاتھ ڈالنے ہی نہیں دیں گے اور اگر اس نے ہاتھ ڈالا تو وہ اپنی سفارش سے ہم کو بچا لیں گے۔ فرمایا کہ یہ خبط اپنے ذہن سے نکالو۔ ہر ایک کی پیشی اللہ ہی کے حضور ہونی ہے۔ اس دن کوئی اور مرجع و ماویٰ نہیں بنے گا۔
Ayahs 30:12–13

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت واقع ہوگی تو مجرم اس دن مایوس ہوجائیں گے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کے لئے سفارش کرنے والا نہیں بنے گا اور وہ اپنے شریکوں کا انکار کریں گے۔

ویوم تقوم الساعۃ یبلیس المجرمون ولم یکن تھم من شرکأ ئھم شفعوا کانوا بشرکائھم کفرین (12۔ 13) ’ ابلاس ‘ کے معنی بالکل مایوس اور بھونچا ہو کر رہ جانا ہے۔ فرمایا کہ آج یہ مخالفین جن کی شفاعت پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں جب قیامت کے دن ان کے سامنے اصلی صورت حال آئے گی تو وہ مایوس اور بھونچکے ہو کر رہ جائیں گے۔ وہ دیکھیں گے کہ جن کو انہوں نے شریک خدا بنایا اور جن کی زندگی بھرپوجا کی ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔ ’ وکانو بشرکائھم کفسرین اور خود ان کا حال یہ ہوگا کہ جن کی حمایت میں آج آستینیں چڑھائے ہوئے ہر ایک سے لڑنے کو تیار ہیں، ان کے منکر بن جائیں گے۔ سورة قصص کی تفسیر میں ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ قیامت کے مختلف مراحل میں مشرکین اپنے شرکاء کے معاملے میں مختلف رویے اختیار کریں گے۔ کبھی تو وہ ان کو اپنی مدد کے لئے پکاریں گے اور کبھی وہ مرحلہ بھی آئے گا کہ صاف صاف ان کا انکار کریں گے۔ حیرانی و پریشانی کے عالم میں جہاں جو بات بنتی نظرآئے گی اور کریں گے لیکن قیامت بات بنانے کی جگہ نہیں ہوگی بلکہ حقائق سے دوچار ہونے کی جگہ ہوگی۔ یہاں زبان کے اس اسلوب پر بھی نگاہ رہے کہ مستقبل کے احوال ماضی کے صیغوں۔ ولم یکن لھم اور کان بشرکائھم۔ میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ اسلوب تقریب فہم کے لئے اختیار کیا جاتا ہے گویا مکاطب جس چیز کو نہایت بعید سمجھتے ہیں متکلم اس کو ماضی کے اسلوب میں ایک واقع شدہ واقعہ کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ احوالِ قیامت کے بیان میں قرآن نے یہ اسلوب اکثر جگہ استعمال کیا ہے۔
Ayahs 30:14–16

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت واقع ہوگی مومن و کافر دونوں الگ الگ ہوجائیں گے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

پس جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے وہ تو ایک شاندار باغ میں مسرور ہوں گے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

رہے وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی تو وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔

ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فھم فی روضۃ یحجرون وا ما الذین کفروا وکذبو ابایتتنا ولقای الاخرۃ فاولئک فی العذاب معفسرون (14۔ 16) یعنی اس دنیا کا کارخانہ ابتلاء کے قانون کے تحت چل رہا ہے اس وجہ سے اس میں نیک و بد اور مومن و فاسق دونوں ملے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتحمند ہیں اس وجہ سے اس دنیا کا ’ بالحق ‘ ہونا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا جن کے اندر بصیرت نہیں ہے لیکن جب آخرت کا یو الفرقان نمایاں ہوگا اور اس دن نیک و بدر اور مومن و کافر دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہوجائیں گے۔ جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہوں گے وہ ایک شاندار باغ میں مسرور و شادماں ہوں گے اور جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات و ملامت کو جھٹلایا ہوگا۔ وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ یہاں ’ روضۃ ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لئے ہے۔ یعنی جنت کے باغوں میں سے شاندار باغ میں۔ ’ ضبر ‘ کے معنی خوش اور مسرور کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لئے وہ تمام اسباب مہیا فرمادے گا جو ان کی خوشی کے لے ضروری ہوں گے۔ مجرمین کے باب میں لفظ محضرون الف کی ذلت و بےبسی کی تصویر کے لئے ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ عذاب میں اس طرح باندھ کر اور گھسیٹ کر لائے جائیں گے جس طرح سزا یافتہ قیدی لائے جاتے ہیں۔
Ayahs 30:17–18

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

پس اللہ ہی کی تسبیح کرو جس وقت تم شام کرتے اور جس وقت صبح کرتے ہو

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہو رہی ہے اور عشاء کے وقت بھی اور اس وقت بھی جب تم ظہر کرتے ہو۔

فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحوان، ولہ الحمد فی السموات والارض وعشیاء وحین تظھرون (17۔ 18) اب یہ تقاضا بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی اس یکتائی اور اس کے قانونِ مجازات کا جس کا بیان اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ جب اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی تو ہر ایک کا فرض ہے کہ صرف اللہ ہی کی تسبیح کرے شام و صبح اور عشا کے وقت اور ظہ رکے وقت۔ ’ ولہ الحمد فی السموات والارض۔ ‘ یہ اوقاتِ تسبیح کے بیچ میں ایک جملہ معترضہ بطور تنبیہ و تذکیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خدا ہی کی تسبیح کی جو دعوت دی جا رہی ہے یہ کوئی بیگانہ دعوت نہیں ہے بلکہ آسمانوں اور زمین کے ہر گوشے سے خدا ہی کی حمد کا ترانہ گونج رہا ہے۔ تو جو لوگ خدا کے سوا کسی اور کی بندگی کر رہے ہیں ان کا سر اس کائنات کے مجموعی سر سے بالکل بےجوڑ ہے البتہ جو لوگ خدا کی حمد و تسبیح کر رہے ہیں وہ اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اس میں دعوت کے ساتھ ساتھ ایک قسم کی بےنیازی کا اظہار بھی ہے کہ اگر کچھ بدقسمت خدا کی حمد و تسبیح سے گریز کریں گے تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ اس کائنا تمہیں اس کی حمدو تسبیح کرنے والوں کی کمی ہے، آسمانوں اور زمین کا ہر گوشہ اس کی حمد کرنے والوں سے معمور ہے۔ یہاں جو اوقات مذکور ہوئے ہیں ان پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد و تسبیح کے لئے وہ اوقات خاص طور پر پسند فرمائے ہیں جن کی اس کی کسی بڑی نشانی کا ظہور ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ رات دن میں داخل ہوتی ہے یا دن رات میں داخل ہوتا ہے۔ یا سورج سمت راس سے جھکتا ہے یا رات تاریک ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو انسان غور کرنے والا ہے یہ اوقات اس کے ذہن و دماغ پر خ اس طور پر اثر انداز ہوتے اور اس جو جھنجھوڑتے ہیں کہ وہ اس ذات کو اس وقت یاد کرے جس کے حکم سے یہ عظیم تغیر اس دنیا میں واقع ہوا ہے۔ اگر ان اوقات میں بھی کوئی شخص اللہ کی نشانیوں اور اس کی شانوں سے متاثر نہیں ہوتا تو وہ نہایت بلید جانور ہے۔ اوقاتِ نماز میں سے فجر اور ظہر کا ذکر تو اس آیت میں نہایت واضح طور پر موجود ہی ہے۔ تمسون میں اگر عصر اور مغرب دونوں کو شامل کرلیجئے اور عشیاء سے عشاء کو مراد لیجئے تو تمام اوقات نماز آجاتے ہیں۔ لفظ ’ عشی ‘ کا اطلاق زوال کے وقت پر بھی ہوتا ہے اور مغرب سے لے کر عشاء کے وقت پر بھی، اس وجہ سے اس سے عشاء کا وقت مراد لینے میں لفظ سے کوئی تجاوز نہیں ہوگا۔ 2۔ آگے کا مضمون…آیات 19۔ 29 آگے ایک مناسب ترتیب کے ساتھ بعث و قیامت اور توحید کے دلائل آرہے ہیں۔ قیامت کا بیان اس پہلو سے ہوا ہے کہ اس دنیا کی اصلی غایب و حکمت قیامت ہی سے واضح ہوگی اور توحید کا مضمون اس پہلو سے اس کے ساتھ آیا ہے کہ توحید کے بغیر قیامت ایک بالکل بےمعنی چیز ہو کے رہ جاتی ہے۔ جب نظریہ یہ ہو کہ آدمی کے اعمال خواہ کچھ ہی ہوں شرکاء و شفعاء اس کو بخشوا لیں گے تو قیامت کا آنا نہ آنا دونوں یکساں ہوا۔ قیامت کی ساری اہمیت اس عقیدے میں ہے کہ اس دن خدا کے کامل حق وعدل کا ظہور ہوگا، اور کسی کا زور و اثر بھی اس کے بےلاگ عدل کے ظہور میں مزاحم نہ ہوسکے گا…اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 30:19

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہ زندہ کو مردہ سے پیدا کرتا ہے اور مردہ کو زندہ سے پیدا کرتا ہے اور زمین کو اس کے خشک ہوجانے کے بعد ازسر نور شاداب کردیتا ہے اور اسی طرح تم بھی نکالے جائو گے۔

3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ویحی الارض بعد موتھا وکذلک تخرجون (19) ’ اخراج ‘ کے معنی جس طرح کسی چیز سے کسی چیز کے نکالنے کے آتے ہیں اسی طرح کسی چیز کے ظاہر کرنے کے بھی آتے ہیں۔ یہ منکرین قیامت کے استبعاد کو رفع فرمایا ہے کہ تم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو بہت مستبعد سمجھتے ہو حالانکہ اس دنیا کے ہر گوشہ میں زندہ کر مردہ سے ظہور میں آتے اور زندہ پر موت کو طاری ہوتے دیکھتے ہو۔ اس کی مثال کے طور پر فرمایا کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ بالکل خشک اور مردہ ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ بارش کے ایک ہی چھینٹے سے اس کے ہر گوشے میں زندگی نمودار کردیتا ہے۔ اسی طرح تم بھی ایک دن مر کھپ جانے کے بعد نکال کھڑے کیے جائو گے۔ زندگی اور موت سب خدا کے اختیار میں ہے۔ نہ اس کے لئے زندہ کو مردہ کرنا مشکل ہے نہ مردہ کو زندہ کرنا قیامت کا ریہرسل برابر تمہاری نگاہوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہاں مثال دراصل حیات بعد الموت کی پیش کرنی مقصود ہے لیکن اپنی کامل قدرت کو سامنے لانے کے لئے موت بعد الحیات کا بھی حوالہ دے دیا ہے۔ انعام کی آیات 95۔ 96 کے تحت اس پر مفصل بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 30:20

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر تم دیکھتے دیکھتے بشربن کر روئے زمین پر پھیل جاتے ہو

ومن ایتہ ان خلقکم منتراب ثم اذا انتم بشر تنتشرون (20) یعنی تم کو جن حقائق کے ماننے کی دعوت دی جا رہی ہے وہ تمام تر تمہارے خالق کی قدرت و حکمت پر مبنی ہیں تو اس کی قدرت و حکمت کے ثبوت کے لئے تم کسی خارجی دلیل کا مطالبہ کیوں کرتے ہو ؟ اس کی سب سے بڑی دلیل تو خود تمہاری خلقت ہی کے اندر موجود ہے۔ اس نے تم کو جامد مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم زندہ اور عقل و شعور رکھنے والے ہستی بن کر تمام روئے زمین پر پھیل گئے۔ ’ اذا ‘ یہاں اس عظیم قدرت و شان کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہے۔ یعنی غور کرو، کہاں خشک مٹی اور کہاں جیتا جاگتا انسان، دیکھتے دیکھتے خدا کی قدرت نے اسی مٹی سے ایک پورا جہان آباد کردیا ! مطلب یہ ہے کہ اگر یہ انسان بات پر جھگڑے کہ خدا اس کو دوبارہ کس طرح پیدا کرسکتا ہے تو یہ بالوت و حماقت کی انتہا ہے۔ اسی بات کو قرآن میں دوسرے مقام میں یوں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا تو کیا مٹی سے لیکن اب وہ ہمارا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا ہے اور علانیہ ہماری قدرت کو چیلج کر رہا ہے !
Ayah 30:21

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لئے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی و دیعت کی۔ بیشک اس کے اندر گوناگوں نشانیاں ہیں ان کے لئے جو غور کرنے والے ہیں۔

ومن ایتہ ان خلق لکم من النفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ و رحمۃ ط ان فی ذلک لایت تقوم یتفکرون (21) اب ایک قدم آگے بڑھ کر اس کے ووجود سے خارج کی ایک عظیم نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہم نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے تمہارا جوڑا پیدا کیا تاکہ تم اس سے تسکین و راحت حاصل کرو اور اس تسکین و راحت کے حصول کے لئے تمہارے درمیان محبت و ہمدردی ودیعت فرمائی… فرمایا جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لئے اس کے اندر گوناگوں نشانیاں ہیں۔ اس کے اندر ایک واضح نشانی تو اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ہر چیز جوڑا جوڑا پیدا کی ہے اور ہر چیز اپنے مقصد وجود کی تکمیل اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر کرتی ہے۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس دنیا کا بھی ایک جوڑا ہے جس کو آخرت کہتے ہیں۔ اسی آخرت سے اس دنیا کی غایت کی تکمیل ہوتی ہے۔ دوسری نشانی اس کے اندر یہ ہے کہ ہمارا خالق نہایت مہربان اور محبت کرنے والا ہے۔ اس نے ہمارے اندر جوڑے کی طلب دی تو ہماری۔۔ جنس سے ہمارا جوڑا بھی اس نے پیدا کیا اور پھر دونوں کے اندر محبت و ہمدری کے جذبات بھی ودیعت فرمائے تاکہ دونوں دو قالب یک جان ہو کر زندگی بسر کریں۔ تیسری نشانی اس کے اندر یہ ہے کہ اس کائنات کے اضداد کے اندر نہایت گہرا تو افق اور ایک بالاتر مقصد کے لئے نہایت عمیق سازگاری پائی جاتی ہے جو اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اس کا خالق ومالک ایک ہی ہے جو اپنی حکمت کے تحت اس کائنات کے اضداد میں توفیق پیدا کرتا ہے۔ چوتھی نشانی اس کے اندر یہ ہے کہ ان لوگوں کا خیال بالکل احمقانہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ اس کائنات کا ارتقاء آپ سے آپ ہوا ہے۔ اگر اس کا ارتقاء آپ سے آپ ہوا ہے تو اس کے اضداد میں یہ حیرت انگیز توافق کہاں سے پیدا ہوا ؟ یہ تو اس بات کی صاف شہادت ہے کہ ایک قادر و حکیم ہستی ہے جو اس پورے نظام کو اپنی حکمت کے تحت چلا رہی ہے۔
Ayah 30:22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی خلقت اور تمہاری بولیوں اور تمہارے رنگوں کو تنوع بھی ہے۔ بیشک اس کے اندر گوناگوں نشانیاں ہیں اصحابِ علم کے لئے۔

ومن ایتہ خلق السموات والارض واختلاف السنتکم والونکم ط ان فی ذلک لایت للعلمین (22) اُسی حقیقت کی طرف جو اوپر والی آیت میں مذکورہوئی ہے ایک دوسرے زاویے سے توجہ دلائی کہ اگر لوگ غور کری تو ان کو یہ چیز صاف نظر آئے گی کہ اس کائنات میں کثرت کے اندر و حدت مضمر ہے۔ ایک طرف آسمانوں کی ایک وسیع اور ناپید کنار کائنات ہے اور دوسری طرف یہ کرہ زمین ہے۔ بظاہر دونوں میں کتنی دوری ہے لیکن اس دوری کے باوجود دونوں میں اتنا گہرا اتصال ہے کہ کوئی عاقل یہ تصور نہیں کرسکتا کہ دونوں الگ الگ خالقوں کی قدرت سے وجود میں آئے اور الگ الگ ارادوں کے تحت گردش کر رہے ہیں بلکہ ان کی باہمی سازگاری پکار پکار کر شہادت دے رہی ہے کہ ایک ہی قدیر و حکیم دونوں پر متصرف ہے اور دونوں کو ایک مشترک مقصد کے لئے مسخر کئے ہوئے ہے۔ اسی طرح انسانوں کے عالم پر غور کیجئے تو نظر آئے گا کہ قوموں قوموں کی زبانیں الگ اور فرد فرد کا لہجہ مختلف ہے، اسی طرح ان کے رنگ بھی الگ الگ ہیں، لیکن اس اختلاف و تنوع کے باوجود کوئی عاقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں رنگ اور فلاں زبان و لہجہ کے لوگ الگ خدا کی مخلوق ہیں اور فلاں رنگ و روغن کے لوگ کسی الگ خالق کی مخلوق ہیں، بلکہ ہر دانشمند یہ جانتا ہے کہ ایک ہی خالق نے تمام انسانوں کو وجود بخشا ہے۔ یہ محض اس کی حیرت انگیز کا ریگری کا کرشمہ ہے کہ اس نے ہر انسان کا لب و لجہ اور اس کا ناک نقشہ ایسا بنایا ہے کہ لاکھوں کروڑوں آدمیوں کا بھی جائزہ لیجئے تو ناممکن ہے کہ کوئی دو فرد بھی آپ کو بالکل ایک ہی رنگ و روغن ایک ہی قدو قامت اور ایک ہی ناک نقشہ کے مل سکیں۔ ’ ان فی ذلک لایت للعلمین۔ ‘ فرمایا کہ علم والوں کے لئے اس کے اندر بہت سی نشانیاں ہیں۔ اوپر والی آیت میں لقوم یتفکرون ‘ فرمایا تھا یہاں للعلمین فرمایا ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اصلی عالم درحقیقت وہی لوگ ہیں جو اس کائنات پر تفکر کرتے اور اس تفکر ہے اس کی کثرت کے اندر وحدت اور اس کے اضداد کے اندر تو افق و سازگاری کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر اس کے خالق کی صفات قدرت و حکمت سے اس نتیجہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ یہ عظیم کائنات بےغایت و مقصد نہیں ہوسکتی اس وجہ سے لازم ہے کہ ایک روز جزا آئے جس میں نیکو کار اپنی نیکیوں کا صلہ پائیں اور بدکار اپنی بدیوں کی سزا بھگتیں۔ اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ قوموں کے درمیان زبان اور رنگ کے اختلاف کو فارق نہیں ہونا چاہیے۔ انسانوں کے درمیان یہ چیزیں وصل و فصل کی بنیاد نہیں ہیں۔ جس طرح رنگوں اور زبانوں کے اختلاف کے باوجود تمام انسان خدا کی مخلوق ہیں اسی طرح اس قسم کے تمام ظاہری اختلافات کے علی الرفع تمام انسانوں کو ایک ہی خدائی نظام کے تحت زندگی بسر کرنی چاہیے۔ جو لوگ رنگ، نسلی یا زبان یا اس نوع کی کسی اور چیز کو انسانوں کے درمیان وصل و فصل کی بنیاد بتاتے ہیں۔ وہ اس کائنات کی وحدت پر ضرب لگاتے ہیں اور یہ چیز قرآن کی اصطلاح میں شرک اور فساد فی الارض ہے۔ وہ اس کائنات کی وحدت پر ضرب لگاتے ہیں اور یہ چیز قرآن کی اصطلاح میں شرک اور فساد فی الارض ہے۔
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کے فضل کا طالب بننا ہے۔ بیشک اس کے اندر گونا گوں نشانیاں ہیں ان کے لئے جو سننے سمجھنے والے ہیں

ومن ایتہ منامکم بالیل والنھار وابتغاء کم من فضلہ ان فی ذلک لایت یقوم یسمعون (23) ’ ابتغا ئو کم من فضلہ ‘ کا عطف ’ منامکم ‘ پر ہے اس وجہ سے آیت کا مطب یہ ہوگا کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ چیز بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات بنائی جس میں تم سوتے ہو اور دن بنایا جس میں تم اس کے رزق و فضل کے حصول کے لئے جدوجہد کرتے ہو۔ اس مفہوم کی نظیریں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ ’ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون ‘ فرمایا کہ اس میں بھی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو بات کو سنیں۔ رات اور دن کے توافق کے اندر توحید کی جو دلیل ہے اور شب میں سونے کے بعد صبح کو اٹھنے میں قیامت کا جو اشارہ ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے لیکن یہ نشانیاں اور دلیلیں ان لوگوں کی سمجھ میں آسکتی ہیں جو پیغمبر اور قرآن کی بات کو توجہ سے سنیں۔ اس فقرے میں مخالفین کے رویہ پر تعریض ہے کہ جو لوگ بات سننے اور سمجھنے کے بجائے مخالفت کے لئے آستینیں چڑھائے ہوئے ہیں ان کے لئے یہ سارے دلائل بےسود ہیں۔ اوپر کی آیات میں ’ تفکر اور ’ علم ‘ کا ذکر ہوا ہے اور ہم ان کے باہمی تعلق کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ یہاں ’ سمع ‘ کا ذکر ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا درجہ اور اوپر کی دونوں چیزوں کے نیچے ہے لیکن حصول علم کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے۔ اگر ایک شخص کے اندر اتنی معقولیت موجود ہو کر وہ معقول لوگوں کی باتیں توجہ سے سُنے تو اس راہ سے بھی اس کو ہدایت حاصل ہوسکتی ہے اگرچہ وہ کائنات کے نظام اور اس کے اسراء میں زیادہ تفکر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔
Ayahs 30:24–26

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور وہ اپنی نشانیوں میں سے تم کو دکھاتا ہے بجلی کو جو خوف بی پیدا کرتی ہے اور امید بھی اور اتارتا ہے آسمان سے بارش پس زندہ کردیتا ہے اس سے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد۔ بیشک اس کے اندر گوناگوں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے یہ چیز بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے نکلنے کے لئے ایک ہی بار پکارے گا تو تم دفعتہ نکل پڑو گے۔

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی کے مملوک ہیں، سب اسی کے فرمانبردار ہیں

ومن ایتہ یریکم البرق خوفا وطمعا و ینزل من السماء ماء فیحی بہ الارض بعد موتھا ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (24) اور اس کی نشانیوں میں سے بجلی بھی ہے جو اپنے اندر امید دیم اور طمع و خوف دونوں کے پہلو رکھتی ہے۔ یہ ابر رحمت کی بشارت اور اس کا مقدمۃ الجیس بن کر بھی نمودار ہوتی ہے اور کسی قوم کے لئے عذاب کا تازیانہ بن کر بھی۔ پہلی صورت تو عامۃ الورود ہے جس کا تجربہ ہم ہمیشہ کرتے ہیں۔ دوسری صورت کی مثالیں بھی قوموں کی تاریخ میں موجود ہیں۔ قرآن نے عاد وثمود کی تباہی کے سلسلے میں صاعقہ، کا ذکر کیا ہے اور ہم اس کے محل میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ اس میں بھی ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔ اس میں پہلی نشانی تو اس بات کی ہے کہ نعمت و نقمت دونوں خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اس وجہ سے امید ویم اور خوف و طمع دونوں حالتوں میں بندے کو اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ مشرکین کا ٰیہ خیال بالکل غلط ہے کہ وہ کسی کو رحمت لانے والا اور کسی کو عذاب نازل کرنے والا بنائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ دوسری نشانی اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا معامات سے بالکل بےتعلق ہو کر کسی گوشے میں نہیں بیٹھا ہوا ہے بلکہ وہ براہ راست تمام امور کی تدبیر فرماتا ہے اور اپنے قانونِ حق و عدل کے مطابق قوموں کو جزا اور سزا دیتا ہے۔ تیسری نشانی اس کے اندر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی قوم پر عذاب نازل کرنا چاہیے تو اس کے لئے اسے علیحدہ کوئی ایٹم بم نہیں بنانا پڑتا بلکہ وہ اپنی جس نعمت کو جب چاہیے نعمت کی صورت میں تبدیل کردیتا ہے۔ ’ وینزل من السماء ماء فیحی بہ الارض بعد ومو تھا ‘ کے استدلالی پہلو کی طرف آیت 19 کے تحت ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ ط ثم اذا دعا کم دعوۃ ق من الارض ق اذا انتم تخرجون ولہ من فی السموات والارض کل لہ قنتون (25۔ 24) یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ آسمان و زمین کا یہ ٹھوس نظام کس طرح متزلزل ہوسکتا ہے کہ قیامت آجائے گی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اہل عرب پہاڑوں کی نسبت جو سوال اٹھاتے تھے اور جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ اسی پہلو سے اٹھاتے تھے کہ بھلا ان کو کون ان کی جگہ سے ہلا سکتا ہے ! اس وجہ سے قیامت کے ڈرا دے ان کے خیال میں بالکل وہمی ڈرا دے تھے۔ ان کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ آسمان و زمین جو قائم ہیں تو اللہ کے حکم سے قائم ہیں اور اسی وقت تک قائم رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ ان کو قائم رکھنا چاہیے گا۔ پھر جب وہ اس نظام کو درہم برہم اور دوسرا نظام قائم کرنا چاہے گا تو اس کو اس میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئے گی، وہزمین کی طرف سے تمہیں بلانے کے لئے ایک ہی پکار پکارے گا اور تم سب دفعتہ زمین سے نکل پڑو گے۔ یعنی اس کو پکارنے کی زحمت بھی بار بار نہیں اٹھانی پڑے گی۔ ایک ہی پکارنا بالکل کافی ہوگا۔ اسی مضمون کو دوسرے مقام میں یوں فرمایا ہے۔ واذنت لربھا وحقت ‘(اور زمین اپنے رب کی نافرنبرداری کرے گی اور اس کے لئے یہی زیبا ہے)۔ ’ ولہ من فی السموات والارض کل لہ قنتون۔ ‘ یہ اوپر والی بات کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کی مخلوق، اسی کے مملوک اور اسی کے فرمانبردار ہیں تو کسی کی مجال ہے کہ اس کے حکم سے سرتابی اور اس کی پکار سے سرموانحراف کرسکے۔
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا عادہ کرے گا اور یہ اس کے لئے زیادہ آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے سب سے برتر صفت ہے اور عزیز و حکیم وہی ہے۔

وھو الذین یدی الخلق ثم یعیدہ وھو اھون علیہ ولہ المثل الاعلی فے السموات والارض وھو العزیز الحکیم (27) یہ اوپر والے ٹکڑے ’ اذا انتم تخرجون ‘ کی دلیل بھی ہے اور اس میں اس توحید کے مضمون کی تمہید بھی ہے جو آگے آرہا ہے۔ قیامت کے دن اتھائے جانے کی یہ دلیل اوپر آیت 11 میں بھی گزر چکی ہے۔ یہاں بعینہ اسی کا اعادہ نہیں ہے بلکہ اس پر وھو اھون علیہ کا اضافہ بھی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اعادہ تم سوچو تو اس کے لئے زیادہ آسان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہو کہ اسی نے خلق کو وجود بخشا ہے تو اس کے دوبارہ پیدا کیے جانے کو کیوں مستبعد خیال کرتے ہو ؟ پہلا کام زیادہ مشکل ہے یا یہ دوسرا ؟ ’ ولہ المثل الاعلیٰ فی السموات والارض ‘۔ ’ مثل ‘ یہاں صفت کے مفہوم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے لئے یہ لفظ اس وہ سے قرآن میں استعمال ہوا ہے کہ اس کی صفتیں انہی الفاظ میں بیان ہوئی ہیں جو ہماری زبان کے ہیں اور جن کو اہن اپنے لئے بھی بولتے ہیں۔ ایسا اس لئے کیا گیا کہ یہ تمثیلی صورت اختیار کیے بغر یہ صفتیں ہماری فہم سے قریب نہیں آسکتی تھیں، لیکن ظاہر ہے کہ یہ اس اعلیٰ مفہوم میں استعمال ہوئی ہیں جو اللہ جل شانہ کے شایانِ شان ہے۔ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں تمام اعلیٰ صفتوں کا اصلی حقدار وہی ہے، کوئی دوسرا ان صفات میں اس کا زریک وسہیم نہیں ہے۔ اس کے بعد خاص طور پر اپنی دو صفتوں…عزیز و حکیم…کا حوالہ دیا کہ وہ ہر چیز پر غالب، سب سے بالاتر، اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے کوئی کام بھی مشکل نہیں، اس کے ارادے میں اس کی حکمت کے سوا اور کوئی چیز بھی دخیل نہیں، اور اس ساری کائنات میں کوئی نہیں جو اس کی صفات میں برابری کرسکے۔ اس سے یہ بات لازمی نتیجہ کے طور پر آپ سے آپ نکل آئی کہ جب صفات میں کوئی اس کی برابری کا نہیں تو اس کے حقوق میں بھی کوئی اس کی برابری کا نہیں قرار دیا جاسکتا۔
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

وہ تمہارے لئے خود تمہارے اندر سے ایک تمثیل بیان کرتا ہے۔ کیا ہم نے تم کو جو رزق و فضل بخشا ہے اس میں تمہارے مملوکوں میں سے بھی کچھ شریک ہیں کہ تم اور وہ اس میں برابر کے حقوق رکھنے والے بن گئے ہو اور جس طرح تم اپنوں کا لحاظ کرتے ہو اسی طرح ان کا بھی لحاظ کرتے ہو ؟ اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں

ضرب لکم مثلا من انفسکم ھل لکم من ما ملکت ایمانکممن شرکاء فی مارزقنم فانتم فیہ سواء تخافو نھم کخیگتکم انفسکم کذلک مفصل الایت لقوم یعقلون (28) یہ خدا کی صفات اور اس کے حقوق میں دوسروں کی حصہ داری کے خلاف ایک ایسی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے جس پر خود مخاطب کا طرز عمل شاہد ہے۔ فرمایا کہ تمہارے شرک کے خلاف دلیل ڈھونڈھنے کے لئے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے تمہارے باہمی طرز عمل ہی کو اللہ تعالیٰ تمہارے آگے بطور مثال پیش کرتا ہے۔ تم بتائو کہ جور زق و فضل ہم نے تم کو دے رکھا ہے اپنے غلاموں کے لئے بھی تم اس میں اس طرح کی حصہ داری تسلیم کرتے ہو کہ وہ اور تم اس میں برابر شریک ہوجائیں اور تم ان کا بھی اسی طرح لحاظ کرو جس طرح اپنا اور اپنے حق داروں کا لحاظ کرتے ہو ! لفط خوف یہاں لحاظ کرنے کے مفہوم میں ہے۔ یہ لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس پر ہم کہیں بحث کر آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے حقوق میں اپنے مملوکوں کے لئے مساوی درجے کی حصہ داری تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہو، درآنحالیکہ جو کچھ تمہارے پاس ہے ہمارا عطا کردہ ہے، تو خدا کے حقوق میں تم اس کی مخلوقات کو کس طرح شریک بنائے دے رہے ہو ! یہ تو نہایت بھونڈی بات ہوئی کہ جس چیز کو تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے اس کو خدا کے لئے پسند کرتے ہو، حالانکہ تمام اعلیٰ صفات اور برتر حقوق کا اصلی حقدار آسمانوں اور زمین میں وہی ہے۔ شرک کی تردید میں یہ اسی طرح کی نفسیاتی دلیل ہے جس طرح کی دلیل دوسرے مقام میں یوں بیان ہوء ہے کہ یہ مشرکین خود تو لڑکیوں کو ناپسند کرتے اور اپنی طرف ان کی نسبت سے بھی شرماتے ہیں، لیکن اللہ کے لئے انہوں نے بہت سی بیٹیاں فرض کر رکھی ہیں۔ اس میں دلیل کا اصلی پہلو یہ ہے کہ شرک کے خلاف انفس و آفاق اور عقل و فطرت میں جو شواہد و دلائل موجود ہیں وہ تو ہیں ہی، ان سے قطع نظریہ دلیل بھی اس کے خلاف موجود ہے کہ مشرکین جس چیز کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے اس کو خدا کے ساتھ جوڑتے ہیں، حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جس بات کو اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں اس کو خدا کے لئے بدرجہ اولیٰ ناپسند کرتے۔ ’ وکذلک نفصل الایات لقوم یعقلون۔ اس دلیل نے وضاحت مقصد کی گویا تکمیل کردی، اس وجہ سے فرمایا کہ ہم اس طرح اپنے دلائل کی تفصیل بیان کر رہے ہیں لیکن یہ دلائل کا رآمد ان کے لئے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ جنہوں نے اپنی عقلوں پر تالے چڑھا رکھے ہوں ان کے لئے یہ دلیلیں کیا کارآمد ہوسکتی ہیں !
Ayah 30:29

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ اپنی جانوں پر ان ظلم کرنے والوں نے بےدلیل اپنی بدعات کی پیروی کر رکھی ہے تو ان کو کون ہدایت دے سکتا ہے جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے اور ان کا کوئی بھی مدد کرنے والا نہیں بنے گا۔

بل اتبع الذین غلموا ھوائھم بغیر علم فمن یھدی من اضل اللہ وما لھم من نصرین (29) الذین ظلموا ‘ سے مراد یہی مشرکین ہیں جنہوں نے شرک جیسے ’ ظلم عظیم ‘ کا ارتکاب کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ عقل سے رہنمائی حاصل کرنے والی مخلوق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں اور بدعات کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ ’ بغیر علم ‘ میں ’ علم ‘ سے مراد دلیل و حجت ہے۔ یعنی اس پیروی میں انہوں نے علم اور دلیل کو رہنما نہیں بنایا ہے بلکہ آنکھ بند کرکے خواہشوں کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ ’ فمن یھدی من اضل اللہ۔ ‘ یعنی جو اللہ کے قانون کی زد میں آکر گمراہی ہوچکے ہوں بھلا ان کو کون راہ یاب کرسکتا ہے ! اللہ نے رہنمائی کے لئے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے لیکن بہت سے شامت زدہ عقل کے بجائے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے لئے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے لیکن بہت سے شامت زدہ عقل کے بجائے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔ ایسے کج عقلوں کو خدا ان کی خواہشوں کے پیچھے آوارہ گردی کے لئے چھوڑ دیا کرتا ہے۔ ’ وما لھم من نصرین ‘۔ پھر وہ اسی آوارہ گردی میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ نہ اس دنیا میں ان کو اس ضلالت سے نکالنے میں کوئی مددگار بنتا اور نہ آخرت میں ان کو ان کے مہلک انجام سے بچانے میں کوئی ان کا مددگار بن سکے گا۔
Ayah 30:30

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

پس تم اپنا رخ یکسو ہو کر دین حنیفی کی طرف کرو۔ اس دین فطرت کی پیروی کرو جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 30۔ 39 اوپر کی آیا تمہیں مشرکین کے ان تمام اعتراضات کا، جو انہوں نے رومیوں کو شکست اور مجوسیوں کی فتح کو دلیل بنا کر اسلام کی دعوت کے خلاف اٹھائے، جواب دیا گیا۔ آگے پیغمبر ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو پوری دلجمعی اور یکسوئی کے ساتھ دین فطرت…اسلام… پر قائم رہے اور اس کے دونوں بنیادی ستون…نماز اور انفاق… قائم کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور آخر میں قریش کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ان کے عقید و عمل کے فساد نے ان کا ہر طرف سے احاطہ کرلیا ہے اس وہ سے اب ان کے محاسبہ کا وقت قریب آلگا ہے۔ وہ جلد اپنے انجام سے دو چار ہوں گے اور جو لوگ دین قیم ملت ابراہیم پر پوری مضبوطی سے قائم رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے نوازے گا…اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت فاقم وجھک للدین حنیفا ط فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا ط لا تبدیل لخلق اللہ ط ذلک الدین القیم لا ولکن اکثر الناس لا یعلمون (30) یہاں خطاب واحد کے صیغہ سے ہے، جس کا ظاہر قرینہ یہی ہے کہ خطاب نبی ﷺ سے ہے، لیکن یہ آنحضرت ﷺ سے بحیثیت امت کے وکیل کے خطاب ہے۔ چناچہ بعد کی آیت میں آپ دیکھیں گے کہ حال اور خطاب کے تمام صیغے جمع استعمال ہوئے ہیں۔ اب یہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے واسطہ سے امت کو ہدایت کی جارہی ہے کہ اوپر جو دلائل بیان ہوئے ہیں ان سے یہ بات بالکل مبرہین ہوگئی کہ تمہاری دعوت اور تمہارے پیش کردہ دین کے بر خلاف تمہارے مخالفوں کے سارے اعتراضات بالکل لا یعنی ہیں، تو تم بالکل یکسو ہو کر اپنا رخ اللہ کے حقیقی دین کی طرف رکھو اور ان مخالفوں کی یا وہ گوئی کی مطلق پروانہ کرو۔ ’ الدین ‘ سے مراد اللہ کا حقیق دین۔ اسلام۔ ہے جس کی دعوت اس کے تمام نبیوں اور رسولوں نے دی اور جس کی تکمیل نبی امی محمد ﷺ کے ذریعہ سے ہوئی۔ یہی دین اللہ تعالیٰ کا اصلی دین ہے چناچہ فرمایا ہے ! ان الدین عند اللہ الاسلام (اصلی دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہے) حنیفاً ‘ کے معنی یکسو ہو کر یعنی شرک کے تمام علائق سے کٹ کر، اس طرح اپنا رخ اس دین توحید کی طرف کرو جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا رخ اس دین کی طرف کیا۔ یہ لفظ قرآن میں خاص طور پر سیدنا ابراہیم ؑ کے لئے استعمال ہوا ہے اس وجہ سے اس لفظ کے استعمال میں اس حنیفیت اور یکسوئی کے لئے ایک یاددہانی ہے جس کی مثال حضرت ابراہیم ؑ نے قائم فرمائی۔ ’ فطرت اللہ التہ فطر الناس علیھا ‘ یہاں ایک فعل مخدوف ہے جو سابق فعل سے مستفاد ہوتا ہے یعنی ہر طرف سے کٹ کر اس دین فطرت کی پیروی کرو جس پر فاطرِ فطرت نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اس حذفِ فعل کے فائدے کی طرف ہم دوسری جگہ اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سے مقصود مخاطب کی ساری توجہ مفعول پر مرتکز کرنا ہوتا ہے۔ یہ اس ’ الدین ‘ کی صحت و صداقت کی دلیل بیان ہوئی ہے جس کی طرف یکسو ہونے کی اوپر والے ٹکڑے میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ یہ دی کوئی خارج کی چیز نہیں ہے جو تم پر اوپر سے لادی جا رہی ہو، بلکہ یہ عین تمہاری فطرت کا بروز اور تمہارے اپنے باطن کا خزانہ ہے جو تمہارے دامن میں ڈالا جا رہا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ جو فلسفی یہ کہتے ہیں کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک صفحہ سادہ اور تمام تر اپنے ماحول کی پیداوار اور الف و عادت کی مخلوق ہے، ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بہترین ساخت اور بہترین فطرت پر پیدا کیا ہے۔ اس کو خیرو شر اور حق و باطل کی معرفت عطا فرمائی ہے اور نیکی کو اختیر کرنے اور بدی سے بچنے کا جذبہ بھی اس کے اندر ودیعت فرمایا ہے، لیکن اس کی یہ فطرت حیوانات کی جبلت کی طرح نہیں ہے کہ وہ اس سے انحراف نہ اختیار کرسکے بلکہ وہ اپنے اندر اختیار بھی رکھتا ہے، اس وجہ سے بسا اوقات وہ اس دنیا کی محبت اور اپنی خواہشوں کی پیروی میں اس طرح اندھا ہوجاتا ہے کہ حق و باطل کا شعور رکھتے ہوئے نہ صرف باطل کی پیروی کرتا ہے بلکہ باطل کی حمایت میں فلسفے بھی ایجاد کر ڈالتا ہے۔ انسان انبیائے کرام کی رہنمائی کا محتاج اس وجہ سے نہیں ہوا کہ وہ حق و باطل میں امتیاز یا ان کے شعور سے عاری تھا بلکہ اس وجہ سے ہوا کہ اس راہ میں اس کو اس کی بعض کمزوریوں کے سبب سے جن کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں، بہت سے مغالطے پیش آسکتے تھے نیز مبادی و فطرت کے تمام لوازم اور ان کے ساتے مقتضیات کو سمجھنا بھی اس کے لئے ممکن نہیں تھ اس وہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی رہنمائی کے لئے نبی و رسول بھیجے۔ ان نبیوں اور رسولوں کی تعلیمات چونکہ انہی مبادی پر مبنی ہیں جو انسان کے اندر ودیعت ہیں اس وجہ سے جو سلیم الطبع تھے انہوں نے نبیوں کی ہر بات کو اپنے ہی دل کی آواز سمجھا، صرف ان لوگوں نے ان کی مخالفت کی جنہوں نے اپنی فطرت مسخ کر ڈالی تھی، اگرچہ اپنے دلوں کے اندر وہ بھی رسولوں کی صداقت یا حقانیت کے معترف رہے۔ اس مسئلہ پر ہم سورة ہود اور سورة نور کی تفسیر میں مفصل بحث کرچکے ہیں۔ وضاحت مطلوب ہو تو ان پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ قرآن کو ’ ذکر ‘ اور ذکری جو کہا گیا ہے اس میں بھی یہی پہلو ہے کہ وہ درحقیقت انہی حقائق کی یاد دہانی کرتا ہے جو انسان کے اندر موجود ہیں لیکن اس نے خود فراموشی میں ان پر نسیان کر پردہ ڈال رکھا ہے۔ ’ لاتبدیل لخلق اللہ ‘ ہ لائے نفی، نفی امکان یا نفی وقوع کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ نفی جواز کے مفہوم میں ہے۔ خلق سے مراد وہی فطرت ہے جو اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے اس کو بدلنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جو ہر چیز کا خالق ہے وہ اپنی مخلوقات کے مقاصد و مقتضیات کو جتنے بہتر طریقے پر جانتا یا جان سکتا ہے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا کہ وہ کسی چیز میں ترمیم و تغیر کرنے کا حقدار بن سکے۔ اگر کوئی شخص اس کی جسارت کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی چیز کی اصطلاح کا مدعی ہے جو بالبداہت ایک حماقت ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ خدا نے آنکھی پیشانی کے ساتھ لگائی ہیں، کوئی ان کو گدی یا پائوں کے ساتھ لگانے کی کوشش کرے یا اللہ تعالیٰ نے عورت کو عورت اور مرد کو مرد بنایا لیکن عورت مرد بننے کے لئے زور لگائے یا مرد عورت بننے کی خواہش مند ہوجائے، اس قسم کی سعیٔ نامراد کا نتیجہ بگاڑ اور فساد کے سوا کچھ اور نہیں نکل سکتا۔ بالکل یہی حال دین فطرت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جو مبادی فطرت کے اندر ودیعت فرمائے ہیں انہی پر انسان کی دنیا میں صلاح اور آخرت میں فلاح منحصر ہے۔ اگر انسان اس سے ذرا سا انحراف اختیار کرے تو وہ خدا کی صراط مستقیم سے ہٹ جائے گا جس کا لازمی نتیجہ اس کے دن اور اس کی دنیا دونوں کی تباہی ہے اگرچہ یہ انحراف علم اور سائنس کے کتنے ہی بلند بانگ دعادی کے ساتھ کرے۔ ’ ربک الدین القیم ‘۔ فرمایا کہ یہی دین سیدھا دین ہے یعنی اس کو انسان کی عقل اور اس کی فطرت کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا نہایت سیدھا اور قریبی راستہ ہے، اس میں کہیں کوئی کج پیچ نہیں ہے۔ ’ ولکن اکثر اناس لا یعلمون۔ ‘ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے اس وجہ سے انہوں نے اس میں بگاڑ پیدا کیا اور اب اس بگاڑ ہی پر قائم رہنے یا لوگوں کو اس پر قائم رکھنے کے لئے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں۔
Ayah 30:31

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

اسی کی طرف متوجہ ہو کر اور اسی سے ڈرو اور نماز کا اہتمام رکھو۔ اور تم لوگ مشرکین میں سے نہ بنو۔

منیبین الیہ واتقوہ واقیموا الصلوۃ ولا تکونوا من المشرکین (31) ’ منیبین الیہ ‘ حال پڑا ہوا ہے ’ فانم وجھک ‘ کی ضمیر خطاب سے۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ لفظاً یہ خطاب اگرچہ واحد ہے، لیکن معناً یہ جمع کے حکم میں ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ سے جو خطاب ہے وہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ اس حال کے جمع لانے سے خطاب کی یہ نوعیت بالکل واضح ہوگئی۔ اوپر والی آیت میں حنیفیت کی تاکید فرمائی ہے، اس آیت میں ’ انابت ‘ اور تقوی کی تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے مجرد عقلی یکسوئی کافی نہی ہے بلکہ دل کی انابت و خشیت بھی مطلوب ہے، اور حدود الٰہی کی پور پوری پاسداری بھی۔ ’ واقیمو الصلوۃ ‘۔ نماز اس دی قیم کے بنیادی احکام میں سے ہے اور یہی اس حنیفیت اور انابت وتقویٰ کی محافظ اور اس کا مظہر ہے جس کی یہاں ہدایت فرمائی گئی ہے۔ ’ ولا تکونو من المشرکین ‘ یہ تنیہ ہے کہ مشرکین سے دور رہو اس لئے کہ انہوں نے یہ ساری چیزیں برباد کردی ہیں جو دین قسیم کے لوازم میں سے ہیں۔
Ayah 30:32

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

ان مشرکین میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہ گروہ بن گئے۔ ہر پارٹی بس اسی پر مگن ہے جو اس کے اپنے پاس ہے۔

من الناس فرقوا دینھم وکانوا شیعا ط کل حزب بما لدیھم فرحون (32) یہ انہی مشرکین کی تفصیل ہے جن کے طریقہ سے بچنے کی اوپر والی آیت میں ہدایت فرمائی گئی ہے۔ اس وضاحت سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے۔ اس کے اول مصداق قریش ہیں جنہوں نے نے اس دین کو، جوان کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے ذریعے سے ملاء شرک میں مبتلا ہو کر، بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو ایک خدا کی تعلیم دی تھی لیکن انہوں نے سینکڑوں خدا بنا ڈالے اور ہر گروہ اپنے اپنے معبود پر اس طرح فدا تھا کہ اس کے خلاف کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ مسلمانوں کو یہ ہدایت اس لئے نہیں فرمائی گئی کہ ان میں سے کسی نے مشرکین کے ساتھ جا ملنے کا اندیشہ تھا بلکہ یہ شرک اور مشرکین سے بیزاری کا اظہار ہے جو مشرکین کے بجائے مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے۔ گویا مشرکین اپنی ہٹ دھرمی کے سبب سے لائق خطاب نہیں رہے اس وجہ سے بات اپنوں کو مخاطب کرکے کہہ دی گئی۔