29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة العنکبوت ا۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق اس سورة کا آغاز ان لوگوں کو مخاطب کرکے ہوا ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کے جرم میں ستائے جا رہے تھے۔ خاص کر نوجوان اور غلام، سورة کے نزول کے دور میں، اپنے باپوں اور آقائوں کے ہاتھوں بڑی سخت آزمائش کے دور سے گزر رہے تھے۔ قدرتی طور پر اس صورت حال نے کمزور ارادے کے لوگوں کے اندر بہت سے سوالات قرآن اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت سے متعلق پیدا کردیے۔ جن کا برسر موقع جواب دیا جانا ضروری ہوا۔ تاکہ مظلوموں اور کمزوروں کی ہمت افزائی بھی ہو اور جو لوگ خدا کی ڈھیل کو اپنی فتح سمجھ کر ظلم وستم میں بالکل بےباک ہوتے جا رہے تھے ان کو بھی تنبیہ ہو۔ حالات کے تقاضے سے اس میں ہجرت کی طرف بھی اشارات ہیں اور مظلوم مسلمانوں کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ انہیں بہرحال ظلم کے آگے سپر نہیں ڈالنی چاہیے۔ اگر حق کی خاطر انہیں اپنے وطن کو چھوڑ نا پڑجائے توا سکے لئے بھی انہیں تیار رہنا چاہیے۔ نہ خدا کی زمین تنگ ہے اور نہ اس کے خزانہ رزق میں کمی ہے۔ جو لوگ خدا کی راہ میں ہجرت کریں گے خدا ان کے لئے خود اپنا دامن رحمت پھیلائے گا اور ان کی ساری ضروریات کا کفیل ہوگا۔ پچھلی سورة میں اہل کتاب کی مخالفت کی طرف بعض اشارات گزرے ہیں۔ اس سورة میں ان کی مخالفت کھل کر سامنے آگئی ہے اور اس وجہ سے مسلمانوں کو یہ رہنمائی بھی دی گئی ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ بحث میں ان کو کیا روش اختیار کرنی چاہیے۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (١۔ ٧) اس حقیقت کی طرف اشارہ کہ حق کی راہ میں آزمائشیں لازماً پیش آتی ہیں۔ یہی پہلے بھی ہوا ہے اور یہی آئندہ بھی ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت ہے۔ اسی سے مومن و منافق میں امتیاز ہوتا ہے۔ البتہ آج جن لوگوں کو اللہ نے ڈھیلی دے رکھی ہے اور اس بات کو یاد رکھیں کہ وہ خدا کی گرفت سے باہر نہیں نکل سکتے اور جو لوگ ظلم و ستم کا ہدف بنے ہوئے ہیں وہ یہ یقین رکھیں کہ آج ایمان کی راہ میں جو دکھ وہ جھیل رہے ہیں ان سے کہیں بڑھ کر وہ اس کا صلہ پانے والے ہیں۔ (٧۔ ١٣) والدین اور بزرگوں کی اطاعت کے حددد کی وضاحت کہ ان کی اطاعت خدا کی اطاعت کے تحت ہے اس وجہ سے اگر کسی کے ماں باپ اس سے خدا کی نافرمانی کا مطالبہ کریں تو اس معاملے میں ان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ خدا کے ہاں کوئی دوسرے کے اعمال کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ ہر شخص کو اپنے اعمال کی جواب دہی کو خود کرنی ہے۔ ّ ١٤۔ ٤٠) حضرت نوح ( علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) ، حضرت لوط ( علیہ السلام) اور مدین، عاد، ثمود، قارون، فرعون اور ہامان کے واقعات کی طرف اجمالی اشارہ جس سے مقصود انہی باتوں کی تاریخ کی روشنی میں مدلل کرنا ہے جو تمہید میں مذکورہ ہوئی ہیں۔ یعنی ٭ حق کی راہ میں امتحان کے مراحل سے گزرنا اللہ تعالیٰ کی ایک مقرر کردہ سنت ہے۔ ٭ حق کے مقابل میں رشتوں، قرابتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سب سے بڑا حق اللہ کا ہے۔ ٭ جو لوگ اللہ کے بندوں اور بندیوں کو فتنوں میں ڈالتے ہیں وہ خدا کی گرفت سے باہر نہیں جاسکتے۔ (٤١۔ ٤٥) ان لوگوں کے زور و اثر کی تمثیل جو دوسرے سہاروں کے بل پر خدا کے حریف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کی تمام سعی و تدبیر کی مثال مکڑی کے جالے کی ہے جس سے زیادہ کمزور اور بےبنیاد تعمیر کوئی بھی نہیں ہے۔ ان کے مزعومہ شرکاء وشنعار کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ دنیا کوئی بازیچہ اطفال نہیں ہے بلکہ ایک غایت و حکمت کے ساتھ خدا نے اس کو بنایا ہے اور وہ غایت و حکمت ایک دن لازماً ظہور میں آئے گی۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ تم تمام مخالفتوں سے بےپروا ہو کر لوگوں کو اللہ کی کتاب سنائو اور نماز کا اہتمام کرو۔ اسی نماز کے اندر اہل ایمان کے لئے تمام شرورآفات سے امان اور یہی طاقت کی اصلی خزانہ ہے۔ (٤٦۔ ٥٢) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر اہل کتاب کے بعض اعتراضات کو جواب۔ ان کے ساتھ بحث میں مسلمانوں کو جو روش اختیار کرنی چاہیے اس کی ہدایت۔ اچھے اہل کتاب کی تحسین۔ جو لوگ کسی معجزہ کا مطالبہ کر رہے تھے ان کو جواب۔ (٥٣۔ ٥٥) عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں جو جواب اور اس بات میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے اس کی وضاحت۔ (٥٦۔ ٦٠) جو مسلمان ایمان لانے کے جرم میں کفار کے ہاتھوں ستائے جا رہے تھے ان کو ہجرت کی ہدایت اور دنیا وآخرت دونوں میں ان کو فوز و فلاح کی بشارت۔ ّ (٦١۔ ٦٩) خاتمہ سورة جس میں خود مشرکین کے مسلّمات سے ان پر توحید کے باب میں حجّت قائم کی گئی ہے اور ساتھ ہی ان کی ملامت کی گئی ہے کہ اس سرزمین میں تمہیں امن و رفاہیت تو خدا کے حرم کی بدولت حاصل ہوئی لیکن تم خدا کی نعمت کا ناشکری کر رہے ہو اور عین خدا کے حرم میں میں بیٹھ کر اپنے خود تراشیدہ معبودوں کے گن گار رہے ہو۔ ان کی اس ناشکر کی کا جو انجام ان کے سامنے آنے والا ہے اس کا بیان اور اہل حق کو خدا کی مددو نصرت کی بشارت جو اس تاریک ماحول میں حق کا نور پھیلانے کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔

Ayahs 29:1–2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ محض یہ کہہ دینے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہیں جائیں گے ؟

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت الم۔ احسب الناس ان یترکوا ان یقونوا امنا وھم لایفتنون (1۔ 2) الم، اس سورة کا نام ہے۔ اس کی تحقیق سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ مع حسب الناس ان الایۃ، بات اگرچہ عام صیفہ سے فرمائی گئی ہے لیکن اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو مکہ کی پُر محن زندگی سے گھبرا اٹھے تھے۔ بعض لوگ اسلام میں داخل تو ہوگئے تھے لیکن ان کو اس راہ کی صعوبتوں کا اندازہ نہیں تھا۔ ان کو گمان تھا کہ جب انہوں نے نیکی کی راہ میں قدم رکھا ہے تو راہ ہمورا ملے گی اور وہ ٹھنڈی سڑک سے منزل مقصود پر پہنچ جائیں گے۔ ان لوگوں کو جب کفار کے ہاتھوں زہرہ گداز مصائب سے سابقہ پیش آیا تو ان کے قدم ہل گئے اور اس طرح کے حالات میں خام ذہن کے لوگوں کو جس طرح کے شبہات لاحق ہوتے ہیں ان کے ذہنوں میں بھی اسی قسم کے شبہات پیدا ہونے لگے۔ مثلاً یہ کہ اگر یہ اللہ کا راستہ ہے تو یہ اتنا دشوار گزارکیوں ہے ؟ اگر اس کی دعوت دینے والے اللہ کے رسول ہیں تو ان پر ایمان لانا اتنا جان جوکھم کا کام کیوں ہے، ہم جب اللہ کے کام کے لئے اٹھے ہیں تو ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں، پھر ہماری راہ میں یہ رکاوٹیں اور یہ اڑنگے کیوں ڈال دیے گئے ہیں ! اسی طرح کے سوالات کا پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ راہ حق اور اس کے تقاضوں سے اچھی طرح آشنا نہیں تھے اور نہایت آسانی سے نفاق کے فتنہ میں مبتلا ہوسکتے تھے۔ اسی سورة میں سب سے پہلے انہی لوگوں کی بیماری کی طرف توجہ فرمائی گئی۔ ارشاد ہوا کہ اگر لوگوں نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ وہ ایمان کا دعویٰ کریں گے اور مجرد کے اس دعوے کی بنا پر ان کا نام مومنین صادقین کے رجسٹر میں درج ہوجائے گا، ان کے کھرے کھوٹے ہونے کی کوئی جانچ نہیں ہوگی، تو یہ انہوں نے نہایت غلط سمجھا تھا۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور ہم نے تو ان لوگوں کو بھی آزمایا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ سو اللہ ان لوگوں کو ممیز کرے گا جو سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا۔

ولقد فتنا الذین من قبلھم فلیعلمن اللہ الذی صدقوا ولیعلمن الکذبین (3) یہ اللہ تعالیٰ نے نہایت موکد الفاظ میں اپنی اس سنت کی یاددہانی فرمائی جس سے ان لوگوں کو لازماً سابقہ پیش آتا ہے جو ایمان و اسلام کا دعویٰ لے کر اٹھتے ہیں۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے پہلے جو لوگ یہ دعویٰ لے کر اٹھے ہم نے ان کو بھی آزمائشوں میں ڈال کر ان کا امتحان کیا، اسی طرح ان کا بھی امتحان کریں گے۔ یہ اشارہ پچھلے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی طرف ہے۔ فلیعن اللہ الناس صدقوا ولیعلمن الکذبین یعنی اگر یہ امتحان نہ ہو تو آخر یہ کس طرح ثابت ہوگا کہ کون اپنے دعوے میں سچا ہے، کون جھوٹا ہے۔ اس وجہ سے اللہ لازماً راست بازوں اور جھوٹے مدعیوں میں امتیاز کرے گا۔ علم یہاں ممیز و معین کرنے کے معنی یہ ہے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے اور صیغہ یہاں وہ استعمال ہوا ہے جو تاکید کے لئے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک مقررہ سنت ہے اس وجہ سے یہ کسی کو ناگوار ہو یا گوارا بہرحال اس امتحان سے ہر ایک کو گزرنا ہے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے علم کا تعلق ہے وہ ہر چیز کو محیط ہے۔ وہ ہر ایک کے باطن سے اچھی طرح باخبر ہے کہ کون مخلص ہے اور کون منافق، لیکن وہ لوگوں کے ساتھ جزاء و سزا کا معاملہ مجرد اپنے علم کی بنیاد پر نہیں کرتا بلکہ لوگوں کے علم کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اس وجہ سے وہ ہر ایک کو امتحان میں ڈال کر پرکھتا ہے اور اسی امتحان سے ہر ایک کے مدارج معین ہوتے ہیں۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا جو لوگو برائیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں وہ گمان رکھتے ہیں کہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے ! بہت ہی بُرا فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں !

ام حسب الذین یعملون السیات ان یسبقونا، ساء ما یعکمون۔ (4) ایمان کا دعوے ٰ کرنے والوں کو متنبہ کرنے کے بعد یہ ان لوگوں کو بھی متنبہ فرما دیا جو کمزور مسلمانوں کو ظلم و ستم کا ہدف بنائے ہوئے تھے۔ فرمایا اگر ان لوگوں نے یہ گمان کر رکھا یہ کہ یہ اسی طرح ظلم و ستم کرنے کے لئے چھوڑے رکھے جائیں گے اور کبھی ہماری گرفت میں نہیں آئیں گے تو ان کا یہ گمان بالکل غلط ہے۔ یعملون السیات اگرچہ نفظاً عام ہے لیکن اشارہ انہی ناہنجار لوگوں کی طرف ہے جو بےمسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے تھے اور خدا کی ڈھیل سے شہ پاکر دن پر دن دلیر ہوتے جا رہے تھے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ خدا اسی طرح ان کو ڈھیل دیے رکھے گا تو وہ بڑی سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ ساء ما یعکمون۔ یعنی ان کا یہ فیصلہ خدا کے بارے میں نہایت برا فیصلہ ہے خدا کو اگر انہوں نے کمزور سمجھا ہے کہ وہ ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا جب بھی ان کا یہ فیصلہ نہایت برا ہے اور اگر انہوں نے اپنی ان تمام ستم رانیوں پر اس کو راضی اور اس معاملے سے بالکل بےتعلق و بےپروا سمجھ رکھا ہے جب بھی ان کا یہ فیصلہ نہایت غلط اور نہایت بُرا ہے۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو اللہ کی ملاقات کو متوقع ہے وہ اطمینان رکھے کہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آکے رہے گا اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

من کان یرجوا لقء اللہ فان اجل اللہ لات ط وھو السمیع العلیم (5) یہ مظلوم مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ بہرحال تمہیں ہر کام آخرت کی امید پر کرنا ہے اور اگر تم یہ امید رکھتے ہو تو اطمینان رکھو کہ اللہ نے اس کے لئے جو مدت ٹھہرا رکھی ہے وہ لازماً پوری ہو کے رہے گی۔ ایک دن تم اپنے رب سے ملو گے اور اس دن تم اپنی ہراس محنت و زحمت کا صلہ پا جائو گے جو اس کی خاطر تم نے جھیلی ہوگی۔ خدا وسمع وعلیم ہے۔ کوئی چیز اس کے احاطہ ٔ علم سے باہر نہیں ہے۔ تمہاری سرفروشیاں بھی اس کے علم میں ہوں گی اور تمہارے دشمنوں کی ستم رانیاں بھی اس کے سامنے ہوں گی۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو ہماری راہ میں جدوجہد کر رہا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔ اللہ عالم والوں سے بےنیاز ہے۔

ومن جاھدنا نما یجاھد لنفسہ ط ان اللہ لغنی عن العلمین (6) یہ متنبہ فرمایا ہے کہ جو شخص ایمان لاتا اور اس راہ میإ مشقتیں اٹھاتا ہے وہ یاد رکھے کہ وہ اپنا ہی مستبقل سنوارتا اور اپنا ہی گھر بھرتا ہے، وہ خدا اور اس کے دین پر کوئی احسان نہیں کرتا۔ اس وجہ سے اسے اس بات سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے کوئی مصیبت پیش آئی۔ اگر اسے کوئی مصیبٹ پیش آئی تو خدا کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ تمام عالم سے مستننی ہے۔ البتہ لوگ اس کے محتاج ہیں اس وجہ سے خدا کی راہ میں بڑی سے بڑی قربانی بھی جو کوئی دیتا ہے وہ درحقیقت اپنے ہی نفع کے لئے دیتا ہے، اس سے خدا کو کوئی نفع نہیں پہنچتا۔ یہاں یہ حقیقت اچھی طرح ملحوظ رہے کہ دنیا کی طرح دین بھی خدا کے کام آنے والی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ بندوں ہی کے کام آنے والی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ راستہ انسان ہی کی سعادت کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ جس طرح ایک کسان اپنے کھیت میں مشقت کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے کرتا ہے، کسی دوسرے کے لئے نہیں کرتا اسی طرح انسان دین کی راہ میں چل کر اپنی ہی منزلیں طے کرتا ہے۔ خدا کی منزل نہیں طے کرتا۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے تو ہم ان کی برائیاں ان پر سے جھاڑ دیں گے اور ان کو ان کے عمل کا بہترین بدلہ دیں گے۔

والذین امنوا وعملوا الصلحت لتکفرن عنھم سیاتھم ولنجزینھم احسن الذی کانو ایعملون (7) قرینہ دلیل ہے کہ لفظ سیات یہاں صنائر یعنی چھوٹے گناہوں کے مفہوم میں ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر صاحب ایمان و عمل کے ساتھ یہ معاملہ کرنے والا ہے کہ اس کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے وہ درگزر فرمائے گا اور اس نے جو نیک اعمال کیے ہوں گے ان کا وہ ان سے کہیں بڑھ کر صلہ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب بندوں کے ساتھ خدا کا معاملہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کا صلہ پانے والا ہے تو پھر اس کے دل میں یہ وسوسہ کیوں پیدا ہو کر اس نے خدا کی راہ میں کوئی تکلیف جھیلی تو یہ اس نے اللہ اور اس کے دین پر کوئی احسان کیا۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیک سلوک کی ہدایت کی۔ اور اگر وہ تجھ پر دبائو ڈالیں کہ تو کسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا، جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں، تو ان کی بات نہ مان۔ میری ہی طرف تم سب کو واپسی ہے تو جو کچھ تم کرتے رہے ہو میں اس سے تمہیں آگاہ کروں گا

ووصینا الانسان بوالدیۃ حسناء وان جاھدک لتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما ط الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون (8) اوپر کی آیات میں جس آزمائش کا ذکر ہوا ہے اس میں ایک بڑا حصہ اس آزمائش کا بھی تھا جو اسلام لانے والے نوجوانوں کو اپنے کافر باپوں اور سرپرستوں کے ہاتھوں پیش آئی۔ باپ ماں کے حقوق چونکہ ہر دین میں مسلم رہے ہیں اس وجہ سے اس حق سے باپوں نے بسا اوقات بہت غلط فائدہ اٹھایا ہے کہ اپنے حق کے نام پر انہوں نے اپنی اولاد کو خدا کے حقوق سے روکنے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں انہوں نے ظلم و ستم سے بھی دریغ نہیں کیا ہے۔ اس کی مثلالیں ہر دعوت حق کی تاریخ میں موجود ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ پر جو کچھ ان کے باپ کے ہاتھوں گزری، اس کی تفصیل اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کے دور میں نوجوانوں کو جن حالات سے سابقہ پیش آیا ان کی طرف بھی پچھلی سورتوں میں اشارے گزر چکے ہیں۔ یہی صورت حال ان نوجوانوں کو بھی پیش آئی جو نبی ﷺ پر ایمان لائے۔ وہ بھی اسلام لانے کے جرم میں اپنے باپوں اور سرپرستوں کے ظلم و ستم کے ہدف بن گئے۔ اس صورت حال کا تقاضا یہ ہوا کہ اس باب میں نوجوانوں کو واضح ہدایت دے دی جائے کہ والدین اگر ان کے دین کے معاملے میں مداخلت کریں تو انہیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیک سلوک کی ہدایت کی ہے اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی اس کو فرمائی ہے کہ اگر وہ تجھ پر اس بات کے لئے دبائو ڈالیں کہ تو کسی چیز کو بےدلیل میرا شریک ٹھہرا تو اس معاملے میں ان کی اطاعت نہ کیجیو۔ ’ توصیۃ ‘ یہاں ہدایت دینے کے مفہوم میں ہے اور اس معنی میں یہ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ اسلوبِ بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ قرآن نے اسی کو یہاں تمام مذاہب اور تمام انبیاء کی مسلم تعلیم کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ تورات، انجیل اور زبور سب میں والدین کی اطاعت کو خدا کی اطاعت کے تحت جگہ دی گئی ہے۔ والدین کو جو حق اولاد پر ملا ہے۔ وہ خدا ہی کا عطا کردہ ہے اس وجہ سے ان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اولاد کو خدا کے حقوق سے روکیں اور جب والدین کو یہ حق حاصل نہیں ہے، جن کا حق خدا کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے تو پھر دوسروں کے لئے اس حق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چناچہ اسلام میں قانون ہے کہ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق خالق کے حکم کے خلاف کسی مخلوق کی اطاعت بھی جائز نہیں۔ ’ ما لیس لک بہ علم ‘ یہ شرک کی نفی کی دلیل ہے جو قرآن میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوئی ہے۔ علم کے معنی دلیل وبرہان کے ہیں۔ جہاں تک ایک خدا کا تعلق ہے وہ تو ایک بدیہی حقیقت ہے جس کو ایک مشرک بھی بہرحال مانتا ہے۔ رہے دوسرے اس کے شریک تو ان کی دلی پیش کرنا ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو ان کو شریک خدا ٹھہراتے ہیں، اور جب تک ان کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو کسی عاقل کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ ان کو خدائی میں شریک کرکے ان کی غلامی کا قلاوہ بھی اپنی گردن میں ڈال لے۔ الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون۔ میں تسلی بھی ہے اور تنبیہ بھی۔ مطلب یہ ہے کہ سب کی واپسی میری ہی طرف ہوئی ہے کوئی اور مرجع و ماویٰ بننے والا نہیں ہے تو میں سب کو ان کے اعمال سے باخبر کروں گا۔ باخبر کرنے سے مراد ظاہر ہے کہ اعمال کی جزا اور سزادینے کے ہیں۔ یعنی آج جو لوگ میرے بندوں کو میری راہ سے روکنے کے لئے ان پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں ان کی کرتوتیں بھی میں ان کے سامنے رکھوں گا اور میرے جو بندے میری راہ میں استقامت دکھائیں گے ان کی جانبازیوں کا انعام بھی ان کو بھرپور دوں گا۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ہم ان کو صالحین کے زمرہ میں داخل کریں گے۔

والذین امنوا وعملوا الصلحت لند خلنھم فی الصلحین۔ (9) اوپر کی آیات میں نمایاں پہلو تنبیہ کا تھا اس آیت میں تسلی کے پہلو کا صریح الفاظ میں ذکر فرمادیا۔ امنو وعملوا لصلحت۔ یہاں اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ یعنی جو لوگ اپنے دشمنوں کی تمام دشمنی کے علی الرغم ایمان و عمل صالح پر قائم و استوار رہیں گے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کو ہم بلا شبہ زمرہ صالحین میں داخل کریں گے۔ زمرہ صالحین سے مراد اللہ کے ان خالص و مخلص بندوں کا گروہ ہے جن کو اس دنیا کی مختلف آزمائشوں سے گزار کر اللہ تعالیٰ آخرت کی ابدی بادشاہی کے لئے منتخب فرما رہا ہے۔ اس گروہ میں ہر مدعی کے لئے جگہ نہیں ہے۔ اس میں صرف وہی لوگ بار پائیں گے جو اپنے آپ کو امتحان کی کسوٹیوں پر کھرا ثابت کریں گے۔
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے لیکن جب اللہ کی راہ میں انہیں دکھ پہنچتا ہے تو وہ لوگوں کے پہنچائے ہوئے دکھ کو خدا کے عذاب کے مانند قرار دے بیٹھتے ہیں اور اگر تمہارے رب کی طرف سے کوئی مدد ظاہر ہوگی تو کہیں گے کہ ہم تو آپ لوگوں کے ساتھ تھے۔ کیا لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ اس سے اچھی طرح باخبر نہیں ہے !

ومن الناس من یعقول امنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ ولئن جاء نصر من ربک لیقولن انا کنا معکم اولیس اللہ باعلم بما فی صدور العلمین (10) یہ ایمان کے مدعیوں کو ذکر فرمایا کہ یہ لوگ ایمان کا دعویٰ کرنے کو تو کر بیٹھے لیکن جب اس راہ کی آزمائشوں سے سابقہ پیش آیا ہے تو وہ لوگوں کی پہنچائی ہوئی اذیت سے اس طرح گھبرا اٹھے ہیں جس طرح خدا کے عذاب سے ڈرنا اور گھبرانا چاہیے۔ حالانکہ اس دنیا میں جو دکھ بھی پہنچے گا بہرحال وہ چند روزہ ہے۔ برعکس اس کے خدا جس عذاب میں پکڑنے والا ہے وہ ابدی ہے۔ اس وجہ سے حق کی خاطر اس دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت جھیل لینا بھی آسان ہے بمقابلہ اس کے کہ اس سے مرعوب ہو کر آدمی اپنے آپ کو ابدی عذاب کا سزاوار بنا لے۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت جاری ہے اس کے تحت ہر شخص کو بہرحال دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ یا تو وہ حق کا راستہ انتخاب کرے اور پھر پوری پامردی کے ساتھ خلق کی بےمہری بلکہ اس کے ظلم و ستم کا مقابل کرے اور اگر اس کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا تو پھر باطل کے ساتھ چلے اور آخرت میں ابدی خسران سے دوچار ہو۔ ان دو کے سو اور کوئی راہ نہیں ہے۔ یہاں یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ لوگوں کے ہاتھوں آدمی کو جو دکھ پہنچے ہیں ان کو فتنہ یعنی آزمائش سے تعبیر فرمایا ہے اس لئے کہ ان کی حیثیت بہرحال ایک آزمائش سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ پیش آئے گا اس کو عذاب سے تعبیر فرمایا اس لئے کہ وہ درحقیقت عذاب ہوگا جس سے مفر کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ ولئن جاء نصر من ربک لیقولن انا کنا معکم۔ یعنی اس وقت تو آزمائشوں نے ان کے قدم بلا دیے ہیں اور یہ دشمنانِ حق کے ہم نوا بن بیٹھے ہیں لیکن کل جب خدا کی مدد و نصرت کے آثار ظاہر ہوں گے تو یہ بڑے دعوے کے ساتھ کہیں گے کہ ہم نے بھی اس حق کی خاطر بڑی قربانیاں دی ہیں اس راہ میں ہم کسی سے پیچھے نہیں رہے ہیں۔ اولیس اللہ با علم بما فی صدور العلمین۔ فرمایا کہ یہ دعویٰ تو اس کے آگے کارگر ہوسکتا ہے جو دلوں کے بھیدوں سے بیخبر ہو۔ جس پر سارا ظاہر و باطن آشکارا ہو اس پر یہ فریب کیا چلے گا !
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور اللہ ایمان والوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا اور منافقوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا۔

ولیعلمن اللہ الذی امنوا ولیعلمن النفقین (11) مطلب یہ ہے کہ جب اس طرح مخلصین کے ساتھ منافقین بھی ملے ہوئے ہیں تو اللہ ان کو اسی طرح چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ وہ ان دونوں کو چھانٹ کر الگ الگ کرے گا۔ الذین امنوا سے یہاں مومنین مخلصین مراد ہیں۔ اس لئے کہ اس کے مقابل میں منافقین کا ذکر ہے جن کا کردار اوپر والی آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے ہیں لیکن اس راہ میں چوٹ کھانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ بات بصینعہ تاکید بیان ہوئی جسے سے واضح ہوتا ہے کہ بہ فرق و امتیاز اللہ تعالیٰ کی صفات کا لازمی تقاضا ہے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو یہ بات اس کے عدل کے منافی ہوگی۔
Ayahs 29:12–13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہماری راہ پر چلتے رہو، ہم تمہارے گناہوں کو بوجھ اٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں بنیں گے۔ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے گناہ لادے ہوئے ہوں گے اور اپنے گناہوں کے ساتھ کچھ اور بوجھ ہیں۔ اور جو افتراء وہ کر رہے ہیں قیامت کے دن اس کی بابت ان سے پرشش ہونی ہے۔

وقال الذین کفروا للذین امنوا اتبعوا سبیلنا ولنحمل خطیکم ط وما ھم بعملین من خطیھم من شی انھم لکذبون ولیحملن اتقالھم واتقالا مع اثقالھم ولیسکن یوم القیمۃ عما کا نو یفترو (12۔ 13) الذین کفروا اگرچہ باعتبار لفظ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہ کفار ہیں جن کی اولادی یا دوسرے زیر دست افراد اسلام میں داخل ہوچکے تھے۔ یہ لوگ اپنے زیر دستوں کو اسلام سے پھیرنے کے لئے ان پر جبرو ظلم بھی کرتے اور یہ اخلاقی دبائو بھی ڈالتے کہ ہم نیک و بد اور خیرو شر کو تم سے زیادہ سمجھنے اور پرکھنے والے ہیں۔ اس وجہ سے تم ہمارے طریقے پر چلتے رہو، اگر ہمارا طریقہ غلط ہوا تو اس کا عذاب وثواب ہماری گردن پر ہے، تم اس کی ذمہ داری سے بری ہو، تمہارا بوجھ ہم اٹھالیں گے۔ یہ منطق بزرگوں، سرپرستوں باپوں، استادوں، پیروں اور لیڈروں کی طرف سے، اپنے چھوٹ کے مقابل میں، پہلے بھی ہمیشہ استعمال کی گئی ہے اور اب بھی استعمال کی جاتی ہے اور بسا اوقات یہ موثر بھی ہوتی ہے۔ ایک خاص حد تک اس کی تاثیر ایک امر فطری ہے اور اس میں چنداں ہرج بھی نہیں ہے۔ لیکن دین کا معاملہ نہایت اہم ہے۔ اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے اس کے اپنے کندھوں پر ڈالی ہے۔ اس معاملے میں بےسوچے سمجھے نہ کسی کی تقلید جائز ہے اور نہ کسی کو اپنی تقلید پر مجبور کرنا جائز ہے۔ خدا کے ہاں کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بن سکے گا۔ لاتزروازرۃ وزراخری یہاں اسی حقیقت کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ اپنے زیر دستوں کو یہ اطمینان دلا رہے ہیں کہ وہ ان کے بوجھ اٹھا لیں گے وہ بڑی غلط فہمی میں ہیں اور بالکل جھوٹ اطمینان دلا رہے ہیں۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ یہ اپنے گناہوں کے بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی ان کو حصہ بٹانا پڑے گا جو ان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوں گے۔ عما کانو یفترون سے مراد وہ بدعتیں ہیں جو ایجاد تو انہوں نے خود کیں لیکن ان کو منسوب اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں اور ان کی حمایت میں اتنا غلو ہے کہ دوسروں کو بھی ان پر مجبور کرتے ہیں اور ان کے عذاب وثواب کی ذمہ داری اپنے سر لینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ ان سب کی بابت قیامت کے دن اس سے پرسش ہونی ہے۔ 2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 14۔ 40 اوپر کی آیات میں تین باتیں مذکور ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اٹھتے ہیں وہ ٹھنڈی سڑک سے منزل مقصود تک نہیں پہنچ جاتے بلکہ ان کو اس راہ میں بہت سے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے، ان سے گزرے بغیر اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کو صادقین و مخلصین کا درجہ حاصل نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ دین کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر شخص خود مسئول و ذمہ دار ہے، کوئی دوسرا اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بن سکے گا اس وجہ سے اس عذر پر تکیہ کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس نے کوئی بےراہروی دوسرے کے دبائو سے اختیار کی، خواہ یہ دبائو اخلاقی ہو یا مادی۔ تیسری یہ کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حق پرست بندوں کو مختلف قسم کی مصیبتوں میں مبتلا کرکے ان کو حق سے پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو ایک حد تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل تو ملتی ہے لیکن اس ڈھیل سے اگر ان کا طغیان بڑھ جاتا ہے تو وہ لازماً اللہ تعالیٰ کے قانون کی گرفت میں آتے ہیں اور جب اس کی گرفت میں آجاتے ہیں تو پھر ان کے لئے کوئی مفر باقی نہیں رہتا۔ آگے کی آیات میں انہی حقائق کو حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مخالفین و مکذبین کے احوال و واقعات سے پیرہن کیا ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تو وہ اس کے اندر پچاس سال کم ایک ہزار سال رہا۔ تو ان کو طوفان نے آپکڑا اور وہ اپنی جانوں پر خود ظلم ڈھانے والے بنے۔

3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ قلبث فیھم الف سنۃ الا خمسین عاماء فاخذھم الطوفان وھم ظلمون۔ (14) حضرت نوح ؑ کی ساڑھے نو سو سال عمر کا ذکر صرف اسی سورة میں آیا ہے۔ عمر کی یہ تصریح اس سورة کے عمود کے تقاضے سے ہوئی ہے۔ اوپریہ بات گزر چکی ہے کہ جو لوگ حق کی راہ اختیار کریں ان کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ جلدی سے، بغیر کوئی زحمت و مشقت جھیلے، منزل مقصود پر پہنچ جائیں گے بلکہ انہیں ایک طویل مدت تک آزمائشوں کا مقابل کرنا پڑتا ہے۔ اسی حقیقت کو مبرہن کرنے کے لئے یہاں حضرت نوح ؑ کی عمر کا حوال دیا کہ انہیں اپنی قوم کے ساتھ ایک طویل مدت تک کشمکش کرنی پڑی تب کہیں جا کر وہ اللہ تعالیٰ کے امتحان میں سرخرو اور اپنے فرض سے فارغ ہوئے۔ حضرت نوح ؑ کی جو عمر یہاں مذکور ہوئی ہے بالکل تورات کے بیان کے مطابق ہے۔ تور ات میں ہے۔ ”اور طوفان کے بعد نوح ساڑھے تین برس اور نوح کی کل عمر ساڑھے نو سو برس کی ہوئی، تب اس نے وفات پائی۔ـ“ (پیدائش : ب 9۔ 27۔ 29) تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں عمروں کا اوسط آج کی نسبت بہت زیادہ تھا۔ حضرت نوح ؑ کے والد کے عمر سات سو تہتر برس کی ہوئی۔ ان کے دادا کی عمر نو سو انہتر برس مذکور ہے۔ اسی طرح ان کے دوسرے اجداد نوح ؑ کی یہ عمر اس دو رکی اوسط عمر کے بالکل مطابق ہے۔ اس عہد کی کوئی مدون تاریخ موجود نہیں ہے۔ صرف تورات ہی کے ذریعہ سے کچھ معلومات حاصل ہوتی ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ تورات کے آباد ہو رہی تھی اور تمدن و معیشت کے وہ مفاسد ظہور میں نہیں آئے تھے جواب زندگی کے ہر شعبے پرچھا گئے ہیں، اگر عمروں کا اوسط زیادہ رہا ہو تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے بلکہ یہ عین حکمت الٰہی اور فطرتِ انسانی کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ ’ فاخذھم الطوفان فھم ظلمون۔ اس ٹکڑے سے تمہید میں بیان کردہ دوسری حقیقت کی تائید ہوئی کہ ہرچند اللہ تعالیٰ اعدائے حق کو ڈھیل تو دیتا ہے لیکن اس ڈھیل کی ایک حد ہوتی ہے جس کے بعد وہ ان کو ضرور پکڑتا ہے اور یہ پکڑنا ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہوتا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنتے ہیں اس لئے کہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوچکی ہوتی ہے۔ سنتِ الٰہی کے مطابق جس طرح اہل حق کا کامیابی کی منزل پر پہنچنے سے پہلے امتحان ضروری ہے اسی طرح اہل باطل پر عذاب سے پہلے ان پر اتمامِ حجت لازمی ہے۔
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پس ہم نے اس کو اور کشی والوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو دنیا والوں کے لئے ایک عظیم نشانی بنایا۔

فانجینہ واصحب السفینۃ وجعلنھا ایۃ للعلمین (15) یعنی اتنی طویل کشمکش اور آزمائشوں کے بعد وہ مرحلہ آیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو دنیا والوں کے لئے ایک عظیم نشانی بنایا جس کے آئینہ میں اہل حق اور اہل ِ باطل دونوں اپنے اپنے انجام دیکھ سکتے ہیں۔ وجعلنھا میں ضمیر کا مرجع کوئی معین لفظ نہیں ہے بلکہ وہ پورا واقع ہے جو اوپر بیان ہوا۔ عربی میں ضمیروں کے استعمال کا یہ طریقہ معروف ہے، اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ حضرت نوح ؑ کے اس واقعہ میں اس بات کی دلیل بھی موجود ہے جو اوپر بیان ہوئی کہ دین کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی طرف سے کوئی دوسرا جواب دہی نہ کرسکے گا۔ اگر اس کی کوئی گنجائش ہوتی تو حضرت نوح ؑ اپنے بیٹے کو خدا کی پکڑ سے ضرور بچا لیتے لیکن جب حضرت نوح ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر اپنے بیٹے کے کچھ کام نہ آسکے تو تابہ دیگراں چہ رسید۔
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو بھی رسول بنا کر بھیجا جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر جانو۔

وابراھیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ ط ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون (16) یعنی جس طرح ہم نے نوح ؑ کو رسول بنا کر بھیجا تھا اسی طرح ابراہیم ؑ کو بھی اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ اس نے بھی اپنی قوم کو دعوت دی کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس کے غضب سے ڈرو۔ اس کے غضب سے ڈرو، یعنی اس کی بندگی میں دوسروں کو شریک کرکے اس کے غضب کو دعوت نہ دو۔ ’ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعملون تنبیہ کا کلمہ ہے۔ یعنی یہ بہترین نصیحت اور بہترین موعظت ہے جو میں بالکل وقت پر تمہیں پہنچا رہا ہوں بشرطیکہ تم اس کو سمجھو اور اس کی قدر کروع۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم اللہ کے سوا بس بتوں کی پوجا کر رہے ہو اور بہتان گڑھ رہے ہو۔ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو یہ تمہارے لئے رزق پر کوئی اختیار نہیں رکھتے تو اللہ ہی کے پاس رزق کے طالب بنو اور اسی کی بندگی کرو اور اسی کے شکر گزار رہو۔ اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے۔

انما تعبدون من دون اللہ اوثان وتخلقون افکا ط ان الذین تعبدون من دون اللہ لا یملکون لکم رزقا فابتغوا عند اللہ التذق واعبدوہ واشکروا لہ ط الیہ ترجعون (17) یعنی اپنے جن معبودوں کو تم شریک خدا سمجھ کر پوج رہے ہو ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ محض بت اور تہان اور راستھان ہیں۔ وتخلقون افکا یعنی تمہارا یہ دعویٰ کہ خدا نے ان کو اپنی خدائی میں شریک بنایا ہے محض ایک بہتان ہے جو تم خدا پر لگا رہے ہو۔ نہ خدا نے کہیں یہ فرمایا کہ اس نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے اور نہ تمہارے پاس اس کے حق میں کوئی دلیل ہے۔ ان الذین تعبدون من دون اللہ لا یملکون لکم رزقا فابتغوا عند اللہ الرزق۔ یعنی اگر تمہارا یہ گمان ہے کہ رزق و فضل پر تمہارے ان دیوتائوں کا کوئی اختیار ہے تو یہ محض تمہارا وہم ہے ان کو تمہارے رزق پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ ہر چیز خدا ہی کے اختیار میں ہے تو اگر تم رزق و فضل کے طالب ہو تو خدا ہی کی طرف رجوع کرو اور اسی سے مانگو۔ واعبدوہ واشکروا لہ یعنی تمہاری عبادت و شکر گزاری کا اصل حقدار وہی ہے جس کے اختیار میں سب کچھ ہے اور جو تمہیں سب کچھ دیتا ہے تو اس کے حق میں دوسروں کو شریک کرکے اس کی ناشکری نہ کرو۔ والیہ ترجعون یعنی مرنے کے بعد تم اٹھائے جائو گے اور تمہاری پیشی اسی کے سامنے ہونے والی ہے۔ اس تن تمہارے یہ اصنام و اوثان تمہارے کچھ کام آنے والے نہیں بنیں گے۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم جھٹلائو گے تو یاد رکھو کہ تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں نے جھٹلایا اور رسول پر واضح طور پر پہنچا دینے کے سو اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

وان تکذبوا فقد کذب امم من قبلکم وما علی الرسول الا البلغ المبین (18) یہ نہایت سخت الفاظ میں تنبیہ ہے کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی اور میری تکذیب پر اڑے رہے تو یادر رکھو کہ تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں نے اپنے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تو جوا نجام ان کا ہوا اس انجام سے دوچار ہونے کے لئے تیار رہو۔ وما علی الرسول الا البلغ المبین یعنی رسول کے اوپر ذمہ داری صرف واضح طور پر اللہ کی بات پہنچا دینے کی ہوتی ہے۔ وہ فرض میں نے ادا کردیا۔ اب ذمہ داری تمہاری ہے۔ اب جو پرسش ہوگی وہ تم سے ہوگی۔ اب مجھ سے یہ پرسش نہیں ہوگی ،
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ خلق کا آغاز کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کردیتا ہے۔ بیشک یہ اللہ کے لئے نہایت آسان ہے۔

کہ تم نے ہدایت کی راہ کیوں نہیں اختیار کی ! اولم یرواکیف یبدی اللہ الخلق ثم بعیدہ ط ان ذلک علی اللہ یسیرا (19) یہ اور اس کے بعد کی آیات، آیت 23 تک، حضرت ابراہیم ؑ کی دعوت کی بیچ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی طرح کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ کی بات جب قیامت کے ذکر تک پہنچی تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے قیامت کے دلائل کا حوالہ دے کر حضرت ابراہیم کی بات کو مکمل اور کلام کو بالکل مطابقِ حال بنادیا۔ اولم یرواکیف یبدی اللہ الخلق ثم یعیدہ۔ یعنی اگر انہیں مرنے کے بعددوبارہ اٹھائے جانے میں کوئی شک ہے تو کیا انہوں نے اس کائنات میں اس حقیقت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ چیزوں کو پیدا کرتا ہے، پھر ان کو فنا کرتا ہے اور پھر دوبارہ ان کا اعادہ کردیتا ہے، یہ اسی دلیل کی طرف اشارہ ہے جو مختلف اسلوبوں سے، متعدد مقامات میں پیچھے گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب زمین کو بالکل خشک و بےآب وگیاہ کردینے کے بعد اس کو ازسر نو سرسبز و شادات کردینے میں خدا کی کوئی مشکل نہیں پیش آرہی تو لوگوں کے مرکھپ جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کردینے میں اس کو کیوں مشکل پیش آئے گی۔ ’ ان ذلک علی اللہ یسیرا۔“ یعنی اس کو مستبعد اور بعید ازا مکان نہ خیال کرو۔ جس خدا نے ہر چیز کو عدم سے وجود بخشا اور جو برابر اپنی اس قدرت کا اس کائنات میں مشاہدہ کرا رہا ہے اس کے لئے تمہیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا نہایت سہل ہے۔
Ayah 29:20

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

ان سے کہو، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ کس طرح اللہ نے خلق کا آغاز کیا اور پھر اس کو دوبارہ اٹھا اٹھا کرے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

قل سیروا فی الارض فانظروا کیف بدا الخلق ثم اللہ ینشی النشاۃ الاخرۃ ان اللہ علی کل شیء قدیر۔ (30) یہ اس دنیا کے مظاہر پر صحیح نقطہ نگاہ سے غور کرنے کی دعوت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا کے نظام کو اس طرح چلا رہا ہے کہ یہ تمام حقائق کی تعلیم کے لئے خود اپنے وجود کے اندر ایک مکمل تربیت گاہ ہے۔ تو حید، قیامت اور جزا وسزا کے لئے باہر سے دلیل ڈھونڈھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس دنیا کے شب و روز کے مشاہدات میں ان میں سے ہر چیز کی شہادت موجود ہے۔ فرمایا کہ اس زمین میں چلو پھرو اور غور کی نگاہ سے دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح خلق کا آغاز فرماتا ہے اور پھر اس کو فنا کرکے اس کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرتا ہے۔ ایک قوم کو وہ وجود بخشتا ہے اور پھر اس کو مٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم کو لاتا ہے۔ رات کے بعد دن نمودار کرتا ہے، خزان کے بعد بہار آجاتی ہے۔ یہ سارے مشاہدات وہ اسی لئے کرا رہا ہے کہ یقین رکھے کہ جس خالق کی قدرت کے یہ کرشمے وہ ہر روز اور ہر آن مشاہدہ کر رہا ہے اس کے لئے کوئی کام بھی مشکل نہیں ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جس کو چاہیے گا عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا رحم کرے گا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے۔

یعذب من یشاء ویرحم من یشاء ج والیہ تقلبون (21) یعنی اس دنیا کے واقعات و حوادث اور اس کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے۔ اس کے اپنے قانون عدل و حکمت کے سوا اور کوئی چیز بھی اس کی مشیت وقدرت پر اثر انداز نہیں ہوتی ہے۔ قرآن میں قوموں کو جو تاریخ بیان ہوئی ہے وہ اس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ اور یہیں سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ آخرت میں بھی عذاب وثواب کا معاملہ تمام تراسی کے اختیار میں ہوگا، کوئی دوسرا اس کے اس اختیار میں مداخلت نہ کرسکے گا۔ وہی اپنے عدل و حکمت کے مطابق جس کو چاہے گا سزا دے گا، جس کو چاہے گا اپنی مغفرت سے نوازے گا۔ ’ والیہ تقلبون ‘۔ اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ سب کی واپسی بالآخر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہوتی ہے، کسی اور کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ مولیٰ و مرجع بن سکے۔ جب اس دنیا میں اس کی گرفت سے بچانے والا کوئی اور نہ بن سکا، کسی اور کی دہائی کچھ کارگر نہ ہوسکی تو آخرت میں اس کے نافع ہونے کی توقع کس بنیاد پر کی جائے !
Ayah 29:22

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور نہ تم زمین میں خدا کے قابو سے باہر نکل سکوگے اور نہ آسمان میں اور تمہارے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی مددگار

وما انتم بمعجزین فی الارض ولا فی السماء زوما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر (22) اوپر کی باتیں غائب کے اسلوب میں ارشاد ہوئی ہیں۔ اب یہ قریش کو براہ راست خطاب کرکے تنبیہ کی جا رہی ہے تاکہ کلام بالکل مطابق حال ہوجائے۔ فرمایا کہ جب وہ تم کو پکڑنا چاہیے گا تو اس کی پکڑ سے نہ تم زمین میں کہیں اس کے قابو سے باہر نکل سکو گے اور نہ آسمانوں میں۔ نہ یہاں تمہارا کوئی ساتھی اور کارساز بن سکے گا نہ آخرت میں تمہارا کوئی حامی و شفیع ہوگا۔
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا تو وہی لوگ ہیں جو میری رحمت سے محروم ہوئے اور وہی لوگ ہیں جن کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے۔

والذین کفروا بایت اللہ ولقائہ اولئک یئسوا من رحمتنی اولئک لھم عذبا الیم (23) یئسعا یہا حرموا اور بعدوا کے معنی میں ہے۔ یعنی وہ لوگ ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت و عنایت سے محروم ہوئے۔ اس لفظ میں حرموا کے بالمقابل زیادہ زو رہے۔ بعض اوقات کسی چیز سے محروم اس کے دوبارہ حصول کی امید کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ محرومی زیادہ دل شکنی نہیں ہوتی۔ کفار کو آخرت میں خدا کی رحمت سے جو محرومی ہوگی وہ کامل مایوسی کے ساتھ ہوگی۔ ان کے لئے امید کے دروازے ہمیشہ کے واسطے بند ہوجائیں گے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا، جو آج ان کو سنائی جا رہی ہیں اور خدا کے حضور پیشی کا، جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے، انکار کیا وہ یاد رکھیں کہ وہ ہمیشہ کے لئے میری رحمت سے مایوس و نامراد ہوئے۔ اس رحمت کا استحقاق پیدا کرنے کا موقع صرف اسی دنیا کی زندگی میں ہے۔ جو لوف یہ فرصت رائگاں کردیں گے ان کے لئے اس کو کھو کر پاسکنے کا کوئی امکان نہیں۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

تو اس کی قوم کا جواب صرف یہ ہوا کہ انہوں نے کہا کہ اس کو قتل کردو یا جلادو۔ توا للہ نے اس کو آگ سے نجات دے بیشک اس کے اندر بہت سے نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں۔

فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہاوحرقوہ فانعبہ اللہ من النار ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (24) بیچ میں تضمین کی جو آیات آگئی تھیں وہ اوپر کی آیت پر ختم ہوئیں۔ اب اصلی سرگزشت کا بقیہ حصہ پھر سامنے آگیا۔ فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اس درد مندانہ دعوت کا جواب ان کی قوم نے دیا تو یہ دیا کہ اس شخص کو یا تو قتل کردو یا جلا دو۔ بالآخر اسی دوسرے رائے پر اتفاق ہوا اور قرآن میں دوسری جگہ یہ تصریح ہے کہ اس کے لئے ایک خفیہ اسکیم بنائی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو دشمنوں کے اس شر سے بچا لیا۔ فرمایا کہ اس واقعہ کے اندر ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان کی راہ اختیار کریں۔ اس میں پہلی نشانی تو اس بات کی ہے کہ جو لوگ ایمان کی راہ اختیار کریں وہ اس حقیقت کو یاد رکھیں کہ اس راہ میں بہت سے سخت امتحانات پیش آتے ہیں جن سے گزرے بغیر کوئی شخص ایمان کے تقاضوں سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔ حضرت ابراہیم ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر کو اس راہ میں آگ کے الائو کے اندر سے ہو کر گزرنا پڑا ہے۔ دوسری نشانی اسی بات کی ہے کہ اس راہ میں علائق کی زنجیریں کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہیں۔ حضرت ابراہیم کے باپ…آزر…نے ان پر پورا دبائو ڈالا کہ ان کو ایمان کی راہ سے روک دے لیکن حضرت ابراہیم ؑ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے کہ دین کے معاملہ میں ان کا باپ خدا کے ہاں ان کی طرف سے جواب نہیں ہوگا انہیں اپنی جواب دہی خود کرنی ہوگی اس وجہ سے باوجود اس کے کہ وہ اپنے باپ کے لئے اپنے سینہ میں ایک نہایت درد مند دل رکھتے تھے لیکن وہ اس کے مقابل میں اپنے دین کی حفاظت کے لئے علائق محبت کی تمام زنجیریں توڑ کر سینہ سپر ہوگئے۔ تیسری نشانی اس میں اس بات کی ہے کہ جو لوگ حق کو پسپا کرنے کے لئے اپنا زور زور اور اپنا اختیار و اقتدار استعمال کرتے ہیں، اگرچہ ایک حد تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ذور آزمائی کی مہلت ملتی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ آزمائش کا یہ ایک لازمی تقاضا ہے، لیکن اس مہلت کی ایک خاص حد ہے۔ اگر اہل حق اس کے مقابل میں ڈٹ جاتے ہیں تا بالآخر فتحمند وہی ہوتے ہیں اور اہل باطل دنیا اور آخرت دونوں میں سوار ہوتے ہیں۔
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور اس نے کہا تم اللہ کے سوا جو بت بنائے ہیں، تمہاری آپس کی دوستی بس دنیا کی زندگی تک ہے۔ پھر قیامت کے دن تم میں سے ہر ایک دوسرے کا انکار کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

وقال انما اتخذ تم من ون اللہ اوثان لا مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا ج ثم یوم القیمۃ یکفر بعضکم ببعض ویلعن بعضکم بعضا ز وما و لکم النار ومالکم من نصرین (25) انما حصر کے مفہوم میں ہے اور مودۃ بینکم بیان علت کے لئے نہیں بلکہ بیان حال کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو تم نے اللہ کے سوا دوسرے اصنام واوثان بنائے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ محض تمہارے خیال دو ہم کی ایجاد ہیں۔ ان کے ساتھ تمہاری ساری دوستی و نیاز مندی بس اسی دنیا کی زندگی تک ہے۔ قیامت کے دن جب اصل حقیقت سامنے آئے گی تو تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔ تو کہو گے کہ اے رب، ہم کو فلاں اور فلاں نے گمراہ کیا۔ اگر یہ نہ ورغلاتے تو ہم تیری سیدھی راہ پر ہوتے۔ وہ جواب دیں گے کہ ہم جیسے خود تھے ہم نے تم کو ویسے ہی بنایا، تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے ہماری پیروی کی تو ہم کو ملامت کرنے کے بجائے خود اپنے کو ملامت کرو اور اپنے کیے کی سزا بھگتو۔ اس جنگ وجدال کا ذکر قرآن مجید میں جگہ جگہ ہوا ہے اور مقصود اس کے ذکر سے یہ ہے کہ جو لوگ دعوت کے اس دور میں اپنے زیر دستوں کو یہ اطمینان دلا رہے تھے کہ وہ ان کے طریقے پر چلتے رہیں، قیامت کے دن وہ ان کی طرف سے جواب دہی کرلیں گے، ان کو یہ آگاہی دے دی جائے کہ اس دن اس قسم کے لیڈر اور اس قسم کے پیرو، اس قسم کے معبود اور اس قسم کے عابد سب ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ دوستی ووفاداری کے سارے دعوے بس اسی وقت تک ہیں جب تک اصل حقیقت سے پردہ نہیں اٹھتا۔ پردہ اٹھتے ہی سب پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ اس طرح کے سارے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ان میں سے کوئی بھی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس لوگ نے اس کی تصدیق کی اور کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں۔ بیشک وہی عزیز و حکیم ہے۔

فامن لہ لوط وقال انی مھاجر الی ربی ط انہ ھو العزیز الحکیم (26) امن لہ تضدیق و تائید کے مفہوم میں ہے۔ حضرت لوط ؑ ، حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے اور خود منصب رسالت پر فائز اور اپنی قوم کی دعوت پر مامور تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم نے جو روش اختیار کی اس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوا۔ یہاں حضرت لوط ؑ کی تصدیق وتائید کا حوالہ اس لئے دیا ہے کہ یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ حضرت ابراہیم ؑ جیسے جلیل القدر نبی پر بھی ایک وقت ایسا گزرا ہے کہ ان کی دعوت میں ان کی ہمنوائی کرنے والا حضرت لوط ؑ کے سوا اور کوئی بھی نہیں تھا لیکن بالآخر وہ وقت بھی آیا کہ ان کی دعوت کی صدائے بازگشت دنیا کے کونے کونے سے اٹھی۔ وقال انی مھاجر الی ربی ط انہ ھو العزیز الحکیم۔ قال کا فاعل حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی قوم کا رویہ دیکھ لیا کہ وہ ان کے قتل کردینے اور جلا دینے کے درپے ہے تو انہوں نے سنت الٰہی کے مطابق، ہجرت کا عزم فرمایا کہ اب میں قوم کو چھوڑ کر اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں، میرا رب عزیز و حکیم ہے۔ یعنی اگرچہ بظاہر، حالات بالکل نامساعد ہیں لیکن میرا رب ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ وہ میرے لئے اپنی قدرت و حکمت سے راہ کھولے گا اور اس تاریکی کے اندر سے روشنی نمودار کرے گا۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو عطا کیے اسحاق اور یعقوب اور اس کی ذریت میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کیا۔ اور ہم نے اس کا صلہ اس کو دنیا میں بھی دیا اور وہ آخرت میں بھی نیکوکاروں کے زمرے میں سے ہوگا۔

ووھبنا لہ اسحاق و یعقوب وجعلنا فی ذریتۃ النبوۃ والکتب واتینہ اجرہ فی الدینا ج وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین (27) یہ وہ انعام بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ پر ہجرت کے بعد فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ اگرچہ ابراہیم ؑ نے جب ہجرت کی ہے لوط ؑ کے سوا اور کوئی ان کی ہمنوائی کرنے والا نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ وہ ان کو دنیا اور آخرت دونوں میں صالحین و ابرابر کی معیت ورفاقت نصیب کرتا ہے۔ چناچہ ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ جیسے بیٹے اور پوتے عطا فرمائے جن سے دین کے خدم گزاروں کا ایک عظیم گھرانا آباد ہوا اور اس گھرانے کے اندر اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری فرمایا۔ یعنی حضرت ابراہیم ؑ کو اس دنیا میں بھی ان کی خدمات کا صلہ عطا ہوا اور آخرت میں بھی وہ صالحین کے زمرے میں سے ہوں گے۔ اس آیت میں درپردہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کے لئے بشارت ہے۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ سورة مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب مسلمانوں پر کفار نے عرصہ حیات بالکل تنگ کردیا تھا اور مظلوم مسلمانوں کے لئے ہجرت کے سوا کوئی اور راہ باقی نہیں رہ گئی تھی۔ ان حالات میں حضرت ابراہیم ؑ کی ہجرت کے اس پہلو کو نمایاں کرکے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ اگر یہ مرحلہ پیش آتا ہے تو اس سے ہراساں نہ ہونا، اپنے باپ ابراہیم ؑ کی طرح اپنے ربِ عزیز و حکیم کے بھروسہ پر دامن جھاڑ کے اٹھ کھڑے ہونا۔ اگر اپنے رب کی خاطر تم اپنی ناہنجار قوم کو چھوڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے دنیا اور آخرت دونوں میں اچھے ساتھی پیدا کرے گا۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط کو بھی ہم نے رسول بنایا۔ جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ایک کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کرتے ہو۔ تم سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے بھی اس کا ارتکاب نہیں کیا !

ولوطا از قال لقومہ انکم لتاتون الفاشۃ ز ما سبقکم بھا من احد من العلمین (28) حضرت لوط ؑ ، اوپر گزر چکا ہے، حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے، ان کی دعوت کا علاقہ اگرچہ الگ تھا لیکن ایک زمانہ ایک ہی تھا۔ ان کی قوم میں یوں تو وہ ساری ہی برائیاں تھیں جو دوسری مشرک قوموں میں رہی ہیں لیکن مرد برستی کی بےحیائی اس قو میں فیشن کی حیثیت حاصل کرگئی تھی اس وجہ سے اس کی اصلاح پر ان کو خاص طور پر توجہ مرکوز کرنی پڑی۔ لفظ فاحشۃ سے انہوں نے اسی بےحیائی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ فاحشۃ کھلی ہوئی بدکاری و بےحیائی کو کہتے ہیں جس کے بدکاری و بےحیائی ہونے میں کسی اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ لتاتون الفاحشۃ کے الفاظ سے حضرت لوط ؑ نے لوگوں کی اخلاق حس بیدار کرنے کی کوشش کی اور اس کے ساتھ ان کو غیرت دلائی کہ یہ تو بےحیائی ہے جو سب سے پہلے اس روئے زمین پر تمہی نے ایک فیشن کی حیثیت سے اختیار کی ہے، تم سے پہلے کسی قوم نے بھی یہ لعنت ایک قومی تہذیب کی حیثیت سے اختیار نہیں کی۔ ہم دوسرے مقام میں یہ وضاحت کر چکتے ہیں کہ ماسبقکم بھا من احد من العلمین سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ قوم لوط سے پہلے دنیا میں کسی ایک فرد نے بھی اس بسائی کا ارتکاب نہ کیا ہو۔ لفظ احد جمع کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ اس کی مثالیں ہم پیش کرچکے ہیں اس وجہ سے اس کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ تم سے پہلے کسی قوم نے بھی اس بےحیائی کو من حیث القوم اپنا اوڑھنا بچھونا نہیں بنایا۔ اس برائی کا یہی وہ پہلو ہے جس کے سبب سے پوری قوم لوط عذاب کی مستحق ٹھہری۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم مردوں سے شہوت رانی کرتے اور فطرت کی راہ مارتے ہو ! اور اپنی مجلسوں میں نے حیائی کے مرتکب ہوتے ہو ! تو اس کی قوم کا جواب صرف یہ ہوا کہ وہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے اوپر اللہ کا عذاب لائو۔

ائنکم لتاتون الرجال وتقطعون السبیل لا وتاتون فی نادیکم المنکر فما کان جواب قومہ الا ان قالوا ئتنا بعذاب اللہ ان کنت من الصدقین (29) ’ سبیل ‘ سے مراد یہاں فطرت کی راہ ہے۔ حضرت لوط ؑ نے ان کو نہایت درد مدانہ لہجہ میں فطرت سے اس انحراف پر ملامت فرمائی کہ بدبختو، تم مردوں سے شہوت رانی کرتے اور فطرت کی راہ مارتے ہو ! ظاہر یہ اگر کسی قوم میں یہ بیماری عام ہوجائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلے گا کہ عورتوں کی طرف مردوں کی رغبت بالکل ہی ختم ہوجائے گی اور اگر کچھ رہے گی بھی تو وہ بھی صحیح نوعیت کی نہ ہوگی اور اس طرح پوری قوم اہلاکِ نسل کی اس راہ پر چل پڑے گی جو فاطِر فطرت کے منشا کے بالکل خلاف اور تباہی کی راہ ہے۔ ’ وتاتون فی نادیکم المنکر ‘ سے اس فسادِ اخلاق کے عام ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی برائی نہیں رہ گئی تھی بلکہ ان کی سوسائٹی میں اس نے تہذیب اور فیشن کی حیثیت حاصل کرلی تھی۔ مجسلوں میں علانیہ شائستہ حرکتیں ہوتیں اور فخر و لذت کے ساتھ ہر بزم و انجمن میں ان کے چرچے ہوتے۔ ہماری جس شاعری کو حالی مرحوم نے سنڈاس سے بدتر قرار دیا ہے وہ انہی خرافات کا دفتر ہے اور ہمارے قومی اخلاق و کردار پر اس کو جو اثر پڑا اس کے درد انگیز نتائج کی تفصیل تاریخ کے صفحات میں موجود ہے۔ ’ فما کان جواب قوملہ الایۃ ‘۔ یعنی ان تمام درد مندانہ تنبیہات کا جواب اس قوم نے دیا تو یہ دیا کہ اگر سم سچ مچ اللہ کے رسول ہو اور تمہاری تکذیب سے ہم پر اللہ کا کوئی عذاب آنے والا ہے تو ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ تم اس عذاب کو دکھا دو تب ہم تمہاری بات باور کریں گے۔
Ayah 29:30

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

اس نے دعا کی، اے رب ! اس مفسد قوم کے مقابل میں میری مدد کرو۔

قال رب انصرنی علی القوم الفسدین (30) جب قوم نے اپنی ضد سے حضرت لوط ؑ کو بالکل مایوس کردیا تب انہوں نے اپنے رب سے فریاد کی اے رب، میری تمام سعئی اصلاح بےسود ہوچکی ہے تو اب اس مفسد قوم کے مقابل میں میری مدد فرما۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرستادے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر آئے، انہوں نے کہا، ہم اس بستی والوں کو ہلاک کردینے والے ہیں۔ اس کے باشندے بڑے ہی ناہنجار ہیں !

ولما جاءت رسلنا ابراہیم بالبسری لا قالوا انا مھلکوا اھل ھذہ القریۃ ج ان اھلھا کانواظلمین (31) ’ بشری ‘ سے مراد وہ بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو دی۔ اس کا ذکر اوپر آیت 27 میں گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ جو فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے لئے بیٹے اور پوتے کی بشارت لے کر آئے وہی فرشتے قوم لوط کے لئے عذاب کا تازیانہ لے کر آئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو بشارت کے ساتھ قوم لوط کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کی بھی خبر دی کہ اب ہم اس بستی والوں کو (اشارہ قوم لوط کی بستی کی طرف ہے) ہلاک کردینے والے ہیں۔ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہی ہاتھ میں رحمت و نقمت دونوں ہیں۔ جس طرح ایک ہی بارش کو وہ کسی کے لئے عذاب اور کسی کے لئے رحمت بنا دیتا ہے اسی طرح اس کے جو فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے لئے بشارت لے کر آئے وہی قوم لوط کے لئے عذاب کا پیش خیمہ بن کر نمودار ہوئے۔ اس سے مشترک قوموں کے اس واہمہ کی بھی تردید ہو رہی ہے جس میں وہ اس کائنات کے اندر اضداد کے وجود کے سبب سے مبتلا ہوئیں کہ انہوں نے خیر وشر کے الگ الگ دیوتا مان کر ان کی الگ الگ عبادت شروع کردی۔ ان اھلھا کانوا ظلمین۔ یہ قوم لوط کی ہلاکت کی علت بیان ہوئی ہے کہ ان کے بلاک کیے جانے کا فیصلہ خود ان کے اس ظلم کے نتیجہ میں ہوا جو انہوں نے اپنے اوپر کیا کہ فطرت کی راہ سے کھلم کھلا انحراف اختیار کیا اور اللہ کے رسول نے جب اس کے نتائج سے ان کو آگاہ کیا تو اس کی بات پر کان دھرنے کے بجائے اس سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ اس طرح کے لوگوں پر جو عذاب آتا ہے وہ خود ان کے ظلم کا پیدا کردہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر کوئی ظلم نہیں ہوتا۔
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

اس نے کہا، اس میں تو لوط بھی ہے ! انہوں نے جواب دیا کہ جو اس میں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم اس کو اور اس کے متعلقین کو بچالیں گے مگر اس کی بیوی کو، وہ پیچے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔

قال ان فیھا لوطا ط قالو نحن اعلم بمن فیھا وقفہ لغنجینہ واھلہ الا امراتہ کا نت من الغبرین۔ (32) حضرت ابراہیم ؑ کو جونہی فرشتوں کی اس مہم کا علم ہوا انہیں حضرت لوط ؑ اور ان کے ساتھیوں کی فکر پڑگئی کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا ؟ انہوں نے سوال فرمایا کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں ؟ فرشتوں نے ان کو اطمینان دلایا کہ اس میں جتنے اہل ایمان ہیں ہم ان سب سے اچھی طرح واقف ہیں۔ آپ ان کے بارے میں بالکل مطمئن رہیں، ہم لوط ؑ اور ان کے تمام متعلقین کو اس عذاب سے بچالیں گے، صرف ان کی بیوی پیچھے رہ جائے گی اور وہ عذاب کی زد میں آئے گی۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب یوں ہوا کہ آئے ہمارے فرستادے لوط کے پاس تو وہ ان سے آرزدہ اور دل تنگ ہوا اور وہ بولے کہ تم نے کوئی اندیشہ کرو، نہ غم، ہم تم کو اور تمہارے متعلقین کو بچالیں گے بجز تمہاری بیوی کے، وہ پیچے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔

ولما ان جاءت رسلنا لوط سی بھم وضاق بھم زدعا وقالوا لا تخف ولا تحزن قف انا منجوب والھلک الا امراتک کا نت من الغبرین (33) یہاں زبان کا ایک نکتہ ذہن میں رکھنا چاہیے جس کی طرف علامہ ابن قیم ؒ نے اشارہ فرمایا ہے کہ جب لما اور اس کے بعد کے فعل کے درمیان ان آجائے تو اس صورت میں شرط اور اس کے جواب کے درمیان سبب اور مسبب کا تعلق پیدا ہوجاتا ہے۔ مطب یہ ہے کہ جب فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس سے ہو کر حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے تو وہ ان کو دیکھ کر آزردہ اور متردد ہوئے۔ یہاں یہ سوال قابل غور ہے کہ حضرت لوط ؑ فرشتوں کی دیکھ کر آزردہ و دل گرفتہ کیوں ہوئے ؟ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کی طرح ان کا خیر مقدم کیوں نہیں کیا ؟ قرآن مجید کے دوسرے مقامات کے مطالعہ سے ان کی اس آزروگی و پریشانی کے دوسبب معلوم ہوتے ہیں۔ جو الگ الگ دو مختلف مرحلوں میں ظاہر ہوئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں تو وہ ان کو دیکھ کر اس وجہ سے پریشان ہوئے کہ یہ فرشتے خوبرو نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے۔ ان کا اس شکل و صورت میں آنا قوم لوط کے لئے ایک آخرت ابتلا تھا تاکہ ان کے اندر جو خبث بھرا ہوا ہے وہ پوری طرح ظاہر ہوجائے اور جو عذاب ان کے لئے مقدر ہوچکا ہے اس کے وہ آخری درجے میں مستحق بن جائیں۔ حضرت لوط ؑ پر یہ حقیقت چونکہ ابھی واضح نہیں ہوئی تھی اس وجہ سے وہ اپنے دروازے پر چند خوبرو شریف زادوں کو دیکھ کر سخت پریشان ہوئے کہ آج کا دن تو بہت کٹھن ہے۔ بستی کے گنڈوں کو جب ان نوجوانوں کی خبر ہوتی تو وہ ٹوٹ پڑیں گے اور مجھ کو اور میرے مہمانوں کو رسوا کریں گے۔ چناچہ ان کا یہ اندیشہ بالکل صحیح ثابت ہوا۔ گنڈے ان نوجوانوں کی خبر پاتے ہی حضرت لوط ؑ کے گھر پر ٹوٹ پڑے اور ان کو رسوا کرنا چاہا۔ حضرت لوط ؑ نے لاکھ منت سماجت کی لیکن انہوں نے ان کی ایک نہیں سنی۔ بالآخر فرشتوں نے اپنا پردہ اٹھایا اور حضرت لوط ؑ کو اطمینان دلایا کہ تم اطمینان رکھو، ہم چھو کرے نہیں ہیں، جیسا کہ ان اندھوں نے گمان کیا ہے، بلکہ ہم خدا کے فرشتے ہیں اور ان کے لئے فیصلہ کن عذاب لے کر آئے ہیں۔ فرشتوں کے اس انکشاف راز سے حضرت لوط ؑ کو یہ تو اطمینان ہوا کہ گنڈون کے شر سے وہ اور ان کے مہمان محفوظ ہیں لیکن عذاب کی خبر بھی ان کے لئے سخت تردد کا باعث ہوئی کہ اب دیکھئے ان کے اور ان کے متعلقین کے لئے حکم ہوتا ہے ! فرشتون نے اس پہلو سے بھی ان کو اطمینان دلایا کہ تم اپنے اور اپنے متعلقین کے باپ میں کوئی اندیشہ نہ کرو، ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو اس آفت سے نجات دیں گے۔ البتہ تمہاری بیوی تمہارے ساتھ یہاں سے نہیں نکلے گی۔ وہ اپنی قوم کے ساتھ مبتلائے عذاب ہوگی۔ یہاں حضرت لوط ؑ کی بیوی کے انجام کی طرف دو مربتہ اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اس سے مقصود اس حقیقت کو موکد کرنا ہے جو اوپر بیان ہوئی کہ دین کے معاملہ میں کوئی کسی دوسرے کے بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ عورت ہو یا مرد ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑتا ہے۔ حضرت لوط ؑ کی بیوی ایک جلیل القدر پیغمبر کی بیوی تھی لیکن چونکہ وہ خود ناہنجار تھی اس وجہ سے وہ بھی عذاب میں گرفتار ہوئی اور حضرت لوط ؑ سے جو نسبت اس کو حاصل تھی وہ اس کے لئے کچھ نافع نہ بن سکی۔
Ayahs 29:34–35

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی والوں پر، ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں، آسمان سے ایک آفت اتارنے والے ہیں۔

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے اس کی ایک واضح نشانی باقی رکھی ان لوگوں کے لئے جو سوچنا سمجھنا چاہیں۔

انا منزلون علی اھل ھذہ القریۃ ر، جزا من السماء بما کانوا لفسقون (34) حضرت لوط ؑ کو نجات کی خوشخبری دینے کے بعد فرشتوں نے ان کو اس فیصلہ الٰہی سے بھی آگاہ کردیا کہ اس بستی والوں پر ہم قہر آسمانی نازل کرنے والے ہیں۔ ’ رجز ‘ سے مراد اس طرح کا عذاب ہے جو سننے اور دیکھنے والوں کے دلوں میں کپکپی پیدا کردے۔ اس کے ساتھ من السماء کی قید اس کی شدت اور بےپناہی کے اظہار کے لئے ہے۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں قہر الٰہی یا عذاب آسمانی کے الفاظ بولتے ہیں اسی طرح عربی زبان میں یہ اسلوب ہے۔ اس عذاب کی نوعیت پر ہم اس کے محل میں گفتگو کرچکے ہیں۔ بما کانوا یفسقون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کا عذاب کسی قوم پر اس وقت بھیجتا ہے۔ جب سرکشی و نافرمانی اس کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے۔ ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون (35) قومَِ لوط کی یہ بستی قریش کی تجارتی گزرگاہ پر واقع تھی اس وجہ سے وہ ان کے لئے اس سنت الٰہی کے ظہور کا ایک نہایت واضح نشان تھی جس سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا تھا۔ لیکن یہ خاموش آثار نافع ان کے لئے ہوتے ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ دیکھتے سب کچھ ہیں لیکن ان کو نظر کچھ بھی نہیں آتا۔ آخر اس زمانے میں کتنے ماہرین اثریات ہیں جو قدیم کھنڈروں کے ایک ایک نقش کو پڑھ لینے میں بڑے ہوشیار ہیں لیکن ان سے جو اخلاقی سبق حاصل ہوتے ہیں ان کے سمجھنے میں ان کی عقل بالکل کند ہے۔