29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 29:62

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

اللہ یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ و یقدرلہ ط ان اللہ بکل شیء علیم (62) یعنی جب آسمانوں اور زمین کا خالق خدا ہے اور سورج اور چاند کو ہم ہماری خدمت میں اسی نے سرگرم کیا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ رزق کے خزانوں کا مالک کوئی اور بن بیٹھے۔ پھر تو وہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور اپنے علم و حکمت کے مطابق رزق کی تقسیم فرماتا ہے۔ نہ کوئی دوسرا اس سے زیادہ علم رکھنے والا ہے کہ اس کو بتائے کہ فلاں کا رزق پہنچا ہے، فلاں کا نہیں پہنچا اور نہ کوئی اس کے بندوں کے احوال و مصالح سے اس سے زیادہ باخبر ہے کہ اس کو رانے دے سکے کہ فلاں کا رزق زیادہ ہونا چاہیے لاں کا کم۔
Ayah 29:63

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے کس نے پانی اتارا، پس اس سے زمین کو زندہ کیا، اس کے مردہ ہوچکنے کے بعد، تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ کہو، شکر کا سزاوار اللہ ہے۔ بلکہ ان کے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔

ولئن سالتھم من نزل من السماء ماء فا حیا بہ الارض من بعد موتھا لیتولن اللہ قل الحمد للہ بل اکثرھم لا یعقلون (63) اسی طرح اگر ان سے سوال کرو کہ وہ کون ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس سے زمین کو، اس کے خشک اور بےآب وگیاہ ہوجانے کے بعد ازسر نو زندہ و شاداب کردیتا ہے تو اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ اللہ ! ان سے کہو، اگر اس بات کا تم کو اقرار ہے تو پھر تو شکر کا سزا وار بھی اللہ تعالیٰ ہی ہوا تو آخر تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کس حق کی بنا پر کرتے ہو ! مشرکین عرب ابرو ہوا پر بھی حقیقی تصرف اللہ تعالیٰ ہی کا مانتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ رزق و فضل کو دوسروں کی طرف منسوب اور ان کی عبادت کرتے۔ اس طرح وہ ایک شدید قسم کے تضاد فکر میں مبتلا تھے حالانکہ جب یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی بخشی ہوئی ہیں تو شکر کا حقدار بھی وہی ہوا اور یہی شکر تمام عبادت و اطاعت کا محرک اوّل ہے۔ اس کی وضاحت ہم سورة ٌ فاتحہ کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔ بل اکثرھم لا یعقلون۔ یعنی یہ تضاد فکر ہے تو نہایت بھونڈے قسم کا لیکن ان کی اکثرت اس پر غور نہیں کرتی۔
Ayah 29:64

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی تو بس لہو و لعب ہے۔ اور دار آخرت ہی ہے جو اصل زندگی کی جگہ ہے اگر وہ اس کو جانتے !

وما ھذہ الحیوۃ الدنیا الا لھو و لعب ط وان الدارا الاخرہ لھی الحیوان، لو کانو یعلمون (64) یہ ان کی ساری گمراہی کے اصل سبب کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس دنیائے فانی کی دلفریبیوں نے ان کو اس طرح گرودیدہ کرلیا ہے کہ وہ اس کے مفادات سے بالاتر ہو کر کسی چیز کو سوچ ہی نہیں سکتے۔ حالانکہ یہ دنیا جس پر یہ ریجھے ہوئے ہیں اور جس کے عشق نے ان کی عقل اور ان کے دل کی ہر چیز کو ماؤف کردیا ہے اس کی حقیقت چند روزہ لہو و لہب سے زیادہ کچھ بھی نہیں، اصلی زندگی دار آخرت کی زندگی ہے لیکن اس کی طرف سے ان کی آنکھیں بند ہیں۔ دنیا کی زندگی قدروقیمت رکھنے والی چیز اس صورت میں بنتی ہے جب آخرت کو نصب العین بنا کر گزری جائے۔ اس صورت میں بیشک انسان اس چند روزہ زندگی کے بدلے میں ابدی بادشاہی حاصل کرتا ہے۔ یہ نصب العین اگر نگاہوں سے اوجھل ہوجائے تو پھر یہ محض چند دن کا کھیل تماشا ہے اور اس کے بدلے میں انسان ابدی خسران کا وارث بنتا ہے۔ فرمایا کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ بشرطیکہ یہ دنیا کے متوالے لوگ اس حقیقت کو جانیں اور سمجھیں۔
Ayahs 29:65–66

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پس جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اللہ کو پکارتے ہیں اسی کے لئے اطاعت کی خاص کرتے ہوئے۔ پس جب ان کو خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو پھر وہ اس کے شریک ٹھہرانے لگتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

کہ ہم نے جو نعمت بخشی اس کی ناشکری کرین اور چنددن اور بہرہ مندہولیں۔ پس وہ عنقریب جانیں گے۔

فاذ ارکبوا فی الفلک دعو اللہ مخلصین لہ الدین ج فلما تجھم الی الیراذا ھم یشرکون لیکفرو بما اتینھ ولیتمعوا وفف یعلمون (65۔ 66) یعنی دنیا کے ان سرمستوں کی مثال کشتی کے مسافروں کی ہے۔ جب کشی سازگار ہوا کے ساتھ رواں دواں ہوتی ہے تو یہ اس میں اس طرح مگن ہوتے ہیں گویا ابرو ہوا سب انہی کے تابع فرمان ہیں لیکن جو نہی کشتی کسی طوفانی گرداب میں پھنسی ان کو خدا یاد آتا ہے اور اس وقت وہ اسے مخلصانہ اطاعت کا عہد کرتے ہوئے دعا کرتے لیکن جب کشتی گرداب میں سے نکل جاتی ہے تو وہ اپنی انہی سرمستیوں اور گمراہیوں میں پھر کھو جاتے ہیں جن میں پہلے کھوئے ہوئے تھے اور خدا سے کیا ہوا عہدان کو بالکل بھول جاتا ہے۔ فرمایا کہ اس طرح خدا کی بخشی ہوئی نجات ان کے لئے خدا ہی کی ناشکری کی راہ کھولتی ہے اور ہم بھی ان کو ڈھیل دے دیتے ہیں کہ وہ چند دن ہماری نعمتوں سے متمتع ہو لیں، بالآخر تو ان کی اس کا خمیازہ بھگتنا ہی ہے۔ اس آیت میں بعض اجزاء مخدوف ہیں، ہم نے نظائر قرآن کی روشنی میں وہ کھول دیے ہیں۔ یہ مضمون مختلف اسالیت سے زیر بحث آچکا ہے اس وجہ سے زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ سورة روم میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔ واذا مس الناس ضر دعوا ربھم منبین الیہ ث اذا ذاقھم ننہ رحمتہ اذا فریق منھم برھم یشرکون۔ لیکفروا بما اتھینھم فتمتعوا فسوف تعلمون۔ اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف متوجہ ہو کر پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے کہ اس نعمت کی ناشکری کریں جو ہم نے ان کو بخشی۔ تو چند دن فائدہ اٹھا لو، عنقریب تم کو پتہ چل جائے گا۔
Ayah 29:67

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لئے ایک مامون حرم بنایا اور حال یہ ہے کہ لوگ ان کے گردو پیش سے اچک لیے جاتے ہیں ! تو کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکر کی کرتے ہیں !

اولم یروا انا جعلنا حرما امنا یتخطف الناس من ھولھم ط افبالباطل یومنون وبنعمۃ اللہ یکفرون (67) فرمایا کہ بالکل یہی حال قریش کے ان ناشکروں کا ہے۔ یہ اپنی تاریخ کی اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے ان کے لئے ایک مامون حرم بنایا جس میں یہ چین کی زندگی بسر کررہے ہیں درآنحالیکہ ان کے گردوپیش کا حال یہ ہے کہ لوگ دن دہاڑے اچک لیے جاتے ہیں، نہ کسی کی جان کے لئے امان ہے نہ کسی کا مال محفوظ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی قدر انہوں نے یہ کی ہے کہ اس کے بنائے ہوئے حرم کے کونے کونے میں انہوں نے بتوں کو لا بٹھایا ہے اور ان کی پوجا کر رہے ہیں۔ ان بدبختوں سے پوچھو کہ کیا وہ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اوپر کشی کی جو مثال دی ہے اس میں اور اس صورت واقعہ میں بڑی گہری مناسبت ہے۔ یہ مامون حرم قریش کے لئے ایک سفینہ نجات کے مانند تھے جس میں ہر خطرے بالکل نچنت وہ چین کے زندگی گزار رہے تھے۔ اس چین کی زندگی نے ان کو خدا سے بالکل غافل کردیا۔ حالانکہ اگر خدا چاہتا تو ان کو بھی وہ اسی بےاطمینانی میں مبتلا کرسکتا تھا جس میں ان کے گردو پیش کے لوگ مبتلا تھے لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب تک کشتی سازگار ہوا سے رواں دواں رہے اس وقت تک وہ چین کی بانسری بجاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ بازی اس کی ہے لیکن جب کسی فرفت میں آجاتا ہے تو واویلا شروع کردیتا ہے۔ اس حرم کی تولیت کی بدولت قریش کی جو رفہیت اور سارے عرب پر جو قیادت و سیادت حاصل ہوئی اس پر مفصل بحث کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ سورة قصص کی آیت 57 کے تحت بھی اس پر بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 29:68

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے پاس آچکا ہے ! کیا ایسے کافروں کو ٹھکانا جہنم میں نہیں ہوگا !

ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اوکذب بالحق لما جاءہ الیس فی جھنم شویی للکفرین۔ (68) تمام فرقہ قرار داد جرم سنانے کے بعد سوال فرمایا کہ ان لوگوں سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ گھڑ کر لگائیں یا حق کو جھٹلائیں جب کہ وہ ان کے پاس آچکا ہے۔ قفتراء علی اللہ سے مراد دین شرک ہے اور حق سے مراد یہاں قرآن اور رسول ہیں۔ لما جاءہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ رسول کی بعثت سے پہلے تو ان کے لئے اللہ کے ہاں کچھ عذر ہوسکتا تھا لیکن جب کہ رسول بھی آچکا اور قرآن بھی نازل ہوچکا تو ان کے لئے کیا عذر باقی رہا ! الیس فی جھنم مثوی للکفرین۔ کیا ایسے کٹے کافروں کو ٹھکانا بھی دوزخ میں نہ ہوگا ! مطلب یہ ہے کہ ایسوں کے دوزخی ہونے میں بھلا کسے کلام ہوسکتا ہے۔
Ayah 29:69

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتین جھیل رہے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں ضرور کھولیں گے اور بےکاروں کے ساتھ ہے !

والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا ط وان اللہ لمع المحسنین (69) کفار کو ان کے ٹھکانے تک پہنچا کر ان مظلوم مسلمانوں کی طرف پھر توجہ فرمائی جن کا مسئلہ اس سورة میں ابتدا سے زیر بحث ہے۔ فرمایا کہ ہمارے جو بندے ہماری راہ میں آج طرح طرح کی مشقتیں جھیل رہے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں ضرور کھولیں گے۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہ وعدہ ان کے لئے دین، دنیا اور آخرت تینوں سے متعلق ہے۔ یعنی ان کے لئے دین کی راہیں بھی کھلیں گی، ان کی دنیا کی مشکلات بھی حل ہوں گی اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی صراطِ حمید کی طرف فرمائے گا۔ ’ وان اللہ لمع المحسنین ‘۔ یہ ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی معیت کی بشارت ہے اور یہ بہت بڑی بشارت ہے اس لئے کہ جن کو اللہ کو معیت حاصل شمس و قمر سب ان کی راہ میں گرد ہیں۔ لیکن یہ بشارت احسان کی قید کے ساتھ مقید ہے۔ یعنی یہ معیت ان لوگوں کو حاصل ہوگی جو نہایت خوبی کے ساتھ راہ حق کی مصیبتوں کا مقابلہ کریں گے اور ہر مرحلے میں اپنے رب پر پورا پورا بھروسہ کرنے والے ثابت ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللہ تعالیٰ لغزشوں کو معاف فرمائے اور صحیح باتوں کے لئے دلوں میں جگہ پیدا کردے۔ واخروعن ما ان الحمد اللہ رب العلمین۔