29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 29:36–37

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور ہم نے مدین والوں کے پاس ان کے بھائی شعیب کو بھیجا تو اس نے دعوت دی، اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو اور یوم آخرت کے منتظر رہو اور زمین میں فساد مچانے والے بن کر نہ بڑھو۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

تو انہوں نے اس اس کو جھٹلا دیا تو ان کو زلزلہ نے آپکڑا۔ پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

والی مدین اخاھم شعیبا لا فقال یقوم اعبدوا اللہ وارجعوا الیوم الاخرو ولا تعثوا فی الارض مفسدین۔ فکذبوہ فاخزتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین (36۔ 37) اوپر کی سرگزشتیں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں، لیکن آگے صرف اجمالی حوالے پر اکتفا فرمایا ہے۔ مقصود ان کے حوالہ سے اسی حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں مبرہن کرنا ہے جس کی طرف سورة کی تمہید میں ارشاد فرمایا ہے کہ ام حسب الذین یعملون السیات ان یسبقونا ط سا ئا ما یحکمون (4) (کیا جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے ؟ اگر انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے تو بہت ہی برا فیصلہ کر رہے ہیں) آگے کے تاریخی واقعات اسی بات کے ثبوت میں پیش کیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شرارت کونے والوں کو جو ڈھیل دیتا ہے اس سے ان کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اب ان کی پکڑ نہیں ہوگی یا وہ خدا کے قابو سے باہر ہیں۔ اس سلسلہ میں اقوام میں سے قوم شعیب اور عاد وثمود کا حوالہ دیا ہے اور جبار و سرکش افراد میں سے قارون، فرعون اور ہامان کا اور قریش کو متنیہ کیا ہے کہ جو زور و اقتدار آج تم کو اور تمہارے لیڈروں کو حاصل ہے اس سے زیادہ زور و اقتدار ماضی میں ان کو حاصل رہ چکا ہے لیکن جب انہوں نے سرکشی کی اور ہماری تنبیہات کے باوجود باز نہی آئے تو ہم نے ان کو پکڑا اور اس طرح پکڑا کہ ان کا سرا زور و زر ہمارے مقابل میں ذرا بھی ان کے کام نہ آسکا۔ قوم شعیب کے متعلق پیچھے واضح ہوچکا ہے کہ اس قوم نے تجارت کے میدان میں بڑی ترقی کی تھی۔ یہی اصل میدان قریش کا بھی تھا۔ اس لئے کہ یہ بھی تجارت پیشہ تھے لیکن ابھی یہ ان کے مرتبہ کو نہیں پہنچے تھے۔ شاید اسی اشتراک کی وجہ سے انہی کے حالات اور انجام کی طرف سب سے پہلے توجہ دلائی۔ فرمایا کہ اہل مدین کے حالات سے سبق لو جن کی طرف ہم نے شعیب ؑ کو رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے ان کو خدا کی بندگی کی دعوت دی اور آخرت کا خوف دلا کر متنبہ کیا کہ دنیا میں بڑھو اور پھیلو تو مفسد بن کر نہ پھیلو بلکہ مصلح اور حق و عدل کے علم بردار بن کر پھیلو، لیکن انہوں نے حضرت شعیب ؑ کی ایک بات بھی نہ سنی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے عین ان کے دورعروج میں ان کو پکڑا اور ایسا عذاب ان پر آیا کہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ سورة ھود کی آیت 85 کے تحت ان کے فساد فی الارض اور آیت 94 کے تحت ان کے عذاب کی تفصیل گزر چکی ہے۔
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کو بھی ہم نے ہلاک کردیا۔ اور تم پر ان کی بستیوں کے نشان واضح ہیں۔ اور شیطان نے ان کے مشاغل ان کی نگاہوں میں کھبا دیے اور اس طرح ان کو صحیح راہ سے روک دیا، حالانکہ وہ بڑے ہی ہوشیار لوگ تھے۔

وعاد و ثمودا وقد تبین لکم من مسکنھم قف وزین لھم الشیطن اعمالھم حصدھم عن السبیل وکانوا مستبصرین (38) یہاں فعل اخذنا بربنائے قرینی مخدوف ہے، یعنی ہم نے عادو ثمود کو بھی اس سے پہلے عذاب میں پکڑا۔ ان قوموں کی تمدنی و تعمیری ترقیوں کا ذکر پچھی سورتوں میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ وقد تبین لکم من سمکنھم یہ قریش کو توجہ دلائی گئی ہے کہ قوم لوط کی طرح ان کی بستیوں کے آثار بھی تم سے مخفی نہیں ہیں، تم اپنے تجارتی سفروں میں ان کے کھنڈروں پر سے گزرتے ہو اور اندازہ کرسکتے ہو کہ ماضی میں وہ کس شان و شوکت کے مالک تھے، لیکن اب ان کے کھنڈروں کے سوا ان کی کہانی سنانے والا روئے زمین پر کوئی باقی نہیں رہا۔ وکانو مستبصرین یعنی یوں تو وہ بڑے کارواں، بڑے زیرک وہوشیار و تعمیر و تمدن اور حکومت و سیاست میں بڑے ماہر و چالاک تھے، لیکن ان کی یہ چالاکی و ہوشیاری ان کو شیطان کے پھندوں سے نہ بچا سکی۔ اس نے ان کے دنیوی انہماک کو اس طرح ان کی نگاہوں میں کھبا دیا کہ ان کی آنکھیں خدا اور آخرت کی طرف سے بالکل بند ہوگئیں جس کا نتیجہ بالآکر یہ نکلا کہ اصل شاہراہ سے وہ بالکل منحرف ہوگئے اور ہلاکت کے کھڈ میں جا گرے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ مجرد سائنس اور تمدن و تعمیر میں کسی قوم کا عروج اس بات کی شہادت نہیں ہے کہ وہ زندگی کی صحیح شاہراہ پر گامزن ہے، جیسا کہ عام طور پر بےبصیرت لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی ایک آنکھ کھلی ہوئی ہے جو اس دنیا کو دیکھتی ہے لیکن دوسری آنکھ جو اس دنیا کی پس پردہ حقیقتوں کو دیکھتی ہے اگر وہ کھلی ہوئی نہ ہو تو تمام علم و سائنس کے باوجود شیطان اس کو ہلاکت کے ایسے کھڈ میں گراتا ہے جس سے اس کو کبھی نکلتا نصیب نہیں ہوتا۔
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون و فرعون اور ہامان کو بھی ہم نے ہلاک کردیا اور موسیٰ ان کے پاس کھلی کلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے ملک میں گھمنڈ کیا اور وہ ہمارے قابو سے باہر نکل جانے والے نہ بن سکے۔

وقارون وفرعون وھامن تف ولقد جاء ھم موسیٰ بالبینت فاستکبروا فی الارض وما کانوا سبقین (39) یہ نام بھی اس فعل مخدوف کے تحت ہیں جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ گزرا۔ اقوام کے ذکر کے بعد تاریخ کے بعض نمایاں متکبرین۔ قارون، فرعون اور ہامان۔ کا ذکر فرمایا ہے۔ ان تینوں کا ذکر تفصیل سے پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے۔ سورة قصص میں ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی قوم میں جو حیثیت قارون کی تھی آنحضرت ﷺ کی قوم میں اس سی ملتی جلتی حیثیت ابو لہب کی تھی۔ اس وجہ سے یہ محض ماضی کے اشخاص کا حوالہ نہیں ہے بلکہ قریش کے سامنے یہ ایک آئینہ رکھا گیا ہے جس میں ان کے لیڈر اپنی اپنی شکلیں بڑی آسانی سے پہنچان سکتے تھے۔ فرمایا کہ ان کو بھی موسیٰ ؑ نے بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں لیکن ان کی آنکھوں پر غرور کی ایسی ایسی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں کہ کوئی نشانی بھی ان کو کھولنے میں کارگر نہ ہوسکی۔ یہاں تک کہ خدا کے عذاب نے ان کو آدبوچا۔ وما کانو اسبقین میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جو آیت 3 میں بیان ہوئی۔ یعنی جب وہ ہمارے عذاب کی گرفت میں آگئے تو اپنے تمام طمطراق، اور اپنے تمام لائو لشکر اور اپنی ساری دولت و حشمت کے باوجود ہماری گرفت سے باہر نہ نکل سکے۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

پس ہم نے ان میں سے ہر ایک کو اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑا۔ ان میں سے بعض پر ہم نے گردباد کا طوفان بھیجا۔ اور ان میں سے بعض کو کڑک نے آپکڑا۔ اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے غرق کردیا اور اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔

فکلا اخذنا بذنبہ ج فمنھم من ارسلتا علیہ حاصبا ج ومنھم من اخذتہ الصیعۃ، ومنھم من خسفنا بہ الارض ج ومھم من اغرقنا ج وما کان اللہ لیظلمھم ولکن کانو انفسھم یظلمون (40) اب یہ آخر میں بطور خلاصہ مذکورہ بالاتمام اقوام و افراد کا انجام یکجا بیان فرمادیا کہ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے اس کے جُرم کی پاداش میں پکڑا۔ کسی پر ہم نے حاصب (کنکر پتھر برسا دینے والی طوفانی ہوا) بھجی، کسی پر رعدو برق کا عذاب بھیجا، کسی کو زمین سمیت دھنسا دیا اور کسی کو غرق کردیا۔ پچھلی سورتوں میں ان تمام عذابوں کی تفصیل گزر چکی ہے۔ قوم لوط پر حاصب کا عذاب آیا۔ عاد، ثمود، مدین پر صیحہ کا عذاب نازل ہوا۔ قارون زمین میں دھنسا دیا گیا۔ فرعون اور ہامان غرق کردئیے گئے۔ وما کان اللہ لیظلمھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون۔ یعنی یہ جو کچھ ہوا خدا کی طرف سے ان پر کوئی ظلم نہیں ہوا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو اچھی طرح آگاہ کردیا گیا تھا لیکن انہوں نے اللہ کے رسولوں کی کوئی پروا نہ کی۔ 4۔ آگے کا مضمون۔ آیت ٍ 4۔ 69 آگے خاتمہ سورة کی آیت ہیں جن میں بالترتیب مندرجہ ذیل باتیں واضح فرمائی گئی ہیں۔ مشرکین نے شرک کی اساس پر جو گھروندا بنایا ہے، اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اس کی حیثیت مکڑی کے جالے کی ہے۔ اگر اس کے بل پر انہوں نے حق کا مقابلہ کرنا چاہا ہے تو انہوں نے نہایت کمزور سہارا ڈھونڈا ہے۔ یہ سہارا نہ دنیا میں ان کے کام انے والا بنے گا نہ آخرت میں۔ اہلِ ایمان اطمینان رکھیں کہ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ کسی کھنڈرے کا کھیل نہیں ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا عدل ایک دن ظاہر ہو کے رہے گا۔ اہلِ ایمان صبر کے ساتھ اس عدل کے ظہور کا انتظار کریں، دعوتِ حق کے کام میں لگے رہیں اور نما زکا اہتمام رکھیں، نماز تمام برائیوں سے محفوظ رکھنے والی اور اللہ تعالیٰ کی یاد بہت بڑی طاقت ہے۔ اہلِ کتاب کے متعلق مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ اگر وہ مشرکین کے پہلو پر ہو کر تم سے بحث و مناظرہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، تو جہاں تک ان کے اشرار کا تعلق ہے ان کو تو منہ نہ لگائو البتہ ان کے اندر جو معقول لوگ ہیں ان کو حسن و خوبی کے ساتھ اس قدر مشترک کی اساس پر دعوت دو جو ان کے اور تمہارے درمیان موجود ہے۔ اسی ضمن میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کے بعض دلائل کی طرف اشارہ اور مخالفقین کے بعض مطالبات کا جواب۔ ان مسلمانوں کو ہجرت کی ترغیب جو کفار کے ہاتھوں مصائب کے ہدف بنے ہوئے تھے اور ہجرت کرنے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ تعالیٰ کی جو مدد اور کفالت حاصل ہوتی ہے اس کی بشارت۔ آخر میں مشرکین قریش کو نہایت سخت، الفاظ میں تہدید و وعید کہ قرآن کے خلاف ان کی تمام محاذ آرائی خود ان کے اپنے مسلمات کے خلاف ہے۔ یہ نہایت ناشکرے اور ناہنجر لوگ ہیں۔ ان کو جو نعمتیں حاصل ہوئیں وہ ہیں تو تمام تر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ لیکن یہ ان کو منسوب دوسروں کی طرف کرتے اور ان کو خدا کا شریک بناتے ہیں۔ یہ لوگ عنقریب اپنی اس ناشکری کا انجام دیکھیں گے اور جو لوگ آج اللہ کے کلمہ کی سر بلندی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے اپنی راہیں فراخ کرے گا۔ اس روشنی میں آیت کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 29:41

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

ان لوگوں کی تمثیل جنہوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنائے ہیں بالکل مکڑی کی تمثیل ہے جس نے ایک گھر بنایا۔ اور بیشک تمام گھروں سے بودا گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے۔ کاش کہ وہ اس حقیقت کو جانتے !

5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت مثل الذین اتحذوا من دون اللہ اولیاء لمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لوکانوا یعلمون (41) اوپر کے بیان کردہ تاریخی حقائق سے یہ ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں بن سکتا۔ مشرکین نے خدا کے سوا جا سہارے ڈھونڈے تھے وہ سب جھوٹے ثابت ہوئے۔ اور یہ جس طرح اس دنیا میں جھوٹے ثابت ہوئے اسی طرح آخرت میں بھی جھوٹے ہوں گے۔ خدا کا قانون مجازات اور اس کا بےلاگ عدل لازماً ظہور میں آکے رہے گا اور جو اپنے فرضی دیوتائوں کی سفارش پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں ان پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ جس سہارے کو انہوں نے قلعہ کی دیوار سمجھا اس کی حقیقت مکڑی کے جالے سے زیادہ نہیں تھی۔ اسی حقیقت کو یہاں تمثیل کی صورت میں سمجھایا ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں کا سہارا ڈھونڈنے والوں کی مثال مکڑی کی ہے جو اپنے بنے ہوئے جالے کو اپنے زعم میں بڑی سمجھتی ہے لیکن سب سے زیادہ بےثبات اور بودا گھر مکڑی ہی کا ہوتا ہے جو ہوا کے ایک جھونکے کی بھی تاب نہیں لاسکتا۔ لوکانوایعلمون یعنی اصل حقیقت تو یہ ظاہر کردی گئی ہے لیکن اس کا فائدہ تو جب ہے کہ یہ لوگ سمجھیں لیکن ان نادانوں میں اس حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت کہاں !
Ayah 29:42

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

بیشک اللہ اچھی طرح جانتا ہے ان چیزوں کو جن کو یہ اس کے سوا پکارتے ہیں اور وہ عزیز و حکیم ہے

اناللہ یعلم ما یدعون من دونہ من شی وھو العزیز الحکیم (42) یعنی کوئی یہ نہ خیال کرے کہ مشرکین کے دیویوں دیوتائوں کی یہ تمثیل ان کی مبالغہ آمیز تحقیر ہے۔ یہ تحقیر نہیں بلکہ اصل حقیقت کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ ان دیویوں دیوتائوں کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے۔ اچھی طرح واقف ہے کے اسلوب بیان میں جو طنز و تحقیر مضمر ہے وہ اصحابِ ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ یہ اسلوب ہماری زبان میں بھی معروف ہے۔ وھوا العزیز الحکیم ‘ یعنی یہ دیوی دیوتا اس خدا کے مقابل میں اپنے پچاریوں کے کیا کام آسکیں گے جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔ عزیز یعنی سب پر غالب اور سب کی رسائی سے بالاتر۔ ’ حکیم ‘ یعنی جس کا ہر کام عدل و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب خدا عزیز ہے تو کوئی دوسرا، خواہ اس کا مرتبہ کتناہی اونچا ہو اس کو اپنے زور و اثر سے دبا نہیں سکتا اور جب وہ حکم بھی ہے تو کوئی اس کے قانون مجازات و عدل کو باطل نہیں کرسکتا۔ تو جب یہ دیوی دیوتا نہ اس کو دبا سکتے اور نہ اس کے عدل پر سرِ مُو اثر انداز ہو سکتے تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں کہ نادان لوگ ان کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین اپنے معبودوں کے متعلق یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ خدا کے ہاں بڑا زور و اثر رکھنے والے ہیں اس وجہ سے یہ اپنی پرستش کرنے والوں کو، خواہ ان کے اعمال کچھ بھی ہوں، خدا کی پکڑ سے بچالیں گے۔ یہ عقیدہ خدا کے عزیزو حکیم ہونے کی نفی کرتا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ان دونوں صفتوں کی یاددہانی کرکے اس بےہودہ عقیدہ کی نفی کردی۔
Ayah 29:43

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور یہ تمثیلیں ہیں جن کو ہم لوگوں کے غور کرنے کے لئے بیان کرتے ہیں لیکن ان کو صرف اہل علم ہی سمجھتے ہیں۔

وتلک الامثال نضر بھا للناس ج وما یعقلھا الا العلمون (43) ’ امثال ‘ سے اشارہ ان تمام امثال و واقعات کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ یہ مثالیں ہم جو بیان کر رہے ہیں اس سے مقصود داستان سرائی نہیں ہے۔ ہم یہ اس لئے پیش کر رہے ہیں کہ لوگ ان پر غور کریں اور خود اپنی زندگیوں کے لئے ان سے سبق حاصل کریں۔ کوئی مثال جب کسی کے سامنے رکھی جاتی ہے تو اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر اس کو خود اس کا ماضی و مستقبل دکھا دیا جائے۔ لیکن دوسروں کی مثال سے خود اپنے لئے سبق حاصل کرنا ہر شخص کا کام نہیں ہے۔ یہ کام وہی لوگ کرتے ہیں جن کے اندر عقل و علم کی روشنی موجود ہو۔ یہاں ’ عالمون ‘ سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی فطری صلاحیتیں زندہ اور جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ ہر واقعہ سے سبق حاصل کرتے ہیں جس سے درجہ بدرجہ ان کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ برعکس اس کے جن کے اندر سبق آموزی و عبرت پذیری کی صلاحیت مردہ ہوجاتی ہے اور اول تو اس طرح کی چیزوں کی طرف دھیان ہی نہیں کرتے اس لئے کہ اس سے ان کی بےفکری میں خلل پڑتا ہے اور اگر کچھ توجہ کرتے بھی ہیں تو اس میں اپنے لئے کوئی درس تلاش نہیں کرتے بلکہ اس کو محض قصہ ماضی سمجھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی اصلطاح میں اصلی عام وہ لوگ نہیں ہیں جو اپنے اوپر کتابوں کا بوجھ لادے ہوئے ہیں بلکہ عالم وہ ہیں جو آفاق وانفس کی نشانیوں پر غور کرنے والے اور ان سے صحیح سبق حاصل کرنے والے ہیں۔
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں اور میں کو مقصد حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے ایمان والوں کے لئے۔

ؒ خلق اللہ السموات والارض بالحق ط ان فی ذلک لایۃ للمومنین (44) یعنی آسمانوں اور زمین کے نظام پر جو شخص بھی غور کرے گا اس پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ یہ دنیا نہ تو کسی خالق کے بغیر وجود میں آگئی ہے اور نہ یہ مختلف دیوتائوں کی کوئی بازی گاہ یا رزم گاہ ہے بلکہ یہ ایک علم و حکیم اور عزیز و مقتدر خالق نے ایک مقصد حق کے ساتھ اس کو وجود بخشا ہے اور یہ اپنے وجود سے شہادت دے رہی ہے کہ ایک دن آئے گا جب یہ مقصد حق سب کے سامنے آجائے گا۔ اس دن اس کے خالق کا کامل عدل ظاہر ہوگا اور باطل باطل نابود ہوجائے گا۔ جو لوگ اس دنیا کو ایک بازی گاہ سمجھ کر زندگی بطالت میں گزار رہے ہیں وہ اپنی اس بےفکری کے انجام سے دو چارہوں گے اور جو لوگ آنکھیں کھول کر زندگی بسر کریں گے وہ خالق کی ابدی خوشنودی کے حق دار ٹھہریں گے۔ ویتفکرون فی خلق السموات والارض ربنا فی خلقت ھذا باطلاج الایۃ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ ان فی ذلک لایۃ للمومنین ‘۔ ’ ایۃ ‘ کی تنکیر تضخیم شان کے لئے ہے ‘ یعنی اس میں اہل ایمان کے لئے بہٹ بڑی نشانی ہے۔ اس نشانی کے مختلف پہلو مختلف مقامات میں واضح کیے جاچکے ہیں، اس وجہ سے یہاں ہم صرف اجمالی اشارات پر اکتفا کریں گے۔ اس میں سب سے بڑی نشانی تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک روز جزاء و سزا کے ظہور کی ہے۔ یہ دنیا اپنے وجود سے شہدت دے رہی ہے کہ اس کا خالق حکیم ہے، اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں اس کا کامل عدل و حق ظاہر ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دینا محض کسی کھلنڈرے کا ایک کھیل ہے اور یہ بات اس عظیم خالق کی شان کے بالکل منافی ہے جس کی قدرت، حکمت اور رحمت اس دنیا کے ہر گوشے سے نمایاں ہے۔ دوسری نشانی اس میں اس بات کی ہے کہ اس دنیا میں انجام کے اعتبار سے کامیاب زندگی وہی ہے جو آخرت کو نصب العین بنا کر گزاری جائے اس لئے کہ ابدی کامیابی اور ابدی ناکامی کا فیصلہ وہیں ہونا ہے۔ یہ دنیا آخرت کے بغیر ناتمام ہے۔ اس کی تکمیل آخرت میں ہوگی جب کہ اس کی پیدائش کا اصلی مقصد ظہور میں آئے گا۔ یہ چیز اس بات کی متقاضی ہے کہ ہر چیز کے خیر و شر کا فیصلہ اس کے اخروی نتائج کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔ ہر سکتا ہے بلکہ ہمیشہ ہوا ہے کہا حق کی راہ میں اہل حق کو نہایت زہرہ گداز مصائب سے سابقہ پیش آیا ہے لیکن ان مصائب سے گھبرا کر حق سے انحراف جائز نہیں ہے اس لئے کہ یہ مصائب اپنے نتائج کے لحاظ سے نہایت خوش آئند ہیں۔ تیسری نشانی اس میں اس بات کی ہے کہ شرک و شفاعت کا نظریہ بالکل باطل ہے اس لئے کہ یہ نظریہ اس کائنات کے ’ بالحق ‘ ہونے کی بالکل نفی کردیتا ہے۔ اگر اس کائنات میں ایسے شر کاء و شفعاء کا وجود مان لیا جائے جو اپنے زور یا اثر سے کسی حق کو باطل یا باطل کو حق بنا سکتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ کائنات بالحق نہیں ہے بلکہ ایک اندھیر نگری ہے۔ اس ٹکڑے کی مزید وضاحت آگے سورة روم کی آیت 8 کے تحت آئے گی۔ یہاں ان اشارات پر اکتفا فرمائے۔
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

جو کتاب تم پر وحی کی جار ہی ہے اس کو پڑھو اور نماز کا اہتمام کرو۔ بیشک نماز بےحیائی اور منکر سے روکتی ہے اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوۃ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر ط ولذکر اللہ اکبر ط واللہ یعلم ماتصنعون (45) یہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ تم یہ قرآن لوگوں کو سناء اور اسی کے ذریعہ سے لوگوں کو دعوت دو۔ اگر مخالفین ان نشانیوں اور دلائل کی طرف توجہ نہیں کرتے جن کی طرف قرآن ان کو توجہ دلا رہا ہے، بلکہ معجزے یا عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو ان کے ان مطالبات کی کوئی پروانہ کرو۔ قرآن ان کے لئے ایک عظیم رحمت ہے۔ اگر وہ اس کی قدر نہیں کریں گے تو اس کا انجام خود بھگتیں گے۔ ’ واقم الصلوۃ ط ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر۔ یعنی اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لئے نما زکا اہتمام کرو۔ اس خاص مرحلے میں نماز کے اہتمام کی یہ تاکید، قرینہ دلیل ہے کہ عام نماز کے ساتھ اس خاص نماز کے لئے ہے جس کی ہدایت صبرو استقامت کے حصول کے لئے نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کو فرمائی گئی تھی اور جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ اس کتاب میں جگہ جگہ گزر چکا ہے۔ یہاں دو باتوں کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ ایک تلاوتِ وحی کی، دوسری اہتمام نماز کی۔ پہلی چیز کا تعلق عام تبلیغ و دعوت سے ہے اور دوسری چیز کا تعلق مسلمانوں کی جماعتی زندگی کی تربیت و اصلاح سے۔ آیت کے اسلوب سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ گویا نبی ﷺ کو یہ تلقین فرمائی جا رہی ہے کہ جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے ان کے نت نئے مطالبات کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، جو وحی تم پر کی جار ہی ہے وہ لوگوں کو پہنچا دو ، وہ اس کی قدر کریں یا نہ کریں۔ تمہارے اوپر اصل ذمہ داری اس وحی کو پہنچا دینے کی ہے۔ اس سے آگے تمہارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ رہے وہ لوگ جو تمہاری دعوت قبول کرچکے ہیں تو ان کی تربیت کے لئے نماز کا اہتمام کرو۔ یہی چیز ان کو ان مفاسد سے پاک کرے گی جو پچھلی قوموں کی تباہی کا باعث ہوئے اور اسی سے ان کے اندر وہ قوت وہمت پیدا ہوگی جو مشکلات و مصائب کے علی الرغم ان کو ایک صالح معاشرہ کی ذمہ داریاں اٹھانے کا اہل بنائے گی۔ یہاں اس نماز کے دو اثرات بیان ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔ (ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر) اور دوسرا یہ کہ نماز اللہ کی یاد ہے اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے (ولذکر اللہ اکبر) نماز کے یہ دونوں پہلو کسی قدر وضاحت کے محتاج ہیں۔ ’ فحشاء اور منکر ‘ کے دو لفظوں نے اخلاقی مفاسد کے تمام پہلو اندر سمیٹ لیے ہیں۔ بہت سی برائیاں ایسی ہیں جو شہوانی جذبات کی بےاعتدالی یا ان کے انحراف سے و جود میں آتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اس طرح سے حیا بنا دیتی ہیں کہ لوگوں کے اندر سے بےحیائی کا احساس ہی مٹ جاتا ہے۔ ماضی کی قوموں میں سے اس کی مثال کے طور پر قرآن نے قوم لوط کا ذکر کیا ہے۔ حضرت لوط ؑ نے اپنی قوم کی بےحیائی کے لئے فاحشۃ کا لفظ استعمال بھی فرمایا ہے۔ اس زمانے میں جدید فکر و فلسفہ اور نئی تہذیب کی برکت سے بےحیائی و فحاشی کی جو نت نئی شکلیں وجود میں آئی ہیں اور برابر آرہی ہیں ان کے مقاب میں قوم لوط کی بےحیائی بالکل گرد ہو کر رہ گئی ہے اور جن لوگوں کی نظر حالات پر ہے وہ جانتے ہیں کہ اب ہمارا معاشرہ بھی پوری طرح ان کے لپیٹ میں آچکا ہے اور آہستہ آہستہ لوگوں کا ضمیرا اس طرح مردہ ہوتا جا رہا ہے کہ ہماری قوم کا بہت بڑا طبقہ، جو ہماری بدقسمی سے تعلیم یافتہ بھی کہلاتا ہے، ان بےحیائیوں کو بےحیائی سمجھنا تو درکنار ان کو تہذیب و ترقی کا لازمہ سمجھنے لگا ہے اور جو لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں ان کو احمق اور دقیانوسی قرار دیتا ہے۔ دوسری برائیاں وہ ہیں جو طمع و حرص کی بےاعتدالی اور حبِ مال و جاہ کی زیادتی سے ظہور میں آتی ہیں۔ ان کے لئے یہاں لفظ منکر استعمال ہوا ہے۔ یہ فلظ معروف کا ضد ہے اس وجہ سے وہ تمام برائیاں اس میں شامل ہیں جو ایک صالح معاشرہ کی پاکیزہ روایات اور اس کے معروف مسلمات کے خلاف ہوں۔ پچھی قوموں میں سے قوم عاد وثمود کے تمدنی مفاسد اور قوم شعیب کے معاشی فساد کا ذکر قرآن نے اس کی مثال کے طور پر کیا ہے اور اس زمانے میں معاشرت و معشیت کا یہ فساد زندگی کے ہر شعبہ میں جس طرح چھا چکا ہے اس کے متعلق یہ کہنا شاید بےجا نہ ہو کہ ماضی کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ یہاں معروف و منکر سے متعلق ان اشارات پر قناعت فرمائیے۔ آگے سورة رو کی آیت 31۔ 40 اور سورة لقمان کی آیت 17 کے تحت اس پر مفصل بحث انشاء اللہ آئے گی۔ فرمایا کہ نماز ان تمام برائیوں سے روکتی ہے۔ روکتی ہے، یعنی نما زکی حیثیت ایک نہایت موثر واعظ و زاجر کی ہے۔ جو لوگ نماز اس کے آداب و شرائط کے ساتھ ادا کرتے ہیں، خواہ خلوت کی نماز ہو یا جلوت کی، ان کی نماز اپنے ظاہر و باطن دونوں سے، ان کو ان حقائق کی یاد دہانی کرتی رہتی ہے جن کی یاددہانی زندگی کو صحیح شاہراہ پر قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ خاص طور پر خلوت کی نمازیں انسان کی زندگی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا تو اس کی مثال اس ڈرائیور کی ہے جو اپنی زندگی کی گاڑی پوری رفتار سے چلا تو رہا ہے لیکن اس کی رہنمائی کے لے داہنے بائیں جو نشانات اس کو صحیح راہ بتانے اور خطرات سے آگاہ کرنے کے لئے لگے ہوئے ہیں ان سے وہ بالکل بےپروا اور بیخبر ہے۔ ایسا ڈرائیور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اپنی گاڑی کس کھڈ میں گرائے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ اثرات اس نما ز کے بیان ہو رہے ہیں جو صحیح تذکر اور اخلاص کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔ اگر کسی نماز کے اندر یہ اثرا مفقود ہوں تو لازماً وہ یا تو صحیح تذکر سے خالی ہے یا اخلاص سے۔ یعنی یا تو نماز پڑھنے والا اپنی نماز کے مفنی مفہوم سے بالکل بیخبر ہے، اس کو کچھ معلوم نہیں کہ نماز میں اس نے کس چیز کا اقرار اور کس بات کا انکار کیا ہے یا یہ کہ اس نے محض دوسروں کو دکھانے کے لئے ریاکاری (ایکٹنگ) کی ہے۔ ’ ولذ کر اللہ کبر ‘۔ یہ نماز کے دوسرے پہلو کی طرف اشارہ ہے اور دو لفظوں کے اندر معانی کا ایک جہاں پوشیدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نازک موقع پر جماعت کے اندر عزم و حوصلہ اور قوت و استقامات پیدا کرنے کے لئے نماز کے اہتمام کی جو تاکید کی جا رہی ہے اس کو کوئی معمولی بات یا محض طفل تسلی نہ تصور کرے۔ اس سوئے ظن میں نہ مبتلا ہو کر بھلا نماز جماعت کی تنظیم وتقویت میں کیا موثر ہوسکتی ہے ! حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے۔ اسی سے انسان کے دل کو حقیقی طمانیت و سکنیت حاصل ہوتی ہے۔ ’ الابذکر اللہ تطمئن القلوب (اچھی طرح سُن لو کہ دلوں کا طمانیت اللہ کی یاد سے حاصل ہوتی ہے) اور دل ہی انسان کے اندر وہ چیز ہے جو تمام عزم و حوصلہ کا منبع ہے۔ اگر دل مضبوط ہے تو انسان سے زیادہ طاقت ور کوئی چیز نہیں اور اگر دل کمزور ہے تو انسان سے زیادہ ناتوان کوئی شے نہیں اور دل کی قوت دینے والی اصلی چیز خدا کی یاد ہے جس کی سب سے زیادہ بہتر جامع اور موثر شکل نماز ہے۔ یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ یہاں زیر بحث دل کی وہ طمانیت و سکنیت ہے جو انسان کے اندر وہ عزم و حوصلہ پیدا کرتی ہے کہ جو اس کی خدا کے سوا ہر خوف اور ہر طمع سے بےپروا کردیتی ہے۔ یہی وہ اصلی فتوت اور حقیقی شجاعت و بسالت ہے جو ایمان اور خدا کی یاد سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ شجاعت اس تہور سے بالکل مختلف چیز ہے جا مایوسی یا جذبہ انتقام، یا خوف یا ناموری کی خواہش یا ناعاقبت اندیشی سے ظہور میں آتا ہے۔ جو لوگ شجاعت اور تہور کے اس فرق سے واقف نہیں ہیں وہ ایک مومن کی شجاعت اور ایک کافر کے تہور کو ایک ہی نوعیت کی چیز سمجھتے ہیں حالانکہ دونوں کے نفسیاتی محرکات بھی الگ الگ ہوتے ہیں اور اس دنیا میں دونوں کے اثرات بھی دو بالکل مختلف شکلوں میں ظاہر وہتے ہیں۔ ایک کا منبع ایمان اور اللہ کی یاد ہے اور دوسرے کا منبع ان نفسیاتی محرکات میں سے کوئی محرک ہوتا ہے جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ اس وجہ سے ایک کی شجاعت سے دنیا میں اس طرح کی برکت و رحمت ظہور میں آتی ہے جس طرح کی رحمت و برکت حضرت عمر ؓ اور حضرت خالد کی شجاعت سے ظہور میں آئی اور دوسرے کے تہور سے اس قسم کا شرو فساد ظہور میں آتا ہے جس قسم کا شرو فساد ہٹلر اور مسولینی اور اس قبیل کے دوسرے متہورین کے ہاتھوں ظہور میں آیا۔ ’ واللہ یعلم ما تمنعون ‘ یہ مسلمانوں کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ اپنی تربیت اور دوسروں کی اصلاح کے لئے جو جدوجہد بھی تم کر رہے ہو یا کرو گے اللہ اس سے اچھی طرح واقف ہے تو جب وہ واقف ہے تو اس پر پورا بھروسہ رکھو کہ وہ تمہاری کوئی محنت خواہ وہ شب کی خلوتوں میں ہو یا دن کی جلوتوں میں، ضائع نہیں جانے دے گا بلکہ تم اپنی ہر کوشش کا بھرپور صلہ پائو گے۔ یہاں یہ ملحوظ رہے کہ اوپر کے ٹکڑے میں خطاب بصیغہ واحد ہے اور اس ٹکڑے میں جمع کا صیغہ آگیا ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ اوپر کا خطاب آنحضرت ﷺ سے بحیثیت امت کے وکیل کے ہے۔ اصلاً وہ خطاب بھی تمام امت سے ہے اس لئے کہ دعوت اور تربیت کی ذمہ داری جس طرح آنحضرت ﷺ پر تھی اسی طرح دوسرے مسلمانوں پر بھی تھی لیکن واحد کے خطاب سے یہ بات نکلتی ہے کہ پیغمبر کو تو یہ فرض بہرحال ادا کرنا ہے، خواہ دوسرے اس کو ادا کریں یا نہ کرین وہ ادا کریں گے تو اپنی ایک ایک محنت کا اجر پائیں گے اور اگر نہیں کریں گے تو خدا اور اس کے رسول کا کچھ نہیں بگاڑیں گے بلکہ اپنی ہی محرومی کا سامان کریں گے۔
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اہل ِ کتاب سے نہ بحث کرو مگر اس طریقہ جو بہتر ہے بجز ان کے جوان میں سے ظالم ہیں اور کہو کہ ہم ایمان لائے اس چیز پر جو ہم پر نازل ہوئی اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف اتاری گئی اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کی فرماں برداری کرنے والے ہیں۔

ولا تجادلوا اھل الکبت الا بالتی ھی احسن ق الا الذین ظلموا منھم وتولا امنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم وانھنا وانھک وحدونحن لہ مسلمون (46) دعوت کے اس دور میں، جو اس سورة میں زیر بحث ہے، اہلِ کتاب بھی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اس وجہ سے جس طرح اوپر والی آیت میں ان لوگوں کے باب میں دعوت کا طریقہ واضح کردیا گیا جو قرآن کی صداقت تسلیم کرنے کے لئے معجزات کے طالب تھے اسی طرح یہاں چند آیات میں اس طریقہ کی وضاحت فرما دی گئی جو اہل کتاب کے ساتھ بحث و استدلال میں مسلمانوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ اہل کتاب کی اس خصوصیات کی وجہ آگے کی آیات سے خود واضح ہوجائے گی کہ ان کی دینی حیثیت بھی مشرکین عرب سے بالکل مختلف تھی اور ان کے شبہات و اعتراضات بھی ذرا مختلف نوعیت کے تھے۔ یہ پڑھے لکھے جنا تھے اس وجہ سے ضروری ہوا کہ ان سے نمٹنے کے لئے مسلمانوں کو ضروری ہدایات پہلے سے دے دی جائیں۔ فرمایا کہ اہل کتاب سے بحث و استدلال کی نوبت آئے تو ان سے صرف احسن طریقہ سے بحث و استدلال کو ’ مجادلہ ‘ یہاں اچھے معنوں یعنی بحث و استدلال اور حجت کے مفہوم میں ہے۔ اور طریقہ احسن کی وضاحت اسی آیت کے آگے والے ٹکڑے میں آگئی ہے کہ تمہارے اور ان کے درمیان دین کے جو مشترک اقدار میں ان کو بنیاد قرار دے کر ان سے مطالبہ کرو کہ وہ بھی ان مشترک اقدار اور ان کے لوازم کو تسلیم کریں اور اپنی مانی ہوئی باتوں کی خود اپنے منہ سے تردید نہ کریں۔ اس طریقہ بحث سے ان کی انانیت کو ٹھیس نہیں لگے گی۔ ان میں جو سلیم الطبع ہوں گے وہ تمہاری باتوں پر غور کریں گے اور کیا عجب کہ ان میں سے کچھ ایسے نفوس بھی نکل آئیں جو حق کو قبول کرلیں۔ الا الذین ظلموا منھم۔ عام طور پر لوگوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ اہل کتاب میں سے جو شریر اور مناظرہ باز ہیں ان کے ساتھ طریق احسن کی پابندی ضروری نہیں ہے، ان کو ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے لیکن میرے نزدیک یہ استثنائے منقطع ہے، اس وجہ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رہے وہ جو ان میں سے شریر اور مناظرہ باز ہیں تو ان کو سرے سے منہ ہی نہ لگائو۔ قرآن کے نظائر سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ قرآن جگہ جگہ آنحضرت ﷺ کو ضدی اور کج فہم مناظرہ بازوں اور کٹ حجتی کرنے والوں سے اعراض کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سورة کہف میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ جو ہٹ دھرم بات سمجھنی نہیں چاہتے ان سے اول تو تعرض ہی نہ کرو اور اگر کبھی بحث کی نوبت آہی جائے تو بات ٹالے (مراء ظاہر) کے انداز میں گفتگو کرو۔ حضرات انبیاء علیھم السلام اور صالحین کا طریقہ بحث و دعوت ہمیشہ یہی رہا ہے اور یہی طریقہ خیر و برکت کا طریقہ ہے۔ شریروں اور کج فہموں کے جواب میں انہیں کی سی روش اختیار کرلینا اور الزام کا جواب الزام اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینا نہ انبیاء (علیہم السلام) کا طریقہ ہے اور نہ اس میں کوئی خیرو برکت ہے۔ ’ وقولو امنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم والھنا والھکم واحد و نحن لہ مسلمون۔ یہ اس احسن طریقہ بحث و دعوت کی وضاحت ہے کہ تمہارے اور ان کے درمیان قدر مشترک موجود ہے اس وجہ سے اس قدر مشترک کو بنیاد بنا کر ان کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دو۔ ان سے کہو کہ ہم اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر اتری ہے اور اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر اتری ہے۔ ہم جس کتاب پر ایمان لائے ہیں وہ تمہاری کتابوں کی مکذب نہیں بلکہ ان کی مصدق ہے۔ تمہاری کتابوں میں آخری نبی اور کتاب ِ کامل سے متعلق جو پشین گوئیاں تھیں وہ اپنے مصداق کے ظہور کی منتظر تھیں اس کتاب سے وہ مصداق ظہور میں آگیا تو ہم تمام اگلے انبیاء اور صحیفوں پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ اگر تم بھی صحیح روش اختیار کرو تو تمہیں اس رسول اور اس کتاب سے چڑنے کے بجائے ان کا خیر مقدم کرنا چاہیے جن کے ظہور سے سب سے زیادہ تمہارا سراونچا ہوا ہے اس لئے کہ ان کی بشارت اپنے صحیفوں کے واسطے سے تمہی نے دنیا کو سنائی تھی۔ اب اگر ضد میں آکر تم نے انکار کیا تو تم خود اپنے کو اور اپنے صحیفوں کو جھٹلائو گے درآنحالیکہ ہم تمہارے صحیفوں کی تصدیق و تائید کررہے ہیں۔ اسی طرح ان کو کامل توحید کی بھی دعوت اور ان سے کہو کہ ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ اس مسئلہ میں ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی اصولی نزاع نہیں ہے۔ تورات و انجیل اور دوسرے تمام صحائف توحید کی تعلیم سے معمور ہیں۔ بس ہم میں اور تم میں اگر کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ جو باتیں اس مسلم حقیت کے خلاف ہیں ہم نے ان کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اپنے ایک ہی رب کے حوالہ کردیا ہے۔ اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم توحید کے بھی مدعی ہو اور ساتھ ہی تم نے اپنے اندر ایسی باتیں بھی جمع کر رکھی ہیں جو اس عقیدے سے صریحاً متناقض ہیں تو ہماری دعوت تمہارے لیے یہ ہے کہ جس طرح ہم نے اپنے آپ کو کلیتہ اپنے ایک ہی رب کے حوالے کردیا ہے اسی طرح تم بھی اپنا یہ تناقض دور کر کے مسلم بن جائو۔
Ayah 29:47

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی کتاب اتاری تو جن کو ہم نے کتاب عطا فرمائی ہے وہ اس پر یمان لائیں گے اور ان میں سے بعض اس پر ایمان لابھی رہے ہیں۔ اور ہماری آیت کا تو بس وہی انکار کرتے ہیں جو کٹر کافر ہیں۔

وکذلک انزلنا الیک الکتب ط فالذین اتینھم الکتب یومنون بہ ج و من ھولا من تو من بہ ط وما یجحد بایتنا الا الکفرون (47) ’ وکذلک انزلنا الیک الکتب ‘ یعنی دعوت کے اسی اصول پر جس کی طرف اوپر کی آیت میں اشارہ ہے ہم نے تم پر یہ کتاب اتاری ہے۔ یہ کتاب اس بات کی مدعی نہیں ہے کہ سب سے پہلے یہ باتیں اسی کتاب میں نازل ہوئیں بلکہ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں اور رسولوں نے اسی دین کی دعوت دی ہے جس کی دعوت یہ کتاب دے رہی ہے لیکن پچھلی امتوں نے یا تو اللہ کی اتاری ہوئی تعلیمات بھلا دیں یا ان میں اپنی ہوائے نفس کے مطابق تبدیلیاں کردیں اس طرح اللہ کا دین بالکل مسخ و محرف ہوگیا تھا۔ اب اللہ نے اپنے دین کو بالکل صحیح اور مکمل صورت میں اس کتاب اور اس رسول کے ذریعہ سے پھر دنیا میں اتارا ہے تاکہ خلق اللہ کی ہدایت سے محروم نہ رہے۔ ’ فالذی اتینھم الکتب یومنون بہ ‘۔ ہم پیچھے جگہ جگہ یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قرآن نے جہاں جہاں اہل کتاب کا ذکر معروف کے صیغے سے کیا ہے، جیسا کہ یہاں ہے، بالعموم اچھے معنون میں کیا ہے اس وجہ سے ’ اتینھم الکتب ‘ سے یہاں مراد عام اہل کتاب نہیں ہیں بلکہ ان کے اندر کے وہ لوگ ہیں جو اپنے علم کے حد تک تورات و انجیل پر قائم تھے۔ ان لوگوں کے بابت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بشارت دی کہ اگر ان کے آگے تم اس کتاب کو اس طرح پیش کرو گے جس طرح تمہیں ہدایت کی جاری ہے تو یہ صالحین اس کتاب پر ایمان لائیں گے۔ ’ ومن ھولاء من یومن بہ۔ یہاں ’ یومن بہ ‘ حال کے مفہوم میں ہے۔ فرمایا کہ اسی گروہ کے کچھ لوگ ہیں جن کو تم دیکھ رہے ہو کہ وہ ایمان لابھی رہے ہیں۔ اسی طرح دوسرے لوگ بھی جن کے اندر صلاحیت باقی ہے آہستہ آہست حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں گے۔ ’ وما یجعد بایتنا الا الکفرون ‘۔ یعنی ہماری آیات (قرآن) کا انکار تو ان اہل کتاب میں سے صرف وہی کری گے جو کٹے کافر ہیں یعنی جن کا ایمان نہ اپنی کتابوں اور اپنے نبیوں اور رسولوں پر ہے اور نہ وہ آئندہ کسی چیز پر ایمان لانے کے لئے تیار ہیں۔
Ayah 29:48

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تم تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اس کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ ایسا ہوتا تو یہ جھٹلانے والے میں میکھ نکالتے۔

وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلون (48) یہ اہل کتاب کو توجہ دلائی گی ہے کہ اگر وہ ضد اور انانیت سے کام نہ لیں تو تمہاری رسالت کی یہ دلیل ان کے لئے کافی ہے کہ ایک شخص جس نے نہ آسمانی صحیفوں میں سے کوئی صحیفہ پڑھا اور نہ جو لکھنے کے فن سے واقف ہے آخر اس کے اوپر یہ تمام علوم کہاں سے برس پڑے کہ اس نے نہ صرف تمام نبیوں کی تعلیم کو ازسر نو زندی کردیا بلکہ جو کسر انہوں نے چھوڑی تھی وہ بھی اس نے پوری کردی۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت کی یہ دلیل ہوں تو سب پر حجت ہے لیکن اہل کتاب پر یہ خاص طور پر حجت ہے اس لئے کہ وہ انبیاء سابقین کی تمام شریعت و حکتم کے وارث تھے۔ انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ حضرت نوح ؑ و حضرت ابراہیم ؑ سے لے کر حضرت موسیٰ و حضرت مسیح ؑ تک کے سارے خزائنِ حکتم ایک امّی پر کس طرح نازل ہوگئے۔ ’ اذ لارتاب المبطلون۔ ‘ یعنی اگر تم پڑھے لکھے ہوتے تب تو یہ جھٹلانے والے لوگ کوئی نہ کوئی لا یعنی بات شک پیدا کرنے والی بنا سکتے تھے۔ بصورتِ موجودہ ان کے لئے کوئی بات بتانے کا موقع تو ہے نہیں لیکن اب بھی اگر وہ شکوک پیدا کرتے ہیں تو ان کی شامت ہی ہے۔
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ تو کھلی ہوئی آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جن کو علم عطا ہوا ہے۔ اور ہماری آیات کا بس وہی لوگ انکار کر رہے ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔

یل ھو ایت بینت فی صدور، الذین اوتو العلم وما یجحد بایتنا الا الظلمون (49) یعنی اہل کتاب میں سے جن کے اندر دین کا صحیح علم ہے ان کے سینوں میں تو یہ قرآن نہایت واضح اور روشنی آیات کی شکل میں موجود ہے۔ وہ اس کی ہر بات کو اپنے ہی دل کی بات سمجھتے ہیں۔ ان کے لئے یہ ایک جانی پہنچائی ہوئی اور ایک موعود و منتظر چیز ہے۔ وہ اپنے نبیوں کی پیشن گوئیوں کی بنا پر اس کے لئے سراپا انتظار تھے۔ اور اب اس کو پاکر سمجھتے ہیں کہ گویا ان کو اپنی مطلوب و محبوب چیز مل گئی۔ قرآن مجید میں سچے اہل کتاب کے جذبات، قرآن اور آخری رسول سے متعلق، نہایت واضح الفاط میں نقل ہوئے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس طرح آخرت بعثت کے لئے چشم براہ تھے اور کس والہانہ جذبہ کے ساتھ انہوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ اس آیت میں بھی اجمال کے ساتھ اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ ’ وما یجحد بایتنا الا الظلمون ‘ میں وہی حقیقت دوسرے الفاظ میں واضح فرمائی گئی ہے جو اوپر آیت 47 میں بیان ہوچکی ہے۔ یعنی قرآن کی ان آیات کا انکار تو وہی کرتے ہیں جنہوں نے اللہ کے عطا کردہ علم کی ناقدری کرکے اپنے سینوں اور دلوں کو تاریک کرلیا ہے اور اس طرح خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے ہیں۔ یہاں ’ ظالمون ‘ سے وہی بدبخت لوگ مراد ہیں جن کا ذکر اوپر آیت 46 میں الا الذین ظلمو کے الفاظ سے ہوا ہے اور جن کے باب میں مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ ان سے کوئی امید نہ رکھی جائے۔ وہ بالکل ناقابلِ علاج ہیں۔ کوئی امید نہ رکھی جائے۔ وہ بالکل ناقابل علاج ہیں۔
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی جانب سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں ! کہہ دو ، نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔

وقالو الو لا انزل علیہ ایت من ربہ ط قل انما لایت عند اللہ ط وانما انا نذیر مبین (50) یہ اہلِ کتاب کا ایک اعتراض نقل کرکے اس کا جواب دیا ہے لیکن جواب کا انداز نہایت بےپروائی کا ہے، یہاں تک کہ ان کو مخاطب کرنا بھی پسند نہیں فرمایا ہے بلکہ پیغمبر ﷺ کو خطاب کرکے آپ کے واسطہ سے ان کو بات پہنچا دی ہے۔ اہل کتاب کا عام اعتراض نبی ﷺ پر اوّل اوّل یہی رہا ہے کہ اگر ہی اللہ کے رسول ہیں تو ان کو اس طرح کے معجزے کیوں نہیں عطا ہوئے جس طرح کے معجزے ہمارے نبیوں، خاص طور پر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو عطا ہوئے۔ یہ اعتراض وہ قریش کو اکسانے کے لئے اٹھاتے تھے۔ قریش کے لیڈران سے سوال کرتے کہ آپ لوگ نبوت و رسالت کے لوازم و خصوصیات سے خوب واقف ہیں تو ان نئے مدعی نبوت کے بارے میں آپ لوگوں کی رائے کیا ہے ؟ اس کے جواب میں وہ نہایت معصومانہ انداز میں یہ کہہ دیتے کہ ہم اور کچھ تو کہہ نہیں سکتے لیکن یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہیں تو آخر ان پر بھی اس طرح کے معجزے کیوں نہیں اتارے گئے جس طرح کے معجزے سابق نبیوں پر اتارے گئے ! اہل کتاب کے اس اعتراض سے چونکہ قریش کو ایک بہت بڑی تائید حاصل ہوجاتی اس وجہ سے وہ اس کو خوب پھیلاتے اور عوام کو آنحضرت ﷺ سے بدگمان کرتے قرآن نے یہاں اہل کتاب کے القا کردہ اس اعتراض کا جواب دیا ہے اور جواب میں اہل کتاب سے زیادہ قریش کو سامنے رکھا ہے اس لئے کہ اس قسم کے اعتراضات سے سب سے زیادہ انہی کو پہنچتا کہ وہ اپنے حاسدوں کے حسد کے شکار ہو کر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت سے محروم ہوجاتے۔ ’ قھل انما الایت عند اللہ ط وانما انا نذیر مبین۔ یہ اس اعتراض کا پہلا جواب ہے کہ نشانیوں اور معجزات کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ میں اس معاملے میں کوئی دخل نہیں رکھتا۔ وہ اگر چاہے گا تو کوئی نشانی دکھا دے گا اور نہیں چاہے گا تو نہیں دکھائے گا۔ میں تو صرف ایک نذیر مبین ہوں، مجھے حکم ہے کہ تمہیں آنے والے خطرات سے اچھی طرح آگاہ کردوں سو یہ فرض میں ادا کر رہا ہوں۔ باقی تمام امور اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ میں نے رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے، خدائی کا دعویٰ نہیں کیا ہے کہ تمہاری طلب کے مطابق معجزے دکھا دوں۔
Ayah 29:51

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان کے لئے یہ چیز کاف نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری وہ ان کو پڑھ کر سنائی جا رہی ہے۔ بیشک اس کے اندر رحمت اور یاددہانی ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں۔

اولم یکفھم انا انزلنا علیک الکتب یتلی علیھم ط ان میں زلک لرحمۃ وذکری لقوم یومنون (51) یہ دوسرا جواب ہے اور نہایت جامع ہے۔ فرمایا کہ کیا ان کے لئے تمہاری نبوت و رسالت کی یہ دلیل کافی نہیں ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر ایک کتاب اتاری ہے جو ان کو پڑھ کر سنائی جا رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب ایک پوری کتاب ان کو سنائی جا رہی ہے جو اپنے دعوے پر خود حجت ہے اور اس کا سنانے والا بھی سامنے موجود ہے تو اس عظیم نشانی کے ہوتے کسی اور نشانی کی ضرورت کہاں باقی رہی۔ ’ ان فی ذلک لرحمتہ و ذکری لقوم یومنون۔ ‘ یعنی یہ تو اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہوا ہے کہ کسی حسی معجزے یا کسی نشانی عذاب کے بجائے اس نے ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی۔ اگر وہ کسی حسی معجزہ دکھاتا تو وہ بہرحال ایک وقتی پمز ہوتا اور اگر کوئی نشانی عذاب دکھاتا تو وہ ایک آفت ہوئی اور معلوم نہیں وہ کس شک میں نمودار ہوتی۔ یہ تو اللہ کا بہت بڑا فضل ہوا ہے کہ اس نے ان پر کتاب اتاری جو ان کے واسطے ایک دائمی رحمت اور یاد دہانی ہے بشرطیکہ وہ اس کی قدر کریں اور اس پر ایمان لائیں۔ لفظ ’ ذکری ‘ پر ہم دوسری جگہ بحث کرچکے ہیں کہ قرآن درحقیقت انسان کو انہی حقائق کی یاد دہانی کرتا ہے جو خود اس کی عقل و فطرت کے اندر موجود ہیں لیکن وہ ان کو بھولا ہوا ہے۔ قرآن کی صداقت ثابت کرنے کے لئے کسی خارجی نشانی یا معجزے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ انسان قرآن کی رہنمائی میں اپنی فطرت کے خزانوں کا جائزہ لے۔ وہ خود پکار اٹھے گا کہ قرآن جو کچھ بتا رہا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔
Ayah 29:52

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے کافی ہے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ کا جنہوں نے انکار کیا وہی لوگ اصلی نامراد ہیں۔

قل کفی باللہ بینی و بینکم شھیدا ج یعلم ما فی السموت والارض ط والذین امنوا بالباطل و کفروا باللہ اولئک ھم الخسرون (52) مطب یہ ہے کہ ان لوگوں کی طرف سے یہ شبہات و اعتراضات جواُٹھائے جارہے ہیں یہ تو محض اوپری باتیں ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کے دل گواہی دے رہے ہیں کہ تم اللہ کے رسول ہو اور جو کچھ تم ان کو بتا رہے ہو حرف حرف ٹھیک ہے تو ایسے لوگوں سے زیادہ بحث و حجت کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو اور ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لئے کافی ہے کہ فی الحقیقت تم پر میری صداقت واضح نہیں ہوئی اس وجہ سے تم نے انکار کیا یا سب کچھ جان بوجھ کر محض اپنی مشخیت کی پاسداری میں تم نے میری تکذیب کی۔ اللہ آسمانوں اور زمین کے ہر بھید سے اچھی واقف ہے، وہ قیامت کے دن سارا راز کھول دے گا۔ البتہ یہ یادر رکھو کہ جو لوگ جان بوجھ کر باطل پر ایمان لائیں گے اور خدا کا انکار کریں گے وہی لوگ آخرت میں اصلی نامراد ہونے والے ہیں۔
Ayah 29:53

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں اور اگر اس کے لئے ایک مدت مقرر نہ ہوتی تو ان پر عذاب آدھمکتا۔ اور وہ ان کے اوپر اچانک آجائے گا اور ان کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی۔

ویستعجلوک بالعذاب ط ولولا احبل مسمی تجاھ ھم العذاب ط ولیا تینھم بغتۃ وھم لا یشعرون (53) اوپر جن نشانیوں کے مطالبے کا ذکر ہے ان میں خاص طور پر عذاب کی نشانی کے لئے قریش بہت مستعجل تھے۔ آنحضرت ﷺ جب قرآن کی تکذیب کی صورت میں ان کو عذاب سے ڈراتے تو اس سے ان کے پندار کو بڑی چوٹ لگتی اور وہ جھنھلا کر آپ ﷺ کو زک کرنے کے لئے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو تو جس عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو وہ لائو، ہم اس کو دیکھنے کے لئے بےچین ہیں۔ فرمایا کہ عذاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مدت مقرر ہے، اس مدت سے پہلے عذاب نہیں آتا۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ مقررہ سنت نہ ہوتی تو ان پر عذاب آدھمکتا۔ مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں اگر ان لوگوں کی اس جلد بازی کے باوجود دیر ہو رہی ہے تو اس دیر کا سبب نہ کسی کا پاس ولحاظ ہے، نہ کسی کی قوت و صولت ‘ اور نہ کسی تیاری کی ضرورت، بلکہ خود خدا کا اپنا ٹھہرایا ہوا قانون ہے۔ اس قانون کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوموں کی تباہی کی دمت ان کے اخلاقی زوال کے پیمانے سے ناپ کر مقرر کی ہے۔ صرف وہی جانتا ہے کہ کب کسی قوم کو پیمانہ لبریز ہوا، کوئی دوسرا اس چیز کو نہیں جانتا۔ فرمایا کہ جب عذاب کا وقت آجائے گا تو وہ اچانک ان پر آدھمکے گا، وہ اس کے مقابل میں کوئی پیش بندی نہ کرسکیں گے۔
Ayahs 29:54–55

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

اور وہ تم سے عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ جہنم کافروں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

اس دن کو یاد کریں جس دن عذبا ان کے اوپر سے اور ان کے پائوں کے نیچے سے ان کو ڈھانک لے گا اور ارشاد ہوگا کہ اب چکھو اس چیز کا مزا جو تم کرتے رہے ہو۔

یستعجلونک بالعذاب، فان جھنم لمحیطۃ بالکفرین، یوم یغشھم العذاب من فوتھم ومن تحت ارجلھم و یقول ذوقا ما کنتم تعملون (54۔ 55) یہاں ان کے استعجال بالعذاب کو پھر دہرایا ہے۔ بظاہر اس تکرار کی ضرورت نہیں تھی لیکن یہ اعادہ و اظہارِ تعجب کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بڑے طنطنہ سے بار بار عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں گویا عذاب ان سے بہت دور ہے، حالانکہ عذاب ان کے اوپر اور ان کے نیچے سے ان کو گھیرے ہوئے ہے۔ یہ خدا کی جہنم کے احاطے میں ہیں۔ یہ جن اعمال کے اندر گھرے ہوئے ہیں یہی اعمال ان کے لئے جہنم کا ایندھن ہوں گے، تو جس عذاب کے لئے وہ جلدی مچائے ہوئے ہیں اس کا پورا سامان تو انہوں نے خود فراہم کر رکھا ہے۔ ان کے یہی اعمال ایک دن عذاب بن کر ان کے اوپر اور نیچے سے ان کو ڈھانک لیں گے اور اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ اب لو، اس عذاب کا مزہ چکھو جس کے لئے جلدی مچائے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس عذاب کا لبادہ انہوں نے خود اوڑھ رکھا ہے اس کے لئے جلدی مچانے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ کوئی باہر سے منگانے کی چیز تو نہیں ہے، اس کو تو انہوں نے اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ یہ محض خر باختگی ہے کہ وہ اس کو دور سمجھ کر اس کے لئے جلد بازی کر رہے ہیں۔
Ayah 29:56

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو، جو ایمان لائے ہو، بیشک میری زمین بڑی کشادہ ہے تو بس میری ہی بندگی کرو۔ بیشک میری زمین بڑی کشادہ ہے تو بس میری ہی بندگی کرو

یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون (56) یہ ان مظلوم مسلمانوں کو خطاب فرمایا جن کا مسئلہ ابتدائے سورة سے اس میں زیر بحث ہے۔ اندازِ خطاب میں بڑی دلنوازی ہے۔ فرمایا کہ اے میرے بندو، جو مجھ پر ایمان لائے ہو، اگر تم پر مکہ کی سرزمین اس عہد میں جمے رہو۔ اگر یہ سرزمین تمہیں چھوڑنی پڑی تو اطمینان رکھو کہ میری زمین بہت کشادہ ہے، کوئی اور سرزمین تمہارا خیر مقدم کرے گی۔ فایای فاعبدون، بہرحال تم جمے رہو کہ میرے سوا کسی اور کی بندگی کی ذلت گوارا نہ کرو گے۔ اگر میری خاطر تم اپنے گھروں کو چھوڑو گے تو تمہاری ذمہ داری میرے اوپر ہے اور میرے پاس کسی چیز کی بھی کمی نہیں ہے۔ اس آیت سے چند باتیں نہایت واجح طور پر سامنے آگئیں۔ ایک یہ کہ کسی سرزمین سے ہجرت صرف اس وقت ضروری ہوتی ہے جب اس میں آدمی کے دین و ایمان کے لئے فتنہ پیش آجائے۔ اگر فتنہ پیش آجائے تو وہ ہر قیمت پر اللہ کی بندگی کے عہد پر قائم رہے، کسی صورت میں بھی غیر اللہ کی بندگی کی ذلت گوارا نہ کرے۔ اگر اپنے ایمان کو بچانے کے لئے اپنا گھر درسب کچھ چھوڑنا پڑجائے تو سب کچھ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ رزاق و کفیل ہے۔
Ayah 29:57

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر جان کو موت کا مزاچکھنا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جائو گے۔

کل نفس ذائقۃ الموت قف ثم الینا ترجعون (57) یہ آیت اگرچہ تہدید و تسلی دونوں کی متعمل ہے لیکن یہاں پیش و عقب کی آیات تسلی کے مفہوم کی تائید میں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ زندگی تو چند روزہ ہے۔ بالآخر ایک دن سب کو مرنا اور خدا ہی کی طرف لوٹنا ہے تو اس حیات چند روزہ کی خاطر آدمی اپنے رب سے کیوں شرمسار ہو اپنے رب کی خاطر اس دنیا ہی پر کیوں نہ لات مارے !
Ayah 29:58

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ہم ان کو جنت کے بالاخانوں میں متمکن کریں گے، اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ کیا ہی خوب صلہ ہے کارگزاروں کا۔

والذین امنوا وعملوا لصلحت لتبوتنھم من الھنۃ غرفا تجری من تحتھا الناھر خلدین فیھا نعم اجرا العلمین (58) یعنی خدا کے ہاں کسی کی کوئی سعی رائگاں نہیں جائے گا۔ جو لوگ ایمان و عمل صالح کی زندگی بسر کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے بالاخانوں میں فروکش کرے گا اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس حیات چند روزہ کے ایمان و عمل صالح کے بدلے جب یہ اجر و دائمی و ابدی حاصل ہونے والا ہے تو یہ بہت بڑی چیز ہے۔ ہر عاقل کو اسی کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے، اس دنیا کے بڑے سے بڑے عیش کی خاطر بھی اس کو قربان نہیں کرنا چاہے۔
Ayah 29:59

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر ہر حال میں انہوں نے بھروسہ رکھا۔

الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون (59) یہ عاملین کی صنعت ہے اور اس سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا یہ صلہ ہمارے ان کا رگزار بندوں کے لئے ہے جو ہر طرح کے حالات میں ہماری بندگی پر ثابت قدم حالات میں بندے کو خدا کی بدگی پر استعوار رکھتا ہے۔ اگر یہ بھروسہ نہ ہو تو ہجرت اور جہاد تو درکنار کوئی معمولی آزمائش بھی آدمی برداشت نہیں کرسکتا۔
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ ہی ان کو بھی رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والاننے والا ہے۔

وکاین من فابۃ لا تحمل رزقھا ق اللہ یرزقھا وایاکم وھو السمیع العلیم (60)rnٰیعنی جس طرح خدا کی زمین بہت کشادہ ہے اسی طرح خدا کا اخوانِ کرم بھی بہت کشادہ ہے۔ اگر اللہ کی راہ میں اموال و جائداد سے دست بردار ہونا پڑجائے تو بےدرنگ ہاتھ جھاڑ کے اٹھ کھرے ہونا۔ یہ نہ سوچنا کہ آگے کیا کھائیں گے اور کہاں سے پہنیں گے ؟ دیکھتے ہو کہ اس زمین میں کتنے جاندار ہیں جو اپنے ساتھ اپنی روزی باندھے نہیں پھرتے تاہم ان کا رب ان کا رزق بہم پہنچاتا ہے۔ وہی رب ان کو بھی رزق دیتا ہے وہی تم کو بھی رزق دیتا ہے۔ وہ سمیع علیم ہے۔ اس وجہ سے ہر ایک کی فریاد سنتا اور ہر ایک کی ضرورت کو جانتا ہے۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ تم اس کو پکارو گے اور وہ بیخبر رہے گا یا تم حاجت مند ہوگے اور وہ تمہاری پریشانی سے ناواقف ہوگا۔ یہی حکمت سیدنا مسیح نے اپنے اندا میں یوں واضح فرمائی ہے۔ ”تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کرسکتے۔ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے ؟ اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے۔ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں ؟ ہوا کے پرندوں کو دیکھو نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔ نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا آسمانی باپ ان کو کھلاتا ہے۔ کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے ؟ تم میں ایسا کون ہے جو فکر کرکے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے ؟ اور پوشاک کے لئے کیوں فکر کرتے ہو ؟ جنگلی سو سن کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے نہ کا تتے ہیں تو بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے ان میں سے کسی مانند ملبس نہ تھا۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اے کم اعقتا دو ، تم کو کیوں نہ پہنائے گا ! اس لئے فکر مند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا کیا پہنیں گے ؟ کیونکہ ان سب چیزوں کی تلاش میں غیر قومیں رہتی ہیں اور تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کو محتاج ہو۔ بلکہ تم پہلے اس کی بادشاہی اور اس کی راست بازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔ پس کل کے لئے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کرلے گا۔ آج کے لئے آج ہی کا دکھ کافی ہے۔“ متی باب 1ـ25۔ 34 یہ قرآن کی بلاغت کا اعجاز ہے کہ سیدنا مسیح ؑ نے جو حکمت اتنے فقروں میں واضح فرمائی ہے وہ اس نے ایک ہی آیت میں سمیٹ دی ہے۔
Ayah 29:61

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو اور کس نے مسخر کیا ہے سورج اور چاند کو تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ تو وہ کہاں اوندے ہوجاتے ہیں !

ولئن سالتھم من خلق السموات والارض وسخر الشمس والقمر لیقولن اللہ ج فانی یوفکون (61) اوپر کی آیات میں خدا ہی پر بھروسہ کرنے اور اس کی راہ میں جینے اور مرنے کو جو تعلیم دی گئی ہے، اس آیت میں اور آگے کی آیات میں اسی کے دلائل بیان ہو رہے ہیں کہ خدا کے سوا کوئی اور حقدار نہیں ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور اس پر بھروسہ کیا جائے۔ یہ حقیقت ایسی مسلم ہے کہ اس سے ان لوگوں کو بھی مجالِ انکار نہیں ہے جو خدا کے بہت سے شریک وسہیم بنائے بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی پوجا کر رہے ہیں۔ اگر ان سے بھی پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا خالق، سورج اور چاند کا مسخر کرنے والا کون ہے تو وہ بھی اس کا یہی جواب دیں گے کہ اللہ۔ اس واضح حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد پھر وہ معلوم نہیں کہاں بھٹک جاتے ہیں کہ دوسروں کو بھی مائوں و مرجع مان کر ان کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ حقیقت اس کتاب میں ہم جگہ جگہ واضح کرچکتے ہیں کہ مشرکین عرب اپنی دیویوں دیوتائوں میں سے کسی کو آسمان و زمین یا سورج در چاند کا خالق نہیں مانتے تھے۔ ان تمام چیزوں کا خالق ومالک وہ اللہ تعالیٰ ہی کا مانتے تھے لیکن ساتھ ہی وہ اس وہم میں بھی مبتلا تھے کہ جن ہستیوں کی وہ پوجا کرتے ہیں وہ خدا کی بڑی مقرب ہیں۔ وہ ان کے لئے جو چاہیں خدا سے منواسکتی اور کرا سکتی ہیں فانی یوفکون کے الفاظ سے ان کے اسی تضاد فکر پر اظہار تعجب فرمایا ہے کہ جب ہر چیز کا خالق ومالک خدا ہے تو آخر دوسروں کو ماویٰ و مرجع بنانے، ان کو پوجا کرنے اور ان سے استغاثہ و استرحام کا کیا تک ہے ! یہ تو خود اپنے منہ سے خود اپنے مسلمہ کی تردید ہے !