Ayahs 28:1–2طسم تلک ایت الکتب المبین (2-1)
حروف مقطعات پر پیچھے بحث گزر چکی ہے۔ کتاب مبین کے اندر احسان و امتنان اور اتمام حجت کے جو پہلو ہیں خاص طور پر اہل کتاب کے لئے ان کی وضاحت بھی ان کے محل میں ہوچکی ہے۔ کم و بیش انہی الفاظ سے سابق سورة کی تمہید بھی شروع ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ دونوں کا مرکزی مضمون ایک ہی ہے۔
Ayah 28:3موسیٰ و فرعون کی سرگزشت سنانے کا اصل مقصد
خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن آیت کے آخری الفاظ لقوم یومنون خود شاہد ہیں کہ مقصود اس سرگزشت کے سنانے سے وقت کے فراعنہ یعنی قریش کے لیڈروں کے کان کھولنا ہے۔ بالحق یعنی بالکل ٹھیک ٹھیک غایت و مدعا اور عبرت و موعظت کے ساتھ تورات میں حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگشت نہ تو ٹھیک ٹھیک بیان ہونی ہے اور نہ اس سے وہ موعظت ہی سامنے آتی ہے جو اس کی اصل روح ہے۔ قرآن نے یہ سرگزشت اس کے ان دونوں پہلوئوں کو سامنے رکھ کر سنائی ہے۔ لقوم یومنون میں فعل ہمارے نزدیک ارادہ فعل کے مفہوم میں ہے۔ یہ ٹکڑا اپنے اندر ایک قسم کی تنبہ۔ رکھتا ہے کہ ہم یہ سرگزشت سنا رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ انہی کو پہنچے گا جن کے اندر ایمان لانے کا ارادہ پایا جاتا ہے۔ جو اندھے ہر بن چکے ہیں وہ بدستور اندھے بہرے ہی بنے رہیں گے۔
Ayah 28:4اصل سرگزشت سے پہلے یہ اور اس کے بعد کی دو آیتیں اس غایت و مقصد کو سامنے کردینے کے لئے وارد ہوئی ہیں جس کو پیش نظر رکھ کر بہ سنائی جا رہی ہے۔ قرآن میں یہ اسلوب متعدد مقامات میں اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی سرگزشت سنانے سے پہلے وہ مدعا مختصر الفاظ میں قاری کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے جو اس کے سنانے سے پیش نظر ہوتا ہے تاکہ سرگزشت کے پھیلائو میں اصل حقیقت قاری کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ سورة کہف میں اسکی مثال گزر چکی ہے۔
ان قرعون علانی الارض زمین میں علو (سرکشی) یہ ہے کہ زمین کے اصل خالق ومالک کی مرضی اور اس کے احکام کو نظر انداز کر کے کوئی اس میں اپنی من مانی کرنے لگے جائے اور خدا کے بندوں کو خدا کی بندگی و اطاعت میں داخل کرنے کے بجائے ان سے اپنی بندگی و غلامی کرانے لگے۔
وجعل اھلھا شیعاً یسضعف طآئغۃ منھم یہ اسی علو اور فساد فی الارض کی وضاحت ہے کہ اس نے ملک کے باشندوں کو طبقات میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک گروہ کو اس نے بالکل دبا کر اور غلام بنا کر رکھا۔ جب راعی و رعیت سب خدا کی مملوک ہیں تو کسی ملک کے حکمران کے لئے یہ بات جائز نہیں ہو سکتی کہ وہ رعایا کے درمیان کوئی تفریق و امتیاز برتے بلکہ راعی و رعبیت سب کے لئے بلا امتیاز ایک ہی قانون اور ایک ہی نظام عدل و مساوات ہونا چاہئے لیکن فرعون نے بنی اسرائیل کو تو غلاموں کی حیثیت دے رکھی تھی اور خود خدا بن بیٹھا تھا۔ ساتھ ہی اپنی قوم قبطیوں کو یہ اختیار دے رکھا تھا کہ وہ بنی اسرائیل سے غلاموں کی طرح کام لیں۔
یذبح انبآء ھم ریستعی نسآء ھم اس جبرو ظلم کی ایک مثال ہے جو فرعون اور قبطیوں کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر ہو رہا تھا۔ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کی سنگدلانہ اسکیم فرعون اور اس کے اعیان نے جس سیسای اندیشہ کی بنا پر چلائی تھی اس کی واضحت سورة طہ اور بعض پچھلی دوسری سورتوں میں ہوچکی ہے۔
انہ کان من المفسدین یعنی یہ خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا درآنحالیکہ اللہ اپنی زمین میں جس کو بھی حکمرانی کا منصب بخشتا ہے عدل وامان کے قیام کے لئے بخشتا ہے۔
Ayah 28:5اسرائیل کو پیشوائی طعنے کا خدائی فیصلہ
نرید سے پہلے عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان تو یہ ظلم و ستم ڈھائے ہوئے تھے اور ان کی پوری کوشش یہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو کسی طرح ابھرنے دیں لیکن ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم مظلوموں پر احسان کریں، ان کو پیشوائی کا منصب بخشیں اور ظالموں کو مٹا کر مظلوموں کو وراثت و خلافت عطا کریں۔ نجعلھم آئمۃ سے اشارہ اس دینی پیشوائی کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ کی بعثت کے بعد بنی اسرائیل کو حاصل ہوئی اور نجعلھم الورثین سے خلافت و حکوتم راد ہے جو ان کو ارض فلسطین میں ملی اور حضرت سلیمن ؑ کے عہد میں جس کے حدود نہایت وسیع ہوگئے یہاں تک کہ مصر کی حکومت بھی ان کی ایک باجگزار ریاست بن گئی۔
Ayah 28:6بنی اسرائیل کو اقتدار دینے کا خدائی فیصلہ
تمکین فی الارض سے مراد اقتدار و صولت و دبدبہ ہے۔ یعنی اراد ہالٰہی یہ ہوا کہ ان دبائے ہوئے مظلوموں کو ایک مضبوط اور طاقت ور سلطنت عطا کرے اور فرعون وہامان اور ان کی فوجوں کو وہ چیز دکھا دے جس کا وہ اندیشہ رکھتے تھے۔ ماکانوا یحذورون سے اشارہ فرعون اور اس کے البان کے اس اقتدار کی حرف ہے جس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں کہ وہ بنی اسرائیل کی تعداد میں روز افزوں اضافہ سے بہت خائف تھے کہ اگر یہ قوت پکڑ گئے تو یا تو وہ خود ملک پر قابض ہوجائیں گے یا باہر کے دشمنوں سے مل کر یہاں سے قطبیوں کے بےدخل کردیں گے۔ اسی خطرے کے سدباب کے لئے ان احمقوں نے بنی اسرائیل کے ذکور کے قتل کی وہ اسکیم بنائی تھی جس کی پوری تفصیل ہم پچھلی سورتوں میں پیش کرچکے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی اسکیم کے مقابل میں ان کی ساری اسکیمیں اور پیش بندیاں بالکل بیکار ثابت ہوئیں۔ ارادہ الٰہی مظلوموں کے حق میں پوراہو کے رہا اور ان کے دشمن تمام زور وسطوت اور تمام تدبیر و مدبر کے باوجود پامال ہوئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اسی حقیقت کو پیش کے اکابر و زعما کے سامنے رکھنے کے لئے وہ سرگزشت سنائی جا رہی ہے جو آگے آرہی ہے تاکہ لوگ اس قصہ کو قصہ کی حیثیت سے نہ سنیں بلکہ اس حق کو مدنظر رکھ کر سنیں جو اس کے اندر مضمر ہے۔
ہامان فرعون کا وزیر تھا
یہاں بالکل پہلی مرتبہ فرعون کے ساتھ ہامان کا ذکر بھی آیا ہے اور اس طرح آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت فرعون کے وزیر کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کو دبائے رکھنے کے مسئلہ سے خاص دلچسپی تھی۔ آگے بھی اس کا ذکر فرعون کے وزیر اعظم ہی کی حیثیت سے آ رہا ہے تو رات میں یہ نام نہیں آیا ہے لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پیدا ہوتا۔ کتنی باتیں ہیں جن میں قرآن نے تورات کے بیانات کی تصحیح کی ہے یا ان پر اضافہ کیا ہے۔ یہ بھی حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ بعض مستشرقین نے اس نا مکو اعتراض کا ہدف بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مصر میں اس نام کا کوئی شخص نہیں تھا۔ ان لال بجھکڑوں کا یہ اعتراض بالکل ہی احمقانہ ہے۔ کیا حضرات یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ انکو فرعون اور اس کے تمام وزراء واعیان اور اس عہد کے تمام اکابر مصر کے ناموں کی فہرست مل گئی ہے ؟ وزراء واعیان تو درکنار کیا یہ حضرات خود اس فرعون کے بارے میں متفق اللفظ ہیں جو حضرت موسیٰ کا ہم عصر تھا قرآن کی مخالفت کے جنون میں اس قسم کی باتیں جو یہ لوگ کہتے ہیں وہ بالکل ہی ناقبل التفات ہیں۔ یہ لوگ پانی ہوئی حقیقت کو گم کرنے میں تو بڑے ماہر ہیں۔ لیکن جب کسی چیز کا سراغ دیتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ٹڈے کی ٹانگ پر ہاتھی کا خول چڑھایا ہے۔
بنی اسرائیل کے اندیشہ سے فرعون کی فوجیت یاریاں
یہاں فرعون وہامان کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ان کی فوجوں کا جو ذکر بار بار آیا ہے اس کی بھی ایک خاص وجہ ہے۔ اس عہد کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان نے بنی اسرائیل کے مسئلہ کو ایک بالکل سیاسی رنگ دے دیا تھا۔ ان کی کثرت تعداد کو وہ اپنی حکومت کے لئے ایک خط سمجھتے تھے اس وجہ سے فرعون نے اپنے تمام امراء و اعیان کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی فوجوں کو بنی اسرائیل کے خطرے سے نمٹنے کے لئے بالکل چوکس رکھیں۔ چناچہ جب اس نے بنی اسرائیل کے تعاقب کا فیصلہ کیا تو اپنے تمام امراء اور نوابوں کو ان کی فوجوں سمیت طلب کیا۔ فرعون کو اپنی ان افواج پر جیسا کہ قرآن اور تورات دونوں سے واضح ہوتا ہے۔ بڑا ناز تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ سارا غرور و ناز چشم زدن میں ختم کردیا۔
Ayah 28:7اصلی سرگزشت کا آغاز
اب یہ اصل سرگزشت شروع ہوئی ہے کہ جب حضرت موسیٰ کی ولادت ہوئی تو فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ اس کو دودھ پلاتی رہو۔ اگر تمہیں کوئی اندیشہ ہو تو اس کو دریا میں ڈال دیجیو اور ذرا فکر و غم نہ کیجیو، ہم اس کو تمہارے پاس واپس لائیں گے اور اس کو اپنے رسولوں میں سے بنائیں گے۔
وحی سے مراد یہاں ظاہر ہے کہ وہ اصطلاحی وحی نہیں ہے جو حضرات انبیائے کرام (علیہم السلام) کے ساتھ مخصوص ہے۔ بلکہ الہام والقاء یا رڈیا کے ذریعہ سے اس طرح دل میں کوئی بات ڈال دینا ہے جس سے دل کو اس پر فی الجملہ اطمینان ہوجائے۔
حضرت موسیٰ کی حفاظت کے لئے خدائی انتظامات
جس زمانے میں حضرت موسیٰ کی ولادت ہوئی ہے بنی اسرائیل کے بچوں کے ہلاک کرنے کی سکیم بڑے زوروں سے چل رہی تھی۔ اول اول تو یہ کام فرعون اور اس کے اعیان نے دائیوں سے لنیا چاہا لیکن تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ دائیوں نے اس میں کچھ زیادہ تعاون نہیں کیا۔ بالآخر فرعون نے قطبیوں کو یہ عالم حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو اولاد نرینہ پیداہو اس کو دریا میں پھینک دیا کریں۔ اسی خطرناک زمانے میں حضرت موسیٰ ؑ پیدا ہوئے۔ اس وجہ سے قدرتی طور پر ان کی والدہ ماجدہ کا دل ہر وقت دھڑکتا رہتا کہ معلوم نہیں کس وقت کسی ظالم کو نظر سچے پر پڑجائے اور وہ اس کو اچک لے جائے۔ اسی خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ابھی تو تم اس کو دودھ پلائو اگر اس طرح کا کوئی خطرہ محسوس ہو تو بےخوف و خطر بچے کو تم خود اپنے ہاتھوں دریا کے حوالہ کردینا اور ذرا غم و فکر نہ کرنا۔ ہم اس کو تمہارے پاس واپس بھی بلائیں گے اور اس کو مستقبل میں اپنے شرق رسالت سے بھی مشرف کریں گے۔ دریا میں ڈالنے کی یہ ہدایت ظاہر ہے کہ اس وجہ سے فرمائی گئی کہ فرعون نے جو راستہ بچوں کی ہلاکت کے لئے اتخیار کیا تھا اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ حضرت موسیٰ کے لئے وہی راستہ نجات کا راستہ بنے۔ سورة طہ کی آیت 49 سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک صندوق میں بچے کو رکھ کے صندوق کو دریا میں بہا دینے کی ہدایت ہوئی تھی۔ تو رات میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے۔
وہ عورت حاملہ ہوئی اور بیٹا جنی اور اس نے اسے خوب صورت دیکھ کے تین مہینے تک چھپا رکھا اور جب آگے اس کو نہ چھپاس کی تو سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنایا اور اس پر لاسا اور رال لگایا اور لڑکے کو اس میں رکھا اور اس نے اسے دریا کے کنارے پر جھاڑ میں رکھ دیا۔
تورات کے بیان میں جو کمیاں اور غلطیاں ہیں ان کی طرف سورة طہ اور سورة اعراف کی تفسیر میں ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ یہاں خاص چیز جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی والدہ ماجدہ کو الہام کے ذریعے سے یہ تسلی دے دی گئی تھی کہ اس بچے کو ہم تمہارے پاس پھر واپس لائیں گے اور اس کو منصب رسالت پر سرفراز کریں گے اور یہ تسلی اسلوب کلام دلیل ہے کہ ایک حتمی وعدے کی شکل میں دی گئی تھی یہی چیز تھی جس کے اعتماد پر حضرت موسیٰ کی والدہ ماجدہ یہ بازی کھیل گئیں ورنہ کوئی ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کو اس طرح دریا کی موجوں کے حوالہ کس طرح کرسکتی ہے۔
Ayah 28:8حضرت موسیٰ شاہل محل میں
اتنی بات پر بنائے قرینہ یہاں پر حذف ہے کہ حضرت موسیٰ کی والدہ نے جب خطرہ محسوس کیا تو ہدایت خداوندی کے مطابق بچے کو سرکنڈے کے ایک صندوق میں رکھ کر صندوق کو دریائے نیل کے حوالہ کردیا۔ تو رات کی مذکورہ بالا روایت پر اعتماد کیجیے تو واقعہ کی تفصیل یہ معلوم ہوتی ہے کہ تین ماہ تک تو انہوں نے بچے کو کسی نہ کسی طرح چھپانے رکھنے کی کوشش کی لیکن بالآخر انہیں یہ اندازہ ہوگیا کہ یہ تدبیر کا رگر ہونے والی نہیں ہے۔ چناچہ ناچار انہیں وہ اقدام کرنا ہی پڑا جس کا ذکر اوپر ہوا۔ دریائے نیل اسرائیلیوں کی بستی کے پاس سے گزرتا ہوا فرعون کے محل کی طرف جاتا تھا۔ وہاں دریا کی موجوں نے صندوق کو کنارے پر ڈال دیا۔ فرعون کے گھر کے لوگوں کی نظر اس پر پڑگئی۔ انہوں نے جب دیکھا کہ صندوق میں ایک موہنا بچہ پڑا ہوا ہے تو بادشاہ اور مکلہ کے حکم سے بچے کو شاہی محل میں لایا گیا۔ فرعون کی بیوی جیسا کہ سورة تحریم سے واضح ہے۔ نہایت نیک دل تھیں۔ انہوں نے کہا اس بچے کو قتل نہ کرو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہم کو نفع پہنچائے یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ شاہی محل میں پہنچ گئے اور بادشاہ اور ملکہ دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گئے۔ یہاں لفظ ل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب صندوق میں پڑے ہوئے ایک بچے کا ذکر شاہی محل تک پہنچ اتو خادنان شاہی کے تمام چھوٹے بڑے موقع پر پہنچ گئے اور سب اس کو اٹھا کر محل میں لائے۔
تقدیر الٰہی کے بھید کسی کو معلوم نہیں
لیکون لھم عدوا وحدنا اس ل کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں کہ یہ غایت و انجام کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ انہوں نے تو بچے کو اس لئے اٹھایا کہ وہ ان کے لئے، جیسا کہ آگے ملکہ کے قول سے واضح ہوگا، آکھوں کی ٹھنڈک بنے گا لیکن تقدیر الٰہی کا یہ بھید ان کو نہیں و معلوم تھا کہ اس بچے کے ہاتھوں فرعونی اقتدار کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجائے گا۔
ان فرعون وھا من وجنودھما کانوا خطبین یر فعون، ہامان اور ان کے فوجیوں کے رویے پر عام تبصرہ ہے کہ وہ اپنی حماقت کے سبب سے یہ سمجھے کہ تمام اختیار واقدتار ان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بنی اسرائیل کو ہمیشہ اسی طرح دبائے رکھیں گے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ اگر خدا چاہے گا تو ان کے سب سے بڑے قامع کی پرورش ان کے شاہی محل میں، خود بادشاہ اور مکلہ کے ہاتھوں کرائے گا ! اوپر آیت 6 کے مضمون پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 28:9فرعون کی بیوی نہایت نیک دل تھیں
ملکہ نے جب بچے کو دیکھا تو اس موہنی صورت پر قربان ہوگئیں۔ فرعون سے کہا، یہ تو میری اور تمہاری دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اس کو قتل نہ کرو۔ امید ہے یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں۔ ملکہ کے متعلق دوسرے مقام میں ہم یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ نہایت نیک دل اور فرعون کے رویہ سے سخت بیزار تھیں۔ عسی ان ینفعنا اونتخذہ ولدا یہ بعینیہ وہی بات ہے، جو عزیز مصر نے، حضرت یوسف سے متعلق، اپنی بیوی کو خطا کر کے کہی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ملکہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی اور اگر تورات کے بیان کو باور کرلیا جائے کہ جس نے حضرت موسیٰ کے صندوق کو سب سیپہلے دیکھا وہ فرعون کی لڑکی تھی تو یہ ماننا پڑے گا کہ اس وقت تک ان کے ہاں کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی۔ اس وجہ سے انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اول تو اس شکل و صورت کا بچہ فوائد و برکات سے خالی نہیں ہوسکتا، پھر یہ بات بھی ہے کہ اگر کسی اولاد نرینہ کے لئے ہماری امید پوری نہ ہوئی تو ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں گے۔ و ھم لایشعرون یعنی بادشاہ اور مکلہ یہ سوچ رہے تھے، انہیں کچھ خبر نہیں تھی کہ قدرت اس پردے میں اپنی کشا شان دکھانے والی ہے !
Ayah 28:10آزمائشوں میں اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ
حضرت موسیٰ کی والدہ نے جب کوئی مقر نہ دیکھا تو جی کڑا کر کے صندوق دریا میں ڈالنے کو تو ڈال دیا لیکن اس کے بعد ان پر جو کچھ گزری یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا دل صبر وقرار سے بالکل خالی ہوگیا۔ قریب تھا کہ بےصبری میں ان سے کوئی ایسی بات صادر ہوجائے جس سے سارا راز فاش ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ نے انکو سنبھال لیا تاکہ جس دولت ایمان سے وہ بہرہ مند تھیں اس پر اس آزمائش میں بھی وہ ثابت قدم رہیں۔ انسان ہر حال انسان ہے کسی ماں کے لئے خوداپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے کو دریا کی موجوں کے حوالہ کردینا کوئی آسان بازی نہیں ہے۔ اگرچہ ایک اشارہ غیبی کا سہارا ان کو حاصل تھا اور یہ سہارا نہ ہوتا تو بھلا اس کا تصور بھی کس طرح کرسکتی تھیں تاہم جب اپنا حال یہ ہے کہ اس واقعہ کا تصور کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ دل سینہ سے نکل پڑے گا تو اس وقت حضرت موسیٰ کی والدہ کے دل پر جو کچھ گزری ہوگی اس کا اندازہ ان کے رب کے سوا اور کون کرسکتا ہے ! لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اس نازک موقع پر سنبھالا اور وہی سنبھال سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور بندیوں کو امتحان میں تو ڈالتا ہے کہ یہ امحتان اس کی سنت ہے اور یہ امتحان درجے اور مرتبے کے اعتبار سے سخت سے سخت بھی ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی اس کی یہ سنت بھی ہے کہ جو لوگ اس کے امتحان کی راہ میں بازی کھیل جاتے ہیں وہ ان کو سنبھالتا بھی ہے۔ حضرت موسیٰ کی والدہ ماجدہ نے چونکہ بچے کو دریا کی موجوں کے حوالہ کر کے اپنے ایمان و توکل کی شہادت دے دی تھی اس وجہ سے آگے کے مرحلے میں خود رب کریم نے ان کے دل کو سنبھال لیا کہ ان کے اس ایمان و توکل کی لاج قائم رہے، کوئی ایسی بات صادر نہ ہونے پائے جو اس کے منافی ہو۔ اپنے باایمان بندوں اور بندیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یوں ہی ہے لیکن اس کو بہت کم لوگ سمجھتے ہیں !
Ayah 28:11دل کی تسلی کے لئے آخری تدبیر
جب صندوق پانی میں بہتا ہوا آگے کو چلا تو انہوں نے حضرت موسیٰ کی بہن سے فرمایا کہ اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے تم بھی جائو اور دیکھو کہصندوق کدھر کو جاتا ہے۔ یہ دل کی تسلی کے لئے آخری تدبیر تھی جو وہ کرسکتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ صندوق کا تعاقب ایک خاص حد تک ہی ممکن تھا، بالآخر تو اس کو نگاہوں سے اوجھل ہونا ہی تھا لیکن جتنی دیر بھی اور جتنی دور تک بھی اس کو دیکھنا ممکن ہو سکے وہ اس سے محروم رہنا کس طرح گوارا کرسکتی تھیں ! چناچہ حضرت موسیٰ کی بہن دور سے اس طرح اس کو دیکھتی رہیں کہ کسی کو اس واقعہ کی طرف توجہ نہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل و احسان ہوا کہ ان کی یہ مہم کامیاب رہی۔ صندوق کا فرعون کے محل کے پاس ساحل پر لگ جانے اور ننھے بھائی کو محل میں لے جانے کا سارا ماجرا انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہی محل اسرائیلیوں کیبستی سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔
Ayah 28:12اللہ تعالیٰ کی ایک اور کار سازی
اب یہ اس تدبیر کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ان کی والدہ کی طرف لوٹانے کے لئے اختیار ففرمائی۔ اوپر گزر چکا ہے کہ بچے کو محل میں بڑے چائو پیار سے لے جایا گیا۔ ظاہر ہے کہ سب سے پہلے اس بات کی فکر ہوئی ہوگی کہ بچے کو کسی دایہ کا دودھ پلایا جائے۔ دایہ بلائی گی تو حضرت موسیٰ نے اس کا دودھ نہیں پیا۔ دوسری بلائی گئی تیسری بلائی گی یکے بعد دیگرے کئی دایائیں بلائی گئیں لیکن حضرت موسیٰ نے کسی کی چھاتی منہ سے نہیں لگائی۔ اس صورت حال سے حضرت موسیٰ کی بہن نے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر کہا اگر آپ لوگ کہیں تو میں ایک ایسے گھر والوں کا پتہ دوں جو پوری خیر خواہی اور محبت کے ساتھ بچے کی غور وپرداخت کریں گے۔ محل والے پریشان تو تھے ہی وہ فوراً راضی ہوگئے اور اس طرح حضرت موسیٰ کے اپنی ماں کے آغوش میں پہنچنے کی راہ کھل گئی۔
Ayah 28:13حضرت موسیٰ کا اپنی ماں کے آغوش میں ا صل نکتہ :
اس تدبیر سے خدائے کار ساز و کرم نے حضرت موسیٰ کو دریا سے نکلوایا اور پھر ان کو ان کی ماں کی گود میں پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کا غم دور ہوجائے۔
ولتعلم ان وعد اللہ حق ولکن اکثر ھم لایعلمون یہ اس وعدے کے ایفاء کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر آیت 7 میں گزرا کہ تم بچے کو بےخوف و خطر دریا میں ڈال دینا، ہم اس کی حفاظت کریں گے اور اس کو پھر تم سے ملائیں گے۔ فرمایا کہ اس طرح ہم نے اس کو دکھا دیا کہ ہم جو وعدہ کرتے ہیں خواہ اس کا ایفا بظاہر کتنا ہی مستبعد کیوں نہ نظر آئے لیکن ہم اس کو پورا کر کے رہتے ہیں اور ہماری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی ولکن اکثرھم لایعلمون یہ اصل نکتہ کی بات ارشاد ہوئی ہے کہ اکثر لوگ اپنی بلاوت کے سبب سے اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ وہ خدا کے وعدوں کو محض ہوائی باتیں خیال کرتے ہیں اور ان کے اعتماد پر کوئی بازی کھیلنے میں ان کو خسارہ اور خطرہ نظر آتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے دیکھ لیں تب مانیں گے حالانکہ اس دنیا میں اصل امتحان تو یہی ہے کہ لوگ اپنے رب کے ان وعدوں اور وعیدوں کے لئے جئیں اور مریں جن کی حقیقت ابھی سامنے آئی ہے۔
Ayah 28:14حضرت موسیٰ کی جوانی کا اصلی جمال
بلغ اشدہ سے جوانی کو پہنچنا مراد ہے اور اس کے ساتھ لفظ استوآء عقلی و مزاجی اعتدال و توازن کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی جب حضرت موسیٰ ؑ جسمانی اعتبار سے جوانی کو اور عقلی و مراجی اعتبار سے اعتدال و توازن کی عمر کو پہنچے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جوانی بجائے خود کو کوئی بڑی وقیع چیز نہیں ہے اگر اس کے ساتھ عقلی و مزاجی اعتدال کا جمال نہ ہو۔
مقلم سے مراد قوت فیصلہ اور علم سے مراد خدا کی معرفت ہے۔ اس حکم و علم کے مختلف مدارج میں اس کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو حاصل ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن میں بعینیہ یہی الفاظ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے علم کے لئے بھی استعمال ہوئے ہیں لیکن یہاں ظاہر ہے کہ وہ علم و حکمت مراد نہیں ہے اس لئے کہ یہ حضرت موسیٰ کی ابتدائی زندگی کے احوال بیان ہو رہے ہیں۔ نبوت ان کی جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے۔ اس کے بہت بعد ملی ہے۔
فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ جوانی کو پہنچے اور ان کی عقل اور ان کے مزاج میں اعتدال و توازن آگیا تو ہم نے ان کو حکمت و معرفت سے نوازا۔ کذلک نجزی المسحنین، جو لوگ خوب کار ہوتے ہیں ہم ان کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔ محسنین سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو ان کے صحیح مصرف میں بالکل صحیح طریقہ پر استعمال کرتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ہم اپنے علم و حکمت میں سے حصہ دیتے ہیں۔ یہی علم و حکمت انسان کی قوتوں اور صلاحیتوں کا اصلی جمال و کمال ہے۔ اگر کوئی شخص یہ نہ حاصل کرسکا تو اس نے اپنی ساری صلاحیتیں بھی برباد کیں اور اپنی جوانی بھی غارت کی۔
Ayahs 28:15–16آیت (16-15)
مدینۃ سے مراد
چونکہ محض غلاموں اور خدمت گاروں کی تھی اس وجہ سے ان کی بستی اصل شہر سے الگ بسائی گئی تھی۔ وہ صرف مزدوروں اور خدمت گاروں کی طرح کام کے اقوات میں شہر میں جایا کرتے تھے۔
صالح جوانی میدان عمل میں
حضرت موسیٰ ؑ جوان ہوئے اور ان کے اندر وہ قتوت و مروت اور رحیتر و غیرت پیدا ہوئی جو صالح جوانی اور علم و معرفت کا خاصہ ہے تو وہ وقتاً فوقتاً شہر میں اپنے مظولم بھائیوں کا حال دیکھنے کے لئے جانے لگے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی حمیت و حمایت کے سبب سے قبطیوں کی نظروں میں کھٹکنے لگی تھے اس وجہ سے انہیں یہ کام لوگوں کی نگاہوں سے بچ بچا کے ایسے اقوات میں کرنا پڑتا جن میں لوگ آرام کرتے ہیں۔ ایک دن وہ اسی طرح کے تجسس کے لئے شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیل دونوں لڑ رہے ہیں۔ اسرائیل نے جبحضرت موسیٰ کو دیکھا تو ان سے طالب مدد ہوا۔ حضرت موسیٰ اس کو مظلوم دیکھ کر، بتقاضائے فتوت و حمایت حق، اس کی مدد کے لئے بڑھے اور چاہا کہ بیچ بچائو کرا دیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قبطی اپنی رعونت کے سبب سے ان سے الجھ پڑا۔ انہوں نے اپنی مدافعت میں اس کو حو گھونسا مارا تو وہ ایسا بےڈھب پڑا کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نہ تو قبطی کے قتل کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے تھے اور نہ اس کو اس صورتحال کے پیش آنے کا کوئی گمان تھا۔ بالکل بےارادہ جب یہ حادثہ پیش آگیا تو انہیں فوراً اپنی غلطی پر سخت پشماننی ہوئی اور انہوں نے اپنے رب سے معافی مانگی کہ اے رب میں نے اپنی جان پر سخت ظلم ڈھایا تو مجھے معاف فرما دے۔ چونکہ یہ غلطی ان سے بالکل بےارادہ ہوئی تھی، پھر انہوں نے معافی بھی بلاتاخیر مانگی اس وجہ سے سے اللہ تعالیٰ نے ان کو فوراً ہی معاف فرما دیا اور اس معافی کی غیبی طور پر انکو بشارت بھی مل گئی۔ اللہ تعالیٰ غفور رحمی ہے۔
اوپر یہ ذکر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو بھرپور جوانی کے ساتھ اپنی حکمت و معرفت سے بھی نوازا تھا یہ اسی حکمت و معرفت کا کرشمہ ہے۔ اگر حضرت موسیٰ ؑ صرف ایک تگڑے جوان ہوتے تو اپنے گھونسے کی شہ زوری اور بےپناہی پر فخر سے پھولے نہ سماتے۔ بالخصوص ایک قبطی کے اس طرح قتل کو تو وہ اپنا ایک زندہ جاوید کارنامہ سمجھتے لیکن انہوں نے اپنے دشمن کے معاملے میں بھی اپنی ایک غیر ارادی غلطی کو، اپنا ایک جرم سمجھا اور اپنے رب سے اس کی فوراً معافی مانگی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ معاملہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے رب ہی کے درمیان کا معاملہ تھا۔ مصر میں اس وقت جو صورتحال تھی اس میں اس بات کا کوئی امکان نہ تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ حکومت اور قانون سے کسی انصاف کی توقع کرتے۔
Ayah 28:17آئندہ کے لئے احتیاط
نعمت، صالحین کے لئے شکر گزاری میں اضافہ کرتی ہے اس وجہ سے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ فضل فرمایا کہ ان کو معافی دے دی تو آئندہ کے لئے انہوں نے یہ عہد فرمایا کہ اب میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔ ”مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا“ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ آپ نے اسرائیلی کی حمایت اس کو محرم سمجھتے ہوئے کی اب نے تو جو کچھ کیا اس کو مظلوم سمجھتے ہوئے کیا، اس کی فریاد کیا اور وقت کے حالات کی بنا پر ان کو گمان یہی ہوا کہ قطبی ظالم اور اسرائیلی مقلوم ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کے معافی مانگنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تم بےقصور ہو، قبطی ظالم آدمی تھا، بلکہ ان کو ایک غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے معافی دی تو اس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ معلوم ہوتا ہے کہ میں نے مظلوم کی حمایت کرنی چاہی لیکن معاملہ کی تحقیق نہ کرنے کے سبب سے مجھ سے ظالم کی حمایت صادر ہوگئی۔ اس وجہ سے آئندہ کے لئے آپ نے یہ عہد فرمایا کہ اب میں بلاتحقیق کسی کی حمایت نہیں کروں گا بلکہ صرف اسی کی حمایت کروں گا جس کا مظلوم ہونا معلوم ہو۔ چناچہ دوسرے ہی دن آپ نے جب اسی اسرائیلی کو ایک دوسرے قبطی سے لڑتے دیکھا اور وہ حسب سابق پھر حضرت موسیٰ سے طالب مدد ہوا تو آپ نے اس کو جھڑک دیا کہ تم ایک شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔
Ayah 28:18دوسرے روز حضرت موسیٰ ڈرتے اور ٹوہ لیتے ہوئے پھر شہر میں داخل ہوئے۔ شہر میں جاتے ہوئے احتیاط تو، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، پہلے بھی وہ کرتے تھے لیکن اب اس واقعہ کے سبب سے اور بھی طرح طرح کے اندیشے رہے ہوں گے کہ معلوم نہیں اس کا ردعمل ان کے اور ان کی قوم کے خلاف کیا ہوتا ہے، زبانوں پر کیا چرچے ہیں اور انکے بارے میں کیا چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں ! اتنے میں دیکھا کہ وہی اسرائیل جو کل ان سے طالب مدد ہوا تھا آج پھر فریاد کر رہا ہے لیکن حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو جھڑک دیا کہ تم خود ایک کھلے ہوئے شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔ اس کے کھلے ہوئے شریر آدمی ہونے کی ایک کھلی ہوئی دلیل تو یہی تھی کہ کل بھی وہ ایک شخص سے الجھا ہوا تھا جس کے نتیجہ میں ایک سنگین حادثہ پیش آچکا تھا اور آج بھی ایک دوسرے شخص سے وہ لڑ رہا تھا۔ یہ واضح قرنیہ اسی بات کا تھا کہ یہ شخص شرپسند ہے۔ اور دوسری وجہ وہ تھی جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کی معافی سے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی کو مظلوم سمجھ کر اس کی حمایت کرنے میں ان سے غلطی صادر ہوئی، اس معاملے میں ان کو تحقیق کرتی تھی۔ چناچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ جو فرمایا تھا کہ آئندہ میں کسی مجرم کی پشت پناہی نہیں کروں گا اس موقع پر انہوں نے اس کا پورا اتحرام محلوظ رکھا۔ اس مرتبہ وہ فوراً اس کی حمایت کے لئے نہیں اٹھ کھڑے ہوئے بلکہ قرائن کو سامنے رکھ کر اس کو تنبیہ کی کہ تم خود ایک جھگڑالو اور شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔
Ayah 28:19ایک اسلوب کی وضاحت
ان سے پہلے یہاں کوئی مناسب موقع فعل محذوف ہے۔ یعنی جب معاملہ یوں ہوا یا جب بات یہاں تک پہنچی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے پہلے زبانی افہام و تفہیم سے فریقین کو ہموار کرنے کی کوشش کی لیکن جب اس سے کام نہ چلا بلکہ قبطی نے کچھ اکڑ دکھائی تو آپ نے اس کو پکڑ کر علیحدہ کرنا چاہا اس قبطی کو یہاں عدو قوماً سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ اور اسرائیلی دونوں کا دشمن اس کی وجہ واضح ہے کہ اسرائیلی کا تو وہ بالفعل دشمن تھا ہی اور حضرت موسیٰ کے ساتھ اس کی دشمنی قومی اعتبار سے بھی تھی اور اس پہلو سے بھی کہ وہ اپنی اصلاحی سرگرمیوں کے سبب سے تمام قبطیوں کی نظروں میں کانٹے کی طرح کٹکنے لگے تھے۔
اسرائیلی کی حماقت سے افشائے راز
حضرت موسیٰ ؑ نے پکڑنا تو چاہا قبطی کو لیکن انہوں نے پہلے جھڑکا اسرائیلی کو تھا اس وجہ سے اس نے گمان کیا کہ آج ہوز ہو ان کا گھونسا اس پر پڑنے والا ہے۔ اس گھبراہٹ میں وہ چلایا کہ کل تم نے ایک شخص کو جس طرح قتل کیا ہے اسی طرح آج معلوم ہوتا ہے کہ تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو۔ اس طرح اس نے اپنی حماقت سے راز کھول دیا۔ بعض لوگوں نے یموسی اثرید الخ کو قبطی کا قول قرار دیا ہے لیکن یہ قرین نہیں کیونکہ ایک تو قتل کا واقعہ ابھی راز تھا۔ دوسرے قبطی حضرت موسیٰ کو مصلح نہیں سمجھتے تھے۔
ان یرید الا ان تکون جباراً فی الارض وما ترید ان تکون من المصلحین
سفلہ لوگوں کا کردار
جبار کے معنی یہاں مطلق العنان اور قابو سے باہر کے ہیں۔ یعنی افشائے راز کے ساتھ ساتھ اس نے حضرت موسیٰ پر یہ چوٹ بھی کر ڈالی کہ ہم تو یہ گمان کر رہے تھے کہ تم اس ملک میں اصلاح کرنا چاہتے ہو لیکن معلوم ہوا کہ اصلاح نہیں کرنا چاہتے بلکہ ایک بالکل مطلق العنان اور بےقابو آدمی بن کر زندگی بسر کرنا چاہتے ہو !…اس کے اس قول سے ایک طرف تو سفلہ لوگوں کا کردار سامنے آتا ہے کہ جب تک کوئی شخص ان کی مدد حمایت کرے وہ اس کو بہت بڑا مصلح مصلح سمجھتے ہیں لیکن اگر وہ ان کو کسی برائی سے روکنے کی کوشش کرے تو وہ نہ صرف اس کو ایک بہت بڑا مفسد قرار دیتے ہیں بلکہ اس کے خلاف جاسوسی کرنے والے اور اس کے رازوں کو طشت ازبام کرنے والے بھی بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف اس سے حضرت موسیٰ کا کردار بھی سامنے آتا ہے کہ وہ اسی زمانے سے اپنی قوم کے اندر ایک مصلح اور مرجع امید سمجھے جانے لگیت ہے۔
Ayah 28:20مرد مومن کا کردار
حضرت موسیٰ ؑ کی ذات تو، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، پہلے ہی سے فرعونیوں کی نظر میں کھٹک رہی تھی لیکن جب یہ واقعہ پیش آگیا اور ایک اسرائیلی ہی کی زبان سے وہ افشا بھی ہوگیا تو قدرتی طور پر فرعونیوں کی آتش غضب پوری طرح ان کے خلافبھڑک اٹھی اور وہ ان کے قتل کے منصوبے بنانے لگے۔
وجآء رجل من اقصا المدینۃ یسعی اصل شہر جو حکومت اور اعیان حکومت کا مرکز تھا، وہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، بنی اسرائیل کی بستی سے پرے تھا اس وجہ سے اس کو اقصا المدینۃ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ فرمایا کہ وہاں سے ایک شخص یہ معلوم کر کے اعیان حکومت حضرت موسیٰ کے قتل کے مشورے کر رہے ہیں، بھاگا ہوا حضرت موسیٰ کو اطلاع دینے آیا کہ آپ کی قتل کے مشورے ہو رہے ہیں۔ میں آپ کا خیر خواہ ہوں اس وجہ سے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ یہاں سے فوراً نکل جائیں۔ اس شخص سے متعلق یہاں کوئی تفصیل مذکور نہیں ہے لیکن سورة مومن میں ایک مومن آل فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے آیا ہے ان کا تعلق شاہی خاندان سے تھا۔ یہ ابدتاء ہی سے حضرت موسیٰ کے خیر خواہوں میں سے تھے اور بعد کے ادوار میں جیسا کہ سورة مومن میں تفصیل آئے گی۔ انہوں نے اعیان حکومت کے سامنے حضرت موسیٰ ؑ کی بڑی پر زور حمایت کی۔ ان وجوہ سے ظن غالب یہ ہے کہ یہ اشارہ بھی انہی کی طرف ہے۔
انی لک من النصحین یہ صفائی انہوں نے اس وجہ سے پیش کرنی ضروری سمجھی کہ بدگمانی کی اس فضا میں جو اس وقت اسرائیلیوں اور قبطیوں کے درمیان تھی یہ اندیشہ ہوسکتا تھا کہ ممکن ہے حضرت موسیٰ یہ خیال کریں کہ ایک فرعونی اس طرح انکو مرعوب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لفظ یسعی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جونہی ان کو معلوم ہوا کہ معاملہ نہایت سنجیدہ بلکہ خطرناک ہوچکا، وہ اعیان حکومت میں سے ہونے کے باوصف، بھاگے ہوئے حضرت موسیٰ کے پاس ان کی بستی میں آئے۔ ان کی یہ سرگرمی ان کی ہمدردی و خیر خواہی کی ایک نہایت اعلیٰ مثال ہے۔
Ayah 28:21نخرج منھا خآئفا یترقب قال رب نجنی من القوم الظلمین 21
اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ ڈرتے اور بچتے بچاتے ہوئے مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور چونکہ فرعونیوں کی طرف سے تعاقب کا اندیشہ تھا اس وجہ سے انہوں نے یہ دعا فرمائی کہ اے رب مجھے ان ظالموں کے شر سے نجات دے۔
Ayah 28:22حضرت موسیٰ ؑ کا قصد مدین اور اللہ کی راہ میں کام کرنے والوں کے لئے ایک سبق
اسلوب کلام سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ جس وقت مصر سے نکلے ہیں اس وقت انہوں نے اپنے سفر کی منزل متعین نہیں کی تھی۔ یہ فیصلہ انہوں نے بعد میں کیا کہ انہیں مدین کی طرف جانا چاہئے اور مدین کے معاملے میں بھی یہ بات ان کے ذہن میں واضح نہیں تھی کہ انہیں کس کے پاس اور کس مقام پر جانا چاہئے بلکہ بغیر کسی تعین کے مدین کی سمت کو اس امید کے ساتھ چل کھڑے ہوئے کہ رب کریم و کار ساز سیدھی راہ کی طرف رہنمائی فرمائے گا اور کسی مستقر پر پہنچائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت موسیٰ کا یہ نکلنا اس نوعیت کی ہجرت نہیں تھا جس کا مرحلہ ان کی بعثت کے بعد پیش آیا۔ ہجرت کے معاملے میں تو سنت الٰہی یہ رہی ہے کہ اس کا وقت بھی اللہ تعالیٰ نے خود مقررفما ای ہے اور اس کے تمام مراحل و منازل بھی اپنے رسول پر خود واضح فرمائی ہیں لیکن اس سفر میں حضرت موسیٰ ؑ کے سامنے اس طرح کی کوئی واضح غیبی رہنمائی نہیں تھی۔ بس متوکلا علی اللہ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے اسبی توکل نے ان کی دست گیری و رہنمائی کی۔ اس پہلو سے یہ واقعہ اللہ کے ان تمام بندوں اور بندیوں کے لئے نہایت سبق آموز ہے جن کو حق کی راہ میں کوئی ابتلاء پیش آئے۔ اگر وہ اللہ کے اعتماد پر کوئی قدم اٹھائیں گے تو ان کو خدا کی رہنمائی حاصل ہوگی اگرچہ اس کے لئے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح بشارت نہ ملی ہو۔
Ayah 28:23مآء سے مراد
مآء سے مراد چشمہ بھی ہوسکتا ہے اور کنواں بھی۔ تو رات میں کنوئیں ہی کا ذکر آیا ہے ویسے پہاڑی چشمے بھی کنوئوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔ بالعموم ان تک پہنچنے کے راستے نہایت تنگ ہوتے ہیں اس وجہ سے ان پر پانی پینا اور پلانا کوئی سہل کام نہیں ہوتا بالخصوص جب کہ پانی پینے پلانے والوں کی بھیڑ بھی ہو۔
ایک واقعہ کا حضرت موسیٰ پر اثر
حضرت موسیٰ ؑ مدین پہنچے تو اس کے کنوئیں یا چشمے پر بیٹھ گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ چرواہوں کی ایک بھیڑ اپنے اپنے گلوں کو پانی پلا رہی ہے اور دو عورتیں اپنیگ لے کو روکے ہوئے ان سے پرے کھڑی ہیں۔ لفظ تذرون سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا گلہ تو گھاٹ پر پہنچ کر پانی پہ پینے کے لئے آگے بڑھنے کے لئے زور لگا رہا ہے لیکن ان بیچاریوں کو زبردستی اس کو پیچھے ہٹانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ان سے پوچھا کہ تمہارے سامنے کیا مشکل ہے ؟ یہاں آ کر تم اپنے گلے کو کیوں رو کے کھڑی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے باپ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں گلے کی دیکھ بھال ہمیں کرنی پڑ رہی ہے اور ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس بھیڑ کے اندر گھس کر اپنے گلے کو پانی پلا سکیں اس وجہ سے ہمیں چرواہوں کے وپ اس ہونے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جب تک وہ اپنے گلے ہٹا نہ لیں ہم اپنے گلے کو پانی نہیں پلا سکتے۔
Ayah 28:24حضرت موسیٰ ؑ کا جذبہ حمایت ضعیف
ان شریف زادیوں کی یہ بات سن کر حضرت موسیٰ ؑ کا جذبہ حمایت ضعیف بھڑک اٹھا وہ اٹھے اور ان کی بکریوں کو انہوں نیپانی پلایا اور پانی پلا کر پھر اسی سایہ میں آ کر بھٹت گئے جس کے نیچے بیٹھے ہوئیت ہے اور دعا فرمائی کہ اے رب ! اس وقت جو چیز بھی تو میرے لئے نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں۔
چند قابل توجہ باتیں
یہاں چند باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں
ایک یہ کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ بات نایت اہم محسوس ہوئی کہ دو شریف لڑکیوں کو بکریاں چرانے کا پر مشقت نام کرنا پڑ رہا ہے اور وہ اس بےبسی کے ساتھ عین گھاٹ سامنے اپنی بکریوں کو روکے کھڑی ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس احساس کا اظہار ان کے ماخطبکما کے سوال سے ہو رہا ہے۔ عربی میں لفظ خطب کسی امر عظیم واہم ہی کے لئے آتا ہے اس وجہ سے ان کے اس سوال کے اندر یہ بات مضمر ہے کہ تمہیں کیا افتاد اور مشکل پیش آئی ہے کہ بکریوں کی چرواہی کی یہ پر مشقت خدمت تمہیں انجام دینی پڑ رہی ہے اور تم اس طرح اپنی بکریوں کو یہاں روکے کھڑی ہو، صاحبزادیوں نے حضرت موسیٰ ؑ کے سوال کو بالکل ٹھیک ٹھیک سمجھ کر جواب دیا کہ یہ خدمت ہمیں اس لئے انجام دینی پڑ رہی ہے کہ ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں اور ہم اپنی بکریوں کو اس لئے روکے کھڑی ہیں کہ ہم مردوں کی اس بھیڑ میں نہیں گھس سکتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دور میں بھی عورتوں اور مردوں کے دائرہ کار الگ الگ سمجھے جاتے تھے اور اگر عورتوں کو کسیمجبوری کے سبب سے کوئی اس طرح کی خدمت انجام دینی ہی پڑتی تھی جو مردوں کے دائرہ کار سے تعلق رکھنے والی ہو تو اس کو انجام تو دیتی تھیں لیکن محض بربنائے مجبوری اور وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ اور ان کے اندر گھل مل کر نہیں بلکہ پوری احتیاط اور رکھ رکھائو کے ساتھ، حتی الامکان مردوں سے الگ تھلگ رہتے ہوئے ایک طرف حضرت شعیب کے زمانے کے اس معاشرتی تصور کو سامنے رکھیے جس کی شہادت حضرت شعیب کی صاحبزادیوں اور حضرت موسیٰ کے اس واقعہ سے ملتی ہے۔ دوسری طرف اپنی قوم کے ان سماجی مصلحین کے دعوے پر غور کیجیے جو کہتے ہیں کہ عوتروں اور مردوں کا دائرہ کار بالکل ای کی ہی ہے اس لئے دونوں کو ہر میدان میں بالکل شانہ بشانہ کام کرنا چاہئے۔ یہ حضرات دلیل تو اپنے دعوے پر دیہاتوں کی غریب عوتروں کی زندگی سے پیش کرتے ہیں لیکن نتیجہ اس سے شہروں کی بیگمات کے لئے اخذ کرتے ہیں۔
دوسری چیز اس واقعہ میں قابل توجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے حمایت ضعیف کا حق تو فوراً پوری مستعدی سے ادا کردیا کہ یہ ان کی قتوت و مروت کا تقاضا تھا لیکن اس کے بعد ایک حرف بھی ان صاحبزادیوں کے سامنے ان کی زبن سے ایسا نہیں نکلا جس سے ان کی کسی پریشانی یا مسافرت یا ضرورت کا اظہار ہو بلکہ جس سایہ سے ان کی مدد کے لئے اٹھے تھے اسی سایہ میں آ کر پھر بیٹھ گئے اور اپنے رب سے دعا کی کہ اے رب جس منزل کو سامنے رکھ کر میں نے ادھر کا رخ کیا تھا وہ تو آگئی۔ اب بس تیرے فضل و رحمت کا انتظار ہے تو جو خیر بھی اس مرحلے میں میرے لئے نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں۔ اس دعا کی بلاغت کی تعبیر ہے زبان قلم قاصر ہے۔ صرف اہل ذوق ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ چونکہ یہ دعا بالکل صحیح وقت پر صحیح جذبے کے ساتھ بالکل صحیح الفاظ میں زبان سے نکلی اس وجہ سے اس کا اثر بلا کسی تاخیر کے ظاہر ہوا۔ صاحبزادیوں نے حضرت موسیٰ ؑ کے اس احسان کا ذکر اپنے باپ سے کیا اور اس طرح حضرت موسیٰ ؑ کے لئے اس خیر کی راہ کھل گئی جس کے لئے انہوں نے دعا فرمائی تھی۔
Ayah 28:25حضرت موسیٰ ؑ کے لئے خیر کی راہ
حضرت موسیٰ ؑ ابھی سایہ ہی میں بیٹھے تھے کہ ان میں سے ایک صاحبزادی لحباتی شرماتی ہوئی آئیں اور بولیں کہ آپ کو ہمارے والجد ماجد بلاتے ہیں کہ آپ نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے اس کا آپ کو صلہ دیں تو رات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روز صاحبزادیاں چونکہ معمول کے خلاف وقت سے پہلے فارغ ہو کجر گھر پہنچ گئیں اس وجہ سے حضرت شعیب نے ان سے پوچھا کہ آج تم اتنی جلدی کیسے چلی آئیں ؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ آج ایک مصری نے ہم پر یہ احسان کیا کہ اس نے ہماری بکریوں کو خود بھکر پانی پلا دیا۔ حضرت شعیب نے ان سے فرمایا تم نے انکو چھوڑ کیوں دیا ؟ جا کر ان کو بلا لائو کہ ہمارے ہاں روٹی کھائیں۔ باپ کے حکم کی تعمیل میں ایک صاحبزادی حضرت موسیٰ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بولیں کہ آپ کو ہمارے والد ملاتے ہیں کہ آپ نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے اس کا صلہ دیں۔ حضرت موسیٰ اس وقت اس طرح کی کسی مدد کے نہایت محتاج تھے۔ اس کو انہوں نے ایک تائید غیبی سمجھا اور فوراً اس کے ساتھ ہویے۔
شریف بیبیوں کے اطوار
یہاں تمشی علی الستحیآء کے الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ اوپر دونھم کے الفاظ سییہ بات واضح ہے کہ وہ چرواہوں کی بھیڑ سے بالکل الگ کھڑی ہوئی تھیں۔ یہ بات بھی اوپر گزر چکی ہے کہ انہوں نے اپنی اس کنارہ کشی کی علت یہ بیان فرمائی کہ مردوں کی بھیڑ سے بچنے کے لئے انہیں یہ زحمت اٹھانی پڑتی ہے کہ جب تک چرواہے یہاں سے ہٹ نہ جائیں وہ انتظار کرتی ہیں۔ پھر یہاں فرمایا کہ جب وہ حضرت موسیٰ ؑ کو بلانے کے لئے آئیں تو شرماتی ہوئی آئیں۔ یعنی یہ نہیں کیا کہ آ کر بےدھڑک حضرت موسیٰ کے سامنے کھڑی ہوجائیں بلکہ سمٹی سمٹائی، کپڑوں کو سنبھالے اور اپنی احتیاط کی جگہوں کو محفوظ کئے ہوئے آئیں اب سوال یہ ہے کہ واقعہ کی یہ جزئیات قرآن نے اس جز رسی کے ساتھ کیوں بیان فرمائی ہیں ؟ اس کا جواب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ قرآن ہر قدم پر یہ نمایاں کرنا چاہتا ہے کہ شریفانہ زندگی کے عادات واطوار کیا ہیں اور شریف بی بیوں کو مردوں کے معاملے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ یہی شریفانہ عادات واطوار ہیں جن کو قرآن نے ایک ضابطہ کی صورت میں سورة نور اور سورة احزاب میں ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ سورة نور کی تفسیر میں اس ضابطہ کی وضاحت ہم کرچکے ہیں اور خدا نے چاہا تو احزاب کی تفسیر میں اس کی مزید وضاحت ہوجائے گی۔ یہ امر بھی یہاں محلوظ رکھیے کہ یہ ان خواتین کے عادات واطوار بیان ہوئی ہیں جنہیں اپنی بکریوں کی چرواہی کرنی پڑتی تھی۔ تو جب ان کے لئے عند اللہ پسندیدہ روش یہ ہے تو ان خواتین کے لئے پسندیدہ روش کیا ہوگی جن کو اس طرح کی کوئی مجبوری نہیں ہے !
فلما جآءہ وقص علیہ القصص قال لاتخف نجوت من القوم الظلمین
حضرت موسیٰ ؑ حضرت شعیب کی خدمت میں
حضرت شعیب کی اس دعوت پر حضرت موسیٰ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کو اپنی ساری داستان سنائی۔ حضرت شعیب نے ان کا سارا ماجرسن کر فرمایا کہ اب تم کوئی اندیشہ نہ کرو۔ خدا نے ظالموں سے تمویں نجات دی۔ گویا اس طرح حضرت موسیٰ ؑ کو ان کی اس دعا کی قبولیت کی بشارت ملی گئی جو انہوں نے مصر سے نکلتے ہوئے بدیں الفاظ فرمائی تھی۔ رب نجنی من القوم الظلمین
Ayah 28:26یہاں احد لھما، کے اعادے سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے حق میں یہ سفارش حضرت شعیب کی دوسری صاحبزادی نے فرمائی۔ اگر انہی نے یہ سفارش کی ہوتی جو ان کو بلانے کے لئے گئی تھیں تو یہاں فاعل کے اعادے کی ضرورت نہیں تھی۔
صاحب کردار کے کردار کا اندازہ ایک نظر کہہ دیا جاتا ہے
حضرت شعیب کو اپنے گلے کی دیکھ بھال کے لئے ایک مددگار کی ضرورت تو تھی ہی اور قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ کسی موزوں آدمی کی تلاش میں بھی تھے۔ اس وجہ سے صاحبزادی صاحبہ نے سفارش کی کہ انہی کو ملازم رکھ لیجیے۔ بہترین ملازم وہی ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔ یہ قوی بھی ہیں اور ساتھ ہی امانت دار بھی۔ جہاں تک جسمانی صحت و قوت کا تعلق ہے یہ ایک ایسی کھلی ہوئی چیز ہے کہ آدمی بیک نظر اس کا اندازہ کرسکتا ہے لیکن امانت و دیانت کا تعلق کردار سے ہے جس کا صحیح صحیح اندازہ تجزیہ سے ہوتا ہے۔ یہ تجزبہ عام حالات میں تو بہت دیر میں ہوتا ہے لیکن بعض حالات میں بالکل باول وہلہ ہوجاتا ہے۔ آدمی کو پیشانی اور اس کی نگاہیں گواہی دیتی ہیں کہ یہ کس کردار کا آدمی ہے۔ صاحبزادی صاحبہ نے حضرت موسیٰ کی مروت، بےنیازی اور پاکیزہ نگاہی کا تجربہ تو خود ہی کرلیا تھا پھر ان کی فتوت کی وہ سرگزشت، جو حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت شعیب کو سنائی، سن کر ان پر یہ حقیقت بالکل واضح ہوگئی کہ اس عزم و ہمت کے آدمی کے اندر اگر امانت و دیانت نہ ہوگی تو بھلا کس میں ہوگی !
Ayah 28:27حضرت شعیب کی پیشکش
حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ ؑ کے سامنے یہ پیشکش فرمائی کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح اس شرط پر تمہارے ساتھ کر دوں کہ تم آٹھ سال میری خدمت کرو اور اگر تم نے دس سال پورے کردیئے تو یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے میں اس معاملے میں تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔ ویسے انشاء اللہ تم مجھے بھلے آدمیوں میں سے پائو گے۔ قرینہ دلیل ہے کہ حضرت شعیب نے یہ پیشکش اشارہ غیبی پر فرمائی ہوگی اور ان کا یہ ارشاد کہ وما ارید ان اشق علیک حضرت موسیٰ ؑ کو معاملہ پر غور کر کے فیصلہ کرنے کے لئے ایک مہلت تھی کہ وہ اس شرط پر اچھی طرح غور کر کے فیصلہ کریں، ان کے دبائو میں آ کر مجبوراً کوئی فیصلہ نہ کریں۔
یہاں مہر کے معاملے پر کسی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ مہر کا تعلق کلتۃ لڑکی کی مرضی سے ہے۔ اگر باپ اس کا نکاح کسی ایسی شرط پر کر دے جو جائز ہو اور لڑکی اس پر راضی ہو تو اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔
Ayah 28:28حضرت موسیٰ ؑ کی طرف سے پیشکش کی منظوری
حضرت موسیٰ ؑ نے یہ پیشکش اور یہ شرط دذونوں منظور کرلیں۔ فرمایا کہ ان دونوں مدتوں میں سے جو مدت بھی میں پوری کرسکا مجھے اس کا اختیار حاصل رہے گا۔ نقول یہاں قول وقرار اور عہد و پیمان کے مفہوم میں ہے یعنی اس وقت ہم جو قول وقرار کر رہے ہیں اس پر ہم اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں۔
Ayah 28:29مصرکو واپسی اور جلوہ طور کا مشاہدہ
حضرت موسیٰ ؑ موعودہ مدت پوری کرنے کے بعد اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر کے لئے روانہ ہوئے۔ اس بات کی تصریح قرآن یا تورات میں نہیں ہے ہے کہ انہوں نے آٹھ سال کی مدت پوری کی یا وہاں دس سال گزارے۔ البتہ تورات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ انکے ساتھ بیوی کے سوا آپ کے دو بچے بھی تھے جب جبل طور کے قریب پہنچے تو رات اندھیری تھی اور سردی بھی تھی۔ اندھیرے میں راستہ کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ اتنے میں طور کی جانب سے آگ کی ایک چمک سی دکھائی دی۔ آپ نے بیوی بچوں سے فرمایا، تم لوگ یہیں ٹھہرو، مجھے آگ کی چمک نظر آئی ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں۔ اگر وہاں کچھ لوگ ہوئے تو راستہ کی خبر لاتا ہوں ورنہ آگ ہی کا ایک انگارہ لائوں تاکہ تم لوگ تاپ سکو۔
Ayah 28:30اس آیت کے تمام اجزاء کی وضاحت سورة طہ اور سورة نمل وغیرہ کی تفسیر میں پیچھے گزر چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ اس جگہ پہنچے جہاں سے ان کو آگ نظر آئی تھی تو وادی مبارک کے کنارے سے، جو مبارک خطہ میں تھی، ایک خاص درخت سے یہ آواز آئی اے موسیٰ ! یہ تو میں ہوں، اللہ، عالم کا خداوند !
یہاں آواز کی نشان دہی کے لئے تین ظرف مذکور ہوئے ہیں، ایک یہ کہ یہ آواز وادی مبارک کی سمت سے آئی، دوسرا یہ کہ یہ وادی، مبارک خطہ میں تھی، تیسرا یہ کہ یہ آواز ایک خاص درخت سے آئی۔ ان تمام تعینات کے ذکر سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ حضرت موسیٰ کو یہ آواز فضائے لامتناہی کے اندر ایک مبہم و بےجہت آواز کی صورت میں نہیں بلکہ تعین جہت و مقام کے ساتھ ایک مبارک وادی، ایک مبارک خطہ اور ایک مبارک درخت سے سنائی دی۔ کسی وادی یا خطہ یا درخت کا مبارک ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے نور و ظہور کے لئے انتخبا فرمایا اور اس کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ اس کے قدوسیوں کی جلوہ گاہ اور ہر قسم کی شیطانی در اندازی سے پاک و محفوظ ہو۔ سورة نمل کی آیت 8 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
پہلی آواز جو حضرت موسیٰ ؑ کو نسائی دی
انی انا اللہ رب العلمن اوپر کے ٹکڑے میں آواز کے محل و مقام کی پاکی و برتری کا اظہار تھا۔ یہ وہ آواز ہے جو سب سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ کو سنیا دی۔ ارشاد ہوا کہ تم تو آگ سمجھ کر یہاں آگ لینے آئے ہو لیکن یہاں آگ نہیں بلکہ میں ہوں، اللہ، عالم کا خداوند ! یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات والا صفات کا تعارف کرایا ہے۔ رب العلمین کے مضمرات بہت وسیع ہیں اس وجہ سے بعض مقامات میں یہی مضمون دور سے الفاظ میں بھی وارد ہوا۔ مثلاً سورة نمل میں ہے انہ انا اللہ العزیز الحکیم یہ اسی رب العلمین ہی کے مضمون کی وضاحت دوسرے الفاظ میں ہے۔