Ayah 28:31پہلا معجزہ
ساتھ ہی یہ ہدایت ہوئی کہ اپنا عصا زمین پر ڈال دو۔ حضرت موسیٰ نے اس ہدایت کی تعمیل کی تو دیکھا کہ عصا سانپ کی طرح حرکت کرنے لگا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ سخت دہشت زدہ ہوئے اور اس طرح پیچھے کو بھاگے کہ اس کی طرف مڑ کے دیکھنے کی بھی جرأ نہیں کی۔ ولم یعقب کی وضاحت سورة نمل کی آیت کے تحت ہوچکی ہے۔
حضرات انبیاء پر ابتدائی مشاہدات کا اثر
حضرت انبیائے کرام (علیہم السلام) کو نبوت کے ابتدائی مشاہدات بالکل بےسان گمان پیش آتے ہیں، نہ ان کے ذہن میں پہلے سے ان کا کوئی تصور ہوتا، نہ ارمان، اس وجہ سے شروع شروع میں وہ ان سے گھبراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بالتدریج ان سے مانوس کردیتا ہے۔ ساحروں، کا ہنوں، متنبیوں اور مفتریوں کے ذہن میں تو پہلے سے ایک اسکیم ہوتی ہے اور وہ اس کے لئے بہت سے پاپڑ بیلتے ہیں اور جب ان کو عوام فریبی کے لئے کوئی اشغلہ ہاتھ آجاتا ہے تو اس کو اپنی بہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں لیکن حضرات انبیائے کرام اس قسم کے دساوس سے بالکل پاک ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو کوئی معجزہ دیا جاتا ہے تو وہ ان کے لئے ایک بالکل انوکھی چیز ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ جس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے جانے والے تھے اس کے ساحروں کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ وہ اپنی لاٹھیوں اور سیوں کو سانپ بنا دیتے اور اس فن کو حاصل کرنے کے لئے نہیں معلوم ہو کیا کیا ریاضتیں کرتے اور جب اس میں کامیاب ہوجاتے تو سمجھتے کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی مراد حاصل ہوگئی لیکن حضرت موسیٰ کا حال یہ ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی لاٹھی کو سانپ بنا دیا تو وہ اس سے خوف زدہ ہو کر بھاگے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے اس ابتدائی مشاہدہ کے اس پہلو کو خاص طور پر اسی لئے نمایاں فرمایا ہے کہ آپ کے جس معجزے کو فرعونیوں نے سحر و ساحری کا کرشمہ قرار دیا اس کو دیئے جانے کے وقت حضرت موسیٰ پر کیا گزری !
یموسی اقبل ولاتخف انک من الامنین۔ حضرت موسیٰ پر یہ اضطراری دہشت جب طاری ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے نہایت رافت کے ساتھ ان کو اطمینان دلایا کہ اے موسیٰ ! آگے بڑھو، اس کو اٹھائو، اس سے تمہارے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ خطرہ ہے تو تمہارے دشمنوں کے لئے ہے۔ تم ہر قسم کے خطرے سے محفوظ ہو۔ سورة نمل میں یہی مضمون لایخاف لدی المرسلون کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ یعنی تم تو ہمارے ایک رسول ہو۔ ہم اپنے رسولوں کو اپنے خاص اسلحہ سے مسلح کرتے ہیں۔ ان سے جو خطرہ پیش آنا ہے وہ ہمارے دشمنوں کو پیش آتا ہے نہ کہ ہمارے رسولوں کو۔
Ayah 28:32اسلک یدک فی جیباک تخرج بیضآء من غیر سوٓء واضمم الیک جناحک من الرھب فذنک برھانن من ربک الی فرعون وملا بہ الھمم کانوا قوماً فسقین (32)
دوسرا معجزہ اور اس کے ظہور کا طریقہ
یہ دوسرے معجزے کے ظہور کا طریقہ بنایا گیا کہ تم اپنا ہاتھ کو بیان میں ڈالو، پھر جب اس کو لگا لو کے تو وہ بغیر کسی مرض کے چٹا سفید نکلے گا۔ واضمم الیک جناحک من الرھب یہ ہاتھ کو گریبان میں ڈالنے کا طریقہ بتایا گیا کہ جس طرح کوئی شخص ڈر سے اپنے بازو بھینچ لاتا ہے اس طرح تم اپنے ہاتھ بازو کے اندر ڈال کر اس کو بھینچ لو۔ یہی مضمون سورة طہ میں یوں بیان ہوا ہے۔
واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضآء من غیر سوٓء (22)
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان کی طرف سیکڑلو وہ وہاں سے بغیر کسی مرض کے سفید برآمد ہوگا۔
من الرھب یہاں اسی طرح آیا ہے جس طرح دوسرے مقامات میں من الذل یا من الرحمۃ وغیرہ الفاظ آئے ہیں۔
فذبک برھانن من ربک الی فرعون وملائہ انھم کانوا قوماً فقین الی سے پہلے یہاں کوئی یفعل محذوف ہے جس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں، آگے بھی آرہی ہیں۔ یعنی اپنے رب کی طرف سے ان دو واضح نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس انذار کے لئے جائو انھم کانوا قوماً فقین میں اس بات کی توجیہ ہے کہ تمہیں ان عظیم نشانیوں سے کیوں مسلح کیا گیا ہے اور فرعون اور اس کی قوم کے پاس نم ہیں کیوں بھیجا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ اس لئے کہ وہ بڑے ہی نافرمان اور سرکش ہوگئے ہیں۔ ان کو اس سرکشی کے انجام سے آگاہ اور ان واضح نشانیوں کے ذریعہ سے ان پر حجت تمام کر دو۔
Ayah 28:33حضرت موسیٰ کا ایک اندیشہ
حضرت موسیٰ اس عظیم مہ کے لئے حکم الٰہی کی تعمیل میں تیار تو ہوگئے لیکن ساتھ ہی اپنے ایک اندیشہ کا بھی انہوں نے اظہار فرمایا کہ میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے اس وجہ سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے دیکھتے ہی قتل کردیں گے۔ حضرت موسیٰ کا مطلب یہ تھا کہ یوں تو میں آٹھ دس سال باہر گزارنے کے بعد مصر جا رہا ہوں اس وجہ سے گمان ہے کہ شاید وہ اس واقعہ کو بھول چکے ہوں لیکن ایک رسول کی حیثیت سے اگر میں ان کے اس گیا تو بھلا وہ کب مجھے معاف کرنے والے ہیں۔
Ayah 28:34ردء کے معنی مددگار و معین کے ہیں۔ دوسرے مقامات میں اسی مفہم کے لئے وزیر استعمال ہوا ہے۔
یصدقنی یعنی یویدنی وہ میری مدد کریں۔
حضرت ہارون کے تعاون کی درخواست
یہ حضرت موسیٰ نے اپنی ایک اور مشکل کا اظہار فرمایا۔ سورة طہ کی تفسیر میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ وہ اپنی اس عظیم ذمہ داری کے اعتبار سے اپنی قوت بیان میں کمی محسوس فرماتے تھے اس وجہ سے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست بھی کی کہ میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں، انہیں اس کام میں میرا مددگار بنا دے کہ وہ میری تائید و مدد کریں۔ یہی بات دوسرے مقام میں یوں مذکور ہوئی ہے کی تسبح کثیرونذکرک کثیراً (طہ 34-33) (تاکہ ہم دونوں مل کر تیری زیا ادہ سے زیادہ تسبیح کریں اور تیرا زیادہ سے زیادہ چرچا پھیلائیں)…ان اخاف ان یکذبون یعنی مجھے یہ ڈر ہے کہ وہ میری بات آسانی سے نہیں مانیں گے بلکہ مجھے جھٹلانے کی کوشش کریں گے اس وجہ سے میری مدد ایک فصیح اللسان آدمی کے ذریعہ سے فر کر ہم دونوں مل کر پوری قوت سے ان پر اتمام حجت کریں۔
Ayah 28:35سلطان سے مراد یہاں غلبہ دبدبہ اور ہیبت ہے۔
بایتنآ میں دو امکان ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو نجعل تکما سلطانا سے متعلق مانیے یعنی ہم اپنے معجزات کے ذریعہ سے فرعونیوں پر تمہارا دبدبہ قائم کردیں گے۔ دوسرا یہ کہ اس سے پہلے کوئی محذوف مانیے جس کی مثال اوپر آیت 32 میں گزر چکی ہے۔
فرعونیوں پر حضرت موسیٰ کا رعب ان کو یہ اطمینان بھی دلا دیا کہ تم خاطر جمع رکھو۔ ہم فرعونیوں پر تمہارا ایسا رعب و دبدبہ قائم کردیں گے کہ وہ تم پر دست درازی کی جرأت نہ کرسکیں گے۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان پہلے ہی مقابلے میں حضرت موسیٰ سے اتنے مرعوب ہوگئے کہ ان سے پیچھا چھڑانے کی دل تمنا رکھنے اور اپنی تمام سطوت و طاقت کے باوجود ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرسکے اس کا بڑا سبب جو تورات لے مطالعہ مطالعہ سے واضح ہوتا ہے یہ کہ فرعون اور اس کے اعیان حضرت موسیٰ کو جھوٹا آدمی نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کو یقین تھا کہ یہ سچے آدمی ہیں۔ لیکن ان کی دعوت چونکہ ان کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آتی تھی اس وجہ سے اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ تاہم وہ جانتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو کوئی گزند پہنچایا تو ہماری خیر نہیں ہے۔ اس وجہ سے تمام عناد و مخاصمت کے باوجود انہوں نے ان کے قتل کی جرأت نہیں کی۔ تورات سے یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ جب مصر پر کوئی آفت آتی تو وہ حضرت موسیٰ ہی سے درخواست کرتے کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ آفت ٹل جائے۔
Ayah 28:36جب حضرت موسیٰ ان روشن اور ناقابل تردید نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے معجزات کو تو جادو کا کرشمہ قرار دیا اور ان کی دعوت توحید کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ یہ ہمارے آبائو اجاد کی روایات کے بالکل خلاف ہے۔ سحر مفتری یعنی حضرت موسیٰ یہ کرشمے دکھاتے تو ہیں اپنے جادو کے زور سے لیکن ہم پر رعب جمانے کے لئے جھوٹ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ یہ معجزے ہیں جو ان کو خدا کی طرف سے عطا ہوئے ہیں۔ ماسمعنا بھذا فی ابآئنا الاولین کا اشارہ حضرت موسیٰ کی دعوت توحید کی طرف ہے۔ یعنی ان کا یہ دعویٰ کہ یہ رب العالمین کے رسول ہیں بالکل انوکھا اور نرالا دعویٰ ہے۔ ہم نے اپنے اگلوں سے کسی رب العالمین کا ذکر کبھی نہیں سنا۔ آگے آیت 38 میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔ یہ بعینیہ وہی بات ہے جو دوسرے مقامات میں ماسمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ کے الفاظ میں گزر چکی ہے۔
Ayah 28:37مستقبل سے متعلق حضرت موسیٰ کا چیلنج
یہ مستقبل سے متعلق حضرت موسیٰ کا ان کو چیلنج ہے کہ تم لوگ مجھے مفتری قرار دے رہے ہو تو میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور کون لوگ جانتے بوجھتے اس کو جھٹلا رہے ہیں ! کن کو انجام کار کی کامیابی حاصل ہونے والی ہے اور کون مغلوب و مامراد ہونے والے ہیں ؟ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ حضرت موسیٰ نے نہایت بلیغ اور شائستہ اسلوب میں یہ اعلان فرما دیا کہ میں اور میرے ساتھی انشاء اللہ غالب و فتحمند رہیں گے اور تم لوگ ذلیل و خوار ہو کر رہو گے۔
یعنی یہ حقیقت بہرحال اپنی جگہ پر اٹل ہے کہ جو لوگ خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کی تکذیب کریں گے وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں اور یہ ظالم ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔ اسلوب کلام دلیل ہے کہ یہاں مقابل کا جملہ حذف ہے۔ ہم نے اس کی ضاحت کردی ہے۔
Ayah 28:38ھامان کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ یہاں سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کو فرعون کے وزیر اعظم یا کم از کم وزیر تعمیرات کی حیثیت حاصل تھی۔
فرعون کا استہزاء ارتد علی الطائن کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ اینٹوں کا پزاوہ مگوا اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ مٹی کی عمارت بنوا کر اس پر آگ دہکا تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نینوا اور مصر وغریہ میں تعمیر کا یہ طریقہ معروف رہا ہے کہ مٹی کا مکان بنا کر اس پر خوب آگ دہکاتے جس سے دیواروں پر مینا کاری کی صورت پیدا ہوجاتی اور وہ بارش و ہوا کے اثرات سے بالکل محفوظ ہوجاتیں۔
لعلی اطلع الی الہ موسیٰ میں الی کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں تضمین ہے۔ گویا پوری بات یوں ہے لعلی اطلع علی الصرح فانظرالی الہ موسیٰ ظاہر ہے کہ اس نے یہ بات محض حضرات موسیٰ کا مذاق اڑانے کے لئے کہی۔ سورة زخرف کی آیت 47 سے بھی اس کی نوعیت محض مذاق و استہزاء ہی کی معلوم ہوتی ہے۔
فرعون نے پہلے تو اپنے درباریوں کو مخاطب کر کے کہا کہ موسیٰ ؑ جس رب العالمین کے رسول بن کر وارد ہوئے ہیں مجھے تو اس رب العلمین کا کوئی علم نہیں ہے۔ تمہارا معبود اپنے سوا میں کسی کو نہیں سمجھتا۔ مطلب یہ ہے کہ اس فتنہ سے تم لوگ ہوشیار رہو۔ اس کے بعد ہامان سے مخاطب ہو کر اس کے کہا کہ اے ہامان،
تم یہ کرو کہ اینٹوں کا ہزاوہ لگوا کر ایک اونچی عمارت بنوائو تاکہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں کہ وہ کہاں بیٹھا ہوا ہے ! میں تو اس شخص کو بالکل جھوٹا سمجھتا ہوں۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ فراعنہ و متمردین بسا اوقات نہایت واضح حقائق کا اسی طرح مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے اندھے پیروکاروں کے لئے یہی مذاق دلیل بن جاتا ہے بلک ہکتنے احمق تو اس کے مذاق کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ فرعون کے پرستاروں کے لئے کھ بعید بھی نہیں کہ وہ اس کو حقیقت سمجھتے ہیں اس لئے اس کی حیثیت مصریوں کے نزدیک ان کے سب سے بڑے دیوتا …سورج … کے ہونہار کی تھی۔ ایک اوتار کے لئے آسمانوں کے اطراف و جوانب میں جھانک لینا کیا مشکل ہے سوہ مومن میں اس کا یہ قول یوں نقل ہوا ہے۔ یھامن ابن بی صرحاً نعلی بلغ الاسباب اسباب السموت (المومن 36-36) (اے ہامان، میرے لئے ایک اونچی عمارت بنوا تاکہ میں آسمان کی اطراف میں پہنچوں) اس پہلو سے اس کی یہ بات اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کی ایک چال بھی ہو سکتی ہے۔
Ayah 28:39واستکبر ھروجنودہ فی الارض بغیر الحق وظنوا انھما لینا لایرجعون 39
استکبار بغیر الحق
بعی بغیر الحق کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ وہی مفہوم استکبار بغیر الحق کا بھی ہے اس زمین و آسمان میں استکبار کا حق صرف اس کو حاصل ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کے نظام کو چلا رہا ہے۔ جن کو نہ ان کے خلق میں کوئی دخل اور نہ جن کا ان کے تدبیر و انتظام میں کوئی حصہ اگر وہ اس میں اکڑیں اور اپنی مالکیت کے مدعی بن کر اٹھیں تو یہ انکی شامت کی دلیل ہے۔ اس قسم کے استکبار کو اس کائنات کا خالق زیادہ مہلت نہیں دیتا۔ یہ ابھی یہاں ملحوظ رہے کہ اس زمین کے بادشاہی حقیقی کے حکم و قانون کے خلاف کوئی قانون اس میں جاری کرنا بھی استکبار بغیر الحق، میں داخل ہے اور یہ ٹھیک ٹھیک اسوہ فرعون کی پیروی ہے۔
وظنوا انھم الینا لایرجعون یہ اس استکبار کی علت بیان ہوئی ہے کہ وہ اس وجہ سے اس میں مبتلا ہوئے کہ انہوں نے یہ گمان کیا کہ خدا نے ان کو شتر بےمہار بنا کر چھوڑا ہے اور ان کو اس کے سامنے کبھی جواب دہی کے لئے حاضر ہونا نہیں ہے۔
Ayah 28:40استکبار کا انجام
یہ اس استکبار کا انجام بیان فرمایا کہ ہم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو پکڑا اور ان کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ ان کے پکڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو تدبیر اختیار فرمائی اس کی پوری تفصیل پچھلی سورتوں، بالخصوص سورة طحہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ فانظرکیف کان عاقبۃ الظلمین یہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گی ہے جس کو واضح کرنے ہی کے لئے یہ سرگزشت منائی گی ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی بھی ہے اور ان فرعونوں کے لئے تنبیہ بھی جو آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی دعوت کے معاملے میں بالکل اسی روش پر چل رہے تھے جو روش حضرت موسیٰ کے مقابل میں فرعون اور اس کے اعوان و انصار نے اختیار کی تھی۔
Ayah 28:41جعلنا یہاں امھلنا کے مفہوم پر متضمن ہے جس کی مثالیں گزر چکی ہیں اور یدعون سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے۔
یہ اسی استکبار کے انجام کی مزید تفصیل ہے کہ ہم نے دنیا میں ان کو ڈھیل دی اور وہ جہنم کی طرف دعوت دینے والے لیڈر بنے رہے اور قیامت کے روز ان کا حال یہ ہوگا کہ کسی طرف سے ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی۔ دنیا میں وہ جن کے امام و پیشوا بنے رہے وہ سب ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت ہوگی۔ نہ لیڈرمردوں کے کچھ کام آسکیں گے اور نہ مرد لیڈروں کے۔
Ayah 28:42جس دنیا میں وہ لیڈری اور پیشوائی کرتے رہے اور لوگوں سے اپنے نعرے لگواتے رہے، فرمایا کہ اس میں ہم نے انکے پیچھے ہمیشہ کے لئے لعنت لگا دی اور آخرت میں بھی وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ یہی مضمون سورة ہود میں یون بیان ہوا ہے۔
(ھود :99-97)
تو انہوں نے فرعون کی رائے کی پیروی کی اور فرعون کی رائے صائب نہ تھی وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور ان کو دوزخ کے گھاٹ پر اتارے گا اور کیا ہی برا ہوگا یہ گھاٹ ! اور اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگ ادی گئی اور قیامت کے دن بھی، اور کیا ہی برا ہوگا یہ صلہ جو ان کو ملے گا !
Ayah 28:43مظلوموں پر انعام
ظالموں کا انجام واضح کرنے کے بعد یہ اس فضل و انعام کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مظلوموں پر فرمایا ہے۔ اور جس کی طرف اس سرگزشت کی تمہید ”ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا …الآیۃ کے الفاظ سے اشارہ گزر چکا ہے فرمایا کہ ہم نے پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس کتاب کی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ لوگوں کے لئے بصیرت، ہدایت اور رحمت تھی۔ بصیرت، یعنی دل و دماغ کی صلاحیتیں اور تعقل و تفکر کی قوتیں پیدا کرنے والی اس کو بصورت جمع لانے سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ وہ ایسی آیات اور ایسے دلائل پر مشتمل تھی جو آنکھیں کھول دینے والی تھیں۔ ھدی و رحمۃ کی وضاحت ہم کرچکے ہیں کہ یہ دونوں لفظ جب ساتھ ساتھ آتے ہیں تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ آغاز، یعنی اس دنیا کی زندگی میں، ہدایت اور انجام یعنی آخرت کی زندگی میں رحمت۔
یہ واضح رہے کہ کسی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب و شریعت کا دیا جانا دنیا کی امت و پیشوائی دیئے جانے کے ہم معنی ہے بشرطیکہ وہ اس نعمت کی قدر کرے۔ بنی اسرائیل کو یہ نعمت سب سے پہلے دی گئی۔ یہاں من بعد مآ اھلکنا القرون الاولی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ باقاعدہ کتابی شکل میں، اللہ کی یہ سب سے بڑی نعمت سب سے پہلے حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے بنی اسرائیل ہی کو ملی لیکن انہوں نے اس کتاب کے ساتھ نہایت بےدروانہ سلوک جس کی تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
Ayah 28:44آنحضرت کی رسالت کا اثبات
سرگزشت کے آخر میں یہ اور اس کے بعد آیتیں نبی ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں جن میں آپ کی نبوت کا اثبات ہے اور کلام کا رخ یہود کی طرف بھی ہے اور قریش کی طرف بھی فرمایا کہ تم موسیٰ کو کتاب دیے جانے کے وقت نہ تو طور جانب ہی میں موجود تھے جب کہ ہم نے معاملہ کا فیصلہ کر کے اس سے موسیٰ کو آگاہ کیا اور نہ ان لوگوں کے ساتھ ہی موجود تھے جو اس وقت پہاڑ کے نیچے موسیٰ کی قوم میں سے تورات کے انتظار میں تھے۔
بجانب الغربی یعنی بجانب الطور الغربی
قضینا الی موسیٰ الامر قضینا یہاں عھدنا کے مفہوم پر متضمن ہے جس طرح دوسرے مقام میں عدھنا الی ابراہیم آیا ہے۔
وما کنت من الشھدین میں شاھدین سے مراد حضرت موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں۔ یہ اس وقت کی بات کا حوالہ ہے جب حضرت موسیٰ اپنی قوم کو دامن کوہ میں چھوڑ کر، اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق تورات لینے، تنہا طور پر تشریف لے گئے۔ اس اثناء میں قوم طور کے نیچے حضرت موسیٰ کا انتظار کرتی رہی اور اسی موقع پر سامری کا فتنہ پیش آیا ہے۔ تفصیل ان تمام واقعات کی پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔
مقصود کلام یہ ہے کہ تورات دیئے جانے کے وقت نہ تو تم حضرت موسیٰ کے ساتھ ہی موجود تھے اور ونہ ان کی قوم ہی کے ساتھ تو آخر یہ ساری سرگزشت اس صحت و صداقت اور اس تفصیل کے ساتھ تمہیں کس طرح معلوم ہوئی ؟ یہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ اللہ نے ان باتوں سے تمہیں اپنی وحی کے ذریعہ سے آگاہ فرمایا اور تم اس کے رسول ہو۔
یہ امر محلوظ رہے کہ حضرت موسیٰ کی سرگزشت جس تفصیل اور جس صحت و صداقت کے ساتھ قرآن میں بیان ہوئی ہے اس تفصیل و صحت کے ساتھ تورات میں نہیں بیان ہوئی ہے۔ اگر آپ سرگزشت کے اتنے ہی حصے کو لے کر، جتنی اس سورة میں بیا نہوئی ہے، تورات کے بیان سے اس کا موازنہ کیجیے تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ قرآن کے بیان کے مقابل میں تورات کا بیان لئے بط اور محرف بھی ہے اور ان تمام ضروری اجزاء سے خالی بھی جو اس سرگزشت کی اصل روح ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس صحت و صداقت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو کس طرح معلوم ہوئیں ؟ اگر کوئی ہٹ دھرم یہ کہے کہ آپ نے یہ باتیں اہل کتاب سے سن کر نقل کیں تو یہ بالبداہت غلط ہے۔ جو شخص سنی سنائی بات نقل کرتا ہے وہ مشہور روایت کے مطابق نقل کرتا ہے نہ کہ اس سے بالکل مختلف اور وہ بھی ایسی صحت و تنقید کے ساتھ کہ جو منصف بھی اس کو سنے پکار اٹھے کہ واقعہ کی اصل نوعیت یہ ہے جو قرآن نے بیان کی ہے نہ کہ وہ جو تورات کے راویوں نے پیش کی ہے اگر طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں قرآن اور تورات دونوں کے بیانات کا مقابل ہکر کے دکھاتا کہ تورات میں سرگزشت کے اصل اجزاء یا تو غائب ہیں یا بالکل مسخ شدہ صورت میں ہیں۔ برعکس اس کے قرآن نے واقعہ کے تمام فطری اجزاء ایسے منطقی ربط و تسلسل کے ساتھ پیش کئے ہیں کہ ان کی موعظت و حکمت آپ سے آپ دل میں اترتی جاتی ہے۔
Ayah 28:45اس آیت کے ابتدائی ٹکڑے کا تعلق اوپر والی آیت سے ہے یعنی تم ان احوال سے واقف نہیں تھے لیکن ہم نے تم کو واقف کیا اور یہ اس لئے کیا کہ موسیٰ کے بعد ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں تو ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا اور لوگ ہماری اس کتاب کو بھلا بیٹھے جو ہم نے ان کو ہدایت و رحمت بنا کر عطا کی تھی اس وجہ سے ضروری ہوا کہ ہم تمہارے ذریعہ سے اس ہدایت کو از سر نو زندہ کریں۔ یہاں لطاول علیھم العمر کے بعد منسوالذکرا اس کے ہم معنی الفاظ بر بنائے قرینہ محذوف ہیں۔
وماکنت ثاویا فی امسل مدین یعنی جس طرح تم موسیٰ کو تورات دیئے جانے کے وقت طور کے جانب غربی میں موجود نہیں تھے اسی طرح مدین میں بھی موجود نہ تھے کہ حضرت موسیٰ کے اس دور کے حالات سے واقف ہو سکتے جو انہوں نے مدین میں گزاریا حضرت شعیب کی دعوت اور ان کی رقوم کے انجام سے واقف ہوتے۔ ان چیزوں میں سے تم کسی چیز سے بھی واقف نہ تھے لیکن ہم نے تم کو ان سے واقف کیا کہ جس طرح ہم نے پہلے رسول بھیجے اسی طرح تمہیں رسول بنائیں۔ کنا مرسین اسی طرح کا اسلوب جس طرح کنافاعلین ہے۔ یہ اسلوب کلام کس فیصلہ قطعی اور عزم جازم کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ اھل مدین کے بعد تتلوا علیھما ایتنا کے اضافہ سے یہاں اشارہ حضرت شعیب کی سرگزشت کی طرف بھی ہوگیا جو قرآن کی متعدد سورتوں میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں کے لوگوں پر انداز و تشبیر کا فرض انجام دینے پر تم تو مامور نہ تھے لیکن خدا نے تم کو وہاں کے حالات سے بھی باخبر کیا۔ یہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ تم سے بھی وہی کام لے جو تم سیپہلے مبعوث ہونے والے رسولوں سے اس نے لیا۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہ سمجھیں۔
Ayah 28:46یعنی جس طرح تم مدین میں موجود نہ تھے اسی طرح تم طور کے پہلو میں بھی اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو آواز دی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس آواز دینے کی طرف جس کا ذکر آیت 3 میں گزرا ہے۔ فلما اتھا نودی من شاطی و الراد الایمن الآیۃ مطلب یہ ہے کہ تم ان ساری باتوں سے بیخبر تھے لیکن رحمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ وہ تم کو رسول بنائے اس وجہ سے اس نے تم کو ان باتوں سے باخبر کیا اور یہ تمہاری رسالت کی نہایت واضح دلیلیں ہیں۔ رحمۃ سے پہلے ارسلناک یا اس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف ہے۔
آنحضرت کی بعثت کا مقصد
لتذرقوما ما اتھم من نذیر من قبلک لعلھم یتذکرون یہ آنحضرت ﷺ کے اصل مقصد بعثت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارا اہتمام اس لئے فرمایا کہ تم اس قوم کو اقدار کرو جس کے پاس اس سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔ یہ اشارہ ہی اسماعیل کی طرف ہے۔ یہ لوگ کتاب و شریعت سے بیخبر امی تھے۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے ان کے اندر کسی رسول کی بعثت نہیں ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعا کے مطابق جس کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں، ان کی ہدایت کے لئے نبی امی ﷺ کو انہی کے انر سے مبعوث فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی رحمت ہے جو ان پر نازل ہوئی ہے اگر یہ اس کی قدر کریں اور اس کے اندر یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو یہ ان کے لئے بہت بڑی نعمت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اگر کوئی خدا کے بھیجے ہوئے منذر کے انذار سے یاد دہانی نہیں حاصل کرتی تو وہ تباہ کردی جاتی ہے۔
Ayah 28:47آگے کا مضمون …61-47
اوپر کی آیات التفات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا اسی طرح آنحضرت ﷺ کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی بعثت بہت بڑی رحمت ہے اگر وہ اس کی قدر کریں گے اور یہ بہت بڑی نقمت بھی ہو سکتی ہے انہوں نے اس کی ناقدری کی آگے اسی مضمون کی مزید وضاحت فرمائی ہے کہ اس رسول کی بعثت سے مقصود اتمام حجت ہے۔ اب اگر یہ لوگ کسی عذاب کی گرفتار میں آئے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے آگاہ نہیں کیا۔ لیکن ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ یہودیوں سے سیکھ کر ہمارے پغمبرر ﷺ پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان کو بھی اس قسم کے معجزے کیوں نہیں دیئے گئے جس قسم کے معجزے حضرت موسیٰ کو دیئے گئے۔ ان سے پوچھو کہ حضرت موسیٰ کی قوم نے کب ان کے معجزات کی قدر کی جو تم سے یہ توقع کی جائے کہ اگر اس قسم کے معجزے تم کو دکھائے گئے تو تم ان کی قدر کرو گے ! اسی ضمن میں ان اہل کاتب کی تحسین کی گئی ہے ج واپنے صحیفوں کی پیشین گوئیوں کی بنا پر قرآن کی تائید اور بڑے صبر کے ساتھ اپنی قوم کے غوغا کا مقابلہ کر رہے تھے۔ نیز قریش کے اس خدشہ کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے قرآن کی دعوت قبول کرلی تو اس ملک سے ان کی جڑ اکھڑ جائے گی۔ ان کو تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اس دعوت کے قبول کرنے کی صورت میں تو ان کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ البتہ اگر انہوں نے اس کو رد کردیا تو سنت الٰہی کے بموجب ان کی تباہی یقینی ہے اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
لولا کا جواب اگر قرینہ واضح ہو تو حذف ہوجایا کرتا ہے۔ یہاں بھی حذف ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔
بنی اسماعیل پر احسان اور ان کو تنبیہ
یہ قریش یا بالفظ دیگر بنی اسماعیل پر امتنان بھی ہے اور ان کو تنبیہ بھی مطلب یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو بغیر کسی رسول کی بعثت کے بھی، ان کے اعمال کی پاداش میں، ان کو پکڑ لیتے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا تاکہ وہ یہ عذر نہ کرسکیں کہ اگر ہمارے پاس خدا کوئی رسول بھیجتا تو ہم اللہ کی آیات کی پر یوی کرنے والے اور رسول پر ایمان لانے والے بنتے۔ ان کے اس عذر کو ختم کردینے اور ان پر حجت تمام کردینے کے لئے ہم نے ان کے اندر اپنا رسول بھی بھیج دیا ہے۔ اب اگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو یاد رکھیں کہ ان پر اللہ کی حجت پوری ہوچکی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور فطرت کی جو رشنی عطا فرمائی ہے وہ بھی انسان کو گمراہی اور بدعملی کی زندگی سے بچانے کے لئے کافی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ مجرد اس فطری ہدایت ہی کی بنا پر لوگوں کو ان کی بدعملیوں کی سزا دینا تو یہ بات عدل کے خلاف نہ ہوتی لیکن مزید اتمام حجت و قطع عذر کے لئے اس نے اپنے رسول بھی بھیج دیئے جس کے بعد کسی کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اسی وجہ سے صفت الٰہی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ جس قوم نے بھی رسول کی تکذیب کی وہ صفحہ ہستی سے مٹا دی گئی۔
Ayah 28:48لفظ حق یہاں رسول اور کتاب دونوں پر مشتمل ہے اس لئے کہ یہ دونوں چیزیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے بالکل ایک ہیں من مندنا اس حق کی عظمت و شان کے اظہار کے لئے ہے کہ یہ خدا کی طرف سے آیا ہوا حق ہے اس وجہ سے اب وہ سب کچھ جو اس کے فلاں ہے باطل اور مٹ جانے والی چیز ہے۔
یہود کا سکھایا ہر ایک اعتراض اور اس کا جواب
فرمایا کہ ہم نے تو اتمام حجت، قطع عذر اور شکوک دادہام کے ازالہ کے لئے خاص اپنے پاس سے حق نازل فرمایا لیکن یہ لوگ یہ معاوضہ کر رہے ہیں کہ ان (محمد ﷺ کو اس طرح کے معجزے کیوں نہیں دیئے گئے جس قسم کے حضرت موسیٰ کو دیئے گئے !
قرینہ دلیل ہے کہ اس اعتراض کو پھیلایا تو قریش نے لیکن اس کے سکھانے والے یہود تھے آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا کہ اس دور میں یہود نے قریش کو آنحضرت ﷺ کے خلاف اکسانے کے لئے پردہ ریشہ دوانیاں شروع کردی تھیں۔ یہ انہی کا چھوڑا ہوا شوشہ ہے انہوں نے بےقریش کو یہ سکھایا کہ یہ اللہ کے رسول ہونے کے مدعی ہیں لیکن رسول یوں ہی نہیں آیا کرتے۔ ہمارے رسول کو تو فلاں فلاں معجزے عطا ہوئے تو آخر اللہ تعالیٰ نے اس طرح کا کوئی معجزہ ان کو کیوں نہیں دیا۔ قریش اپنی سادہ لوحی کے سبب سے یہود کی چال نہ سمجھ سکے اور بےسمجھے بوجھے یہ اعتراض بھی انہوں نے نقل کرنا شروع کردیا۔ قرآن نے یہاں اسی کا جواب دیا ہے۔ فرمایا اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل، کیا انہی کے بھائی بندوں نے ان معجزات کا انکار نہیں کیا جو حضرت موسیٰ کو دے گئے۔ یہاں فعل کی نسبت مشابہت قلوب کی بنا پر کی گئی ہے۔ عربی میں فعلوں اور ضمیروں کا اس طرح استعمال معروف ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں۔ یعنی جب ان کے دلوں کے اندر بھی وہی رعونت ہے جو فرعونیوں کے دلوں میں تھی تو ان کا عمل گویا انہی کا عمل ہے۔ اس جواب کی بلاغت کا صحیح اندازہ کرنے کے لئے اس بات کو بھی پیش نظر رکھیے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ اس اعتراض کے سکھانے والے دراصل یہود تھے۔
قالوا سحرف تظھوا لفظ سحر یہاں ساحر کے مفہم میں ہے لیکن اس کے اندر مبالغہ کا مضمون پیدا ہوگیا ہے جس طرح زید عدل استعمال ہوتا ہے، اور تظاھر کے معنی تعاون اور گٹھ جوڑ کرنے کے ہیں یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے جو شاندار معجزے دکھائے تو ان پر ایمان لانے کے بجائے فرعون اور اس کے اعیان نے کہا کہ یہ دونوں بڑے ماہر جادو گر ہیں اور انہوں نے ہمارے خلاف گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ وقالوا انا بکل کفرون یعنی خواہ یہ کچھ ہی کر تب دکھائی اور کتنا ہی زور لگائیں ہم ان پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ہم ان دونوں کے بھی منکر ہیں اور ان کے سارے کرشموں کے بھی۔
Ayah 28:49قریش سے ایک مطالبہ
یعنی یہ لوگ مخالفت کے جوش میں حضرت موسیٰ کے معجزات اور ان کے فضل و کمال کا حوالہ تو دیتے ہیں لیکن یہ محض تمہارے اوپر اعتراض کے لئے ایک بہانہ ہے۔ اگر ان کی اس بات میں سچائی کا کوئی شائبہ ہے تو آخر یہ حضرت موسیٰ پر ایمان لانے والے کیوں نہ بنے ! تو ان سے کہو کہ اگر ان دونوں (یعنی قرآن اور تورات) سے بھی زیادہ ہدایت بخشنے والی کوئی کتاب ہے تو اس کو لائو، میں اس کی پیروی کرنے کو تیار ہوں۔
ہدایت کی جستجو فطرت کا تقاضا ہے
مطلب یہ ہے کہ ہدایت کی جستجو تو ہر سلیم الفطرت انسان کی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے جس کے اندر ہدایت کی جستجو نہیں ہے۔ وہ جو ہر انسانیت سے عاری ہے۔ فطرت کے اسی تقاضے کے تحت میں تورات کو بھی مانتا ہوں اور اس سے زیاہ ہدایت بخشنے والے قرآن کو بھی اور اگر تم ان دونوں سے بھی زیادہ ہدایت بخش کوئی کتاب پیش کرو تو میں اس کی پیروی کے لئے بھی آمادہ ہوں لیکن تمہارا ماجرا عجیب ہے کہ تم نے تو تورات کو مانتے، نہ قرآن کو البتہ مجھ سے معاوضہ کرنے کے لئے یہ اعتراض لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہو کہ میں اس طرح کے معجزے کیوں نہیں دکھاتا جس طرح کے معجزے حضرت موسیٰ نے دکھائے ان کنتم صدقین یعنی حضرت موسیٰ کی حمایت میں تمہارا یہ جوش و خروش محض ہدایت سے فرار کے لئے ایک بہانہ ہے ورنہ اس کے کیا معنی کہ پیرو تم تم نہ موسیٰ کے بنتے ہو اور نہ میرے، البتہ یہ اعتراض تمہیں کہ میرے اندر حضرت موسیٰ کے کمالات نہیں ہیں۔
یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ قرآن تورات کا مکذب نہیں بلکہ اس کا مصدق ہے۔ قرآن اگر تردید کرتا ہے تو صرف اس کی تحریفات کی تردید کرتا ہے۔ تورات کے مقابل میں قرآن کا دعویٰ یہ نہیں ہے کہ صرف وہی ہدایت کا صحیفہ ہے بلکہ وہ صرف اپنے اھدی و اقوام ہونے کا مدعی ہے۔ اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ اس نے اللہ کی ہدایت کو تمام تحریفات سے پاک کر کے پیش کیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ خدا کی آخری اور کامل ہدایت کا صحیفہ ہے جس کی پیشین گوئی خود تورات میں بھی موجود ہے۔
Ayah 28:50یعنی اگر تمہارے اس چیلنج کے جواب میں یہ ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخش کوئی کتاب پیش بھی نہیں کرتے اور ان میں سے کسی کی پیروی کے لئے بھی تیار نہیں تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے نفس کی خواہشوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو جو اللہ کی ہدایت کے بغیر محض اپنی خواہشوں کا پیرو ہے اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا ! نفس کی خواہشیں صرف اپنے مطالبے پورا کرنا چاتی ہیں۔ ان کے اندر حق و باطل اور خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت نہیں ہے اور بسا اوقات وہ اتنی زور آور ہوجاتی ہیں کہ بڑی آسانی سے انسان کی عقل کو بھی مغلوب کرلیتی ہیں اس وجہ سے انسان کے لئے فلاح کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ ان خواہشوں کی پیروی اللہ کی ہدیات کی روشنی میں کرے۔ اگر اس روشنی کے بغیر وہ ان کے پیچھے چل پڑے گا تو لازماً وہ ہلاکت کے گڑھے میں گرے گا۔
ان اللہ لایھدی القوم الظلمین یعنی اللہ تعالیٰ نے خواہشوں کے اسی مہلکہ سے بچانے ہی کے لئے اپنی ہدایت نازل فرمائی ہے تو بدقسمت ہے وہ جو اس ہدایت کی قدر نہ کرے اور اپنی باگ اندھی بہری خواہشوں میں پکڑا دے۔ ایسے لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں اور سنت الٰہی کے بموجب وہ ہدایت سے محرم رہتے ہیں۔
Ayah 28:51قرآن کی اہل کتاب کے لئے جانی پہچانی ہوئی چیز ہے
یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت ہی کی خاطر یہ اہتمام فرمایا کہ اپنی تعلیم و تذکیر کے سلسلہ کو کبھی منقطع نہیں ہنے دیا بلکہ اس کے تسلسل کو برابر قائم رکھا۔ حضرت موسیٰ کو جو کتاب عطا ہوئی جب اس کے حاملوں نے اس کو فراموش کردیا تو اللہ تعالیٰ نے بنی امی ﷺ کو اس نعمت سے سرفراز فرمایا۔ اوپر آیات 46-45 میں جو مضمون گزر چکا ہے ایک نئے اسلوب سے یہ اسی کا اعادہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن کوئی انوکھی اور متوحش ہونے کی چیز نہیں ہے بلکہ ایک جانی پہچانی ہوئی چیز ہے اس وجہ سے سب سے پہلے تو اہل کتاب کا فرض ہے کہ اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں اس لئے کو جو نعمت ان کو پہلے نا تمام شکل میں ملی تھی اب وہ اپنی کامل شکل میں ان کو دی جا رہی ہے پھر بنی اسماعیل کی سعادت بھی اسی میں ہے کہ اس کو سینہ سے لگائیں اس لئے کہ اب اللہ تعالیٰ نے ان کو براہ راست اپنی نعمت سے نوازا ہے۔ اب تک ان کے اندر نہ کوئی رسول آیا تھا نہ ان کے لئے کوئی کتاب نازل ہوئی تھی۔
Ayahs 28:52–53آیت 53-52
صالحین اہل کتاب کے …کی تحسین
اتینھما الکتب سے صالحین اہل کتاب مراد ہیں۔ ان کے لئے معروف کے صیغہ کا استعمال بھی جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، اس بات کا قرینہ ہے اور قرآن کے باب میں ان کا رویہ بھی جو یہاں مذکور ہوا ہے۔ اس پر شاہد ہے۔
یہ قرآن کے حق میں ایک سند کی طرف توجہ دلائی گی ہے کہ اگر لاخیرے دنا قدرے قسم کے لوگ اس قرآن سے بدک رہے ہیں تو اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ آخر صالحین اہل کتاب بھی تو وہیں جو اس نعمت کی قدر کر رہے ہیں اور آگے بڑھ کر اس پر ایمان لا رہے ہیں ! ان کا حال تو یہ ہے کہ جب ان کو یہ کتاب سنائی جاتی ہے تو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ بیشک یہی حق ہے ہمارے رب کی جانب سے اور تم اس کے پہلے سے سماننے والے ہیں۔
انہ الحق من ربنا میں جو حضرو تاکید ہے وہ اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن نے پچھلے صحیفوں کی جن تحریفات سے پردہ اٹھایا ان کے باب میں بھی انہوں نے اپنی قوم کے مفسدین کے علی الرغم، صدق دل سے قرآن کے بیان کی تائید کی اور ساتھ ہی قریش کے لیڈروں کو بھی انہوں نے رہنمائی دی کہ قرآن بالکل حق اور خدائی کتاب ہے اس وجہ سے وہ اس کی قدر کریں، اس کی مخالفت کر کے اپنی شامت کو دعوت نہ دیں۔
انا کنا من قبلہ مسلمین، یعنی ہم تو اس کے نزول سے پہلے ہی سے اپنے صحیفوں کی پیشین گوئیوں کی بنا پر اس کے ماننے والے رہے ہیں۔ یہ مضمون بقرہ 46، اور انعام 114 میں بھی گزر چکا ہے۔ ای کنظر ان پر بھی ڈال لیجیے۔ لفظ مسلمین سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہم پہلے ہی سے اپنے آپ کو اس کتاب اور اس رسول کے حوالے کردینے کے لئے منتظر تھے چناچہ جب ہم نے ان کو پایا تو ان کی اطاعت میں داخل ہوگئے۔
Ayah 28:54فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جو اپنی اس استقامت کے صلہ میں دہرا جر پائیں گے۔ ایک اجر تو انہیں اس بات کا ملے گا کہ ان کو دین حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے ملا، اپنی قوم کے عام بگاڑ کے باوجود، وہ اس پر ثابت قدم رہے۔ دوسرا اس بات کا کہ جس نبی خاتم اور دین کامل کی پشین گوئی حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) نے کی تھی وہ برابر اس کے لئے چشم براہ رہے اور جب وہ آیا تو انہوں نے یوسف گم گشتہ کی طرح اس کا استقبال کیا۔ بمعا صبرو کی صفت کے حوالہ کا یہاں ایک خاص محل ہے جس کو نگاہ میں رکھیے وہ یہ کہ ان لوگوں کو اپنے سابق دین پر قائم رہنے کے لئے بھی بڑے زہرہ گداز مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا تھا اور جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان کو اپنی قوم اور قریش دونوں کی مخالفت سے دوچار ہونا ڑا لیکن ان تمام مخالفتوں کا انہوں نے پوری پامردی سے مقابلہ کیا۔ نصاریٰ میں سے شمعون کے پر ہوئوں نے اپنی قوم کے مبتدعین و محرفین کے ہاتھوں ج ومصائب جھیلے ان کی تفصیل تاریخ کی کاتبوں میں بھی موجود ہے اور ہم نے بھی اس کتاب میں جگہ جگہ اس کا ذکر کیا ہے۔ یہی اہل حق تھے جن کو قرآن کی دعوت قبول کرنے کی توفیق حاصل ہوئی اور قرآن نے متعدد سورتوں میں ان کی حق دوستی و ثابت قدمی کی تعریف فرمائی ہے۔
صالحین اہل کتاب کا کردار
ویدروئون بالحسنۃ المسئۃ حسنۃ سے مراد یہاں صبر و عزیمت اور عفو و درگزر ہے اور سیئۃ سے مخالفین کے اعتراضات و مطاعن اور ان کے سب و شتم کی طرف اشارہ ہے۔ ان لوگوں نے جب اپنے قبول اسلام کا اظہار کا تو ان کی قوم نے بھی ان کو دین آبائی کا دشمن اور ملت کا غدار قرار دیا اور دوسرے اعدائے حق نے بھی ان کو اپنے لعن طعن کا ہدف بنا لای لیکن ان لوگوں نے ہر حملہ کا جواب مومنانہ شرافت اور کریمانہ عفو و درگزر سے دیا۔
ومما رزقنھم ینفقون کا بھی یہاں ایک خاص محل ہے جس کو نگاہ میں رکھنا چاہئے۔ قرآن نے جگہ جگہ اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اہل کتاب بالخصوص یہود کے لئے قبول اسلام کی راہ میں جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ بنی وہ ان کی زر پرستی ہے۔ اس سورة میں بھی آگے ان کے قارون کا ذکر آ رہا ہے اور دوسری سورتوں میں بھی ان کی قارونی اور قارون پرستانہ ذہنیت کا ذکر بار بار ہوا ہے جن لوگوں کو زر پرستی کا روگ لگ جاتا ہے وہ کبھی حق قبول کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔ سیدنا مسیح نے فرمایا کہ جس طرح اونٹ سوٹی کے ناکے میں نہیں جاسکتا اسی طرح دلوت مند خدا کی بادشاہی میں نہیں داخل ہوسکتا۔ سورة لہب سے واضح ہوتا ہے کہ ابولہب کی عداوت اسلام میں بھی سب سے زیادہ دخل اس کی زر پرستی اور حرص مال ہی کو تھا یہاں ان صادقین کی صفت مما رزقنھم ینفقون کا حوالہ دے کر قرآن اسی حقیقت کو واضح کرنا چاہتا ہے کہ ان لوگوں کو طمع مال کی بیماری نہیں لگی تھی اس وجہ سے ان کو قبول اسلام کی توفیق حاصل ہوئی۔
Ayah 28:55مخالفین سے اعراض
یہ یدرئون بالحسنۃ السیۃ کی مزید وضاحت ہے کہ یہ لوگ جب مخالفین کی بکواس سنتے ہیں تو ان سے الجھنے کے بجائے اعراض کرتے ہیں وقالوا کنا اعمالنا ولکم اعمالکم یہ ان کے اعراض کا طریقہ بیان ہوا ہے کہ جب مخالفین و معترضین ان سے الجھتے ہیں تو وہ ان سے یہ کہہ کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اچھا بھائی ! زیادہ بحث وجدال سے کیا فائدہ، ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں، آپ اپنے اعمال کے ذمہ دار ہو، ہمیں ہماری اختیار کردہ راہ پر چلنے دو ، آپ اپنی راہ پر چلو !
سلم علیکم یہ سلام، مفارقت کے مفہوم میں ہے جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کو سلام کیا تھا۔ یہ کسی سے پیچھا چھڑانے کا ایک نہایت شائستہ طریقہ ہے۔ لانبتغی الجھلین یہ ان کے طرز عمل کی تعبیر ہے کہ وہ دل میں یہ خیال کر کے جاہلوں سے الجھنے سے کچھ فائدہ نہیں، ان کو سلام کر کے رخصت ہوجاتے ہیں۔ اس طریقہ تعبیر کی متعدد مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ بسا اوقات آدمی کا طرز عمل ہی اس کے قول کا قائم مقام بن جاتا ہے۔
Ayah 28:56آنحضرت کو تسلی
ہدایت یہاں ہدایت یافتہ بنا دینے کے مفہوم میں ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی کہ تم ان لوگوں کے پیچھے زیادہ ہلکان نہ ہو۔ تمہارا کام صرف لوگوں تک پیغام حق پہنچا دینا ہے یہ تمہارے اختیار میں نہیں ہے کہ تم جس کو چاہو ہدایت یافتہ بنا دو بلکہ یہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت پانے کا اہل ہے، کون نہیں ہے۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں جو سنت الٰہی ہے اس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔
Ayah 28:57خدائی نظام کی مخالفت کے لئے شیاطین کا مخصوص حربہ
یہ قریش کے ایک اور اعتراض کو نقل کر کے اس کا جواب دیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس دین کو قبول کرنے کے معاملے میں ہم تمہارے ساتھی بن جائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم اپنے گرد و پیش کی ساری دنیا کو اپنا دشمن بنا لیں اور یہ دشمن مل کر ہمیں ہمارے اس ملک سے اچک لے جائیں۔
قریش کو پورے ملک پر جو اقتدار حاصل تھا وہ سمجھتے تھ کہ یہ ان کے دین شرک کی برکت سے ان کو حاصل ہوا ہے۔ وہ اپنے دیویوں دیوتائوں کو تو تمام خیر و برکت کا ذریعہ مانتے ہی تھے۔ مزید برآں انہوں نے پورے ملک پر اپنی مذہبی و سیاسی دھاک قائم رکھنے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی تھی کہ تمام قبائل عرب کے اصنام خانہ کعبہ میں جمع کردیئے تھے اور اس طرح گویا وہ سب کے امام و پیشوا بن گئے تھے۔ جب آنحضرت ﷺ نے دعوت توحید بلند کی تو اس کے خلاف انہوں نے اپنی قوم کو یہ کہہ کر بھی بھڑکا یا کہ اگر ہم اپنے تمام دیویوں دیوتائوں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کے بن کر رہ جائیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہماری تمام جمعیت پارہ پارہ ہوجائے گی، تمام عرب ہمارا دشمن بن کر اٹھے کھڑا ہوگا اور اس ملک سے ہماری جڑاکھڑ جائے گی۔ یہ بعینیہ وہی اعتراض ہے جو آج ہمارے لیڈر حضرات اسلامی نظام، اسلامی معاشرت، اسلامی حدود و تعزیرات اور اسلامی نظام معیشت کے خلاف اٹھات ہیں کہ اگر ہم ان کو اختیار کرلیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنے تمام نظام معیشت و معاشرت کا تیاپانچہ کر کے رکھ دیں اور ساری دنیا میں نکوبن کے رہ جائیں۔ یاد ہوگا یہی اعتراض فرعون اور اس کے اعیان نے حضرت موسیٰ کی تعلیم و دعوت کے خلاف بھی اٹھایا تھا کہ یہ شخص ہماری اعلیٰ تہذیب (طریقتکم المثلی) کو مٹانے کے در پے ہے۔ خدائی نظام کی مخالفت میں شیاطین کا سب سے زیادہ کارگرحربہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے۔
بیت اللہ کی برکات
اولم لمکن لھم حرما امنا یحییٰ الیہ ثمرت کل شیء قذقا من لدنا یہ ان کے اعتراض بسایا ہے نہ یہاں کسی کی جان کے لئے امان تھی، نہ زندگی بسر کرنے کے معاشی وسائل ہی یہاں موجود تھے لیکن حضرت ابراہیم نے اس گھر کو بسایا اور اس کے ساکنوں کے لئے رزق دامن کی دعا کی جس کی برکت سے یہ حال ہوا کہ آج ہر علاقے سے ہر قسم کی پیداوار یہاں کھینچی چلی آرہی ہے حج اور شہر حرم کی بدولت مکہ کی رفابیت میں جو برکتیں ظاہر ہوئیں ان پر پچھلی سورتوں میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔ یہ انہی کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہے کہ یہ ساری برکتیں حاصل تو ہوئیں ان کو اللہ کے فضل اور حضرت ابراہیم کی دعا کی برکت سے لیکن آج ان شامت زدوں کا حال یہ ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اس دین کو اختیار کرلیا جس کی قرآن دعوت دے رہا ہے اور جو اصلاً حضرت ابراہیم ہی کا دین ہے تو یہ تباہ ہو کے رہ جائیں گے !
ولکن اکترھم لایعلمون یہ ان کے حال پر اظہار افسوس ہے کہ ان کی اکثریت آج اپنی تاریخ سے کسی درجہ بیخبر ہو کر رہ گئی ہے۔
سورة عنکبوت میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے ان کے لئے تو ایک مامون حرم بنایا اور ان کے گرد و پیش کا حال یہ ہے کہ لوگ اچک لئے جاتے ہیں تو کیا وہ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں۔
فقط ثمرت پر ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں بحث کرچکے ہیں کہ یہ صرف نوا کہ کے لئے نہیں آتا بلکہ ہر قسم کی غذائی اجناس کے لئے بھی آتا ہے۔
نمکن لھم حرماً امناً اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح سورة نور میں ولیمکنن لھم دینھو الذی ارضی لھم (55) ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حرم کو لیجائے خود بالکل محفوظ مامون بنایا ہے۔ یہ دوسروں کی حفاظت کا محتاج نہیں بلکہ خود دوسروں کا محافظ ہے۔ سورة قریش میں انشاء اللہ اس حقیقت کی وضاحت ہم تفصیل سے کریں گے۔
Ayah 28:58عربیہ کا ایک لعنت
بطر کے معنی اکڑنے اترانے اور فخر و ناز کرنے کے ہیں۔ چونکہ اس کا استعمال بطور متعدی معروف نہیں ہے اس وجہ سے معیشتھا کے نصب کے بارے میں بڑا اختلاف ہے۔ عام طور پر لوگوں نے یہاں یا تو حرف جز محذوف مانا ہے یا ظرف استاذ امام کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ معیشتھا املکنا کا مفعول ہے۔ لیکن مجھے ان اقوال میں سے کسی قول پر بھی اعتماد نہیں ہے۔ بعضوں نے بطرت کو کفرت کے مضمون پر متضمن قرار دیا ہے۔ یہ رائے اقرب الی الصواب ہے۔ عربی میں بضرالحق کا استعمال تکبرعنہ کے مفہوم میں معروف ہے۔ یعنی اس نے حق سے متکبرانہ اعراض کیا۔ اسی طرح اگر کہیں بطرفلان لنعمۃ تو اس کا مفہوم ہوگا استخفھا فکفرھا (اس نے اس نعمت کو حقیر سمجھ کر اس کی ناشکری کی، میرے نزدیک ان استعمالات کی بنیاد تضمین ہی کے اصول پر ہے اور آیت میں بھی یہ لفظ اسی اصول پر استعمال ہوا ہے۔
رفابیت پر اترنے والی قوموں کا انجام
یہ قریش کو انذار و تنبیہ ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ اس سرزمین میں تم کو جو امن و رفاہیت حاصل ہے یہ تمہاری اپنی تدبیر و تدبر کا کرشمہ ہے اس وجہ سے تمہیں اس پر بڑا ناز و فخر ہے حالانکہ یہ جو کچھ تمہیں حاصل ہوا ہے خدا ہی کے فضل و کرم سے حاصل ہا ہے۔ اس کا حق یہ ہے کہ تم اس پر اترانے کے بجائے خدا کے شکر گزار بنو ورنہ یاد رکھو کہ تم سے پہلے کتنی قومیں گزری ہیں جو تمہاری ہی طرح خدا کی نعمتوں کو اپنا حق سمجھ کر ان پر اترانیں تو اس کی پاداش میں ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کی بستیاں تم سے دور نہیں ہیں۔ تم ان پر سے گزرتے ہو۔
تلک اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ بستیاں مخاطب کی جانی پہچاین ہوئی ہیں۔ یہ اشارہ ثمود اور قوم لوط وغیرہ کی بستیوں کی طرف ہے جو قریش کی تجارتی گزرگاہوں پر تھیں۔ لم تکن من بعث الا قلیلاً میں میرے نزدیک وہی مضمون ہے جو سورة ہود میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے۔ ذلک من نبآء القریٰ نقضہ علیک منھا قائم حمید (100) یہ بستیوں کی سرگزشتیں ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان میں سے بعض قائم ہیں اور بعض ختم ہو چیک ہیں) وہاں ہم اس آیت کی تفسیر کرچکے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ میرے نزدیک عربیت کے اعتبار سے یہ مفہوم لینے میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ ویسے اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان بستویں کا سارا اکترو فرتوا اجڑ گیا یہ الگ بات ہے کہ کبھی گڈریوں، چراہوں اور خانہ بندشوں نے ان میں اپنے ڈیرے ڈال لئے ہوں تو ڈال لئے ہوں۔
وکنا نحن الورثین یعنی وہ تو سب فنا ہوگئے جو اپنے آپ کو ان کا مالک و حکمران گمان کرتے تھے اور ان کی وراثت ہماری طرف لوٹ آئی اس لئے کہ تمام آسمان و زمین کے حقیقی مالک و وارث ہم ہیں ہیں۔
Ayah 28:59ہلاکت پیغمبر کی بعثت کے بعد
یہ وہی انذار کا مضمون مزید واضح اور تیز ہوگیا ہے فرمایا کہ قوموں پر فیصلہ کن عذاب کے معامل میں سنت الٰہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کو ہلاک نہیں کرتا جب تک اس کی مرکزی بستی میں اپنا ایک رسول بھیج کر لوگوں کو اپنی آیات اچھی طرح سنا نہ دے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک قریش کا تعلق ہے اس سنت الٰہی کا ایک مرحلہ پورا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مرکزی بستی … مکہ … میں اپنا ایک رسول بھیج دیا جو رات دن لوگوں کو اللہ کی آیات کے ذریعہ سے انذار کر رہا ہے۔ اب عذاب کا انحصار ان کی رویہ پر ہے۔
ومالنا مھل کی القریٰ الا واھلھا ظلمون یہ اسی سنت الٰہی کے دوسرے مرحلے کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک اس کے باشندے اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نہ بن جائیں … ظلم ڈھانے سے مراد یہ ہے کہ رسول کی اس تمام تذکیر و تنبیہ کے بعد بھی وہ اپنے شرک و کفر پر اڑے ہی رہیں اور رسول کی تکذیب کردیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اب قریش اور ان کے اغوان و انصار کے لئے یہ آخری مرحلہ درپیش ہے۔ اگر انہوں نے رسول کی قدر نہ پہچانی اپنی ضد پر اڑے رہ گئے، تو ایک خاص وقت تک مہلت دینے کے بعد وہ لازماً عذاب الٰہی کی زد میں آجائیں گے اور یہ خدا کی طرف سے ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔
Ayah 28:60قریش کو براہ راست تنبیہ
اوپر کی تنبیہات بالواسطہ تھیں۔ اب یہ براہ راست قریش کے لیڈروں کو مخاطب کر کے متنبہ فرمایا کہ جو رفاہیت و خوش حالی تمہیں حاصل ہوے اس پر اترائو نہیں۔ یہ کچھ بھی ہے بس حیات چند روزہ کی متاع اور عاضری رونق ہے۔ اصل چیز جو بہتر اور غیر فانی ہے وہ خدا کے پاس ہے جو ان لوگوں کو حاصل ہوگی جو آخرت کے طالب بنیں گے اور اس کے لئے جدوجہ دکریں گے تو اس متاع عارضی اور وقتی چمک دمک پر ریجھ کر حیات ابدی کے خزانوں کو ضائع نہ کرو۔ عقل سے کام لو۔ افلاتعقلون کیا تم لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے !
Ayah 28:61احضار یہاں مجرموں کی طرح پکڑ کر حاضر کئے جانے کے مفہوم میں ہے اس وجہ سے محضرین کے اندر ذلت کے ساتھ حاضر کئے جانے کا مفہوم میں ہے اس وجہ سے محضرین کے اندر ذلت کے ساتھ حاضر کئے جانے کا مفہوم خود پیدا ہوگیا ہے۔
یعنی سوچہ کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جن سے اللہ نے آخرت کی ابدی بادشاہی کا وعدہ کر رکھا ہے اور یہ ابدی بادشاہی لازماً پا کے رہیں گے، اس لئے کہ اللہ کے وعدے سے سچا وعدہ کس کا ہو سکتا ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جن کو میں نے حیات چند روزہ کی متاع فانی تو دی ہے مگر بالآخر قیامت کے دن نیہات ذلت کے ساتھ وہ خدا کے حضور پیشی کے لئے گھسیٹ کر لائے جائیں گے۔ بتائو کہ ان میں سے بہتر اور لازوال (جیو وابقی) انجام والا کون ہوگا !