Ayah 28:62آگے مضمون … آیات 75-62
اب آگے اوپر کے مضمون کی تائید کے لئے شرک اور شرکاء کی تردید ہے کہ اگر کسی نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ آخرت میں ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء کچھ کام آنے والے بنیں گے تو وہ اس وہم کو اپنے دماغ سے نکال دے۔ ان شرکاء کو نہ اس دنیا کے انتظام و انصرام میں کوئی دل ہے، نہ یہ آخرت میں کام آنے والے ہیں۔ ان بےحقیقت چیزوں کے بل پر جو لوگ قرآن کی دعوت کو جھٹلا رہے ہیں وہ اپنا انجام اچھی طرح سوچ لیں۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
ویوم بنادیھم فیقول این شرکآءی الذین کنتم تزعمون 62
مرگ اور اہل شرک کا انجام
یہ اور آگے کی تمام آیات مسلسل تنبیہات کی نوعیت کی ہیں جن میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن شرک کرنے والوں، شرک کے داع لیڈروں اور خود شرکاء کا کیا حشر ہوگا۔ فرمایا کہ اس دن کو نہ بھولو جس دن خدا تمام مشرکین کو اپنی عدالت میں پیشی کے لئے پکارے گا اور ان کو حکم دے گا کہ میرے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم میرا شریک گمان کرتے رہے ہو ! این شرکآءی کے ابہام کے اندر مشرکین کے ساتھ ساتھ ان کے مزعومہ شرکاء پر جو قہر و غضب مضمر ہے وہ اصحاب ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب ان کو پیش کرو تاکہ تم بھی اور تمہارے ساتھ وہ بھی اپنا انجام دیکھ لیں۔
Ayah 28:63گمراہ لیڈروں اور ان کے پیروئوں کی جو قی پیزار
حق علیھم القول سے مراد مشرکین کے وہ لیڈر ہیں جن کے لئے خدا کا فیصلہ عذاب صادر ہوجائے گا فرمایا کہ گمراہ لوگ آخری عذر کے طور پر اپنے لیڈروں کی طرف اشارہ کریں گے کہ اے ہمارے رب ! دراصل یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا، اگر یہ ہمیں گمراہ نہ کرتے تو ہم گمراہ نہ ہوتے۔ اغریتھم کما غوینا ان کے لیڈر جھٹ جواب دیں گے کہ ہم جو کچھ خود تھے وہی ہم نے ان کو بنایا۔ یہ خود شامت زدہ تھے کہ انہوں نے ہماری پیروی کی۔ تبرانا الیک یعنی ہم ان کے اعمال کی ذمہ داری سے تیرے حضور میں اپنی برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ ماکانوآ ایانا یعبدون یہ لوگ ہماری پرستش نہیں کرتے رہے ہیں کہ ہمارے اوپر ان کی کوئی ذمہ داری ہو۔ یہ اپنی آزادی رائے اور اپنی پسند سے ہماری باتیں مانتے رہے ہیں۔ … گمراہ لیڈروں اور ان کے پیروئوں کی یہ جو قی پیزار قرآن مجید میں کئی جگہ مذکور ہوئی ہے ہم ایک مثال اعراف سے پیش کرتے ہیں۔ آیت (الاعراف 39-38)
حکم ہوگا، داخل ہو جائو دوزخ میں ان گروہوں کے ساتھ جو جنوں اور انسانوں میں سے تم سے پہلے داخل ہوئے۔ جب جب داخل ہوگا کوئی گروہ وہ اپنے ہم مشریوں پر لعنت کرے گا۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں اکٹھے ہو لیں گے پچھلے اگلوں کے باب میں کہیں گے، اے ہمارے رب ! یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تو ان کو دونا عذاب دوزخ دے۔ ارشاد ہوگا، تم میں سے ہر ایک کے لئے دونا عذاب ہے لیکن تم جانتے نہیں اور اگلے پچھلوں سے کہیں گے، تمہیں بھی تو ہم پر کوئی فضیلت نہ حاصل ہوئی تو اپنے عمل کی پاداش میں اب عذاب چکھو۔
حم السجدۃ آیت 47 کے تحت ان شاء اللہ، ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے۔
Ayah 28:64مشرکین کے معبودوں کی بےحقیقی
یعنی اپنے جن لیڈروں پر روہ اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈالنا چاہیں گے، جب وہ صاف صاف ان سے اعلان برأت کردیں گے تو ان سے پھر کہا جائے گا کہ اب بولو، تمہارے ان لیڈروں نے تو تم سے برأت کا اعلان کردیا تو تمہارے وہ معبود کہاں ہیں جن کی پرستش کرتے رہو ! اس وقت وہ گھبراہٹ میں اپنے ان شریکوں کو پکاریں گے جن کے وہ بت پوجتے رہے تھے۔ مثلاً لات، منات، عزیٰ اور نائلہ وغیرہ کو لیکن وہ ان کی کوئی فریاد سی نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ ان کا سر سے کوئی وجود ہی نہیں ہوگا۔ وہ محض خیالی بستیاں تھیں۔ آخرت میں راز کھل جائے گا کہ انہوں نے محض گمان کی پرستش کی۔ یہ امر محلوظ رہے کہ یہاں ذکر مشرکین عرب کا ہے جن کے تمام اصنام والہ محض خیالی اور خود تراشیدہ تھے جن قوموں نے کسی واقعی ہستی کی پرستش کی ہے۔ مثلاً نصاریٰ جنہوں نے حضرت مسیح ؑ کی پرستش کی، ان کا ذکر قرآن میں الگ ہوا ہے کہ قیامت کے دن حضرت مسیح اپنے پرستاروں سے اعلان برأت کردیں گے کہ مجھے کچھ خبر نہیں کہ کچھ احمق لوگوں نے میری پرستش کی ہے۔ میں نے تو سب کو اللہ واحد کی بندگی کی دعوت دی تھی۔
وراوا العذاب یعنی جن کی شفاعت کی امیدوں پر جیے اور مرے ان کا لکارنا بالکل صدا الصبحرا ثابت ہوگا۔ البتہ خدا کا عذاب سامنے ہوگا اور اس سے انہیں سابقہ پیش آئے گا۔
لونھم کانوا یھتدون یہ ان کے حال پر اظہار حسرت و افسوس ہے کہ کاش وہ ہدایت حاصل کرنے بنے ہوتے کہ اس عذاب سے دوچار نہ ہوتے۔ اس سے اس عذاب کی ہولناکی اور بےپناہی واضح ہوتی ہے۔
Ayah 28:65مشرکوں کی باجوسی قیامت کے دن
یہ بھی روز قیامت کے احوال ہی کے سلسلہ کی بات ہے کہ اس دن مہرامت کی پکار ہوگی اور ان سے سوال ہوگا کہ خدا نے رسول تمہاری ہدایت کے لئے بھیجے ان کی دعوت کا تم نے کیا جواب دیا، ظاہر ہے ہے کہ یہ سوال بھی ان سے ان کے جرم سنگینی واضح کرنے کے لئے ہوگا کہ خدا نے تو تمہاری ہدایت کے لئے یہ اہتمام فرمایا کہ اپنے رسول بھیجے کہ ہر پہلے سے حق تم پر واضح ہوجائے تو تم بتائو، تم نے اس اہتمام کی کیا قدر کی !
Ayah 28:66نعمیت علیھم الانبآء کا مفہوم ٹھیک ٹھیک وہی ہے جو ہم اپنے محاورے سے سٹی بھلو جانے سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی اس وقت سب پر ایسی بد حواسی طاری ہوگی کہ کسی سے کوئی بات بنائے نہیں بنے گی۔ کیا بنے بات جہاں بات بنانے نہ بنے !
فھولا یتسآء لون یعنی وہ ایسی حالت سراسیمگی میں گرفتار ہوں گے کہ اس سوال کے جواب کے لئے کسی سے کچھ پوچھ پاچھ بھی نہ کرسکیں گے۔ ایسے اوقات میں مرجع امید لیڈر ہوا کرتے ہیں لیکن ان کا ماجرا اوپر گزر چکا کہ انہیں خود اپنی پڑی ہوگی وہ دوسرے کی کیا نبڑیں گے ! یہ مضمون ماندہ کی آیت 109 میں بھی گزر چکا ہے۔
Ayah 28:67اہل ایمان کے لئے فلاح کی بشارت
عسٰی جب اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کے ساتھ آئے تو اس کے اندر، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں وعدہ اور بشارت کا مفہوم مضمر ہوتا ہے۔
جو لوگ شرک ہی پر جیے اور مرے ان کا انجام واضح کرنے کے بعد یہ ان لوگوں کو بشارت دی ہے جو شرک و شفاعت باطل کے عقیدہ سے توبہ کر کے ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرلیں گے۔ فرمایا کہ یہ لوگ توقع ہے کہ فلاح پانے والوں میں سے بنیں۔ یعنی یقین تو انہیں بھی اپنی فلاح کا نہیں کر بیٹھنا چاہئے اس لئے کہ نجات و فلاح جس کو بھی حاصل ہوگی خدا کے فضل ہی سے حاصل ہوگی لیکن توقع کا حق وہ رکھتے ہیں اس لئے کہ خدا غفور رحیم ہے۔
Ayah 28:68فرشتوں کی ایک حیثیت
یہاں یختار کے بعد بھی مایشآء بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ یہ فرشتوں کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو بھی خدا ہی نے پیدا کیا ہے اور اگر ان کو اپنا مقرب و برگزیدہ بنایا ہے تو اسی نے بنایا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اللہ یضطفی من الملٓئکۃ رسلاً و من الناس (الحج :75) (اللہ منتخب کرتا ہے اپنے رسول فرشتوں میں سے بھی اور لوگوں کے اندر سے بھی) مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو جو برتری باعتبار خلق یا باعتبار تقرب حاصل ہے، وہ خدا ہی کی عطا کردہ ہے۔ اس چیز کی بنا پر ان کو یہ درجہ حاصل نہیں ہوگیا ہے کہ ان کو خدا کی خدائی میں شریک بنا دیا جائے۔ ماکان لھم الخیرۃ ان کو بذات خود کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ سبحن اللہ و تعلیٰ عما یشرکون اللہ تعالیٰ اس قسم کی تمام نسبتوں سے پاک اور برتر ہے۔ اگر کسی کو اس کے اختیارات اور اس کی صفات میں شریک بنا دیا جائے تو اس سے اس کی تمام اعلیٰ صفات کی نفی ہوجاتی ہے … یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ اوپر آیت 64 میں جن شرکاء کا ذکر آیا ہے، وہ مشرکین عرب کے مطابق، ملائکہ ہی کے زمرہ سے تعلق رکھنے والے تھے اس وجہ سے قرآن نے یہاں فرشتوں کی اصل حیثیت واضح فرما دی کہ ان کو خدا کی مخلوقات میں فی الجملہ برتری تو حاصل ہے لکنق یہ خدا داد ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی ان کی ذاتی نہیں ہے۔
Ayah 28:69وربک یعلم ماتکن صدورھم ومایعلنون 69
احاطہ علم الٰہی کی دلیل سے شرک کا ابطام
یہ احاطہ علم الٰہی کی دلیل سے شرک کا ابطال فرمایا ہے کہ جب تیرا رب ان کے سرد عالنیہ ہر چیز سے خود اچھی طرح باخبر ہے تو اس کو ضرورت کیا ہے کہ وہ کسی کو اپنا شریک اور سہیم بنائے ! وہ اپنی مملکت میں دوسروں کو شریک تو جب بنائے جب وہ لوگوں کے احوال و معاملات سے باخبر رہنے کے لئے کسی کا محتاج ہو اور اس کے ہاں کسی کے باب میں کسی کی سفارش کی ضرورت تو جب پیش آئے جب کوئی اس کے علم میں اضافہ کرنے کے پوزیشن میں ہو کہ فلاں کے باب میں نعوذ باللہ خدا کو خبر نہیں ہے اسے ہے جب اس طرح کی کوئی بات فرض کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو فرشتوں کو اس مفروضہ پر پوجنے کے کیا معنی کہ وہ خدا کے ہاں کسی کے لئے تقریب و سفارش کا وسیلہ ہیں !
Ayah 28:70خلاصہ بحث
یہ اوپر کی ساری بحث کا خلاصہ یک جا کردیا ہے کہ بس وہی اللہ معبود حقیقی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے سوا جن کو بھی معبود بنایا گیا ہے سب باطل ہے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ اللہ کو معبود اعظم کی حیثیت سے اہل عرب بھی مانتے تھے لیکن ساتھ ہی اس کے شریک بھی مانتے تھے۔ یہ ان کے شرک کی نفی کردی۔
لہ الحمد فی الاولی والاخرۃ یعنی دنیا میں بھی جو نعمت انسان کو ملی ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملی ہے اور آخرت میں بھی جو نعمت حاصل ہونے والی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ملے گی۔ اس لئے اس دنیا میں بھی حمد و شکر کا سزا وار وہی ہے اور آخرت میں بھی وہی حمد و شکر کا سزاوار ہوگا، کسی دوسرے کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ آخرت میں اتمام نعمت کے بعد اہل جنت کی زبانوں پر جو ترانہ حمد جاری ہوگا سورة یونس میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔
ولہ الحمد والیہ ترجعون ہر ایک کا فیصلہ اسی کے اختیار میں ہوگا اور سب کو پیشی اسی کے حضور میں ہنی ہے کوئی اور مرجع و مولیٰ بننے والا نہیں ہے۔
Ayahs 28:71–72آیت 72-71
مخاطب کے مسلمات سے استدلال
قل یہاں سوال کرنے اور پوچھنے کے معنی میں ہے جب سوال بالکل بدیہی نوعیت کا ہے جس کے جواب میں مخاطب کے لئے کسی اختلاف کی گنجائش نہ ہو تو اتمام حجت کے پہلو سے یہی لفظ زیادہ موزوں ہوتا ہے۔ یہ بات مشرکین عرب کو بھی تسلیم تھی کہ آسمان و زمین اور روز و شب کا خالق خدا ہی ہے ان کے اسی مسلمہ کو بنیاد بنا کر سوال فرمایا کہ بھلابتائو تو سہی کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ہمیشہ کے لئے رات ہی کو مسلط کر دے تو تمہارے معبودوں میں سے کوئی ہے جو تمہارے لئے دن کی روشنی نمودار کرسکے ! اسی طرح بتائو کہ اگر وہ تمہارے اوپر قیامت تک کے لئے دن ہی کو مسلط کر دے تو کیا تمہارے معبودوں میں سے کسی کے اندر یہ ہوتا ہے کہ وہ رات کو لا سکے جس میں تم دن کے تھکے ماندے سکون حاصل کرتے ہو ! مطلب یہ ہے کہ جب اس کائنات کے ان تصرفات میں، جن پر تمام مخلوقات کے بقاء کا انحصار ہے، تمہارے ان دیویوں دیوتائوں کو کوئی دخل نہیں ہے تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں کہ تم نے ان کو خدا کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے !
سلوب بیان کی باغت
یہاں اسلوب بیان کی یہ بلاغت بھی قابل توجہ ہے کہ شب کے ذکر کے بعد تو فرمایا کہ افلاتسمعون (کیا تم لوگ سنتے نہیں) اور دن کے ذکر کے ساتھ فرمایا کہ افلاتبصرون (کیا تم لوگ دیکھتے نہیں) یہ اسلوب تصویر حال کے لئے ہے۔ گویا پہلی بات شب کے اندھیرے میں فرمائی جا رہی ہے کہ اگر رات کے اندھیرے میں تمہیں سمجھائی نہیں دے رہا ہے تو کیا سنائی بھی نہیں دے رہا ہے تو آخر اس بات کو سنتے کیوں نہیں ! اسی طرح دوسری بات گویا دن کی روشنی میں فرمائی جا رہی ہے کہ اس وقت تو پورے دن کی روشنی موجود ہے تو کیا اس روشنی میں بھی تمہیں یہ بدیہی حقیقت نظر نہیں آرہی ہے !
اس میں یہ بلاغت بھی ہے کہ معقولات کو محسوسات کی حیثیت دے دی گئی ہے جس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بدیہیات ہیں جن کو سمجھنے کے لئے زیادہ تامل و فکر کی ضرورت نہیں ہے یہ کافی ہے کہ آدمی کے کان اور اس کی آنکھیں کھلی ہوں۔ لیکن تمہارا حال تو یہ ہے کہ نہ شب کے سکون میں تمہیں کچھ سنائی دیتا نہ دن کے اجالے میں کچھ دکھائی دیتا۔
ایک چیز ان آیات میں اور بھی قابل توجہ ہے وہ یہ کہ رات کے ساتھ اس کی صفت تسکنون فیہ تو مذکور ہوئی لیکن دن کے ساتھ اس کی کسی صفت کا ذکر نہیں ہوا۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے جگہ جگہ اشارہ کیا ہے کہ بعض مرتبہ کلام کے متقابل اجزاء بتقاضیء ایجاز و بلاغت، حذف کردیئے جاتے ہیں یہاں دن کا فائدہ چونکہ بالکل واضح تھا اس وجہ سے اس کو حذف کردیا۔ آگے والی آیت میں اس حذف کی وضاحت ہوگئی ہے۔
Ayah 28:73خدا کے انعامات کا حق شکر
یعنی یہ رات اور دن کا لانا صرف خدا کے فضل و رحمت ہی کا کرشمہ ہے کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے اور تمہارا خدا پر کوئی حق بھی قائم نہیں تھا کہ وہ تمہارے لئے یہ اہتمام کرتا کہ رات آ کر تمہارے لئے راحت و سکون کا بستر بچھائے اور پھر دن طلوع ہو کر تمہارے لئے تلاش رزق و فضل کا میدان گرم کرے۔ یہ سب کچھ مجرد خدا کی رحمت کا ظہور ہے تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھائو اور اپنے اس رب کے شکر گزار رہو جس نے تمہارے لئے یہ کچھ اہتمام کیا ہے آیت میں لتسکنوا کا تعلق رات سے ہے اور ولتبتغوا من فضلہ کا تعلق دن ہے۔ انسان کسب رزق کے لئے جو جدوجہد کرتا ہے اس کو ابتغائے فضیل سے تعبیر فرمایا ہے اس لئے کہ خدا کے پیدا کئے ہوئے اسباب و وسائل سے انسان کی ساری جدوجہد اس کی مرضی کے مطابق ہونی چاہئے۔ اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ خدا کے دیئے ہوئے اسلحہ کو خدا کے خلاف استعمال کرتا ہے اور اس طرح وہ اس کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔
Ayahs 28:74–75آیت 75-74
آخری اتمام حجت
آیت 74 بعینہ اس سلسلہ بحث کے آغاز میں بھی گزر چکی ہے۔ یہاں یہ ایک اور ماجرے کی تمہید کے طور پر آئی ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں پر آخری اتمام حجت کے لئے یہ بھی کرے گا کہ ہر امت پر اپنے رسولوں کے ذریعہ سے یہ گواہی دلوا دے گا کہ انہوں نے ان کو دین توحید کی تعلیم دی تھی، شرک کی تعلیم نہیں دی۔ رسولوں کی اس گواہی کے بعد اللہ تعالیٰ امتوں سے پوچھے گا کہ اب بتائو تم نے کس سند کی بنا پر خدا کے شریک ٹھہرائے، اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو پیش کرو، اس وقت سب پر واضح ہوجائے گا کہ حق بجانب اللہ ہے اور ان کے تمام خود تراشیدہ معبود بالکل بےحقیقت ثابت ہوں گے۔
شھید سے مراد اللہ کے وہ رسول ہیں جو ہر امت کی طرف بھیجے گئے۔ ان کو شہید کے لفظ سے اس لئے تسبیہ فرمایا کہ انہوں نے خدا کے دین کی گواہی اپنی اپنی امتوں پر اس دنیا میں بھی دی ہے اور آخرت میں بھی وہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے خدا کا دین ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا تھا۔ اگر بعد والوں نے اس میں یہ بدعتیں داخل کی ہیں تو یہ ان کی اپنی ذمہ داری ہے، وہ ان سے بری ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ہر امت اپنے شرک و بدعت کی تائید میں اپنے رسولوں اور نبیوں ہی کا حوالہ دیتی ہے کہ یہ انہی کی تعلیم ہے جس پر وہ عمل کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی شہادت کے ذریعہ سے ان پر آخری حجت تمام کر دے گا جس کے بعد کسی کے لئے لب کشائی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ سورة مائدہ کی آیات 17-16 کے تحت اس شہادت کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ وضاحت مطلوب ہو تو ایک نظر ان پر بھی ڈال لیجیے۔
استاذ امام ؒ اس آیت کی تاویل مریم کی آیت 69 اور حم السجدۃ کی آیت 47 کی روشنی میں کرتے ہیں۔ لیکن مجھے اس پر اطمینان نہیں ہے۔ میں نے جو تاویل کی ہے دوسری مفسرین کی تاویل بھی یہی ہے اور قرآن کے واضح نظائر اسی کے حق میں ہیں۔ والعلم عند اللہ۔
Ayah 28:76آگے کا مضمون۔ آیات 84-76
آگے کا مضمون اوپر آیت 61 سے مربوط ہوگیا ہے۔ اوپر یہ بیان ہوا تھا کہ اپنی رفاہیت و خوشحالی پر اترانے والی کتنی قومیں گزری ہیں جن کو خدا نے تباہ کردیا اور ان کو اپنے جن معبودوں پر ناز تھا وہ ان کو خدا کی پکڑ سے نہ بچا سکے اس کے بعد ضمناً رد شرک کا مضمون آگیا جو آیت 75 پر تمام ہوا۔ اس کے بعد پھر اسی اوپر والے مضمون کو از سر نو لے لیا اور ایک یہودی سرمایہ دار … قارون … کے فخر و غرور اور اس کے عبرت انگیز انجام کو بطور مثال ذکر کر کے ان لوگوں کو متنبہ فرمامیا جو دنیا کی زینتوں پر ریجھ کر خدا اور آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی قوم میں قارون کا مماثل ابولہب تھا۔ اس کو بھی اپنی دولت پر بڑا ناز تھا اور اس کی یہ دولت مندی خود اس کے لئے بھی اور دوسرے بہتوں کے لئے بھی فتنہ بنی ہوئی تھی۔ اس مثال سے مقصود اسی طرح کے لوگوں کی آنکھیں کھولنا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔
قارون کا حضرت موسیٰ ؑ پر حسد
قارون کا ذکر تورات کی کتاب گنتی باب 16 میں آیا ہے۔ تورات میں اس کا نام قورح مذکور ہوا ہے، اس کے نسب نامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات موسیٰ ؑ و ہارون کے خاندان … بنی لادی … سے اور رشتہ میں حضرت موسیٰ ؑ کے سگے چچا کا لڑکا تھا۔ اس کو حضرت موسیٰ ؑ و حضرت ہارون کی امامت و سیادت کا بڑا حسد تھا اس وجہ سے اس نے یہ نعرہ بلند کیا کہ خاندان کے تمام آدمی یکساں مقدس اور دیندار ہیں تو آخر حضرت موسیٰ ؑ و ہارون (علیہما السلام) ہی کو کیا ایسے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ وہ قوم کی امامت و پیشوائی کریں۔ دوسروں کو یہ حق کیوں حاصل نہیں ہے ! چناچہ وہ خاندان کے کچھ لوگوں کو ملا کر حضرت موسیٰ ؑ کے خلاف بغاوت کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ تورات کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔
”اور قورح بن اضہار بن قہات بن لادی نے بنی روبن میں سے الیاب کے بیٹوں دا تن اور ابیرام اور پلت کے بیٹے اور دن کے ساتھ مل کر اور آدمیوں کو ساتھ لیا اور وہ اور بنی اسرائیل میں سے ڈھانی سو اور اشخاص، جو جماعت کے سردار اور چیدہ اور مشہور آدمی تھے، حضرت موسیٰ ؑ کے مقابل میں اٹھے اور وہ حضرت موسیٰ ؑ و ہارون کے خلاف اکٹھے ہو کر کہنے لگے تمہارے و بڑے دعوے ہو چلے۔ کیونکہ جماعت کا ایک آدمی مقدس ہے اور خداوند کے بیچ رہتا ہے سو تم اپنے آپ کو خداوند کی جماعت سے بڑا کیونکر ٹھہرا لے ہو۔ (گنتی باب 16: 3-1)
قارون کی دولتمندی
اس کی اسی بغاوت کو قرآن نے یہاں فبغی علیھم سے تعبیر فرمایا۔
واتینہ من الکنوزمآ ان مفاتحہ لتنوآء بالعصبۃ اولی القوۃ یہ اس کی سرمایہ داری اور دولت مندی کا ذکر فرمایا جس سے مقصود اس کی اس سرکشی اور استکبار کے سبب پر روشنی ڈالنا ہے کہ چونکہ وہ بڑا مالدار آدمی تھا اس وجہ سے اس کو یہ بات کھلتی تھی کہ وہ اپنے مقابل میں اپنے خادنان اور اپنی قوم پر حضرت موسیٰ ؑ و ہارون کی برتری تسلیم کرے۔ فرمایا کہ ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت ور جماعت سے اٹھتی تھیں۔ یہ کوئی مبالغہ کا اسلوب بیان نہیں ہے بلکہ بیان واقعہ ہے۔ اس زمانے میں خزانوں کی حفاظت کے لئے اس طرح کی تجوریاں، آہنی الماریاں اور سیف نہیں ہوتے تھے جس طرح کے ہمارے زمانے میں ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کے صیقل کردہ قفل اور کنجذیوں ہی کا رواج تھا جن کا اب ہے۔ اس زمان یکے بڑے سرمایہ دار بالعموم زمین دوز خزانے بناتے اور ان کو محفوظ کرنے کے لئے ان کے پھاٹکوں اور دروازوں میں بڑے بڑے آہنی کنڈے لگا کر ان میں بھاری بھاری آہنی اڑنگے، جو خاص اسی غرضے کے لئے تیار کئے جاتے، پھنساتے۔ ان اڑنگوں کو پھنسانا اور ان کو کھولنا دونوں ایک مشکل کام ہوتا اور ان کے تمام لوازم مل ملا کر ایک بھار بوجھ بن جاتے۔ جب بھی ان کو ہٹانے یا اٹھانے کی ضرورت پیش آتی تو ایک طاقت اور جماعت کی ضرورت ہوتی۔ یہی طریقہ اس زمانے میں شہر پناہوں اور قعلوں کے آہنی دروازوں کو بند کرنے کے لئے بھی اختیار کیا جاتا۔ اس طریقہ کی بعض یادگاریں اب بھی ہماری دیہاتی زندگی میں پائی جاتی ہیں۔ آیت میں اسی طرح کی کنجیوں کی طرف اشارہ ہے۔ عرب میں جس طرح کسی کے پاس بھاری بھاری دیگوں کا پایا جانا اس کی فیاضی کی دلیل تھا اسی طرح اس قسم کی کنجیوں کا پایا جانا اس کی سرمایہ داری کی نشانی تھا۔
قوم کے دانشمندوں کی قارون کو نصیحت
اذ قال لہ قومہ ایۃ جب اس نے سرکشی کی یہ روش اختیار کی تو اس کی قوم کے دانشمند لوگوں نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کے غرور میں خدا ہی کے خلاف نہ اکڑائو، یاد رکھو کہ خدا اکڑانے اور اترانے والوں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ یہ شائستہ الفاظ میں اس کو تنبیہ تھی کہ یہ روش اختیار کرنے والے بالآخر خدا کی پکڑ میں آجاتے ہیں۔ لفظ قوم اگرچہ عام ہے لیکن قرنیہ دلیل ہے کہ اس سے مراد قوم کے اصحاب علم ہیں۔ آگے آیت 80 میں اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔ یہاں عام لفظ استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ قوم کی اکثریت حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی۔ صرف تھوڑے سے مفاد پرست تھے جن کو قارون نے اپنے ساتھ ملا کر اپنی پارٹی بنا لی تھی۔
Ayah 28:77یہ اسی نصیحت کی مزید تفصیل ہے جو انہوں نے قارون کو کی۔ اس کا ایک ایک فقرہ حکمت و معفرت کا خزانہ ہے۔
وابتغ فی مآ اتک اللہ الدار الاخرۃ یعنی خدا نے تمہیں یہ رفاہیت جو بخشی ہے اکڑنے اور اترانے کے لئے نہیں بخشی ہے بلکہ اس لئے بخشی ہے کہ تم اس کو آخرت کی فوز و فلاح حاصل کرنے کا ذریعہ بنائو۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو کچھ بھی تمہیں حاصل ہے نہ تمہارے اب وجد کی میراث ہے اور نہ تمہاری قابلیت و استحقاق کا کرشمہ ہے بلکہ یہ سرتاسر خدا کی بخشش ہے اور اس کورے کو خدا نے تمہارا امتحان کیا ہے کہ اس کو پا کر تم اس کے پرستار بن کر بیٹھ جاتے ہو یا اس کو خدا کی خوشنودی اور رضا طلبی کا ذریعہ بناتے ہو۔
ولاتنس نصیبک من الدنیا یہ نہایت حکیمانہ تنبیہ ہے کہ یاد رکھو کہ اس دنیا کی ہر چیز آنی وفانی ہے۔ اس کی کسی چیز کو بھی بقا نہیں ہے۔ تمہاری ابدی زندگی میں اس میں سے تمہارے کام آنے والی چیز وہی بنے گی جو تم آج خدا کی راہ میں صرف کرو گے۔ اگر تم خدا اور اس کے بندوں کے حقوق سے آنکھیں بند کیے ہوئے سونے اور چاندی کے اس ڈھیر کی پوجا کرتے رہے تو یاد رکھو کہ وبال اور تباہی کے سوا تم اس سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکوگے۔
عام طور پر ہمارے مفسرین نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ تم اس دنیا میں سے بھی اپنا حصہ نظر انداز نہ کرو، ہم یہ نہیں کہتے کہ آخرت کی خاطر اس دنیا کو تج دو بلکہ یہ کہتے ہیں کہ آخرت کو بھی فراموش نہ کرو۔ ہمارے نزدیک یہ بات بالکل غلط ہے اور گونگاوں پہلوئوں سے غلط ہے لیکن صحیح مطلب واضح کردینے کے بعد اس کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
واحسن کما احسن اللہ الیک یعنی جس طرح خدا نے تمہارے ساتھ یہ اچھا معاملہ کیا ہے اسی طرح تم بھی دوسروں کے ساتھ اچھا معاملہ کرو۔ خدا اپنی صفات کا عکس اپنے بندوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ یاد رکھو کہ جو خدا محسن ہے وہ کبھی ان لوگوں کو پسند نہیں کرسکتا جو اس کے بندوں کے معاملے میں سنگ دل ہوں۔
فساد فی الارض کی حقیقت
ولا تبغ الفساد فی الارض ان اللہ لایحب المفسدین یہ اسی موعظت کی وضاحت اس کے منفی پہلو سے ہے۔ فاد فی الارض کی وضاحت ہم اس کتاب میں جگہ جگہ کرچکے ہیں۔ زمین میں فساد صرف چوری رہزنی اور ڈکیتی ہی نہیں ہے۔ یہ تو محض اس کے بعض مظاہر ہیں۔ اصل فساد علوواستکبار ہے۔ استکبار کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنے حدود بندگی سے تجاوز کر کے خدا کے حدود و حقوق میں مداخلت کرے۔ جو لوگ اس جرم کے مرتکب ہیں وہ مفسدین فی الارض میں شامل ہیں، خواہ وہ یہ کام کتنی ہی دانش فروشیوں کے ساتھ کیں۔ ایسے لوگوں کو خدا پسند نہیں کرتا، ظاہر ہے کہ وہ ان لوگوں کو کیسے پسند کرسکتا ہے جو اس کے مقابل میں سر اٹھائیں اور اس کے حرم میں درا زازی کریں اور جب وہ ان کو پسند نہیں کرتا تو اس کے صاف معنی یہ ہوئے کہ ان کی حیثیت اس کے چمن میں خود رو جھاڑیوں اور اس کے خوان کرم پر ناخواندہ مہمانوں کی ہے۔ بالآخر ایک وقت آئے گا کہ خود رو جھاڑیاں اکھاڑی جائیں گی اور ناپسندیدہ لوگ کھدیڑے جائیں گے !
Ayah 28:78قارون کا جواب
قارون نے جواب دیا کہ یہ مال ومتاع جو مجھے حاصل ہے میری حسن تدبیر، مہارت فن اور قابلیت کا ثمرہ ہے، اس کو خدا سے کیا تعلق کہ اس میں اس کا کوئی حق قائم ہو اور مجھ پر اس کے ادا کرنے کی ذمہ داری ہوا لفظ عندی سے اس کے ذہن کا یہ مخفی پہلو ظاہر ہوتا ہے کہ اس تمام دولت کا سرچشمہ خود میرے اندر ہے نہ کہ خدا کے اندر اس وجہ سے مجھے اس باب میں خدا یا کسی اور سے کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ آپ لوگوں کا یہ سارا وعظ میرے آگے بالکل بےسود ہے، یہ وعظ کسی اور کو سنایئے !
اللہ تعالیٰ کی تنبیہ
یہ اس کے قول پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبصرہ ہے کہ اس بدقسمت نے یہ لاف زنی کرتے ہوئے یہ نہ سوچا کہ اس سے پہلے کتنے گزر چکے ہیں جو قوت و جمعیت میں اس سے کہیں بڑھچڑھ کر ہوئے لیکن خدا نے ان کو چشم زدن میں تباہ کردیا ! یہ امر محلوظ رہے کہ اس سے کچھ ہی پہلے فرعن کے غرق ہونے کا واقعہ پیش آچکا تھا جس کو اگر اس نے دیکھا نہیں تو تنا سو بہرحال ہوگا۔ یہاں اشدمنہ قوۃ میں اسباب و وسائل، خدم و حشم اور اسلحہ و آلات کی قوت مراد ہے اور اکثر جمعاً میں مع سے قبیلہ و خاندان کی جمعیت مراد ہے۔
ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون جب خدا اس قسم کے مجرموں کو پکڑنے کا فیصلہ کرل یتا ہے تو پھر ان کو اتنی مہلت بھی نہیں دی جاتی کہ ان سے ان کے جرم کی بابت کچھ پوچھ لیا جائے اور اگر ان کے پاس کوئی جواب ہے تو وہ سن لیا جائے بلکہ اس کا عذاب ان کو فوراً دبوچ لیتا ہے اور قیامت کے دن بھی خدا کو کسی سے اس کے جرائم کی بابت کسی تحقیق و تفتیش کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ہر مجرم کی پیشانی اس کے ہاتھ پائوں اور اس کے اعضاء وجوارح خود اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ یعرف المجرمون بسیمھم فیوخذ بالنواصی والاقدام (رحمن :41)
Ayah 28:79قارون کا جلوس اور عوام پر اس کا اثر
معلوم ہوتا ہے اس کے اسی دوران میں اپنے زور و اثر اور اپنی قوت و جمعیت کی نمائش کے لئے کوئی جلوس نکالا تاکہ حضرت موسیٰ ؑ اور انکے ساتھیوں کو مرعوب اور اپنی جمعیت میں اضافہ کرے۔ فی زینتہ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس موقع پر اس نے اپنی دولت و حشمت کا خاص طور پر مظارہ کیا اس لئے کہ عوام کا الانعام کو سب سے زیادہ یہی چیز متاثر کرتی ہے۔ یہ بعینیہ اسی طرح کی حرکت ہے جس کے تماشے آئے دن آپ کے لیڈر حضرات آپ کے شہروں اور قصبوں میں دکھاتے رہتے ہیں۔ اس کا اثر، ان لوگوں پر جو اسی دنیا کی دولت کو سب کچھ سمجھتے ہیں، یہ پڑا کہ وہ اس کا نعرہ لگانے لگے کہ بیشک قارون بڑا ہی نصیبہ ور ہے !
Ayah 28:80قوم کے اہل دانش کا رویہ
قوم میں جو لوگ علم و دانش رکھنے والے تھے انہوں نے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اصل چیز مال و دولت اور اس کی نمائش نہیں ہے بلکہ ایمان و عمل صالح اور اس کا اجر وثواب ہے جس کے لئے انسان کو اپنی زندگی وقف کرنی چاہئے لیکن یہ حکمت ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی، صرف انہی کو حاصل ہوتی ہے جن کے اندر دنیا کی رغبات و مطامع کے مقابل میں ایمان و عمل پر جمے رہنے کی ہمت و عزیمت ہوتی ہے۔
حقیقی علم خدا کی معرفت اور آخرت کا علم ہے
اوتوا العلم میں علم سے مراد علم حقیقی ہے یعنی خدا کی معرفت اور آخرت کا علم یہی علم ہے جس سے انسان کو اصل روشنی حاصل ہوتی ہے۔ اگر یہ علم کسی کو حاصل نہ ہو تو وہ تاریکی میں ہے، اگرچہ وہ دوسرے علوم میں کتنا ہی شاطر ہو۔ قارون مالیات کے فن کا بہت بڑا ماہر تھا اور اوپر واضح ہوچکا ہے کہ اس کو اس فن میں مہارت کا دعویٰ بھی تھا لیکن علم حقیقی سے وہ محروم تھا اس وجہ سے اتنی دولت رکھنے کے باوجود اس کی حیثیت ایک مار گنج سے زیادہ نہ بن سکی۔ بالکل یہی حال دوسرے علوم کا بھی ہے۔ وہ بھی انسان کے لئے نافع اسی وقت بنتے ہیں جب اس کو علم حقیقی کا نور حاصل ہو۔ اگر اس نور سے وہ محروم ہو تو ان سے وہ چالاک، کاروان اور شاطر تو بن جاتا ہے لیکن انسان نہیں بنتا اور بغیر انسان بنے چالاکی و ہوشیاری نہایت خطرناک چیز ہے۔ یہ نادان کے ہاتھ میں تلوار ہے۔ اس حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھیے کہ جہاں تک مجرد چالاکی وہوشیاری کا تعلق ہے اس فن میں شیطان کسی سے پیچھے نہیں ہے بلکہ وہ تمام چالاکوں کا مرشد و امام ہے۔
حکمت صابروں کو حاصل ہوتی ہے
ولایلقھآ الا الصبرون میں ضمیر کا مرجع وہ حکمت و موعظت ہے جس کی ان اصحاب علم نے تلقین فرمائی۔ اسی طرح ضمیر لانا عربی میں معروف ہے اور اس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ علم حقیقی اور صبر دونوں بالکل قوام ہیں اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اصلی حکمت صرف انہی کو حاصل ہوتی ہے جن کے اندر صبر ہو۔ یعنی جو آخرت کی طلب میں اس دنیا کی بڑی سے بڑی دولت و شوکت کو قربان کرنے کی اپنے اندر ہمت رکھتے ہوں۔ جن کے اندر یہ حوصلہ اور ظرف نہ ہو وہ اس حکمت کے حامل نہیں بن سکتے۔
اس ٹکڑے کے متعلق ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ انہی اصحاب علم کے قول کا جزو ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین ان کی تحسین ہے۔ اس بارے میں ابھی جزم کے ساتھ کوئی بات میں نہیں کہہ سکتا لیکن اس طرف ذہن جاتا ضرور ہے اور قرآن میں اس کی نظیریں بھی موجود ہیں۔ اس صورت میں اس ٹکڑے کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ حکمت ان لوگوں کو اس وجہ سے عطا ہوئی کہ یہ صابرین میں سے تھے۔ قارون کی دولت و حشمت اور اس کے طمطراق سے مرعوب ہو کر پھسل جانے والے لوگ نہیں تھے۔
Ayah 28:81قارون پر حضرت موسیٰ ؑ کی لعنت اور اس کا عبرتناک انجام
یہاں قارون کے اس قصہ کا ایک حصہ محذوف ہے۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ نے دیکھا کہ سامری کے فتنہ کے بعد ان کی قوم میں ایک اور فتنہ اٹھ کھڑا ہوا ہے تو انہوں نے قارون اور اس کے ساتھیوں کو خیمہ اجتماع کے سامنے مباہلہ کی دعوت دی تاکہ واضح ہوجائے کہ خدا کی نظروں میں مقبول اور پسندیدہ کون ہے تورات میں اس کی تفصیل طویل ہے۔ ہم صرف اس کا ضروری یہاں نقل کرتے ہیں۔
اور داتن اور ابیرام اپنی بیویوں، بیٹیوں اور بال بچوں سمیت نکل کر اپنے خیموں کے دروازوں پر کھڑے ہوئے۔ تب موسیٰ نے کہا، اس سے تم جان لو گے کہ خداوند نے مجھے بھیجا ہے کہ میں یہ سب کام کروں کیونکہ میں نے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کیا۔ اگر یہ آدمی (اشارہ قارون اور اس کے جتھہ کی طرف ہے) ویسی ہی موت مریں جو سب لوگوں کو آتی ہے یا ان پر ویسے ہی حادلے کر زیں جو سب پر گزرتے ہیں تو میں خداوند کا بھیجا ہوا نہیں ہوں۔ پر اگر خداوند کوئی نیاکرشمہ دکھائے اور زمین اپنا منہ کھول دے اور ان کو ان کے گھر بار سمیت نگل جائے اور جیتے جی پاتال میں سما جائیں تو تم جانتا کہ ان لوگوں نے خداوند کی تحقیر کی ہے۔ اس نے یہ باتیں ختم ہی کی تھیں کہ زمین ان کے پائوں تلے پھٹ گئی اور زمین نے اپنا منہ کھول دیا اور ان کو اور ان کے گھر بار کو اور قورح کے ہاں کے سب آدمیوں کو اور ان کے سارے مال و اسباب کو نگل گئی۔ سو وہ اور ان کا سارا گھر بار پاتال میں سما گئے اور زمین ان کے اوپر برابر ہوگئی اور وہ جماعت میں سے نابود ہوگئے اور سب اسرائیلی جوان کے آس پاس تھے ان کا چلانا سن کر یہ کہتے ہوئے بھاگے کہ کہیں زمین ہم کو بھی نہ نگل لے۔ (گنتی باب 16، 34-28)
اس سے معلوم ہوا کہ قارون اور اس کے ساتھیوں کے زمین میں دھنسائے جانے کا واقعہ حضرت موسیٰ ؑ کی لعنت اور بد دعا کے نتیجے میں ظہور میں آیا اور اس طرح پیش آیا کہ نہ قارون اپنی مدافعت میں کچھ کرسکا اور نہ اس کا وہ جتھہ اس کے کچھ کام آسکا جس کے بل پر اس نے حضرت موسیٰ ؑ کا مقابلہ کرنا چاہا تھا۔
Ayah 28:82عوام کی زد و پیشمانی
خام ذہن کے لوگ کسی لو اقتدار یا دولت مند دیکھتے ہیں تو اس پر رشک سے مرنے لگتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ اس کا یہ اقتدار اور اس کی یہ دلوت لازوال ہے۔ ان کو لاکھ سمجھایئے کہ یہ چیزیں عارضی وفانی ہیں لیکن یہ بات کسی طرح ان کے دل میں نہیں اترتی البتہ جب وہ چاروں شانے چت گرتا ہے تب ان کو ناصحوں کی باتیں یاد آتی ہیں اور وہ بھی پکار اٹھتے ہیں کہ ہاں بھائیچ ٹھیک کہا تھا جس نے کہا تھا کہ اللہ ہی کے اختیار میں سب کا رزق و فضل ہے، وہی جس کو چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے یہی حال قارون کے طمطراق پر فریضتہ ہونے والوں کا بھی ہوا۔ انہوں نے بھی جب اس کا انجام دیکھا تو بول اٹھے کہ یہ اللہ کا بڑا احسان ہوا کہ ہم اس کے ساتھی نہ بنے ورنہ ہمارا بھی وہی حشر ہوتا جو اس کا اور اس کے ساتھیوں کا ہوا۔ ان لوگوں کی بات سچی نکلی جو کہتے تھے کہ کافروں کو فلاح حاصل نہیں ہوتی۔
اس کا محل استعمال
لفظ امس فصیح عربی میں صرف گزرے ہوئے کل کے لئے نہیں آتا بلکہ ماضی قریب کے مفہوم میں بھی آتا ہے جس طرح ہم اپنی زبان میں بولتے ہیں یہ تو کل کی بات ہے، یہاں بھی یہ اسی مفہوم میں ہے۔ یعنی ابھی کل تک جو لوگ قارون کی شان و شوکت پر مرتے تھے وہ یہ کہنے لگے۔
وی کا محل استعمال
وی کان میں وی تنبیہ کا کلمہ ہے۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں ارے کہتے ہیں اسی طرح عربی میں وی ہے۔ اس کے ساتھ جب کان یا کا نہ مل جائے تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ ارے ! یہ تو گویا کہ وہی بات ہوئی …!
یقدر کے بعد لمن یشآء تقابل کے معروف اصول کے مطابق حذف ہوگیا ہے۔ ہم نے ترجمہ میں اس کو کھول دیا ہے۔
قارون اور ابولہب میں مماثلت کے بعض پہلو
اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ قارون کی یہ حکایت محض ماضی کی ایک حکایت کی حیثیت سے نہیں بیان ہوئی ہے بلکہ اس کے پردے میں ابولہب اور اس کے ساتھیوں کا کردار اور انجام پیش کیا گیا ہے۔ جس قسم کا فتنہ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم میں قارونت ھا اسی قسم کا فتنہ آنحضرت ﷺ کی قوم میں ابولہب تھا یہاں زیادہ تفصیل کا موقع نہیں ہے لیکن دونوں کی مماثلت کے بعض پہلوئوں کی طرف ہم اشارہ کریں گے تاکہ اس قصہ کی اصلی حکمت واضح ہو سکے۔
-1 جس طرح قارون حضرت موسیٰ ؑ کے خاص خاندان … بنی لادی … کا سب سے بڑا دولت مند تھا اسی طرح ابولہب آنحضرت ﷺ کے خاندان… بنی ہاشم … میں سب سے بڑا دولتمند تھا۔ رشتہ کے اعتبار سے بھی دونوں میں بڑی مماثلت تھی۔ ابولہب آنحضرت ﷺ کا چچا تھا اور قارون اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کا ب رادر غم زد تھا۔
-2 دونوں بڑے اونچے درجے کے سرمایہ دار تھے۔ قارون کی دولتم ندی کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ابولہب کی دولت کا ذکر انشائ اللہ سورة ہمزہ اور سورة لہب کی تفسیر میں آئے گا۔ ابولہب خانہ کعبہ کا کلیند بردار اور رفاہ کے پورے خزانے پر تنہا قابض و متصرف تھا۔ اس طرح اس نے حرام و حلال کے تمام رساتوں سے بیشمار دولت اکٹھی کرلی تھی۔
-3 دونوں نہایت بخیل، متکبر اور قسی القلب تھے۔
-4 اپنے اپنے رسلوں کے ساتھ دونوں کے عناد کی نوعیت بھی ایک ہی تھی۔ قارون یہ چاہتا ہتھا کہ خاندان کی مذہبی پیشوائی اسے حاصل رہے تاکہ اس کی سرمایہ داری پر کوئی آنچ نہ آئے۔ ابولہب بھی یہی چاہتا تھا کہ خانہ کعبہ کی کلید برداری اور رفادہ کی دولت پر اس کا قبضہ رہے، اس سے اسے کوئی محروم نہ کرنے پائے۔
-5 انجام کے اعتبار سے بھی دونوں میں بڑی مماثلت ہے۔ دونوں خدا کے قہر و غضب کے ہدف ہوئے۔ قارون کا انجام اوپر بیان ہوچکا ہے۔ ابولہب کا انجام ان شاء اللہ، سورة لہب کی تفسیر میں تفصیل سے بیان ہوگا۔
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ یہاں قارون کے پردے میں درحقیقت ابولہب اور ابولہب پرستوں کا ذکر ہوا ہے۔ جب تک قرآن میں بیان کردہ واقعات کا یہ پہلو سامنے نہ ہوا اس وقت تک ان کی اصلی حکمت واضح نہیں ہوتی۔
Ayah 28:83اوپر کی موعظت کا خلاصہ
یہ اوپر کی بیان کردہ موعظت کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ دار آخرت جس کا ذکر ہوا، ہم نے ان لوگوں کے لئے خاص کر رکھا ہے جو خدا کی زمین میں استکبار اور فساد کے طالب نہیں بنیں گے بلکہ اس کے بندے بن کر زندگی بسر کریں گے اور اس کے اندر اس نظام حق و عدل کے حامی و علم بردار ہوں گے جس کو خدا نے پسند فرمایا ہے یہی لوگ متقی ہیں اور انجام کار فوز و فلاح ان متقیوں ہی کے لئے ہے۔ نجعلھا یہاں خاص کرنے کے مفہوم میں ہے اور یہ بات فحوائے کلام سے واضح ہے کہ اصل متقی وہی لوگ ہیں جن کے سینے استکبار سے اور جن کے اعمال فساد سے پاک ہوں۔
Ayah 28:84نیکوں کے ساتھ فضل اور بدوں کے ساتھ عدل کا معاملہ
یہ وہ اصول بیان فرما دیا جس کے مطابق آخرت میں نیکوں اور بدوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ معاملہ کرے گا۔ فرمایا کہ جو نیکی کی کمائی کر کے آئیں گے ان کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے مطابق معاملہ کرے گا، ان کو ان کی نیکیوں سے کہیں بہتر صلہ دے گا اور جو بدی کی کمائی کر کے آئیں گے ان کے ساتھ اپنے عدل کے مطابق معاملہ کرے گا۔ جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا اس کا ثمرہ ان کے آگے رکھ دیا جائے گا کہ یہ تمہاری اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کا حاصل ہے، اب اس کا مزاچکھو !
Ayah 28:85آگے کا مضمون ……آیات 88-85
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اس قرآن کو تم نے خدا سے مانگ کر تو اپنے اوپر اتروایا نہیں ہے کہ اس کی فکر میں گھلے جا رہے ہو۔ جس خدا نے تم پر اس کو اتارا ہے وہی اس کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ کرنے میں تمہارا مددگار ہے۔ وہ تم کو بہر حال کامیابی کی منزل تک پہنچائے گا تو تم ان مخالفین کی ذرا پروا نہ کرو۔ اپنی دعوت پر جمے رہو۔ یہ کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم اپنے موقف میں ذرا بھی تبدیلی یا نرمی نہ آنے دو … اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
آنحضرت کو شاندار کامیابی کی بشارت
”معاد، کے معنی مرجع، غایت اور انجام کار کے ہیں۔ اس کی تنکیر یہاں تضخیم شان پر دلیل ہے اس وجہ سے یہ معاد حسن کے مفہوم میں ہوگا یعنی شاندار انجام اور اعلیٰ مرجع
اوپر کے مباحث کے بعد بطور خلاصہ بحث آنحضرت ﷺ کو تسلی دی کہ تم ان مخالفوں کی مخالفت کی ذرا پروا نہ کرو۔ جس نے تمہارے اوپر اس قرآن کی ذمہ داری ڈالی ہے وہ اس کے فرئاض کی ادائیگی کی راہ میں ہر قدم پر تمہاری مدد فرمائے گا اور دنیا و آخرت دونوں میں تمہیں شاندار انجام سے ہم کنارے کرے گا۔ لوادک کے اندر ایک فیصلہ حتمی و قطعی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی یہ بات علی رغم اعداء ہو کے رہے گی۔ جس طرح خدا نے اپنے تمام رسولوں کو فائز المرام کیا اسی طرح تمہیں بھی فائز المرام کرے گا۔ رسولوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے وہ بالکل اٹل ہے۔
قل ربی اعلم من جآء بالھدی ومن ھو فی ضلل مبین، یعنی اب اپنے ان مخالفین سے بحث بند کر دو اور ان سے یہ آخری بات کہہ دو کہ خدا خوب جانتا ہے کہ کون اللہ کی ہدایت لے کر آیا ہے اور کون کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک افہام و تفہیم کا تعلق ہے تم نے اپنا فرض ادا کردیا۔ اب معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ وہی فیصلہ فرمائے گا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون گمراہی پر الھدی سے مراد ہدایت الٰہی ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں۔ خدا کی ہدایت کے بعد اگر کوئی شخص گمراہی میں پڑا رہے تو وہ ایک کھلی ہوئی گمراہی میں ہے۔ جس طرح کوئی شخص پورے دن کی روشنی میں بھٹکتا پھرے۔
Ayah 28:86جو ذمہ داری بندے پر خدا ڈالتا ہے وہ اس میں اس کی مدد فرماتا ہے۔
یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ تم نے یہ کتاب اپنے اوپر خدا سے ماگن کر تو اتروائی نہیں ہے کہ اس کی ساری ذمہ داری خدا تم پر ڈال کر اس سے بےتعلق ہوجائے۔ یہ تو تمہارے رب کی رحمت ہے جو اس نے تم پر تمہاری طلب و تمنا کے بغیر، نازل فرمائی ہے تو جس کام کے لئے اس نے تمہیں خود منتخب فرمایا ہے وہی اس کے حقوق وفرائض سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہر گام پر تمہاری رہنمائی بھی فرمائے گا اور چونکہ یہ رحمت ہے، کوئی زحمت نہیں ہے اس وجہ سے بہرحال اس کا انجام تمہارے حق میں بھی اور ان لوگوں کے حق میں بھی جو اس کو قبول کریں گے، رحمت ہی کا باعث ہوگا۔ اگر ناشکرے لوگ اس کی ناقدری کر رہے ہیں تو وہ اپنی ہی کو خدا کی رحمت سے محروم کر رہے ہیں۔
قریش کو بالواسطہ تنبیہ
فلاتزنن ظھیراً …یہ خطاب اگرچہ ظاہر الفاظ کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اس میں ہو تنبیہ و عتاب مضمر ہے اس کا رخ مکذبین قرآن کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز تمہیں خدا کی طرف سے ملی ہے اس کو بےکم وکاست لوگوں تک پہنچا دو۔ اگر وہ تمہیں کچھ دبانا اور نرم کرنا چاہتے ہیں تو تم اس میں کسی تبدیلی یا مداہنت کے مجاز نہیں ہو۔ تم خدا کے آگے مسئول ہو، ان کے آگے مسئول نہیں ہو۔ اگر ان کی خاطر سے تم نے کوئی مداہنت کی تو تم مجرموں کے مددگار اور پشت پناہ بن جائو گے۔ یہ قریش کے لیڈروں کو سنا کر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو متنبہ کردیا تاکہ اگر وہ اپنے دل کے کسی گوشے میں یہ امید دبانے بیٹھے ہوں کہ ان مخالفتوں سے وہ آنحضرت ﷺ کو کچھ نرم کرلیں گے تو اس سے آخری درجے میں مایوس ہوجائیں۔
اس آیت سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ نبوت و رسالت ایک موبیت ربانی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے اس کار خاص کے لئے منتخب فرماتا ہے اور وہی جس کو منتخب فرماتا ہے اس کی تربیت فرماتا ہے۔ نبی کو یہ منصب بغیر کسی طلب و تمنا اور کسی انتظار و توقع کے ملتا ہے اور خدا ہی اس منصب کی ذمہ داریوں کے ادا کنے میں اس کی مدد فرماتا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ انسانی فطرت کی مضمر صلاحیتوں ہی کا ایک بروز ہے ان کا خیال بالکل غلط ہے … انشاء اللہ اس مسئلہ پر تفصیلی بحث آخری گروپ کی سورتوں میں آئے گی۔
جو عہدہ اور بغیر کسی تمنا کے کسی کو دیا ہے اس میں وہ اس کی ملائمہ فرماتا ہے
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آدمی پر اگر کسی منصب و عہدہ کی ذمہ داریاں اس کی طلب و تمنا کے بغیر عائد ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس میں اس کی مدد فرماتا ہے اور اگر وہ کسی عہدہ کا طالب بن کر اس کو حاصل کرتا ہے تو خدا اس کو اس کے عہدہ کے حوالے کردیتا ہے۔ اس بات کی وضاحت احادیث میں بھی نہایت مئوثر انداز میں ہوئی ہے۔
قرآن کے معاملہ میں مداہنت کرنے والا مجرموں کا ساتھی ہے
تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ قرآن کے معاملے میں ہمیں ہرگز کسی نرمی و مداہنت کو گوارا نہیں کرنا چاہئے اگر ہم ایسا کریں گیت و ہم برموں کے ساتھی اور ان کی مددگار بن جائیں گے۔
Ayah 28:87ورایصدنک عن ایت اللہ بعد اذ انزلت الیک وادع الی ربک ولا تکونن من المشرکین 87
مشرکین کو جس چیز سے سب سے زیادہ چڑ تھی اس پر سب سے زیادہ زور
یہ اسی اوپر والے مضمون کی وضاحت مزید تاکید کے ساتھ ہے کہ خواہ یہ مخالفین کتنا ہی زور لگائیں لیکن یہ اللہ کی آیات سے تمہیں روکنے نہ پائیں۔ یہ جن باتوں سے چڑتے ہیں ان کو برملا کہو اور ڈنکے کی چوٹ کہو۔ خدا کی جو بات تم پر نازل ہوچکی ہے اب نہ وہ واپس ہو سکتی اور نہ دبائی جاسکتی ہے۔ اب اس کے بلاغ کی ذمہ داری تم پر عائد ہوچکی۔ خدا کی بات کے ہوتے اس سے انحراف ہلاکت کی راہ پر چلنا ہے۔
وادع الی ربک ولا تکونن من المشرکین اپنے رب کی طرف لوگوں کو بلائو اور مشرکین میں سے نہ بنو۔ یہ خطاب بھی اسی طرح کا ہے جس طرح کا خطاب اوپر کی آیت میں گزر چکا ہے۔ یہاں یہ امر محلوظ رہے کہ قریش کے لیڈروں کو سب سے زیادہ چڑ دعوت توحید سے تھی اس وجہ سے سب سے زیادہ زور اسی پر دیا اور ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرما دی کہ اگر تم ان لوگوں کی مخالفت سے مرعوب ہو کر توحید کی دعوت میں کوئی مداہنت کی روش اختیار کرو گے تو تم بھی مشرکین میں سے بن جائو گے۔
Ayah 28:88مداہنت کے ہر امکان کا سدباب
یہ آخر میں اسی بات کی مزید وضاحت فرما دی کہ مداہنت کے ہر امکان کا سدباب ہوجائے۔ فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو، معبود صرف ویہ ہے اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے۔ فیصلہ کا تمام اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور قیامت کے دن سب کی واپسی اسی کی طرف ہوئی ہے۔ کوئی اور مولیٰ و مرجع نہیں ہے۔
بتوفیق ایزدی آج بروز جمعتہ المبارک 10 بجے دن اس سورة کی تفسیر اختتام کو پہنچی۔ فالحمد للہ علی ذلک