27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا ۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق سابق سورة میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ یہ قرآن کوئی شاعری اور کہانت میں ہے بلکہ اللہ کا اتارا ہوا کلام ہے لیکن جو لوگ اس پر ایمان نہیں لانا چاہتے وہ اس کے انذار کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ قرآن ان کو جس چیز سے ڈرا رہا ہے جب وہ اس کو دیکھ لیں گے تب اس پر ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ وہ عذاب کو دعوت دینے کے بجائے رسولوں اور ان کے جھٹلانے والوں کی تاریخ سے سبق حاصل کریں۔ اس سورة میں یہ واضح فرمایا کہ اس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت و بشارت بنا کر نازل فرمایا ہے لیکن اس پر ایمان وہی لائیں گے جن کے دلوں کے اندر آخرت کا خوف ہے جو لوگ اس دنیا کے عیش و آرام میں مگن ہیں وہ اپنے ان مشاغل سے دستبردار نہیں ہو سکتے جن میں وہ مشغول ہیں۔ ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں اس طرح کھبا دیئے گئے ہیں کہ اب کوئی تذکیر و تنبیہ بھی ان پر کارگر نہیں ہو سکتی۔ پچھلی سورة میں بحث کی بنیاد صفات الٰہی میں سے صفات … عزیز و رحیم پر رکھی ہے جن کے تمام پہلوئوں کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ اس سورة کی بنیاد صفات … حکیم وعلیم … پر ہے کہ یہ قرآن خدائے حکیم وعلیم کا اتارا ہوا ہے تو وہ جو کچھ کرے گا وہ حکمت اور علیم پر مبنی ہوگا۔ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کو اپنے رب حکیم وعلیم پر بھروسہ رکھنا چاہئے کہ وہ ان کو اچھے انجام سے ہمکنار کرے گا۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (6-1) سورة کی تمہید، جو سورة بقرہ کی تمہید سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔ اس میں واضح فرمایا ہے کہ یہ قرآن بجائے خود نہایت واضح اور قعل و دل کو اپیل کرنے والی کتاب ہے، لیکن جو لوگ آخرت کو نہیں ماننا چاہتے وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ وہ جن دلچسپیوں میں منہمک ہیں شیطان نے ان کی نگاہوں میں وہ اس طرح کھبا دی ہیں کہ اب وہ ان کے پیچھے اندھے ہوچکے ہیں۔ وہ اسی طرح بھٹکتے رہیں گے۔ (14-7) حضرت موسیٰ کی سرگزشت کا ابتدائی حصہ جس میں یہ واضح فرمایا ہے کہ اللہ نے ان کو نہایت واضح نو نشانیوں کے ساتھ فرعون کے پاس رسول بنا کر بھیجا لیکن فرعون اور اس کی قوم نے یہ یقین کرنے کے باوجود کہ یہ خدائی نشانیاں ہیں حضرت موسیٰ کی رسالت تسلیم نہیں کی اور بالآخر وہ ہلاک ہو کر رہے۔ (44-15) اللہ تعالیٰ کے صالح و مصلح بندوں کا ذکر کہ نعمت ان کو اندھا نہیں بناتی بلکہ جتنا ہی ان نعمتوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اتنی ہی منعمحقیقت کے آگ ان کے ذوتنی اور سرافگندگی بڑھتی جاتی ہے۔ حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) پر اللہ تعالیٰ کے جو انعامات ہوئے ان میں سے بعض کا حوالہ جن سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نعمت و جاہ اور حکمت و سائنس میں سے جو کچھ ان کو بخشا وہ کسی کو بھی نہیں بخشا لیکن انہوں نے ہر نعمت کو اللہ کا فضل جانا اور یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھی کہ یہ نعمتیں دے کر اللہ تعالیٰ ان کا امحتان کر رہا ہے کہ وہ اس کے شکر گزار بندے بنتے ہیں یا ناشکرے۔ (53-45) مفسدین فی الارض کے انجام کو واضح کرنے کے لئے قوم ثمود کی مثال کا حوالہ پچھلی سورة میں بھی ان کے فساد فی الارض کا ذکر گزر چکا ہے۔ اس سورة میں اس کی مزید وضاحت ہوئی ہے کہ ان کی جمعیت بہت بھاری تھی۔ ان کے نو نہایت جنگجو قبائل تھے اور یہ برابر جنگ و فساد میں سرگرم رہتے تھے۔ حضرت صالح نے ان کی اصلاح کی کوشش کی لیکن انہوں نے صرف یہ کہ ان کی بات سنی نہیں بلکہ ان کے قتل کے بھی در پے ہوگئے۔ بالآخر ان پر اللہ کا فیصلہ کن عذاب آیا اور ان کی پرشوکت تعمیرات، جن پر ان کو ناز تھا، کھنڈروں کی شکل میں تبدیل ہوگئیں ۔ ان کھنڈروں کے آثار قریش کی عبرت کے لئے موجود تھے۔ (58-54) قوم لوط کی سرگزشت کی طرف اجمالی اشارہ حضرت لوط نے ان کے اخلاقی فساد کی اصلاح کی کوشش فرمائی اور اس کے برے انجام سے ان کو ڈرایا لیکن وہ ان کی بات سننے کے بجائے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اپنے اندر سے نکال دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ یہ لوگ بڑے پارسا بنتے ہیں کہ ہمیں نصیحت کرنے اٹھے ہیں۔ بالآخر ان پر بھی خدا کا عذاب آیا جس نے ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔ ان کے آثار پر سے بھی قریش کو اکثر گزرنے کے مواقع ملتے رہتے تھے۔ (68-59) اس کائنات کی گونگاوں نشانیوں اور نعمتوں میں سے ایک ایک کی طرف اشارہ کر کے مخاطبوں سے سوال کہ ان میں سے کس چیز کو تم خدا کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرسکتے ہو ؟ جب ان میں سے کسی چیز کو بھی خدا کے سوا کسی اور کی طرفمنسوب نہیں کرسکتے تو آخر اللہ کے سوا دوسری چیزوں کی کیوں پرستش کرتے ہو اور ان کے پل پر اللہ اور اس کے رسول سے کیوں لڑنے اٹھ کھڑے ہوئے ہو ! آخر میں اس بات کی طرف اشارہ کہ جہاں تک شرک اور آگاہ کا تعلق ہے ان کے حق میں تو کوئی دلیل یہ پیش نہیں کرسکتے لیکن آخرت کے معاملے میں یہ سخت تضاد فکر میں مبتلا ہیں۔ اس کو یہ محض اگلوں کا افسانہ کہتے ہیں اور یہی چیز درحقیقت ان کی ساری سرکشی کا سبب ہے۔ (93-69) خاتمہ سورة جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گی ہے کہ نہ ان کے حال پر غم کرو، نہ ان کی چالوں سے پریشان ہو۔ اگر یہ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ جو مہلت ملی ہوئی ہے اس پر اللہ کا شکر کرو، اپنی شامت نہ بلائو تم اپنا فرض ادا کر دو ۔ اگر یہ نہیں سنتے تو تمہارا کام مردوں اور بہروں کو سناتا نہیں ہے۔ تم یہ اعلان کر دو کہ مجھے اسی قرآن کے سنانے کی ہدیات ہوئی ہے۔ جو اس پر ایمان لائے گا اس کا نفع اسی کو پہنچے گا اور جو اس کا انکار کرے گا اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔ میں صرف ایک منذر ہوں۔ لوگوں پر کوئی داروغہ مقرر کر کے نہیں بھیجا گیا ہوں۔

Ayah 27:1

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

یہ طس ہے یہ قرآن اور ایک واضح کتاب کی آیات ہیں

آیات (1) طس یہ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ قرآن اپنے دعوے پر اور حجت ہے تلک ایت القرآن و کتاب مبین، لفظ قرآن کتاب آسمانی کے لئے معروف ہے اس کے ساتھ کتاب مبین کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ یہ اپنے ہر دعوے پر خود ایسی حجت ہے کہ اس کی صحت و صداقت کو جانچنے کے لئے کسی خارجی شہادت اور کسی معجزہ و نشانی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ صفت یہاں اس کے ان معترضین و مخالفین کو سامنے رکھ کر لائی گئی ہے جو اس کی تصدیق کے لئے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہاں ان دونوں لفظوں نے اس کی عظمت کے پہلو کو بھی واضح کردیا ہے اور اس کی حجت کرے پہلو کو بھی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خدا کا اتارا ہوا قرآن ہے کوئی مذاق و استہزاء کی چیز نہیں ہے اور اتمامح جت کے پہلو سے یہ خود اپنے وجود کے اندر مکمل ہے تو جو لوگ اس کو ہنسی مسخری میں ٹالنا چاہتے ہیں وہ سوچ لیں کہ ان کی اس حرکت کے نتائج کیا کچھ نکل سکتے ہیں !
Ayah 27:2

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

یہ ہدایت و بشارت ہے ان ایمان لانے والوں کے لئے

قرآن ہدایت و بشارت یعنی اس کے مخالفین اس کی قدر کریں یا نہ کریں لیکن یہ کتاب ان لوگوں کے لئے ہدایت و بشارت بن کر نازل ہوئی ہے جو اس پر ایمان لائے ہیں ان کو یہ زندگی کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی بھی کر رہی ہے اور دنیا اور آخرت دونوں میں فوز و فلاح کی بشارت بھی دے رہی ہے۔ اقامت صلوۃ اور ایتائے زکواۃ کا ذکر یہاں ان اہل ایمان کی جامع صفت کی حیثیت سے ہوا ہے۔ ہم دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں کہ ان دونوں چیزوں کی حیثیت دین میں تمام نیکیوں کے شیرازے کی ہے۔ خواہ وہ حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والی ہوں یا حقوق العباد سے انکا ذکر ہوگیا تو گویا سب کا ذکر ہوگیا۔
Ayah 27:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکواۃ دیتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں

جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں وہی اس قرآن پر ایمان لائیں گے وھم بالاخرۃ ھم یوقنون میں حصر اور تاکید کا اسلوب یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو لوگ نماز اور زکوۃ کا یہ اہتمام کر رہے ہیں درحقیقت وہی لوگ آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں اور اسی چیز نے ان کو اس کتاب پر ایمان لانے کی توفیق بخشی ہے۔ رہے وہ لوگ جن پر یہ چیزیں شاق ہیں تو وہ آخرت کے یقین سے محروم ہیں اور اس قسم کے لوگ اس کتاب پر ایمان سے محروم ہی رہیں گے۔
Ayah 27:4

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں کھبا دیئے ہیں، پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں

منکرین قرآن کا سبب انکار یہ منکرین کے اصل سبب انکار کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں بلکہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ان کی نگاہوں میں ان کے اعمال اس طرح کھبا دیئے گئے ہیں کہ اب ان سے ہٹ کر کچھ سوچنے سمجھنے کے لئے وہ تیار نہیں ہیں۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے کہ جو لوگ اسی دنیا کو مقصود و مطلوب بنا کر اپنی تمام ذہانت و قابلیت اسی کی طلب میں لگا دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال و مشاغل کو اس طرح ان پر مسلط کردیتا ہے کہ پھر نہ وہ ان کے چھوڑنے ہی پر آمادہ ہوتے اور نہ ان سے چھوٹ ہی سکتے۔ وہ انہی کے اندر بھٹکتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ایک دن فرشتہ اجل آ کر ان کو دبوچ لیتا ہے۔
Ayah 27:5

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں کہ ان کے لئے دنیا میں بھی برا عذاب ہے اور آخرت میں وہی ہیں جو بڑے خسارے میں ہوں گے

مکذبین رسول پر اس دنیا میں بھی عذاب آیا اس آیت میں عذاب آخرت کا چونکہ مستقلاً ذکر ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ سوء العذاب کا تعلق عذاب دینا سے ہے۔ یہاں ذکر مکذبین رسول کا ہے اور مکذبین رسول پر اس دنیا میں بیغ جیسا کہ ہم اس کے محل میں ذکر کرچکے ہیں لازماً عذاب آتا ہے اس وجہ سے فرمایا کہ ان کے لئے دنیا میں ب ھی برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون میں اسی طرح حصر اور تاکید کا اسلوب ہے جس طرح اوپر وھم بالاخرۃ ھم یوقنوکن میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ساری زندگی چونکہ دنیا ہی کو مطلوب و مقصود بنا کر گزاری، آخرت کا ان کو کبھی دھیان ہی نہیں آیا، یہاں تک کہ اسی دنیا کے عشق میں انہوں نے قرآن کا بھی مذاق اڑایا تو آخرت میں سب سے زیادہ خسارے میں تو یہ لوگ ہوں گے ہی !
Ayah 27:6

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور بیشک یہ قرآن تم کو ایک حکیم وعلیم کی طرف سے تعلیم کیا جا رہا ہے

آنحضرت کو تسی یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ یہ لوگ اگر ایمان نہیں لاتے بلکہ تمہاری مخالفت کے در پے ہیں تو تم ان کی پروا نہ کرو بلکہ مطمئن رہو کہ یہ کلام تمہارے اوپر جس ذات کی طرف سے اتارا جا رہا ہے وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی۔ اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے اور وہ ہر چزپ سے باخبر ہے تو جو کچھ اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہوگا وہی ہوگا اور اسی میں تمہارے لئے خیر ہے۔ جب وہ حکیم وعلیم تمہارے اوپر اس کلام کو نازل فرما رہا ہے تو وہ تمہیں تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ ہر قدم پر تمہاری رہنمائی فرمائے گا اور تمہیں منزل مقصود پر پہنچائے گا۔
Ayah 27:7

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا میں نے ایک آگ سی دیکھی ہے میں وہاں سے یا تو کوئی خبر لاتا ہوں یا آگ کا کوئی انگارا تاکہ تم تاپو

آگے کا مضمون …… آیات 14-7 آگے حضرت موسیٰ کی سرگزشت کے اس حصہ کا اجمالی حوالہ ہے جب ان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا ہے اور نو معجزات سے مسلحکر کے ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس انذار کے لئے جانے کی ہدیات فرمائی۔ یہاں اس سرگزشت کے حوالہ سے مقصود آنحضرت ﷺ خاص طور پر تین باتوں کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ پہلی یہ کہ آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی طرح قرآن کی وحی سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰ کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک انعام ہے جو آپ پر ہوا ہے۔ نہ آپ کو اس نئیت جربے سے پریشان ہونا چاہئے اور نہ دوسروں کو اس سے متوحش ہونے کی کوئی وجہ ہے۔ دوسری یہ کہ جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے وہ دنیا جہان کے معجزے دیکھ کر بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے ایک دو نہیں بلکہ اکٹھے نو معجزات دیے اور جن لوگوں کو وہ معجزے دکھائے گئے ان کو یقین تھا کہ یہ خدائی معجزتا ہیں لیکن پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے۔ تیسری یہ کہ مفسدین کو اللہ تعالیٰ ایک خاص مدت تک ڈھیل دینے کے بعد لازماً فنا کردیتا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔ حضرت موسیٰ کی سرگزشت حضور کے لئے سبق آموز حضرت موسیٰ کی یہ سرگزشت پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے اور اس کے ہر جزو کی وضاحت بھی ہوچکی ہے یہاں ہم اس کے صرف اس پہلو کو مدنظر رکھیں گے جس کا تعلق سورة کے نظام سے ہے۔ نبوت و رسالت کے متعلق یہ بات معلوم ہے کہ یہ کوئی عام تجربے کی چیز نہیں ہے۔ اس کا تجربہ صرف انہی لوگوں کو ہوا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اس کار خاص کے لئے منتخب فرمایا ہے اس وجہ سے جن کو یہ چیز عطا ہوئی ان کو بھی اس کے اسرار و موز سے مانوس ہونے میں کچھ وقت لگا اور جن کے سامنے اس کی دعوت پیش کی گئی انہوں نے بھی اس کو بالعموم ایک انوکھی اور عجیب چیز سمجھا اور اس کے خلاف طرح طرح کے شبہات و اعتراضات اٹھائے ان دونوں ہی چیزوں کا واحد علاج یہی ہوسکتا تھا کہ ان نبیوں کے حالات سنائے جائیں جو اس سلسلہ کے تمام مراحل سے گزر چکے تھے تاکہ نبی ﷺ کو بھی ان کے مشاہدات و تجربات سے طمانیت و سکنیت حاصل ہوا اور آپ ﷺ کے معترضین و مخالفین پر بھی ان کی حجت قائم ہو سکے۔ آنحضرت ﷺ سے اوپر آپ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ نبی و رسول سیدنا موسیٰ تھے جن کی زندگی کے حالات بھی تفصیل کے ساتھ تورات میں موجود تھے اور ان پر ایمان کی مدعی ایک قوم بھی موجود تھی جو بدقسمتی سے قرآن اور نبی ﷺ کی، جیسا کہ آگے اس سورة میں بھی اس کی طرف اشارہ ائٓے گا، مخالفت کر رہی تھی۔ اس وجہ سے حضرت موسیٰ کے حالات و تجربات اس مرحلے میں نبی ﷺ کے لئے بھی سب سے زیادہ تسکین بخش ہو سکتے تھے اور مخالفین کے لئے بھی سب سے زیادہ سبق آموز ہو سکتے تھے بشرطیکہ وہ ان سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ انہی دونوں مقصدوں سے یہ سرگزشت سنائی جا رہی ہے۔ مخاطب اگرچہ نبی ﷺ ہی ہیں لیکن روئے سخن مخالفین کی طرف بھی ہے۔ نبوت ایک موبیت ربانی ہے اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نبوت و رسالت ایک خاص موہبیت ربانی اور فضل یزدانی ہے۔ اس کو اکتساب یا طلب و تمنا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مصنف، شاعر، خطیب، کاہن، ساحر، منجم، جوتشی اور اس قبیل کے سادے ہی لوگ اپنے اپنے فن اور پیشہ کو سکیھنے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں اور اس کی طلب و تمنا میں ایک عمر کھپاتے ہیں تب کہیں ان کو اپنے فن میں کچھ درخور حاصل ہوتا ہے لیکن نبی و رسول کی تربیت اللہ تعالیٰ خود اپنی نگرانی میں کرتا ہے نبی نہ کسی کا شاگرد ہوتا نہ وہ کسی مدرسہ میں بیٹھتا اور نہ اس کے ذہن میں نبوت کا کوئی گمان یا ارمان ہوتا، بس اللہ تعالیٰ ہی زندگی کے نشیب و فراز کے امتحانوں سے گزار کر، اس کو اس کار خاص کے لئے تیار کرتا ہے جو اس کے سپرد کیا جاتا ہے۔ حضرت یوسف کی تربیت مصر کے زندان میں ہوئی۔ حضرت دائود نے اپنی نسبت خود فرمایا ہے کہ مجھے خداوند نے بھیڑ سالہ سے نکالا اور اسرائیل کے تخٹ پر لا بیٹھایا۔ اسی طرح حضرت موسیٰ جن کی سرگزشتیہاں بیان ہو رہی ہے، مدین میں حضرت شعیب کی بکریاں چراتے رہے۔ وہاں سے مصر کے لئے واپس ہوتے ہوئے اندھیری اور ٹھنڈی رات میں راستہ بھول گئے۔ دور سے ایک روشنی دکھائی دی۔ انہوں نے گھر والوں سے کہا تم لوگ یہیں ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں، اگر کچھ لوگ وہاں ہوئیت و ان سے راستہ کا پتہ کرتا ہوں ورنہ آگ ہی کوئی نگاہ لاتا ہوں کہ تم لوگ اس سردی میں تاپ سکو۔
Ayah 27:8

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

تو جب وہ اس کے پاس آیاتو اس کو آواز آئی کہ مبارک ہے جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہیں ! اور پاک ہے اللہ عالم کا خداوند !

رب العالمین کی ندا حضرت موسیٰ کو حضرت موسیٰ تو آگ لینے گئے لیکن وہاں یہ آواز سنائی دی کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور وہ جو اس کے اردگرد ہیں۔ مجہول کا صیغہ ابہام اور تفحیم کو ظاہر کر رہا ہے یعنی موسیٰ کو ایک ہاتف کی آوا زتو سنائی دلیکن وہ یہ متعین نہ کرسکے کہ یہ کس کی آواز ہے اور کہاں سے آئی ہے ان بورک من فی النار ومن حولھا یہ اسی آواز کی تفصیل ہے کہ یہ آگ نہیں ہے بلکہ اس روشنی کے پردے میں اللہ تعالیٰ کی بابرکت ذات اپنے بابرکت کردبیوں کے جلو میں حلوہ گر ہوئی ہے۔ اپنی اور اپنے کروبیوں دولوں کی مبارکہ کا حوالہ اس موقع پر صرف بیان حقیقت کے لئے نہیں بلکہ حضرت موسیٰ کو مانوس کرنے کے لئے بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مرحلہ حضرت موسیٰ کے لئے نہایت اہم تھا۔ دامن کوہ اور اندھیری رات میں، بالکل خلاف توقع، اس آواز کو سن کر حضرت موسیٰ پر نہیں معلوم کیا گزری ہوگی اور نہ معلوم کیا گزرتی اگر اس کا پہلا کلمہ برکت کی بشارت کا نہ ہوتا۔ اس مبارک کلمہ نے حضرت موسیٰ کی بڑی ڈھارس بندھائی ہوگی کہ جو آواز ان کو سنائی دی ہے اس کے پیچھے کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ منبع خیر و برکت سے ایک بابرکت آواز آئی ہے۔ وسبحن اللہ رب العلمین تنزیہہ کا کلمہ ہے اور یہ اسی مضمون کی تاکید مزید ہے جو اوپر والے ٹکڑے میں بیان ہوا ہے۔ یعنی اللہ عالم کا رب ہر عیب سے باک اور منزہ ہے اور یہ اسی کی تجلی ہے جو تمہیں نظر آئی ہے لو اس پر بھروسہ رکھو۔ وہ تمہارے ساتھ ہی کرے گا جو اس کی ہے اس وجہ سے اس کے اختیار میں سب کچھ ہے۔
Ayah 27:9

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ یہ تو میں ہوں، خدائے عزیز و حکیم !

صفات عزیز و حکیم کا تعارف اوپر کی بات تو ہاتف غیب کی آواز تھی جو حضرت موسیٰ کو سنائی دی اب یہ خود حضرت موسیٰ کر کے رب العزت نے اپنا تعارف کرایا کہ میں ہی خدائے عزیز و حکیم ہوں۔ ان صفات سے تعارف کے وجہ ظاہر ہے کہ یہ نہیں ہو سکتی کہ حضرت موسیٰ ان سے ناواقف تھے۔ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے اور ایک مدت تک حضر شعیب کی صحبت و معیت میں رہے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے ناواقف نہیں ہو سکتے تھے۔ مقصوداں کی تذکیر سے اس مہم کے لئے ان کے قلب کو مضبوط کرنا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مامور فرمانا چاہا۔ پچھلی سورة میں العزیز الرحیم کی صفات بار بار آئی ہیں اور انکے مضمرات ہم واضح کرچکے ہیں۔ یہاں عزیز کے ساتھ حکیم کی صفت آتی ہے۔ جس سے مقصود اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ جس ذات نے تم کو اس وقت خطاب و کلام سے مشرف فرمایا ہے۔ وہ ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے کوئی اس کے کسی ارادے میں مراحم نہیں ہوسکتا اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے اس کا ہر ارادہ حکمت و مصلحت پر مبنی ہے اور اسلوب کلام چونکہ حصر در حصر کا ہے۔ اس وجہ سے اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ میرے مقابل میں کسی اور کے زور و اقتدار یا میری حکمت و مصلحت کے مقابل میں کسی اور کی حکمت و مصلحت کے تصور کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ غور کیجیے کہ ان صفات کی معرفت اس مہم کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کے لئے کتنی ضروری تھی جس پر حضرت موسیٰ مامور کئے جا رہے تھے اور جس کا ذکر آگے کی آیات میں آ رہا ہے۔ خدا کی انہی صفات کی معرفت نے حضرت موسیٰ کے اندر وہ عزیمت پیدا کی کہ وہ بنی اسرایئل جیسی نکمی قوم کے ساتھ فرعون جیسے جبار کے مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہونے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قدم پر فیروز مندی عطا فرمائی۔
Ayah 27:10

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور تم اپن اعصا ڈال دو تو جب اس نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا گویا سانپ ہو تو وہ پیچھے کو مڑا اور پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ ڈرو نہیں، میرے حضور پیغمبروں کے لئے کوئی اندیشہ نہیں ہوتا

انبیاء کے معاملہ میں ایک خاص قابل توجہ پہلو اوپر کی آیات میں حضرت موسیٰ کو پیش نظر مہم کے لئے ذہنی و قلبی طور پر تیار کرنے والی تعلیمات ہیں۔ اسکے بعد ان کو وہ عظیم ظاہری نشانیاں دی گئیں جن سے فرعون کے مقابلہ کے لئے ان کا مسلح ہونا ضروری تھا۔ ان میں سب سے اہم نشانی عصا کی تھی جس سے بعد کی تمام نشانیوں کا ظہور ہوا۔ اس نشانی کی وضاحت دوسرے مقامات میں ہوچکی ہے اور یہ بات بھی ہم واضح کرچکے ہیں کہ بالکل پہلے ہی مرحلے میں حضرت موسیٰ ایسا ڈر کے بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اس واقعہ کا یہ پہلو ہمارے نزدیک اس حقیقت کے اظہار کے لئے یہاں خاص طور پر ظاہر کیا گیا ہے کہ نبوت کے ابتدائی مرحلہ کے مشاہدات نبی کے لئے بالکل نامانوس، نہایت انوکھے اور عجیب ہوتے ہیں اس وجہ سے وہ شروع شروع میں ان سے گھبراتا ہے لیکن پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اس کو ان سے مانوس کردیتا ہے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ حضرات انبیاء علہما کو یہ چیز طلب اور ارمان پر نہیں ملی ہے بلکہ بالکل خلاف توقع اس کا ظہور ہوا ہے اور بڑے اندیشوں، بڑی فکروں اور بہت ہی احتیاط کے ساتھ انہوں نے ایک فریضہ الٰہی کی حیثیت سے اس کی ذمہ داری اٹھائی ہے جب کہ ان کو پوری طرح یہ شرح صدر حاصل ہوگیا ہے کہ جو مشاہدے ان کو ہو ہرے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہیں اور وہ ایک خاص فریضہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کو ابتدائے نبوت میں جو مشاہدے ہوئے اور ان کے سبب سے آپ ﷺ پر شروع شروع میں جو کیفیت طاری رہی اس کے بعض اہم پہلوئوں کی طرف آخری گروپ کی سورتوں میں اشارات ہیں۔ انشاء اللہ ان کے محل میں ہم ان کی وضاحت کریں گے۔ حضرت موسیٰ کی تسکین یموسی لاتخف، انی لایخاف لدی المرسلون جب حضرت موسیٰ اپنے عصا کو سانپ کی صورت میں دیکھ کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی دیکھنے کی انہیں جرأت نہ ہے۔ اس سے جو خطرہ پیش آئے گا وہ تمہارے دشمنوں کو پیش آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس کے رسولوں کے لئے کوئی اندیشہ نہیں خطرہ ہے اگر وہ رسولوں پر ایمان نہیں لاتے۔ مطلب یہ ہے کہ تم خدا کے رسول ہو اور یہ عصا تمہارے لئے ایک تلوار ہے تو تم اس سے کیوں ڈرو، اس سے ڈریں تمہارے دشمن !
Ayah 27:11

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

ہاں مگر جو کسی برائی کا مرتکب ہوا پھر اس نے برائی کے بعد اس کو بھلائی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا اور مہربان ہوں

حضرت موسیٰ کے ایک اندیشہ کا ازالہ اللہ تعالیٰ کے نیک اور سلیم الفطرت بندوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو کوئی اندیشے کی حالت پیش آتی ہے تو فوراً ان کا ذہن اپنی کسی غلطی کی طرف جاتا ہے کہ مبادایہ اسی کا خمیازہ ہو۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کا ذہن اس موقع پر قبطی کے قتل کے واقعہ کی طرف منتقل ہوا ہو۔ اگرچہ اس کے بعد حضرت موسیٰ کا ازالہ نے توبہ کرلی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول بھی فرمالی تھی لیکن حضرات انبیاء اور صالحین اپنا محاسبہ کرنے میں بڑے محتاط ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے لایخاف لدی المرسلون کے وعدہ بشارت کو موکد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یہ اطمینان بھی دلادیا کہ میرے کسی بندے سے اگر کوئی غلطی صادر ہوجاتی ہے۔ پھر وہ توبہ واصلاح سے اس کی تلافی کردیتا ہے تو میں اس کو معاف کردیتا ہوں، میں بڑا ہی غفور و رحیم ہوں۔ اس بات کو یہاں عام صیغے میں فرما کر اس کے فیض کو ہمہ گیر کردیا ہے کہ یہ معاملہ کچھ تمہارے ہی لئے خاص نہیں ہے بلکہ میں اپنے ہر بندے کے ساتھ یہی معاملہ کرتا ہوں۔
Ayah 27:12

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ بغیر کسی مرض کے سفید نکلے گا۔ نو نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائو۔ وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں

حضرت موسیٰ کے لئے دوسری نشانی یہ دوسری نشانی ہے جو اسی موقع پر عطا ہوئی۔ اس کی وضاحت بھی پیچھے سورة اعراف اور سورة طلحہ وغیرہ میں ہوچکی ہے۔ تخرج بیضآء کے ساتھ من غیر سوء کی قید حضرت موسیٰ کے اس تردد کے رفع کرنے کے لئے تھی کہ ہاتھ کے سفید ہونے سے ان کو کسی مرض کا دہم نہ ہو۔ قرآن کے اسلوب بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ اطمینان دہانی ان کو یہ معجزہ دیتے وقت ہی کردی گئی تھی اور یہی بات قرین عقل و فطرت ہے۔ حضرت موسیٰ کو عصا کے معجزے سے جو تشویش ہوئی تھی اسی طرح کی تشویش ان کو اس معجزے سے بھی ہوتی اگر یہ اطمینان دہانی ان کو نہ کردی جاتی۔ اس سے ضمناً تورات کے اس بیان کی تردید ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں برص کے مانند سفیدی تھی۔ اس پر تفسیر سورة طہ میں ہم گفتگو کرچکے ہیں۔ حضرت موسیٰ کے بقیہ میمزات مصا سے ظاہر ہوئے فی تسع ایت الی فرعون و قومہ اس سے پہلے فعل اذھب محذوف ہے۔ یعنی نو نشانیوں سے مسلح ہو کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس انذار کے لئے جائو، وہ بڑے ہی نافرمان ہوگئے ہیں۔ ابتداء تو حضرت موسیٰ کو عصا اور یدبیضا کی دو ہی نشانیاں دی گئیں لیکن ان کے اندر بہت سی نشاناٰں مضمر تھیں جو بعد کے مراحل میں ظاہر ہوئیں۔ ان نشانیوں کی تفصیل، تورات کے حوالوں کے ساتھ بقرہ، اعراف اور طہ وغیرہ کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ یہ تمام نشانیاں حضرت موسیٰ کے عصا سے ظاہر ہوئیں اس وجہ سے عصا کی صورت میں حضرت موسیٰ کو فرعون کے ماقبلہ کے لئے گویا پوری میگزین دے دی گئی۔ یہ امر بھی یہاں واضح رہے کہ ان نو نشانیوں سے بھی صرف وہ نشانیاں مراد ہیں جو فرعون اور اس کی قوم کے مقابل میں ظاہر ہوئیں۔ وہ نشانیاں جو اس عصا کے ذریعہ سے خاص بنی اسرائیل کے لئے ظاہر ہوئیں وہ ان سے بالکل الگ ہیں اور ان کی تعداد بھی تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ کم نہیں ہے، بہت ہے۔
Ayah 27:13

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پس جب ان کے پاس ہماری آنکھیں کھلو دینے والی نشانیاں آئیں انہوں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادو ہے

حضرات انبیاء کے معجزات آنکھیں کھول دینے والے ہوتے ہیں مبصرۃ کے معنی ہیں آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں، حضرت انبیاء (علیہم السلام) سے جو معجزات ظہور میں آئے ان کا معجزہ ہونا دیکھنے والوں سے مخفی نہیں رہا۔ ان کی قاہری نے اندھوں کی آنکھیں بھی کھول دیں لیکن جو لوگ نہیں ماننا چاہتے تھے انہوں نے حضرت موسیٰ کے ان معجزات کو بھی جادو قرار دے دیا۔ یہاں تک کہ خود جادوگروں نے بھی علی الاعلان اعتراف کرلیا کہ یہ جادو نہیں ہے لیکن پھر بھی ہٹ دھرموں نے اپنی ضد نہیں چھوڑ، اسی کو جادو ہی کہتے رہے۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جو اوپر گزر چکی ہے کہ ایک ساحر کا انتہائی کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کی لٹھیا سانپ کی طرح رینگنے لگ جائے اور اس کرتب کے لئے نہ جانے وہ کیا کیا پاپڑ بیلتا ہے تب کہیں جا کر اس کو اپنے فن میں کچھ دخل حاصل ہوتا ہے اور اس پر اس کو بڑا ناز ہوتا ہے۔ لیکن حضرت موسیٰ کا حال یہ ہوا کہ وہ اپنے عصا کو سانپ کی طرح رینگتے دیکھ کر ڈر کے بھاگے اور اس وقت تک ان کو قرار نہیں آیا جب تک اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی نہیں دی، پھر بھی ظالموں نے ان کو ایک ماہر جادوگر اور ان کی نشانی تک سحرمبین قرار دیا۔
Ayah 27:14

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور انہوں نے ظلم اور گھمنڈ کے سبب سے ان کا انکار کیا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو تسلیم کیا تو دیکھو کیا ہوا ان مفسدین کا انجام !

وجحدوا بھا واستیف تھا انفسھم ظلماً وعلوا فانظر کیف کان فیہ المفسدین (14) منکروں کے انکار کا اصل سبب ان کا ظلم اور اعلو ہوتا ہے یہ آخر میں اصل مدعا سامنے رکھ دیا گیا ہے جس کے لئے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ دعوت حق کو قبول نہیں کرنا ہتے وہ ایک دو نہیں بلکہ نو نو معجزات دیکھ کر بھی اپنے انکار کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ ان کے دل اقرار کرتے ہیں کہ داعی کی بات حق ہے لیکن زبانوں سے وہ برابر اس کی تکذیب ہی کرتے رہتے ہیں۔ ان کے انکار کی اصل علت یہ نہیں ہوتی کہ حق ان پر اچھی طرح واضح نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل سبب ان کا …ورعلتو ہوتا ہے۔ وہ خدا اور اس کے بندوں کے حقوق تلف کرنے کے خوگر ہوجاتے ہیں اور انہیں یہ بھی اس سے دست بردار ہونا نہیں چاہتے اور ان کے اندر استکبار پیدا ہوجاتا ہے اس کے سبب سے اپنی خواہش کے خلاف کسی بڑے سے بڑے حق کے آگے بھی جھکنے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتے۔ ایسے مفسدین کا انجام وہی ہوتا ہے جو فرعون اور اس کی قوم کا ہوا۔
Ayah 27:15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے دائود اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایا اور انہوں نے کہا کہ شکر ہے اللہ کے لئے جس نے اپنے بہت سے مومن بندوں پر ہمیں فضیلت عطا فرمائی

آگے کا مضمون ……آیات 44-15 اوپر کی آیات سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ حق کے انکار کا اصل سبب حقیقت کا خفا نہیں بلکہ لوگوں کا ظلم و استکبار ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نعمت عطا فرماتا ہے وہ نعمت ان کے لئے فتنہ بن جاتی ہے اور وہ بجائے اس کے کہ خدا کے زیادہ سے زیادہ شکر گزار اور اس کے فرمانبردار بندے نہیں خدا سے اکڑنے والے اور اس کی زمین میں فساد برپا کرنے والے بن جاتے ہیں۔ اب ان کے مقابل میں اللہ کے صالح و مصلح بندوں کر ذکر ہو رہا ہے کہ ان پر اللہ کی نعمتیں جتنی ہی زیادہ ہوتی جاتی ہیں ان کی گردنیں ثمر بار شاخ کی طرح خدا کے آگے اتنی ہی جھکتی جاتی ہیں۔ اس کردار کی عملی مثال کے طور پر حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کو پیش کیا گیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو عظمت و شوکت عطا فرمائی ان کے ہم عصر حکمرانوں میں کسی کو بھی وہ حاصل نہیں ہوئی اور جن اسباب و وسائل پر ان کو تصرف بخشا ان پر کسی کو بھی تصرف حاصل نہ ہوا لیکن یہ سب کچھ پا کر وہ کسی ظلم یا استکبار میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کا ایک امتحان جانا، اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کی کوشش اور اس امتحان میں پورے اترے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ علم سے مراد علم کے مراد وہ حکمت و معرفت بھی ہے جو حضرات دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کو حاصل ہوئی جس کا مظہر زبور اور امثال ہیں اور سائنس کا وہ علم بھی ہے جس کی بدولت انہوں نے وہ عظیم سلطنت قائم کی جو اپنی بری و بحری قوت کے اعتبار سے اپنے زمانی کی سب سے زیادہ طاقت ور سلطنت تھی۔ سورة انبیاء کی تفسیر میں اس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ حضرت دائود اور حضرت سلیمان کا جذبہ شکر وقالا الحمد اللہ الذی الآیہ یہ ان کے شکر وسپاس کی تعبیر ہے کہ اپنے زمانے کی سب سے زیادہ طاقت ور حکومت کے فرماں روا اور ایجادات و ضائع میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہونے کے ایک باوجود ان کے اندر ایک لمحہ کے لئے بھی یہ گھمنڈ نہیں پیدا ہوا کہ یہ سب کچھ انکے اپنے ذاتی کارنامے ہیں بلکہ وہ برابر اپنے رب کے شکر گزار رہے کہ یہ عزت و فضیلت ان کو اللہ نے عطا فرمائی ہے۔ علی کثیر من عبادہ المومنین کے اندر یہ حقیقت مضمر ہے کہ اصل عزت و فضیلت ایمان کی عزت و فضیلت ہے۔ جس کو یہ حاصل نہیں ہے اس کے لئے عزت و فضیلت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ یہ عزت و فضیلت کی بات ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں میں سرفرازی بخشے۔
Ayah 27:16

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور دائود کا وارث سلیمان ہوا اور اس نے کہا اے لوگو، ہمیں پرندوں کی بولی کا علم بھی عطا ہوا ہے اور دوسرے بھی سب چیزیں ہمیں بخشی گئی ہیں۔ بیشک یہ نہایت ہی کھلا ہوا فضل ہے

حضرت سلیمان کی فضائی فوج یعنی حضرت دائود کے اس حضرت سلیمان ان کے واثر ہوئے۔ جیسا نامور باپ تھا اس سے بڑھ کر نامور بیٹا ہوا۔ سورة انبیاء میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ حضرت سلیمان نے اپنی بری فوج کے ساتھ ساتھ اپنی بحری طاقت کو بڑی ترقی دی۔ ان کا بحری بیڑا دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور بیڑا ھتا۔ اس آیت سے اور آگے کی آیات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کو پرندوں کی بولی کا بھی خاص علم عطا ہوا تھا اور ان کی تربیت کر کے وہ اپنی فوج میں ان سے نامہ بری، خبر رسانی اور سراغ رسانی کا کام نہایت اعلیٰ پیمانہ پر لیتے تھے اور اس طرح انہوں نے گویا اپنی ایک فضائی فوج بھی مرتب کرلی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ حاصل ہونے کے باوجود انہوں نے تنگ ظرفوں کی طرح یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں اب ایک ناقابل تسخیر طاقت بن گیا ہوں بلکہ آیت کا سیاق صاف اس بات کی دلیل ہے کہ جب انکی فوجی قوت میں یہ شاندار اضافہ ہوا ہے تو بجائے اس پرف خر کرنے کے انہوں نے اپنی قوم کو پیہ پیغا مدیا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی کا علم بھی حاصل ہوگیا ہے اور دوسرے اسباب و وسائل بھی، جو ترقی کے لئے ضروری ہیں، ہمیں حاصل ہیں تو یہ ہمارے اوپر خدا کا کھلا ہو افضل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کے اس کھلے ہوئے فضل کا حقیہ ہے کہ ہم اس کے زیادہ سے زیادہ شکر گزار اور اس کے سب سے بڑھ کر اطاعت گزار بنیں۔ تورات میں اگرچہ حضرت سلیمان کو ایک بالکل دنیا دار بادشاہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے بلکہ ان کی طرف نعوذ باللہ شرک و بت پرستی کی نسبت بھی کی گی ہے لیکن کتاب سلاطین میں یہ تصریح موجود ہے کہ انہوں نے اپنی عظمت و شوکت کو برابر اللہ تعالیٰ کا فضل قرار دیا اور اپنی قوم کو بھی اس فضل و نعمت پر خدا ہی کا شکر گزار رہنے کی تاکید فرمائی۔ منطق الطیر کا علم علمنا منطق الطیر سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ پرندوں کے اندر بھی نطق و ادراک ہے اور حضرت سلیمان کو ان کے نطق کا خاص علم عطا ہوا تھا اگر ہم ان کے نطق کو نہیں سمجھتے تو ہمارا نہ سمجھنا اس کی نفی کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ قرآن میں صاف تصریح ہے کہ کائنات کی ہر چیز خدا کی تسبیح کرتی ہے لیکن ہم اس کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ اسی طرح قرآن میں یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ جتنے بھی چرند پرند ہیں سب ہماری ہی طرح الگ الگ امتیں ہیں۔ سورة نحل کی تفسیر میں ہم قرآن کے اس ارشاد کے مضمرات کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ حضرت سلیمان کو تو پرندوں کی بولی کا خاص علم عطا ہوا تھا جن کو یہ علم نہیں ملا ہے وہ بھی یہ جانتے ہیں کو جتنے بھی حیوانات ہیں سب اپنی نفرت، محبت، عتاب، التفات، خوشی، غم، فکر مندی، طمانیت، استمالت، ملاعبت اور اپنے دوسرے جذبات کی تعبیر کے لئے الگ الگ بولیاں بھی اختیار کرتے ہیں اور ان کے اظہار کے لئے ان کی بولیاں ہوتی ہیں۔ جو لوگ کسی مقصد خاص کے لئے ان جانوروں کی تربیت کرتے ہیں وہ ان کی آوازوں اور اشارات کو اسی طرح سرجھتے ہیں جس طرح اپنے ہم جنسوں کی بولی اور ان کے اشارات کو سمجھتے ہیں۔ پھر ان سے بھی زیادہ ان لوگوں کا علم ہے جنہوں نے سائنٹیفک طریقے پر ان حیوانات کا تجربہ و مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے علمی تجربہ و مشاہد ہ سے جو معلومات فراہم کی ہیں ان کو پڑھیے تو انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ بڑے جانورت و درکنار ننھی سی چیونٹی کے انر بھی قدرت نے جو دانش و بینش جو زیر کی دہوشیاری اور فہم و فراست ودیعت فرمائی ہے وہ ایسی ہے کہ اس سے انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ آج کتوں سے سراغ رسانی اور جاسوسی کے سلسلے میں جو کام لئے جا رہے ہیں کیا وہ کم حیرت انگیز ہیں ! جب انسان اپنے تجربات اور پانی تجرباتی سائنس کے ذریعے سے جانوروں کے اتنے اسرار دریفات کرسکتا ہے اور ان سے یہ کچھ کام لے سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اگر حضرت سلیمان کو پرندوں کی بولی کا خاصعلم دے دیا تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ! یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بولی درحقیقت آوازوں ہی کی ترکیب و تالیف سیوجود میں آتی ہے۔ جو چیزیں ادراک و شعور اور جذبات رکھتی ہیں وہ اپنے ادراک و شعور اور جذبات کی تعبیر کے لئے مختلف قسم کی آوازیں نکالتی ہیں اور انہی کی تالیف و ترکیب سے بولی وجود میں آتی ہے۔ اشارات بھی اسی میں داخل ہیں ان کو غیر ناطق زبان سمجھیے۔
Ayah 27:17

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

سلمان کے جانزے کے لئے اس کا سارا لشکر۔ جنوں، انسانوں اور پرندوں میں سے … اکٹھا کیا گیا اور ان کی درجہ بندی کی جارہی تھی

حشر لسلمین میں مضاف محذوف ہے یعنی حضرت سلیمان کے جائزہ اور ملاحظہ کے لئے ان کی ساری فوج جمع کی گئی۔ حضرت سلیمان کی فوڈ وزع کے اصل معنی روکنے، تھامنے اور سنبھالن کے ہیں۔ آگے آیت 19 میں اسی معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے لیکن فوج کے تعلق سے جب یہ لفظ آئے تو اس کے معنی تربیت دینے اور درجہ بندی و صف بندی کرنے کے ہوتے ہیں۔ اب یہ حضرت سلیمان کی افواج کی ایک پریڈ کا ذکر فرمایا ہے جس میں ان کی تمام فوج، جو جنوں انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھی، ان کے ملاحظہ کے لئے اکٹھی کی گی۔ فھو یوزعون یعنی مقصود اس اجتماع سے ان کی ترتیب اور الگ الگ درجہ بندی تھی۔ یہاں اس پریڈ کے ذکر سے اصل مدعا، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوگا، یہ دکھانا ہے کہ حضرت سلیمان کی فوج کیسی حیرت انگیز صلاحیتیں رکھنے والے انسانوں، جنوں اور پرندوں پر مشتمل تھی۔ لیکن جب ان کے فوجیوں کی طرف سے ان کی حیرت انگیز صلاحیتیں ظاہر ہوئیں تو وہ بچائے اس کے کہ ان سیغرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوں اور یہ ڈھنڈورا پیٹیں کہ میں اب دنیا میں ایک ناقابل تسخیر قوتبن گیا ہوں، انہوں نے اپنا سر نہایت تواضح کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھکا دیا کہ اے رب ! اگر تو نے مجھ پر یہ فضل فرمایا ہے تو مجھے سنبھال کہ میں کہیں بہک نہ جائوں بلکہ ہمیشہ تیرا شکر گزار اور فرمانبردار بندہ رہوں۔
Ayah 27:18

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچنے ایک چیونٹی نے کہا، اے چینٹیو، اپنے سوراخوں میں گھس جائو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر ڈالے اور انہیں اس کا احساس بھی نہ ہو

وادی نمل کی وضاحت وادالنمل سے کوئی مخصوص وادی بھی مراد ہو سکتی ہے جو اسی نام سے معروف رہی ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن نے اس کا ذکر اس نام سے محض اس خصوص کی وجہ سے کیا ہو کہ اس میں چیونٹیاں بہت تھیں۔ چیونٹیا چیونٹے اور اس نوع کے تمام حشرات اپنے گڑھ انہی علاقوں میں بناتے ہیں جن کا ماحول ہر اعتبار سے ان کے لئے سازگار ہو۔ حضرت سلیمان حشرات کی بولی بھی سمجھتے تھے یہ ذکر اسی پریڈ کے موقع کا ہے کہ جب حضرت سلیمان کی فوجیں مارچ کرتی ہوئی چیونٹیوں کی وادی میں پہنچیں تو ایک چیونٹی نے اپنے دل کو خطرے سے آگاہ کیا کہ اے چیونٹیوں ! اپنی بلوں میں گھس جائو، مبادا سلیمان اور اس کی فوجیں تمہیں پامال کردیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔ وھم لایشعرون یعنی حضرت سلیمان کی دل بادل فوج کی راہ میں تو پہاڑ بھی گرد ہیں، اس کو بھلا اس بات کا احساس کہاں ہوگا کہ ہمارے حقیر و جود اس کے پائوں تلے روندے گئے۔ چیونٹیوں کے عجائبات چیونٹیوں کے متعلق سائنس نے جو حرات انگیز انکشاف کئے ہیں اس سے قطع نظر ایک عام آدمی بھی اگر ان کے کسی بڑے دل کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے دیکھے تو ان کے عسکری نظام اور فوجی ڈسپلن کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ پوری فوج ایک قائد کی قیادت میں مارچ کر رہی ہے۔ دل کے دونوں جانب تھوڑے تھوڑے فاصلے سے ان کے رضا کاروں اور اسکائوٹوں کی لائن ہوتی ہے جو اپنے معین حدود کے اندر برابر تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ وہ نگرانی کی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ جونہی ان کو کسی خطرے کا احساس ہوتا ہے وہ اپنے حدود کے اندر اس سے دل کو آگاہ کرتے ہیں اور کول اپنے آپ کو اس سے بچانے کی تدبیر اختیار کرتا ہے۔ وہ منظر ان کا خاص طور پر دیدنی ہوتا ہے جب ان کا کوئی قبیلہ مستقل طور پر ایک مقام سے دور سے مقام کے لئے اپنے تمام غذائی ذخائر اور اپنے تمام اولاد و احقاد کے ساتھ ہجرت کرتا ہے۔ میں نے بعض مرتبہ ان کی اس مہاجرت کا غور سے مشاہدہ کیا ہے۔ اگر میں ان مشاہدات کو قلم بند کروں تو ایک طویل داستان بن جائے۔ چیونٹیوں کے یہ کارنامے تو ہما و شما کو بھی نظر آتے ہیں لیکن سائنس دانوں نے ان کے جن عجائب کا انکشاف کیا ہے۔ ان کے بعد تو اس امر میں کسی شب ہے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ وہ بھی جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے، ہماری ہی طرح امتیں ہیں۔ ان کی بعض قسمیں و ہماری ہی طرح بعض جانوروں کو پالتی ہیں اور ان کو اپنے اغراض و ضروریات کے لئے استعملا کرتی ہیں۔ یہ اپنے لئے کھیت بناتی اور ان میں بیج بوتی ہیں اور جب فصل تیار ہوتی ہے تو درد کے بعد اس کو تہہ خانوں میں محفوظ کردیتی ہیں۔ ان کی باقاعدہ فوج بھی ہوتی ہے جو مخصوص افسروں کی کمان میں دشمن پر حملہ آور ہوتی ہے۔ ان کے ہاں تربیت اور ٹریننگ کا باقاعدہ نظام ہے۔ غرض وہ ساری خصوصیات ان کے اندر بھی پائی جاتی ہیں جو انسانوں کے اندر پائی جاتی ہیں بس صرف شکل و صورت اور درجہ و مرتبہ کا فرق ہے۔ یہاں چیونٹی کی طرف جس قول کی نسبت کی گئی ہے اگرچہ وہ اشاروں کی زبان سے بھی ہوسکتا ہے قرآن میں یہ لفظ جیسا کہ مریم 37 کے تحت ہم واضح کرچکے ہیں، اشارے سے کوئی بات کہنے کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ لیکن یہاں آیت سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ اس سے مسموع قول مراد ہے۔ یہ امر ملحوظ ہے کہ چیونٹیوں کی صرف وہی قسمیں نہیں ہیں جن سے ہم اپنے علاقوں میں آشنا ہیں بلکہ سائنس کی تحقیقات نے جو معلومات فراہم کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بیشمار قسمیں مختلف علاقوں اور زمینوں میں پائی جاتی ہیں جن میں صامت و ناطق ہر قسم کی چیونٹیاں ہیں۔ حضرت سلیمان جس طرح پرندوں کی بولی سمجھتے تھے اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ان حشرات کی آواز بھی سنتے اور سمجھتے تھے اور یہ علم ان کے پاس خدا داد تھا۔
Ayah 27:19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

پس وہ اس کی بات سے خوش ہو کر مسکرایا اور دعا کی، اے میرے رب مجھے سنبھالے رکھ کہ میں اس فضل کا شکر گزار ہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا اور میں ایسے نیک کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور تو اپنے فضل سے مجھے اسے صالح بندوں کے زمرے میں داخل کر

فتبتم ضاحکا میں لفظ ضحک خوشی اور ابتہاج و سرور کے مفہوم میں ہے جس طرحہود آیت 71 میں ہے۔ مجرد تبسم استخفافو تحقیر کی نوعیت کا بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ضاحکاً کی قید نے معین کردیا کہ یہ تبسم خوشی اور سرور کی نوعیت کا تھا۔ وہ حقیقت جس کے لئے مذکورہ واقعہ بیان ہوا ہے اوزعنی ان اشکر الایۃ وزع کے معنی کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ یہاں یہ تھامنے اور سنبھالنے کے مفہوم میں ہے۔ یعنی حضرت سلیما ننے یہ دعا فرمائی کہ اے رب جب تو نی میرے علم میں یہ افزونی عطا فرمائی ہے کہ میں حشراتر و ہوام کی بولی بھی سمجھنے لگاہوں تو ایسا نہ ہو کہ میں غرور و طغیان میں مبتلا ہو کر تیری راہ سے بھٹک جائوں بلکہ تو میری باگ اپنے ہاتھ میں رکھ اور مجھے توفیق دے کر تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر جو فضل عظیم فرمایا ہے میں اس کا حق ادا کرسکوں اور میرے ہاتھوں وہ کام انجام پائیں جو تیری رضا کے مطابق ہوں اور آخرت میں مجھے صالحین کی معیت حاصل ہو۔ یہی وہ اصل حقیقت ہے جس کے اظہار کے لئے اوپر والا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے جنکی نظر اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہے اور وہ خدا سے بیخبر ہیں ان کو جب کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو وہ اس پر اتراتے اور اکڑتے ہیں گویا انہوں نے کوئی بڑا تیر مارا ہے اور پھر اس غرور اور اکڑ کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلات ہے کہ وہ خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں اور صلاحیتوں کو خدا کی رضا کے کاموں میں صرف کرنے کے بجائے شیطان کی مقصود برآری میں صرف کرتے ہیں۔ لیکن حضرت سلیمان کا حال یہ تھا کہ اپنی ہر سائنس اور کاروانی کو انہوں نے اپنے رب کا فضل جانا اور اس سے برابر ڈرتے رہے کہ ان کا کوئی قدم خدا کی پسند کے خلاف نہ اٹھے۔
Ayahs 27:20–21

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور اس نے پرندوں کی فوج کا جائزہ لیا نو بولا کہ کیا بات ہے، میں ہد ہد کو نہیں دیک رہا ہوں اور موجود سے یا عیر صروں میں ہے !

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

میں اس کو سخت سزا دوں گا یا ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ کوئی واضح عذر میرے سامنے پیش کر

(21-20) حضرت سلیمان کی فضائل فوج اسی پریڈ کے موقع پر جب انہوں نے اپنے پرندوں کی فوج کا جائزہ لیا تو ہد ہد کو غائب پایا۔ اس پر غضبناک ہو کر فرمایا کہ کیا بات ہے میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں۔ وہ موجود ہے، مجھے نظر نہیں آیا ہے، یا غیر حاض رہے ؟ یا تو وہ اپنی اس غیر حاضری کے لئے کوئی معقول عذر پیش کرے ورنہ یا تو میں اس کو سخت سزا دوں گا یا ذبح کر چھوڑوں گا۔ ام کان من الغائبین سے پہلے بربنائے قرینہ اتنی بات محذوف ہے کہ وہ موجود ہے میں دیکھ نہیں رہا ہوں یا …… سلطن مبین اصل میں دلیل و حجت کے مفہوم میں آتا ہے۔ یہاں یہ اپنی صائی میں کسی عذر معقول کے لئے آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان کی فوج میں باقاعدہ تربیت پائے ہوئے مختلف قسم کے پرندے بھی تھے جن سے وہ پیغام رسانی، سراغ رسانی اور دریفات احوال کی مہمات میں کام لیتے تھے اور چونکہ وہ پرندوں کی بولی سمجھتے تھے اس وجہ سے وہ موجودہ زمانے کے سائنس دانوں سے بدرجہا اعلی ٰ طریقہ پر یہ کام لیتے تھے۔ تجسس احوال کے لئے پرندوں کی فوج پغیام رسانی اور دریافت احوال وغیرہ کے سلسلہ میں پرندوں سے کام لینے کا طریقہ موجودہ زمانے میں بھی موجود ہے اور قدیم زمانے میں بھی یہ پایا جاتا رہا ہے اگرچہ حضرت سلیمان ؑ کے حالات کے ضمن میں اہل تورات نے اس قسم کے کسی واقعہ کا ذکر نہیں کیا ہے لیکن حضرت نوح کے حالات میں یہ ذکر ہے کہ جب انہوں نے یہ اندازہ کرنا چاہا کہ طوفان کا پانی اتر گیا ہے یا نہیں تو کشتی سے ایک کبوتری اڑائی کچھ دیر کے بعد وہ کبوتری اپنی چونچ میں زیتون کی ایک تازہ شاخ لے کر آئی جس سے حضرت نوح نے یہ اندازہ فرمایا کہ اب پانی اتر گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خبر رسانی اور تجسس احوال وغیرہ کی ہمات کے لئے پرندوں کی تربیت کا فن بہت قدیم بلکہ ابتدائے تاریخ سے موجود ہے۔ کبوتر کی نامہ بری تو خیر معروف ہی ہے۔ حضرت نوح کے مذکورہ بالا واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرندہ تجسس احوال کے مقصد کے لئے بھی بہت زیرک ہے۔ موجودہ زمانہ کی سائنس نے جو معلومات فراہم کی ہیں ان سے بھی اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے۔ فلسطین کے علاقے میں ہد ہد کی کثرت ہے۔ یہ پرندہ بھی اس مقصد کے لئے کبوترہی کی طرح ہوشیار ہے اس وجہ سے حضرت سلیمان نے اپنی فوج میں اس سے کام لیا۔ حضرت سلیمان نے جس انداز سے ہد ہد کی غیر حاضری پر عتاب فرمایا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرندے فوجی ڈسپلن کے تحت تھے۔ انہیں اس نظم کی پوری پوری پابندی کرنی پڑتی تھی اور کسی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں فوجی ضوابط کے تحت سزا بھگتنی پڑتی تھی۔
Ayahs 27:22–24

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

زیادہ دیر نہیں گزری کہ وہ آیا اور اس نے کہا کہ میرے علم میں وہ چیز ہے جو آپ کے علم میں نہیں ہے اور میں ملک سبا سے ایک سچی خبر لایا ہوں

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے دیکھا کہ ایک عورت اس پر حکمرانی کر رہی ہے اور اس کو سب کچھ حاصل ہے اور اس کا تحت بہت بڑا ہے

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے اس کو اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کے سوا سورج کو پوجتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں کھبا دیئے ہیں پس ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے، پس وہ راہ یاب نہیں ہو رہے ہیں

آیت (24-22) ہد ہد کے مک سبا کے بارے میں فمکت غیر بعید مکت کا فاعل میرے نزدیک، حضرت سلیمان ہیں۔ یعنی ہد ہد پر جو عتاب انہوں نے فرمایا اس کے بعد زیادہ دیر نہیں گزری کہ ہد ہد آگیا اور اس نے اپنی کارگزاری کی یہ رپورٹ پیش کی کہ میں ملک سامنے ایک ایسی سچی اطلاع لے کر آیا ہوں جو حضور کے علم میں نہیں ہے۔ سبا عرب کا وہی مغربی جنوبی علاقہ ہے جہاں یمن، حضرموت اور عیسر واقع ہیں۔ ہد ہد کے قول کا یہ مطلب نہیں تھا کہ حضرت سلیمان اس ملک اور اس کے حلا ات سے بالکل ہی بیخبر ہیں۔ اتنے قریب کے ملک سے حضرت سلیمان بالکل بیخبر کیسے ہو سکتے تھے جب کہ تورات اور قرآن دونوں سے یہ بات ثابت ہے کہ ملکہ سبا حضرت سلیمان کے حالات اور ان کی حکمت ہے جیسا کہ آگے واضحت آرہی ہے، فی الجملہ واقف تھیں۔ جب ملکہ سبا واقف تھیں تو حضرت سلیمان کے ناواقف ہونے کے کیا معنی جن کا سبحری بیڑا دور دور کے ممالک تک سفر کرتا تھا۔ ہد ہد کا مطلب یہ تھا کہ اس ملک سے متعلق میں تازہ تفصیلی رپورٹ لے کر آیا ہوں جس سے حضور کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔ احطت بمالوتحط بہ کے الفاظ سے بھی یہی بات نکلتی ہے۔ ان الفاظ کا صحیح مدعا یہ ہے کہ حضور والا اس ملک سے متعلق جو کچھ جانتے ہیں میں اس سے کسرے زائد معلومتا حاصل کر کے آیا ہوں۔ یہ امر محلوظ رہے کہ ہد ہد نے یہ بات اپنی غیر حاضری کے عذر کے طور پر پیش کی ہے اس وجہ سے اس نے اپنی رپورٹ کا قابل وثوق ہونا بھی واضح کیا اور تازہ معلومات پر مشتمل ہونا بھی۔ اس طرحکا اضافہ ہر ملک کا سفیر اور مخبر اپنے ملک کے حکمران کی معلومات میں کرتا ہے اور کرسکتا ہے اس وجہ سے اس میں حضرت سلیمان کے علم اور ان کی معلومات کی تحقیر کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ انی وجدت امراۃ ……ال آیتہ، ملک کے حکمران سے متعلق اس نے یہ رپورٹ دی کہ ان پر ایک عورت حکومت کر رہی ہے اور انداز کلام سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ عورت کی حکمرانی اس کی نظر میں ایک تعجب اگنیز امر ہے۔ ملک کے وسائل و ذرائع سے متعلق اس نے یہ رپورٹ دی کہ ادتیت من کل شی یعنی ملک کی رفاہیت و ترقی سے متعلق جو چیزیں ضروری ہیں وہ سب اس کو حاصل ہیں۔ ملکہ کی عظمت سے متعلق اس نے یہ رپورٹ دی کہ لھا عرش عظیم اس کا تخت بہت بڑا ہے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ اس زمانے کے بادشاہوں کے تخت و تاج چونکہ سونے چاندی اور زرد جواہر سے آراستہ ہوتے تھے اس وجہ سے ان کی بڑائی بیشتر انہی چیزوں کی بڑائی سے ناپی جاتی تھی۔ ملک کی مذہبی و اخلاقی حالت سے متعلق اس نے یہ رپورٹ دی کہ ملکہ اور اس کی قوم کے لوگ سب آفتاب پرست ہیں اور یہ آفاتب پرستی اور ان کے دوسرے اعمال و اخلاق اس طرح شیطان نے ان کی نگاہوں میں کھبا دیئے ہیں کہ صحیح راہ توحید اور خدا پرستی کی راہ … ان کو سمجھائی نہیں دے رہی ہے۔
Ayahs 27:25–26

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

(شیطان نے ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے) کہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو ظاہر کرتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش عظیم کا مالک ہے

آیت 26-25 ایک تضمین میرے نزدیک یہ دو آیتیں ہد ہد کے قول کا جزو نہیں ہیں بلکہ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کے متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہد ہد کی بات فصدھم عن السبیل کے ساتھ اس بات کو ملا کر کلام کو بالکل مطابق حال کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطا ننے ان کو اس خدا کی بندگی سے روک دیا جو آسمان و زمین کی تمام محفیات کو بےنقاب کرتا ہے اور جو تمہارے تمام سرو علانیہ سے اچھی طرح واقف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عرش عظیم کا مالک وہی ہے۔ اس کے تضمین ہونے کے قرائن بالکل واضح ہیں، ان کی مزید وضاحت تحصیل حاصل ہوگی ماتخفون وما تعلنون کے صیغہ ہائے خطاب ہد ہد کی زبان سے بالک ناموزوں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی فرما سکتا تھا۔ یخرج الخب فی السموت ولارض میں حبا مخبوء کے مفہوم میں ہے۔ یعنی زمین و آسمان کی تمام پوشیدہ چیزوں کو بےنقاب تو اللہ تعالیٰ کرتا ہے لیکن نادان لوگ پوجا غیر اللہ کی کرتے ہیں۔ آسمان کی پوشیدہ چیزوں سے یہاں اشارہ سورج، چاند، زہرہ، مشتری اور بارش وغیرہ کی طرف خاص طور سے ہے جن میں سے سورج کی پوجا سب سے بڑے دیوتا کی حیثیت سے اہل سبا کرتے تھے۔ زمین کی پوشیدہ چیزوں سے اشارہ ان چیزوں کی طرف ہے جو اس سے اگتی یا برآمد ہوتی ہیں۔ مثلاً درخت، نباتات دریا اور چشمے وغیرہ فرمایا کہ ان تمام چیزوں کا خالق ومالک تو اللہ وحدہ لاشریک ہے اور وہ تمہارے تمام پوشیدہ اعلانیہ سے واقف بھی ہے تو دوسری چیزوں کی بندگی کرنے کے کیا معنی ! لا الہ الا ھو رب العرش العظیم یعنی اصل عرش عظیم کا، جو تمام آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے، مالک وہی ہے تو اسی کی بندگی کرو۔ اس کے عرش کے آگے کسی کے عرش کی بھی، خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو کوئی وقعت و حیثیت نہیں ہے۔
Ayah 27:27

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

اس نے کہا، ہم دیکھیں گے کہ تم نے سچ کہا ہے یا تم جھوٹوں میں سے ہو

آیت 28-27 ایک قرین قیاس بات حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا، جلد ہی تمہارے سچے یا جھوٹے ہونے کا امتحان ہوا جاتا ہے۔ میرا یہ نامہ لے کر جائو اور ان کے آگے ڈال دو۔ پھر پرے ہٹ کر دیکھو کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد ان کی طرف سے کوئی نہ کوئی ردعمل لازماً ظاہر ہوگا جس سے یہ اندازہ ہوجائے گا کہ تم نے یوں ہی سبا تک جانے کی بڑہان کی ہے یا اس میں کچھ حقیقت بھی ہے ! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت سبا کا مسئلہ پہلے سے حضرت سلیمان ؑ کے زیر غور تھا اور عجب نہیں کہ اس کے زیر غور ہی ہونے کے سبب سے ہد ہد نے اس ملک کے حالات کے جائزہ کے لئے یہ رپواز کی ہو۔ اگر پہلے سے کوئی اسکیم نہ ہوتی تو یہ بات بعید از قیاس ہے کہ مجرد ہد ہد کے صدق و کذب کی جانچ کے لئے حضرت سلیمان ؑ ملکہ سبا کو الٹی میٹم بھیج دیں۔ آگے اس خط کا حوالہ آ رہا ہے اور اس کی نوعیت بالکل الٹی میٹم کی ہے۔ ثم تول عنھم فا نظر کی ہدایت کا مدعا صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ خط ان کے سامنے ڈال کرفوراً وہاں سے واپس نہ آجانا بلکہ یہ جائزہ لینے کی بھی کوشش کرنا کہ اس خط پر ان کا ردعمل کیا ہوتا ہے بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ پرے ہٹنے کی ہدیات ہد ہد کو حضرت سلیمان نے اس لئے فرمائی کہ وہ لوگ بےتکلف اظہار خیال کرسکیں اور ایک غیر ملک کے قاصد کی موجودگی کے باعث کوئی جھجک نہ محسوس کریں لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ اس زمانے میں پرندوں کے ذریعے سے نامہ بری تو ایک معروف بات تھی لیکن یہ بات کہ حضرت سلیمان کا نامہ بر ہد ہد باتوں کو سنتا اور سمجھتا بھی ہے کم از کم اس مرحلے تک ملک سبا کے لوگوں کے علم میں اس کے ہونے کا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔
Ayahs 27:28–29

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

یہ میرا نامہ لے کر جائو اور ان کے پاس ڈال دیجیو اور ہٹ کر دیکھیو کہ کیا ردعمل وہ ظاہر کرتے ہیں

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

اس نے کہا، اے اہل دربار، ایک گرامی نامہ میرے پاس ڈالا گیا ہے

آیت 30-29 حضرت سلیمان کا نامہ ملکہ سبا کے نام نامہ کے موصول ہونے کے بعد ملکہ نے فوراً اپنے درباریوں سے مشورہ کیا۔ ان کو بتایا کہ انفی القی الی کتب کریم (میرے پاس ایک معزز گرامی نامہ ڈلوایا گیا ہے) اس انداز تعارف سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ پرندوں کے ذریعہ سے خطوط بھیجنے اور بھجوانے کا طریقہ اس زمانے میں کم از کم بادشاہوں کے ہاں، ایک معلوم و معروف طریقہ تھا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو مکلہ کو بھی اس طرح، بغیر کسی قاصد یکے خط آنے پر تعجب ہوتا اور درباری بھی اس پر تعجب کا اظہار کرتے لیکن نفس خط کے وصول ہونے پر نہ مکلہ نے کسی تعجب کا اظہار کیا نہ ان کے درباریوں نے بلکہ ملکہ نے بھی اس کا ذکر ایک عام واقعہ کی حیثیت سے کیا اور درباریوں نے بھی اس کا عادی واقعہ کی حیثیت سے سنا۔ دوسری یہ کہ ملکہ نے اس خط کا ذکر ایک معزز خط کی حیثیت سے کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحب خط … حضرت سلیمان … کی عزت و عظمت ان کے اور ان کے درباریوں کے دل میں پہلے سے موجود تھی۔ اس کے شواہد تورات اور تالمود میں بھی موجود ہیں۔ اور آگے قرآن میں بھی اس کے اشارات آ رہے ہیں۔ انہ من سلیممن وانہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ملکہ نے اصل خط کا خلاصہ پیش کیا کہ یہ سلیمان کی جانب سے ہے اور اس کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہوا ہے۔ قدیم زمانے کے سلاطین و امراء کے خطوط و فرامین کا طریقہ یہی رہا ہے کہ ان کا آغاز مرسل اور مرسل الیہ کے نام سے ہوتا۔ ملکہ نے چونکہ خط کا پورا متن نہیں بلکہ خلاصہ ہی پیش کیا اس وجہ سے مسرل کے نام اور اس کے بعد خاص طور پر اس کے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے شروع ہونے کا ذکر کیا۔ اس سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی تاریخ پر بھی روشنی پڑتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ نے خط کے اس سرنامہ کو خاص طور پر اہمیت دی اور یہ چاہا کہ اس کے اندر جو دعوتی روح ہے اس کو اس کے درباری بھی سمجھیں۔ الا تعلوا علی واتونی مسلمین یہ حضرت سلیمان کے خط کا اصل مدعا ملکہ نے بتایا کہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ میرے مقابل میں سرکشی نہ کرو بلکہ میری اطاعت میں داخل ہو جائو۔ اگرچہ قرینہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ نے حضرت سلیمان کے خط کا خلاصہ پیش کیا ہے لیکن یہ بھی ایک امر واقعہ ہے کہ قدیم زمانے میں خطوط اور فرامین طویل نہیں لکھ جاتے تھے بلکہ نہایت مختصر اور قل و دل ہوتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے خطوط سے بھی اسی کی شہادت ملتی ہے اس وجہ سے اگر حضرت سلیمان کا خط اتنا ہی رہا ہو جب بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
Ayahs 27:30–31

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

تم لوگ میرے مقابل میں سرکشی نہ کرو اور میرے پاس مطیع ہو کر حاضر ہو

حضرت سلیمان کا مطالبہ اہل سبا سے تورات کی کتاب سلاطین سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے زمانہ میں ان کے گرد و پیش کی تمام ریاستیں اور حکومتیں یا تواز خودان کی باجگزار اور ماتحت بن گئی تھیں یا حضرت سلیمان نے ان کو طاقت کے زور سے اپنے زیر نگین کرلیا تھا اور ایسا انہوں نے اس اصول کے تحت کیا تھا کہ کفر و شرک کا اقتدار خدا کی زمین میں سب سے بڑا فساد ہے جس کو مغلوب کرنا اہل حق کے فرائض میں سے ہے۔ اس صول کے تحت اہل سبا سے بھی انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ سیدھے سیدھے ان کی ماتحتی میں داخل ہوجائیں، سرکشی کی روش نہ اختیار کریں کہ ان کے خلاف ان کو کوئی اقدام کرنا پڑے۔ مسلمین، یہاں اطاعت اور فرمانبرداری کے مفہوم میں ہے۔ اسلام لانے کے مفہوم میں نہیں ہے۔ ایک صحیح اسلامی حکومت کو یہ حق تو حاصل نہیں ہے کہ وہ غیر مسلموں کو اسلام لانے پر مجبور کرے لیکن اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ غیر مسلموں کو اقتدار پر متمکن نہ رہنے دے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ خدا کی زمین میں خدا کے قانون کے سوا کسی اور قانون کی بالا دستی خدا سے بغاوت اور فساد فی الارض ہے۔
Ayah 27:32

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

اس نے کہا، اے درباریو، میرے اس معاملے میں مجھے پرانے دور میں کسی معاملے کا اس وقت تک فیصلہ نہیں کرتی جب تک آپ لوگ موجود نہوں

ملکہ سبا کا مشورہ اپنے درباریوں سے خط کا مضمون سنا کر مکلہ نے درباریوں سے مشورہ طلب کیا کہ آپ لوگ اس معاملے میں رائے دیجیے کہ مجھے کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے ؟ اور ساتھ ہی اہل دربار کی دلجوئی و استمالت کے لئے یہ بھی کہا کہ میں کسی اہم معاملے کا فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک آپ لوگوں کی موجودگی میں آپ لوگوں کا مشورہ نہ حاصل کرلوں۔ اس دل جوئی کی ضرورت ملکہ نے غالباً اس لئے محسوس کی کہ وہ حضرت سلیمان ؑ سے جنگ کے لئے جیسا کہ آگے کے حالات سے واضح ہوگا، تیار نہیں تھیں اور ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کے اعیان بھی معاملہ پر اسی طرز سے سوچیں جس طرز سے وہ سوچ رہی ہیں۔ یہ امر محلوظ رہے کہ کوئی شخصی حکومت بھی اس معنی میں شخصی نہیں ہوا کرتی کہ بادشاہ اپنی ذات کے سوا ہر شخص سے بالکل مستغنی ہو۔ اس معنی میں شخصی تو فرعون کی حکومت بھی نہیں تھی۔ آخر وہ بھی اپنے اعیان اور درباریوں سے مشورہ کرتا تھا ! اسی طرح ملکہ سبانے بھی اپنے اعیان سے مشورہ کیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ ملکہ سبا کی حکومت جمہوری یا شورائی تھی ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ اس کو کہہ سکتے ہیں تو الیمانی حکومت کہہ سکتے ہیں اور وہ بھی ایک خاص مفہوم میں
Ayah 27:33

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ ہم طاقت اور اعلیٰ جنگی صلاحیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے تو غور فرما لیجیے کہ کیا حکم دیتی ہیں

درباریوں کا مشورہ درباریوں نے کہا کہ ہم وسائل جنگ اور افراد کی تعداد کے اعتبار سے بھی طاقتور ہیں اور ہمارے آدمی جنگی مہارت و بسالت کے اعتبار سے بھی ممتاز و نامور ہیں تو آپ اگر جنگ کا فیصلہ فرمائیں تو ہم حریف سے ہیٹے نہیں ہیں لیکن فیصلہ بہرحال آپ کے اختیار میں آپ غور فرما لیجیے کہ کیا حکم دیتی ہیں۔ اولواقوۃ سے انہوں نے اپنی عددی قوت اور وسائل جنگ کی طرف اشارہ کیا اور اولوا باس شدید سے اپنی جنگی مہارت و بصیرت اور جرأت و بسالت کی طرف جنگ کے لئے یہی دو چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درباریوں کا رجحان جنگ کی طرف تھا اور انہوں نے اپنا یہ رجحان ملکہ کے سامنے ظاہر کردیا۔
Ayah 27:34

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

اس نے کہا، بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں اخل ہوتے ہیں تو اس کو درہم برہم اور اس کے معززین کو ذلیل کر کے چھوڑتے ہیں اور یہی یہ لوگ بھی کریں گے

قالت ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا و جعلوآ اعزۃ اھلھا اذلۃ وکذلک یفعلون (34) ملکہ کی رائے ملکہ نے درباریوں کے اس رجحان کی تائید نہیں کی۔ حضرت سلیمان کی قوت وصولت اور ان کی دانش و حکمت سے متعق ان کو بہت سی باتیں پہنچ چکی تھیں۔ اس وجہ سے جنگ کے رجحان کی انہوں نے حوصلہ شکنی کی اور اس کے عواقب سے اپنے درباریوں کو ڈرایا کہ بادشاہ لوگ جب کسی ملک یا شہر کو فتح کرتے ہیں تو اس کو بالکل تلپٹ کر کے رکھ دیتے ہیں اور ان کے ہاتھ ملک کے معززین کو ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے۔ بصورت غلیہ سلیمان اور ان کے فوجی بھی لازماً یہی کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جنگ سے احتراز ہی میں خیر ہے۔
Ayah 27:35

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں ان کے پاس اپنے سفیر ہدیہ کے ساتھ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ سفیر کیا جواب لاتے ہیں

وانی مرسلۃ الیھم بھدیۃ فنظرۃ بم یرجمع المرسلون (35) ملکہ نے جنگ کے بجائے مصالحت و استمالت کی پالیسی اختیار کرنے کا مشوہ دیا اور کہا کہ میں پہلے اپنے سفیروں کے ذریعہ سے حضرت سلیمان کے پاس تحفے بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ ہمارے اس جذبہ خیر سگالی کا ان پر کیا اثر پڑتا ہے اور ہمارے سفیر ان کی طرف سے کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔ فنظرۃ بم یرجع المرسلون سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ ملکہ کو اپنی اس سفارش کی کامیابی کی کچھ زیادہ توقع نہیں تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ حضرت سلیمان کے سامنے اصول کا ہے۔ ان کو تحفوں اور ہدیوں سے رام کرنا ممکن نہیں ہے لیکن وہ جنگ سے بچ کر معاملے کو طے کرنے کی کوئی ایسی راہ نکالنا چاہتی تھیں جو ان کے اور ان کے اہل ملک کے لئے بہتر ہو اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ان کے مزاج میں سلامت روی اور عاقبت بینی تھیں۔