27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، اللہ کے سوا کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہے اور انہیں پتہ بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے

یہ توحید و شرک کی اس بحث کی آخری بات ہے کہ اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ آسمانوں اور زمین کے اندر غیب کا علم کسی اور کو بھی ہے اس وجہ سے وہ لائق عبادت ہے تو اس کی یہ غلط فہمی بھی دور کردو کہ عیب کا علم خدا کے سوا آسمانوں اور زمین میں کسی کو بھی نہیں ہے۔ جب آسمان والوں میں سے بھی کسی کو غیب کا پتہ نہیں تو زمین والوں کا کیا سوال ! فرمایا کہ غیب کا علم تو درکنار ان کو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائیج ائیں گے ؟ یعنی جب انہیں اپنے اٹھائے جانے کی بھی خبر نہیں تو ان کو شفاعت کے بھروسہ پر ان کو معبود مان کر ان کی پرستش کرنے کے کیا معنی ! یہ مضمون سورة نحل کی آیات 21-20 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم اس کے ہر پہلو پر بحث کرچکے ہیں۔
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت کے باب میں عالم الجھا ہوا ہے۔ بلکہ یہ لوگ اس کے بارے میں مبتلائے شک ہیں، بلکہ یہ لوگ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں

ادرک دراصل تدارک ہے جو باقاعدہ ادغام ادرک ہوگیا ہے جس طرح تثاقل سے اثاقل بن گیا ہے۔ تدارک لقوم کے معنی ہوں گے قوم کے اگلے پچھلے سب ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے۔ قرآن مجید میں ہے حتی اذا دراکوا فیھما جمیعاً (یہاں تک کہ جب وہ سب اس میں اکٹھے ہو لیں گے) یہیں سے اس کے اندر اختلاط اور گڈ مڈ ہونے کا مفہوم بھی پیدا ہوگیا ہے۔ اس لئے کہ جب مختلف چیزیں کٹھی ہوجاتی ہیں تو وہ آپس میں گڈمڈ ہوجاتی ہیں۔ آخرت کے باب میں مشرکین عرب کی ذہنی الجھن یہ بات ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں کہ مشرکین عرب کا موقف آخرت کے باب میں صریح انکار کا نہیں تھا بلکہ وہ ایک قسم کی ذہن الجھن میں مبتلا تھے۔ اس کو ماننا چاہتے نہیں تھے او اس کے صریح انکار کی گنجائش پاتے نہیں تھے۔ اس وجہ یس وہ ایک قسم کی گو مگو کی حالت میں مبتلا تھے۔ بعض منہ پھٹ اور بالکل لا ابالی قسم کے لوگ اگرچہ ضد کے جوش میں اس کا انکار بھی کربیٹھے تھے لیکن عام حابت یہ نہیں تھی بلکہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا۔ ایک ذہنی الجھن ہی کی تھی۔ وہ اس کو نہ ماننے کی خواہش کے تحت ایک بہت ہی مستبعد بات قرار دیتے تھے کہ بھلا مر جانے اور سڑ گل جانے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اور ساری دنیا کا حساب کتاب اور ان کی جزا و سزا کس کے بس کی بات ہے ! لیکن اس پر بھی ان کا ذہن پوری طرح مطمئن نہیں تھا اس وجہ سے اپنی تسلی کے لئے وہ یہ بھی کہتے تھے کہ بالفرض مرنے کے بعد اٹھنا ہی پڑا اور حساب کتاب کی نوبت آ ہی گی تو ہمارے دیوی دیوتا اپنی سعی و سفارش سے ہمیں بچا ہی لیں گے، اس کے لئے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن نے ان کی اس ذہنی کشمکش کو ادرک علمھم فی الاخرۃ سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ نہایت ہی حقیقت افروز تعبیر ہے لیکن تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے مفسرین اس کی تاویل میں معلوم نہیں کس طرح الجھن میں پڑگئے ! یہ آیت یہاں بالک اسی محل میں ہے جس محل میں تہید کی آیت 5 ہے جس طرح وہاں فرمایا ہے کہ اگرچہ یہ قرآن بالکل واضح ہے لیکن جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ہیں اور نہ ماننا چاہتے ہی ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لائیں اسی طرح توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال پر یہاں ناقابل انکار دلائل پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ نہ خیال کرو کہ سورج کی طرح یہ روشن حقائق ان کی سمجھ میں نہیں آ رہے ہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت کے باب میں یہ سخت ذہنی الجھن میں مبتلا ہیں، اس کی طرف سے یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ اس کی طرف سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حقائق سے گریز و فرار کی اصلی علت آخرت سے گریز و فرار ہی ہے۔ آخرت کو مان لینے سے چونکہ انسان پر عظیم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اس وجہ سے وہ اس سے بھاگتا ہے اور فرار کے لئے چونکہ جوئی راہ نہیں ہے اس وجہ سے وہ چور دروازے تلاش کرتا ہے۔ یہ چیز اس کو ایک شدید ذہنی الجھن میں مبتلا کردیتی ہے۔ وہ حقائق سے گریز کے لئے ان کے اندر شک کے پہلو ڈھونڈتا ہے۔ یہ غیر فطری جستجو اس کو شک کا مریض بنا دیتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسے صریح حقائق سے آنکھیں بند کر کے اندھا بننا پڑتا ہے۔ گویا قرآن نے اس آیت میں ان کے مرض کے تدریجی ارتقاء کو واضح فرمایا کہ انہوں نے آخرت کو نہ ماننے کی خواہش کے تحت اپنے ذہن و فکر کو مریض بنایا۔ پھر جب وہ شک کے مریض بن گئے تو انہیں آفاق وانفس کے تمام شواہد و حقائق سے آنکھیں بند کر لینی پڑیں اس لئے کہ اس میں حقائق کامواجبہہ ان کی طبیعت پر نہایت شاق گزرتا ہے۔
Ayahs 27:67–68

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور یہ کافر کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے آبائو اجداد بھی تو کیا ہم دوبارہ نکالے جائیں گے !

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

اس کی دھمکی ہمیں بھی دی گئی اور اس سے پہلے ہمارے آباء و اجداد کو بھی یہ محض اگلوں کے فسانے ہیں

68-67 دوسری یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ قیامت کی آمد آمد کا چرچا تو ہم بہت دنوں سے سن رہے ہیں۔ آج ہم کو اس سے ڈرایا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ہمارے اگلوں کو بھی ڈرایا گیا لیکن اس کو نہ آنا تھا نہ آئی۔ اس سے وہ یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ یہ سب اگلوں کے فسانے ہیں جو ہر زمانے میں دہرائے گئے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا

قل سیزوا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المجرمین (69) آنکھوں کے لئے سرمہ بصیرت یہ ان کے اس اندھے پن کا علاج بتایا ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں آیا ہے۔ مطلب یہ کہ آنکھیں کھولنے سے کھلتی ہیں اس لئے اپنے ملک میں آنکھیں کھول کر چلو پھر و اور پچھلی قوموں کے آثار پر عبرت کی نگاہ ڈالو تو تمہیں نظر آئے کہ اللہ کے رسولوں نے ان کو جس عذاب سے ڈرایا وہ کس طرح ان کے سامنے آیا۔ یہ آثار اللہ نے اس زمین میں اسی لئے محفوظ رکھے ہیں کہ یہ تمہارے لئے نشان عبرت اور سرمہ بصیرت کا کام دیں۔ اس سے تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ محض اگلوں کا فسانہ نہیں بلکہ یکسر حقیقت ہے اور اسی سے تم پر یہ حقیقت بھی واضح ہوجائے گی کہ جب مجرموں کا یہ انجام اس دنیا میں ہوا ہے تو آخر اللہ تعالیٰ ایک ایسا دن کیوں نہیں لائے گا جس میں اس کے کامل عدل اور اس کی کامل رحمت کا ظہور ہو !
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور ان کے حال پر غم نہ کرو اور نہ ان کی چالوں سے جو وہ چل رہے ہیں فکر مند ہو

ولاتحزن علیھم ولاتکن فی ضیق مما یمکرون (70) آنحضرت کو تسلی یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ تم ان کی اس روش پر غم نہ کرو تم ان کو روٹی دے رہے ہو اور یہ پتھر مانگتے ہیں تو یہ ان کی اپنی محرومی و بدبختی ہے۔ تم اپنا فرض انجام دے کر ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ ان پر کھڑنے اور ان کی ہٹ دھرمی پر غم کھانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اسی طرح ان کی ان شرارتوں سے بھی ذرا دل تنگ اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے جو وہ تمہارے ساتھیوں اور تمہاری دعوت کے خلاف کر رہے ہیں۔ انکی ساری چالیں اور شرارتیں خدا کی مٹھی میں ہیں۔ وہ ان کی ہر چال بےکار کر دے گا اور تمہیں ہر شر سے محفوظ رکھے گا۔
Ayahs 27:71–73

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور یہ پوچھتے ہیں کہ یہ دھمکی کب ظہور میں آئے گی اگر تم سچے ہو !

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہہ دو کہ بہت ممکن ہے کہ جس چیز کے لئے تم جلدی مچائے ہوئے ہو اس کا کوئی حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور بیشک تمہارا رب لوگوں پر بڑے فضل والا ہے لیکن ان میں کے اکثر شکر گزار نہیں ہوتے

آیات 73-71 ردف بغیر صلہ کے بھی آتا ہے اور ل کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں دونوں کی نظیریں حتمی ہیں اس کے معنی ہیں ایک شے کے دوسری شے کے پچیھے لگ ہوئے ہونے کے۔ مکذبین کا مطالعہ عذاب اور اس کا علم … اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک عذاب دنیا سے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً ظاہر ہوتا ہے دور سے عذاب آخرت سے اس انداز کا جواب ان کی قوموں نے ہمیشہ یہی دیا کہ ممی ھذا نوعد یہ عذاب کب آئے گاڈ یعنی اگر تم سچے ہو تو یا تو قیامت لائو جس کی روز دھمکی سنا رہے ہو، اگر قیامت نہیں تو وہ عذاب ہی لا کر دکھائو جو تمہاری تکذیب کی صورت میں تمہارے گمان کے مطابق لازماً ہم پر آنے والا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی ضرور دکھائو۔ اس کے بغیر ہم یہ ماننے والے نہیں ہیں کہ تم اپنے دعوے اور وعدے میں سچے ہو۔ قل عسی ان … الایۃ فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ عجب نہیں کہ جس چیز کے لئے تم جلدی مچائے ہونے ہو اس کا کوئی حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہے۔ الذی تستعجدن سے قیامت مراد ہے جس کے لئے جلدی مچانے کا ذکر اوپر آیت 68 میں بھی گزر چکا ہے اور آیت 71 میں بھی بعض سے مراد وہ عذاب ہے جو رسول کی تکذیب کا لازمی نتیجہ ہے۔ فرمایا کہ عذاب کے لئے جلدی نہ مچائو، اب تو اس کا ظہور تمہارے رویے پر منحصر ہے۔ اگر تم ایمان نہ لانے تو قیامت کے عدالت کبریٰ کا ایک نمونہ تمہارے لئے ظاہر ہو کے رہے گا۔ یہ چیز رسول کی بعثت ہی کے اندر مضمر ہے۔ یہاں اس بات کو عمی کے لفظ سے کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بہرحال عذاب کے ظہورہ انحصار قوم کے رویئے پر تھا۔ وہ ایمان لا کر اس سے محفوظ بھی رہ سکتی تھی۔ چناچہ ہوا بھی یہی کہ آنحضرت ﷺ کی قوم کی اکثریت ایمان لائی اس وجہ سے اس پر اس قسم کا کوئی عذاب نہیں آیا جس قسم کا عذاب پچھلی قوموں پر آیا۔ وان ربک لذو فضل علی الناس ولکن اکثر ھملا یشکرون یہ عذاب اور قیامت کے لئے جلدی مچانے والوں کے مال پر اظہار افسوس ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جو مہلت دیتا ہے وہ اپنے فضل و کرم سے محض اس لئے دیتا ہے کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے رویے کی اصلاح کرلیں اور اس کی رحمت کے مستحق نہیں، لیکن لوگوں کی ناشکری کا حال یہ ہے کہ وہ اس مہلت اور اس فضل کو اللہ کے رسول کے جھوٹے ہونے کی دلیل بنا لیتے ہیں اور جہاں سے ان کو رحمت لے کر اٹھنا چاہئے وہاں سے وہ اس کا غضب لے کر لوٹتے ہیں۔
Ayahs 27:74–75

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور تمہارا رب خوب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے وئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان و زمین میں کوئی ایسی مخفی چیز نہیں ہے جو ایک واضح رجسٹری میں درج نہ ہو

آیت 75-74 انحضرت کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے انذار یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی بھی ہے اور آپ ﷺ کے مخالفین کے لئے انذار بھی۔ آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم ان سے بالکل بےخطر رہو۔ تمہارا رب ان کے سینوں کے مخفی منصوبوں سے بھی واقف ہے اور ان کے برملا اعلانات سے بھی۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے ہر فتنہ کے تدارک کے لئے خود سامان فرمائے گا۔ یہ گویا لاتکن فی ضیق مما یمکرون کے مضمون کی تاکید ہوئی۔ وما من عآئبۃ الایۃ میں مخالفین کو دھمکی ہے کہ وہ یاد رکھیں کہ آسمان و زمین کا ہر بھید خدا کے ہاں ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ وہ ہر چیز کانوٹس لے گا اور اس سے کوئی راز بھی چھپایا نہ جاسکے۔
Ayahs 27:76–78

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر بھی ان بہت سی چیزوں کو واضح کر رہا ہے جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لئے

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

بیشک تیرا رب اپنے حکم ناطق کے ذریعہ سے ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور وہ غالب اور علم والا ہے

آیت 78-72 یہ اشارہ یہود کی طرف ہے۔ اصلاً تو یہ سورة قریش کے جواب میں ہے اس لئے کہ دعوت کے ابتدائی دور میں قرآن کے دوسرے مخالفین … یہود وغیرہ صرف دور کے تماشائی تھے لیکن دعوت کے قدم جتنے ہی آگے بڑھتے گئے آہستہ آہستہ یہود نے بھی پس پردہ قریش کی حمایت شروع کردی۔ چناچہ قرآن نے بھی ان سے تعرض شروع کردیا۔ ابتداء تو ان کا ذکر اشارات ہی کی شکل میں ہوا لیکن پھر بالتدریج جس طرح وہ کھلتے گئے اسی طرح قرآن کا انذار بیان بھی کھلتا گیا۔ یہاں تک کہ وہ بھی پوری طرح بینقاب ہو کر سامنے آگئے۔ زیر بحث آیات میں ان کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے۔ بعد کی سورتوں میں آپ دیکھیں گے کہ بالتدریج یہ احمال تفصیل کا رنگ اختیار کرے گا۔ یہود کے معاملہ میں یہی انذار بحث پچھلے گروپوں میں بھی رہا ہے۔ فرمایا کہ قرآن جس طرح نبی اسماعیل (قریش) پر اتمام حجت کر رہا ہے اسی طرح یہ بنی اسرائیل پر بھی ان بہت سے حقائق کو واضح کر رہا ہے جن سے وہ اختلاف میں پڑ کر محروم ہوگئے تھے وانہ لھدی و رحمۃ للمومنین یعنی اگر وہ اس پر ایمان لانے والے بنیں تو یہ ان کو اختلافات کی بھول بھلیوں سے نکال کر دین کی صراط مستقیم پر لائے گا اور ان کے لئے دنیا و آخرت دونوں میں موجب رحمت ہوگا ان ربک یقضی بینھم مکہ یعنی اگر انہوں نے اس قرآن کی قدر نہ پہچانی اور اس کی رہنمائی نہ قبول کی تو یاد رکھیں کہ آج تک اللہ تعالیٰ ان کے اختلافات اس کتاب کے ذریعہ سے رفع کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے بعد وہ دن بھی آنے والا ہے جس میں وہ اپنے حکم ناطق کے ذریعہ سے ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ یہاں واضح قرینہ موجود ہے کہ یہ بات روز قیامت سے متعلق فرمائی گی ہے اور حکم سے مراد وہ حتمی و آخری فیصلہ ہے جس کے بعد کسی کے لئے زبان کھولنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ ”ھو العزیز العلیم یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا حوالہ دیا ہے کہ یہود یاد رکھیں کہ اللہ عزیز وعلیہم ہے نہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑ سکتا اور نہ کوئی چیز اس سے محفی ہے۔ یہی ممضون بعینیہ اسی طرح کے موقع و محل میں سورة یونس میں بھی گزر چکا ہے۔ فرمایا ہے۔ آیت (یونس 93) اور ہم نے بنی اسرائیل کو عزت و استحکام کا مقام بخشا اور ان کو اپنے پاکیزہ رزق و فضل سے نوازا تو علم پانے کے بعد انہوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا۔ بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان چیزوں کے باب میں ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ سورة ہود میں یہی مضمون اس طرح آیا ہے۔ سورة ہود میں یہی مضمون اس طرح آیا ہے۔ (آیات ھود :110) اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تو اس میں اختلاف پیدا کردیا گیا اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک وہ اس کی طرف سے ایک الجھن میں ڈال دینے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہاں جس اختلاف کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے اس کی وضاحت سورة یونس اور سورة ہود کی مذکورہ بالا آیات کے تحت بھی ہوچکی ہے اور سورة بقرہ کی تفسیر میں بھی۔ تو رات کے متعلق یہ بات یاد رکھیے کہ اس میں صرف تحریف ہیں ہیں ہوئی ہے بلکہ وہ متناقض روایات کا مجموعہ بھی ہے۔ اس سے یہ پتہ چلانا ناممکن ہے کہ اس میں کتنا حصہ حق ہے اور کتنا باطل و معروف تو رات کے اس طرح مسخ ہو انے کے سبب سے یہود خدا کی دی ہوئی روشنی سے محروم ہو کر بالکل تاریکی میں گھر گئے تھے۔ قرآن نے ان کو اس تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانا چاہا لیکن انہوں نے اس روشنی کی قدر کرنے کے بجائے اس کو بجھانے کی کوشش کی۔
Ayahs 27:79–81

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

پس اللہ پر بھروسہ رکھو بیشک واضح حق پر تمہی ہو

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

تم مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی پگار سنا سکتے جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے پھیر کر راہ پر لاننے والے بن سکتے تم تو بس انہی کو سنا سکتے ہو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں۔ پس وہی فرمانبردار بنیں گے

(آیت 81-79) آنحضرت کے لئے تسلی یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی چالوں اور مخالفتوں سے بالکل بےپروا ہو کر اپنے رب کی نصرت پر بھروسہ رکھو، واضح حق پر تمہی ہو۔ اس حق کا بول بالا ہو کر رہے گا اور تمہارے یہ مخالفین، خواہ قریش ہوں یا یہود، اپنے باطل کے ذریعہ سے تمہارا مقابلہ کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی ساری چالیں بیکار کر دے گا۔ اللہ کا کلمہ بلند ہو کر رہے گا۔ انک لاتسمع الموتی الآیۃ یعنی اگر یہ لوگ تمہاری بات نہیں سنتے تو تم ان کے حال پر غم نہ کرو، تمہارا کام مردوں کو سنانا نہیں ہے اور نہ بہروں کو سنانا ہے بالخصوص جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں۔ اذا ولوا مدبرین کی قید سے یہاں یہ بات نکلی کہ بہرے بھی اگر کان لگائیں اور دھیان کریں تو کچھ سن سکتے ہیں لیکن یہ تو وہ بہیر ہیں جو بہرے بھی ہیں اور پیٹھ پھیر کر بھگاے بھی جا رہے ہیں تو ایسے بدقسمتوں کو کوئی بات کس طرح سنائی جاسکتی ہے ! وما انت بھدی العمی عن ضللتھم یہاں عن اس بات کا قرینہ ہے کہ لفظ مادی کسی ایسے مفہمو پر متضمن مانا جائے جو عن کے ساتھمناسبت رکھتا ہو۔ یہ حرف چونکہ کسی شے سیہٹانے اور پھیرن یکے مفہوم پر بھی دلیل ہوتا ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ یہ ہو گا کہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہٹا کر ہدایت دینے والے نہیں بن سکتے۔ ان تسمع الا من یومن باتینا فیھم ملمون یعنی تمہاری اس دعوت کا فیض پہنچ سکتا ہے تو انہیں لوگوں کو پہنچ سکتا ہے جو ہماری آیات پر ایمان لانا چاہیں۔ یومن باتینا میں فعل ہمارے نزدیک ارادہ فعل کے معنی میں ہے جس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر سننے اور سمجھنے کا کوئی ارادہ ہی نہیں پایا جاتا وہ اس نعمت کی کیا قدر کریں گے ! فھم مسلمون یعنی جن کے اندر سننے سمجھنے کا ارادہ پایا جاتا ہے وہ بیشک ایمان لائیں گے اور اپنے رب کے فرمانبردار بنیں گے۔ ہدایت کے باب میں سنت الٰہی یہ حققتا یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر طلب ہدایت کا داعیہ ودیعت فرمایا ہے اور سنت الٰہی یہ ہے کہ جو لوگ اس داعیہ کی قدر کرتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ ہدایت کی مزید راہیں کھولتا ہے اور اگر کوئی اس داعیہ کی قدر نہیں کرتا تو صرف یہی نہیں ہوتا کہ اس کے لئے مزید ہدایت کے دروازے نہیں کھلتے بلکہ اس کا یہ فطری داعیہ بھی مردہ ہوجاتا ہے۔ اسی حقیقت کو سیدنا مسیح نے یوں واضح فرمایا ہے کہ اس سے وہ بھی لے لیا جاتا ہے جو اس کو دیا گیا۔“
Ayah 27:82

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ان پر بات پوری ہوجائے گی تو ہم ان کے لئے زمین سے کوئی جانور نکال کھڑا کریں گے جو ان کو بتائے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے

آیات 82 انسانی مذہب کا جواب ”وقع القول علیھم سے یہ مراد ہے کہ جب ان کے باب میں اللہ کا فیصلہ صادر ہوجائے گا اور سنت الٰہی کے مطابق جس چیز کے وہ مستحق ہیں اس کے ظہور کا وقت آجائے گا۔ علیھم میں ضمیر کا مرجع قریش ہیں جن سے اس سورة میں خطاب ہے اور جو مطالبہ کر رہے تھے کہ قرآن ان کو جس عذاب یا قیامت کی خبر دے رہا ہے جب تک وہ ان کو یا ان کی کوئی نشانی دیکھ نہ لیں گے اس وقت تک وہ ماننے والی نہیں ہیں۔ ان کے اس مطالبے کا ذکر آیات 73-71 میں گزر چکا ہے۔ (آیت الروم :35) ام انزلنا علیھم سلط وس یتکلم بما کانوا بہ یشرکون کیا ہم جانتے ہیں ان پر کوئی دلیل جو شہادت دے رہی ہو ان چیزوں کے حق میں جن کو یہ خدا کی شریک ٹھہراتے ہیں ؟ یہاں ظاہر ہے کہ لفظ تکلم اس عام معنی میں نہیں ہے جس معنی میں ہم بولتے ہیں بلکہ اس کا مفہم کسی چیز کے حق میں دلیل، نشانی یا شہادت ہونا ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ متمردین تمہاری بات اس وقت تک ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جب تک تم ان کو کوئی نشانی عذاب نہ دکھا دو تو اس طرح کی کوئی نشانی دکھا دنیا خدا کے لئے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ وہ ان کو توبہ اصلاح کے لئے مہلت دے رہا ہے اس وجہ سے اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعہ سے ان کو تعلیم و تذکیر اور انذار تبشیر کر رہا ہے لیکن جب اتمام حجت کا یہ وقت گزر جائے گا اور سنت الٰہی کے بموجب ان کے لئے عذاب ہی کا فصلہ ہوجائے گا تو کوئی نشانی ظاہر کردینے کے لئے خدا کو کوئی اہتمام خاص نہیں کرنا ہے۔ وہ زمین ہی سے کوئی جانور اٹھا کھڑا کرے گا جو اس بات کی شہادت دے دے گا کہ یہ ناہنجارو و پکار لوگ اللہ کی آیات پر یقین کرنے والے نہیں ہیں اس وجہ سے قہر الٰہی کے مستحق ہیں۔ اس اسلوب بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ابھی تو اللہ تعالیٰ آسمان سے اپنی مایت نازل فرما رہا ہے اور اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعہ سے ان پر حجت تمام کر رہا ہے لیکن ان کی شامت اعمال سے اگر ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہو ہی گیا تو خدا زمین سے کسی جانور کے ذریعہ سے بھی ان پر شہادت دلوا دے گا۔ رسولوں کی تاریخ میں اس طرح کی نشانی کی ایک مثال ناقہ ثمود ہے۔ حضرت صالح کی قوم نے جب ان کی بات کسی طرح نہیں مانی اور برابر اس بات پر مصر ہی رہی کہ اس کو کوئی عذاب کی نشانی دی جائے تو حضرت صالح نے ایک اونٹنی نامزد کردی کہ یہ عذاب کی نشانی ہے۔ اگر تم نے اس کو کوئی گزند پہنچایا تو تم پر قہر الٰہی ٹوٹ پڑے گا چناچہ جو نہی انہوں نے اس کو گزند پہنچایا اللہ کا عذاب ان پر آدھمکا۔ اس آیت کی یہ تاویل میرے فہم کے حد تک، قرآن کے الفاظ، نظام اور اس کے نظائر کی روشنی میں بالکل واضح ہے لیکن ہمارے مفسرین اس کے تحت ایک عجیب و غریب دآبۃ کا ذکر کرتے ہیں جو قیامت کے قریبظاہر ہوگا میرے نزدیک اس کا تعلق اس آیت سے نہیں بلکہ آثار قیامت کی روایات سے ہے ان روایات کو نقد حدیث کی کسوٹی پر پر رکھ دیکھیے۔ اگر وہ اس کسوٹی پر پوری اتریں تو ان کو قبول کیجیے ورنہ رو کردیجیے۔ یہاں یہ امر بھی یاد رکھیے کہ قریش کو یہ دھمکی جو دی گئی تھی وہ اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ جب ان کے بارے میں خدا کا فلہوٹ ہوجائے گا۔“ اگر قریش اپنی ضد پر اڑے رہ جاتے تو ان کو لازماً اسی عذاب سے سابقہ پیش آتا جس کی اس آیت میں و عہد ہے لیکن معلوم ہے کہ قریش کی اکثریت آہستہ آہستہ مشرف بہ اسلام ہوگئی اس وجہ سے ان پر اس طرح کا کوئی فیصلہ کن عذاب نہیں آیا جس قسم کا عذاب عاد وثمود اور دوسری قوموں پر آیا بلکہ ان کے اشرار اہل حق کے ساتھ تصادم میں ختم ہو گئے
Ayah 27:83

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور اس دن کا خیال کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی ایک فوج کا اکٹھا کریں گے

عندمین کی حالت حشر کا دن یہ روز حشر کی یاد دہانی فرماتی کہ اس دن کو یاد رکھو جس دن اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے اپنی آیات کی تکذیب کرنے والوں کی ایک پوری فوج جمع کرے گا اور ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔ لفظ فرزقون، آیت 17 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی تحقیق کرچکے ہیں۔ یہ درجہ بندی ان کے جرائم کی نوعیت اور ان کی مقدار کے اتعبار سے ہوگی اور پھر جو پارٹی جس درجے کی سزا کی مستحق ہوگی اسی لحاظ سے دوزخ کے الگ الگ داڑوں میں بھیج دی جائے گی۔ لھا سبعۃ ابواب، لکل باب منھم جزو منتسوم (العجر 44) (اور دوزخ کے ساتھ دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے لئے ان میں سے ایک معین حصہ ہوگا) لفظ فرج سے ان کمذبین کی کثرت کی طرف اشارہ ہے اور مقصود اس اشارے سے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ان کی کثرت کے باوجود نہ ان کے جمع کرنے میں خدا کو کوئی زحمت پیش آئے گی اور نہ ان کے لئے اس کی دوزخ میں جگہ کی قلت کا کوئی سوال ہوگا۔ وہ ان تمام افواج کو اپنے اندر ہضم کرلے گی اور اس کے بعد بھی ھل منمزید پکارے گی۔
Ayah 27:84

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے تھے پس ان کی گروہ بندی کی جائے گی۔ یہاں تک کہ جب وہ اکٹھے ہوجائیں گے تو پوچھے گا کہ کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمہارا علم ان کا احاطہ نہ کرسکا تھا یا کیا کرتے رے تھے !

مکذبین سے ایک سوال جب یہ سارے مجرمین اکٹھے ہولیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے سوال فرمائے گا کہ بتائو کیا تم نے میری آیات کی تکذیب کی درآنحالیکہ تمہارے علم نے ان کا پورا پورا احاطہ نہیں کیا تھا یا تم کیا بناتے رہے تھے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے اس روز حشر و نشر اور جزاء و سزا کو اس بنیاد پر جھٹلایا ہوتا کہ تمہارے پاس تمام اسرار کائنات کا علم ہے تب تو تمہارا ایک مئوقف ہوسکتا تھا لیکن اس طرح کا محیط کل علم نہ رکھنے کے باوجود اگر تم نے میری تنبیہات کی تکذیب کی تو اب بتائو تمہارے پاس کیا عذر ہے ؟ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کسی بات کو تسلی کرنے کے لئے یہ چیز کافی ہے کہ اس کے دلائل و آثار عقل و فطرت اور آفاق وانفس میں موجود ہیں۔ محض اس بنیاد پر اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے تمام اطراف و جوانب کا ہمارا علم احاطہ نہ کرسکا۔ اگر کوئی شخص اس بنیاد پر اس کی تکذیب کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام اسرار کائنات کے حا اطہ کا مدعی ہے اور یہ چیز نہ کسی کو حاصل ہے اور نہ فاطر کائنات کے سوا کسی کو حاصل ہو سکتی ہے۔ ایسے شخص کی مثال اس احمق کی ہے جو ہمالہ کا انکار اس بنا پر کر دے کہ اس نے اس کی تمام چوٹیوں اور اس کی تمام وادیوں کا مشاہدہ نہیں کیا۔
Ayah 27:85

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان پر بات پوری ہوجائے گی بوجہ اس کے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے پس وہ کچھ نہ بول سکیں گے

ووقع القول علیھم بما ظلموا فھولا ینطقون (85) مکذبین کی بےبسی یعنی اللہ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں وہ کوئی عذر نہ پیش کرسکیں گے۔ ان کی زبانیں بالکل گنگ ہوجائیں گی اور ان کے اعمال کی پاداش میں ان پر خدا کا فیصلہ عذاب نافذ ہوجائے گا۔ یہاں بھی وہی وقع القول آیا ہے جس پر پیچھے بحث گزر چکی ہے لیکن یہاں روز حشر کا ماجرا بیان ہو رہا ہے اس وجہ سے اس سے اللہ تعالیٰ کا وہ فصلہ مراد ہے جو ان تمام مجرمین کو جہنم میں جھونک دینے کے لئے ہوگا۔ (آیت 65) (آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے اعمال سے متعلق ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے۔ اس آیت میں نکلمنا بھی قابل توجہ جس پر پیچھے بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 27:86

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو تاریک بنایا تاکہ وہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن بنایا تاکہ اس میں کام کریں۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لانا چاہیں

اس آیت میں، عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق، ماقبل الفاظ محذوف ہیں۔ پہلے ٹکڑے میں مظلماً ، ذف ہے اور دوسرے ٹکڑے میں تعملوا یا اس کے ہم معنی کوئی فعل و اسایجاز کی بلاغت کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ فعل یومنون یہاں ارادہ فعل کے مفہوم میں ہے۔ عذاب کی نشانی مانگنے والوں کو ملامت یہ نشانی عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کو ملامت ہے کہ آخر یہ محروم القسمت لوگ عذاب ہی دیکھنے کے لئیکیوں اڑے ہوئے ہیں، اس کائنات کی نشانیوں پر کیوں نہیں غور کرتے ! کیا ان کو ہماری ہر روز ظاہر ہونے والی یہ عظیم قدرت و حکمت نظر نہیں آتی کہ ہم نے رات کو تاریک و پرسکون بنایا تاکہ وہ اس میں سکون و راحت حاصل کریں اور دن کو روشن بنایا تاکہ وہ اس میں کام کریں۔ ان فی ذلک لایت تقوم یومنون اس میں ایک ہی نہیں بلکہ بہت سی نشانیاں موجود ہیں لیکن یہ نشانیاں ان لوگوں کو نظر آسکتی ہیں جن کے اندر ایمان لانے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ شب وروز کے یکے بعد دیگرے آمد و شد، تضاد کے باوصف ان کے توافق اور خلق کے لئے ان کی فیض رسانی ہے۔ اس کائنات کے خالق کی قدرت، حکمت، ربوبیت، توحید اور حشر و نشر پر قرآن نے جو دلیلیں قائم کی ہیں اس کائنات کے خالق کی قدرت، حکمت، ربوبیت، توحید اور حشر و نشر پر قرآن نے جو دلیلیں قائم کی ہیں ان کی وضاحت جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ یہاں لفظ ایت سے اجمالی اشارہ ان سب کی طرف ہے لیکن موقع ومحل کے تقاضے سے خاص طور پر قیامت اور حشر ونشر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس کا مشاہدہ تو اس دنیا میں ہر روز کر رہے ہو۔ جس طرح تم رات میں ہر روز سوتے ہو اور پھر صبح کو اٹھ بیٹھتے ہو اسی طرح مرنے کے بعد ایک وقت آئے گا کہ اٹھ بیٹھو گے۔ خدا ہر چوبیس گھنٹوں میں یہ مشاہدہ اسی لئے کرا رہا ہے کہ اصل حقیقت کی یاد دہانی تمہیں ہر روز ہوتی رہے لیکن جو لوگ کسی بات کو ماننا ہی نہ چاہیں ان کی ہٹدھرمی کا کیا علاج ! سورة فرقان کی آیت 47 میں اس حقیقت کی طرف یوں توجہ دلائی ہے۔ آیت الفرقان 47 اور وہی جس نے تمہارے لئے شب کو پردہ پوش، نیند کو دافع کفت اور دن کو وقت نشور بنایا۔ اور اسی کی تذکیر و دعا کرتی ہے جو سو کر اٹھنے کے وقت کے لئے نبی ﷺ نے تلقین فرمائی ہے۔
Ayah 27:87

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور اس دن کا خیال کرو جس دن صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ سب گھبرا اٹھیں گے۔ صرف وہی اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ چاہے گا اور سب اس کے آگے سرفگندہ ہو کر حاضر ہوں گے

یہ قیامت کے ہول کی یاد دہانی فرمائی ہے کہ اس کو کوئی آسان چیز نہ سمجھو۔ جب صور پھونکا جائے گا تو اس کی سوا ہم سب گھبرا اٹھیں گے۔ الا من شآء اللہ صرف وہی لوگ اس دن کی ہلچل سے مامون رہیں گے جن کو اللہ اس سے بازہ ہے اس اجمال کی وضاحت آگے آیت 89 میں بدیں الاظ ہوئی ہے۔ من جآء بالحسنۃ فلحہ خیر منھا وھم من فزع یومئذ امنون (جونی کی کا توشے لے کر آئیں گے ان کے لئے اس سے بہتر صلہ ہوگا اور وہ اس دن ہر گھبراہٹ سے بالکل مامون ہوں گے۔ وکل اتوہ ذخرین یعنی بڑے چھوٹے اور لیڈر پیرو سب اس دن خدا کے حضور میں نہایت ذلت کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ داخرین کے معنی صاعرین کے ہیں۔ اس ذلت سے صرفوہی لوگ محفوظ رہیں گے جن کی طرف اوپر اشارہ ہوچکا ہے۔
Ayah 27:88

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور تم پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرو گے کہ وہ ٹکے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑا رہے ہوں گے۔ یہ اس خدا کی کاریگری ہوگی جس نے ہر چیز کو محکم کیا۔ بیشک وہ ہر اس چیز سے باخبر ہے جو تم کرے رہو

یہ اس دن کے ہول کی مزید تفصیل ہے کہ دوسری چیزوں کا تو کیا ذکر اس دن پہاڑوں کا بھی یہ حال ہوگا کہ بظاہر وہ ٹکے ہوئے نظر آئیں گے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑتے ہوئے ہوں گے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ شعراء عرب میں جو حکیم تھے ان تک کا حال یہ تھا کہ وہ دوسری تمام چیزوں کو تو فانی مانتے تھے لیکن پہاڑوں کو غیر قانونی سمجھتے تھے۔ صنع اللہ الذی اتفن کل شی یہ اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح وعد اللہ یسبغۃ اللہ وغیرہ ترکیبیں قرآن میں ہیں۔ یہ اسلوب اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب کسی شے کی طرف خاص طور سے توجہ دلانا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اس خدا کی کاریگری ہوگی جس نے ہر چیز کو محکم کا ہے۔ جب اسی نیہر چیز کو محکم کیا ہے تو وہ یہ بھی کر دکھائے گا کہ پہاڑ جمے ہوئے بھی نظر آئیں گے اور وہ ہوا میں اڑتے ہوئے بھی ہوں گے۔ انہ خبیر بما نفعلون یہ اس اصل چیز کا بیا نا ہے جس سے آگاہ کرنے کے لئے قیامت کے اس ہول کی تفصیل سنائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن اس کائنات میں ہلچل کا حال یہ ہوگا اور اللہ تمہاری اس ساری کرتوت سے اچھی طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو ! اور جب واقف ہے تو لازماً وہ اس کی جزا و سزا بھی دے گا۔
Ayahs 27:89–90

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو نیکی کے ساتھ حاضر ہوں گے تو ان کے لئے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن ہر گھبراہٹ سے مامون رہیں گے

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو برائی کے ساتھ آئیں گے تو وہ اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے کہ تم کو بدلے میں وہی مل رہا ہے جو تم کرتے رہو

آیت 89-90 یہ اوپر والے ٹکڑے انہ خبیر بما تعملون کا لازمی نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ جو نیکی کما کر اس دن حاضر ہوں گے ان کے لئے تو بہترین صلہ ہوگا اور وہ اس دن کی گھبراٹہ سے بالکل مامون اور نچنت ہوں گے لیکن جو لوگ بدی کی کمائی کر کے آئیں گے تو وہ اوندیھ منہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے کہ یہ تمہارے اعمال ہی کا بدلہ ہے جو تمہیں مل رہا ہے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی جا رہی ہے۔
Ayahs 27:91–92

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

مجھے تو بس یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس کو محترم ٹھہرایا اور جس کے اختیار ہی میں سب کچھ ہے اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں فرماں برداری کرنے والوں ہوں

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور قرآن کو سناؤں تو جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرے گا اور جو گمراہی اختیار کرے گا تو تم کہہ دو کہ میں تو بس ایک آگاہ کردینے والا ہوں

آیت 92-91 آنحضرت ﷺ کے مشن کی وضاحت یہ آخر میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی زبان سے آپ ﷺ کے مشن اور مقصد دعوت کی بالکل فیصلہ کن انداز میں وضاحت کرا دی تاکہ قریش اگر سنبھلنا چاہیں تو سنبھل جانیں ورنہ نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوجائیں ہمارے نزدیک یہاں انما امرت سے پہلے لفظ قل برنبانے قرینہ محذوف ہے۔ بعد میں اس کی وضاحت ہوگئی ہے چناچہ فرمایا ہے۔ فقل انما انا الٓیۃ اور قل الحمد للہ فرمایا کہ ان لوگوں کو صاف صاف سنا دو کہ مجھے تو یہ ہدایت ہوئی ہے کہ میں اس سرزمین کے اس رب کی بندگی کروں جس نے اس کو محترم ٹھہرایا اور جس کے اختیار ہی میں سب کچھ ہے اور یہ کہ میں اسی کی اطاعت کرنے والوں میں سے بنوں۔ یہ اجمالی اشارہ ہے سر زمین مکہ اور بیت اللہ کی تاریخ کی طرف کہ جس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سر زمین کو منتخب فرمایا اور اس کو محترم ٹھہرایا میں اسی مقصد نے احیاء و تجدید کے لئے مبعوث ہوا ہوں اس وجہ سے تم لوگ میری مخالفت میں خواہ کتنا ہی زور لگائو لیکن اس سے کوئی مجھے پھیر نہیں سکتا۔ یہ سر زمین ملت ابراہیم کا مرکز ہے اس وجہ سے میری دعوت توحید ہی وہ اصل کام ہے جو یہاں ہونا چاہئے اور میں وہیکام کر رہا ہوں۔ ولہ کل شیء یعنی یہاں اس گھر کے رب کے سوا دوسروں کی جو پرستش ہو رہی ہے۔ یہ بالکل ناروا ہے۔ میں ان کی پرستش سے بری ہوں۔ وامت ان اکون من المسلمین یعنی جس طرح مجھے اس گھر کے رب ہی کی عبادت کا حکم ہوا ہے اسی طرح اس بات کی بھی ہدیات ہوئی ہے کہ میں صرف اسی کی اطاعت کرنے والوں میں سے بنوں، اس کے سوا کسی اور کی اطاعت نہ کروں۔ و ان اتلوا القرآن الایۃ یعنی تم لوگ مجھے زچ کرنے کے لئے جو نت نئے مطالبات کر رہے ہو مجھے ان سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ مجھے صرف یہ ہدایت ہوئی ہے کہ میں یہ قرآن تم کو سنائوں تو جو اس کو سنے گا اور اس سے ہدایت حاصل کرے گا اس کا فائدہ اسی کو حاصل ہوگا اور جو اس کے بعد بھی اپنی گمراہی پر جما رہ جانے ناتواں سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ میں تو بس ایک منذر ہوں۔ آگاہ کردینے کے بعد میری ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ یہاں سیدنا ابراہیم کی اس دعا پر بھی نگاہ رہے جو انہوں نے ذریت اسماعیل کے اندر ایک روسل کی بعثت سے متعلق فرمائی تھی۔ اس میں بھی مبعوث ہونے والے رسول کا خاص کام یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتب والحکمۃ بتایا گیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جس کام کے لئے اس مرکز توحید کے بانی نے دعا فرمای تھی میں اس کارخاص پر مامو رہوا ہوں اور وہی کام کر رہا ہوں۔ اب جو اپنی بھلائی چاہتا ہے وہ اس برکت میں شریک ہو ورنہ اپنے انجام کا انتظار کرے۔
Ayah 27:93

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ سزا اور شکر اللہ ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان جائو گے اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو اس سے تمہارا رب غافل نہیں ہے

یعنی ان سے کہہ دو کہ اللہ ہی شکر کا سزا وار ہے جس نے مجھ پر قرآن کی یہ نعمت اتاری اور میں وہ تم کو سنارہا ہوں۔ اگر تم اس کی قدر نہیں کر رہے ہو اور مجھ سے نشانیوں کا مطالبہ کر رہے ہو تو وہ وقت بہت جلد آ رہا ہے جب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اس وقت تمہیں پتہ چلے گا کہ میں نے تمہیں کتنی سچی باتیں بتانی تھیں لیکن تم نے اپنی بدبختی سے ان کی قدر نہیں کی۔ فتعرفونھا یعنی اس وقت تم جانو گے کہ کسی نے اس انجام سے تمہیں آگاہ کیا تھا لیکن تم نے اس کو جھٹلایا اور اپنی یہ شامت بلائی۔ مگر اس جاننے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وماربک بغافلعما تعملون یعنی اس غلط فہمی میں نر ہو کہ تم جو شرارتیں کر رہے ہو خدا اس سے بیخبر ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے اور تمہاری خبر لے گا لیکن اس کے ہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے انجام کو پہنچی۔ فالحمد للہ علی ذلک