27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 27:36

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

تو جب سفیر سلیمان کے پاس پہنچا، اس نے کہا کیا تم لوگ میری مدد مال سے کرنا چاہتے ہو ! مجھے خدا نے جو دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو اس نے تم کو دیا ہے۔ یہ تمہی لوگ ہو کہ اپنے ہدیوں پر خوش ہوتے ہو !

فلما جآء سلیمن قال المدونن بمال فمآ اتین اللہ خیر مما اتکم بل انتم بھدیتکم تفرحون (36) حضرت سلیمان جواب مکہ ب کے وفد کو ملکہ نے اپنی تجویز کے مطابق تحائف و ہدایا کے ساتھ ایک وفد حضرت سلیمان کی خدمت میں بھیجا۔ جآء واحد کا صیغہ وفد کے لحاظ سے آیا ہے۔ یعنی فلما جآء من ارسل الیہ ملکہ کے اوپر کے الفاظ سے بھی معلوم ہوتا ہے اور حضرت سلیمان کے آگے کے الفاظ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ایک پورا وفد حضرت سلیمان کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ لیکن حضرت سلیمان نے ان کے تحاف و ہدایات قبول نہیں فرمائے۔ بلکہ صاف لفظوں میں ان کو جواب دے دیا کہ آپ لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہیں، میں مال کا محتاج نہیں ہوں۔ مجھے میرے رب نے جو کچھ دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے جو آپ لوگوں کے پاس ہے۔ فما اتین نے اللہ کے اجمال میں مال و جاہ اور حکمت و حکومت کی وہ ساری نعمتیں شامل ہیں جو حضرت سلیمان کو حاصل تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس قسم کے ہدیوں اور تحفوں سے آپ ہی لوگ خوش ہوتے ہیں۔ میں اس کا متمنی نہیں ہوں۔ حضرت سلیمان کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ میرا مطالبہ آپ کی مکہ اور آپ کی حکومت سے اطاعت کا ہے۔ میں صرف دوستی کا خواہشمند نہیں ہوں کہ ان تحفوں سے خوش ہو جائوں کہ ہمارے درمیان دوستی کی رسم و راہ قائم ہوگئی۔ مال و متاع میرے پاس بہت ہے اور وہ بہر شکل آپ لوگوں کے مال سے بہتر ہے۔ آپ لوگ تو اس طرح کی چیزوں سے خوش ہوتے ہیں اس لئے کہ آپ لوگوں کی نظر میں ساری قدر انہی چیزوں کی ہے لنک میرے پیش نظر اعلائے کلمتہ اللہ ہے۔ میرے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ میں تحفوں سے خوش ہو کر شرک و کفر کے اقتدار کو خدا کی زمین پر جائز تسلیم کرلوں۔
Ayah 27:37

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

ان کے پاس واپس جائو، ہم ان پر ایسی فوجوں سے چڑھائی کریں گے کہ وہ ان کے مقابلے کی تاب نہ لا سکیں گے اور ہم ان کو وہاں سے ذلیل کر کے نکال دیں گے اور وہ خوار ہوں گے

ارجع الیھم فلنا تینھم بجنود لاقبل لھم بھا ولنخر جنھم منھا اذلۃ وھم صغرون (37) حضرت سلیمان نے رئیس وفد کو یہ جواب دیا کہ تم اپنی ملکہ اور ان کے اعیان کے پاس جائو۔ ہم ان پر ایسی افواج قاہرہ سے حملہ کریں گے جن کے مقابلہ کی تاب وہ نہ لا سکیں گے اور ان کو اسم کل سے اس طرح ذلیل کر کے نکالیں گے کہ وہ خود اپنی نظروں میں خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ قبل کے معنی قوت، طاقت اور مقدرت کے ہیں۔ حضرت سلیمان کو اپنے قاصد کے ذریعہ سے یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ ملکہ سبا کے درباریوں کو اپنے اسباب دو سائل اور پانی شجاعت و بسالت پر بڑا ناز ہے اس وجہ سے انہوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ میری فوج کے مقابلہ میں ان کا یہ سارا غزہ ختم ہوجائے گا۔ اذلۃ کے ساتھ وھم صغرون کے اضافہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ میری فوجیں اس طرح ان کو ذلیل کر کے ملک سے نکالیں گی کہ وہ خود اپنی نظروں میں بھی خوار ہو کے رہ جائیں گے۔ بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ ایک قوم جنگ میں تو شکست کھا جاتی ہے لیکن اس کا حوصلہ باقی رہتا ہے حضرت سلیمان کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ میری فوجیں اس طرح ان کے کس بل نکال دیں گی کہ پھر یہ جنگ کا کبھی نام بھی لینے کی جرأت نہیں کریں گے۔
Ayah 27:38

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

سلیمان نے کہا، اے درباریو ! تم میں سے کون اس کا تخت ان لوگوں کے میرے حضور میں فرمانبردارانہ حاضر ہونے سے پہلے پہلے لائے گا

قال یایھا الملوا ایکم یاتینی بعرشھا قبل ان یاتونی مسلمین (38) حضرت مبیناً کی ایک تدبیر سفیروں کو واپس کردینے کے بعد حضرت سلیمان نے یہ اندازہ اچھی طرح فرما لیا کہ یہ لوگ جنگ کا خطرہ مول لینے کی جرأت نہیں کریں گے بلکہ بہت جلد ان کے مطالبہ کے آگے سر تسلیم خم کردیں گے۔ اس سے پہلے پہلے انہوں نے یہ چاہا کہ بلکہ اور ان کے درباریوں کے سامنے ان کی طرف سے کوئی ایسی بات ظاہر ہوجائے جو ان کو بالکل ہی مرعوب کر دے۔ چناچہ انہوں نے یہ ارادہ فرمایا کہ ملکہ کے اس تخت کو جس کی شان و عظمت کی ان کے قاصد نے خبر دی تھی، اپنے دربار میں منگوا لیں۔ اس کے لئے انہوں نے اپنے درباریوں سے فرمایا کہ تم میں سے ایسا کون ہے جو ملہ کے تخت کو، قبل اس کے کہ وہ لوگ میرے پاس فرمان بردارانہ آئیں حاضر کر دے ؟
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنوں میں سے ایک سرہنگ نے کہا، میں اس کو آپ کے پاس آپ کے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے پہلے حاضر کردوں گا۔ اور میں اس کام پر قدرت رکھنے والا اور ایک امانت دار ہوں

قال عفریت من الجن انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک دانی علیہ لقوی امین (39) عفریت کے معنی کا رواں، شاطر اور چالاک کے ہیں اور ساتھ ہی اس کے اندر تگڑے، زور آور اور لیڈر ہونے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اس وجہ میں نے اس کا ترجمہ سرہنگ کیا ہے۔ جنوں کے ایک سرہنگ کی پیشکش یہ بحث اپنے مقام میں گزر چکی ہے کہ حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم بھی عطا ہا تھا جس کے ذریعہ سے انہوں نے بہت سے جنوں کو مسخر کر کے اپنی حکومت کی مختلف قسم کی خدمات میں لگا رکھا تھا۔ حضرت سلیمان نے درباریوں کے سامنے مذکورہ بالا خواہش کا اظہار کیا تو اس کی تعمیل کے لئے سب سے پہلے ایک شاطر جن نے اپنی خدمات پیش کیں کہ اگر حضور یہ خدمت میرے سپرد فرمائیں تو میں آپ کی اس مجلس کی برخاست ہونے سے پہلے پہلے ملکہ کے تخت کو حاضر کرسکتا ہوں۔ ساتھ ہی اس نے یہ اطمینان بھی دلایا کہ میں اس تخت کو اٹھا لانے کی قوت بھی رکھتا ہوں اور دیانتدار بھی ہوں اس وجہ سے حضور اطمینان رکھیں کہ میں اس میں کوئی تصرف نہیں کروں گا۔
Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا، میں اس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کردوں گا۔ پس اس نے اس کو اپنے سامنے موجود دیکھا تو اس نے کہا یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ میرا امتحان کرے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو میرا رب بےنیاز و کریم ہے

قال الذی عندہ علم من الکتب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما راہ مستقراً عندہ قال ھذا من فضل ربی لیبلونی اشکر امرا کفر ومن شکرفا فما یشکر نصہ ومن کفرفان ربی غنی کریماً (40) ایک عالم کتاب کا کارنامہ جب ایک جن نے پیشکش کی تو دربار کے ایک عالم کتاب کی غیرت جوش میں آگئی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ کیا بات ہوئی یہ دربار کی برخاست ہونے تک تخت کے لانے کا وعدہ کرتا ہے میں آپ کی پلک جھپکتے اس کو حاضر کئے دیتا ہوں اتنے میں حضرت سلیمان نے دیکھا کہ تخت ان کے سامنے موجود ہے۔ علم کتاب سے مراد ظاہر ہے کہ خدا کی کتاب و شریعت یعنی تو رات کا علم ہے۔ اس عالم کتاب کو معلوم ہوتا ہے کہ اس علم میں بھی درخور حاصل تھا جس کا ذکر ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں ہاروت و ماروت کے ضمن میں وضاحت سے کرچکے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ خواص کلمات و اسمائے الٰہی کا علم ہے جو سحر و شعبدے وغیرہ جیسے علوم سفلیہ کے مقابلہ کے لئے دو فرشتوں کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو بایل کے اسیری کے زمانہ میں عطا ہوا تھا۔ یہ علم بجائے خود پاکیزہ ہے لیکن اس کی نوعیت ایک شمشیر دو دم کی ہے جس کو فاسد اغراض میں استعمال کر کے انسان فتنہ میں پڑ سکتا ہے۔ چناچہ بقرہ میں یہ وضاحت ہوچکی ہے کہ فرشتوں نے اس علم کو فتنہ سے تعبیر بھی فرمایا تھا۔ حضرت سلیمان کے زمانے تک تو ان کے شدید احتساب کے سبب سے اس علم کو کوئی غلط مقاصد میں استعمال کرنے کی جرأت نہ کرسکا لیکن بقرہ میں اس بات کی تصریح ہے کہ حضرت سلیمان کے بعد یہود اسی علم کے ہو کے رہ گئے تو رات سے ان کو کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی بلکہ مزید ستم یہ کہا کہ اس کو انہوں نے عملیات مغلیہ ضمیمہ بنا لیا اور اپنے عوام کو یہ باور کرایا کہ حضرت سلیمان کی تمام عظمت و شوکت انہی چیزوں کے بل پر قائم تھی۔ یہ علم، تورات یا آسمانی صحیفوں کا کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ یہ ان سے الگ ہے۔ یہ ایک خاص دور میں، ایک خاص ضرورت و مصلحت کے تحت بنی اسرائیل کو عطا ہوا تھا جس کی وضاحت بقرہ کی تفسیر میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں الذی عندہ علم من الکتب سے مقصود صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ کتاب و شریعت کے علم کے ساتھ بھی ایسا علم حاصل کیا جاسکتا ہے جس کی تاثیر و تسخیر کا مقابلہ شیاطین جن وانس اپنی عملیات سفلیہ کے زور سے نہیں کرسکتے۔ حضرت سلیمان کی شکرگزاری فلما راہ مستقراعندہ الآیۃ وہ اصل مدعا ہے جس کے لئے یہ واقعہ سنایا گیا ہے کہ جب حضرت سلیمان ؑ نے دیکھا کہ فی الواقع ملکہ سبا کا تخت ان کے سامنے موجود ہے اور اس کے لئے نہ انہیں خود کچھ کرنا پڑا اور نہ کسی جن و شیطان سے ان کو مدد لینی پڑی بلکہ ان کے دربار کے ایک عالم کتاب نے اللہ کے نام و کلمات کے ذریعے سے یہ کارنامہ کر دکھایا تو بجائے اس کے کہ وہ اس پر مغرور ہوں اور اترائیں وہ فوراً پکار اٹھے کہ یہ سب میرے رب کا فضل ہے اور وہ یہ فضل کر کے میرا امتحان کر رہا ہے کہ میں اس کا شکر گزارو فرماں بردار بندہ بنتا ہوں یا ناشکر ! ! جو شخص نعمت پا کر خدا کر شکر گزار رہتا ہے وہ خدا کوئی نفع نہیں پہنچاتا بلکہ اپنے ہی کو نفع پہنچاتا ہے۔ میرا رب تو بالکل بےنیاز ہے لیکن اس بےنیازی کے ساتھ ساتھ وہ کریم بھی ہے اس وجہ سے وہ ان لوگوں کو بھی اپنی نعمتوں سے محروم نہیں کرتا جو اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اس کے خلاف بغاوت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

اس نے حکم دیا کہ اس کے تخت کی شکل بدل دو ، دیکھیں وہ پہچانتی ہے یا نہ پہچاننے والوں میں سے ہو کے رہ جاتی ہے

قال نکرہ لھا عرشھا نظرا تھتدی ام تکون من الذین لایھتدون (41) حضرت سلیمان کا ایک تفنن حضرت سلیمان کے پیش نظر تخت کے منگوا لینے سے مقصود مجرد اس کا منگوا لینا تو تھا نہیں بلکہ وہ اس طرح مکہ اور اس کے اعیان کے سامنے اس علم حق کی سطوت کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو بخشا تھا۔ انہوں نے چاہا کہ جب ملکہ آئیں تو وہ اس تخت کو دکھا کر ان سے پوچھیں کہ جس تخت پر آپ فروکش ہوتی ہیں وہ اسی طرح کا ہے یا اس سے کچھ مختلف ہے ! یہ ایک قسم کا تفنن تھا جس کے لئے انہوں نے اپنے آدمیوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ تخت کی ہئیت میں فی الجملہ تبدیل کردی جائے تاکہ ملکہ صاحبہ کے لئے ان کا اپنا تخت ایک پہیلی بن جائے اور ہم دیکھیں کہ پہیلی پوجھنے میں وہ کامیاب ہوتی ہیں یا ناکام رہ جاتی ہیں !
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پس جب وہ آئی تو اس سے سوال کیا گیا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا، گویا کہ وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے علم حاصل ہوچکا تھا اور ہم فرمانبرداروں میں تھے

فلما جآءت قیل اھکذا عرشک قالت کانہ ہو ج واوتینا العلم من قبلھا وکنا ملمین (42) ملکہ سبا حضرت سلیمان کے دربار میں ملکہ نے تحائف کے ساتھ جو وفد حضرت سلیمان کی خدمت میں بھیجا تھا اس کی ناکام واپسی کے بعد ملکہ نے حضرت سلیمان سے براہ راست ملاقات کا ارادہ فرمایا۔ تو رات سے معلوم ہوتا ہے اور قرآن سے بھی، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوگا، اس کی تائید ہوتی ہے کہ ملکہ حضرت سلیمان کی حکمت سے بہت متاثر تھیں۔ اس صورتحال کے پیدا ہوجانے کے بعد انہوں نے چاہا کہ وہ براہ راست حضرت سلیمان سے گفتگو کر کے ان کے علم و حکمت سے بھی مستفید ہوں اور اپنے سیاسی مسئلہ کا بھی کوئی حل تلاش کریں چناچہ وہ اپنے بہت سے وزراء و اعیان کے ساتھ حضرت سلیمان سے ملاقات کے لئے آئیں۔ یہاں ان کے سامنے وہ پہلی رکھی گئی جس کا ذکر اوپر ہوا۔ ان کا تخت دکھا کر ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کا تخت ایسا ہی ہے یا اس سے کچھ مختلف ؟ ملکہ یہ منظر دیکھ کر بالکل ہک دک رہ گئیں ! بڑی احتیاط کے ساتھ بولیں کہ یہ تو گویا وہی ہے ! اس کے ساتھ انہوں نے صاف لفظوں میں یہ اعتراف کرلیا کہ حضرت سلیمان کی عظمت و شوکت کا علم اس سے پہلے بھی ہمیں تھا اور ہم قلبی طور پر ان کے مطیع و عنقاد رہے ہیں۔ من قبلھا میں ضمیر کا مرجع یہ واقعہ یا معجزہ ہے جو ملکہ کے مشاہدہ میں آیا۔ ملکہ کے اس قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان کے کارکنوں اور ان کے علم و حکمت سے تنہا وہی متاثر نہیں تھیں بلکہ ان کے دوسرے بہت سے مقربین متاثر کیوں نہ ہوتے ؟ ممکن بلکہ اغلب ہے کہ اس موقع پر وہی مقربین ملکہ کے ساتھ رہے ہوں۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور اس کو روک رکھا تھا ان چیزوں نے جن کو اللہ کے ماسوا وہ پوجتی رہی تھی۔ وہ ایک کافر قوم میں سے تھی

وصدھا ماکانت تعبد من دون اللہ ط انھا انت من قوم کفرین (43) حملوں کی برأت یہ قرآن نے توجیہ بیان کی ہے اس بات کی کہ حضرت سلیمان کے علم و حکمت سے اس قدر متاثر اور قلبی طور پر ان کی مطیع و منقاد ہونے کے باوجود آخر ملکہ اتنے عرصے تک ایک غلط دین پر کیوں جمی رہ گئیں ؟ فرمایا کہ اس کا سبب ان کے وہ اصنام تھے جن کو وہ پوجتی رہی تھیں اور ان کی وہ کافر قوم جس کی وہ ایک فرد تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ روایات اور قومی روابط کی زنجیریں ہر شخص آسانی سے نہیں توڑ سکتا۔ کتنے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن پر حق واضح ہوتا ہے لیکن وہ اپنے ماحول کے بندھنوں میں ایسے بندھے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان سے رہائی حاصل کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ صرف صاحب توفیق ہی ہوتے ہیں جو راہ کے ان بھاری پتھروں کو ہٹانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ مشکل یوں تو ہر ایک کی راہ میں ہوتی ہے لیکن جن لوگوں کو سیادت و قیادت کا منصب حاصل ہوتا ہے ان کے لئے یہ مشکل دو چند بلکہ وہ چند ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے ماحول کے بالکل ہی غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ مدعی تو وہ ہوتے ہیں لوگوں کے لڈیر ہونے کے لیکن چلتے ہیں لوگوں کے پیچھے پیچھے
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو جائو تو جب اس نے اس کے (کے فرش) کو دیکھا اس کو گہرا پانی گمان کیا اور اپنی دونوں پنڈلایں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ تو شیشوں سے بنا ہوا محل ہے ! اس نے کہا، اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم ڈھایا، اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ رب العلمین کے حوالہ کیا

قیل لھا ادخلی الصرح فلما راتہ حسبتہ لجۃ وکشفت عن ساقیھا قال انہ صرح ممردمن قواریر قالت رب انی ظلمت نفسی و اسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین (44) حضرت سلیمان کے شینہ فل کے اندر ملکہ ہما کی حیرانی اس کے بعد حضرت سلیمان کے خدام کی طرف سے ملکہ سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ محل کے اندر تشریف لے چلیں۔ ملکہ محل کے اندر داخل ہوئیں تو ان کی نگاہیں خیرہ ہو کر رہ گئیں۔ انہوں نے فرش پر قدم رکھا تو انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ کسی گہرے پانی کے حوض میں اتر رہی ہیں اور جس طرح ایک پانی میں اترنے والا اپنے پائنچے چڑھا لیتا ہے بالکل بےساختہ، غیر ارادی طور پر، انہوں نے بھی اپنے پائنچے چڑھا لیے۔ اس وقت حضرت سلیمان ؑ نے ان کو بتایا کہ یہ پانی کا حوض نہیں بلکہ یہ محل اور اس کا یہ فرش شیشہ سے بنایا گیا ہے۔ مقصود اس بیان سے یہ دکھانا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے تعمیری کمال کا یہ حال تھا کہ ان کے شیش محل میں پہنچ کر ملکہ سبا جیسی صاحب تاج داد رنگ بھی فرش کو حوض سمجھیں اور بےساختہ ان سے ایسی حرکت صادر ہوگئی جس سے ثابت ہوگیا کہ یہ منظر ان کو زندگی میں بالکل پہلی مرتبہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ معلوم ہوتا ہے محل کا فرش شیشہ کی دبیز تختیوں سے بنایا گیا تھا اور اس کے نیچے پانی بہہ رہا تھا ان کی وجہ سے کوئی انجان جب فرش پر قدم رکھتا تو اس کو ایسا محسوس ہوتا کہ گویا وہ کسی حوض میں اتر رہا ہے۔ ایک دیہاتی جب کسی متمدن شہر کے ایوانوں اور محلوں میں داخل ہوتا ہے تو اس کو اس طرح کی حیرانی بہت پیش آتی ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کے محل کا جمال یہ تھا کہ اس کے اندر دیہاتی تو درکنار ملکہ سبا بھی ایک دیہاتی بن گئیں۔ ملکہ سبا کا اعتراف و اعلان قالت رب انی ظلمت نفسی و اسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین ایک طرف حضرت سلیمان کی حکمت و معرفت اور دوسری طرف یہ شان و شکوہ، ان دونوں چیزوں نے مل کر ملکہ کو اتنا متاثر کیا کہ وہ بےتحاشا پکار اٹھیں کہ اے رب ! میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم ڈھایا کہ اب تک شرک و بت پرستی میں گرفتار اور قومی رسوم و روایات کی پرستار بنی رہی۔ اب میں اپنے آپ کو سلیمان کے ساتھ خداوند عالم کے حوالہ کرتی ہوں۔ ملکہ نے یہ اعلان کر کے اپنے آپ کو اللہ رب العلمین کی اور اپنی حکومت کو حضرت سلیمان کی ماتحتی میں دے دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ شیش محل بھی اللہ کی ایک نشانی ہے جس کے ساتھ عبدیت وانابت اور شکر گزاری و وفاداری کا وہ جمال ہو جو حضرت سلیمان کے اندر تھا۔ اس سے خلق کو رہنمائی ملتی ہے اور وہ آنکھوں کو خیرہ کرنے کے بجائے ان کو بصیرت بخشتا ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو پھر وہ کبرو غرور کا ایک نشان اور ایک ظلمت خانہ ہے اگرچہ کوئی اس کا نام قصر ابیض (White House) ہی کیوں نہ رکھ چھوڑے۔ عبدیت کا جمال اور شکوہ خسروی حضرت سلیمان کے اس شیش محل سے متعلق یہ بات بھی یاد رکھیے کہ یہ نہ دوسروں کی مدد اور ان کے قرض سے بنا تھا اور نہ اپنے ملک کے لوگوں کو بھوکوں مار کے بنا تھا۔ بلکہ یہ اس وقت بنا جب حضرت سلیمان کی قوم کی رفابیت کا یہ حال تھا کہ تو رات میں آتا ہے کہ ملک کے اندر سونے کی اتیے کثرت تھی کہ چاندی کی وہاں کوئی قیمت ہی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ علاوہ ازیں خود قرآن سے سورة سبا کی تفسیر میں انشاء اللہ واضح ہوجائے گا کہ حضرت سلیمان نے صرف ایوان و محل ہی نہیں تعمیر کئے تھے بلکہ ان ایوانوں کے پہلو بہ پہلو عظیم لنگر خانے بھی قائم کئے تھے جہاں سے ضرورت مندوں کو پیٹ بھر کر روٹی ملتی تھی۔ بہرحال تعمیر و تمدن بجائے خود کوئی بری چیز نہیں ہے۔ جس طرح عبدیت کے جمال کے ساتھ خسروی شکوہ میں کوئی خرابی نہیں ہے اسی طرح خلق کی رفاہیت کے ساتھ تعمیرات کے شکوہ میں بھی کوئی خرابی نہیں ہے۔ خرابی درحقیقت عدم توازن میں ہے اور اس عدم توازن سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا بڑے ہی صاحب توفیق لوگوں کا کام ہے۔ بلکہ سبا کا ذکر تورات میں ملکہ سبا کی یہ سرگزشت تورات میں اس تفصیل و وضاحت سے نہیں آئی ہے لیکن اس کے بھی ضروری حصے پر نظر ڈال لیجیے تاکہ قرآن مجید اور تورات میں جو قدر مشترک ہے وہ سامنے آجائے۔ تو رات میں ملکہ کی آمد اور ان کے تاثرات کا یوں ذکر ہوں ہے۔ اور جب سبا کی ملکہ نے خداوند کے نام کی بابت سلیمان کی شہرت سنی تو وہ آئی … اور وہ بہت بڑی جلو کے ساتھ یروشلم میں آئی اور اس کے ساتھ اونٹ تھے جن پر مصالح اور بہت سا سونا اور بیش بہا جواہر لدے تھے اور جب وہ سلمیان کے پاس پہنچی تو اس نے ان سب باتوں کے بارے میں جو اس کے دل میں تھیں اس سے گفتگو کی … اور جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی ساری حکمت اور اس محل کو جو اس نے بنایا تھا اور اس کے دستر خوان کی نعمتوں اور اس کے ملازموں کی نشست اور اس کے خادموں کی حاضر باشی اور ان کی پوشاک اور اس کے ساقیوں اور اس سیڑھی کو جس سے وہ خداوند کے گھر کو جاتا تھا، دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے … اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ سچی خبر تھی جو میں نے تیرے کاموں اور تیری حکمت کی بابت اپنے ملک میں سنی تھی۔ تو بھی میں نے وہ باتیں باور نہ کیں جب تک خود آ کر اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ نہ لیا اور مجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حکمت اور اقبال مندی اس شہرت سے جو میں نے سنی بہت زیادہ ہے۔ خوش نصیب ہیں تیرے لوگ اور خوش نصیب ہیں تیرے یہ ملازم … اور سلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو سب کچھ جس کی وہ مشتاق ہوئی اور جو کچھ اس نے مانگا دیا۔ علاوہ ازیں سلیمان نے اس کو اپنی شاہانہ سخاوت سے بھی عنایت کیا۔ پھر وہ اپنے ملازموں سمیت اپنی مملکت کو لوٹ گئی۔“ (ا۔ سلاطین : باب 10-، 13-1) تورات کا یہ بیان اگرچہ ادھورا ہے لیکن قدر مشترک اس میں بھی موجود ہے۔ تورات کے اس بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کے بعد ملکہ اپنی مملکت کو واپس چلی گئیں … ہمارے نزدیک یہ بات بالکل قرین قیاس ہے اور قرآن میں کوئی چیز اس کے خلاف نہیں جاتی۔ جب ملکہ نے سیاست اور مذہب دونوں میں حضرت سلیمان کی اطاعت کرلی اور ان کے بہت سے وزراء اعیان بھی ملکہ کے ہم خیال تھے اور وہ اپنی مملکت کی بلا شرکت غیرے بادشاہ اور اپنی رعایا میں مقبول تھیں تو دین اور سیاست دونوں کے نقطہ نظر سے یہی بات صحیح تھی کہ وہ اپنے ملک میں جا کر اپنی حکومت ان اصولوں کے مطابق چلائیں جو حضرت سلیمان نے ان کو بتائے۔ بعض تفسیہ ہی روایات میں یہ جو آیا ہے کہ حضرت سلیمان نے ان سے نکاح کر کے ان کو اپنے حرم میں داخل کرلیا۔ یہ بات کچھ صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ سند کے اعتبار سے بھی یہ روایات ضعیف ہیں۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو اس پیغام کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا کہ لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تو دو فریق بن کر آپس میں جھگڑنے لگے

آگے مضمون … آیات 58-45 اوپر فرعون کے تمرد، حضرت سلیمان کی شکر گزاری اور ملکہ سبا کی سلامت روی کی سرگزشتیں سنائی گئی ہیں اور یہ دکھایا گیا ہے کہ علود استکبار کا انجام کیا ہوتا ہے اور شکر گزاری و فروتنی کا صلہ کیا ملتا ہے۔ اب خاص عرب کی اقوام بائدہ میں سے دو قوموں … قوم ثمود و قوم لوط … کے افساد اور ان کے اجام کا حالہ دیا تاکہ قریش یہ نہ سمجھیں کہ یہ دور کے ملکوں … مصر، فلسطین اور یمن … کے واقعات ہیں۔ بلکہ خود اپنے ملک کے اندر کی ان قوموں کے انجام سے سبق لیں جن کے علود استکبار کے نتائج کی داستان سنانے کے لئے ان کے عالی شان تعمیرات کے کھنڈر آج بھی ان کے سامنے موجود ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ ولقد ارسلنا الی ثمود اخاتھم صلحاً ان اعبدواللہ فاذا ھم خریقن یختصمون (45) حضرت صالح کی دعوت اور اس کا ردعمل یعنی حضرت صالح نے اپنی قوم کو اللہ واحد کی بندگی اور اسی کی اطاعت کی دعوت دی۔ یہ ایک ایسی دعوت تھی جس میں کسی اختلاف و نزاع کی کوئی گنجائش نہیں تھی، اس کا سب کو خیر مقدم کرنا تھا لیکن ہوا یہ کہ کچھ لوگ تو حضرت صالح پر ایمان لائے اور دوسرے بہت سے اشرار و مفسدین اس دعوت حق کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ایمان پر لائے اور دوسرے بہت سے اشرار ومفسدین اس دعوت حق کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس طرح قوم دو گروہوں میں بٹ گئی اور دونوں میں بحث و نزاع شروع ہوگئی۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو، تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچائے ہوئے ہو ! تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں مانگتے کہ تم پر رحم کیا جائے۔ !

قال یقوم لم تسغجلون بالستیۃ قبل الحسنۃ لولا تسغفرون اللہ لعلکم ترحمون (46) دعوت حق کے مخالفین کا عام حربہ، جیسا کہ قرآن میں جگہ جگہ واضح ہوچکا ہے، یہی رہا ہے کہ رسول نے قوم کو جس عذاب سے ڈرایا قوم نے اسی عذاب کا مطالبہ شروع کردیا کہ اس عذاب کو آنکھوں سے دکھا دو تب ہم مانیں گے کہ تم خدا کے رسول اور اپنی بات میں سچے ہو۔ یہی مطالبہ حضرت صالح کی قوم نے بھی کیا۔ حضرت صالح نے نہایت درد مندی کے ساتھ سمجھایا کہ لوگو ! میں تمہیں خدا کی رحمت کی دعوت دے رہا ہوں تو تم اس رحمت سے پہلے خدا کی نقمت کے لئے کیوں جلدی مچا رہے ہو، عذاب کے مطالبہ کے بجائے ژانپے جرائم کی معافی کیوں نہیں مانگتے کہ خدا کی رحمت کے مستحق بنو ستیۃ سے مراد، یہاں قرینہ دلیل ہے کہ عذاب اور نقمت ہے اور حسنۃ سے استغفار جس کا ثمرہ خدا کی رحمت ہے … یہ امر محلوظ ہے کہ اس مرحلے میں بعینہ یہی رویہ آنحضرت ﷺ کی قوم نے بھی اختیار کرلیا تھا۔ ان کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ اگر اس دعوت کی تکذیب کا انجام ان کی ہلاکت ہے تو اس ہلاکت کی کوئی نشانی ان کو دکھا دی جائے تب وہ مان جائیں گے کہ بیشک قرآن اللہ کی کتاب ہے اور اس کالا نے والا اللہ کا رسول ہے۔ ان لوگوں کو گویا حضرت صالح کی زبان ہے یہ جواب دیا گیا ہے کہ تم کو روٹی دی جا رہی ہے تو پتھر نہ مانگو روٹی کی جگہ پتھر مانگنے والوں کا انجام بہت عبرت انگیز ہوچکا ہے اور تمہاری بدبختی ہی ہوگی اگر اس سے سبق نہ حاصل کرو۔
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو یہ سب تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی نحوست سمجھتے ہیں۔ اس نے کہا، تمہارا نصیبہ اللہ کے پاس ہے بلکہ یہ تو تم آزمائے جا رہے ہو

قالوا ظیرنابک وبمن معک قال طئرکم عند اللہ بل انتم قوم نفتون (47) ہم اس سنت الٰہی کی وضاحت اعراف 94 کے تحت کرچکے ہیں کہ رسولوں کی بعثت کے زمانے میں ایسی آزمائشوں کا ظہور خاص طور پر ہوا ہے جس سے قوم کے اندر انابت و خشیت پیدا ہوتا کہ لوگوں کے دل رسول کی دعوت کی طرف مائل ہوں اور وہ متنبہ ہوں کہ اگر انہوں نے رسول کی بات نہ مانی تو ان پر وہ فیصلہ کن عذاب آجائے گا جس کی رسول خبر دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام دعوت حق کے لئے فضا کو ساز گار بنانے کے لئے فرمایا لیکن لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے یا تو اپنے لیڈروں کے اس مغالطے سے اپنی کو تسلی دے لی کہ اس طرح کے نرم و سخت دن تو قوموں پر آیا ہی کرتے ہیں، ان کو کسی کی تصدیق و تکذیب سے کیا تعلق ! یا ان آفتوں کو رسول اور اس کے ساتھیوں کے کھاتے میں ڈال دیا کہ یہ ان کی نحوست کے نتائج ہیں جن سے ہم دوچار ہو رہے ہیں، یہ ہمارے معبودوں اور ہمارے باپ دادا کے دین کے مخالف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اس وجہ سے ہمارے معبودوں اور بزرگوں کی مار ان پر پڑی ہے اور ان کی لائی ہوئی آفتب میں بم بھی حصہ پا رہے ہیں۔ یہ جو ہم نے عرض کیا ہے اس کے شواہد نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کتاب میں پیچھے اس پر مفصل بحثیں گزر چکی ہیں۔ یہاں آیت زیر بحث میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب ہم نے اپنی سنت کے مطابق ان کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کیا تاکہ ان کے دل رسول کی دعوت کی طرف مائل ہوں اور وہ ڈریں کہ اگر انہوں نے سول کی تکذیب کی توفی الواقع وہ عذاب الٰہی کی گرفت میں آجائیں گے تو ان تنبیہات سے متاثر ہونے کی بجائے انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ تو صالح اور ان کے ساتھیوں کو نحوست ہے کہ ہم ان آفتوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے ہٹ دھرمی لوگوں کا کیا علاج ! اگر عذاب نہیں آتا تو اس کی نشانی مانگتے ہیں اور اگر نشانی دکھائو تو اس کو پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کی نحوست پر محمول کرتے ہیں۔ قال طبرکم عند اللہ بل انتم قوم تفتنون لظ طائر اور اتصیر پر بحث اعراف 131 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں لفظ طائر اور نصیبہ اور قسمت کے مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ آزمائشیں اور آفتیں جو پیش آرہی ہیں ان کو تم ہماری نحوست کا نتیجہ قرار دے رہے ہو حالانکہ ان سب کا سر رشتہ خدا کی تدبیر و تقدیر اور اس کی مشیت و حکمت سے یہ۔ یہ ہماری نحوست کے سبب سے نہیں ظا ہور ہو رہی ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہو رہی ہے۔ ان آزمائشوں میں ڈال کر وہ تمہیں دیکھ رہا ہے کہ تم میں کچھ صلاحیت قبول حق کی ہے یا اب تم بالکل ہی مردہ اور دفن کردیئے جانے کے لائق ہوچکے ہو !
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو خاندان تھے جو زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح پر آمادہ نہیں ہوتے تھے

وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط یفسدون فی الارض ولایصلحون (48) رھط کا مفہوم رھط کے معنی قبیلہ اور خاندان کے ہیں۔ سورة ہود میں حضرت شعیب کی سرگزشت میں یہ لفظ گزر چکا ہے وانا لنرک فینا ضعیقاً ولولا رھطل لرجمنک (19) اور ہم تو تم کو اپنے اندر ایک کمزور آدمی خیال کرتے ہیں اور تمہارے خاندان کا خیال نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے) استعمالات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسی شکل میں جمع اور واحد دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اس وجہ سے جن لوگوں نے اس کا ترجمہ شخص کیا ہے ہمارے نزدیک انہوں نے غلط ترجمہ کیا ہے۔ مفسدین کی قوت و حمیت اب یہ مفسدین کی قوت و جمعتہ کو واضح فرمایا ہے کہ شہر میں نو خاندان تھے جو سب کے سب حضرت صالح کی دعوت کے مخالف تھے اور حضرت صالح ان کے اندر بتیس دانتوں کے اندر ایک زبان کی حیثیت رکھتے تھے۔ یفسدون فی الارض ولایصلحون یعنی یہ تمام خاندان برابر فساد میں سرگرم تھے اور کسی قیمت پر اصلاح قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ اصلاح کا واحد راستہ خدا کی بندگی اور اس کی اطاعت میں داخل ہونا ہے اور حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے اسی کی دعوت دی ہے۔ اس وجہ سے اس دعوت کی مخالفت افساد فی الارض ہے۔
Ayah 27:49

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر عہد کیا کہ ہم اس کو اور اس کے لوگوں کو چپکے سے ہلاک کردیں گے پھر ہم اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے آدمی کی ہلاکت پر شریک نہیں ہیں اور ہم بالکل سچے ہیں

قالوا تفاسموا باللہ لبیتنہ واھلہ ثم لنقولن بولیہ ما شھدنا مھلک اھلہ وانا الصدقون (49) حضرت صالح کے خلاف ان کی قوم کے دارانسدوہ کی سازش تقاسموا باللہ میرے نزدیک یہاں بدل کے محل میں ہے۔ یعنی مذکورہ بالا مفسدین کے تمام خاندانوں نے اللہ کی قسم کے ساتھ آپس میں یہ عہد کیا کہ ہم پوشیدہ طور پر صالح اور ان کے آل و اتباع کو ختم کردیں گے، پھر ان کے خون کا اگر کوئی مدعی ان کے وارثوں میں سے کھڑا ہوا تو ہم ان سے یہ کہہ دیں گے کہ ان کے آدمی کے قتل میں ہمارا ہاتھ نہیں ہے اور ان کو پوری طرح اطمینان دلا دیں گے کہ ہم بالکل سچے ہیں۔ پوشیدہ طور پر قتل کی یہ سکیم، عہد و پیمان کے ساتھ، اس لئے بنائی گئی کہ یہ لوگ حضرت صالح کو کھلم کھلا قتل کرنے سے ڈرتے تھے کہ اس طرح ان کے خاندان سے ایک مستقل نزاع پیدا ہوجانے کا خطرہ تھا۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ قبائلی زندگی میں کسی خاندان کے آدمی کا مارا جانا کوئی آسان معاملہ نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ اس سے قاتل اور مقتول کے خاندانوں میں قتل و قصاص کی ایک لامتناہی جنگ چھڑ جاتی تھی۔ اس خطرے سے بچنے کے لئے ان کو کھلم کھلا سنگسار کرنے کے بجائے ان کو اور ان کے اہل کو خفیہ طور پر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور ساتھ ہی یہ پوشیدہ عہد و پیمان بھی ہوا کہ اس منصوبہ میں سب شریک ہوں تاکہ افشائے راز نہ ہو اور اگر ہو بھی تو حضرت صالح کے ورثاء قاتلوں کی بھاری جمعیت سے مرعوب ہو کر کسی انتقامی کارروائی کی جرأت نہ کرسکیں یاد ہوگا اسی قسم کا منصوبہ قریش کے تمام خاندانوں نے دارالندوہ میں بیٹھ کر آنحضرت ﷺ کے خلاف بنایا تھا کہ سب مل کر آپ ﷺ کو ایک ساتھ قتل کریں تاکہ آپ ﷺ کا خاندان قصاص کے مطالبہ کی جرأت نہ کرسکے اس مرحلے میں یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کو اسی لئے سنایا گیا ہے کہ تمہارے معاندا شرار بھی اسی قسم کی سازشیں کر رہے ہیں یا کریں گے لیکن جس طرح اللہ نے حضرت صالح اور ان کے ساتھیوں کی حفاظت فرمائی اسی طرح وہ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کو بھی حفاظت فرمائے گا۔
Ayahs 27:50–51

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور انہوں نے بھی چال چلی اور ہم نے بھی تدبیر کی اور وہ باخبر بھی نہ ہوئے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھو کیسا ہوا ان کی چال کا انجام ! ہم نے ان کو اور ان کی پوری قوم کو ہلاک کردیا

ومکروا مکرواو مکرنا مکر وھم لایشعرون فانظر کیف کان عاقبہ مکرھم انا رمرنھم وقومھم اجمعین (51-50) مفسدین کی چال کے مقابل میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر ان مفسدین نے جو چال چلی اس کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا۔ اس کے مقابل میں اللہ تعالیٰ نے جو تدبیر اختیار فرمائی اس کا ذکر سورة شعراء اور بعض پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے فرمایا کہ دیکھ لو، ان کی چال کا انجام کیا ہوا انا دمرنھم قومھم اجمعین یہ اسی انجام کی وضاحت ہے کہ ہم نے ان مفسدین اور کی ساری قوم کو پامال کر کے رکھ دیا۔
Ayahs 27:52–53

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

پس یہ ہیں ان کے گھرویران پڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ! بیشک اس کے اندر بڑا سبق ہے ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور ہم نے نجات دی ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جو ڈرتے تھے

قتلک بیوتھم خاویۃ بما ظلموا ان فی ذلک لایۃ تقوم یعلمون وانجینا الذین امنوا وکالوا یتقون (53-52) تلک کا اشارہ یہاں اس بات پر دلیل ہے کہ گویا قریش کو ان کے سامنے کی ایک چیز کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی دور کی داستان نہیں ہے بلکہ ثمو د کی شاندار تعمیرات کے کھنڈر اپنی داستان عبرت سنانے کے لئے تمہارے ملک میں موجود ہیں۔ یہ امر ملحوظ ہے کہ ثمود، عاد کے بقایا میں سے تھے اس وجہ سے تعمیرات کا ذوق ان کو ورثہ میں ملا تھا اور ان کے تباہ شدہ آتا موجود تھے جن پر سے قریش کے قافلوں کو وقتاً فوقتاً گزرنے کے مواقع ملتے رہتے تھے۔ بما ظلموا یعنی بما ظلموا انفسھم یہ انجام بد اس وجہ سے ان کو دیکھنا پڑا کہ حضرت صالح کی تکذیب کر کے انہوں نے خود اس کے اسباب پیدا کیے۔ ان فی ذلک لایۃ لقوم یعلمون میں فعل ارادہ فعل کے مفہوم میں ہے یعنی جو لوگ جاننے اور سمجھنے کا ارادہ رکھتے ہوں ان کے لئے اس سرگزشت میں بڑا درس عبرت موجود ہے، لیکن جو لوگ کچھ سننا سمجھنا چاہتے ہی نہ ہوں ان کے اور کوئی موعظمت بھی کارگر نہیں ہو سکتی۔ وانجینا الذین امنواء کانوا ایتقون یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو اللہ نے نجات بخشی ان کی خاص صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ خدا اور اس کے عدل و انتقام سے ڈرنے والے تھے۔
Ayah 27:54

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو بھی رسول بنا کر بھیجا۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم کھلی آنکھوں دیکھتے ہوئے اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو !

ولوطا ذقال یقومہ اقالون الفاحشۃ وانتم تبصرون (54) حضرت لوط اور قوم لوط کا بیان یہ اوپر والے واقعہ پر معطوف ہے اس وجہ سے یہاں فعل محذوف ہے۔ یعنی ارسلنا لوطاً الفاحشہ کھلی ہونی بےحیائی و بےشرمی کو کہتے ہیں جس کے بےحیائی ہونے میں کسی اختلاف و نزاع کی گنجائش نہ ہو۔ اس کی وضاحت آ گے آرہی ہے۔ وانتم تبصرون یعنی کوئی برائی مخفی قسم کی ہو تو اس میں مبتلا ہوجانا تو چنداں تعجب کی بات نہیں ہے لیکن ایک کھلی ہوئی بےحیائی میں، آنکھیں رکھتے ہوئے مبتلا ہوجانا بدبختی اور اندھے پن کی آخری حد ہے۔ اگر ایک شخص اندھا ہو اور اس کے پائوں غلاظت پر پڑجائیں تو اس کے لئے عذر ہے لیکن تمہارے لئے کیا عذر ہے جب کہ تم دونوں آنکھیں رکھتے ہوئے غلاظت کھا رہے ہو !
Ayah 27:55

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو ! بلکہ تم بڑے ہی جاہل ہو !

اننکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون الغسآء ط بل انتم قوم تجھلون (55) استفہام یہاں اظہار تعجب و حیرت و کراہت کے لئے ہے۔ من دون النسآء کی قیدان کے اندھے پن کو واضح کر رہی ہے کہ قضائے شہوت کے لئے ایک فطری اور جائز چیز کے موجود ہوتے تمہارا یہ انحراف تمہاری فطرت کے مسخ ہونے کی دلیل ہے۔ لفظ جھل جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں، جذبات و خواہشات نفس سے اس طرح مغلوب ہوجانے کے لئے آتا ہے کہ آدمی عقل و ہوش بالکل ہی کھو بیٹھے بل انتم قوم تجھلون یعنی تمہاری عقلیں بالکل ہی مائوف و مغلوب ہوگئی ہیں۔
Ayah 27:56

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

تو اس کی قوم کا جواب صرف یہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ لوط کے ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال دو ، یہ لوگ بڑے پارسا بنتے ہیں !

فماکان جواب قومہ الا ان قالوآ اخرجوآ ال لوط من تریتکو انھم اناس یتطھرون (56) حضرت لوط کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش اس کھلی ہوئی بےحیائی کے حق میں کوئی دلیل تو وہ گھڑ نہیں سکتے تھے لیکن اس کو چھوڑنے کے لئے بھی وہ تیار نہیں تھے اس وجہ سے واحد چارہ کار ان کے پاس یہی رہ گیا کہ کسی نہ کسی طرح حضرت لوط کی سرزنش سے پیچھا چھڑائیں قوم کے سرغنوں نے اپنے آدمیوں کو ورغلایا کہ لوط اور ان کے ساتھیوں کو اس بستی سے نکال دو۔ انھم اناس یتطھرون (یہ لوگ بڑے پا رسا بنتے ہیں) اس فقرے میں جو زہر ہے وہ اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے حضرت لوط اور ان کے ساتھیوں کے خلاف اپنی قوم کے جذبات بھڑکانے کے لئے انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ دیکھو ان کے نزدیک ہماری پوری قوم کی قوم تو بدمعاشوں اور گنڈوں کی قوم بےبس یہی گنتی کے چند نفوس پاک دامن رہ گئے ہیں ! جب کوئی برائی وبائے عام کی شکل اختیار کرے تو اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو اس طرح کے زہر آلود طعنوں سے بڑی آسنی کے ساتھ نکوبنایا جاسکتا ہے۔ اگر اس میں کسی کو شک ہو تو وہ آج بیگمات کی کسی مجلس میں بےپردگی کے خلاف دو کملے کہہ کر اس کی تصدیق کرسکتا ہے۔ لفظ ال پر ہم دوسرے محل میں بحث کر کے واضح کرچکے ہیں کہ یہ اہل و عیال اور اتباع سب پر مشتمل ہے۔
Ayahs 27:57–58

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور اس کے لوگوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے، اس کو ہم نے پیچھے رہ جانے والوں میں شمار کر رکھا تھا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر برسایا ایک ہولناک برسانا، پس کیا ہی برش بارش ہوئی ان لوگوں پر جن کو آگاہ کیا جا چکا تھا !

فانجینہ واھلہ الا امراتہ قدرنھا من الغبرین (57) لفظ اھل بھی جیسا کہ ہم اس کے محل میں وضاحت کرچکے ہیں، اہل و عیال اور اتباع و صحابہ سب کے لئے آتا ہے اور یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ذمہ داری بقدر انعام ہے قدرنھا من الغبرین سے صرف یہی بات نہیں واضح ہوتی کہ حضرت لوط کی بیوی اس نجات سے محروم رہی بلکہ یہ بات بھی اس سے نکلتی ہے کہ اس پتھرائو کا نشانہ بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو خاص قوم کے ساتھ ہی رہیں تو دوسروں کے مقابل میں خدا کے غضب کی وہ زیادہ مستحق تھی۔ اللہ تعالیٰ جن کو تعلیم و ہدایت کے جتنے ہی زیادہ مواقع میسر فرماتا ہے، اگر وہ اس کی قدر نہیں کرتے تو ان کو سزا بھی اسی کے حساب سے ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ذمہ داری نقد انعام ہے۔ قوم لوط کا انجام یعنی لوط اور ان کے ساتھیوں کو تو اللہ تعالیٰ نے نجات بخشی اور بقیہ پوری قوم پر، فرمایا کہ ہم نے ایک نہایت بری بارش برسائی۔ اس بارش سے مراد اس پتھرائو کی بارش ہے جس کی تفصیل پیچھے کی سورتوں میں گزرچکی ہے نسآء مطر المنذرین میں اسی حقیت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بری بارش نتیجہ تھی اس بات کا کہ ان لوگوں پر اللہ نے اپنے ایک رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت فرما دیا تھا۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی جب وہ اندھے بہرے بھی بنے رہے تو مستحق تھے کہ وہ سنگسار کر کے زمین میں دفن کردیئے جائیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قوم ثمود کی طرح قوم لوط کی بستیاں بھی قریش کی گزر گاہیں تھیں۔ اسی وجہ سے ان دونوں قوموں کا خاص طور پر اس سورة میں ذکر فرمایا کہ دور اور قریب دونوں کے ٓثار کی طرف ان کی توجہ دلا دی جائے۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

کہہ دو کہ شکر کا سزا اور اللہ ہے اور اس کے ان بندوں پر سلامتی و رحمت ہے جن کو اس نے برگزیدہ کیا کیا اللہ بہتر ہے یا وہ چیزیں جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں !

آگے کا مضمون ……آیات 93-59 خاتمہ سورة آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں اوپر بیان کئے ہوئے واقعات کے نتائج سامنے رکھ دیئے گئے ہیں خاص طور پر قرآن کی دعوت توحید پورے زور کے ساتھ اس کے آفاقی و انفسی دلائل کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ نیز منکرین کے اصل سبب انکار سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ ان کی ساری سخن سازیوں کے پس پردہ یہ چیز ہے کہ یہ آخرت کے بارے میں متردد ہیں حالانکہ وہ ایک حقیقت ہے۔ آفاق وانفس کے دلائل پکار پکار کر اس کی شہادت دے رہے ہیں۔ یہی بات، یاد ہوگا، تمہیں کی آیات میں بھی فرمائی گی ہے۔ اس طرح خاتمہ سورة کا مضمون تمہید کے ساتھ مربوط ہو گار ہے۔ مطالب کے بیچ بیچ میں بھی اور سورة کے آخر میں خاص طور پر نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ قرآن کے انکار اور تمہاری تکذیب کے لئے جو مطالبات و اعتراضات پیش کر رہے ہیں تم ان کی پروا نہ کرو۔ تمہارا کا اندھوں اور بہروں کو دکھانا اور سنانا نہیں ہے۔ تم ان کو صاف بتا دو کہ میرے اوپر اس قرآن کو پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اس کو ماننا اور نہ ماننا تمہارا کام ہے۔ اگر یہ اس کو نہیں مانیں گے تو قرآن جن باتوں سے ان کو آگاہ کر رہا ہے ان میں سے ایک ایک چیز ان کے سامنے آ کے رہے گی۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ قل الحمد للہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی، اللہ خیرا ماً یشرکون (59) ایک بلیغ گریز اور خوبصورت حلقاً اتصال اس آیت کی نوعیت کے پچھے اور آگے کے مطالب کے درمیا نایک بلیغ گریز اور نہایت خوبصورت حلقہ اتصال کی ہے اوپر جو واقعات مذکر ہوں ہیں اور ان سے دو حقیقتیں نہایت واضح ہو کر سامنے آگئی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کو پیدا کر کے اس سے بےتعلق نہیں ہو بیٹھا ہے بلکہ اس کے عدل اور اس کی محت کی نشانیاں برابر اس میں ظاہر وتی رہی ہیں۔ اس نے سرکشی کرن والوں کو سزائی بھی بڑی سخت دی ہیں اور اپنے منتخب در برگزیدہ بندوں کی نصرت بھی برابر فرمائی ہے۔ رودہ ایک دوسری یہ کہ سارا اختیار و اقتدار اللہ وحدہ لاشریک ہی کیساتھ میں ہے۔ اس کے علاوہ جن کی پرستش کی گئی ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اسی خلاصہ کو سامنے پیش کر کے آگے توحید پر جو خطبہ آ رہا ہے اس کے لئے تمہید استوار کر ررہی ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ تمہاری پیش کردہ کتاب کی تکذیب کر رہے ہیں ان سے کہہ کہ یہ سرگزشتیں جو تمہیں سنائی گئی ہیں ان سے یہ حقیقت سورج کی طرح روشن کر سامنے آگئی ہے کہ شکر کا سزوار صرف اللہ ہے جس نے اپنے عدل و رحمت کی یہ شانیں دکھائی دیں اور یہ کہ سلامتی اور نجات اللہ کے ان بندوں ہی کے لئے ہے جن کو وہ دعوت حق اور خدمت خلق کے لئے منتخب فرماتا ہے ان کے دشمن کتنے ہی زندہ لگائیں لیکن وہ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ کی حفاظت فرماتا ہے اور ان کے ہاتھوں حق کا بول بالا ہوتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اصل توی ہے جو تاریخ کے ان دلائل سے ثابت ہوئی تو ان سے پوچھو کہ کیا عبادت و شکر گزاری کے لئے اللہ بہتر ہے جس کی یہ شانیں بیان ہوئیں ان کے وہ مزعومہ شرکاء و شعفا جو نہ اپنی کسی مدد پر قار ہی اور ان اپنے پچاریوں کی، اب آگے اسی مضمون سے توحید کے بیان کے لئے گریز ہے۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

(کیا تمہارے یہ معبود بہتر ہیں) یا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لئے جس نے آسمان سے پانی اتارا پس ہم نے اس پانی سے خوش منظر باغ اگائے۔ تمہارے امکان میں نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگا سکتے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ بلکہ یہ راہ حق سے انحراف اختیار کرنے والے لوگ ہیں۔

اس آیت اور اس کے بعد کی آیات کے صحیح زور کو سمجھنے لئے عزبیت کے اس اسلوب کو ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی طرف ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اشارہ کرتے آئے ہیں کہ اس قسم کے سوالیہ جملوں میں مقصود استفہام اور سوال و جواب نہیں ہوتا بلکہ افحام، تامام حجب اور زجر و تنبیہ ہوتا ہے۔ متکلم پورے زور بیان کے ساتھ سوالیہ انداز میں حقائق کو پیش کرتا جاتا ہے اور مخاطب کی طرف سے کسی جواب کا انتظار کئے بغیر آگے بڑھ جاتا ہے۔ گویا اس کی تردید میں کچھ کہنے کے لئے گنجائش کسی کے لئے سرے سے ہے ہی نہیں۔ اس زور بیان کے تقاضے سے اس قسم کے جملوں میں بعض اجزائے کلام حذف کردیئے جاتے ہیں جن کو مخاطب خود سمجھ لیتا ہے یا اس کو سمجھ لینا چاہئے۔ کلام کے اس خلا کو متکلم کا ورزور کلام بھی بھر دیتا ہے، خطبائے جاہلیت کے کالام میں اس حذف و ایجاد کی مثالیں بہت ہی لیکن قرآن کے آگے ان کو پیش کرنا آفتاب کے آگے دیا جانا ہے اردو میں یہ اسالیب چونکہ نہیں ہیں اس وجہ سے ترجمہ میں ہم نے کلام کے محذوفات کھول دیئے ہیں۔ اہتمام ربوبیت نہ توفیق امن خلق السموت والارض سے پہلے اتنی بات گویا محذوف ہے کہ بتائو، تمہارے و معبود بہتر ہیں جن کا نہ اس کائنات کی خلق و تدبیر میں کوئی حصہ ہے نہ تمہاری پرورش و پرداخت میں یا وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لئے اس نے آسمان سے پانی اتارا جس سے اس نے خوش منظر باغ اگائے۔ جن کے درختوں کو اگا سکنے پر تم قادر نہیں تھے۔ فانبتنا بہ حدانی ذات بھجۃ میں اسلوب کلام بدل گیا ہے اوپر کے ٹکڑے میں غائب کے اسلوب میں بات فرمائی گئی تھی اس میں متکلم کا اسلوب آگیا ہے۔ یہ امتنان و احسان اور عنایت و ربوبیت کے اظہار کے لئے ہے۔ الہ قع اللہ یعنی بتائو کیا ان سارے کاموں کے کرنے میں خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی شریک رہا ہے ! ظاہر ہے کہ نہیں تو پھر تم نے ان کی پرستش کس حق کی بنا پر شروع کردی۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جو ہم جگہ جگہ ذکر کرتے آ رہے ہیں کہ مشرکین آسمان و زمین کا خالق یا ابرد ہوا کا مصرف خدا ہی کو مانتے تھے۔ یعدلون کا مفہوم بل ھم قوم یعدلون یعدلون یہاں عدل یعدل عدولاً سے ہے جس کے معنی جارو ظلم کے آتے ہیں۔ یعنی ان لوگوں کے پاس اپنے معبودوں کے حق میں کوئی دلیل تو ہے نہیں لیکن یہ کج روا اور حق نا شناس لوگ ہیں اس وجہ سے یہ خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی محلوظ رہے کہ اوپر اسلوب خطاب کا تھا لیکن یہ اسلوب غائب کا آگیا۔ یہ نفرت و کراہت اور اظہار حسرت پر دلیل ہے۔ گویا بات ان سے منہ پھیر کر فرمائی گئی ہے۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

(کیا تمہارے یہ اصنام سزا اور شکر ہیں) یا و جس نے زمین کو ٹھکانا بنایا اور جس نے اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس کے لئے اس نے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان جس نے پردہ ڈال دیا ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ! بلکہ ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے !

امن جعل الارض قراراوجعل خدلھا انھراً وجعل لھارواسی وجعل بین البحرین حاجزاً الہ مع اللہ ط بل اکثرھم لایعلمون یہاں بھی سوال کا پہلا جزو محذوف ہے یعنی بتائو تمہارے یہ فرضی دیوی دیوتا مستحق عبادت ہیں یا وہ ذات جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا ؟ قرار کے معنی سکون وقرار کی جگہ کے ہیں۔ زمین کو دوسرے مقامات میں گہوارہ اور بستر سے بھی تعبیر فرمایا ہے۔ وہی مضمون یہاں لفظ قرار سے ادا کیا گیا ہے۔ وجعل خللھا انھراً یعنی جس طرح اس نے تمہاری پرورش کے لئے آسمان سے پانی اتارا اسی طرح اس زمین میں بھی دریا اور چشمے جاری کردیے۔ وجعل لھا رواسی اور اس زمین کو اپنے محور و مستقر پر لٹکائے رکھنے کے لئے اس نے اس میں پہاڑ گاڑ دیئے کہ کہیں یہ تم کو لئے ہوئے کسی جانب کو لڑھک نہ جائے۔ وجعل بینالبحرین حاجزاً بحرین سے مراد جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، کھاری اور شیری پانی کے دریا ہیں، فرمایا کہ یہ اسی کی قدرت و حکمت ہے کہ وہ ایک طرف سے شیریں پانی کے دریا کو چھوڑتا ہے اور دوسری طرف سے کھاری پانی کے سمندر کو، دونوں آپس میں ملتے ہیں لیکن دونوں اللہ تعالیٰ ایک غیر مرئی دیوار کھڑی کردیتا ہے، مجال نہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اس دیوار کو لانگ کر دوسرے کے حدود میں مداخلت کرسکے۔ فرمایا کہ بتائو، اس قدرت، اس حکمت، اس اہتمام ربوبیت، اس توفیق اضداد اور اس قیام توازنو توافق میں خدا کے ساتھ تمہارے مبعودوں کا بھی کوئی حصہ ہے ! اگر نہیں ہے اور بالکل بدیہی طور پر معلوم ہے کہ نہیں ہے تو آخر خدا کی خدائی میں وہ کسی حق کی بنا پر ساجھی بنا دیئے گئے ہیں ! بل اکثرھم لایعلمون یہ غائب کا اسلوب یہاں اظہار حسرت و افسوس کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ باتیں تو بالکل بدیہی ہیں لیکن افسوس ہے کہ ان میں کے اکثر ان کو نہیں جانتے اور بتانے پر بھی ان کا حال یہ ہے کہ ان کو جاننا نہیں چاہتے۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

(کیا تمہارے یہ شرکاء مستحق عبادت ہیں) یا وہ جو محتاج کی داد رسی کرتا ہے جب کہ وہ اس کو پکارتا ہے اور اس کے دکھ کو دور کرتا ہے اور تم کو زمین کی وراثت دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے ! بہت ہی کم تم لوگ یاد دہانی حاصل کرتے ہو !

امن یجیب المضطراذا دعاہ ویکشف السوآء وریجعلکم خلفآء الارض ط والہ مع اللہ ط قلیلاً ماتذکرون (62) قبولیت وہ کے باب میں بعض حقائق اس سے پہلے بھی اسی طرح کا سوال محذوف ہے جس کی مثالیں اوپر گزر چکی ہیں، یعنی بتائو تمہارے یہ دیوی دیوتا بہتر ہیں جو نہ سنتے نہ دیکھتے، نہ ضرور پہنچا سکتے، نہ نفع نہ کسی کی فریاد رسی پر قادر نہ کسی کی مدد پر یا وہ ذات جو مضطر کی فریاد رسی اور اس کے دکھ درد کا ازالہ کرتی ہے ! یعنی جس کی بھی فریاد دی ہوتی ہے بہرحال اسی کی طرف سے ہوتی ہے، کسی اور کی طرف سے نہیں ہوتی۔ یہاں یہ امر یاد کھیے کہ یہی مضمون قرآن کے دوسرے مقامات میں مشیت الٰہی کی قید کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت و حکمت جس کے لئے مقتضی ہوتی ہے اس کے دکھ درد کو دور فرما دیتا ہے اور کسی حقیقی مضطر کی فریاد رسی اگر بروقت نہیں ہوتی تو کسی دوسرے زیادہ موزوں تروقت کے لئے اٹھا رکھی جاتی ہے اور اگر اس شکل میں نہیں ہوتی جس شکل میں وہ چاہتا ہے تو اس سے مختلف اور بہتر شکل میں پوری ہوتی ہے اور اگر اس دنیا میں نہیں ہوتی تو وہ آخرت میں اس کے لئے موجب اجر ہوگی۔ قبولیت فریاد و دعا کے باب میں ان باتوں کی وضاحت ان کے محل میں ہوچکی ہے۔ اس ٹکڑے کو ان تمام اصولی حقائق کی روشنی میں سمجھیے۔ قوموں کا رد و بدل تمام تر خدا کے اذن سے ہوتا ہے ویجعلکم خلفآء الارض اسلوب بیان دلیل ہے کہ یہاں مراد ایک قوم کو ہٹا کر دوسری قوم کو اس کی جانشیں بنانا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں یہ جو دیکھتے ہو کہ ایک قوم مٹتی اور دوسری قوم اس کی جگہ لیتی ہے تو نہ یہ اتفاقی واقعات ہیں اور نہ یہ رد و بدل کرنے پر خدا کے سوا کوئی دوسرا قادر ہے۔ یہ سب کچھ خدا ہی کے حکم اور اسی کی حکمت کے تحت ہوتا ہے۔ یہقریش کو تنبیہ ہے کہ اگر آج تم کو اس سرزمین میں اقتدار حاصل ہے تو تو یہ تمہارا اپنا حاصل کردہ نہیں ہے بلکہ یہ خدا ہی کا عطا کردہ ہے۔ یہ اقتدار دے کر وہ تمہارا امحتان کر رہا ہے کہ تم اس کو پا کر کیا بناتے ہو ؟ اگر تم نے بھی وہی روش اختیار کی جو تم سے پہلے مفسدین نے اختیار کی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ تمہارے سامنے بھی وہی انجام نہ آئے جو ان کے سامنے آیا۔ خدا کا معاملہ سب کے ساتھ ایک ہی اصول کے مطابق ہے۔ قوموں کی خود فراموشی الہ مع اللہ قلیلاً ماتذکرون یعنی ان میں سے کون سا کام ایسا ہے جس کے بارے میں تم کہہ سکتے ہو کہ اس میں خدا کے سوا کسی اور کی قدرت و مشیت کا بھی کوئی دخل ہے لیکن تم وہ خود فراموش لوگ ہو کہ بہت کم یاد دہانی حاصل کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی میں جو تنبیہات اور آزمائشیں پیش آتی ہیں ان کے پیش آنے پر تم خدا خدا پکارتے ہو لیکن جب وہ گزر جاتی ہیں تو خدا کو بھول کر پھر اپنی خود فراموشیوں میں گم ہوجاتے ہو اور تمہیں یاد بھی نہیں رہتا کہ کبھی تم نے خدا کو پکارا بھی تھا اور اس سے کوئی قول وقرار بھی کیا تھا ! یہ مضمون دور سے مقامات میں نہایت وضاحت سے بیان ہوچکا ہے اسی طرح تاریخ نے قوموں کے رد و بدل سے متعلق جو درس عبرت و موعظت تمہارے لئے محفوظ کئے ہیں وہ بھی تمہیں صرف اس وقت یاد آتے ہیں جب سب کچھ تمہایر اپنے سروں پر گزر جائے۔ گزر جانے کے بعد تمہارے لئے تاریخ بھی عہد ماضی کا ایک افسانہ بن کر رہ جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت کے دونوں ٹکڑوں امن یحبیب المضطواذا دعاہ اور یجعلکم خلفآء الارض میں بڑا گہرا معنوی ربط ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تم ان مصائب سے کوئی سبق حاصل کتے ہو جو تمہاری انفرادی زندگیوں میں پیش آتے ہیں اور نہ اس رد و بدل ہی سے کوئی عبرت پکڑتے جس سے قوموں کو دوچار ہوناپ ڑتا ہے تو جن کی یادداشت اتنی کمزور ہو ان کو کون سبق پڑھا سکتا ہے !
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

(کیا تمہارے یہ دیوی، دیوتا لائق پرستش ہیں) یا وہ جو بحر و بر کی تاریکیوں میں تمہارئی رہنمائی کرتا ہے اور جو ہوائوں کو اپنے باران رحمت سے پہلے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہیں ؟ اللہ بہت ہی برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں !

زمین اور آسمان دونوں میں ایک ہی خدا کی خدائی ہے اس سے پہلے بھی اسی طرح کا سوال محذوف ہے جس کی مثالیں اوپر گزر چکی ہیں۔ یحنی خشکی و تری کی تاریکیوں میں جو رستہ دکھاتا ہے اور ابر رحمت سے پہلے جو موسمی ہوائوں کو چلا ات ہے وہ لائق عبادت اور سزا وار شکر ہے یا تمہارے یہ ناارہ معبود جو کسی مصرف کے نہیں ہیں ؟ بروبحر میں رستہ دکھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو انتظام فرمایا ہے اس کی وضاحت قرآن میں جگہ جگہ ہوئی ہے۔ یہی مضمون دوسرے مقام میں وعلمت وبالنجرھم یھتدون (لنحل) کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ یعنی خدا نے زمین میں بھی نشانات گاڑ دیے ہیں اور آسمان میں بھی ستاروں کے قمقمے لگادیے ہیں جو خشکی و تری دونوں کی تاریکیوں میں مسافروں کی رہنمائی کرتے ہیں جو اس بات کی صاف شہادت ہے کہ اس کائنات کا خالق نہایت مہربان و کریم اور خشکی و تری اور آسمان و زمین ہر جگہ تنہا اسی کا اختیار و اقتدار ہے اور وہی ہے جو زمین کے خشک ہوجانے کے بعد موسمی ہوائوں کو اپنے ابر رحمت کی بشارت بنا کر ابھارت اہ یجو بادلوں کے ٹکڑے جمع اور ان کو تہ بہ تہ کرتی ہیں اور پھر وہ جہاں چاہتا ہے ان کو برسا دیتا ہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ آسمان کے خدا الگ، زمین کے خدا الگ، ابر کے دیوتا الگ اور ہوائوں کے خدا جدا ہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کے ان تمام اجزائے مختلفہ کے اس توافق اور ان کی اس ہم آہنگی کے مشاہدہ کے بعد بھی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس میں مختلف ارادے کافر فرما ہیں اور خدا کی خدائی میں دوسرے دیوی دیوتا بھی شریک ہیں تو وہ نہایت کو دن ہے۔ اس کائنات کا خالق ان فرض دیویوں اور دیوتائوں سے منزہ اور ارفع ہے ! اللہ تعالیٰ جل شانہ کے ساتھ ان حقیر چیزوں کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

(کیا تمہارے مزعومہ شفعاء لائق بندگی ہیں) یا وہ جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرے گا اور جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ! کہو کہ تم اپنی دلیل لائو، اگر تم سچے و !

ایک بدیہی حقیقت کا بدیہی نتیجہ یہاں بھی سوال کا ایک حصہ محذوف ہے جو قرینہ سے واضح ہوتا ہے۔ یعنی تمہارے یہ اصنام واوثان لائق عبادت ہیں یا وہ ذات جس نے اس خلق کا آغاز کیا اور ہر چیز کو وجود میں لاتی ہے ؟ اس کے ساتھ ثسند یعیدہ ملا کر ابدار خلق کے ایک بدیہی نتیجہ کو ظاہر فرمایا دیا کہ جب وہی ہر چیز کا آغاز فرماتا ہے تو وہ اس کا اعادہ بھی کرسکتا ہے اور وہ ایسا لازماً کرے گا بھی۔ اگر وہ نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے یہ سارا کارخانہ بالکل عبث بنایا ہے۔ دوسرے مقامات میں یہ بات دلائل کی تفصیل کے ساتھ بیان ہونی ہے۔ یہاں یہ ایک بدیہی حقیقت کے ایک بدیہی نتیجہ کے طور پر بیان کردی گی ہے کہ جب اس کائنات کے ابداء سے انکار کی گنجائش نہیں ہے تو اس کے اعادہ میں شک کی گنجائش کہاں سے نکلی ! ومن یرزقکومن السمآء و والارض ! یعنی خلق کے بعد وہی جو تمہاری رزق رسانی اور پرورش کا سامان کرتا ہے اور اس کام میں وہ آسمان کو بھی استعمال کرتا ہے اور زمین کو بھی آسمان سے وہ تمہارے لئے پانی برساتا ہے اور زمین سے تمہارے لئے طرح طرح کی چیزیں اگاتا ہے۔ کیا تم کہہ سکتے ہو کہ ان کاموں میں کوئی اور بھی شریک ہے ! خلاصہ بحث قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین مطل یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں جو مذکور ہوئیں ان کا کوئی فاعل ماننا تو ناگزیر ہے، بغیر کسی فاعل حکیم و قدیر کے یہ چیزیں وجود میں نہیں آگئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک خدائے حی وقیوم کا وجود تو برہان قطعی سے ثابت ہے اس وجہ سے اس کو ہم مانتے ہیں اور تمہارے لئے بھی اس کے ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اب اگر تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ اس ایک کے سوا کچھ اور خدا بھی ہیں تو ان کے ثبوت کے لئے دلیل پیش کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ اگر ان کے حق میں تمہارے پاس کوئی برہان ہے تو اس کو پیش کرو۔ شرک کی اپیل مشرکین پیش کریں اس ساری بحث کا خلاصہ دو لفظوں میں یوں پیش کیا جاسکتا ہے کہ جو خدا کو نہیں مانتا ان سوالوں کا کوئی اطمینان بخش جواب دے جو اوپر مذکور ہوئے اور اگر مانتا ہے لیکن اس کے ساتھ دو سے خدائوں کو بھی شریک کرتا ہے تو وہ ان خدائوں کے حق میں دلیل پیش کرے۔ دلیل و ثبوت کی ذمہ داری بہر حال منکروں یا مشرکوں پر ہے۔ خدا کے ماننے والوں پر کسی چیز کو ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ وہ تو ایک بدیہی حقیقت کو مانتے ہیں۔