26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا ۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق یہ سورة سابق سورة … سورة فرقان … کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کا اثبات ہے لیکن نہج استدلال اور اسلوب بیان اس کا سابق سورة سے مختلف ہے۔ سابق سورة میں جن انبیائے کرام کی سرگزشتوں کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا گیا تھا اس میں ان کی تفصیل بیان کردی گئی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قریش کا ہن اور شاعر ہونے کا جو الزام لگاتے تھے اس میں اس الزام کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے۔ اس میں ہر پیرے کے بعد آیات ان فی ذلک لایۃ ط وما کان اکثرھم مومنین وان ربک لھو العزیز الرحیم بطور ترجیح آٹھ بار وارد ہوئی ہیں۔ اس ترجیح سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ آپ کی صداقت کے ثبوت کے لئے آپ سے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے وہ اس میں خاص طور پر مخاطب ہیں۔ ان کو تاریخ کے حقائق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ رسولوں اور ان کے مکذبین کی تاریخ سے سبق لیں۔ ان لوگوں کی روش کی تقلید نہ کریں جو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ سورة کے مطالب پر بھی ایک اجمای نظر ڈال لیجیے تاکہ عمود کے ساتھ اس کے مختلف اجزاء کا تعلق اور اس کا مجموعی ربط و نظام اچھی طرح واضح ہوجائے۔ (9-1) تمہید، جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر قرآن کے مخالفین اس پر ایمان نہیں لا رہے ہیں، کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو آپ اس چیز سے پریشان نہ ہوں۔ اگر اللہ چ ہے گا تو کوئی ایسی نشانی اتار دے گا جو ان سب کی گردنیں قرآن کے آگے جھکا دے گی لیکن قرآن کی صداقت کسی خارجی نشانی کی محتاج نہیں ہے۔ یہ اپنی صداقت کی دلیل خود اپنے اندر ہی رکھتا ہے۔ اگر یہ لوگ اس کو جھٹلاتے ہیں تو جن خطرات سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا ہے وہ سب ایک ایک کر کے پیش آ کر رہیں گے۔ اس کائنات میں نشانیوں کی کمی نہیں ہے لیکن جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے ان کے لئے کوئی نشانی کارگر نہیں ہوتی۔ ان لوگوں کو خدا جب چاہے پکڑ سکتا ہے، وہ عزیز وغایت ہے، کوئی اس کے ارادے میں مزحم نہیں ہوسکتا لیکن وہ نہایت رحیم بھی ہے اس وجہ سے لوگوں کی سرکشی کے باوجود ان کو مہلت دیتا ہے۔ (68-10) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت جس میں وہ واقعات اجمالاً بیان ہوئے ہیں جو فرعون کے پاس جانے کے حکم سے لے کر اس کی غرقابی تک پیش آئے۔ سرگزشت کے آخر میں انہی آیات کی ترجیح ہے جن کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔ (104-69) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا حوالہ جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو دی۔ اسی ذیل میں ان لوگوں کے انجام کا بیان ہے جو اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر آخرت سے بےپروا ہیں۔ آخر میں آیات ترجیح ہیں۔ (122-105) حضرت نوح کی دعوت اپنی قوم کو اور قوم کا متکبرانہ جواب اور انجام کا راس کی غرقابی۔ آخر میں آیات ترجیح (140-123) حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت اپنی قوم عاد کو قوم کی طرف سے ان کی متکبرانہ تکذیب اور اس کے نتیجہ میں عذاب الٰہی کا ظہور … آخر میں آیات ترجیح (159-141) حضرت صالح کی دعوت قوم ثمود کو قوم ثمود کی تکذیب اور اس کا انجام … آخر میں آیات ترجیح۔ (175-160) حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعوت، ان کی قوم کا رویہ اور اس کا انجام … آخر میں آیات ترجیح ( 191-176) حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی دعوت کے ساتھ اہل مدین کا سلوک اور بالآخر ان کا حشر۔ اس سرگزشت کے آخر میں بھی انہی آیات کی ترجیح ہے جن کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔ (227-192) خاتمہ سورة جس میں تمہید کے مضمون کی پوری وضاحت فرما دی گئی ہے۔ اس کی تفصیلات تفسیر میں آئیں گی۔ یہاں اجمالاً مندرجہ ذیل امور ذہن میں رکھیے۔ (ا) قرآن کا منبع وحی الٰہی ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت روح الامین کے ذریعہ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا ہے۔ (ب) اس کا عربی مبین میں نازل ہونا اہل عرب پر اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم احسان ہے۔ اگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی تو یہ ان کی انتہائی محرومی و بدبختی ہے۔ (ج) اس کے دلائل پچھلے انبیاء کے صحیفوں میں موجود ہیں اور علمائے اہل کتاب ان سے واقف ہیں۔ (د) یہ کفار کے لئے انذا رو تنبیہ ہے تاکہ مواخذہ سے پہلے ان کو اچھی طرح آگاہ کردیا جائے تو جو لوگ اس کی تکذیب پر اڑے ہوئے ہیں وہ اس کے نتائج دور تک سوچ لیں۔ (ھ) اس کو جنوں اور شیطانوں کی وحی قرار دینا محض خرد باختگی ہے۔ شیاطین جس قسم کے لوگوں پر اترتے ہیں۔ ان کی علامات کی طرف اشارہ۔ (و) یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے بلکہ اللہ کا کلام ہے۔ قرآن اور شعر، پیغمبر اور شاعر میں امتیاز کرنے والی بعض کسوٹیوں کی طرف اشارہ۔

Ayah 26:1

طٰسٓمّٓ Open ayah 26:1 in the Quran reader

یہ طسم ہے

طسم (1) طسم ہمارے نزدیک مبتداء یمحذوف کی خبر ہے۔ ہم نے ترجمہ میں یہ محذوف کھول دیا ہے۔ یعنی یہ سورة طسم ہے۔
Ayah 26:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ واضح کتاب کی آیات ہیں

تلک ایت الکتب المبین (2) آفتاب آمد دلیل آفتاب ! کتاب مبین سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے جس نے نہایت فصیح وبلیغ زبان میں اپنی دعوت کے ہر پہلو کو گوناگوں اسلوبوں سے بالکل مدلل و مبرہن کردیا ہے۔ قرآن کی اس صفت کے ذکر سے یہاں مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ جو کتاب لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ اپنی صحت و صداقت کی خود سب سے بڑی دلیل ہے۔ کسی خارجی شہادت کی محتاج نہیں ہے اس وجہ سے جو لوگ اس کی تصدیق کے لئے کسی معجزہ یا نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کا مطالبہ درخور اعتناء نہیں ہے، آپ اس کی پرواہ نہ کریں۔ آفتاب اپنی دلیل خود ہوتا ہے۔ اس پر خارج سے کوئی دلیل قائم نہیں کی جاتی۔
Ayah 26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

شاید تم اپنے آپ کو اس فکر میں بالک کر کے رہو گے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے !

دل نواز تسلی وہی تسلی کا مضمون جو اوپر والی آیت میں مخفی تھا اس آیت میں نہایت دل نواز پیرائے میں اضح ہوگیا ہے۔ پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد ہوا ہے کہ ان لوگوں کا اس کتاب مبین پر ایمان نہ لانا آپ کے دل پر اتنا شاق ہے کہ معلوم ہوتا ہے آپ اس غم میں اپنے کو ہلاک کر کے رہیں گے حالانکہ قصور نہ آپ کا ہے نہ اس کتاب کا سارا قصور ان لوگوں کا خود اپنا ہے کہ ایک بالکل واضح حقیقت کو جھٹلانے کے لئے مختلف قسم کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ آپکی ذمہ داری صرف تبلیغ ہے۔ اس کا حق آپ نے پورا پورا ادا کردیا اور ادا کر رہے ہیں، پھر ایسے ناقدروں کے پیچھے آپ اپنے کو کیوں ہلکان کریں !
Ayah 26:4

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں پس ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہی رہ جائیں

عربیت کا ایک اسلوب آیت میں بظاہر خاضعین کی جگہ خاضعۃ ہونا تھا لیکن اعناقھم میں مضاف الیہ کی رعایت سے خاضعین آیا ہے۔ یہ عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے۔ اس کی بعض مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں۔ پیغمبر ﷺ کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے تہدید اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی کے ساتھ کفار کے لئے دھمکی بھی مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان لانے کے لئے کوئی نشانی دیکھنے ہی پر اڑے ہوئے ہیں تو یاد رکھیں کہ ہمارے پاش نشانیوں کی کمی نہیں ہے۔ ہم جب چاہیں آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار سکتے ہیں جس کے آگے سب کی گردنیں جھک جائیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ سوچ سمجھ کر اپنے اختیار و ارادہ سے ایمان لائیں۔ ہمارے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جو اختیار و ارادہ کے ساتھ لایا جائے نہ کہ مجبور ہو کر۔ اس میں نبی ﷺ کے لئے یہ تسلی ہے کہ جب ایمان کے باب میں سنت الٰہی یہ ہے تو آپ ان لوگوں کے مطالبات سے پریشان کیوں ہوں، ان کے معاملے کو خدا پر چھوڑ دیں !
Ayahs 26:5–6

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور ان کے پاس خدائے رحمان کی طرف سے جو تازہ یاد دہانی بھی آتی ہے یہ اس سے اعراض کرنے والے ہی بنے رہتے ہیں

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

کہ انہوں نے جھٹلا دیا تو جس چیز کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں اب اس کی تنبیہات ان کے آگے ظاہر ہوں گی

آیت 6-5 دو ایسے مریض کی بیزاری اور اس کا انجام یہ ذرا مختلف الفاظ میں وہی مضمن ہے جو سورة فرقان کی آخری آیت میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکیر وتعلیم کے اس سارے اہتمام سے جو رب رحمان نے ان کے لئے کیا مقصود یہی تھا کہ یہ لوگ سوچیں سمجھیں اور زندگی کی صحیح روش اختیار کریں لیکن ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جتنی ہی ان کے علاج کی تدبیر کی گئی اتنی ہی دوا اور طبیب سے ان کی نفرت پڑھتی گئی۔ اللہ نے تازہ بتازہ نوبنو اسلوبوں سے ان کو یاد دہانی کی لیکن وہ اعراض کرنے والے ہی بنے رہے اور قرآن و رسول دونوں کا انہوں نے مذاق اڑایا ان کی اس روش کے بعد اب ان کے لئے اس کے سوا کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ جس قرآن کا انہوں نے ان کی اس روش کے بعد اب ان کے لئے اس کے سوا کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ جس قرآن کا انہوں نے اب تک مذاق اڑایا ہے، اس نے جن نتائج سے ان کو خبردار کیا ہے وہ ایک ایک کر کے ان کے سامنے آئیں چناچہ وہ ان کے سامنے آئیں گے۔
Ayah 26:7

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی ! ہم نے اس میں کتنی نوع بنوع کی فیض بخش چیزیں اگا رکھی ہیں !

زوج کے معنی قسم اور نوع کے ہیں۔ من کل زوج یعنی نوع بنوع چیزیں کریم یہاں فیض بخش اور منفعت رساں کے مفہوم میں ہے اہل عرب ان کو کرم کہتے ہیں۔ ظاہر ہیں ظاہر ہے کہ یہ نام انہوں نے انگور کی غایت درجہ منفعت رسانی ہی کی وجہ سے رکھا۔ زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ کیوں ہیں اس زمین پر پھیلی ہوئی ان گونگاوں نعمتوں کو کیوں نہ دیکھتے جن کو رب رحیم و کریم نے اسی لئے پیدا کیا ہے کہ لوگ ان سے فائدہ بھی اٹھائیں اور بصیرت دیا دہانی بھی حاصل کریں !
Ayahs 26:8–9

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

اس میں بیشک بہت بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور بیشک تمہارا رب غالب بھی ہے۔ مہربان بھی

آیت 9-8 یعنی اگر یہ کسی نشانی ہی کے طالب ہیں تو اس سے بڑی نشانی اور کیا چاہئے ! یہاں ان تمام دلائل توحید و قیامت و جزا کو ذہن میں مستحضر کر لیجیے جو قرآن میں تفصیل سے مذکور ہوئے ہیں اور جن کی شہادت میں قرآن نے زمین کو انہی نعمتوں اور برکتوں کا حوالہ دیا ہے۔ آگے سورة لقمان کی آیت 10 اور سورة سجدہ کی آیت 27 کے تحت اس مضمون کی پوری وضاحت ہوجائے گی۔ وما کان اکثر ھم مئومنین یعنی یہ بات نہیں ہے کہ نشانیوں کی کمی ہے۔ نشانیوں سے تو اس زمین کا چپہ چپہ معمور ہے لیکن جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے ان کا کیا علاج ! خدائے عزیز ورحیم کی سنت امہال وان ربک لھو العزیز الرحیم یہ وہی اوپر والی بات اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کی روشنی میں واضح فرمائی ہے کہ تمہارا خدا وند عزیز بھی ہے اور ساتھ ہی رحیم بھی عزیز یعنی غالب، وہ جو چاہے کرسکتا ہے کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ اگر وہ ان پر فوراً کوئی عذاب نازل کر دے تو کوئی اس کی پکڑ سے ان کو بچا نہ سکے گا، لیکن وہ رحیم بھی ہے اس وجہ سے عذاب بھجنے میں جلدی نہیں کرتا کہ جو لوگ توبہ اور اصلاح کرنی چاہیں وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر کرلیں اور اس کی رحمت کے سزا وار بن جائیں۔ یہاں مبتدا کے اعادہ سے مقصود خاص طور پر ان صفات پر زور دینا اور لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرنا ہے اس لئے کہ خا کی ان صفات کو مستحضر نہ رکھنے ہی کے باعث نادانوں کو یہ مغالطہ پیش آیا کہ وہ خدا کی ڈھیل کو اپنے رویہ کے صحت و صداقت کی دلیل سمجھ بیٹھے اور نہایت غرور کے ساتھ ان لوگوں کا مذاق اڑایا جنہوں نے ان کو اصلاح کی دعوت دی … یہ آیات اس سورة میں، جیسا کہ ہم نے عرض کیا بار بار آئیں گی اس وجہ سے ان کے مفہوم کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے تاکہ آگے اس کے اعادے کی ضرورت نہ پیش آئے۔
Ayahs 26:10–12

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جب پکارا تیرے رب نے موسیٰ کو کہ ظالم قوم کے پاس جائو

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

قوم فرعون، کیا وہ ڈریں گے نہیں !

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

اس نے کہا، اے میرے رب ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے

آگے کا مضمون …آیات 68-10 حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت کا بیان آگے حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی وہ سرگزشت جس کی طرف پچھلی سورة میں اجمالی اشارہ فرمایا گیا تھا، تفصیل کے ساتھ آرہی ہے۔ یہ سرگزشت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو فرعون کے پاس جانے کا حکم ہوا ہے اور پھر فرعون اور اس کی فوج کی غرقابی پر ختم ہوتی ہے۔ اس دور کے تمام اہم واقعات کی طرف اس میں اشارے ہیں۔ یوں تو اس سرگزشت کا یہ حصہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے لئے بھی سرمایہ تسکین و تسلی اور آپ کے مخالفین کے لئے سبق آموز ہے لیکن سورة کے عمود کے پہلو سے خاص چیز جو اس میں قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ اغراض و شہوات کے غلام بن کر اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ضائع کر بیٹھتے ہیں ان پر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی کچھ کارگر نہیں ہوتا۔ ان کی آنکھیں صرف اس وقت کھلتی ہیں جب ان کا انجام ان کی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ آیت 10۔ 12 یہ حضرت موسیٰ کی سرگزشت کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب مدین سے واپس ہوتے ہوئے وادی مقدس طویٰ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے کلام سے مشرف فرمایا ہے اور ان کو منصب رسالت پر سرفراز کر کے فرعون اور اس کی قوم کے پاس انذار کے لئے جانے کی ہدایت فرمائی۔ ایک خاص اسلوب بیان الایتقون کا اسلوب بیان فرعون اور اس کی قوم کے غایت درجہ طغیان و فساد کو ظاہر کر رہا ہے۔ اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ کیا یہ ظالم لوگ اسی طرح بگ ٹٹ اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی چلے جائیں گے اور اس کے انجام اور خدا کے قہر و غضب سے نہیں ڈریں گے ؟ آگے آیات 162, 143, 125 اور 178 سے معلوم ہوگا کہ بعینیہ اسی اسلوب سے دوسرے انبیائے کرام نے بھی اپنی اپنی قوموں کو انذار فرمایا ہے۔ اس اسلوب خطاب میں حسرت، غصہ، زجر و ملامت اور عذاب الٰہی کے قرب کی جو وعید ہے وہ محتاج تشریح نہیں ہے۔
Ayahs 26:13–14

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا سینہ بھنچتا ہے اور میری زبان رواں نہیں ہے تو ہارون کے پاس پیغام بھیج

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور ان کے ایک گناہ کا بار بھی میرے اوپر ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے

آیت 14-13 نبوت پا کر حضرت موسیٰ کے اندیشے حضرت موسیٰ اس عظیم ذمہ داری سے بہت ڈرے اور یہ ڈرنا ذمہ داری کے صحح احساس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ مدین جانے سے پہلے ہی انہیں یہ انذازہ اچھی طرح ہوچکا تھا کہ فرعونیوں کے سامنے کوئی حق بات کہنا کتنا مشکل ہے۔ نیز وہ اپنے اندر قوت بیان کی کمی بھی محسوس فرماتے تھے اور قبطی کی موت کا جو واقعہ ان کے ہاتھوں ہوچکا تھا اس کی بنا پر بھی وہ اندیشہ ناک تھے کہ فرعون اور اس کے اعیان ان کے خلاف غصہ میں بھرے بیٹھے ہوں گے وہ ان کو آسانی سے معاف کرنے والے نہیں ہیں۔ بالخصوص اس صورت میں جب کہ وہ ان کے سامنے رسالت کا دعویٰ لے کر جائیں گے اور ان کے ظلم وتعدی پر ان کو انذار کریں گے۔ اپنے یہ اندیشے ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت موسیٰ نے اپنی یہ گزارش بھی پیش کردی کہ اگر مرض الٰہی یہی ہے کہ میں یہ بارگراں اٹھائوں تو میری دد کے لئے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے بھائی ہارون کو میرا شریک کار بنا دیا جائے جو فصیح اللسان آدمی ہیں۔ تاکہ ہم دونوں مل کر اس خدمت کو بہتر طریقہ پر انجام دے سکیں۔
Ayahs 26:15–17

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا، ہرگز نہیں ! پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جائو، ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

تو فرعون کے پاس جائو اور کہو کہ ہم خدا ند عالم کے رسول ہیں

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے

آیت 17-15 اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطمینان دہانی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے اس اندیشے کی تو پوری شدت کے ساتھ تردید فرما دی کہ قبطی انہیں قتل کردیں گے لیکن حضرت ہارون کے بارے میں ان کی درخواست، جیسا کہ دوسرے مواقع میں تصریح اور یہاں اشارہ ہے، منظور فرما لی اور ان کو حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور کوئی اندیشہ نہ رکھو۔ انا معکم مسمعون اطمینان دہانی کا نہایت بلیغ فقرہ ہے۔ دوسرے مقام میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔ اننی معکما اسمع واری (طہ :46) (میں تم دونوں کے ساتھ سنتا اور دیکھتا ہوں تو مجال ہے کہ کوئی تمہیں گزند پہنچا سکے۔) فرعون کی طرف ایک کے بجائے دو رسول انا رسول رب العلمین سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے مددگار، شریک رسالت کی حیثیت سے تھے۔ دوسرے مقام میں اس کی وضاحت ہوگئی۔ فرمایا ہے : انا رسولا ربک (طہ 47) (ہم دونوں تیری طرف تیرے رب کے رسول ہیں) فرعون کے سامنے اس امر واقعی کا اظہار تمام حجت کے پہلو سے ہوا ہے کہ ایک چھوڑ دو دو رسول، اللہ نے اس کی طرف بھیجے ہیں اگر اس کے بعد بھی اس نے صحیح روش اختیار نہ کی تو اس کی شامت ہی ہے۔ ارسل معنا بنی اسرائیل سے متعلق مولانا قربی کا نقطہ نظر ان رسل معنا بنی اسرآئیل کی وضاحت سورة طہ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ ہم کرچکے ہیں۔ تو رات سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ تمام بنی اسرائیل کو عید قربانی منانے کے لئے تین دن کی راہ بیابان میں لے جانا چاہتے تھے، لیکن یہ تصریح تورات میں نہیں ہے کہ بیابان میں کہاں لے جانا چاہتے تھے۔ استاذ امام ؒ کا خیال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ان کو حج و قربانی کے لئے مکہ معظمہ لے جانا چاہتے تھے۔ میں نے مولانا کا یہ خیال ایک نظریے کی حیثیت سے پیش کردیا ہے، ان کے دلائل میرے سامنے نہیں ہیں اس وجہ سے میں پوری طرح اس پر مطمئن نہیں ہوں۔ میں اپنا رجحان اعراف کی تفسیر میں ظاہر کرچکا ہوں۔ بعض باتیں مولانا کے اس خیال کی تائید کرتی ہیں۔ ممکن ہے آگے کسی موزوں مقام پر ہیں ان کی وضاحت کروں۔ فرعون کو انذار کے ساتھ یہ حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل کی تنظیم اور ان کے اندر دین کے احیاء و تجدید کے سلسلہ میں پہلی ہدایت ہوئی۔ تورات میں اس واقعے کے ابہام کی وجہ اس امر خاص میں تورات کے بیان کے اندر جو ابہام ہے اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں یا تو حضرت موسیٰ نے اس کو فرعون پر ظاہر نہ کرنا چاہا ہو اس وجہ سے اس کو مبہم ہی رکھا ہو یا یہ ہوا کہ بہوبد نے اس کے اظہار کو اپنے مصالح کے خلاف پا کر جس طرح حضرت اسماعیل اور خانہ کعبہ کی ساری تاریخ پر پردہ ڈال دیا اسی طرح اس بات پر بھی پردہ ڈال دیا۔ ان ارسل اصل میں بان ارسل ہے۔ عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق ب حذف ہوگئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم اس پیغام کے ساتھ رسول بن کر آئے ہیں۔
Ayahs 26:18–19

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

اس نے کہا، کیا ہم نے تم کو بچپن میں اپنے اندر پالا نہیں ؟ اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے اندر بسر کئے

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تم نے اپنی وہ حرکت کی جو کی اور تم ناشکروں میں سے ہو !

آیت 19-18 فرعن کا حضرت موسیٰ کو حقارت آمیز جواب یہاں اتنی بات بربنائے قرینہ حذف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے بموجب حضرت موسیٰ ؑ اپنے بھائی حضرت ہارون کو ساتھ لے کر فرعن اور اس کے درباریوں کے پاس گئے اور انذار کے ساتھ ساتھ اس کے سامنے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے جانے کا مطالبہ بھی رکھا۔ بھلا فرعون یہ تصور کہاں کرسکتا تھا کہ کوئی اس کے سامنے اتنا بڑا دعویٰ اور اتنا اہم مطالبہ لے کر آئے گا اور وہ بھی ایک اسرائیلی ! اس نے نہایت حقارت آمیز انذار میں کہا کہ کیا تم وہی نہیں ہو جس کی پرورش بچپن میں ہم نے اپنے گھر میں کی ہے اور کیا تم وہی نہیں ہو جس نے وہ حرکت کی جو تم نے کی ! بیشک تم بڑے ہی ناشکرے ہو ! کافر یہاں لغوی، یعنی نا شکرے کے، معنی میں ہے اور فعلت فعلتک التی فعلت سے اس کا اشارہ قبطی کے واقعہ قتل کی طرف تھا جس کی سنگینی کی تعبیر کے لئے اس نے یہ ابہام کا اسلوب اختیار کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایاز قدر خو بشناس ! تم ہمارے پروردہ اور ہمارے مجرم ہون کے باوجود ہمارے سامنے اپنی نبوت کا دعویٰ اور بنی اسرائیل کو ساتھ لے جانے کا مطالبہ لے کر اٹھے ہو۔
Ayahs 26:20–21

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا کہ میں نے یہ اس وقت کیا اور میں خطاواروں میں سے تھا

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

تو جب مجھے تم لوگوں سے اندیشہ ہوا تو میں تم سے بھاگ۔ پھر میرے رب نے مجھے قوت فیصلہ عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میں سے بنایا

آیت (21-20) ضآل یہاں اسی مفہم میں استعمال ہوا ہے جس مفہمو میں ووجدک ضآلا فھدی (الضحیٰ :) میں استعمال ہا ہے۔ یعنی سرگشتہ جو یائے راہ، کھویا ہوا۔ مال مفہوم حضرت موسیٰ کا اعتراف حق اور اظہار حق حضرت موسیٰ نے جہاں تک قبطی کے واقعہ کا تعلق تھا صاف صاف اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور فرمایا کہ بیشک مجھ سے یہ لعل صادر تو ہوا لیکن اس وقت ہوا جب مجھے میرے رب کی طرف سے علم کی صحیح روشنی حاصل نہیں ہوئی تھی بلکہ میں ابھی جستجوئے علم کی راہ میں سرگشتہ اور کھویا ہوا تھا، چناچہ جب مجھ سے یہ فعل صادر ہوگیا اور مجھے اندیشہ وا کہ اس نادانستہ فعل پر آپ لوک مجھے قتل کردیں گے تو میں یہاں سے نکل گیا۔ اس کے بعد میرے رب نے مجھے علم و حکمت کی روشنی اور حق و باطل میں امتیاز کے لئے قوت فیصلہ عطا فرمائی اور مجھے اپنے رسولوں میں سے بنایا اور اب میں ایک رسول کی حیثیت سے آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں۔ میری موجودہ حیثیت میری سابق حالت سے بالکل مختلف ہے۔ اس گزرے ہوئے واقعہ کو نظر انداز کر کے میری بات پر دھیان کیجیے۔ قبطی کے قتل کے واقعہ کی نوعیت پر ہم سورة طہ میں تفصیل سے بحث کرچکے ہیں کہ یہ محض حمایت مظلوم کے جذبہ کے تحت حضرت موسیٰ سے بالکل بلا قصد صادر ہوگیا جس پر حضرت موسیٰ کو نہایت ملامت ہوی انہوں نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ تنہا عقل پہچانی کے لئے کافی نہیں ہے اس امر پر بھی ہم سورة ہود 17 کے تحت گفتگو کرچکے ہیں کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) بعثت سے قبل بھی فطرت سلیم پر ہوتے تھے لیکن تنہا فطرت اور عقل زندگی کے پر پیچ راستوں میں انسان کی رہنمائی کے لئے کافی نہیں ہیں۔ اس میں بہت سے موڑ ایسے آتے ہیں جہاں انسان کی عقل سرگشتہ و حربان رہ جاتی ہے اور جب تک اس کو خدا کی رہنمائی حاصل نہ ہو وہ صحیح فیصلہ نہیں کرسکتی۔ اسی حکمت و معرفت کو حضرت موسیٰ نے یہاں حکم سے تعبیر فرمایا ہے۔ آگے آیت 83 کے تحت اس کی مزید وضاحت آئے گی۔
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور یہ احسان ہے جو تم مجھے جتا رہے ہو جس کے عوض تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے !

حضرت موسیٰ کا بلیغ جواب یہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے اس اظہار احسان کا جواب دیا ہے جس کا ذکر آیات 19-18 میں گزرا ہے اور غور کیجیے کہ کس قدر بلیغ جواب دیا ہے۔ فرمایا کہ تم اپنا یہ احسان مجھے اپنے اس ظلم عظیم کو جائز ثابت کرنے کے لئے جتا رہے ہو کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے ! مطلب یہ ہے کہ یہ احسان ہے تو سہی، اس کا شکریہ ! لیکن اس احسان کے بدلے میں تمہیں یہ حق تو نہیں حاصل ہوسکتا کہ تم تمام بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھو اور میں اس کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائوں !
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے پوچھا اور یہ رب العالمین کیا چیز ہے !

دعوائے رسالت کا استہزاء فرعون اپنے طعنہ اور اظہار احسان کا جواب تو ایسا مسکت پا گیا کہ اس کے لئے مزید کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی اس وجہ سے اس نے اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے حضرت موسیٰ کے دعوائے رسالت کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ اوپر آیت 16 میں گزر چکا ہے کہ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون (علیہما السلام) نے اس کے سامنے اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے رسول کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ اس نے رب العالمین کا مذاق اڑایا کہ یہ رب العلمین کیا چیز ہے جس کے تم دونوں رسول بن کر آئے ہو ! اس کا مطلب یہ تھا کہ سب سے بڑے دیوتا کا اوتار اور رب العلمین کیا چیز ہے جس کے تم دونوں رسول بن کر آئے ہو ! اس کا مطلب یہ تھا کہ سب سے بڑے دیوتا کا اوقار اور رب العلمین تو میں ہوں، تو میرے ہوتے اور کون رب العلمین ہے جس نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ؟
Ayah 26:24

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

اس نے جواب دیا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا خداوند، اگر تم لوگ یقین کرنے والے بنو !

قال رب السموت والارض وما بینھا ان کنتم موقنین (24) دعوت کی راہ میں ایک قدم اور آگے کی طرف حضرت موسیٰ نے اس کے اس گستاخانہ طنز کے جواب میں اپنی دعوت کا ایک قدم اور آگے بڑھا دیا۔ فرمایا کہ تمہار رب العلمین وہی ہے جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مابینھما کے تحت سورج چاند، سب آگئے اور فرعون، جیسا کہ دوسرے مقام میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، سورج دیوتا کا اوتار سمجھا جاتا تھا۔ ان کنتم موقنین، یعنی اصل حقیقت یہ ہے جو میں نے واضح کردی ہے۔ اس کو مانو یا نہ مانو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔ بلکہ خود تم لوگوں پر ہے۔
Ayah 26:25

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

اس نے اپنے اردگرد والوں سے کہا، سنتے نہیں ہو !

قال لمن حولہ الا تستمعن (25) فرعون کی بوکھلاہٹ حضرت موسیٰ کا جواب فرعون کے کبر پر ایک کاری ضرب تھا اس وجہ سے وہ تلملا اٹھا اور درباریوں کی طرف متوجہ ہو کر بولا کہ تم لوگ سن رہے ہو، یہ شخص کیا کہہ رہا ہے !
Ayah 26:26

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

اس نے کہا، تمہارا بھی رب اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا بھی رب !

قال ربکم و رب ابآئکم الاولین (26) دعوت کی راہ میں مزید ایک قدم اور آگے کی طرف حضرت موسیٰ نے فرعون کے اس غیظ و غضب کی کوئی پروا کئے بغیر اپنی دعوت کا ایک قدم اور آگے بڑھا دیا : فرمایا کہ تمہارا بھی رب اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا بھی رب ! یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ باطل ادیان کی بنیاد تمام پر پچھلوں کی تقلید ہی پر ہوتی ہے اس وجہ سے حضرت موسیٰ نے لگے ہاتھوں یہ حقیقت بھی واضح فرما دی کہ اگر اس معاملے میں تم نے اپنے باپ دادا کی روایات پر بھروسہ کیا ہے تو یہ بھروسہ بےبنیاد ہے۔ ان کا رب بھی وہی ہے جس کی دعوت میں دے رہا ہوں۔ اگر انہوں نے اس کو چھوڑ کر کسی اور کو رب بنایا تو یہ ان کی ضلالت و جہالت ہے۔ ان کی کو رانہ تقلید کر کے اپنی عاقبت برباد نہ کرو۔
Ayah 26:27

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے کہا، تمہارا یہ رسول، جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، بالکل خبطی ہے

قال ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون (27) فرعون کی جھنجھلاہٹ حضرت موسیٰ نے جب ان کے آباء و اجداد کی گمراہی بھی واضح کردی تو فرعون کا پارہ بہت چڑھ گیا۔ غصہ سے جھنجھلا کر اس نے نہایت تحقیر انگیز، طنزیہ انداز میں، درباریوں سے کہا کہ تمہارا یہ رسول، جو بزعم خویش تھا تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، مجھے تو ایک بالکل دیوانہ آدمی معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جب یہ شخص ہمارے آباء و اجداد کو بھی احمق اور گمراہ ثابت کر رہا ہے تو اس کے پاگل ہونے میں کیا شبہ رہا ! رسولکم الذی ارسل الیکم میں طنز کے ساتھ لوگوں کو اکسانے کی خواہش بھی مضمر ہے کہ دیکھ لو، یہ شخص ہے جو مدعی ہے کہ تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے !
Ayah 26:28

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا، مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر تم عقل رکھتے ہو

فرعون کی خدانی پر آخری فسرب حضرت موسیٰ نے فرعن کی اس بدتمیزی کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ اس کو بالکل نظر انداز کر کے اپنی دعوت کی راہ میں ایک قدم اور آگے بڑھ گئے۔ فرمایا کہ وہی مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے بشرطیکہ تم لوگ عقل سے کام لو اور سوچنے سمجھنے والے بنو ! یہ فرعون کی خدائی پر حضرت موسیٰ کی آخری ضرب تھی۔ وہ اپنے آپ کو سورج کا اوتار سمجھتا تھا۔ حضرت موسیٰ نے اس پر واضح کردیا کہ جس کو نہ مشرق پر کوئی اختیار نہ مغرب پر اگر وہ اپنے آپ کو رب سمجھتا ہے تو یہ اس کی اور اس کو رب ماننے والوں کی عقل کا فتور ہے آپ لوگ اپنی عقل سے کام لو گے تو یہ بات ایسی واضح ہے کہ کسی کو اس کے سمجھنے میں کوئی دشواری پیش آنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
Ayah 26:29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

وہ بولا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کر کے رہوں گا

قال لین اتخذت الھا غیری لاجعلنک من المسجونین 29 فرعون کی دھمکی جب فرعون نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ اس کی کسی بات کو سرے سے لائق اعتناء ہی نہیں سمجھتے بلکہ پوری بےخوفی کے ساتھ اپنی ایک بات کے بعد دوسری بات پہلی سے بڑھ چڑھ کر کہہ گزرتے ہیں اور ہر بات اس کی خدائی پر ایک سخت سے سخت تر ضرب کی نوعیت رکھتی ہے تو وہ بالکل بےحوصلہ ہو کر چلا اٹھا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو یاد رکھو کہ میں تمہیں قید کر کے چھوڑوں گا۔
Ayah 26:30

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا، کیا اس صورت میں بھی کہ جب میں تمہارے پاس کوئی واضح نشانی لے کر آیا ہوں ؟

قال اولو جئتک بشیء مبین (30) معجزات کی نشانی اس کا گمان ہوگا کہ اس کھلی ہوئی دھمکی کے بعد حضرت موسیٰ سہم جائیں گے لیکن انہوں نے نہایت متانت اور وقار کے ساتھ فرمایا کہ کیا تمہارا یہی فیصلہ اس صورت میں بھی ہوگا جب میں تمہیں کوئی نہایت واضح نشانی اس بات کی دکھا دوں کہ میں خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں ؟
Ayah 26:31

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

اس نے کہا، وہ پیش کرو اگر تم سچے ہو

قال فات بہ ان کنت من الصدقین (31) حضرت موسیٰ نے معجزے دعوت کے بعد فرعون کی مطلب پر دکھائے فرعون نے کہا اگر تم اپنی سچائی کی کوئی نشانی رکھتے ہو تو اس کو دکھائو۔
Ayahs 26:32–33

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

تو اس نے اپنا عصا ڈال دیا اور وہ دفعتاً ایک صریح اژدھا بن گیا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ یکایک دیکھنے والوں کو چٹا نظر آیا

فالتی عصاہ فاذا ہی ثعبان مبین، ونزع یدہ فاذا ھی بیضآء للنظرین (33-32) فرعون کے اس مطالبے پر حضرت موسیٰ نے عصا اور ید بیضا کے دونوں معجزے دکھائے۔ ان معجزات کی وضاحت تفسیر سورة طہ میں ہوچکی ہے۔ یہاں صرف یہ چیز خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ یہ معجزے حضرت موسیٰ نے فرعون کی طلب پر اس وقت دکھائے ہیں جب اس نے ان کی دعوت توحید کے جواب میں، جو تمام تر عقل و فطرت اور آفاق وانفس کے دلائل پر مبنی تھی، ان کو قید کرنے کی دھمکی دی ہے۔
Ayahs 26:34–35

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون نے اپنے اردگرد کے درباریوں سے کہا، بیشک یہ بڑا ہی ماہر جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو !

آیت 35-34 معجزات کی قاہری اور فرعون کی ہوشیاری ان معجزات کی قاہری ایسی نمایاں تھی کہ فرعن اور اس کے درباری سب ہک دک رہ گئے۔ لیکن فرعن نے نہایت ہوشیاری سے لوگوں کو مرعوبیت سے بچانے کی کوشش کی۔ اس نے حضرت موسیٰ کے اس کارنامے کی تو داد دی اس لئے کہ اس سے مضر نہیں تھا لیکن ساتھ ہی یہ تاثر بھی لوگوں کو دینے کی کوشش کی کہ یہ محض فن جادوگری میں مہارت کا کرشمہ ہے۔ اس کو نبوت و رسالت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزید برآں حضرت موسیٰ کے خلاف ایک سیاسی بدگمانی پیدا کرنے کے لئے ذہنوں میں یہ وسوسہ بھی ڈال دیا کہ یہ شخص اپنے جادو کے زور سے لوگوں کو اپنے حق میں ہموار کرنا اور ہم کو اس ملک سے بےدخل کرنا چاہتا ہے۔ ہم دوسرے مقام میں نہایت وضاحت سے بیان کرچکے ہیں کہ اس وقت اس بدگمانی کے پھیلنے کے لئے فضا نہیات سازگار تھی۔ اس ہوے سے ڈرا کر فرعن نے درباریوں سے پوچھا کہ اس خطرے کی مدافعت کے لئے آپ لوگ کیا مشورہ دیتے ہیں !
Ayahs 26:36–37

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کو اور اس کے بھائی کو ابھی ٹالیے اور شہروں میں ہر کارے بھیجے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

جو آپ کے پاس تمام ماہر جادوگروں کو لائیں

37-36 درباریوں کا مشورہ درباریوں نے مشورہ دیا کہ بہتر ہے کہ ان کے جادو کا توڑ جادو ہی سے کیا جائے لیکن عام جادوگروں سے ان کا مقابلہ کرانا قرین مصلحت نہیں ہے۔ اس میں شکست اور جگ ہنسائی کا اندیشہ ہے۔ اس وجہ سے ربوقت تو ان کو ٹالیے اور مملکت کے تمام شہروں میں اپنے خاص آدمیوں کو بھیج کر تمام ماہر جادوگروں کو ہلو انیے اور ان سے ان کا مقابلہ کرائیے۔
Ayahs 26:38–40

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

تو ساحر ایک معین دن کے مقررہ وقت کے لئے جمع کئے گئے

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں کو منا دی کردی گئی کہ لوگو، جمع ہو

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تا کہ ہم ساحروں کا ساتھ دیں اگر وہ غالب رہنے والے ثابت ہوں

آیت 40-38 حضرت موسیٰ سے مقابلہ کی تیاری درباریوں کے اسی مشورے پر عمل کیا گیا۔ ایک خاص دن میں، ایک معین وقت پر، ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو مرکز میں جمع کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ دور سے مقام میں یہ تصریح بھی ہے کہ ایک دن میلہ کا اور وقت چاشت کا مقرر ہوا اور مقابلہ کے لئے میدان ایک ایسا منتخب ہوا جس میں ہر سمت کے لوگوں کو پہنچنے میں یکساں سہولت ہو۔ مزید برآں وقت موعود پر لوگوں کو جمع ہونے کے لئے خوب ابھارا بھی گیا کہ ہمارے ساحر اس وقت ملک کو ایک بہت بڑے خطرے سے بچانے کے لئے جمع ہور ہے ہیں۔ اس وجہ سے ہر شخص کا فرض ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی اور ان کا ساتھ دینے کے لئے اس موقع پر ضرور موجود ہو۔ ھل انتم مجتمعون کے استفہامیہ اسلوب میں حث وتحریض اور تشویش و ترغ بےکا جو مفہوم مضمر ہے وہ عربی کا ذوق رکھنے والوں سے مخفی نہیں ہے۔ اس کی بعض مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں اور آگے بھی اس کی نہایت بلیغ مثالیں آئیں گی۔ لعلنا تتبع السحرۃ ان کانواھم نعلبین میں یہ مضمون مضمر ہے کہ ہمارے یہ ساحر اس وقت ہمارے قومی وقار کے تحفظ کے لئے میدان میں اتر رہے ہیں تو ہم میں سے ہر شخص کو اس بات کا آرزو مند ہونا چاہئے کہ ان کو اس مقابلے میں فتح حاصل ہو اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہئے۔