26. Surah Ash-Shu'araa
الشعراءThe Poets · 227 ayahsتدبرِ قرآن
تعارف
تعارف
ا ۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق یہ سورة سابق سورة … سورة فرقان … کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کا اثبات ہے لیکن نہج استدلال اور اسلوب بیان اس کا سابق سورة سے مختلف ہے۔ سابق سورة میں جن انبیائے کرام کی سرگزشتوں کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا گیا تھا اس میں ان کی تفصیل بیان کردی گئی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قریش کا ہن اور شاعر ہونے کا جو الزام لگاتے تھے اس میں اس الزام کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے۔ اس میں ہر پیرے کے بعد آیات ان فی ذلک لایۃ ط وما کان اکثرھم مومنین وان ربک لھو العزیز الرحیم بطور ترجیح آٹھ بار وارد ہوئی ہیں۔ اس ترجیح سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ آپ کی صداقت کے ثبوت کے لئے آپ سے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے وہ اس میں خاص طور پر مخاطب ہیں۔ ان کو تاریخ کے حقائق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ رسولوں اور ان کے مکذبین کی تاریخ سے سبق لیں۔ ان لوگوں کی روش کی تقلید نہ کریں جو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ سورة کے مطالب پر بھی ایک اجمای نظر ڈال لیجیے تاکہ عمود کے ساتھ اس کے مختلف اجزاء کا تعلق اور اس کا مجموعی ربط و نظام اچھی طرح واضح ہوجائے۔ (9-1) تمہید، جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر قرآن کے مخالفین اس پر ایمان نہیں لا رہے ہیں، کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو آپ اس چیز سے پریشان نہ ہوں۔ اگر اللہ چ ہے گا تو کوئی ایسی نشانی اتار دے گا جو ان سب کی گردنیں قرآن کے آگے جھکا دے گی لیکن قرآن کی صداقت کسی خارجی نشانی کی محتاج نہیں ہے۔ یہ اپنی صداقت کی دلیل خود اپنے اندر ہی رکھتا ہے۔ اگر یہ لوگ اس کو جھٹلاتے ہیں تو جن خطرات سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا ہے وہ سب ایک ایک کر کے پیش آ کر رہیں گے۔ اس کائنات میں نشانیوں کی کمی نہیں ہے لیکن جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے ان کے لئے کوئی نشانی کارگر نہیں ہوتی۔ ان لوگوں کو خدا جب چاہے پکڑ سکتا ہے، وہ عزیز وغایت ہے، کوئی اس کے ارادے میں مزحم نہیں ہوسکتا لیکن وہ نہایت رحیم بھی ہے اس وجہ سے لوگوں کی سرکشی کے باوجود ان کو مہلت دیتا ہے۔ (68-10) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت جس میں وہ واقعات اجمالاً بیان ہوئے ہیں جو فرعون کے پاس جانے کے حکم سے لے کر اس کی غرقابی تک پیش آئے۔ سرگزشت کے آخر میں انہی آیات کی ترجیح ہے جن کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔ (104-69) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا حوالہ جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو دی۔ اسی ذیل میں ان لوگوں کے انجام کا بیان ہے جو اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر آخرت سے بےپروا ہیں۔ آخر میں آیات ترجیح ہیں۔ (122-105) حضرت نوح کی دعوت اپنی قوم کو اور قوم کا متکبرانہ جواب اور انجام کا راس کی غرقابی۔ آخر میں آیات ترجیح (140-123) حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت اپنی قوم عاد کو قوم کی طرف سے ان کی متکبرانہ تکذیب اور اس کے نتیجہ میں عذاب الٰہی کا ظہور … آخر میں آیات ترجیح (159-141) حضرت صالح کی دعوت قوم ثمود کو قوم ثمود کی تکذیب اور اس کا انجام … آخر میں آیات ترجیح۔ (175-160) حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعوت، ان کی قوم کا رویہ اور اس کا انجام … آخر میں آیات ترجیح ( 191-176) حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی دعوت کے ساتھ اہل مدین کا سلوک اور بالآخر ان کا حشر۔ اس سرگزشت کے آخر میں بھی انہی آیات کی ترجیح ہے جن کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔ (227-192) خاتمہ سورة جس میں تمہید کے مضمون کی پوری وضاحت فرما دی گئی ہے۔ اس کی تفصیلات تفسیر میں آئیں گی۔ یہاں اجمالاً مندرجہ ذیل امور ذہن میں رکھیے۔ (ا) قرآن کا منبع وحی الٰہی ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت روح الامین کے ذریعہ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا ہے۔ (ب) اس کا عربی مبین میں نازل ہونا اہل عرب پر اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم احسان ہے۔ اگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی تو یہ ان کی انتہائی محرومی و بدبختی ہے۔ (ج) اس کے دلائل پچھلے انبیاء کے صحیفوں میں موجود ہیں اور علمائے اہل کتاب ان سے واقف ہیں۔ (د) یہ کفار کے لئے انذا رو تنبیہ ہے تاکہ مواخذہ سے پہلے ان کو اچھی طرح آگاہ کردیا جائے تو جو لوگ اس کی تکذیب پر اڑے ہوئے ہیں وہ اس کے نتائج دور تک سوچ لیں۔ (ھ) اس کو جنوں اور شیطانوں کی وحی قرار دینا محض خرد باختگی ہے۔ شیاطین جس قسم کے لوگوں پر اترتے ہیں۔ ان کی علامات کی طرف اشارہ۔ (و) یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے بلکہ اللہ کا کلام ہے۔ قرآن اور شعر، پیغمبر اور شاعر میں امتیاز کرنے والی بعض کسوٹیوں کی طرف اشارہ۔
طٰسٓمّٓ Open ayah 26:1 in the Quran reader
یہ طسم ہے
تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader
یہ واضح کتاب کی آیات ہیں
لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader
شاید تم اپنے آپ کو اس فکر میں بالک کر کے رہو گے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے !
اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں پس ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہی رہ جائیں
وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader
اور ان کے پاس خدائے رحمان کی طرف سے جو تازہ یاد دہانی بھی آتی ہے یہ اس سے اعراض کرنے والے ہی بنے رہتے ہیں
فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader
کہ انہوں نے جھٹلا دیا تو جس چیز کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں اب اس کی تنبیہات ان کے آگے ظاہر ہوں گی
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader
کیا انہوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی ! ہم نے اس میں کتنی نوع بنوع کی فیض بخش چیزیں اگا رکھی ہیں !
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader
اس میں بیشک بہت بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں
وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader
اور بیشک تمہارا رب غالب بھی ہے۔ مہربان بھی
وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader
اور جب پکارا تیرے رب نے موسیٰ کو کہ ظالم قوم کے پاس جائو
قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader
قوم فرعون، کیا وہ ڈریں گے نہیں !
قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader
اس نے کہا، اے میرے رب ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے
وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader
اور میرا سینہ بھنچتا ہے اور میری زبان رواں نہیں ہے تو ہارون کے پاس پیغام بھیج
وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader
اور ان کے ایک گناہ کا بار بھی میرے اوپر ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے
قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader
فرمایا، ہرگز نہیں ! پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جائو، ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں
فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader
تو فرعون کے پاس جائو اور کہو کہ ہم خدا ند عالم کے رسول ہیں
اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader
کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے
قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader
اس نے کہا، کیا ہم نے تم کو بچپن میں اپنے اندر پالا نہیں ؟ اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے اندر بسر کئے
وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader
اور تم نے اپنی وہ حرکت کی جو کی اور تم ناشکروں میں سے ہو !
قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader
موسیٰ نے جواب دیا کہ میں نے یہ اس وقت کیا اور میں خطاواروں میں سے تھا
فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader
تو جب مجھے تم لوگوں سے اندیشہ ہوا تو میں تم سے بھاگ۔ پھر میرے رب نے مجھے قوت فیصلہ عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میں سے بنایا
وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader
اور یہ احسان ہے جو تم مجھے جتا رہے ہو جس کے عوض تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے !
قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader
فرعون نے پوچھا اور یہ رب العالمین کیا چیز ہے !
قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader
اس نے جواب دیا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا خداوند، اگر تم لوگ یقین کرنے والے بنو !
قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader
اس نے اپنے اردگرد والوں سے کہا، سنتے نہیں ہو !
قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader
اس نے کہا، تمہارا بھی رب اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا بھی رب !
قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader
فرعون نے کہا، تمہارا یہ رسول، جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، بالکل خبطی ہے
قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader
موسیٰ نے کہا، مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر تم عقل رکھتے ہو
قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader
وہ بولا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کر کے رہوں گا
قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader
موسیٰ نے کہا، کیا اس صورت میں بھی کہ جب میں تمہارے پاس کوئی واضح نشانی لے کر آیا ہوں ؟
قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader
اس نے کہا، وہ پیش کرو اگر تم سچے ہو
فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader
تو اس نے اپنا عصا ڈال دیا اور وہ دفعتاً ایک صریح اژدھا بن گیا
وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader
اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ یکایک دیکھنے والوں کو چٹا نظر آیا
قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader
فرعون نے اپنے اردگرد کے درباریوں سے کہا، بیشک یہ بڑا ہی ماہر جادوگر ہے
یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader
یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو !
قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader
انہوں نے کہا کہ اس کو اور اس کے بھائی کو ابھی ٹالیے اور شہروں میں ہر کارے بھیجے
یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader
جو آپ کے پاس تمام ماہر جادوگروں کو لائیں
فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader
تو ساحر ایک معین دن کے مقررہ وقت کے لئے جمع کئے گئے
وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader
اور لوگوں کو منا دی کردی گئی کہ لوگو، جمع ہو
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader
تا کہ ہم ساحروں کا ساتھ دیں اگر وہ غالب رہنے والے ثابت ہوں