Ayahs 26:117–118آیت 118-117
حضرت نوح کی دعا فتح ون صرت کے لئے
قوم کے اس فیصلہ کن اعلان کے بعد جب حضرت نوح اس کے ایمان لانے سے بالکل مایوس ہوگئے تب انہوں نے رسولوں کی معروف سنت کے مطابق، اپنے رب سے دعا کی، اے میرے رب ! میری قوم نے میری تکذیب کردی تو اب تو میرے اور اس کے درمیان آخری فیصلہ فرما دے اور مجھ کو اور میرے ساتھ جو اہل ایمان میں ان کو نجات دے۔ فتحاً کی تاکید سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت نوح نے یہ دعا اس فتح و نصرت کے ظہور کے لئے فرمائی ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً اس کی قوم کی ہلاکت اور رسول اور اس کے ساتھیوں کی نجات کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔
Ayahs 26:119–120آیت 120-119
تیر بہدف دعا
حضرت نوح کی یہ داع بالکل صحیح وقت پر زبان سے نکلی اس وجہ سے تیر بہدف ثابت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کو جس عذاب کی دھمکی دی تھی وہ طوفان کی شکل میں نمودار ہوا جس نے ساری قوم کو غرق کردیا۔ حضرت نوح اور ان کے ساتھی اس سے محفوظ رہے۔
انصلت المتحون شحن کے منی کسی چیز کو پر کرنے کے ہیں۔ یہاں کشتی کے لئے اس صفت کے ذکر سے مقصود بالا جمال ان چیزوں کی طرف اشارہ کرنا ہے جن کو کشتی میں رکھنے کی حضرت نوح کو ہدایت ہوئی تھی اور جن کی تفصیل دوسرے مقامات میں گزر چکی ہے۔ یہ کشتی خاص اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ان ساری چیزوں کو سامنے رکھ کر بنائی گئی تھی جن کو طوفان سے بچانا مقصود تھا۔ چناچہ وہ چیزیں اس میں بھر لی گئیں۔ باقی ساری چیزیں غرق ہونے کے لئے چھوڑ دی گئیں۔
Ayahs 26:121–122آیت 22-121)
ترجیح
یہ آخر میں وہی ترجیح ہے جس کی وضاحت اوپر گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو تاریخ کی اس سرگزشت میں بہت بڑی نشانی موجود ہے لیکن یہ ضدی اور ہٹ دھرم لوگ ہیں۔ یہ ایمان نہ لانے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں اور ان کی اکثریت کوئی بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی ایمان لانے والی نہیں ہے۔ تمہارا رب جب چاہے ان کو پکڑ سکتا ہے، وہ ہر چیز پر غالب ہے لیکن وہ ان کو اس لئے مہلت دے رہا ہے کہ وہ عزیز ہونے کے ساتھ ساتھ رحیم بھی ہے۔
Ayahs 26:123–126آگے کا مضمون … آیات 140-123
یاد ہوگا۔ سابق سورة میں دو جلیل القدر نبیوں … حضرت موسیٰ اور حضرت نوح … کا ذکر کر کے درمیان کی قوموں کا ذکر صرف ان کا اجمالی حالہ دے کر چھوڑ دیا تھا۔ اس سورة میں آگے ان اقوام کے حالات کی تفصیل آرہی ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور بالآخر وہ کس انجام کو پہنچیں۔ ترتیب بیان بالکل تاریخی ہے اور ہر سرگزشت کے خاتمہ پر انہیں آیات کی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہیں۔ سب سے پہلے قوم عاد کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔
آیت (126-123)
تمام رسولوں کی ملت ایک ہے اس وجہ سے ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے
مرسلین کے جمع لانے کی وجہ آیت 105 کے تحت بیان ہوچکی ہے کسی ایک رسول کی تکذیب درحقیقت تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ اسی بنیاد پر قرآن نے اہل کتاب کے دعوائے ایمان کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنے والا قرار دیا۔ تمام رسولوں کی دعوت اور ان کی ملت ایک ہے اس وجہ سے ان میں سے کسی ایک کو جھٹلانے والا سب کو جھٹلانے والا ہے۔
اخرھوھود میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت ہود ؑ ان کے لئے کوئی اجنبی شخص نہیں تھے جس کے ماضی و حاضر سے وہ ناواقف ہوں بلکہ انہی کے بھائی بند اور انہی کے اندر وہ پلے بڑھے تھے۔ جس شخص کی پوری زندگی ان کے سامنے ہو اور اس میں کہیں حرف رکھنے کی گنجائش نہ ہو، اگر اس کو انہوں نے جھوٹا اور مفتری قرار دیا تو اس کو ان کی شامت کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے !
Ayah 26:127بدکنے والوں کو ملامت
اس آیت کے اندر جو پہلو ترغیب و تودیع کے ہیں ان کی طرف ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں۔ مزید برآں اس میں ان بدکنے والوں کو ملامت بھی ہے۔ جو حضرت ہود کی بات سننے کے لئے کسی طرح تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔ فرمایا کہ خدا کے بندو، میری بات سنو تو سہی، میں نے اس پر کوئی ٹکٹ تو نہیں لگا رکھا ہے جو تم پر گراں گزر رہا ہے، میرا اجر تو میرے رب کے ذمہ ہے، میں تم سے اس پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میں تو تمہیں یہ بالکل مفت دے رہا ہوں۔
Ayahs 26:128–129129-128 ریع اس بنلد زمین کو کہتے ہیں جو دور سے نظر آئے۔
ایۃ یہاں نشانی اور یادگار کے مفہوم میں ہے۔
مصالع قلعوں اور گڑھیوں کے لئے بھی آتا ہے اور محلوں اور ایوانوں کے لئے بھی۔
لعلکم فصیح عربی میں کالکم یعنی گویا کہ کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔
فساد تمدن پر تنبیہ
یہ حضرت ہود ؑ نے اپنی قوم کو اس کے فاسد تمدن پر متنبہ فرمایا کہ مکانوں اور عمارتوں کی تعمیر ضرورت کے لئے ہے نہ کہ محض نمائش اور تفاخروتنا فس کے لئے۔ تمہارا حال یہ ہے کہ شوق تعمیر کا جنون اس طرح تم پر مستولی ہے کہ تمہارا ہر دولت مند اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ ہر بلند اور خوش منظر جگہ پر اس کی دولت و ثروت کی کوئی یادگار اور اس کے قیام و تفریح کے لئے کوئی کوٹھی اور بنگلہ بن جائے اور یہ کام کسی واقعی انفرادی یا اجتماعی ضرورت کو سامنے رکھ کر نہیں ہو رہا ہے بلکہ بالکل عبث محض نمائش اور تفاخر کے لئے ہو رہا ہے اور اس میں تمہارے انہماک کا یہ حال ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم کو ہمیشہ میں رہنا ہے۔ تم نے گزر گاہ کو منزل سمجھ کر یہیں ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور تمہاری ساری توجہ اس کی تعمیر و ترقی پر مرکوز ہے۔ کسی کو ہوش ہی نہیں کہ اصل منزل آگے ہے اور اس کے لئے بھی کوئی تیاری ضروری ہے۔
یہ بات ظاہر ہے کہ حضرت ہود نے اپنی قوم کے اعیان و امراء کو خطاب کر کے فرمائی ہے۔ جب آخرت کو نظر انداز کر کے صرف دنیا مطلوب بنتی ہے تو تمدن کا مزاج بالکل فاسد ہوجاتا ہے۔ جن کے پاس وسائل و ذرائع ہوتے ہیں وہ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری کوٹھی کے جنون میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ان کی خواہش اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ کوئی قابل ذکر جگہ ایسی نہ رہ جائے جہاں ان کی کوئی شاندار یادگار تعمیر نہ ہوجائے۔ دوسری طرف حال یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں لاکھوں غرباء کے پاس سر چھپانے کے لئے جھونپڑے بھی نہیں ہوتے اور ان میں سے کتنے انہی شاندار کوٹھیوں کے سامنے فٹ پاتھوں پر سردی سے ٹھٹھر کر یا لو سے جھلس کر مر جاتے ہیں۔
تمدن کا یہ فساد اول تو اس بات کا نتیجہ ہے کہ حاجیات و ضروریات سے پہلے لوگ کمالیات و تعیشات کے میدان میں مقابلہ شروع کردیتے ہیں اور دوسرا سبب اس کا آخرت فراموشی ہے۔ حضرت ہود نے یہاں فساد کے ان دونوں اسباب کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ پہلے سبب کی طرف لفظ تعبثون، اشارہ کر رہا ہے اور دوسرے سبب کی طرف لعلکم تخلدون غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حضرت ہود کی یہ تشخیص اگرچہ اپنی قوم کے تمدن سے متعلق ہے لیکن یہ ٹھیک ٹھیک ہماری وقم کے تمدن پر بھی منطبق ہو رہی ہے۔ یہاں ان اشارات پر کفایت فرمائیے۔ انشاء اللہ سورة نمل کی تفسیر میں ہم صالح اور فاسد تمدن پر مزید روشنی ڈالیں گے۔
Ayah 26:130فساد فی الارض پر تنبیہ
اوپر کی آیت میں قوم کے داخلی فساد مزاج کی طرف اشارہ تھا۔ یہ ان کے خارجی فساد فی الارض کی طرف اشارہ ہے۔ جنگ اگر مجرد اپنی قوت وصولت کے مظاہرے اور دوسروں کو مغلوب و محکوم بنانے کے لئے ہو تو یہ فساد فی الارض ہے۔ یہ جائز صرف اس صورت میں ہے جب یہ کسی شر و فساد کے مٹانے کے لئے ہو۔ اس صورت میں بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی نیکی بلکہ خدا کی عبادت بن جاتی ہے۔ صلاحین کے ہاتھوں دنیا میں جو جہاد ہوئے ہیں وہ ہمیشہ یا تو مدافعت میں ہوئے ہیں یا استیصال فتنہ کے لئے اور یہ دونوں صورتیں حمایت حق اور اعلائے کلمتہ اللہ کی ہیں۔ حضرت ہود نے اپنی قوم کو اس برائی سے بھی روکنے کی کوشش کی۔ فرمایا کہ تمہاری جن گیں سب جبار نہ ہیں۔ تم دوسروں کو اپنا غلام و محکوم بنانے کے لئے خدا کی زمین میں خونریزی کرتے ہو جو فساد فی الارض ہے۔
Ayahs 26:131–135آیت 135-131
فاتقوا اللہ واصیعون یہ بات تقریباً ہر رسول سے قرآن میں منقول ہوئی ہے۔ یہ نہایت دلسوزی ودرد ندی کے ساتھ قوم کو گویا آخری مرحلے میں تذکیر و تنبیہ ہے کہ اب بھی وقت گزرا نہیں ہے۔ اللہ سے ڈرو۔ اپنی اس غلط روش سے باز آجائو اور اپنے مفسد لیڈروں کی پیروی کرنے کے بجائے میری بات مانو۔
انعام کے اندر استدراج کا پہلو
واتقوا الذین امدکم بم تعلمن یہ حضرت ہود نے قوم کو خدا کے جلال و جبروت کے بجائے اس کے انعامات کے حوالہ سے ڈرایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مال و اولاد اور باغوں اور چشموں کی جو نعمتیں خدا نے تمہیں دے رکھی ہیں ان کو بنانے اور گنا نے کی ضرورت نہیں ہے، تم خود اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہے ہو۔ یہ نعمتیں جس نے دی ہیں اس لئے نہیں دی ہیں کہ تم آخرت کو پس پشت ڈال کر اور سرکش و جبار بن کر زمین میں پھیلو بلکہ اس لئے دی ہیں کہ اس کے شکر گزار اور فرمانبر دار بن کر زندگی بسر کرو ورنہ یاد رکھو کہ ایک ہولناک دن کا عذاب تم پر منڈلاہی رہا ہے اس عذاب سے مراد وہ عذاب ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً قوم پر آیا ہے۔
جن کے اندر خدا کی معرفت ہوتی ہے وہ اس کے ابتلاء سے زیادہ اس کے انعام کی صورت میں اس سے ڈلتے ہیں کہ مبادا اس انعام کا حق ادا نہ ہو سکے اور یہ انعام استدراج کی صورت اختیار کرلے لیکن خدا کے اس بھید کو بہت کم لوگوں نے سمجھا ہے۔
Ayah 26:136قہارت قلب کی آخری حد
حضرت ہود کی اس ساری دلسوزی و دردی ندی اور اس تمام تذکیر و تنبیہ کا جواب قوم نے نہایت تحقیر و استہزاء کے ساتھ یہ دیا کہ آپ ہمیں نصیحت فرمائو یا نہ فرمائو، ہمارے لئے دونوں یکساں ہے۔ ہم بہرحال آپ کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔ ام لم تکن من الواعظین کے الفاظ پر اچھی طرح غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کے اندر ایک مخفی قسم کا طنز بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ماننا تو الگ رہا ہماری نگاہوں میں تو آپ کی اس بےقرار و بےچینی کو بھی کوئی وقعت نہیں ہے جو ہمارے مستقبل سے متعلق آپ ظاہر کرتے ہیں۔ ہم تو اس کو محض ایک خبط و جنون سمجھت ہیں۔ یہ امر محلوظ رہے کہ بسا اوقات آدمی اپنے کسی ناصح مشفق کی نصیحت قبول کرنے سے گریز بھی کرتا ہے تو کم از کم اس کے دل میں ناصح کی ہمدردی و خیر خواہی کی قدر ہوتی ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ میں اس نصیحت قبول کرسکوں یا نہ کرسکوں لیکن یہ مجھے نصیحت کرتا رہے۔ لیکن یہ دل کی قساوت کی آخری حد ہے کہ آدمی نہ صرف یہ کہ ناصح کی بات قبول نہ کرے بلکہ اس کی ہمدردی اور دل سوزی کو بھی ٹھکرا دے۔ حضرت ہود کی قوم نے یہی روش اختیار کی۔ جب انہوں نے نہایت دل سوزی کے ساتھ فرمایا کہ میں اپنی باتوں کی تم سے کوئی قیمت تو مانگ نہیں رہا ہوں، کم از کم میری بات سنو تو سہی ! قوم نے ان کی اس درد مندانہ التجا کا یہ جواب دیا کہ آپ اپنے گھر بیٹھو، ہمیں آپ کی ان نصیحتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
Ayahs 26:137–138آیت 138-137
خلق الاولین وہ روایت جو پہلوں سے چلی آرہی ہے۔
یعنی عذاب کا جو ڈراوا تم ہمیں سنا رہے ہو، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے بھی اس قسم کے ڈراوے سنائے جاتے رہے ہیں لیکن یہ محض ڈراوے تھے۔ نہ پہلے عذاب آیا نہ اب پر کوئی عذاب آنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے جیسے وہ ہمی لوگ اس قسم کی باتیں پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ ہم اس قسم کے فرضی اندیشوں میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں۔ یہ مضمون سورة مومنوں :83 میں بھی گزر چکا ہے اور آگے سو فضل آیت 68 میں بدیں الفاظ آیا یہ۔ لقد وعدنا ھذا انحن و بآء نا من قبل ان ھذا الا اساطیر الاولین (اس کی دھمکی ہمیں بھی سنائی جا رہی ہے اور اس سے پہلے ہمارے آباء و اجداد کو بھی سنائی جا چکی ہے۔ یہ محض اگلوں کے فسانے ہیں)
یہ امر محلوظ رہے کہ اس دنیا کی تاریخ میں کوئی دور ایسے خلا کا نہیں گزرا ہے جس میں غافلوں کو جھنجھوڑنے والوں نے عذاب اور قیامت سے لوگوں کو نہ ڈرایا ہو لیکن غافلوں نے ہمیشہ روش اختیار کی جو قوم ہود نے اتخیار کی۔ قیامت کو انہوں نے اس لئے افسانہ قرار دیا کہ اس کا ذکر تو چلا آ رہا ہے لیکن وہ آئی نہیں۔ اس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ نہ وہ آئی ہے نہ آئے گی بلکہ یہ محض وہمیوں کا پھیلایا ہوا افسانہ ہے۔
اسی طرح قوموں پر جو عذاب آئے ان کی یاد دہانی بھی بالکل بےاثر رہی۔ وقت کے دانشوروں نے ان کی توجیہ یہ کرلی کہ اس طرح کے نرم و گرم دن تو قوموں کی زندگی میں پیش آتے ہی رہتے ہیں۔ ان کو ہمارے عقائد و اعمال سے کیا تعلق !
Ayahs 26:139–140آیت 140-139
فرمایا کہ اسطرح انہوں نے ہود ؑ کو جھٹلا دیا جس کے بعد ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ اس کے بعد وہی آیات ترجیح ہیں جو اوپر گزر چکی ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی اور آپ کے مخاطبوں کے لئے تہدید و وعید ہے کہ اگر کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو تاریخ کی اس سرگزشت میں بہت بڑی نشانی موجود ہے۔ لیکن یہ لوگ ایمان نہ لانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں اور جو لوگ بہانے ڈھونڈتے ہیں سنت الٰہی کے مطابق ایک وقت خاص تک بہرحال ان کو بھی مہلت ملتی ہے لیکن وہ خدائے عزیز کی پکڑ سے کہاں بھاگ کر جاسکیں گے !
Ayahs 26:141–144آگے کا مضمون … آیات 159-141
حضرت صالح کی دعوت کا بیان
آگے قوم ثمود اور ان کے پیغمبر حضرت صالح ؑ کی سرگزشت ہے اور آخر میں انہی آیات کی ترجیح ہے جن کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔ انبیاء علہیم السلام کی دعوت میں جو یسکانی رہی ہے وہ بھی اس سے واضح ہے اور ان کی قوموں کے رویے اور ان کے انجام میں جو یک رنگی رہی ہے وہ بھی اس سے نمایاں ہے۔ اب بعینیہ اسی روش کا مظاہرہ اپنے رسول کے ساتھ قریش کر رہے تھے تو آخر ان کا انجام اس سے مختلف کیں ہوتا جو ان کے دوسرے پیشروئوں کا ہوا … آیات کی تلاوت فرمایئے۔
آیت 144-141)
قوم کی تہمت کا جواب اور بدعمل لیڈروں کی پیروی سے بعینیہ یہی آیات اوپر وال سرگزشت میں گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی واضحت ہوچکی ہے۔ حضرت صالح کا یہ ارشاد کہ میں ایک رسول امین ہوں جو اب ہے قوم کی اس تہمت کا کہ انہوں نے خدا کے رسول ہونے کا دعویٰ بالکل جھوٹ موٹ کیا ہے اور عذاب کا ڈراوا محض دھوکنس جمانے کے لئے سنا رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں کوئی جھوٹا مدعی اور مفتری نہیں ہوں بلکہ خدا کا رسول ہوں اور بےکم و کا ست، پوری امانت داری کے ساتھ، تمہیں وہی سنا رہا ہوں جس کے منان کے لئے بھیجنے والے نے مجھے بھیجا ہے۔
فاثقوا اللہ و اصیعون میں یہ تنبیہ ہے کہ اپنے گمراہ کرنے والے لیڈروں کے چکمے میں نہ آئو۔ اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو ورنہ یاد رکھو کہ وہ روز بد دور نہیں ہے جس کی تمہیں خبر دے رہا ہوں۔
Ayah 26:145بےنیازی خدمت خلق کے لئے ایک راہ شرط ہے
اس میں ترغیب و تودیع اور اظہار بےنیازی کے جو مختلف پہلو ہیں ان کی طرف پیچھے اشارہ ہوچکا ہے۔ بےنیازی خدمت خلق کے لئے ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ لوگوں کی زبانیں بند کردینا کسی کے بس میں نہیں ہے لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے برملا اس امر کا اعلان فرمایا کہ ہم تم سے کچھ مانگنے کے لئے نہیں بلکہ تمہیں دینے کے لئے آئے ہیں۔ یہ مقام ہے بہت مشکل لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں دعوت حق کو فروغ ایسے ہی بےنیازوں کے ذریعے سے ہوا ہے جو خلق سے کسی صلے کے طالب نہیں ہوئے ہیں۔
Ayahs 26:146–149آیت 149-146
نعمت کے ساتھ شکر نعمت نہ ہو تو وہ استدراج ہے
اوپر والی بات بطور تمہید تھی۔ یہ اس اصل خطرے سے حضرت صالح نے قوم کو آگاہ فرمایا جو بالکل سامنے تھا لیکن دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں مغروروں و نظر نہیں آ رہا تھا وہ اپنی مادی فربہی کو اپنی صحت و توانائی گمان کئے بیٹھے تھے۔ حضرت صالح ؑ نے آگاہ فرمایا کہ یہ فربہی صحت نہیں بلکہ ایک ناگہانی موت کا الارم ہے۔ اوپر حضرت ہود کی سرگزشت میں ہم یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ نعمت کے ساتھ اگر شکر نعمت موجود نہ ہو تو وہ استدراج ہے جو بالآخر قوم کے لئے تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف صالح نے اپنی قوم کو توجہ دلائی اور الفاظ سے صاف واضح ہے کہ عین اس دور میں توجہ دلائی ہے جو قوم کی ترقی و عروج کا دور تھا۔
نعمت صنعم کی ایک امانت ہے
فی ماھھنآ سے اشارہ اس رفاہیت و خوش حالی کی طرف ہے جو قوم کو حاصل تھی۔ بعد کے الفاظ سے اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔ نعمت و رفاہیت اگر کسی کے لئے غفلت کا باعث ہو تو یہ اس کی بلاوت کی دلیل ہے۔ ہر نعمت منعم کی شکر گزاری کا حق واجب کرتی ہے اور اس شکر گزاری کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ برابر چوکنا رہے کہ مبادا کسی نعمت کا حق ادا کرنے میں کوئی کوتاہی ہوجائے۔ نعمت کسی کا حق نہیں بلکہ منعم کی طرف سے ایک امانت ہے اس وجہ سے جس کی تحویل میں جتنی ہی زیادہ امانت ہو اس کو اتنا ہی زیادہ فکر مند اور بیدار رہنا چاہئے۔ اگر کوئی شخص نعمت پا کر نچنت ہو کر سو رہے کہ یہ نعمت اس کا حق ہے اور وہ اس میں عیش کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے تو وہ نہایت احمق ہے۔ نعمت کے اندر بےفکری، جس کو آیت میں امنین سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ بالآخر وہی نتیجہ پیدا کرتی ہے جو ریشم کے کیڑے کے سامنے آتا ہے کہ جو ریشم وہ اپن اوپر تنتا ہے اسی کے اندر وہ گھٹ کر مرتا اور وہی اس کا کفن بنتا ہے۔ قرآن میں ربوبیت سے قیامت پر جو جگہ جگہ استدلال کیا گیا ہے اس میں بھی یہی پہلو ہے کہ ہر نعمت کے ساتھ مسئولیت لازمی ہے۔ اس پر انسان کی فطرت اور اس کی عقل گواہ ہے۔ صرف وہی اس کا انکار کرسکتے ہیں جن کی فطرت مسخ اور عقل مائوف ہوچکی ہو۔
طلعھا ھضمیم یعنی داخل لعضھا فی بعض وہ کھجور جس کے خوشے آپس میں گتھم گتھا ہوں۔ فی جنت … طلعھا ھضیم یہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا فی ماھھنا کے اجمال کی تفصیل ہ ہے۔ ہم دوسرے مقام میں وضاحت کرچکے ہیں کہ عرب میں اچھے باغ کا تصور یہ تھا کہ انگوروں، اناروں کا باغ ہو اور اس کے نیچے نہریں جاری ہوں۔ بیچ بیچ میں مختلف چیزوں کی کاشت کے لئے قطعات ہوں اور کنارے کنارے کھجوروں کی باڑ ہو۔ یہاں انہی اجزاء کو الگ الگ گنا کر سوال فرمایا ہے کہ کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ یہ ساری چیزیں تمہیں دے کر باغ کا اصل مالک اس سے بالکل بےتعلق ہو کر بیٹھ رہا ہے اور اس کی بابت تم سے کوئی پرستش نہیں ہونی ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ یہی حقیقت تمثیل کی صورت میں انجیلوں میں بھی بار بار واضح فرمای گی ہے۔
وتنعتون من الجبال بیوتاً فرھین فرہ کے معنی خوش ہونے، مگن ہونے، اکڑنے اور اتران یکے ہیں۔ یہ حالت کسی کے نچنت اور عاقبت نا اندیش ہونے کا لازمی نتیجہ ہے اوپر لفظ امنین جو آیا ہے اسی کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔ چناچہ سورة حجر کی آیت 82 میں اسی مضمون کو امین سے تعبیر فرمایا ہے۔
تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ثمود نے فن سنگ تراشی میں بہت ترقی کی تھی۔ ان کے امراء و اغنیاء پہاڑوں کو ترشوا کر ان کے اندر اپنے لیے شاندارپ ہاڑی ایوان و محل بنواتے اور جس طرح اوپر قوم عاد کے ذکر میں گزارا ہے ان کا یہ ذوق بھی محض ان کے تفاخر کا نتیجہ تھا۔ لفظ فرھین ان کے اس ذوق کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ محض تفاخر کے لئے دولت کا اسراف خدا اور آخرت سے بےفکری کا نتیجہ ہے اور اس سے جو تمدن وجود میں آتا ہے اس میں خلق کے لئے خیر و رفاہیت کا کوئی پہلو نہیں ہوتا اس وجہ سے قانون قدرت میں اس کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔ وہ بہت جلد شانار کھنڈروں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ حضرت صالح نے اپنی قوم کو اسی خطرے سے آگاہ فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ جو کچھ تم بنا رہے ہو یہی بنانے کے لئے تم ہمیشہ چھوڑے رکھے جائو گے۔ اب اس کی مہلت تمام ہونے والی ہے۔
Ayahs 26:150–152آیت 152-150
وہی تنبیہ جو آیت 144 میں گزری ہے حضرت صالح ؑ نے پھر دہرائی کہ اب بھی وقت باقی ہے خدا سے ڈرو اور میری بات مانو یہاں کھل کر یہ بات بھی فرما دی کہ اپنے ان لیڈروں کے چکمے میں نہ آئو جو خدا کے حدود کو لانگ کر بہت دور نکل جا چکے ہیں۔ یہ ملک میں فساد برپا کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ مدعی اصلاح کے ہیں اور ان کی ذمہ داری بھی یہی تھی کہ یہ اصلاح کرتے لیکن یہ اصلاح نہیں کر رہے ہیں بلکہ اصلاح کے نام سے افساد کر رہے ہیں۔ ہم تفسیر سورة بقرہ میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ جس طرح اس کائنات کے بقاء کا انحصار اس امر پر ہے کہ اس کے اندر ایک ہی خدا کا ارادہ کا فرما ہے اسی طرح اس زمین کی صلاح کا انحصار اس امر پر ہے کہ اس کے اندر اسی ایک خدا کا قانون چلے۔ اگر خدا کے قانون کے سوا کوئی اور قانون اور نظام اس میں چلایا جائے تو یہ اس زمین کے امن و عدل کو درہم برہم کرنا ہے اگرچہ اس کو کتنے ہی خوبصورت نام اور کتنے ہی نیک ارادے کے ساتھ چلایا جائے۔
Ayahs 26:153–154آیت 153۔ 154
حضرت صالح کو ان کی قوم کا جواب
مسحر میں مسحور سے زیادہ مبالغہ ہے۔ قوم نے حضرت صالح کی اس درد مندانہ تذکیر و تنبیہ کا یہ جواب دیا کہ تم تو ہم کو ایک بالکل ہی سحر زدہ آدمی معلوم ہوتے ہو کسی نے تم پر ایسا جادو کردیا ہے کہ تمہاری عقل بالکل ہی ماری گئی ہے جس کے سبب سے ہماری اس تہذیب و ترقی میں تمہیں ہر طرف خطرے ہی خطرے نظر آ رہے ہیں اور اس خطرے سے تم ہمیں ڈرا رہے ہو۔ آخر تمہارے ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ ہم تمہیں خدا کا رسول مان لیں اور تمہارے ڈرادوں سے مرعوب ہو کر اپنی اس تمام تہذیب و ترقی کی بساط لپیٹ کر رکھ دیں ! تم بھی تو ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو۔ اگر خدا کو کوئی رسول ہی بھیجنا تھا تو آخر اس نے ہمارے ہی جیسے ایک انسان کو رسول بنا کر کیوں بھیجا ؟ کسی فرشتے یا کسی مافوق بشر ہستی کو کیوں نہیں بھیجا ؟ بہرحال ہم تو تمہیں ایک جھوٹا اور لاف زن سمجھتے ہیں۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ہمیں کوئی ایسی نشانی دکھائو جس کو دیکھ کر ہم جان جائیں کہ بیشک تم خدا کے رسول ہو، اگر ہم نے تمہاری بات نہ مانی تو ہم پر وہ عذاب آجائے گا جس کے تم ڈراوے سنا رہے ہو۔
Ayahs 26:155–156آیت 156-155
قوم کے لئے عذاب کی نشانی کا تعین
حضرت صالح ؑ نے قوم کے اس فیصلہ کن جواب کے بعد ایک اونٹنی کو، جو ہوسکتا ہے کہ انہی کی رہی ہو نامزد کردیا کہ یہ عذاب کی نشانی ہے۔ یہ عذاب کے مقابل میں ایک بند کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر تم نے اس بند کو توڑا تو تم پر عذاب الٰہی آدھمکے گا۔ خبردار اس کو کوئی گزند نہ پہنچائیو ! ساتھ ہی بطور امتحان یہ ہدایت بھی دے دی کہ مویشیوں کے پانی پلانے کے گھاٹ پر ایک دن پانی پینے کی باری اس کی ہوگی اور ایک دن تمہارے مویشیوں کے لئے خاص ہوگا۔ جو دن اونٹنی کی باری کا ہو اس میں کوئی اس سے مزاحم نہ ہو۔ معلوم ہوتا ہے جانوروں کے پانی پلانے کا گھاٹ ایک ہی تھا۔ حضرت صالح نے اس پابندی سے اس معاملے کو ایک سخت آزمائش بنا دیا تاکہ قوم کی جسارت پوری طرح بےنقاب ہوجائے۔ مقصود یہ دیکھنا تھا کہ اگر اس تنبیہ کے بعد بھی لوگوں نے اونٹنی کو گزند پہنچانے کی جسارت کی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بعد وہ خود ان پر بھی ہاتھ اٹھانے سے باز نہیں رہیں گے اور جب قوم رسول کے معاملے میں طفیان کی اس حد تک بڑھ جاتی ہے تو سنت الٰہی کے بموجب وہ عذاب کی گرفت میں آجاتی ہے۔