Ayahs 26:196–197آیت 197-196
قرآن کے حق میں سابق صحیفوں کی شہادت
یہ قرآن کے حق میں سابق صحیفوں کی شہادت کا حوالہ ہے کہ اس کا ذکر اور اس کی پیشین گوئی انبیائے الیقین کے صحیفیوں میں بھی موجود ہے۔ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی تعلیم و دعوت سے متعلق تورات، زیور اور انجیل میں جو پیشین گوئیاں ہیں ہم ان کا حوالہ ان کے محل میں دے چکے ہیں۔ ان پیشین گوئیوں سے بنی اسرائیل کے علماء اچھی طرح آگاہ تھے۔ اگرچہ ان کی اکثریت نے ان کو چھپایا لیکن ان کے اندر ایسے علمائے حق بھی تھے جنہوں نے ان کا برملا اظہار کیا اور وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان بھی لائے۔ قرآن نے ان کی اس حق پرستی کی جگہ جگہ نہایت شاندار الفاظ میں تعریف فرمائی ہے۔
انہی پیشین گوئیوں اور انہی علماء کا حوالہ دے کر یہ قرآن کے مخالفین سے سوال کیا ہے کہ کیا قرآن اور اس کے داعی کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ وہ کسی مزید نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں ؟ یہ امر محلوظ رہے کہ دینی معاملات میں اہل عرب اہل کتاب کی برتری تسلیم کرتے رہے ہیں لیکن آنحضرت ﷺ کی مخالفت کے جوش میں وہ ایسے اندھے ہوگئے کہ جن اہل کتاب نے ان کی پیٹھ ٹھونکی ان کو تو انہوں نے اپنا ہمدرد بہی خواہ سمجھا لیکن جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی تائید کی ان کو انہوں نے، جیسا کہ پچھلی سورة میں گزر چکا ہے۔ قرآن کی تصنیف میں اسے شریک سازش قرار دے دیا۔
ترجمہ اصل قرآن کا قائم مقام نہیں
آیت وانہ لفی زبرالاودین کی یہ تاویل جو ہم نے کی ہے نہایت واضح ہے۔ اس کے شواہد پیچھے بھی اس کتاب میں گزر چکے ہیں۔ آگے بھی آئیں گے لیکن معلوم نہیں کہ کس طرح بعض فقہاء کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ انہوں نے اس سے یہ استنباط کیا ہے کہ قرآن کسی عجمی زبان میں بھی پڑھا سجات ہے۔ یہ بات کسی طرح ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ کسی دوسری زبان میں اگر قرآن کو منتقل کیا جائے گا تو وہ قرآن نہیں ہوگا بلکہ اس کا ترجمہ ہوگا اور ترجمہ اور اصل میں آسمان و زمین کا فرق ہوتا ہے۔ پورے قرآن کو تو درکنار قرآن کی کسی ایک سورة بلکہ ایک آیت کے ترجمہ کو قرآن کی سورة یا اس کی آیت کا قائم مقام نہیں قرار دیا جاسکتا۔ جو لوگ قرآن کے ایجاز اور اس کے اعجاز سے واقف ہیں ان کا تجربہ تو یہ ہے کہ بعض آیات کا مفہوم بالکل واضح ہوتا ہے۔ مترجم ان میں کوئی ابہام یا اشکال بھی محسوس نہیں کرتا، لیکن برسوں کی محنت کے بعد بھی جب وہ ان کا ترجمہ کرنے بیٹھتا ہے تو، ترجمہ کی زبان پر پوری قدرت رکھنے کے باوجود وہ صاف محسوس کرتا ہے کہ ترجمہ میں آیت کی بلاغت تو درکنار اس کے پورے مفہم کو بھی وہ ادا نہیں کر پایا۔ قرآن تو خیر ایک عجز کتاب ہے، دوسرے آسمانی طحائف، جن کے معجز ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا ہے، ان کا حال بھی یہ ہے کہ ان کے ترجموں کو ان کی اصل کا قائم مقام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ بلکہ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ یہود و نصاری کی گمراہی میں بڑا دخل اس چیزم کو بھی ہے کہ ان کے صحیفوں کی اصل زبان مٹ گی اور انہوں نے ان کے ترجموں ہی کو اصل کا قائم مقام قرار دے کر انہی پر اپنی تمام فقہ اور سارے علم کلام کی بنیاد رکھ دی۔ پال نے نصاریٰ کو گمراہ کرنے میں انجیلوں کے ترجموں سے جو کام لیا ہے اس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں بہرحال ہمارے نزدیک یہ استنباط اس آیت سے بالکل بےجوڑ اور بجائے خود بالکل غلط بلکہ دین کے لئے ایک شدید فتنہ ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ جن فقہاء کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ کسی غلط فہمی کی بنا پر منسوب کی گئی ہے لیکن یہ بحث ہمارے موضوع سے الگ ہے اس وجہ سے ہم اس کی تحقیق میں پڑنا نہیں چاہتے۔
Ayahs 26:198–199آیت 199-198
یہ اسی امتنان و احسان کے مضمون کی جو آیت 196 میں گزرا، مزید وضاحت فرمائی کہ اگر یہ قرآن کسی عجمی پر عجمی زبان میں اترا ہوتا اور وہ ان کو سنا تا تب تو وہ یہ عذر کرتے کہ عربی کے لئے عجمی قرآن کے کیا معنی ! لیکن اب وہ کیا عذر پیش کریں گے جب کہ اللہ نیانہی کی بہترین زبان میں اور انہی کے بہترین شخص پر اس کلام کو نازل فرمایا ! سورة حم السجدہ میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے۔ (آیت 44) (اور اگر ہم اس کو عجمی قرآن بناتے تو یہ کہتے کہ اس کی آیات کھولی کیوں نہ گئیں ! کلامی عجمی اور مخاطب عربی) سورة نحل کی آیت 103 میں بھی اس مضمون کے ایک پہلو کی وضاحت ہوئی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
Ayahs 26:200–203آیت 203-200)
سلک کے معنی کسی چیز کو کسی چیز کے اندر داخل کرنے کے بھی آتے ہیں۔ یہاں یہ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
مخالفین قرآن کی اصل بیماری
یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ قرآن سے جو بدک رہے ہیں اس کا سبب قرآن کی کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ ان کے دلوں کی خرابی ہے۔ مسلسل مجرمانہ زندگی بسر کرنے کے سبب سے ان کے دل اس قدر فاسد ہوچکے ہیں کہ ان کے اندر اب کوئی صحیح چیز قبول کرنے کی صلاحیت باقی ہی نہیں رہ گئی۔ ایک غلط روش پر پختہ ہوجانے کے باعث ان کے دل ٹیڑھے ہوچکے ہیں۔ اس وجہ سے قرآن کی سیدھی باتیں ان کے دلوں کو چیری ہوئی داخل ہوتی ہیں اور ان کی طبیعتیں اس کو قبول کرنے سے ابا کرتی ہیں۔ جس کا معدہ فاسد ہوچکا ہو اس کو صالح سے صالح غذا بھی دییے ر تو اس کی طبیعت اس کو قبول نہیں کرتی بلکہ وہ ق سے کردیتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا ہوچکا ہے اور یہ بات سنت الٰہی کے تحت ہوئی ہے۔ اس لئے کہ جو لوگ اپنی فطرت مسخ کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہی معاملہ کرتا ہے۔ اب یہ لوگ قرآن کی صداقت اسی وقت تسلیم کریں گے جب اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کی قرآن ان کو خبر دے رہا ہے۔ وہ عذاب ان پر اچانک آئے گا۔ اس کے ظہور سے پہلے ان کو اس کی کوئی خبر بھی نہ ہوگی۔ اس وقت وہ نہایت حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھت ھوڑی سی مہلت اور ملے گی کہ ہم اپنے رویے کی اصلاح کرلیں لیکن اس کا وقت گزر چکا ہوگا۔
Ayahs 26:204–207آیت 207-204)
سوال اظہار تعجب کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ جو چیز شدنی ہے وہ بہرحال شدنی یہ۔ اگر اس میں کچھ دیر ہو رہی ہے تو اس کے منی یہ نہیں ہیں کہ اب یہ اس سے مامون ہوگئے۔ اگر ہم نے ان چند سال اور کھانے بلسنے کی مہلت دے دی تو اسے کیا فرق پیدا ہوجائے بالآخر تو ان کو اسی چیز سے سابقہ پیش آنا ہے جس سے ان کو آگاہ کیا جاسکے۔ رہا ہے ! ان کے اندر رسول کی بعثت نے اب یہ فیصلہ کن مرحلہ ان کے سامنے کردیا ہے۔ اس میں اگر تاخیر ہو رہی ہے تو یہ مصلحت الٰہی سے ہو رہی ہے۔ اس تاخیر کے سبب سے اگر یہ اس سے نچنت ہو کر اس کا مذاق اڑا رہے ہیں تو یہ ان کی بدبختی ہے۔
Ayahs 26:208–209آیت 209-208
قریش کو تنبیہ
یہ اس سنت الٰہی کی یاد دہانی ہے جو اللہ تعالیٰ نے قوموں کے معاملے میں اختیار فرمائی ہے کہ وہ عادل اور رحیم ہے اس وجہ سے انذار اور اتمام حجت کے بغیر وہ کسی قوم کو ہلاک نہیں کرتا۔ ذکری یہاں رسولوں کے مقصد بعثت کی واضحت کے لئے ہے اور اسلوب بیا نواضح کر رہا ہے کہ مقصود اس پر خاص طور پر زور دینا ہے کہ بغیر اس یاد دہانی کے اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک نہیں کرتا۔ بغیر یا دہانی کے ہلاک کرنا ظلم ہوتا اور اللہ تعالیٰ ظلم نہیں ہے۔ یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ سنت الٰہی کے مطابق تذکیر کے لئے ایک منذر آگیا ہے۔ اگر تم نے اس کی قدر نہ کی تو اس کا جو لازمی نتیجہ ہے وہ تمہارے سامنے آ کر رہے گا اور یہ کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ عین عدل ہوگا۔
Ayah 26:210وما تنزلت بہ الشیطن
اوپر آیت 192 میں جو بات مثبت پہلو سے فرمائی ہے وہی بات یہاں منفی پہلو سے ارشاد ہوئی ہے۔ ان مثت و منفی دونوں پہلوئوں کو سامنے رکھ کر آیت کا مطلب یہ ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا کلام ہے۔ شیطین کا اتارا ہوا نہیں ہے جیسا کہ تم (یعنی قریش) سمجھتے یا کہتے ہیں۔
Ayahs 26:211–212یہ دلیل ارشاد ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں یہ شیطانی کلام نہیں ہو سکتا۔
پہلی دلیل اس کی یہ ہے کہ وما ینبغی لھم، یعنی اس طرح کا کلام اتنارنا شیاطین کے لائق کام نہیں ہیں اور اس لئے کہ یہ شیاطین کے مقدار اور ان کے مشن کے بالکل خلاف ہے۔ یہ کلام اتار کر آخر اپنے ہی ہاتھوں وہ اپنی سلطن بربادکیوں کریں گے۔ ابعینیہ یہی بات سیدنا مسحا ؑ نے اپنی وقت کے فقیہوں اور فریسیوں کے جواب میں فرمائی تھی جب انہوں نے آپ کے معجزات کے اثر کو مٹانے کے لئے عوام میں پھیلانا شروع کیا ہے کہ یہ بد رحوں کو لوگوں کے اندر سے نکالنے کا جو کرشمہ دکھاتے ہیں یہ بھوتوں کے سردار بعلز بول کی دد سے دکھات ہیں ان کے جواب میں سیدنا مسخ نے جو کچھ فرمایا وہ انجیل میں یوں نقل ہوا ہے۔
”لیکن ان میں سے (اشارہ فقیہوں اور فریسیوں کی طرف ہے) بعض نے کہا یہ تو بدروحوں کے سردار بعلز بول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے … مگر اس نے صحضرت مسیح نے) ان کے خیالات کو جان کر اس سے کہا جس سلطنت میں پھوٹ پڑے وہ ویران ہوجاتی ہے اور جس گھر میں پھوٹ پڑے وہ برباد ہوجاتا ہے اور اگر شیطان بھی اپنا مخالفت ہوجائے تو اس کی سلطنت کس طرح قائم رہے گی ؟ لوقاب 11-16-18
بعینیہ یہی بات قرآن نے ماینبعی لھم کے دو لفظوں میں فرما دی ہے۔
دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ ومایستطیعون وہ اس طرح کا کلام نازل کر بھی نہیں کستے۔ قرآن نے قریش کو یہ تحدی بار بار کی کہ اگر تم اس کلام کو انسانی کلام سمجھتے ہو تو اس کے مانند کوئی اپنے شریکوں شاعروں کاہنوں اور جنوں کی مدد سے پیش کرو لیکن وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکے اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ کلام جنات، وشیاطینکے بس کا کام نہیں ہے۔ اگر ان کے بس کا ہوتا تو ان کے ساتھ سب سے زیادہ گہری دوستی تو قریش اور اس کے کاہنوں کی تھی۔ آخر انہوں نے ان کی مدد کیوں نہیں کی !
تیسرا جواب یہ دیا کہ انھم عن السمع المعزدلون یعنی ان کو ملاء اعلیٰ کی باتوں کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ اگر تمہارا یہ گمان ہے کہ یہ ملاء اعلیٰ کی باتوں کی کچھ سن گن لے لیتے ہیں تو یہ محض واہمہ ہے۔ اب تک اگر یہ کچھ کان لگانے اور ٹوہ لینے کی کوشش کرتے بھی رہے ہیں تو اب اس سے بھی روک دیئے گئے ہیں۔ سورة جن میں خود جنتا کی زبان سے ان کا اعتراف یوں نقل ہوا ہے۔
وانا لمسنا السمآء فوجدنھا ملنت حرساً شدیداً وشھدوان کذ نصعف منھا مقاعد للسمع ط فمن یستمع الان یحبانہ شھادا عداً الجن 5-78
اور ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ اس کو مضبوط پہرے اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے اور ہم اس میں مختلف ٹھکانوں میں کچھ سننے کے لئے بیٹھتے تھے لیکن اب جو کوئی کان لگائے گا تو ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔
سورة جن کی یہ آیت نظام ملکوت میں ایک اہم انتظام کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو قرآن کو ہر قسم کی شیطانی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ انشاء اللہ سورة کی تفسیر میں ہم اس کی وضاحت کریں گے۔
Ayah 26:213چند آیات التفات
یہ اور آگے کی چند آیات آنحضرت ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں۔ خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کی طرف ہے لیکن اس میں جو عتاب ہے اس کا رخ مکذبین و منکرین کی طرف ہے۔ فرمایا کہ اصل حقیقت یہ ہے جو تم پر ظاہر کردی گئی ہے تو تم بہر حال اللہ واحد کے ساتھ کسی اور معبود کو شریک نہ کرو بلکہ ان لوگوں کی تمام مخالفت کے علی الرغم اپنے موقف حق پر جمے رہو کہ اس عذاب سے محفوظ رہو جو ان مکذبین پر آیا چاہتا ہے۔
قریبی خاندان کو انذار کا حکم
Ayah 26:214یعنی اس عذاب سے جس کی خبر دی جا رہی ہے، اپنے اہل خاندان کو ہوشیار کردو۔ یہ تمہارے عزیز و اقارب ہیں اس وجہ سے تمہاری خیر خواہی کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ آنحضرت ﷺ کا قریبی خاندان ہی تھا جس کو بیت اللہ کی تولیت اور اہل عرب کی دینی و سیاسی پیشوائی کا منصب حاصل تھا اس وج ہ سے قرابت اور سیاست دونوں کا تقاضا یہ تھا کہ آپ ان کو آنے والے خطرے سے آگاہ کردیں۔ اگر وہ اصلاح قبول کرلیتے تو دوسروں کی اصلاح کا معاملہ بہت آسان ہوجاتا اسی وجہ سے حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی ہمیشہ یہ سنت رہی ہے کہ انہوں نے اپنے زمانہ کے قائدین کو انذار کیا ہے۔ عوام کی طرف اس وقت توجہ فرمائی ہے جب قائدین نے اپنے رویہ سے مایوس کردیا ہے۔ سیدنا مسیح ؑ نے پہلے سارا زور یہود کے علماء پر صرف فرمایا لیکن جب وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئیتو انہوں نے عوام کی طرف توجہ فرمائی۔ اسی پہلو سے یہاں آنحضرت ﷺ کو آپ ﷺ کے عشیرہ اقربین کے انذار کی ہدیات ہوئی کہ قرابت کا حق بھی ادا ہوجائے اور اگر وہ اصلاح قبول کرلیں تو آگے کے لئے دعوت کی راہ بھی صاف ہوجائے۔
Ayah 26:215واخفص جناحک لمن اتبعک من المومنین جو لوگ ایمان لا چکے تھے ان کے معاملے میں آپ کو یہ ہدایت ہوئی کہ جس طرح کسی خطرے کو محسوس کر کے مرغی اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپائے رکھتی ہے اسی طرح تم ان لوگوں کو اپنی شفقت کے بازوئوں کے نیچے چھپائے رکھو کہ ان میں سے کوئی غفلت کے سبب سے اس عذاب کی زد میں نہ آجائے جس کی خبر دی جا رہی ہے یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اس عشیرہ قربین کے بہت کم افراد شاملت ہے جن کے اوپر انذار کی ہدایت ہوئی ہے بلکہ یہ زیادہ تر عوام کے طبقہ کے غریب و نادار لوگ تھے جن کو قریش کے اکابر نہایت حقیر سمجھتے تھے لیکن ان کے لئے اس شفقت و رحمت کی ہدایت ہوئی اور ان کے لئے اس انذار کی۔
Ayah 26:216یعنی اگر تمہارے عشیرہ قربین کے لوگ تمہارے انذار کو خاطر میں نہ لائیں تو تم ان سے صاف الفاظ میں اعلان برأت کر دو کہ جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ یہ اعلان برأت انذار کا آخری مرحلہ ہے۔ اس کے بعد رسول کے مکذبین کے لئے عذاب اور رسول اور اس کے ساتھیوں کے لئے ہجرت کا مرحلہ آجاتا ہے۔ یہ اعلان برأت تمام انبیاء (علیہم السلام) سے مقنول ہے۔ سیدنا ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے جس طرح اعلان برأت کیا وہ پیچھے گزر چکا ہے۔
Ayah 26:217یعنی اس اعلان برأت کے نتائج کی پرواہ نہ کرو بلکہ اپنے رب عزیز و رحیم پر پورا بھروسہ رکھو کہ وہ آگے کے مراحل میں، ہر مشکل اور ہر خطرے میں، تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی مدد فرمائے گا۔ وہ عزیز ہے، اس وجہ سے جو کچھ وہ کرنا چاہے گا کر ڈالے گا۔ کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا اور رحیم ہے اس وجہ سے وہ اپنے ان بندوں کو اپنی رحمت سے نوازے گا جو اس کی خاطر اپنے عزیزوں قریبوں کو چھوڑیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس اعلان برٹت کے بعد پیغمبر اور اس کے ساتھی اپنے ماحول سے کٹ کر ایک نئے ماحلو سے جڑتے ہیں اور یہ نیا ماحول بالکل پردہ خفا میں ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یہ مرحلہ نہایت کٹھن ہوتا ہے۔ اپنوں کو دمشن بنا لینا درآنحالیکہ مستقبل بالکل مجہول ہو کوئی آسان بازی نہیں ہے۔ یہ بازی وہی لوگ کیل سکتے ہیں جن کو اپنے رب پر پورا بھروسہ ہو کر وہ عزیز بھی ہے اور رحیم بھی۔
Ayahs 26:218–220آیت 220-218
یہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی شب خیزی، فکرمندی اور طلب رضائے الٰہی میں سرگرمی و مستعدی کی نہایت شاندار ودل نواز انداز میں تعریف و تحسین ہے کہ اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھو جو تمہیں اس وقت دیکھتا ہے جب تم شب میں تہجد کے لئے اٹھتے ہو اور اس سے دعا و مناجات کی برکتوں اور سعادتوں سے بہرہ مند ہوں۔ تمہاری یہ ساری سرگرمیاں تمہارے رب کے علم میں ہیں۔ وہ سمیع وعلیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس کے علم میں ہیں تو یہ ضائع جانے والی نہیں۔ تمہارا رب عزیز و رحیم ہر مشکل میں تمہاری مدد فرمائے گا۔
حین تقوم کی تاویل میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں اور ان میں سے ہر قول کی صحت کا احتمال ہے لیکن تقلبک فی السجدین کے قرینہ کی بنا پر میں زیادہ قوی ان لوگوں کے قول کو سمجھتا ہوں جنہوں نے اس سے قیام لیل کو مراد لیا ہے۔ ہم یہ بات مختلفمقامات پر بدلائلواضح کرچکے ہیں کہ دعوت کے مراحل جتنے ہی سخت ہوتے گئے ہیں قدرتی طور پر اتنی ہی آپ کی شب بیداری میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے تاکید میں بھی اضافہ ہوتا گیا ہے۔ آخری گروپ کی سورتوں میں اس کی تفصیلات انشاء اللہ آئیں گی۔ یہاں آپ کی انہی سرگرمیوں کی طرف اشارہ ہے کہ تمہاری شب بیداریوں کو خدا دیکھ رہا ہے۔ یہ چیز ضائع جانے والی نہیں ہے۔ یہ مضمون سورة طور کی آیت 48 اور سورة ق کی آیت 40 میں بھی آئے گا۔ وہاں ہم انشاء اللہ اس کی مزید وضاحت کریں گے۔
وتقلبک فی السجدین، تقلب کے معنی آمد شد اور ایاب و ذہاب کے ہیں۔
نبی ﷺ اور صحابہ کی شب خیزی کی تحسین
آنحضرت ﷺ جس طرح خود شب کی دعا و مناجات کا اہتمام فرماتے تھے۔ اسی طرح اپنے صحابہ کو بھی اس کی تاکید فرماتے تھے اور قوتاً فوقتاً آپ مسجد میں جا کر یہ روح پر ور منظر دیکھت یبھی تھے کہ لوگ دعا و عبادت میں مشغول ہیں۔ اوپر آیت 215 میں آپ کو مومنین کے باب میں یہ ہدیات جو فرمائی گئی کہ ان کو اپنی شفقت کے بازوئوں کے نیچے رکھو، یہ بھی اسی کا ایک پہلو ہے کہ آپ کی طرح آپ کے ساتھی بھی پوری طرح چوکنے اور بیدار رہیں۔ انجیلوں میں سیدنا مسیح کے بارے میں بھی آتا ہے کہ جب آزمائش کا آخری مرحلہ آیا ہے تو وہ ایک پہاڑی پر جا کر دعا میں مشغول ہوگئے اور اپنے شاگردوں کو بھی ہدایت فرمائی کہ وہ جاگیں اور دعا کریں کہ فتنہ میں نہ پڑیں پھر وہ بار بار اپنے شاگردوں کے پاس یہ دیکھنے کے لئے آئے کہ وہ دعا کر رہے ہیں یا نہیں۔ شاگرد سو جاتے تو وہ ان کو بار بار جگاتے کہ دعا کرو تاکہ فتنہ سے محفوظ رہو۔
انہ ھو السمیع العلیم اوپر توکل کی ہدایت کے ساتھ اپنی صفات عزیز و رحیم کا حوالہ دیا ہے۔ اب یہ پیغمبر ﷺ اور صحابہ کی شب بیداریوں کا حوالہ دینے کے بعد اپنی صفات سمیع وعلیم کا حوالہ دیا موقع پر محل بالک واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کی انہی صفات کے استحضار پر توکل کی بنیاد ہے۔
Ayahs 26:221–223آیت 223-221
شیاطین کن پر اترتے ہیں ؟
اوپر کی آیات میں آپ نے دیکھا کہ پوری وضاحت کے ساتھ قرآن کے منبع ومصدر، اس کے مامون و محفوظ واسطہ نزول اور اس کے پاک و مطہر حامل کا ذکر ہوا ہے او اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ یہ کوئی القائے شیطانی ہے۔ یہ ساری باتیں قرآن کے ان مخالفین کی تردید میں فرمائی گئی ہیں جو نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ آپ ایک کاہن ہیں اور جس طرح کاہنوں پر شیاطین غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں اسی طرح ان پر بھی شیاطین یہ کلام القاء کرتے ہیں جس کو یہ ہمارے سامنے وحی الٰہی کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ اب یہ خلاصہ بحث کے طور پر ان الزام لگانے والوں کو مخاطب کر کے فرمایا اگر تم فی الواقع یہ جاننا چاہتے ہو کہ شیاطین کن پر اترتے ہیں تو آئو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ کن پر اترتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ ان لپاٹیوں اور نابکاروں پر اترتے ہیں جو ان کی طرف کان لگاتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ان کاہنوں کی تصویر ہے جن کے دام فریب میں مشرکین عرب پھنسے ہوئے تھے۔ ان صفات کے ساتھ ان کا ذکر کر کے ان کا پورا کردار سامنے کردیا۔ ان کی پہلیصفت یہ بتائی ہے کہ یہ افاک یعنی بالکل لاغی دروغ باف اور لپاٹیے ہوتے ہیں۔ یہ سادہ لوحوں کو بیوقوف بنانے کے لئے طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں اور پھر اس دعوے کے ساتھ ان کو پیش کرتے ہیں کہ یہ باتیں ان پر غیب سے القاء ہوئی ہیں۔ ان کی دوسری صفت اثیم بیان ہوئی ہے یعنی الخاقی اعتبار سے یہ ہر قسم کے گناہوں میں آلودہ ہیں۔ آخر میں ان کے اس بھگل کی تصویر پیش کی گئی ہے جو عوام کو بےوقوب بنان یکے لئے یہ لوگ اختیار کرتے تھے۔ ان لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ احمق لوگ جب کسی معاملے میں غیب کی باتیں معلوم کرنے کے لئے ان سے رجوع کرتے تو یہ لوگ کچھ عملیات سفلیہ کے ساتھ مراقبہ کرتے اور پھر ایک میضے کلام کی صورت میں (جو اکثر بالکل بےمعنی یا ذو معانی ہوتا) اپنا الہام پیش کرتے کہ یہ ان پر غیب سے فلاں جن نے القاء کیا ہے۔ ان کے اس مراقبہ کو یہاں ال قائے سمع سے تعبیر فرمایا ہے اس لئے کہ وہ مراقبہ میں اس طرح بیٹھتے گویا ہاتف غیب سے کوئی بات سننے کے لئے کان لگائے ہوئے ہیں۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ مراقبہ کا یہ طریقہ تمام مشرک قوموں میں رہا ہے۔ کاہن، پردہت، جوگی، عامل، متصوفین اور قبروں کے مجاورین اسی طرح کی نمائش کر کے ارواح غیب سے رابطہ پیدا کرنے کا دعویٰ کرتے اور لوگوں کو بیوقوف بناتے رہے ہیں۔
کہانت کے جھوٹے مدعی
واکثرھم کذبون کاہنوں میں بعض بعض توعملیات سفلیہ کے جاننے والے ہوتے اور ان کے ذریعہ سے وہ بعض جنات سے تعلق پیدا کرلیتے تھے جو ان پر جھوٹ سچ کچھ القاء بھی کرتے تھے لیکن اکثر کاہن محض اس پیشہ کو عوام فریبی کا ایک کامیاب پیشہ سمجھ کر کاہن ہونے کے مدعی بن جاتے اور لوگوں کو الو بناتے پھرت۔ انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان میں سے اکثر اپنے اس باطل پیشہ کہانت میں بھی سچے نہیں ہیں بلکہ جھوٹے ہیں۔ اگر ایک شخص ساحر ہو اور وہ اپنے کو ساحر کی حیثیت سے پیش کرے تو گو سحر و ساحری ایک باطل شے ہے لیکن وہ اپنے دعوے میں سچا ہے لیکن ایک شخص ساحر نہ ہو اور ساحر ہونے کی نمائش کرے تو وہ لپاٹیا ہے۔
Ayahs 26:224–227آیت 227-244
آنحضرت پر اشعر ہونے کے الزام کی تردید
اوپر کی آیات میں آنحضرت ﷺ پر کہانت کے الزام کی تردید ہوئی۔ اب آگے کی آیات میں شعر و شاعری کے الزام کی تردید آرہی ہے۔ قریش آنحضرت ﷺ کو شاعر یا قرآن کو جو شعر کہتے تھے تو شعر یا شاعری کے معروف معنی میں نہیں کہتے تھے۔ آخر وہ ایسا کہہ بھی کیسے سکتے تھے، معروف معنی میں نہ آنحضرت ﷺ کو شاعر کہنے کی کوئی وجہ تھی اور نہ قرآن کو شعر کہنے کی۔ اصل یہ ہے کہ جب قریش نے دیکھا کہ قرآن کی فصاحت و بلاغت دلوں کو مفتوح کرتی جا رہی ہے اور اس طرح اس کے خدائی کتاب ہونے کا دعویٰ روز بروز مسحتکم ہوتا جا رہا ہے تو اس کے توڑ کے لئے انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ قرآن میں جو بلاغت و جزالت ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ کوئی آسمانی کلام ہے بلکہ جس طرح ہمارے بڑے شاعروں کے کلام میں بلاغت ہوتی ہے اسی طرح محمد ﷺ کے کلام میں بھی بڑی بلاغت ہے جو دلوں کو محسور کرتی ہے۔ مطلب یہ کہ ان کو اگر رکھو تو اپنے بلند رتبہ شاعروں ہی کے درجے میں رکھو، ان کو خدا کا رسول اور ان کے کلام کو وحی الٰہی کا درجہ و مرتبہ دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس کے اندر ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اہل عرب یہ تصور رکھتے تھے کہ ہر بڑے شاعر کے ساتھ ایک جن ہوتا ہے جو اس کو شعر الہام کرتا ہے۔ یہ تصور دے کر وہ لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ محمد ﷺ کا یہ دعویٰ کہ ان کے اوپر خدا کی طرف سے ایک فرشتہ یہ کلام لے کر اترتا ہے محض واہمہ ہے۔ یہ فرشتہ نہیں بلکہ اسی طرح کا کوئی جن ہے جس طرح کا جن ہر بڑے شاعر کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔ الزام لگانے والوں کے اس ذہنی پس منظر کو سامنے رکھ کر اب قرآن کے جواب پر غور کیجیے۔ قرآن نے یہاں تین کسوٹیاں معترضین کے سامنے رکھ دی ہیں کہ ان پر پرکھ کر وہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ یہ کلام شعر اور اس کا پیش کرنے والا کوئی شاعر ہے یا یہ کلام، کلام ربانی اور اس کا سنانے والا اللہ کا رسول ہے۔
فیصلہ کے لئے تین کسوٹیاں پہلی کسوٹی : درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے
والشعرآء یتبعھم الغاون (224) پہلی کسوٹی یہ ہے کہ درخت اپنے پھل اور آدمی اپنے ساتھیوں سے پہچانا جاتا ہے۔ تم اپنے شاعروں کو دیکھو کہ ان کے کلام نے کس طرح کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچا اور ان کو متاثر کیا ہے اور پھر پیغمبر کو دیکھو کہ ان کے کلام و پیغام نے کس طرح کے لوگوں کو اپنی طرف جذب کیا ہے ؟ اگر انصاف سے دیکھو تو صاف نظر آئے گا کہ ان شعراء کے ساتھی گمراہ اوباش، عیاش اور شرپسند قسم کے لوگ بنے ہیں اور اس کے بالکل برعکس پیغمبر کے کلام نے ان لوگوں کو متاثر کیا ہے جو شریف نیک طینت، صالح فطرت اور خدا ترس ہیں۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ عرب کی سوسائٹی میں شاعری کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ عوام کی باگ بالکل انہی کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ یہ جو اگٓ بھڑکا دیتے ان کے پیرو عوام نتائج سے بےپروا ہو کر، بےخطر اس میں کود پڑتے۔ بکر و تغلب کی مشہور لڑائی، جس کے متعلق مشہور ہے کہ نصف صدی تک جاری رہی، اس کی آگ بھڑکانے میں سب سے زیادہ دخل مشہور شاعر مہلہل کے اشعار کو تھا۔ الخاقی اعتبار سے اس شاعری کا جو حال تھا اس کا اندازہ ان کے سب سے بڑے شاعر امرء القیس کے اشعار سے کیا جاسکتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے بڑے شاعروں میں اس کی فحاشی کی مثالن ہیں مل سکتی۔ یہاں تک کہ اہل عرب بھی اس کو اپنا سب سے بڑا شاعر ماننے کے باوجود اس کو الملک الضلیل زرندہ بادشاہ کہتے تھے۔ اس کی شاعری میں اگر مکارم اخلاق کی باتیں ملتی ہیں تو وہ بطور مفاخر کے ملتی ہیں اور ان کے ساتھ بھی ایسے گھنونے مفاسد چپکے ہوئے تھے کہ ان کا ضرر ان کے نفع پر غالب ہوگیا تھا۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں جوئے اور شراب کے بحث میں ہم اس مسئلہ پر لکھ آئے ہیں۔ تفصیل کی ضرورت ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ ظاہر ہے کہ جو شاعر اس مزاج اور اس قماش کے ہوں گے وہ اسی قسم کے لوگوں کو اپنے اردگرد جمع کرسکیں گے جو ان کے ہم مشرب اور ہم رنگ ہوں۔
دوسری کسوٹی : شاعروں کا کوئی معین ہدف نہیں ہوتا
الم ترا انھم فی کل داریھیمون (225) یہ دوسری کسوٹی ہے کہ ان شاعروں کی شاعری کا کوئی معین ہدف نہیں۔ جو واردہ دل پر گزر گیا، اگر اس کو ادا کرنے کے لئے ان کو کوئی اچھوتا اسلوب ہاتھ آگیا تو اس کو شعر کے قالب میں ڈھال دیں گے۔ اس سے بحث نہیں کہ وہ رحمانی ہے یا شطاتنی، روحانی ہے یا نفسانی، اس سے خیر کی تحریک ہوگی یا شر کی۔ ان کے اشعار پڑھیے تو ایک شعر سے معلوم ہوگا کہ ولی ہیں دوسرے شعر سے معلوم ہوگا کہ شیطان ہیں۔ ایک ہی سانس میں وہ نیکی اور بدی دونوں کی باتیں بےتکلف کہتے ہیں اور چونکہ اچھوتے اور مئوثر اسلوب سے کہتے ہیں اس وجہ سے پڑھنے والے دونوں سے متاثر ہوتے ہیں لیکن نفس کو زیادہ مرغوب چونکہ بدی کی باتیں ہیں اس وجہ سے اس کے نقوش تو دلوں پر قائم رہ جاتے ہیں، نیکی کا اثر غائب ہوجاتا ہے اور اس طرح اگر ان کے کلام میں کچھ افادیت ہوتی بھی ہے تو وہ ان کے تضاد فکر میں غائب ہوجاتی ہے … جھاڑ جھنکاڑ کے جنگل میں اگر کچھ صالح پودے بھی لگا دیئے جائیں تو وہ ثمر نہیں ہوتے۔
اس کے بالکل برعکس قرآن کی ہم آہنگی و ہم رنگی کا حال یہ ہے کہ اس کا مخصوص و معین ہدف ہے اور شروع سے لے کر آخر تک اس کی ہر آیت اسی ہدف پر پہنچتی ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ اس کے اندر کوئی کسی تضاد و تناقض کی نشاند ہی کرسکے اور قرآن نے اپنے اس معین ہدف کی صداقت ایسے مضبوط دلائل سے ثابت کردی ہے کہ ایک ہٹ دھرم کے سوا کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے کلام کو شعر اور اس کے پیش کرنے والوں کو شاعر کہعنے کا کیا تک ہے !
تیسری کسوٹی : شاعر صرف گفتار کے غازی ہوتے ہیں۔
وانھم یقولون مالا یفعلون (220) یہ تیسری کسوٹی ہے کہ شاعر گفتار کے غازی ہوتے ہیں، کردار کے غازی نہیں ہوتے۔ وہ اپنے شعروں میں تو اپنے آپ کو رزم کے رستم و اسفند یار اور کوچہ عشق کے مجنوں و فرہاد کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں لیکن یہ محض لاف زنی ہوتی ہے، عملی اعتبار سے وہ بالکل صفر ہوتے ہیں۔ وہ خیالی دنیا میں رہتے ہیں اور ان کی ساری رزم و بزم بالکل خیالی ہوتی ہے۔ جن مکارم اخلاق کی تعریف میں وہ آسمان و زمین کے قلابے ملاتے ہیں ان پر عمل کرنے کی انہیں کبھی توفیق نہیں ہوتی۔ اسی طرح اپنی جس رندی کا وہ اپنے شعروں میں اشہتار دیتے ہیں وہ بھی درحقیقت اپنی ہوس کا اشتہار دیتے ہیں۔ عملی اعتبار سے وہ اس میں بھی بزدل ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس پیغمبر کو دیکھو کہ وہ جو کلام پیش کر رہے ہیں اس کا سب سے بڑا عملی نمونہ وہ خود ہیں۔ جس خدا ترسی، جس بندگی، جس ایثار اور جس قربانی کی دعوت وہ خلق کو دیتے ہیں اس پر سب سے آگے بڑھ کر اور سب سے زیادہ عمل وہ خود کرتے ہیں اور ان کا کٹر سے کٹر دشمن بھی یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ ان کا کوئی قول و فعل سرمو اس کتاب سے منحرف ہے جو وہ لوگوں کو خدا کی کتاب کی حیثیت سے سنا رہے ہیں تو ایک ایسی قدسی صفات شخص کو ان شاعروں کی صف میں کھڑے کرنے کے کیا معنی جن کے اقوال و اعمال میں ادنیٰ مطابقت بھی نہیں ہے !
آیت 227
دربار رسالت کے شعراء کا استثناء
یہ اس عام کلیہ سے جو شعراء سے متعلق مذکور ہوا، استثناء ہے اور یہ اشارہ ہے دربار رسالت کے شاعروں کی طرف فرمایا کہ یہ لوگ بیشک ایمان کی دولت سے بہرہ مند ہیں۔ ایمان نے ان کی شاعری کا ایک ہدف معین کردیا ہے اس وجہ سے یہ چوبائی تیر نہیں پھینکتے بلکہ ان کا ہر شعر کلمہ حق کی حمایت میں اور رفع ذکر الٰہی کے لئے ہوتا ہے اور یہ صرف گفتار کے غازی نہیں ہیں بلکہ تقویٰ اور عمل صالح کی دولت سے بھی مالا مال ہیں۔ وذکر وا للہ کثیرا یعنی ان کے کلام میں عشق و ہوس اور مفاخر و مطاعن کے بجائے زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر اور اعلائے کلمتہ اللہ ہوتا ہے۔ وانتصروا من بعد ماظلموا یعنی اگر انہوں نے اپنے شعروں میں دوسروں سے متعلق کچھ کہا ہے تو وہ ہجو نہیں ہے بلکہ اپنے حق کی حمایت و مدافعت میں کہا ہے جب کہ ان پر زیادتی کی گئی ہے۔ ہر مظلوم کو اپنی اور دوسرے مظلوموں کی مدافعت کا حق حاصل ہے۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون جب ان لوگوں کی مظلومی کا ذکر آگیا تو ساتھ ہی ان ظالموں کے انجام کی طرف بھی اشارہ فرما دیا جو اس ظلم کے مرتکب ہوئے۔ فرمایا کہ ابھی تو ان کے ظلم کی مدافعت زبان سے ہو رہی ہے لیکن عنقریب وہ وقت بھی آنے والا ہے جب یہ کھلی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ یہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں !
ہمارے شعراء اور ان کی شاعری
شعراء اور ان کی شاعری پر قرآن نے یہ تنقدی جو کی ہے اگرچہ اصلاً اس کا تعلق جاہلیت کے شعراء اور ان کی شاعری سے ہے لیکن انصاف سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ تنقید ٹھیک ٹھیک ہمارے شعراء اور ان کی شاعری پر بھی منطبق ہو رہی ہے۔ اور یہ بات میں ان عام شاعروں کو سامنے رکھ کر نہیں عرض کر رہا ہوں جو صرف تک بندی کرتے ہیں۔ ایسے شاعروں کی خرافات پڑھنے کا اتفاق مجھے کبھی مشکل ہی سے پیش آیا ہے۔ میں یہ بات ان بلند رتبہ شاعروں کو پیش نظر رکھ کر عرض کر رہا ہوں جن کے شاعر ہونے میں کلام نہیں کیا جاسکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر قرآن کی اس کسوٹی پر ان کے کلام کو جانچیے تو مشکل سے گنتی کے چند شاعر ایسے نکلیں گے جو اس کسوٹی پر پورے اتریں گے۔ باقی سب فی کلو وادیھیمون اور یقولون مالا یفعلون کے مصداق اور ان کے مداح اور پیرو بھی انہی کی طرح غاوت میں داخل ہیں۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ جو باتیں قلم سے صحیح نکلی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے صحیح نکلی ہیں اور اگر کوئی بات غلط نکلی ہے تو وہ میرے علم کی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ضرر سے مجھ کو بھی محفوظ رکھے اور اس کتاب کے قارئین کو بھی واخردعوانا ان الحمد اللہ رب العلمین