Ayahs 26:41–42فرعون کی طرف سے ساحروں کی حوصلہ افزائی
ساحر جب فرعون کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے عام پیشہ وروں کی طرح یہ التجا پیش کی کہ اگر ہم اس مقابلے میں غالب رہے تو سرکار سے بھرپور انعام ملے گا نا ! فرعون نے ان کو اطمینان دلایا کہ انعام تو جو ملنا ہے وہ ملے ہی گا۔ مزید برآں تم پر ایں جانب کی یہ نوازش بھی ہوگی کہ تم مقربنی بارگاہ شاہی میں شامل کئے جائو گے !
Ayahs 26:43–44حضرت موسیٰ اور ساحر میدان مقابلہ میں
جب میدان مقابلہ میں موسیٰ اور ساحروں کا آمنا سامنا ہوا تو حضرت موسیٰ نے ساحروں ہی کو پہل کرنے کا موقع دیا۔ فرمایا کہ جو ہنر تم دکھانا چاہتے ہو دکھائو۔ ان کے پاس جو رسیاں اور لاٹھیاں تھیں وہ انہوں نے پانسہ کے تیروں کی طرح پھینکیں اور ساتھ ہی یہ قسم کھائی کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ہی غالب رہیں گے ! بعزۃ فرعن میں ب ہمارے نزدیک قسمیہ ہے۔ فرعن کو چونکہ ان کے ہاں دیوتا کی حیثیت حاصل تھی اس وجہ سے کوئی اہم قدم اٹھاتے ہوئے وہ اس کے عزت و اقبال کی قسم کھاتے۔ تورات میں ان کے شواہد موجود ہیں۔
Ayah 26:45سحر و ساحری کے طلسم پر عصائے موسٰی کی ضمر کاری
جواب میں حضرت موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور وہ ان کے اس سارے سوانگ کو، جو وہ اب تک لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے رچاتے رہے تھے، نگلنے لگا مایافکون کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ صرف یہی نہیں ہوا کہ اس موقع پر ساحروں نے جو کرتب دکھایا عصائے موسیٰ نے اس کا بھرم کھول دیا، بلکہ اس نے ان کے اب تک کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا، اس لئے کہ یہی ہنر کا شاہکار تھا جب اس کا یہ حشر ہوا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ عصائے موسیٰ نے سحر و ساحری کے سارے طلسم ہی کو باطل کردیا۔
Ayahs 26:46–48آیت 48-46
اسحروں کا اعتراف حق
ہم دوسروں مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ سحر و معجزہ کے فرق کو سب سے زیادہ پرکھنے والا ایک ساحر ہو ہی سکتا ہے اگر اس کے اندر اعتراف حق کی رمق ہو۔ ان ساحروں کے اندر یہ رمق موجود تھی اس وجہ سے وہ اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑے، علی رئوس الاشہاد اپنے ایمان کا اعلان کردیا اور اس تصریح کے ساتھ کہ ہم ایمان لائے رب العالمین، موسیٰ اور ہارون کے رب پر ! اوپر آیات 16 اور 24 میں فرعن کے اس غیظ و غضب کا ذکر گزر چکا ہے جو حضرت موسیٰ کے پیش کردہ رب العالمین کے خلاف وہ ظاہر کرچکا تھا۔ ساحروں نے کچھ لگی لپٹی رکھے بغیر اسی رب العالمین پر اپنے ایمان کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ اتنی واضحت اور بھی کردی کہ موسیٰ اور ہارون کے رب پر، تاکہ کسی ادنیٰ اشتباہ کی بھی کوئی گنائش کسی کے باقی نہ رہے۔ یہ ہے ایمان کا ایک ادنیٰ کرشمہ !
Ayah 26:49فرعون کی طرف سے سازش کا ہوا
بھرے میدان میں اس طرح کی شکست سے ظاہر ہے کہ فرعون اور اس کے درباریوں کی نہایت سخت رسوائی ہوئی لیکن فرعون آسانی سے شکست ماننے والا آدمی نہیں تھا۔ اس نے حالات کو سنبھالنے کے لئے فوراً ایک سازش کا ہوا کھڑا کردیا۔ ساحروں سے کہا، تم نے میری اجازت کے بغیر اس طرح سب کے سامنے اس شخص پر اپنے ایمان کا جو اعلان کیا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہی تمہارا گروہ ہے جس نے تمہیں جادو کی تعلیم دی ہے۔ تمہاری اور اس کی پہلے سے ملی بھگت تھی کہ اس طرح تم سب کے سامنے اپنی شکست مان لو گے جس سے اس کی دھاک سب کے دلوں پر بیٹھ جائے گی اور ملک کے اندر انقلاب برپا کرنے کی راہ اس شخص کے لئے ہموار ہوجائے گی۔ یہ مملکت کے خلاف تم نے ایک سازش کی ہے اس وجہ سے میں تم کو اور تمہارے اس گروہ کو وہ سزا دوں گا جو حکومت کے باغیوں کو دی جاتی ہے۔ پہلے تمہارے ہاتھ پائوں بےترتیب کاٹے جائیں گے اور پھر عبرت عالم کے لئے تم کو سولی پر لٹکایا جائے گا۔
یہاں امنتم قبل ان ذن لکم کے الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ فرعون کا مطلب یہ تھا کہ اگر فی الواقع تم نے اس شخص کو راست باز آدمی سمجھا تھا تو تمہاری خیر خواہی کا تقاضا یہ تھا کہ تم یہ بات پہلے میرے علم میں لاتے اور میں اس کی روشنی میں کوئی فیصلہ کرتا لیکن تم نے میری اجازت کے بغیر سب کچھ بطور خود کر ڈالا جو اس بات کا صاف ثبوت ہے کہ یہ فتح و شکست کا سارا ڈراما تمہاری ایک سازش ہے۔
Ayahs 26:50–51آیت 51-50
لاضیر ضیر کے معنی حرج اور ضرور کے ہیں۔ اور ان کنا اصل میں لان کنا ہے۔ زبان کے معروف قاعدے کے مطابق ل یہاں حذف ہوگیا ہے۔
فوز ایمان کا کرشمہ
فرعون نے دھمکی تو بہت بڑی دے دی لیکن اس کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اب یہ ساحر وہ ساحر نہیں ہیں جنہوں نے بڑی لجاجت سے اس سے انعام کی درخواست کی تھی بلکہ نور ایمان ایک ہی جھلک نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں پہنچ کر فرعون اور اس کی ساری سلطنت کی ان کی نگاہوں میں بال مگس کے برابر بھی وقعت باقی نہیں رہی ہے۔ انہوں نے بڑی بےخوفی کے ساتھ جواب دیا کہ اگر ہم کو یہ سزا ملی جس کی دھمکی دی گئی ہے تو اس میں ہمارا کوئی نقصان نہیں ہے، ہم بہرحال اپنے رب ہی کے پاس جائیں گے اور اگر ہم تیرے نزدیک اس بنا پر سازش کی سزا کے مستحق ہیں کہت یری اجازت کے بدون ہم نے موسیٰ پر ایمان لانے میں سبقت کی ہے تو ہم اس سزا کا خیر مقدم کرتے ہیں اس لئے کہ اول المومنین ہونے کے صلے میں ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہماری تمام غلطیاں معاف فرما دے گا۔
اگرچہ ہما شما کے لئے یہ بات نہایت حیرت انگیز ہے کہ ساحر ایک ہی جست میں معرفت کے اس مرتبہ بلند پر پہنچ گئے لیکن یہ بات تعجب کی نہیں ہے۔ سیدنا مسیح نے بھی اپنے ان پڑھ شاگروں سے فرمایا تھا کہ جب میرے نام پر تم کو لوگ عدالتوں میں پکڑوائیں گے تو پہلے سے نہ سوچنا کہ کیا جواب دو گے۔ وقت پر روح القدس خود تمہایر دل میں بات ڈالے گا۔
Ayah 26:52حضرت موسیٰ کی ہجرت اور فرعن کی کان سے ان کا تعاقب
یہاں سرگزشت کا کچھ حصہ محذوف ہے۔ ہم دوسرے محل میں، قرآن اور تورات دونوں کی روشنی میں، یہ واضح کرچکے ہیں کہ اس مقابلے میں شکست کھا جانے کے بعد حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان ایک عرصے تک کشمکش چلتی رہی۔ اس دوران میں مصر پر بہت سی آفتیں نازل ہوئیں جن سے ملک تباہی کے کنارے آ لگا ان مصائب سے تنگ آ کر فرعون کے درباریوں نے اس کو مشورہ دیا کہ بنی اسرائیل جہاں جانا چاہتے ہیں ان کو وہاں جانے کی اجازت دے دی جائے ورنہ ملک تباہ ہوجائے گا بالاخر فرعون نے مجبور ہو کر اجازت تو دے دی لیکن جب حضرت موسیٰ اپنی پوری قوم کو ساتھ لے کر نکلے تو اس کی رائے بدل گئی، اس نے فوراً ہر جگہ اپنے آدمی بھیج دیئے کہ تمام علاقوں کے سردار اپنے تمام فوجیوں اور تمام سامان جنگ کے ساتھ مرکز میں پہنچیں تاکہ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا جائے۔ آیت میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو بذریعہ وحی یہ ہدایت کردی کہ تم راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائو اور ساتھ ہی اس بات سے بھی آگاہ کردیا کہ اگرچہ فرعون نے تم کو جانے کی اجازت دے دی ہے لیکن اس کے باوجود تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔ اس خطرے سے تمہیں ہوشیا رہنا چاہئے۔
Ayahs 26:53–56آیت 56-53
فرعن خود اپنی تدبیر کے جال میں
چناچہ فرعون نے سرداروں اور فوجیوں کو اکٹھا کرنے کے لئے مملکت کے تمام شہروں میں اپنے آدمی دوڑا دیئے اور چونکہ قبطی حضرت موسیٰ کے کارناموں سے بہت مرعوب تھے اس وجہ سے ان کا حوصلہ بلند کرنے کے لئے یہ پروپگینڈا بھی زور و شور سے کیا گیا کہ اسرائیلیوں کی حیثیت ہے کیا ! وہ مٹھی بھر تو ہیں، لیکن ہاتھی سے گنا کھانے چلے ہیں ! وہ اپنی حرکتوں سے ہمیں غصہ دلا رہے ہیں، لیکن ہم ایک بھاری جمعیت کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لئے پوری طرح چوکس اور بیدار ہیں ! ہم ہرگز ان کو اس بات کا موقع نہیں دیں گے کہ وہ ملک میں کوئی گڑ بڑ پیدا کریں یا ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں ! !
Ayahs 26:57–58آیت 58-57
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی اس تدبیر سے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے باغوں اور چشموں اور اپنے خزانوں اور دولت کدوں سے نکلیں اور اپنے تمام لائو لشکر او سرو سامان سمیت سمندر میں غرق ہوں۔
Ayah 26:59ایک بلیغ حذف
کذلک کے بعد نفعن بالمجرمین یا اس کے ہم معنی الفاظ محذوف ہیں۔ یعنی ہم مجرموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ اس حذف سے کلام میں جو زور پیدا ہوگیا ہے وہ اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے۔
ضمیر استعمال کا ایک مخصوص اسلوب
وادرتنھا بنی آسرائیل میں ضمیمہ معفول سے مراد بعینیہ وہی نعمتیں نہیں ہیں جن سے قبطیوں کو اللہ تعالیٰ نے نکالا بلکہ اسی نوع کی وہ نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے بعد سر زمین فلسطین میں حاصل ہوئیں۔ چناچہ دوسرے مقام میں اس کی تصریح بھی ہے۔ فرمایا … واورثنا لقوم لذین کانو یستضعفون مشارق الارض ومغاریھا التی برکنا فیھا …(الاعراف 137) (اور وہ لوگ جو دبا کے رکھے گئے تھے ہم نے ان کو اس سر زمین کے تمام مشرق و مغرب کا مالک بنایا جس میں ہم نے اپنی برکتیں رکھی تھیں) اس آیت میں ارض مبارک سے مراد ظاہر ہے کہ سر زمین فلسطین ہے۔ مصر سے نکلنے اور صحرا گردی کا دور ختم ہون کے بعد یہی زرخیز علاقہ بنی اسرائیل کے قبضہ میں آیا ہے۔ مصر یا مملکت مصر کے کسی علاقے پر بنی اسرائیل کا قبضہ تاریخوں سے ثابت نہیں ہے۔
ممکن ہے کسی کو شبہ ہو کر ہم نے ضمیر کا مرجع معین کرنے میں یہاں تکلف سے کام لیا ہے۔ آیت کا ظاہر مفہوم تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ جن باغوں، شچموں اور خزانوں سے اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کو بےدخل کیا انہی کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا۔ لیکن یہ شبہ صحیح نہیں ہے۔ اعلیٰ عربی میں ضمیریں اس طرح بھی آتی ہیں۔ اس کتاب میں ہم اس کی متعدد مثالیں ذکر کرچکے ہیں۔ سورة مائدہ میں اس کی ایک نہایت واضح مثال موجود ہے۔ مسلمانوں کو بنی اسرائیل کے سوالات کی نوعیت کے سوالات کرنے سے ان الفاظ میں روکا گیا ہے۔
قد سا لھا قوم من قبلکم تعد اصبحو رما کفرین (المائدہ 03)
اسی طرح کے سوالات تم سے پہلے ایک قوم کے لوگوں نے کئے تو وہ ان کو تباہ نہ سکنے کے سبب سے کافر ہوئے۔
ظاہر ہے کہ یہاں ضمیر کا مرجع جن سوالات کی طرف ہے بعینیہ ویہ سوالات بنی اسرائیل نے نہیں کئے تھے بلکہ اسی قبیل کے سوالات کئے تھے۔ اسی طرح آیت زیر بحث میں بھی بعینیہ وہی باغ، چشمے اور خزانے مراد نہیں ہیں جن کا سابق آیت میں ذکر ہے بلکہ اسی نوع کی وہ نعمتیں اور برکتیں مراد ہیں جو بنی اسرائیل کو مصر سے ججت کے بعد علاقہ فلسطین میں حاصل ہئیں۔
Ayahs 26:60–62بالآخر صبح تڑکے فرعونیوں نے بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ آگے سمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر تو وہ بہت گھبرائے کہ اب تو ہم مارے گئے تورات میں ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کو برا بھلا کہنا شروع کردیا کہ کیا مصر میں ہمارے دفن ہونے کے لئے جگہ نہیں تھی کہ تم نے یہاں لا کر ہمیں مروانے کا سامان کیا ! حضرت موسیٰ نے ان کو اطمینان دلایا کہ گھیرائو نہیں۔ میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ ہمارے لئے راہ کھولے گا۔ اگرچہ آگے سمندر ہے اور پیچھے رفعن کی فوجیں، بظاہر تمہیں راہ مسدود نظر آرہی ہے لیکن میرے رب نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ تمہیں ہرگز کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔ خدا اپنی قدرت کا کرشمہ دکھائے گا اور ہمارے لئے راہ کھل کر رہے گی۔ تورات میں یہ ماجرا یوں بیان ہوا ہے !
جب مصر کے بادشاہ کو خبر ملی کہ وہ لوگ چل دیے تو فرعون اور اس کے خادموں کا دل ان لوگوں کی طرف سے پھر یا اور وہ کہنے لگے کہ ہم نے یہ کیا کیا کہ اسرائیلیوں کو اپنی خدمت سے چھٹی دے کر ان کو جانے دیا … اور مصری فوج نے فرعون کے سب گھوڑوں اور رتھوں اور سواروں سمیت ان کا پیچھا کیا … اور جب فرعون نزدیک آگیا تب بنی اسرائیل نے آنکھ اٹھا کر دیکھا کہ مصری ان کا پیچھا کئے چلے آتے ہیں اور وہ نہایت خوفزدہ ہوگئے۔ تب بنی اسرائیل نے خداوند سے فریاد کی اور موسیٰ سے کہنے لگے کیا مصر میں قبریں نہ تھیں کہ تم ہم کو وہاں سے مرنے کے لئے بیابان میں لے آیا ہے ؟ … تب موسیٰ نے لوگوں سے کہا ڈرو مت۔ چپ چاپ کھڑے ہو کر خداوند کی نجات کے کام کو دیکھو جو وہ آج تمہارے لئے کرے گا کیونکہ جن مصریوں کو تم آج دیکھتے ہو ان کو پھر کبھی ابد تک نہ دیکھو گے۔ خداوند تمہارے لئے کرے گا کیونکہ جن مصریوں کو تم آج دیکھتے ہو ان کو پھر کبھی ابد تک نہ دیکھو گے۔ خداوند تمہاری طرف سے جنگ کرے گا اور تم خاموش رہو گئے۔ (خروج : باب 14:14-5)
Ayahs 26:63–66آیت 66-63
یہ حرت موسیٰ اور ان کی قوم کے اعتماد علی اللہ کا امتحان تھا۔ اس امتحان میں بنی اسرائیل تو اپنی روایت کے مطابق بالکل ناکام رہے لیکن حضرت موسیٰ سو فیصد کامیاب ہوئے۔ اس امحتان سے گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا۔ حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد ایسی ہوا چلی کہ سمندر کا پانی پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گاک۔ دونوں طرف پانی کی دیوار کھڑی ہوگئی اور بیچ میں سے خشک راستہ نکل آیا۔ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر اس راستہ پر چلے۔ تدبیر الٰہی فرعونیوں کو بھی اسی مقام پر لائی اور انہوں نے بنی اسرائیل کے تعاقب میں اپنے رتھ اور گھوڑے سب ان کے پیچھے ڈال دیئے۔ اس کے بعد حکم الٰہی سے وہ ہوا جس نے سمندر کے پانی کو پھاڑ کر راستہ پیدا کیا تھا رک گئی۔ حضرت موسیٰ تو اپنی قوم کے ساتھ بخیریت کنارے پر پنچ گئے، ادھر سمندر کا پانی برابر ہونے لگا اور فرعونی اس کی لپیٹ میں آگئے۔ انہوں نے پیچھے بھاگنے کی کوشش کی لیکن بھاگنے کا وقت گزر چکا تھا۔ بالآخر پوری فوج غرق ہوگئی تورات میں یہ ماجرا یوں بیان ہوا ہے۔
”پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تند پوربی آندھی چلا کر اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر اسے خشک زمین بنا دیا اور پانی دو حصے ہوگیا اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور ان کے دہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا اور مصریوں نے تعاقب کیا اور فرعون کے سب گھوڑے اور رتھ اور سوار ان کے پیچھے پیچھے سمندر کے بیچ میں چلے گئے۔…
اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا تاکہ پانی مصریوں اور ان کے رھتوں اور سواریوں پر پھر بہنے لگے اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور صبح ہوتے ہوتے سمندر پھر اپنی اصلی قوت پر آگیا اور مصری الٹے بھاگنے لگے اور خداوند نے سمندر کے بیچ ہی میں مصریوں کو تہہ بالا کردیا۔ حروج : باب 14: 27-21)
آیت میں لفظ طوراً جو آیا ہے اس کے معنی پہاڑ اور تدے کے ہیں۔ تورات میں اسی مفہوم کردیوار سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کے مقام عبور سے متعلق استاذ امام مولانا استاذ امام مولانا فراہی کی رائے علمائے اہل کتاب کی رائے سے بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے اپنی یہ رائے اپنی تفسیر سورة ذاریات میں ظاہر فرمائی ہے اس رائے کے حق میں ان کے دلائل چونکہ میرے علم میں نہیں ہیں اس وجہ سے میں اس باب میں ابھی متردد ہوں۔ سورة ذاریات مجموعہ تفاسیر فراہمی میں شامل ہے۔ تحقیق کے طالب اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
Ayahs 26:67–68آیت 68-67
ترجیح
یہ سرگزشت کے آخر میں وہی ترجیح ہے جس کا حالہ اوپر گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو نشانی ہی مطلوب ہے تو اس سرگزشت کے اندر بڑا سامان عبرت موجود ہے لیکن جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ نشانیوں ہی کے مطالبے کرتے رہ جاتے ہیں۔ بڑی سے بڑی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی فرعونیوں کی طرح ان کی اکثریت کو ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کے رکشوں کو جب چاہے پکڑ سکتا ہے۔ وہ عزیز ہے لیکن وہ ان کو توبہ و اصلاح کے لئے مہلت دیتا ہے اس لئے کہ وہ رحیم بھی ہے۔
Ayahs 26:69–71آگے کا مضمون …… آیات 104-49
حضرت ابراہیم کی دعوت اور ان کی قوم کے ردعمل کا بیان
آگے حضرت ابراہیم ؑ کی دعوت اور ان کی قوم کے ردعمل کا ذکر ہے اور آخر میں وہی آیات ترجیح ہیں جو اوپر گزر چکی ہیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس سرگزشت کے منانے سے بھی مقصود وہی ہے جو پچھلی سرگزشت کے سنانے سے ہے۔
ایک بات یہاں خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ پچھلی سورة میں حضرت موسیٰ کے ذکر کے بعد حضرت نوح کا ذکر آیا تھا، بیچ کے انبیاء میں سے کسی کا ذکر نہیں آیا تھا۔ اس سورة میں حضرت ابراہیم کی سرگزشت نے اس خلا کو بھر دیا۔ اس لئے کہ حضرت نوح اور حضرت موسیٰ کے درمیان سب سے زیادہ جلیل القدر نبی حضرت ابراہیم ؑ ہی ہیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔
آیت 71-69
حضرت ابراہیم ؑ کا سوال استفہام کی نوعیت کا نہیں بلکہ استخفاف کی نوعیت کا تھا۔ یعنی یہ کیا فضول اور بےحقیقت چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو ! ان کی قوم نے ان کا جواب حمیت جاہلیت کے پورے جوش و غرور کے ساتھ دیا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور تمہارے علی الرغم اسی طرح ان کو پوجتے رہیں گے۔ تم کتنا ہی زور لگائو لیکن ہم اپنے ان معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔
Ayahs 26:72–74آیت 74-73
حضرت ابراہیم ؑ نے ان بتوں کی بےحقیقتی واضح کرنے کے لئے سوال کیا کہ جب تم ان سے دعا فریاد کرتے ہو تو کیا یہ تمہاری دا فریاد سنتے ہیں یا تمہیں کوئی نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں یا پہنچا سکتے ہیں تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں کہ تم انکی پرستش کرتے ہو ! قوم کے لوگوں نے جواب دیا کہ یہ باتیں ہم نہیں جانتے۔ بس ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا ہے، سو ہم اسی طرح کرتے رہیں گے۔ اپنے آباء و اجداد کے طریقے کو ہم تمہارے کہنے سے نہیں چھوڑ سکتے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی دعوت کے اس دور کی باتیں نقل ہو رہی ہیں۔ جب وہ تمام عقلی و نقلی اور آفاقی و انفسی دلائل سے اپنی قوم پر حجت تمام کرچکے ہیں۔ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا کہ اس کے بعد انہوں نے قوم پر حجت تمام کرچکے ہیں۔ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا کہ اس کے بعد انہوں نے قوم سے اعلان برأت کر کے ہجرت فرمائی ہے۔ اس مرحلے میں ظاہر ہے کہ نبی کی دعوت کا انداز بدل جاتا ہے اور قوم کے جواب کا انذار بھی بدل جاتا ہے۔ پیغمبر جو کچھ کہتا ہے اس کی نوعیت قوم کی عقل اور اس کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی آخری کوشش کی ہوتی ہے اور قوم جو کچھ جواب دیتی ہے اس کی نوعیت آخری ضد اور ہٹ دھرمی کے مظاہرے کی۔ یہ دونوں ہی باتیں یہاں سوال و جواب سے واضح ہو رہی ہیں۔
Ayahs 26:75–77آیت 77-75
حضرت ابراہیم کا اعلان برأت
افرء یتم کے اسلوب میں تعجب اور اظہار نفرت و بیزاری کا مضمون پایا جاتا ہے۔ یعنی ذرا ان چیزوں پر نگاہ تو ڈالو جن کو تمہارے باپ دادا پوجتے رہے اور جن کی پرستش پر تمہیں بھی ناز ہے۔ یہ بالکل بےحقیقت چیزیں ہیں۔ ان کے بارے میں میرا یہ فیصلہ سن لو کہ یہ ساری چیزیں میری دشمن ہیں اور میں ان سے بیزار ہوں۔ میں اللہ رب العالمین کے سوا کسی چیز کی پرستش نہیں کرتا۔ ”یہ چیزیں میری دشمن ہیں“ یعنی یہ شیطان کے ایجاد کئے ہوئے پھندے ہیں اور شیطان بنی نوع انسان کا دشمن ازلی ہے جس کا اصل کام ہی یہ ہے کہ وہ خلق خدا کو صراط مستقیم سے روکے۔ یہ حضرت ابراہیم کا وہ اعلان برأت ہے جس کے بعد انہوں نے ہجرت فرمائی۔ سورة والصافات میں ان کا کلمہ ہجرت یوں نقل ہوا ہے۔ انی ذاھب الی ربی سیھدین (99) (میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں وہ میری رہنمائی فرمائے گا) اسی ہجرت کا اعلان عنکبوت کی آیت 26 میں ہے۔ پیغمبر اپنے ماحول کا نہایت خیر خواہ، دوست، مشفق اور ہمدرد ہوتا ہے لیکن جب ماحول خود اس کا دشمن بن جاتا ہے اور اس کی ہدایت کی قدر کرنے کے بجائے اس سے اپنی ضلالت کی قدر کرانا چاہتا ہے تو وہ ان کو اپنا دشمن سجھ کر اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہے۔ اسی وجہ سے سیدنا ابراہیم ؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں ان کا دشمن ہوں بلکہ یوں فرمایا کہ وہ میرے دشمن ہیں۔