Ayahs 26:78–82آیت 82-78)
اپنی قوم کے بتوں کی بےحقیقتی واضح کرنے کے بعد یہ حضرت ابراہیم نے اس رب حقیق کی صفات بیان فرمائی ہیں جو عبادت و اطاعت کا اصلی حق دار ہے۔
الذین خلقنی فھو یھدین یعنی میری عبادت کا اصلی حق داروہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور وہ میری رہنمائی فرماتا ہے۔ یہ بیان واقعہ بھی ہے اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ خلق اور ہدایت میں لزوم عقلی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف پیدا ہی نہیں کیا ہے بلکہ اس نے ہمارے اندر نہایت اعلیٰ صلاحیتیں ودیعت فرمائیں اور پھر ہمیں ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور اجاگر کرنے کا سلیقہ عطا فرمایا۔ اس نے ہمیں نہایت اعلیٰ فطرت پر پیدا کیا اور ہمیں عقل عطا فرمائی جو حق و باطل اور خیر و شر میں امتیاز کرنے والی اور زئیات سے کلیات اور محسوسات سے معقولات تک پہنچنے والی ہے۔ چناچہ فرمایا ہے : الذی خلق فسوی، والذین قد رفھدی (اعلیٰ 3-2) (جس نے ہمارا خاکہ بنایا پھر اس کے نوع پلک سنوارے اور جس نے ہمارے اندر صلاحیتیں ودیعت فرمائیں، پھر ان کے استعمال کے لئے ہماری رہنمائی فرمائی)۔
روحانی پرورش
یہ ہدایت خدا کی صفت خلق کا، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، لازمی تقاضا ہے جس خدا نے اس اہتمام اور اس حکمت کے ساتھ انسان کو پیدا کیا ہے اس کی رحمت و حکمت و حکمت سے یہ بات بعید تھی کہ وہ پیدا کر کے اس کو یوں ہی بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو یہ نہ صرف ایک کار عبث ہوتا بلکہ یہ ایک ظلم بھی ہوتا جو اس کی شان کے منافی ہے۔ اس وجہ سے اس نے جس طرح انسان کی تمام مادی ضروریات کا اہتمام فرمایا اسی طرح اس کے اس روحانی ضرورت کا بھی اہتمام فرمایا اور چونکہ انسان کے اصلی کمال کا انحصار اس کی اسی ضرورت کے کما حقہ، پورے ہونے پر تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس معاملے کو تنہا اس کی عقل پر نہیں چھوڑا بلکہ اس کی ہدایت کے لئے نبوت و رسالت کا انتظام بھی فرمای۔ حضرت ابراہیم ؑ کے اشراد کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کی سزا وار وہ ذات ہے جو ان تمام افضال و عنایات کا منبع ہے نہ کہ یہ پتھر کی مورتیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں، نہ نفع پہنچ اسکتی ہیں نہ نقصان !
والذین ھو یطعمنی ویسقین، واذا مرضت فھو یشفین، روحانی و عقلی ربوبیت کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کی مادی پرورش کی طرف توجہ دلائی کہ میرا رب وہ ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے اور جب میں کبھی بیمار پڑجاتا ہوں تو وہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے شفا بخشتا رہی ہیں اور خاص طور پر اس وہم کو ان کے شرک میں بڑا دخل رہا ہے کہ بیماری ان کی ناراضگی سے لاحق ہوتی ہے اور شفا ان کی خوشنودی سے حاصل ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کے ان اوہام پر بھی ضرب لگائی کہ ان میں سے کسی چیز میں بھی ان اصنام کو کوئی دخل نہیں ہے بلکہ یہ ساری چیزیں اس کائنات کے رب کے اختیار میں ہیں۔
واذا مرضت فھو یشفین کا اسلوب بیان بھی قابل توجہ ہے۔ کھلانے، پلانے اور شفا دینے کے افعال کی نسبت و براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی لیکن بیمار ہونے کی نسبت اپنی طرف رفمائی۔ اس کی وجہ سوء ارب سے احتراز بھی ہے اور اس حقیقت کا اظہار بھی کہ نعمتیں جس قدر بھی بندے کو ملتی ہیں وہ سب خدا کے فضل وجود سے ملتی ہیں لیکن اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ بسا اوقات اس کے کسی عمل پر مترتب ہوتی ہے۔ ہرچند وہ پہنیتک تو خدا کے اذن و حکم ہی سے ہے لیکن اس میں انسان کی اپنی غفلت کو بھی دخل ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ بندے کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ حضرت ابراہمی نے اسی پہلو کو مدنظر رکھ کر یہاں یہ فرمایا کہ جب میں بیمار پڑتا ہوں یہ نہیں فرمایا کہ ”وہ مجھے بیمار کرتا ہے“
پرورش و بداست سے روز جزا کی دلیل
والذین یمیتی ثم یحین یہ اس خلق و ہدایت اور اہتمام ربوبیت کے لازمی نتیجہ کی طرف توجہ دلائی کہ وہی ہے جو مجھے ایک دن موت دے گا اور پھر لازماً اس کے بعد ایک دن زندہ بھی کرے گا۔ جب اس نے مجھے پیدا کیا اور اس میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو دوبارہ زندہ کردینے میں کیں مشکل پیش آئے گی اور ایسا ہونا اس کے اس سارے اہتمام ہدایت و ربوبیت کا لازمی تقاضا بھی ہے۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ میرے لئے ہدایت اور پرورش کا یہ اہتمام فرمائے اور پھر یہ زندگی یوں ہی تمام ہوجائے۔
والذی طمع ان یغفرلی خطیتی یوم الدین یہ اس روز جزا و سزا کے ظہور کی طرف اشارہ ہے جس سے اس دنیا کی زندگی کے بعد لازماً ہر شخص کو سابقہ پیش آنا ہے، لیکن حضرت ابراہیم نے اس کے ظہور کی خبر دنیے کے بجائے اپنی اس توقع کا اظہار فرمایا جو اپنے رب سے وہ اس دن کے پیش آنے پر رکھتے ہیں۔ گویا اس دن کا پیش آنا تو ایک بدیہی حقیت ہے جس میں کسی شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے البتہ اس کے لئے ہر شخص کو تیاری کرنی چاہئے اور اپنے رب سے یہ امید رکھنی چاہئے کہ جو اس سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاریں گے وہ ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے گا۔
معالمات کے تقاضے سے ایک خاص اسلوب کلام
یہاں یہ امر محلوظ رہے کہ سیدنا ابراہیم ؑ نے اپنے مخاطبوں کے سامنے اپنی دعوت کے تمام بادی رکھ دیئے ہیں جن کے اندر نہایت گہرا منطقی ربط بھی ہے لیکن انہوں نے ان کو پیش کرنے میں دعویٰ اور دلیل کا اسلوب اختیار کرنے کے بجائے اپنے ذاتی تاثرات کے اظہار کا انداز اختیار فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مرحلہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اعلان برأت و ہجرت کا تھا۔ اس مرحلے میں قوم کو مخطاب کر کے بحث و استدلال کے انداز میں کچھ کہنا بےسود تھا اس وجہ سے انہوں نے اپنے ذاتی تاثرات نہایت بلیغ انداز میں ان کے سامنے رکھ دیئے کہ شاید اس طرح ان کے دل میں کوئی بات اتر جائے۔ اگر دلوں میں زندگی کی کچھ رمق ہوتی ہے تو یہ اسلوب بعض اوقات نہایت موثر ہوتا یہ۔ قرآن میں اس کی نہایت بلیغ مثالیں موجود ہیں۔
Ayahs 26:83–8583-85 ہجرت کے وقت حضرت ابراہیم کی دعا
یہ سیدنا ابراہیم ؑ کی وہ دعا ہے جو اعلان برأت و ہجرت کے اس نازک موقع پر انہوں نے کی ہے۔
رب ھب لی حکماً حکم سے مراد، جیسا کہ آیت 21 کے تحت گزر چکا ہے۔ وہ صحیح قوت فیصلہ ہے جو حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو خاص طور پر عطا ہوتی ہے۔ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ چونکہ ایک نہایت اہم قدم اٹھا رہے تھے اور اس بات کے محتاج تھے کہ آگے کے تمام مراحل میں ان کو صحیح فیصلہ کی توفیق اور خدا کی رہنمائی حاصل ہو اس وجہ سے انہوں نے سب سے پہلے اسی کے لئے دعا فرمائی۔
والحقنی بالصلحین حق کی خاطر اپنے خاندان اور اپنی قوم سے بھی انہوں نے اعلان برأت فرما دیا تھا اس وجہ سے یہ دعا بھی فرمائی کہ ان بروں کی جگہا چھوں کی معیت ورفاقت حاصل ہو۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
دعوت کے فروغ کے لئے حضرت ابراہیم کی دعا
واجعل لی لسان صدق فی الاخرین لسان کے منی یہاں شہرت اور چرچا کے ہیں اور اس کی اضافت چونکہ صدق کی طرف ہے اس وجہ سے اس سے مراد ذکر جمیل ہوگا بلکہ اس کے اندر پائیداری اور دوام و استمرار کا مفہوم بھی پیدا ہوجائے گا۔
یہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی دعوت کے فرغ و استحکام کے لئے دعا فرمائی کہ آنے والی نسلوں میں وہ پھیلے اور اس کو پائیداری نصیب ہو۔ سیدنا ابراہیم ؑ کی اس دعا کو جو قبولیت حاصل ہوئی تاریخ میں اس کی کوئی اور مثال موجود نہیں ہے۔ بنی اسرائیل میں جتنے نبی و رسول آئے سب انہی کی دعوت لے کر آئے اور آخر میں خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ نے اس دعوت کو ایک عالمگیر اور زندہ جاوید دعوت بنا دیا۔
Ayahs 26:86–87آیت 87-86
آخر میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے لئے جنت کی اور اپنے باپ کے لئے مغفرت کی دعا فرمانی۔
ولا تخزنی الآیۃ باپ کے حق میں ایک نہایت مئوثر سفارش ہے۔ آدمی کے اعزہ و اقربا بالخصوص ماں باپ لی رسوائی خود اس کی رسوائی کے ہم معنی ہوتی ہے اس وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ میرے باپ کی بھی مغفرت فرما کر اس کا جہنم میں پڑتا آخرت میں میرے لئے رسوائی کا سبب نہ بنے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس دعا سے اپنے باپ کا حق انتہائی دلسوزی کے ساتھ ادا کردیا لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون عدل بالکل بےلاگ ہے۔ باپ کے حق میں ان کی دعا قبول نہیں ہوئی بلکہ بعد میں آپ کو اس کے لئے کرنے سے بالکل روک دیا گیا۔
Ayahs 26:88–89آیت 89-88
اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم کی بات کی تکمیل
یہ بات حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کا جزو نہیں ہے بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم ؑ کی بات کی تکمیل و توضیح ہے۔ فرمایا کہ اس دن کسی کے مال و اولاد اس کے کھچ کام نہیں آئیں گے۔ صرف وہی لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں باریاب ہوں گے جو قلب سلیم کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ کسی کی اولاد اگر کچھ کام آنے والی بن سکتی تو اس اعتبار سے آزر سے زیادہ خوش قسمت کون تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ جیسا فرزند عطا فرمایا لیکن جب وہ بھی اپنے باپ کے کچھ کام نہ آسکے تو تابہ دیگراں چہ رسد !
قلب لیم سے مراد
قلب سلیم، سے مراد شرک و نفاق کی ہر آلائش سے بالکل پاک اور محفوظ دل ہے۔ جس دل میں کسی اور کی حصہ داری یا نفاق کی بیماری ہو اس کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں ہے۔
Ayahs 26:90–9190۔ 91
نیکوکاروں کی تشریف و تکریم
اذلاف کے معنی لانے کے ہیں۔ یہ نیکو کاروں کی تشریف، تکریم کی طرف اشارہ ہے کہ جنت ایک پیشکش کی طرح ان کے سامنے پیش کی جائے گی۔ اس دنیا میں انہوں نے جو نیکی کمائی اس کے صلے میں وہ ان کے لئے پہلے سے آراستہ پیراستہ تیار ہوگی۔ اس دن انہیں اس کے لئے کوئی سفر نہیں کرنا پڑے گا بلکہ وہ خود ان کے سامنے لائی جائے گی۔ اسی طرح دوزخ بھی گمراہوں کے لئے بالکل تیار ہے۔ قیامت کے دن بس اس کا پردہ اٹھا دیا جائے گا اور جس چیز کو وہ نہایت بعید سمجھ کر اس سے بالکل نچنت رہے وہ دیھ لیں گے کہ اس کے ظہور میں صرف پر دہا ٹھنے کی دیر تھی۔
Ayahs 26:92–93آیت 92۔ 93
بدکاروں کا حشر
نصر کے معنی دوسرے کی مدد کرنے اور نتصار کے معنی خود اپنی مدافعت کرنے کے ہیں۔ فرمایا کہ اس وقت دوزخ میں پڑنے والوں سے کہا جائے گا کہ تم خدا کے سوا جن کی پرستش کرتے رہے ہو، بتائو، اب وہ کہاں ہیں ! کیا وہ تمہاری یا خود اپنی ہی کوئی مدافعت کرسکتے ہیں !
Ayahs 26:94–95آیت 95-94
کتب کے منی منہ کے بل گرانے اور پچھاڑنے کے ہیں۔ اسی سے کبکب ہے جس کے انذر حرف کی زیادتی نے مبالغہ کا مفہوم پیدا کردیا ہے۔ یعنی اس تفضیح کے بعد وہ اور ان کے سارے اصنام والہہ اور ان کے وہ لیڈر جن کی انہوں نے پیروی کی اور ابلیس کا سارا لشکر جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔
Ayahs 26:96–98آیت 98-96
لیڈروں اور
اختصاء کے معنی آپس میں لڑنے جھگڑنے کے ہیں۔ یہ جھگڑا جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، کفر و شرک کے علمبردار لیڈروں اور ان کے پیرو وں میں ہوگا۔ پیرو لیڈروں سے کہیں گے کہ ہم نے تمہاری پیروی میں یہ روز بد دیکھا تو کیا آج تم ہمارے اس عذاب میں کچھ حصہ بٹائو گے ؟ لیڈر جواب دیں گے کہ ہم جیسے خود تھے ویسا ہی ہم نے تم کو بنایا، تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے ہماری پیروی کی ! اسی جھگڑے کی طرف اجمال کے ساتھ یہاں اشارہ فرمایا ہے کہ پیرو اپنے سرپیٹیں گے اور اپنے لیڈروں سے قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم کھلی ہوئی گمراہی میں رہے کہ ہم نے تم کو خداوند عالم کا ہمسر ٹھہرایا۔ اذنسویکم برب العلمین کی تفسیر ابن کثیر نے ان الفاظ میں کی ہے، ای نجعل امرکم مطاعا کما یطاع مورب العلمین (یعنی ہم تمہارے احکام کی اس طرح اطاعت کرتے رہے جس طرح خداوند عالم کے احکام کی اطاعت کرنی چاہئے تھی) یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ مشرکین جن ہستیوں کی پرستش کرتے تھے، خواہ وہ فرشتے ہوں یا جنتا وہ تو محض ان کی مفروضہ خیالی ہستیاں تھیں اس وجہ سے ان سے کسی وسال و جواب کا معاملہ خارج از بحث ہے۔ قیامت کے دن ان کے پرستاروں پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ یہ محض ان کے اپنے رکھے ہوئے نام تھے جن کا کوئی مسمی موجود نہیں ہے۔ البتہ جن لوگوں نے ان کی پرستش کی بنا ڈالی، جنہوں نے لوگوں کو خدا کی بندگی سے ہٹا کر ان کی طرف موڑا اور ان کی حمیت و حمایت میں خدا کے رسولوں کی تکذیب کی، وہ لوگ موجود ہوں گے۔ نہ کو مخاطب کر کے ان کے پیرو وہ بات کہیں گے جو اوپر مذکور ہوئی۔
Ayahs 26:99–102آیت 102-99
پیروئوں کا ماتم اپنی بدبختی پر
اوپر والی بات تو پیرو اپنے لیڈروں کو مخطاب کر کے کہیں گے اور یہ باتیں وہ نہایت حسرت واندوہ کے ساتھ خود اپنے آپ کو ملامت اور پانی بدبختی پر ماتم کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہمیں ان مجرموں ہی نے گمراہ کیا۔ اگر یہ نہ گمراہ کرتے تو ہم ہدایت پر ہوتے اور یہ روز بد نہ دیکھتے۔ قرینہ دلیل ہے کہ لفظ مجرمون وہ اپنے لڈیروں کے لئیاستعمال کریں گے۔
فمالنا من شافعین ولا صدیق حمیم یہ اظہار حسرت کے الفاظ ہیں یعنی جن کی شفاعت کی امید پر زندگی بھر ان کی پرستش کی وہ بھی سب ہوا ہوگئے اور جن کا عمر بھر جھنڈا اٹھائے پھرے ان میں سے بھی آج کوئی ہماری حمایت و مدافعت کے لئے نظر نہیں آتا !
فلو ان لناکرۃ الآیۃ یہ وہ اپنی تمنا کا اظہار کریں گے کہ کاش ہمیں ایک مرتبہ پھ ردنیا میں جانا نصیب ہوتا کہ ہم ان مجرموں سے اظہار برأت کرتے اور ایمان لانے والوں میں سے بنتے لیکن ان کی یہ تمنا بس تمنا ہی رہے ی۔ اس کے پورے ہنے کا وقت ہمیشہ کے لئے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ ان آیات میں آباء و اجداد اور اپنے لیڈروں کی اندھی تقلید پر چلنے والوں کو اچھی طرح متنبہ کردیا گیا ہے کہ قیامت کے دن کسی کے لئے یہ عذر کچھ نافع نہیں ہوگا کہ اس کو دوسروں نے گمراہ کیا اس وجہ سے وہ گمراہی میں پڑا بلکہ ہر شخص کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔
Ayahs 26:103–104آیت 104-103
یہ وہی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہے اور اس کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔
Ayah 26:105آگے کا مضمون ……آیات 122-105
حضرت نوح کی دعوت کا بیان
آگے حضرت نوح ؑ کی دعوت، ان کی قوم کی طر سے ان کی تکذیب اور اس کے نتیجہ میں قوم پر عذاب کا نزول اور آخر اور آخر میں انہی آیات کی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔
ایک رسول کی تکذیب پر رسول کی تکذیب ہے
قوم نے تکذیب اگرچہ ایک ہی رسول … حضرت نوح … کی کی تھی لیکن لفظ مرسلین جمع استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ رد و قبول کے معاملے میں اصل اعتبار درحقیقت رویا قبول کرنے والوں کی ذہنیت کا ہوتا ہے۔ جب تمام نبیوں کی دعوت وہی رہی ہے جو حضرت نوح نے دی تو جن لوگوں نے ان کی دعوت رد کردی انہوں نے گویا ہر نبی و رسول کی دعوت رد کردی۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جس طرح تمام انبیاء کی دعوت یکساں رہی ہے اسی طرح ان کی تکذیب کرنے والوں کی ذہنیت بھی ہمیشہ یکساں رہی ہے اور پھر اس کا انجام بھی ہمیشہ ایک ہی ہوا ہے۔ اسیح قیت کو واضح کرنے کے لئے یہاں یہ سرگزشت بیان ہوئی ہے تاکہ آنحضرت ﷺ کے مکذبین اس سے سبق حاصل کریں۔
Ayahs 26:106–107آیت 107-106
رسول امین
الاتتقون میں دعوت بانداز انذار و تنبیہ ہے اور رسول امین میں اس حقیقت کا اظہار ہے کہ میں کوئی مفتری اور جھوٹا مدعی نہیں ہوں، جیسا کہ تم نے گمان کیا ہے، بلکہ خدا کا رسول ہوں اور پوری دیانت و امانت کے ساتھ تمہیں وہی باتیں پہنچا رہا ہوں جن کے پہنچانے کا مجھے حکم ہوا ہے۔
Ayah 26:108فاتقوا اللہ واطیعون 108
تم سلامی چاہتے ہو تو اپنی اس ضد اور سرکشی کو چھوڑو اور اللہ کی پکڑ سے ڈرو جس کا راستہ یہ ہے کہ میری بات سنو اور مانو اور ان سرکشی کی پیروی سے باز آئو جو تمہیں ہلاکت کی راہ دکھا رہے ہیں ھ۔
Ayahs 26:109–110آیت 109۔ 110
حقیقت پر غور کرنے کی ترغیب اور اظہار بےنیازی
اس فقرے میں مخاطبوں کو حقیقت پر غور کرنے کے لئے ترغیب بھی ہے اور ساتھ ہی بےنیازی کا اظہار بھی۔ مطلب یہ ہے کہ میں یہ جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں محض تمہاری خیر خواہی کے لئے پیش کر رہا ہوں میں اس پر تم سے کسی صلے اور معاوضے کا طالب نہیں ہوں کہ تم اس سے گھبرا کر میری باتیں سننے سے گریز کرو۔ اگر تم میری باتیں سنو اور مانو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے۔ اس میں میرا کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے۔ میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے اور وہ مجھے اس سے محروم نہ فرمائے گا۔ خواہ تم میری بات مانو یا نہ مانو۔ تو میں تم سے پھر کہتا ہوں کہ اللہ کے غضب سے ڈرو اور میری مانو !
Ayah 26:111خوئے بدرا بہانہ بسیار !
حضرت نوح کی اس مخلصانہ اور درد مندانہ نصیحت کا جواب قوم کے متکبرین نے یہ دیا کہ تمہاری پیروی تو ہماری قوم کے اراذل و انفار نے کی ہے تو ہمارے لئے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم اعیان و اشراف ہو کر ان کے پہلو بہ پہلو تمہاری مجلس میں بیٹھیں۔ مطلب یہ کہ اگر ہمیں اپنے قریب لانا چاہتے ہو تو پہلے ان لوگوں کو اپنے سے دور کرو۔ قوم کا یہ معاوضہ اس بات کی دلیل ہے کہ جہاں تک حضرت نوح کی دعوت کا تعلق ہے اس کی تردید کے لئے ان متمر دین کے پاس کوئی بات باقی نہیں رہی تھی لیکن وہ کسی صورت میں اپنی شکست ماننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے اس وجہ سے انہوں نے اپنی رعونت کی تسکین کے لئے آخر میں یہ بہانہ ڈھونڈ لیا کہ حضرت نوح کے ساتھی غریب اور پست حال لوگ ہیں تو ہم ان کے ساتھ کس طرح بن سکتے ہیں ! خوئے بدرا بہانہ بسیار !
Ayahs 26:112–115آیت 115-112
شرافت و رذات کا انحصار آدمی کے اعمال پر ہے
حضرت نوح نے ان کے اس معارضے کا جواب دیا اور سبحان اللہ کتنا بلیغ جواب دیا ! فرمایا کہ مجھے کال معلوم کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ شرافت و رذالت کا انحصار تو آدمی کے عمل و کردار پر ہے نہ کہ نسب و خاندان اور مال و جائیداد پر، تو مجھے کیا معلوم کہ اب تک ان کا عمل کیا رہا ہے ؟ ان کے ماضی کا احتساب میرے رب کے ذمہ ہے۔ میرے سامنے تو ان کا حاضر ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے رب پر ایمان لائے اور اس سے ڈرنے والے ہیں۔
لوتشعرون یعنی اگر اس حقیقت کا احساس تمہیں بھی ہوتا تو تم بھی وہی کہتے جو میں کہہ رہا ہوں لیکن تمہارے ذہنوں میں یہ خناس سمایا ہا ہے کہ شرافت و رذلت کا انحصار مال و دولت پر ہے۔ اس وجہ سے ان کی غریبی تمہارے لئے قبول حق میں حجاب بن گئی ہے۔
ومآ انا بطارد المومنین ان انا الانذیر مبین مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے ایمان کی شرط یہ ٹھہراتے ہو کہ میں ان مومنوں کو اپنے پاس سے دھتکاردوں تو یہ تو میں کرنے سے رہا۔ اگر تم اس چیز کے سبب سے ایمان نہیں لاتے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔ میں صرف ایک نذیر مبین ہوں۔ میں نے اپنا فرض انذار ادا کردیا۔ اب جو ایمان نہیں لائے گا، اس کی مسئولیت خود اس پر ہے۔ اس کے باپ میں مجھ سے کوئی پرستش نہیں ہوگی۔
Ayah 26:116قوم کی آخری دھمکی
بحث کے میدان میں پسپا ہوجانے کے بعد حضرت نوح کی قوم نے ان کو یہ آخری دھمکی دی کہ اگر تم اپنی اس دعوت سے باز نہ آئے تو یاد رکھو کہ بالآخر ہم تم سے جان چھڑانے کے لئے تم کو سنگسار کر کے رہیں گے۔ الفاظ سے یہ بات صاف نکل رہی ہے کہ سنگسار کرنے کی دھمکی وہ پہلے بھی دیتے رہے تھے۔ لیکن حضرت نوح نے اس کی کوئی پروا نہیں کی بالآخر قوم نے اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا کہ ہماری دھمکی کو صرف دھمکی نہ خیال کرو ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں کر گزریں گے