26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 26:157

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو انہیں پچھتانا پڑا

نہ مروھا فاصبحوا ندمین 157 ایک کی بےدانشی سب کے لئے موجب عذاب بھلا یہ اشرار اس پابندی کو کب گوارا کرنے والی تھے کہ ا کی دن گھاٹ پر حضرت صالح کی اونٹنی بلا شرکت غیرے، پانی پیے اور دوسرے دن وہ پلائیں۔ چناچہ انہوں نے جسارت کر کے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ اس فعل کا ارتکاب اگرچہ کیا ایک ہی شخص نے لیکن قرآن نے اس کو منسوب پوری قوم کی طرف کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی شرارت پر دوسرے راضی ہوں، اس کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس جرم کے ارتکاب میں سب شریک ہیں چناچہ اس کے نتیجہ میں جو عذاب آیا وہ سب پر آیا۔ فاصبحوا ندمین عذاب کی تعبیر ہے۔ یعنی بالآخر انہیں اپنے کیے پر پچھتانا پڑا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اس جرم کے ارتکاب کے بعد وہ اس پر پچھتائے۔ قرآن کے دوسرے مقامات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس جرم کے بعد ان کو تین دن کی مہلت ملی۔ یہ مہلت ظاہر ہے کہ اسی لئے ملی تھی کہ اگر اب بھی ان کو اپنے اس جرم کا احساس ہوجائے تو وہ توبہ و استغافر سے خدا کے عذاب سے اپنے کو بچا سکتے ہیں لیکن اس مہلت سے بھی انہوں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔
Ayahs 26:158–159

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

بالآخر ان کو عذاب نے آدبوچا بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب عزیز و رحیم ہے

آیت 158۔ 159 یہ وہی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہے اور اس کا موقع پو محل بالکل واضح ہے
Ayahs 26:160–164

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

قوم لوط نے بھی رسولوں کی تکذیب کی

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب کہ ان کے بھائی لوط نے کہا کہ کیا تم لوگ خدا سے ڈرتے نہیں !

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تمہارے لئے ایک دیانتدار رسول ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

میں اس پر تم سے کسی صلے کا طالب نہیں ہوں۔ میرا صلہ تو بس خداوند عالم کے ذمہ ہے

آگے کا مضمون …… آیات 175-160 حضرت لوط اور ان کی قوم کی سرگزشت کا بیان آگے حضرت لوط ؑ اور ان کی قوم کی سرگزشت ہے۔ حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہا السلام) نے اپنی اپنی قوموں کو ان کے تمدنی فساد پر متنبہ فرمایا اور حضرت لوط ؑ نے اپنی قوم کو اس کی ایک نہایت شدید اخلاقی برائی پر متنبہ فرمایا … یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ برائیاں کبھی منفرد نہیں ہوتیں بلکہ یہ خدا اور آخرت سے بےخونی کے نتیجے کے طور پر پیدا ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کا فساد زندگی کے ہر گوشے میں پھیلا ہوا ہوتا ہے البتہ قوموں کے مزاج اور ان کے ماحول کے اعتبار سے ان کا بروز کسی خاص گوشے میں پھیلا ہوا ہوتا ہے البتہ قوموں کے مزاج اور ان کے ماحول کے اعتبار سے ان کا بروز کسی خاص پہلو میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ اس سورة میں وہی نمایاں پہلو زیر بحث آئے ہیں۔ حضرت لوط نے قوم کی اس مہلک بیماری کے عواقب سے آگاہ کیا لیکن قوم نے ان کی باتوں کی کوئی پروا نہیں کی اور بالآخر اسی انجام کو پہنچی جس سے انہوں نے آگاہ کیا۔ اس سرگزشت کا خاتمہ بھی اسی ترجیح پر ہوا ہے جو اوپر گزر چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام سرگزشتوں کے سنانے سے مقصود ایک ہی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ آیت (164-160) یہ آیات اوپر کی سرگزشتوں میں گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی وضاحت ہوچکی ہے۔
Ayahs 26:165–166

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم خلق میں سے مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے تمہارے لئے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑتے ہوچ بلکہ تم لوگ نہایت ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو !

166-165 قوم لوط دوثیت یہ ان کی سب سے بڑی معصیت کی طرف اشارہ ہے۔ ہم دوسرے مقام میں وضاحت کرچکے ہیں کہ امرد پرستی قوم لوط میں فیشن بن گئی تھی۔ یہ دیوثیت اگر کسی قوم میں فیشن کی حیثیت حاصل کرلے تو وہ قوم خدا کی زمین پر نجاست کا ایک ڈھیر بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی زمین کو پاک کردیتا ہے۔ ذکر ان کے بعد من العلمین کے الفاظ سے قوم کے اندھے پن کی طرف مقصود ہے کہ خلق میں سے تمہیں اس مقصد کے لئے مرد ہی ملے حالانکہ اس ضرورت کے لئے خدا نے جو چیز بنائی ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے بلکہ اندھوں کو بھی نظر آسکتی ہے ! ان کے اسی اندھے پن کی طرف سورة نمل میں یوں اشارہ فرمایا ہے۔ اتالون الفاحشۃ وانتم تبصروں۔ 54 (کیا تم اس کھلی ہوئی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو درآنحالیکہ تم آنکھیں رکھتے ہو !) الٹی گنگا بہانے کا انجام وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازوا جکم یہ اس اندھے پن کی وضاحت بھی ہے اور اس ذوق فاسد کا لازمی نتیجہ بھی جن لوگوں کے اندر یہ بیماری پیدا ہوجاتی ہے ان کی فطرت بالکل مسخ ہوجاتی ہے۔ عورت کی رغبت ان کے اندر بالکل مردہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح کے لوگ بنجر کو سیراب کرتے اور کھیتوں کو خشک ہونے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں اور پھر یہ الٹی گنگا بہانے کا جو نتیجہ نکلنا چاہئے وہ نکلتا ہے۔ بل انتم قوم عدون یہ انتہائی غم و حسرت کا فقرہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے جرم کے گھنونے پن کی تعبیر سے الفاظ قاصر ہیں۔ تم فطرت کے تمام حدود توڑ کر بہت دور نکل گئے ہو !
Ayah 26:167

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

وہ بولے کہ اے لوط ! اگر تم باز نہ آئے تو تم لازماً یہاں سے نکال چھوڑے جائو گے۔

قوم کی فیصلہ کن دھمکی قوم نے اس تمام دلسوزی و درد مندی کا جواب یہ دیا کہ اے لوط ! اگر تم اپنی اس نصیحت و ملامت سے باز نہ آئے تو یاد رکھو کہ تم یہاں سے نکال کر چھوڑے جائو گے ! فقرے کا تیور صاف بتا رہا ہے کہ خراج کی یہ دھمکی پہلی دھمکی نہیں بلکہ آخری فیصلہ کن دھمکی ہے۔ یہ دھمکی وہ پہلے بھی دیتے رہے تھے۔ اس کی طرف قرآن میں اشارات موجود ہیں لیکن اس دھمکی کا انداز سابق دھمکیوں سے مختلف ہے۔ اب انہوں نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنا دیا کہ اپنی زبان بند کر دو ورنہ یاد رکھو کو ہم تم کو نکالنے کی جو دھمکی دیتے رہے ہیں وہ پوری کر کے رہیں گے۔
Ayah 26:168

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

اس نے کہا، میں تمہارے اس عمل سے سخت بیزار ہوں

قال انی عملکم من القالین 168 قلی کے معنی شدید بغض و نفرت کے ہیں۔ حضرت لوط نے قوم کی فیصلہ کن دھمکی کا جواب بھی بھرپور دیا۔ فرمایا کہ میں تو تمہارے اس عمل سے شدید بغض و نفرت رکھنے والوں میں سے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مجھ سے بیزاری وعناد کا سبب یہ ہے کہ میں تمہارے اس عمل پر تمہیں ملامت کرتا ہوں تو تمہاری یہ دھمکی مجھے اس سے نہ روک سکتی اور نہ ذرا اس میں مجھے نرم کرسکتی۔ خوب کان کھول کر سن لو کہ میں اس سے شدید بغض و نفرت رکھنے والوں میں سے ہوں تو تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو، کر گزرو۔ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ دھمکی کا بھرپور جواب من القالین میں لفظ جمع لانے سے کلام میں زیادہ زور پیدا ہوگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں ہی تنہا اس سے بیزار نہیں ہوں بلکہ وہ ہر وہ انسان جس کی فطرت سلیم اور عقل مستقیم ہے اس سے بیزار ہوگا اور میں انہی میں ہوں۔ میں تمہارے اس عمل کے ساتھ کسی طرح تمہارا ساتھ بنننا گوار نہیں کرتا۔
Ayah 26:169

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے رب ! تو مجھے اور میرے اہل کو ان کے عمل کے انجام سے نجات دے

حضرت لوط کی دعا مما یعملون میں عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق مضاف محذوف ہے۔ یعنی من عقوبۃ مایعملون یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ حضرت لوط نے قوم کی اس دھمکی کے بعد اندازہ فرما لیا کہ اب فیصلہ کی آخری گھڑی قریب آگئی ہے۔ ان لوگوں نے جب میرے نکالنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو سنت الٰہی کے مطابق ان پر عذاب بھی لازماً آئے گا۔ چناچہ انہوں نے اپنے متعلقین اور اپنے ساتھیوں کے لئے دعا ماگنی کہ اے رب اس نابکار قوم کے اعمال کے نتیجے میں جو عذاب اس پر آنے والا ہے اس سے مجھ کو اور میرے اہل کو محفوظ رکھیو ! لفظ اھل پر ہم دوسری جگہ بحث کرچکے ہیں کہ اس کے اندر اتباع بھی شامل ہوتے ہیں اس وجہ سے اگر کچھ لوگ حضرت لوط پر ان کی قوم سے، ایمان لائے ہوں گے تو وہ بھی اس میں شامل ہیں۔
Ayahs 26:170–173

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور اس کے سارے اہل کو نجات دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

صرف ایک بڑھیا پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ چھوڑ دی گئی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر برسایا نہایت ہولناک برسانا تو کیا ہی بری تھی وہ بارش جو ان پر برسی جن کو انجام سے آگاہ کیا جا چکا تھا !

آیت 173-170 اس کے بعد قوم لوط پر عذاب آگیا۔ اس عذاب کی نوعیت کی تفصیل ہم سورة حجر کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔ عجور سے مرا حضرت لوط کی بیوی ہے جس کی ساری ہمدردیاں اپنی قوم کے ساتھ تھیں۔ اس وجہ سے حضرت لوط کے اہل میں سے ہونے کے باوجود یہ عذاب کی گرفت میں آگئی۔ لفظ عجوز یہاں اس کے لئے بطور تحقیر استعمال ہوا ہے۔ قریش کو تنبیہ فآء مطر المنذرین میں قریش کے لئے انذار و تنبیہ ہے کہ جن لوگوں کو کسی رسول کے ذریعہ سے انذار کیا جاتا ہے اگر وہ اس انذار کو خاطر میں نہیں لاتے تو ان پر اسی طرح خدا کے غضب کی بارش ہوتی ہے اور یہ بارش نہایت ہی بری بارش ہے۔
Ayahs 26:174–175

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب عزیز و رحیم ہے

آیت 175-174 یہ آخر میں وہی ترجیح ہے جس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔
Ayahs 26:176–179

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

اصحاب الایکہ نے بھی رسولوں کی تکذیب کی

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب کہ شعیب ؑ نے ان کو آگاہ کیا، کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں !

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو

آگے کا مضمون ……آیات 191-176 حضرت شعیب اور ان کی قوم کی سرگزشت کا بیان آگے حضرت شعیب اور ان کی قوم اصحاب مدین کی سرگزشت ہے۔ جس طرح اوپر حضرت لوط نے اپنی قوم کے اخلاقی فساد پر اس کو متنبہ کیا اسی طرح حضرت شعیب نے اپنی قوم کو اس کے معاشی فساد پر متنبہ کیا لیکن اس قوم نے بھی اپنے رسول کے ساتھ وہی روش اختیار کی جو اس کی پیشرو قوموں نے اختیار کی اور بالآخر اسی انجام سے دوچار ہوئی جس سے دوسری قومیں دوچار ہوئیں۔ یہ سرگزشت بھی اسی ترجیح پر تمام ہوئی ہے جو اوپر ہر سرگزشت کے خاتمہ پروارد ہوئی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ اصحاب ایک سے مردا اہل مدین میں یکۃ جھاڑی، بن اور جنگل کو کہتے ہیں۔ مدین کے پاس ایک جنگل بھی تھا اس وجہ سے اصحاب مدین اصحاب الایکہ کے نام سے بھی مشہور تھے۔ بعض مفسرین نے اصحاب الایکہ اور اصحاب مدین کو دو الگ الگ قومیں سمجھا ہے اور ان کا خیال یہ ہے کہ حضرت شعیب کی بعثت ان دونوں قوموں کی طرف ہوئی تھی۔ ہمارے نزدیک یہ بات صحیح نہیں ہے۔
Ayah 26:180

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں طلب کرتا۔ میرا صلہ تو بس خداوند عالم کے ذمہ ہے

یہ آیات اوپر کی سرگزشت میں گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی ہر جزو کی وضاحت ہوچکی ہے۔
Ayahs 26:181–182

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

تم لوگ پورا پورا نا پا کرو اور خسارہ پہنچانے والوں میں سے نہ بنو

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور صحیح ترازو سے تو لا کرو

آیت 182-181 ناپ تول کی مکی نظام کائنات کے منافی ہے اصحاب مدین تجارت پیشہ تھے اور اس پیشے میں انہوں نے بڑی ترقی کرلی تھی لیکن جب خدا اور آخرت سے غفلت ہو تو شیطان ہر چیز کے اندر گھس کر فساد پیدا کردیتا ہے۔ چناچہ ان لوگوں کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کی بیماری پھیل گی۔ یہ معاشی فساد ایک شدید قسم کی متعدی بیماری ہے جو کسی قوم میں پیدا ہوجائے تو ہر دکاندار اور ہر تاجر اس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پھر بےایمانی، ناپ تول میں دغا بازی ملاوٹ، تہ بازاری اور چور بازاری کی ایسی ایسی شکلیں ایجاد ہوجاتی ہیں کہ معاشرے کا ہر شخص چیخ اٹھتا ہے۔ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے ایک میزان کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اسی میزان پر یہ آسمان و زمین قائم ہیں۔ اگر یہ درہم برہم ہو جائیتو یہ آسمان و زمین درہم برہم ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام انسانوں کو یہ رہنمائی دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر ہر شعبہ زندگی میں صحیح میزان کے قیام کا پورا پورا اہتمام رکھیں ورنہ ان کا سارا معاشی و معاشرتی درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ یہاں اشارے پر کفایت کیجیے۔ انشاء اللہ سورة رحمان کی تفسیر میں ہم اس نکتہ پر وضاحت سے گفتگو کریں گے۔
Ayah 26:183

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور زمین میں مفسدبن کر نہ پھیلو

اشیاء میں ملاوٹ یعنی ناپ تول میں کمی اور ڈنڈی ماری کر کے لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔ اسی کی ایک نہایت ہی مجرمانہ صورت اشیاء میں ملاوٹ بھی ہے کہ کوئی شخص میں جو گھی میں چربی، شکر میں ریت، گوشت میں چھیچھڑے اور دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرے۔ اس طرح وہ بظاہر خریدار کو وزن یا پیمانہ کے اعتبار سے تو چیز پوری کردیتا ہے لیکن اس کے اندر اصل شے ایک ثلث کے بقدر بھی مشکل سے ہوتی ہے اور اس میں مضر صحت اشیاء کی جو ملاوٹ ہوتی ہے وہ مزید برآں یہاں تک کہ آدمی بازار کی کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کا دل دھڑکتا رہتا ہے کہ وہ کوئی کھانے کی چیز کھا رہا ہے یا زہر نگل رہا ہے۔ حرام خوری کا موٹا پارس آنے والی چیز نہیں ہے یعنی ناپ تول میں کمی اور ڈنڈی ماری کر کے لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔ اسی کی ایک نہایت ہی مجرمانہ صورت اشیاء میں ملاوٹ بھی ہے کہ کوئی شخص گندم میں جوء گھی میں چربی، شکر میں ریت، گوشت میں چھیچھڑے اور دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرے۔ اس طرحوہ بظاہر خریدار کو وزن یا پیمانہ کے اعتبار سے تو چیز پوری کردیتا ہے لیکن اس کے اندر اصل شے ایک ثلث کے بقدر بھی مشکل ہوتی ہے اور اس میں مضر صحت اشیاء کی جو ملاوٹ ہوتی ہے وہ مزید برآں یہاں تک کہ آدمی بازار کی کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کا دل دھڑکتا رہتا ہے کہ وہ کوئی کھانے کی چیز کھا رہا ہے یا زہر نگل رہا ہے۔ حرام خوری کا موٹاپار اس آنے والی چیز نہیں ہے ولاتعثوا فی الارض مفسدین یعنی میزان حق و عدل کو درہم برہم کر کے اگر تم نے دنیا میں ترقی کی تو یہ ترقی کوئی مبارک ترقی نہیں ہے۔ دنیا میں بڑھو تو مفسدبن کر نہ بڑھو بلکہ مصلح بن کر پھلو پھولو اگر حرام کی نفع اندوزی سے موٹے ہوئے تو یہ مٹاپا راس آنے والی چیز نہیں ہے۔ اس کا انجام نہایت مہلک ہوگا !
Ayah 26:184

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

و اور اس ذات سے ڈرو جس نے تم کو بھی پیدا کیا اور تم سے پہلوں کو بھی

خدا کے ہاں سب کے لئے ایک ہی باٹ اور ترازو ہے جبلۃ کے معنی خلق و خلقت کے ہیں۔ یہ حضرت شعیب نے تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی کہ جس خالق نے اگلوں کو پیدا کیا اسی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے۔ اگر اس نے اگلوں کو تمدن و معاشرت میں فساد پیدا کرنے کے سبب سے نیست و نابود کردیا تو کوئی وجہ نہیں کہ تمہارے معاملے میں اس کی سنت بدل جائے اور وہ تمہیں تمہارے اس معاشی فساد پر سزا نہ دے۔ اگر تمہارا خدا ان کے خدا سے کوئی الگ ہوتا تب تو تم یہ توقع کرسکتے تھے کہ تمہارے لئے اس نے کوئی الگ قانون بنایا ہوگا لنکد خدا وہی ہے اور لاریب وہی ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کے پاس اگلوں کے لئے کوئی اور باٹ اور ترازو ہو تمہارے لئے کوئی اور خدا تو سب کے لئے ایک ہی ترازو سے تولے گا تو اس سے ڈرو اور اپنی اس روش کی اصلاح کرو۔
Ayahs 26:185–187

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ تم تو ایک بالکل سحر زد ہو

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تم تو بس ہمارے ہی جیسے ایک بشر ہو اور ہم تو تم کو بالکل جھوٹوں میں سے خیال کرتے ہیں

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

تو اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ٹکڑے گرائو

آیت 187-185 مکذبین کا مطالبہ عذاب قوم نے حضرت شعیب کی اس دردمندانہ تنبیہ کا وہی جواب دیا جو دوسرے رسولوں کے مکذبین سے منقول ہوا ہے۔ اول یہ کہ یہ الٹی پلٹی باتیں جو تم کر رہے ہو یہ اس بات کا قرینہ ہیں کہ تم پر کسی نے نہایت سخت قسم کا جادو کردیا ہے دوسرا یہ کہ جب تم ہمارے ہی جیسے ایک بشر ہو تو ہم تمہیں خدا کا بھیجا ہوا رسول کس طرح مان لیں ؟ تیسرا یہ کہ اگر تم سچ مچ رسول ہو، اگر ہم نے تمہاری بات نہ مانی تو ہم پر آسمان ٹوٹ پڑے گا تو ہم پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا کر دکھائ۔ کسف جمع ہے کسغۃ کی دوسری سورتوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت شعیب نے قوم کو آگاہ کیا تھا کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اسی طرح کا کوئی عذاب آئے گا جس طرح کے عذاب عاد، ثمود اور قوم لوط پر آئے۔ ان کے اس انذار کے جواب میں قوم نے انکے سامنے یہ مطالبہ رکھ دیا۔
Ayah 26:188

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

اس نے کہا۔ میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

قال ربی اعلم بما تعملون 188 حضرت شعیب ہر طرف سے تفویض الی اللہ یہ تفویض الی اللہ کا کلمہ ہے مطلب یہ ہے کہ آسمان سے ٹکڑے گرانا میرے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہ تمہاری کارستانیوں سے اچھی طرح باخبر ہے تو میں اس معاملے کو اسی کے حوالہ کرتا ہوں۔ اس کی حکمت کا جو تقاضا ہوگا وہ ظہور میں آئے گا اور بالکل ٹھیک وقت پر ظہور میں آئے گا۔
Ayah 26:189

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کو ججھٹلا دیا پس ان کو بادل والے دن کے عذاب نے آدبوچا اور بیشک وہ ایک ہولناک دن کا عذاب تھا

قوم شعیب کے عذاب کی نوعیت ہم سورة اعراف آیت 91 کے تحت بیان کرچکے ہیں، تفصیل کے طالب وہاں دیکھ لیں۔ اس عذاب کی تعبیر سورة ہود آیت 94 میں لفظ صیحۃ س ی کی گئی ہے جس کیم عنی ڈانٹ اور کرک کے ہیں۔ پھر اسی کی تعبیر یہاں عذاب یوم الضلۃ سے کی گی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب دور سے دیکھنے میں غبار یا ابریا دھوئیں کے ایک سوتن یا سائبان کی شکل میں نظر آیا۔ یہ قرینہ جیسا کہ ہم قوم لوط کی سرگزشت میں بیان کرچکے ہیں حصب کے عذاب کا ہے۔ حصب کے عذاب میں خاصب رجف صیحۃ اور ظلمہ سب جمع ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 26:190–191

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور انکے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب بڑا ہی عزیز و رحیم ہے

یہ آخر میں وہی ترجیح ہے جو اوپر ہر سرگزشت کے بعد آئی۔
Ayahs 26:192–194

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور بیشک یہ نہایت اہتمام سے خداوند عالم کا اتارا ہوا ہے

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

تمہارے قلب پر، تاکہ تم لوگوں کو آگاہ کردینے والوں میں سے بنو

آگے کا مضمون … آیات 227-192 خاتمہ سورة آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں اور سلسلہ کلام سورة کی تمہید یعنی اصل عمود سے جڑ گیا ہے۔ وہاں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ قرآن کا کتاب الٰہی ہونا بالکل واضح ہے جو لوگ اس کو ماننے کے لئے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ محض نہ ماننے کا ایک بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اگر اللہ چاہے تو کوئی ایسی نشانی بھی ان کو دیکھا سکتا ہے جس کے آگے ان کی اکڑی ہوئی گردنیں جھک جائیں لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس طرح کی کوئی نشانی دیکھنے کے بجائے یہ عقل و بصیرت سے کام لیں۔ تاہم اگر ان کی یہی ہٹ دھرمی قائم رہی تو قرآن ان کو جن خطرات سے آگاہ کر رہا ہے ان میں سے ایک خطرہ ان کے سامنے آ کے رہے گا۔ اس کے بعد اسی حقیقت کو مبرہن کرنے کے لئے حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کی سر گزشتیں شرع ہوگئی تھیں کہ اگر ان کو کسی نشانی ہی کی طلب ہے تو ان واقعات سے کیں سبق نہیں لے تا ؟ ان میں سے ہر واقعہ کے اندر نشانی موجود ہے۔ اگر انہی قوموں کی روش انہوں نے بھی اختیار کی تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے ساتھ خدا کا معاملہ اس سے مختلف ہو جو ان قوموں کے ساتھ ہوا۔ سرگزشتوں کا یہ سلسلہ حضرت شعیب اور ان کی قوم کی سرگزشت پر ختم ہوا۔ اس کے بعد تاریخی اعتبار سے حضرت موسیٰ کا دور شروع ہوجاتا ہے۔ ان کی سرگزشت چونکہ اوپر نہایت تفصیل کے ساتھ باکن ہوچکی تھی اس وجہ سے سے یہاں اس کو نہیں لیا بلکہ کلام اصل عمود کی طرف لوٹ آیا کہ یہ قرآن خدا کا اتارا ہوا کلام ہے۔ یہ کوئی شیطانی القاء نہیں ہے اور نہ یہ کوئی شاعری ہے۔ اس کی پیشین گوئیاں پچھلے صحیفوں میں بھی موجود ہیں اور علمائے بنی اسرائیل ان سے واقف ہیں اگر یہ بدقسمت لوگ اس کو جھٹلاتے ہیں تو پیغمبر کو ان کی کوئی پروا نہیں کرنی چاہئے بلکہ اپنی ساری توجہ اپنے ایمان لانے والے ساتھیوں پر مرکوز کر دینی چاہئے۔ یہ شامت زدہ لوگ خود اپنا انجام بہت جاء دیکھ لیں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ آیت 98-93 قرآن کا مرتبہ و مقام انہ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے۔ چونکہ اصل سیاق کلام، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، واضح ہے اس وجہ سے ضمیر مرجع کے بغیر آگئی ہے۔ تنزیل کے معنی اہتمام کے ساتھ اتارنے کے ہیں۔ یہ قرآن کے منکرین و مخلافین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ قرآن کاہنوں کے کلام کی طرح کوئی شیطانی القاء نہیں ہے بلکہ نہایت اہتمام سے اتارا ہو اللہ رب العالمین کا کلا ہے۔ اس وجہ سے اس کی قدر کریں۔ اس کی تکذیب کر کے اپنی شامت نہ بلائیں۔ نزل بہ الروح لامین الروح الامین حضرت جبرئیل ؑ کا لقب ہے۔ امین کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ حضرت جبرئیل کے حوالہ کیا وہ ہے ہم وکات بغیر کسی ادنیٰ تعبیر و تبدل کے، انہوں نے پیغمبر کو پہنچایا ہے۔ اس میں کسی قسم کی کوئی خیانت نہیں کی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اسلام دشمنی کے جوش میں یہود اور روافض نے حضرت جبریل پر نعوذ باللہ خیانت کا الزام بھی لگایا ہے۔ بقرہ کی تفسیر میں اس کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ علی قلبک لتکون من المنذرین ضمیر کا مرجع آنحضرت ﷺ ہیں۔ یعنی اس وحی کا مہبط تمہارا انفس نہیں بلکہ قلب ہے جو انسان کے وجود کا سب سے اشرف و اعلیٰ حصہ ہے اس وجہ سے اس شبے کا کوئی امکان نہیں ہے کہ اس میں کسی نفانی وسوسہ یا شیطانی و غدغہ کو کوئی دخل ہو۔ اگرچہ آیت میں خطاب ظاہر الفاظ کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ کی طرف ہے لیکن کلام کا مقصود مخالفین پر اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ یہ کالم، پاک منبع سے نکلا ہے، پاک ذریعہ سے اترا ہے اور پاک ترین محل میں اس نے اپنا مستقر بنایا ہے۔ لتکون من المنذرین یہ اس کلام کے اس اہتمام و شان کے ساتھ اتارے جانے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ اس لئے اتارا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم ان لوگوں کو جو خدا اور آخرت سے بالکل بےپرا ہو کہ زندگی بسر کر رہے ہیں اس غفلت کے نتائج و عواقب سے اچھی طرح آگاہ کر دو۔ یعنی یہ کلام محض کلام نہیں ہے بلکہ یہ انذار ہے اور تم ایک منذر ہو اس وجہ سے لوگ اس کو گوش ہوش سے سنیں ورنہ ان نتائج کو بھگتنے کے لئے تیار رہیں جن کو یہ خبردے رہا ہے۔
Ayah 26:195

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

واضح عربی زبان میں

بلسان عربی مبین 95 اہل عرب کو تنبیہ یہ اہل عرب پر اظہار احسان ہے کہ اللہ نے یہ تم پر خاص فضل فرمایا ہے کہ اس نے اس کلام کو نہایت واضح عربی زبان میں اتارا ہے۔ یہ چیز تمہارے لئے باعث شرف بھی ہے اور اس میں تمہارے اوپر اتمام حجت بھی ہے۔ اب تم یہ عذر نہیں کرسکتے کہ تم اس کے سمجھنے سے قاصر رہے۔ اس اہتمام کے بعد اگر تم نے اس کی قدر نہ کی تو اس کی ذمہ داری تمہارے ہی اوپر ہوگی۔