30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 30:33–34

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

جب لوگوں کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اسی کی طرف متوجہ ہو کر۔ پھر جب اللہ ان کو اپنی رحمت سے شادکام کردیتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

کہ جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا اس کی ناشکری کریں تو چند روز خطا اٹھا لو، عنقریب تم کو پتہ چل جائے گا۔

واذا من الناس ضردعوا ربھم منیبین الیہ ثم اذا اذاقھم منہ رحمتہ اذا فریق منھم بربھم یشرکون۔ لیکفروا بما اتینھم فتمتوا ھوت تعلمون (33۔ 34) یہ مشرکین کو براہ راست دھمکی ہے کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کسی گرداب میں پھنستے ہیں تب تو نہایت نیاز مندی سے اور تذلل کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں لیکن جب خدا انکو اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے تو پھر یہ خدا کو بھول کر اپنے انہی معبودوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں جن کی انہوں نے شریک بنا رکھا ہے۔ یہ مضمون پیچھے مختلف اسلوبوں سے گزر چکا ہے اور آگے سورة لقمان کی آیت 32 میں ایک نئے اسلوب سے آئے گا۔ ’ لیکفروا بما اتینھم فتمتعوا فسوف تعلمون۔ ‘ یہ مضون بعینہ عنکبوت کی آیت 66 میں بھی گزر چکا ہے۔ یعنی وہ نعمت تو پاتے ہیں خدا سے لیکن گن گاتے ہیں دوسروں کے اور اس طرح خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ اس کے بعد نہایت تند لہجہ میں مخاطب کرکے فرمایا کہ اچھا کچھ دن ہماری نعمتوں سے اپنی اس ناسپاسی و ناشکری کے باوجود، فائدہ اٹھا لو، عنقریب تمہاری اس حرکت کا خمیازہ تمہارے سامنے آنے والا ہے۔
Ayah 30:35

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل اتاری ہے جو ان چیزوں کی شہادت دے رہی ہے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں

اما نزلنا علیھم سلطنا فھو یتکلم بما کانوا بہ یشرکون (35) ہم پیچھے اس اسلوب کی وضاحت کرچکے ہیں کہ اس قسم کے سوالیہ جملوں میں کلام کا ایک ٹکڑا حذف ہوجاتا ہے جس کی خانہ پری متکلم کا لب و لہجہ کردیتا ہے۔ اس حذب کو کھول دیجئے تو مطلب یہ ہوگا کہ ان نادانوں نے یونہی خدا کے شریک بنا رکھے ہیں یا ہم نے کوئی دلیل اتاری ہے جو ان کے شریکوں کے شریک خدا ہونے کی شہادت دے رہی ہو ! ! اس اسلوب کلام میں طنز و تحقیر اور غیظ و غضب سب جمع ہوجاتا ہے۔ آخری گروپ کی سورتوں میں اس کی نہایت بلیغ مثالیں آئیں گی۔ ان آیات میں توحید کی ایک نہایت اہم نفسیاتی دلیل کی طرف توجہ دلائی گئی۔ وہ یہ کہ جب انسانیت پر حقیقی افتقارا اور بےبسی کی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ تمام دوسرے اسباب و وسائل اور خود تراشیدہ معبودوں کو چھوڑ کر پوری انابت کے ساتھ اپنے رب حقیقی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی اصل فطرت کے اندر ایک خدا کے سوا کسی اور کے لئے کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ لیکن جب افتقار کی حالت ختم ہوجاتی ہے تو پھر وہ انہی گمراہیوں میں کھو جاتا ہے جن میں وہ اس سے پہلے کھویا ہوا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شرک کا اصلی سبب انسان کی غفلت ہے۔ یہ غفلت جب قدرت کی کسی تنبیہ سے دور ہوجاتی ہے تو اس کو اصل حقیقت نظر آجاتی ہے لیکن جب حالات بدل جاتے ہیں تو اس کی سابق غفلت پھر عود کر آتی ہے۔
Ayah 30:36

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو رحمت سے شادکام کرتے ہیں تو وہ اس پر اترانے لگتے ہیں اور اگر ان کے اعمال کے سبب سے ان کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ فوراً مایوس ہوجاتے ہیں۔

واذا اذقنا الناس رحمتہ فرحوابھا ط وان تصبھم سیئۃ بما قدمت ایدیھم اذا ھم یقنطون (36) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو جب لوگوں کو اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے رب کے شکر گزار ہوں اور اگر ان کو ان کے اعمال سے کے نتیجے میں کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے تو یہ چاہتا ہے کہ وہ اس آزمائش پر صبر کری لیکن بہت تھورے لوگ ایسے نکلتے ہیں جو نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کریں۔ زیادہ لوگ ایسے ہی نکلتے ہیں جو نعمت پاتے ہیں تو فخر کرتے ہیں اور اکڑتے ہیں اور اگر کسی آزمائش میں بڑتے ہیں تو دل شکستہ اور مایوس ہو کے رہ جاتے ہیں۔ یہ باتیں سب عام الفاظ میں ارشاد ہوئی ہیں اس لئے کہ عام حالت درحقیقت یہی ہے لیکن ان آیات کے نزول کے وقت ظاہر ہے کہ ان کا اشارہ قریش کی طرف تھا اور اس طرح در پردہ ان کو متنبہ فرمایا گیا کہ آج تو خدا کی بخشی ہوئی نعمت پر اسی کے آگے اکڑتے ہو لیکن لیکن کل کو اگر کسی پکڑ میں آگئے تو رؤد اور چلائو گے۔ اس آیت کے الفاظ بما قدمت ایدھیم سے یہ بات نکلتی ہے کہ لوگوں کو اگر کوئی بری افتاد اس دنیا میں پیش آتی ہے تو ان کے برے اعمال کے نتیجے میں پیش آتی ہے۔ جہاں تک بروں کا تعلق ہے سنت الٰہی یہی ہے جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے لیکن اس دنیا میں نیکیوں، یہاں تک کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو بھی بڑی بڑی آزمائشیں پیش آئی ہیں۔ اس قسم کی آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی اس سنت ابتلاء کے تحت پیش آتی ہیں جو اس کے تمام بندوں کے لئے عام ہیں، خواہ وہ نیک ہوں یا بد۔ ان کا تعلق ضروری نہیں کہ آدمی کے اعمال ہی سے ہو بلکہ اکثر حالات میں مجرد اللہ تعالیٰ کی حکمت تربیت ان کی متصفی ہوتی ہے۔
Ayah 30:37

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لئے چاہتا اور تنگ کردیتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں۔

اولم یروا ان اللہ یبسطا الرزق لمن یشاء و یقدر ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (37) یعنی کیا ان لوگوں نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ رزق کی فراخی ہو یا تنگی دونوں اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو تنگ کردیتا ہے، جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے۔ اس کا یہ چاہنا تمام تر اس کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے نہ تو کسی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مایوس ہوا اور نہ یہ جائز ہے کہ وہ اترانے اور اکڑنے والا بنے۔ اترانے کا حق اس کو ہے جس کا رزق اس کے اپنے اختیار میں ہو اور خدا سے مایوس وہ ہو جو اپنے لئے کوئی اور دروازہ تلاش کرسکے۔ جب ان دونوں میں سے کوئی بات بھی ممکن نہیں ہے تو صحیح رویہ صرف یہی ہے کہ بندو نعمت پر شکر کرے اور آزمائش پر صبر۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں ہی چیزوں سے بندے کا امتحان کرتا ہے اور یہ آخرت میں کھلے گا کہ کون اس کے امتحان میں کامیاب ہوا اور کون ناکام ! فرمایا کہ اگر لوگ اس حقیقت پر غور کریں تو اس میں ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لانے والے ہیں۔ اس میں سب سے بڑی نشانی تو اس بات کی ہے کہ اس کائنات کے تمام امور اللہ وحدہ، لاشریک ہی کے اختیار میں ہیں۔ جس طرح موت اور زندگی پر کسی کو اختیار نہیں ہے اسی طرح رزق کی تنگی و کشادگی پر بھی کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ دوسری نشانی اس بات کی ہے کہ اس دنیا میں رزق کی کشادگی نہ کسی کی کامیابی کی دلیل ہے نہ اس کی تنگی کسی کی ناکامی کی، بلکہ یہ دونوں ہی چیزیں بندے کے امتحان کے لئے ہیں۔ کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ آخرت میں ہوگا۔ تیسری نشانی اس میں یہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں ہر وقت بندے کے شکر اور صبر کا امتحان ہوتا رہتا ہے اور انسان کے تمام اعلیٰ اوصاف کا سرچشمہ یہی دو صفتیں ہیں۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔
Ayah 30:38

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

پس قرابتدار کو اور مسکین و مسافر کو اس کا حق دو۔ یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

فات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل ذلک خیر للذین یریدون وجہ اللہ واولئک ھم الفلحون (38) اوپر آیت 31 میں دین فطرت کے اولین رکن نماز کا ذکر ہوچکا ہے۔ اس کے بعد بعض مناسب مقام تنبہیات آگئی تھیں جن میں آخری تنبیہ یہ تھی کہ جس کو رزق کی فراخی حاصل ہو تو اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کو اب وجد کی وراثت یا اپنے فضل و کمال کا ثمرہ سمجھ کر اس پر اترائے بلکہ اس کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اس آیت میں اس شکرگزاری کا طریقہ بتا دیا کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے مال میں سے قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دے۔ ’ حقہ کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ رزق کو کشادگی عطا فرماتا ہے اس کے مال میں درحقیقت دوسروں کے حقوق بھی ہوتے ہیں جو اس کی امانت میں ہوتے ہیں، اس وجہ سے یہ اس کا فرض ہے کہ وہ ان حقوق کو ادا کرے۔ اگر اس نے اس میں کوتاہی کی تو وہ حقوق کا غصب کرنے والا ٹھہرے گا۔ فرمایا کہ جو لوگ خدا کی رضا کے طالب ہیں ان کے لئے یہی طریقہ بہتر ہے اور آخرت میں وہی فلاح حاصل کرنے والے بنیں گے۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو لوگ اپنے مال کو فخرو غرور یا عیش و تنعم یا مال پروری کا ذریعہ بنائیں گے ان کا مال خدا کے ہاں موجب وبال و خسران ہوگا۔
Ayah 30:39

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو سودی قرض تم اس لئے دیتے ہو کہ وہ دوسروں کے مال کے اندر پروان چڑھے تو وہ اللہ کے ہاں پروان نہیں چڑھتا اور جو تم زکوٰۃ دو گے اللہ کی رضا جوئی کے لئے تو یہی لوگ ہیں جو اللہ کے ہاں اپنے مال کو بڑھانے والے ہیں۔

وما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال اناس فلا یربوا عند اللہ وما اتیتم من زکوۃ تریدون وجہ اللہ فاولئک ھم المضعفون (39) ’ ربا ‘ اس مال کو بھی کہتے ہیں جو کسی کو سودی قرض کے طور پر دیا جائے اور اس سود کو بھی کہتے ہیں جو کسی قرض پر حاصل کیا جائے۔ اس لفظ کو جن لوگوں نے ہدیہ یا عطیہ کے معنی میں لیا ہے انہوں نے بالکل غلط لیا ہے۔ یہ لفظ یہاں اس اسلوب پر استعمال ہوا ہے جس کو تم یہ الشئی بما ئیول الیہ کہتے ہیں جس طرح انی اعصر خمرا ہے۔ ہم نے اس آیت پر ایک مستقل مضمون لکھ دیا ہے جو ہمارے مجموعہ مضامین میں ملے گا۔ لفظ ’ زکوۃ ‘ یہاں اصطلاحی زکوٰۃ کے مفہوم میں نہیں بلکہ صدقات کے عام مفہوم میں ہے۔ اس مفہوم میں اس کا استعمال قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی ہوا ہے۔ اوپر کی آیت میں انفاق کا جو حکم دیا ہے یہ اس کے ضد کردار کا بیان ہے کہ جو لوگ مال کو پاکر اس کو اللہ کی رضا جوئی میں خرچ کرنے کے بجائے مال پروری کی فکر میں لگ جاتے ہیں اور اس کو سودی قرض کے طور پر دیتے ہیں کہ ان کا مال دوسروں کے مال کا خون چوس کر فربہ ہوجائے تو وہ یادرکھیں کہ اس قسم کا مال اس دنیا میں موٹا ہو تو ہو لیکن خدا کے ہاں اس میں کوئی بڑھوتری نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ اس مال کو، جیسا کہ دوسرے مقام میں وضاحت ہے، مٹا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف اس مال میں بڑھوتری ہوتی ہے جو خدا کی رضا جوئی کے لئے خدا کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے۔ اس آیت کے الفاظ پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو یہ بات صاف نظرآئے گی کہ سود خوار کے مال کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے سانڈے سے تشبیہ دی ہے جو دوسرے کی چراگاہ میں چر کو موٹا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کی فربہی میں کوئی خیر و برکت نہیں ہے۔ خیر و برکت صرف اس مال میں ہے جو اپنی چراگاہ میں چر کر پروان چڑھتا ہے پھر خدا کی رضا جوئی اور ادائے حقوق کی راہ میں قربان ہوتا ہے۔ فرمایا کہ بیشک یہ لوگ اپنے سرمائے کو بڑھانے والے بنیں گے۔ اس بڑھانے کی شرح قرآن کے دوسرے مقامات میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوچکی ہے۔ مال جمع کرنے کی خواہش بالعموم مستقبل کے اندیشوں کو پیش نظر رکھ کر ہوتی ہے لیکن انسان مستقبل کو بہت تنگ نگاہ سے دیکھتا ہے اس وجہ سے اس کی نظر اسی زندگی تک محدود رہ جاتی ہے۔ اصل مستقبل یعنی آخرت کو وہ نہیں دیکھتا حالانکہ اس کے مال کا اصلی فائدہ صرف اس صورت میں اس کو حاصل ہوسکتا ہے جب وہ اس دنیا کے بنکوں میں جمع کرنے کے بجائے خدا کے بنک میں اس کو جمع کرے تاکہ وہ اس کی ابدی زندگی میں اس کے کام آئے۔ یہاں اس بات کو بھی یاد رکھیے جس کی طرف ہم دوسرے مقام میں اشارہ کرچکے ہیں کہ ایک تاجر یا کاروباری کے سرمایہ میں جو اپنے سرمایہ کو کسی جائز تجارت یا کاروبار میں لگا کر اس کو بڑھاتا ہے اور ایک سود خور کے سرمایہ میں جو سود پر قرض دے کر اس میں اضافہ کرتا ہے یہ بنیادی فرق ہے کہ تاجو کا سرمایہ ہر قسم کے حالات وخطات کا مقابلہ کرکے خود اپنی چراگاہ میں فربہی و توانائی حاصل کرتا ہے اور سود خور کا سرمایہ ایک کمین گاہ میں چھپ کر، بغیر کوئی خطرہ مول لیے، حاجتمندوں سے غنیمت حاصل کرتا اور موٹا ہوتا ہے۔ ان دونوں کے اس بنیادی فرق کے سبب سے اسلام نے تجارت اور کاروبار کی بڑھوتری کو مبارک قرار دیا ہے اور سود کی بڑھوتری کو فاسد اور حرام۔
Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم کو روزی دی، پھر تم کو موت دیتا ہے، پھر تم کو زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے شریکوں میں سے بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کوئی کام کرتا ہو ! وہ پاک ہے اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں !

6۔ آگے کا مضمون۔ آیات 40۔ 60 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پیغمبر ﷺ کے مخالفین کو دھمکی دی گئی ہے کہ انہوں نے دین فطرت کی دونوں بنیادیں۔ توحید اور ہمدردی خلق۔ ڈھادی ہیں اور اس طرح پورے نظام معاشرت و تمدن کو بگاڑ کر خدا کی زمین کو فساد سے بھر دیا ہے۔ اس چیز نے ان کو مستحق بنا دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کسی گرفت میں آئیں تاکہ وہ اپنے اس فساد فی الارض کا کچھ مزا چکھیں، پھر مسلمانوں کو غلبہ و نصرت کی بشارت دی گئی ہے اور اس کائنات کے شواہد سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کسی پر نازل کرنا چاہتا ہے تو اپنے تصرف غیبی سے ناسازگار حالات کو بھی سازگار بنا دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ پیغمبر و اور آپ کے صحابہ ؓ کو دین فطرت پر جمے رہنے کی تاکید اور ان لوگوں سے بےپروا ہونے کی ہدایت فرمائی گئی جو بالکل اندھے بہرے بن چکے ہیں۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 7۔ الفاط کی تحقیق اور آیات کی وضاحت اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ط ھل من شرکائکم من یفعل من ذلکم من شئی ط سحمنہ و تعلی عم یشرکون (40) مجوسیوں کے وقتی غلبہ کو دلیل بنا کر قریش نے مسلمانوں کے غلبہ اور توحید و قیامت ہر چیز کو مشکوک بنانے کی جو مہم چلائی اس کی تردید پیچھے کی آیات میں تفصیل سے ہوچکی ہے۔ اب یہ قریش کو براہ راست دھمکی دی جا رہی ہے کہ اس قسم کی طفل تسلیوں سے اپنے کو بہلانے کو کوشش نہ کرو بلکہ حقاء کا مواجہہ کرو۔ تم نے اپنے اعمال سے جو فساد اپنے چاروں طرف جمع کرلیا ہے اس کے نتائج کے ظہور کا وقت اب سر پر آگیا ہے اور تمہارے یہ فرضی دیوی دیوتا اس سے تمہیں بچا نہ سکیں گے۔ یہ آیت اسی دھمکی کی تمہید ہے۔ فرمایا کہ تم کو پیدا تو خدا نے کیا، روزی وہ دیتا ہے۔ موت کے اس اختیار میں ہے، بھر تم کو زندہ وہ کرے گا۔ تم ان کاموں میں سے کسی ایک کام کے متعلق بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ وہ تمہارے ان دیوتائوں کے ہاتھوں انجام پاتا ہے یا وہ اس میں اللہ کا ہاتھ بٹاتے ہیں تو آخر ان کے بل پر تم کب تک جیو گے اور اگر تم خدا کو پکڑ میں آگئے تو یہ تمہارے کیا کام آئیں گے ؟ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔ اوپر کی بات تو ان کو خطاب کرکے فرمائی ہے اور یہ بات ان سے منہ پھیر کر فرمائی ہے۔ ان دونوں اسلوبوں کی بلاغت پر ہم مختلف مقامات میں گفتگو کرچکے ہیں۔
Ayah 30:41

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری ہر جگہ لوگوں کے اعمال کے نتیجے میں فساد چھا گیا ہے تاکہ اللہ ان کی بعض کرتوتوں کا مزہ چکھائے تاکہ یہ رجوع کریں۔

ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون (41) جس طرح روز و شب اور صبح و شام وغیرہ کے الفاظ احاطہ پر دلیل ہوتے ہیں اسی طرح بردبحر کے الفاظ بھی اس طرح کے سیاق میں صرف احاطہ پر دلیل ہوتے ہیں۔ مدعا یہ ظاہر کرنا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے پر خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اعتقادی ہو یا عملی فساد طاری ہوچکا ہے۔ فکر و نظر کی صحت کا انحصار تمام تر اللہ تعالیٰ کیا ایمان پر ہے اور عمل کی ساری استقامت اسلام پر مبنی ہے اور یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی انہدام دوسرے کے انہدام کو متلزم ہے اور جب یہ دونوں منہدم ہوجائیں تو انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں فساد لازماً مستولی ہو کے رہے گا۔ اگر ان دونوں کے انہدام کے باوجود کہیں زندگی کی چمک دمک نظر آتی ہے تو وہ بالکل عارضی چیز ہے اور جو لوگ اس کو کچھ اہمیت دیتے ہیں وہ فریبِ نظر میں مبتلا ہیں۔ لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون۔ یہ نتیجہ بیان ہوا ہے اس صورت حال کا …یعنی جب لوگ اپنے اعمال سے اس طرح زندگی کے ہر شعبہ کو فساد سے بھر دیتے ہیں تو وہ گویا زبان حال سے اللہ تعالیٰ کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان کی کرتوتوں کو کچھ مزہ ان کو چکھائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا کچھ مزا چکھاتا ہے اور مقصود اس سے ان کو متنبہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور غلط روی سے باز آکر زندگی کی صحیح شاہراہ کی طرف مڑیں۔ یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ رسولوں کی قوموں پر دو قسم کے عذاب آئے ہیں۔ اول تنبہی پھر فیصلہ کن۔ یہاں قریش کو پہلے قسم کے عذاب سے ڈرایا ہے کہ تم نے اپنے اعمال سے اپنے آپ کو ایک تنبہی عذاب کا مستحق بنا لیا ہے لیکن یادر رکھو کہ اگر وہ عذاب آگیا اور تم نے اپنی روش نہ بدلی تو پھر وہ عذاب بھی آجائے گا جو تمہاری کمر توڑ کے رکھ دے گا۔
Ayah 30:42

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

ان سے کہو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو پہلے ہو گزرے ہیں ! ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے۔

قل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبل ط کان اکثرھم مشرکین۔ (42) یعنی ان لوگوں سے کہو کہ اپنے آپ کو طفل تسلیوں سے نہ بہلائو بلکہ خود اپنی آنکھوں سے اپنے ملک کی پچھلی قوموں کے آثار پر نگاہ ڈالو کہ ان کا انجام کیا ہوچکا ہے۔ ان کی اکثریت بھی تمہاری ہی طرح مشرک تھی۔ جس طرح تمہارے اندر سے موحد بہت تھوڑے نکلے ہیں اسی طرح ان کے اندر سے بھی خالص خدا پرست بہت تھوڑے نکلے۔ بالآخر اللہ نے ان تھوڑے سے خدا پرستوں کو علیحدہ کرلیا اور اکثریت کو اپنے عذاب سے تباہ کردیا۔
Ayah 30:43

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

پس اپنا رخ دین قیم کی طرف سیدھا رکھو۔ قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے ایک ایسا دن آجائے جس کے لئے پھر واپسی نہیں ہے۔ اس دن وہ جدا جدا ہوجائیں گے۔

فاقھم وجھک للدین القبیم من قبل ان یاتی یوم لا مردلہ من اللہ یومئذ یصدعون (43) یہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی طرف اس قسم کا التفات ہے جس قسم کا التفات اوپر آیت 31 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ہٹ دھرم اور شامت زدہ لوگ نہیں سنتے تو ان کی پروانہ کرو بلکہ تم خدا کے سیدھے اور فطری دین کی طرف یکسو ہوجائو اور اس دن کی مسئولیت سے بچنے کی فکر کرو جس کا آنا قطعی ہے، اور جب وہ دن خدا کی طرف سے ظہور میں آئے گا تو کسی کی طاقت نہیں ہوگی کہ اس کو لوٹا سکے۔ ’ یومئذ یصدعون۔ ‘ یعنی آج تو ان لوگوں کو اپنے شرکاء شفعا پر بھی اعتماد ہے اور اپنی جمعیت پر بھی ناز ہے لیکن اس دن سب متفرق ہوجائیں گے، کوئی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔ آیت 14 میں لفظ یتفرقون آیا ہے، یہاں یصدعون ہ۔
Ayah 30:44

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس نے کفر کیا اس کا وبال اس پر ہوگا اور جنہوں نے نیک اعمال کیے وہ بیشک اپنے لئے زمین ہموار کر رہے ہیں

من کفر نعلیہ کفرہ، ومن عمل صالحا فلانسفھم یممھدون (44) اس دن ہر ایک اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا پائے گا۔ جس نے کفر کیا ہوگا اس کے کفر کا وبال اسی پر آئے گا، کوئی دوسرا اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا اسی طرح جو لوگ عمل صالح کر رہے ہیں وہ درحقیقت اپنے ہی مستقبل کو سنوار رہے ہیں اور اسی کا صلہ انہی کو ملنے والا ہے۔
Ayah 30:45

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بدلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ اللہ کافروں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا۔

لیجزی الذین امنوا وعملوا لصلحت من فضلہ، ط انہ لا یجب الکفرین (45) اس کا تعلق اوپر والی آیت من قبل ان یاتی یوم سے ہے، یعنی اس دن کے آنے کا صلی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان و عمل صالح والوں کو اپنے فضل سے صلہ دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کا اصل مقصودِ اہل ایمان کو جزا دینا ہے کفار۔ کو سزا دینا اس کی اصل غایب نہیں بلکہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ من فضیلہ کے لفظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اہل ایمان کو جو صلہ ملے گا وہ محض ان کے اعمال کے پیمانے سے تول کر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے مطابق ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فضل ایسی چیز ہے کہ اس کا اندازہ ہم اپنے پیمانوں اور قیاسوں سے نہیں کرسکتے۔ ’ انہ لا یحب الکفرین ‘ اس ٹکڑے میں کفر و اہلِ کفر کے لئے جو نفرت و کراہت چھپی ہوئی ہے قلم اس کی تعبیر سے قاصر ہے۔ اہل ایمان کے درجے و مرتبے کا اندازہ کرنے کے لئے تو تنہا یہی بات کافی ہے کہ آخرت کا ظہور ہی تمام تر ان کی داد اور ان کے انعام کے لئے ہے۔ رہے اہل کفر تو یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف یہ فرما کر ان کا ذکر ختم کردیا کہ اللہ ان کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ ظاہ رہے کہ جب اللہ ان کو پسند نہیں کرتا تو وہ جس جہنم میں بھی جا کر گریں خدا کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔
Ayah 30:46

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ بھتیجا ہے ہوائوں کو اپنے ابر رحمت کی خوش خبری دینے والی بنا کر اور تاکہ وہ تم کو اپنی رحمت سے نوازے اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل کے طالب بنو اور تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔

ومن ایتہ ان یرسل الریاح مبشرت ولیذ یقکم من رحمتہ ولتجری الفلک بامرہ ولیتیتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون (46) اس آیت اور اس کے بعد کی آیات میں پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح دیکھتے ہو کہ گھٹی ہوئی فضا کے اندر سے اللہ تعالیٰ سازگار ہوا چلا دیتا ہے جو تمہارے لئے اس کے بارانِ رحمت کی بشارت بن کر ظاہر ہوتی ہے تاکہ تم کو اپنے رزق و فضل سے نوازے اسی طرح موجود ناموافق حالات کے اندر سے بھی تمہارے لئے سازگار حالات پیدا کردے گا۔ ولتجری الفلک بامرہ یعنی یہی سازگارہوائیں ہیں جن کے ذریعہ سے تمہاری کشتیاں بحکم خدا چلتی ہیں تاکہ تم ایک مقام سے دوسرے مقام کا سفر کرسکو۔ ولتبتغوا من فضلہ اور تاکہ تم تجارت وغیرہ کے ذریعہ سے اس کے رزق و فضل کے طالب بن سکو۔ ولعلکم تشکرون، یعنی ربوبیت کا یہ سارا نظام اس نے اس لئے قائم فرمایا ہے، تاکہ تم اس کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو اور اس کے شکر گزار رہو۔ اس میں مسلمانوں کے لئے نہایت لطیف انداز میں یہ تنبیہ بھی ہے کہ خدا کی نصرت و برکت تمہارے لئے ظاہر تو ہوگی لیکن اس کو پاکر اپنے رب سے غافل نہ ہوجانا بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ خدا کے برابر شکر گزار رہنا۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی رسول بھیجے ان کی قوموں کی طرف۔ پس وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جنہوں نے جرم کیا۔ اور اہل ایمان کی نصرت ہم پر لازم تھی۔

ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الی قومھم فجاء وھم بالبینت فانتقمنا من الذی ارموا وکان احق علینا نصر المومنین (47) یہ اسی اوپر والی حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں واضح فرمایا ہے کہ تم دنیا میں پہلے رسول نہیں ہو بلکہ تم سے پہلے بھی ہم رسول بھیج چکے ہیں تو ماری جو سنت ان کے معاملے میں ظاہر ہوچکی ہے وہی تمہارے معاملے میں بھی ظاہر ہوگی۔ تم سے پہلے جو رسول آئے وہ بھی تمہاری طرح اپنی قوموں کے پاس کھلی کھلی نشانیاں اور دلیلیں لے کر آئے لیکن ان کی قوموں نے ان نشانیوں اور حجتوں کی قدر کرنے کے بجائے مجرمانہ روش اختیار کی اور اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی دشمن بن گئیں۔ بالآخر ان کی اس مجرمانہ روش کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے ان سے ان جرائم کا انتقامل لیا جن کی وہ اہل حق کے باب میں مجرم ہوئیں۔ اس لئے کہ اہل ایمان کی نصرت ہم پر حق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہی معاملہ تمہارے دشمنوں کے ساتھ بھی ہوگا تم مطمئن رہو۔
Ayahs 30:48–49

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جو بھتیجا ہے ہوائوں کو پس وہ بادلوں کو ابھارتی ہیں پھر اللہ ان کو پھیلا دیتا ہے آسمان میں جس طرح چاہتا ہے اور ان کو تہ بہ تہ کرتا ہے پھر تم دیکھتے ہو مینہ کو ان کے بیچے سے نکلتے ہوئے۔ پس جب وہ اس کو نازل کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے تو وہ یکایک خوش ہوجاتے ہیں۔

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

حالانکہ وہ اس کے نازل کیے جانے سے قبل، اس خوشی سے پہلے، بالکل مایوس تھے۔

اللہ الذی یرسل الریاح تفثیر سحابا یفبطہ فی اسلماء کیف یشلم وجعلہ کسفا فتری الردق یخرج من خللہ فاذ اصبا بہ من یشاء من عبادہ اذاھم یستبشرون وان کانوا من قبل ان ینزل علیھم من قبلہ لمبلسین (48۔ 49) اوپر کی آیت میں نصرت کی جو بشارت اس قطعیت کے ساتھ دی گئی ہے وقت کے ظاہری حالات اس کے بالکل خلاف تھے اس وجہ سے مسلمانوں، بالخصوص عام مسلمانوں کو، اطمینان دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و رحمت کے ظہور کے ایک ایسی نشانی کی طرف توجہ دلائی جس کا تجربہ و مشاہدہ ہر شخص کو ہوتا رہتا ہے۔ فرمایا کہ یہ اللہ ہی کی قدرت اور شان ہے کہ وہ ہوائوں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں، پھر وہ ان بادلوں کو اپنی حکمت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے فضا میں پھیلاتا اور ان کو تہ بہ تہ کرتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ ان کے درمیان سے مبینہ نکلتا ہے تو پھر جو خدا کی اس رحمت سے فیضیاب ہوتے ہیں وہ یکایک خوشیاں منانے لگتے ہیں حالانکہ اس سے ذرا پہلے وہ اس سے بالکل مایوس ہوتے ہیں…مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہی شان رحمت تمہارے لئے بھی ظاہر ہوگی۔ آج تمہیں یہ چیز بہت بعید نظرآتی ہے لیکن جب ظاہر ہوگی تو تمہیں یہ بہت قریب کی چیز معلوم ہوگی اور تم اس وقت خوش ہوجائو گے۔ ’ من قبل ان ینتزل ‘ کے بعد پھر ’ من قبلہ ‘ میں بظاہر کچھ تکرار سی محسوس ہوتی ہے لیکن غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ تکرار نہیں ہے۔ بلکہ یہاں دو الگ الگ باتیں فرمائی گئی ہیں۔ یعنی بارش سے پہلے وہ بارش سے مایوس تھے اور بشارت کے ظہور سے پہلے خوشی سے۔
Ayah 30:50

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

پس رحمت الٰہی کے آثار کو دیکھو، وہ کس طرح زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کے مردہ ہوجانے کے بعد ! بیشک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

فانظرالی اثر رحمت اللہ کیف یحی الارض بعد موتھا، ان ذلک لمحی الموتی وھو علی کل شیء قدیر (50) قیامت کا یہ ذکر مسلمانوں کی تسلی ہی کے ضمن میں ہے۔ اہلِ ایمان کی تمام امیدوں کا مرجع چونکہ آخرت ہی ہے اس وجہ سے اوپر کی آیات میں اس دنیا کے اندر ان کی کامیابی کے آثار کی طرف اشارہ کرنے کے بعد آکرت کی رحمت کے ظہور کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ جس طرح زمین میں اس کی رحمت کے آثار دیکھتے ہو کہ وہ اس کے خشک ہوجانے کے بعد اس کو دوبارہ باغ و بہار کردیتا ہے اسی طرح وہ دوبارہ مردوں کو بھی زندہ کردے گا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفار آخرت کو جو جھٹلاتے اور اس کو محض تمہارا خواب و خیال قرار دیتے ہیں۔ تم ان کو ابو الفجولیوں کی پروانہ کرو۔ خدا کیہ عظیم رحمت ظاہر ہو کر رہے گی اور تمہارے یہ حریف اس دن اپنی بدبختی و محرومی پر اپن سر پیٹیں گے۔ یہ حقیقت قرآن سے واضح ہے کہ قیامت دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کا مقتضیٰ ہے اور اس کا اصل مقصد اہل ایمان کو ان کی جانبازیوں کا صلہ دینا ہے۔ سورة انعام کی آیت 12 کتب علی نفسہ الرحمہ لیجمعنکم الی یوم القیمۃ لاریب فیہ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں، اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔
Ayah 30:51

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم دوسری ہوا بھیج دیں پس وہ کھیتوں کو زرد ہوئی دیکھیں تو اس کے بعد وہ کفر کرنے والے بن کر رہ جائیں گے۔

ولئن ارسلنا ریحا ذراوہ مصفرا الظلوا من بعدہ یکفرون (51) یہ اوپر کی آیات 48۔ 49 پر استدراک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا عام چال یہ ہے کہ ذرا دیر میں مایوس ذرا دیر میں مگن ہوجاتے ہیں۔ بارش میں ذرا توقف ہوجائے تو سب کے حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں، بارش ہوجائے تو ناچنے کو دنے لگتے ہیں اور اگر بارش کے بعد ہم کوئی ناسازگار ہوا بھیج دیں اور وہ اپنی اپجی ہوئی فصلوں کا رنگ زرد پڑتے دیکھیں تو وہی ناشکری ومایوسی ان پر پھرجائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس قسم کے متلون مزاج ہیں ان سے کسی خیز کی امید نہ رکھو، تمہاری باتیں صرف ان کے دلوں میں اتریں گی جو نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کر مزاج رکھتے ہیں۔ لفظ ’ ریاح ‘ اور ریح کے فرق پر ہم اس کے محل میں بحث کرچکتے ہیں۔ مقدم الذکر کا غالب استعمال سازگار اور موسمی ہوائوں کے لئے اور موخر الذکر کا عام استعمال آفت لانے والی ہوا کے لئے ہوتا ہے۔ قراوہ میں ضمیر کو مرجع زرع یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ ہوگا جس کا قرینہ اوپر والی آیت میں موجود ہے اس لئے کہ یحی الارض بعد موتھا کا مفہوم زمین کا سبزہ اور نباتات سے معمور ہوجانا ہے۔
Ayahs 30:52–53

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

تو تم نہ مردوں کو اپنی پکار سنا سکتے اور نہ بہروں کو سنا سکتے جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے جا رہے ہوں۔

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو تم ان کی ضلالت سے موڑ کر راہ پر لاسکتے۔ تم تو بس ان کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لانے والے ہوں، پس وہی اطاعت کرنے والے ہیں۔

فانک لا تسمع الموتی ولا تسمع الصم الداء اذا والو مدبرین وما انت بھذا العمی عن ضللتھم ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (52۔ 53) مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایسے متلون مزاج اور بےثبات ہیں کہ آج میں کچھ اور آن میں کچھ ہیں۔ ذرا میں مایوس اور ذرا میں مغرور ہوتے ہیں۔ خدا کی بیشمار نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی ان کے دل خدا پر ہیں جمرتے، وہ روحانی و عقلی اعتبار سے زندہ نہیں بلکہ مردہ ہیں، سننے والے نہیں بلکہ بہرے ہیں، دیکھنے والے نہیں بلکہ اندھے ہیں۔ ایسے مردوں، بہروں اور اندھوں کو سنانا، سمجھانا نہ تمہارے بس میں ہے اور نہ اس کی تمہارے اوپر کوئی ذمہ داری ہے۔ ولا تسمع الصم الدعاء اذ اولو مدبراین میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہروں سے بھی کچھ سننے سمجھنے کی توقع کی جاسکتی ہے بشرطیکہ وہ پکارنے والے کی طرف متوجہ ہوں، لیکن ان بہروں سے کس خیر کی امید ہوسکتی ہے جو پیٹھ پھیر کے بھاگے جا رہے ہوں ! وما انتبھذ العمی عن ضللتھم ‘ میں ’ عن ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ لفظ ہدایت یہاں ’ صرف ‘ یاس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضم ہے۔ یعنی تم اندھوں کو ان کی غلط روی سے موڑ کر راہ راست پر نہیں لاسکتے۔ ’ ان تسمع الا من یومن بایتنا ‘ یہاں آیات سے مراد آفاق وانفس کی رو نشانیاں ہیں جن کی طرف پوری تفصیل کے ساتھ پیچھے توجہ دلائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری باتیں اگر کارگر ہوسکتی ہیں تو ان لوگوں پر کار کر ہوسکتی ہیں جو خدا کی قدرت، رحمت اور اس کے عدل کی ان نشانیوں کو مانتے ہوں جو آفاق میں پھیلی ہوئی ہیں، جو ان کو نہ نامنتے ہوں ان کے آگے سارا وعظ بھینس کے آگے بین بجانے کے حکم میں داخل ہے۔ ’ فھم مسلمون ‘ یعنی لوگ آفاق وانفس کی شنانیوں کو دیکھتے، سمجھتے اور مانتے ہیں وہ بیشک تمہاری بات سنیں سمجھیں گے اور تمہاری دعوت پر اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالہ کردیں گے۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تم کو ناتوانی سے پیدا کیا، پھر ناتوانی کے قوت بخشی، پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کردیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے اور وہی علیم وقدیر ہے۔

اللہ الذی خلقکم من ضعفف ثم جعل من بعد ضعب قوۃ چم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ یخلق ما یشاء وھو العلیم القدیر (54) اب یہ آخر میں تنبیہ ہے کہ کسی کو اپنی قوت و صلاحت اور اپنے اسباب وسائل پر ناز نہیں ہونا چاہیے۔ جو کچھ بھی انسان کو ملتا ہے سب خدا ہی کو دیا ہوا ملتا ہے اور پھر اسی کی طرف سے سب لوٹ جاتا ہے۔ تم اپنے وجود ہی پر غور کرو۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی کمزور و ناتواں حالت میں تم کو وجود بخشتا ہے۔ پھر اس ناتوانی کے بعد جوانی کی توانائیاں اور صلاحیتیں عطا فرماتا ہے۔ اس کے بعد پھر بڑھاپے کی صورت میں اسی سابق ناتوانی کا دور عود کر آتا ہے۔ کسی کے امکان میں نہیں ہے کہ اپنی پائی ہوئی جوانی اور طاقت کو برابر قائم رکھ سکے۔ یہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے کہ وہ جو چاہے پیدا کرتا اور پیدا کرسکتا ہے۔ وہی ہر چیز کا علم اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن قیامت واقع ہوگی، مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ اسی طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوجاتی رہی ہیں

ویوم تقوم الساعۃ یقسم المجرمون۔ ما لبثوا غیر ساعۃ کذلک کان ایوفکون (55) یہ دوسری تنبیہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی کو بہت طویل نہیں خیال کرنا چاہیے۔ قیامت کے دن جب مجرم لوگ اٹھیں گے تو قسم کھا کے آپس میں کہیں گے کہ ہمارا یہ سارا زمانہ جو گزرا ہے ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ نچنت ہیں کہ اگر قیامت ہے بھی تو اس کے ظہور میں زندگی، موت، برزخ اور حشر و نشر کے بہت سے طول طویل مراحل حائل ہیں، ابھی سے اس کے لئے فکر مند ہونے اور پان عیش مکدر کرنے کی کیا ضرورت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس دن یہ اٹھیں گے تو اس دن ان کا احساس یہ ہوگا کہ یہ سارے مراحل پلک جھپکتے گزر گئے۔ ’ وکذلک کانوا یوفکون ‘ یعنی ان نادانوں کو اصل حقائق کا اندازہ کرنے کی توفیق کبھی نہیں ہوئی۔ قیامت کے دن انہیں اپنا سرا ماضی پلک جھپکتے ختم ہوتا نظرآئے گا لین جب تک دنیا میں رہے ان کو زندگی، موت اور حشر و نشر کے مراحل اتنے طویل نظر آتے تھے کہ اس کے لئے انہوں نے فکر مندہونے کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی۔
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن کو علم و ایمان وطا ہوا ہوگا وہ کہیں گے کہ اللہ کے رجسٹر رو سے تو تم قیامت تک رہے ہو۔ سو یہ حشر کا دن ہے لیکن تم جانتے نہیں تھے۔

وقال الذین اولو العلم والایمان لقد لبثتم فی تب اللہ الی یوم البعث فھذا یوم البعث ولکنکم کنتم لا تعلمون (56) ’ اولو العلم والایمان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی عقل اس دنیا میں سیدھی ریہ اور ان کو اللہ کی آیات کا علم اور خدا اور آخرت کا ایمان نصیب ہوا۔ وہ ان لوگوں کی اس بدحواسی پر ٹوکیں گے کہ تمہارا یہ اندازہ باکل غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی رو سے تو تم قیامت تک رہے ہو اور آج یہ قیامت کا دن تمہارے سامنے ہے لیکن تم اس کو جانتے نہیں رہے ہو۔ کتاب اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ دفتر ہے جس میں ساری باتیں مندرجہ ہیں۔ ولکنکم کنتم لا تعلمون سے مقصود یہ ہے کہ تم اس کو محض ایک خیالی چیز سمجھتے رہے، اس کو تم نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنی زندگی کی قدروقیمت پہنچانتے اور اس کو آخرت کے نصب العین کے تحت گزارتے ہیں ان پر روز حشر میں کوئی بدحواسی نہیں طاری ہوگی بلکہ وہ یہ محسوس کریں گے کہ زندگی کو جو سفر انہوں نے شروع کیا تھا اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے پروگرام کے مطابق اس سفر کی آخری منزل پر وہ پہنچ گئے۔
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

پس اس دن ان لوگوں کو ان کی معذرت کچھ نفع نہ دے گی جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہوگا اور نہ ان سے یہ چاہا جائے گا کہ وہ خدا کو راضی کریں۔

فیومئذ لا ینفع الذی ظلموا معذرتھم ولا ھم یستعبوت (57) لفظ استعتاب ‘ پر دوسرے مقام میں بحث ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن کسی کو اس کی کوئی معذرت نفع نہیں دے گی اور نہ کسی کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرے۔ ان چیزوں کے لئے جو موقع مطلوب ہے وہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں دے دیا ہے۔ جس نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا اس کو یہ موقع پھر کبھی حاصل نہ ہوسکے گا۔ جس کو تیاری کرنی ہو آج تیاری کرلے۔ پھر کسی کو یہ کہنے کا موقع ملنے والا نہیں ہے کہ اس کو تیاری کے لئے وقت نہیں ملا۔
Ayah 30:58

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی تمثیلیں بیان کردی ہیں اور اگر تم ان کے پاس کوئی سی نشانی بھی لائو گے تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ یہی کہیں گے تم لوگ بالکل جھوٹے ہو۔

ولقد ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ولئن جئتھم بایۃ لیقولن الذی کفروا ان اتنم الا مبطلون (58) ’ ضرب مثل ‘ اصلی میں تو کسی موعظت و حکمت کی بات کو تمثیل کی صورت میں پیش کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن یہ اپنے وسیع مفہوم میں مجرد موعظمت و حکمت کی بات بیان کرنے کے لئے بھی آتا ہے۔ اس محاورے پر ہم دوسرے مقام میں بحث کرچکے ہیں۔ اب ہی آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ جو باتیں بتانے اور سمجھانے کی ہیں وہ سب ہم نے اس قرآن میں بیان کردی ہیں تو تم اس چیز کو ان کے آگے پیش کردو۔ اور اس بات کو یاد رکھو کہ اگر وہ اس کتاب سے نہ سمجھے تو خواہ تم ان کو کتنا ہی بڑا معجزہ دکھا دو یہ کفر کرنے والے یہی کہیں گے کہ یہ بھی جھوٹ اور محض تمہاری شعبدہ بازی اور ساحری ہے۔
Ayah 30:59

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح اللہ مہر کردیا کرتا ہے ان لوگوں کے دلوں پر جو جاننا نہیں چاہتے۔

کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون (59) یعنی جو لوگ اپنے آپ کو سمع و بصرا اور دل کی صلاحیتوں سے محروم کرلیتے ہیں اور کوئی معقول بات سننا سمجھنا نہیں چاہتے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے دلوں پر مہر کردیا کرتا ہے۔
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

تو تم صبر کرو، بیشک اللہ کا وعدہ شدنی ہے اور یہ یقین نہ رکھنے والے تم کو بےوزن نہ بنانے پائیں۔

فاصبرو ان وعدہ اللہ حق ولا یستخفنک الذین لا یوقنون (60) ’ استخفاف ‘ کے معنی کسی کو ہلکا پھلکا اور معمولی سمجھ کر باتوں میں اڑا دینا اور اس کو بےوزن بنا دینا ہے۔ اب یہ آخرت میں نہایت قطعی الفاظ میں آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلایا کہ تم اپنے موقف پر۔۔ رہو۔ الہنے دنیا اور آخرت میں تمہاری نصرت اور فلاح کا جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کے رہے گا تو یہ لوگ جو اللہ کے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں تمہارا مذاق اڑا کر تمہیں بےوزن بنانے کا موقع نہ پائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنی دعوت اور اپنے موقف پر جمے رہے تو یہ خود رسوا اور بےوزن ہوں گے۔ تمہارے قدم اکھاڑنے کی جو کوششیں یہ کر رہے ہیں یہ سب ناکام ہوجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمامہوئی۔ فالحمد اللہ علی ذلک۔ 22 جون، 1974 ء؁، ہفتہ۔ رحمان آباد۔