Ayah 31:30ذلک بان اللہ ھو الحق وان ما یدعون من دونہ الباطل وان اللہ ھو العلی الکبیر (30)
یعنی اس نظام کائنات کے اندر یہ باقاعدگی، یہ پابندی اور یہ افادیت و ربوبیت جو پائی جاتی ہے کہ اس وجہ سے پائی جاتی ہے کہ معبودِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے اور اس تمام کائنات کی باگ تنہا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس کے سوا کچھ دوسرے الہٰ بھی اس کے خلق و تدبیر میں دخہل ہوتے تو یہ سارا نظام جیسا کہ فرمایا ہے لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا درہم برہم ہوجاتا ہے۔ اس وہج سے وہ سارے معبود بالکل بےحقیقت اور باطل ہیں جن کی یہ لوگ پرستش کر رہے ہیں۔ وان اللہ ھو العلی الکبیر یعنی یہ نظام کائنات جس طرح خدا کی یکتائی پر شاہد ہے اسی طرح اس بات پر بھی شاہد ہے کہ خدا کی ذات بڑی ہی برتر اور بڑی ہی عظیم ہے۔ اس کی قدرت و حکمت کا یہ ادنیٰ کرشمہ یہ کہ وہ رات کے بعد دن کو نمودار کردیتا ہے اور دن پر رات کو ڈھانک دیتا ہے اور سورج اور چاند سب کی نکیل اس کے ہاتھ میں ہے۔ جو ذات اتنی عظیم و بلند ہے وہ اس سے ارفع ہے کہ کسی چیز کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے۔
Ayah 31:31الم تر ان الغلک تجری فی البحر بنعمت اللہ لیریکم من ایتہ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (31)
اب یہ کشتی کی مثال سے مخاطبوں کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ذرا میں مغرور اور مایوس ہوجانے والے نہ بنو بلکہ امتحان و آزمائش میں صبر کرنے والے اور نعمت میں شکر کرنے والے بنو۔ یہی راستہ سلامی کا ہے اور اسی پر چل کر فلاح حاصل کرنے والے بن سکو گے مگر تمہارا حال یہ ہے کہ اس وقت خدا کی عنایت سے جو تمہارے حالات سازگار ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر تمہارے پائوں ہی نہیں پڑ ہے ہیں، حالانکہ یہ سارا نشتہ بالکل عارضی ہے۔ اگر ابھی خدا کی کسی پکڑ میں آگئے تو سارا نشہ ہرن ہوجائے گا اور توبہتوبہ پکار اٹھو گے۔ لیکن یہ توبہ بی بالکل وقتی ہوگی، جونہی حالات سازگارہ ہوں گے وہی سرمستی پھر عود کر آئے گی۔ ایک کشتی کے مسافروں کو جس طرح کے حالات پیش آتے ہیں ان سے سبق لو۔ اگر کوئی آزمائش میں صابرا اور نعمت میں شاکر رہنا چاہے تو اس کے لئے ان کے حالات میں بڑا درس ہے۔
Ayah 31:32واذ غشیھم موج کا لطل دعو اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجھم الی البر فمنھم مقتصدا وما یجحد بایتنا الا کل ختار کفور (32)
یہ اوپر کے اجمال کی تفصیل ہے کہ کشتی کے مسافروں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب تک کشی رواں دواں رہتی ہے اس وقت تک ان کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ یہ خدا کی چلائی ہوئی سازگار ہوا کا کرشمہ ہے کہ وہ سمندر کے سینہ پر سوار اس سکون و راحت کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ بلکہ وہ اس کو اپنی ذہنی و قابیت کا کرشمہ سمجھتے ہیں اور خدا اور اس کی قدرت کو بھولے رہتے ہیں۔ لیکن جب دفعتہ کسی گوشے سے طوفانی ہوائیں نمودار ہوتی ہیں اور سائبانوں کی مانند اٹھنے والی موجیں ان کو ڈھانک لیتی ہیں تب ان کو خدا یاد آتا ہے اور وہ سو سو طرح اس سے فریاد کرتے اور آئندہ کے لئے اطاعت و وفاداری کا عہد کرتے ہیں۔ لیکن جب کشتی ساحل پر پہنچ جاتی ہے تو ان میں سے تھوڑے اپنے عہد پر قائم رہنے اور اعتدال کی راہ اختیار کرنے والے نکلتے ہیں، باقی غدارو ناشکرے نکلتے ہیں اور وہ سب خدا کی نشانیوں کو فراموش کرکے اپنی پچھلی سرمستیوں میں کھو جاتے ہیں۔
یہ قریش کے متمروین کو تنبیہ اور ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ اس وقت ان کے حالات سازگار ہیں اس وجہ سے خدا سے یہ بےنیاز ہیں اور جب ان کو خدا کی پکڑ سے ڈرایا جاتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن جب کسی پکڑ میں آجائیں گے تو توبہ توبہ پکاریں گے۔ پھر جب ڈھیل مل جائے گی تو ان کو اپنا یہ عہد یاد بھی نہیں رہے گا۔ ایسے عہد شکن اور ناشکرے لوگ کسی نشانی سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔
’ فنھم مقتصد کے بعد واکثرھم کفرون یا اس کے ہم معنی الفاظ محذوف ہیں۔ اس محذوف کو بعد کے ٹکڑے ’ وما یحجد بایتنا الا کل ختار کفور ‘ نے کھول دیا ہے۔ ’ مقتصد کے معنی راہ حق و عدل پر چلنے والے کے ہیں۔
’ ومایجحد بایتینا الاکل ختار کفور۔ ’ ختار ‘ ختر ‘ سے مبالغہ ہے۔ اسکے معنی بدترین قسم کی بےوفائی و عہد شکنی کرنے والا۔ یہ الفاظ یہاں اوپر کے الفاظ صبار شکور۔۔۔ استعمال ہوئے ہیں۔ ’ صبار ‘ سے وہ لوگ مراد ہیں جو ہر طرح کے حالات میں اپنے رب کے عہد پر استوار رہتے ہیں اور ’ ختار ‘ سے وہ لوگ مراد ہیں جو نعمت میں تو خدا سے بےپروا رہتے ہیں البتہ جب کسی مصیبت میں پھنستے ہیں تو خدا سے عہد و پیمان باندھتے ہیں، لیکن یہ عہد و پیمان ان کو صرف اسی وقت تک یاد رہتا ہے جب تک خدا کی پکڑ میں رہتے ہیں، اس سے چھوٹتے ہی وہ اپنے سارے عہد و پیمان کو طاق نسیاں پر رکھ دیتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بدترین قسم کی غداری ہے۔ اس طرح کے لوگوں کے لئے نہ اللہ کی نعمت کی نشانیاں کارگر ہوتیں نہ کوئی تنبیہ ان پر اثر انداز ہوتی۔
Ayah 31:33یایھا الناس اتقوا ربکم واخشوا یوما لایجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا ط ان وعد اللہ حق فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا ولا یغرنکم باللہ الغرور (33)
یہ آخری تنبیہ ہے کہ لوگو اپنے رب کی پکڑ اور اس کے فہر و غضب سے بچو اور اس دن سے ڈرتے رہو جس دن نہ کوئی باپ اپنی اولاد کے کچھ کام آئے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آنے والا بن سکے گا بلکہ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ باپ اور بیٹے کا رشتہ سب سے زیادہ قریبی رشتہ ہے۔ جب یہ ایک دوسرے کے کام آنے والے نہ بن سکیں گی تو تابہ دیگراں چہ رسد !
یہاں اسلوب بیان کی یہ مندرت ملحوظ رہے کہ بیٹے کے کام نہ آسکنے کی نفی میں شدت پائی جاتی ہے۔ فرمایا ہے ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا زبان کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ ابتدا کے اعادے اور فعل کی جگہ اسم کے استعمال نے اس جملہ میں بڑا زور پیدا کردیا ہے۔ اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اول تو ہر باپ کو فطری طور پر اپنے بیٹے سے یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ پیری میں اس کا سہارا بنے گا، دوسری یہ کہ بیٹا اپنی عمر اور صلاحیت کے اعتبار سے باپ کے مقال میں زیادہ اس بات کا اہل ہوتا ہے کہ اپنے ناتواں باپ کی مدد کرسکے۔ تیسری یہ کہ بیٹے کے اندر جوانی کے سبب سے فتوت و حمیت کا جذبہ بھی زیادہ قوی ہوتا ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اس دن نفسی نفسی کا یہ عالم ہوگا کہ بیٹا بھی اپنے باپ کے کام آنے والا نہ بن سکے گا۔
یہاں اس دور کے حالات پر نظر رہے جس دور میں یہ آیات اتری ہیں۔ سورة عنکبوت کی تفسیر میں بھی ہم اشارہ کرچکے ہیں اور اس سورة کی آیت 15 کے تحت بھی یہ بات گزر چکی ہے کہ اس دور میں باپوں کی طرف سے بیٹوں پر ان کو اسلام سے روکنے کے لئے دبائو ڈالا جا رہا تھا اور اس کے حق میں بزرگانہ دلیل نہ پیش کی جاتی تھی کہ تم ہمارے طریقہ کی پیروی کرتے رہو۔ قیامت کے دن تمہارے نیک و بد کے ذمہ دار ہم ہیں۔ یہ آیت اس بات کی تردید کر رہی ہے۔
’ ان وعد اللہ حق فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا، یعنی اللہ کا یہ وعدہ شدنی ہے۔ قیامت آگے رہے گی تو یہ تنیا کی زندگی تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے۔ یعنی اس دنیا کا نظام چونکہ مجازات کے اصول پر نہیں چل رہا ہے بلکہ اس میں حق کے ساتھ باطل کو بھی مہلت ملی ہوئی ہے اور اہل باطل اس میں زیادہ سربلند ہیں اس وجہ سے نادانوں کو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ قیامت کا ڈر اوا محض ڈراوا ہے۔ فرمایا کہ یہ چیز کسی کو غلط فہمی میں نہ ڈالے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس امتحان کے نتائج کے ظہور کا دن بعد میں آنے والا ہے۔
’ ولا یغرنکم باللہ الغرور ‘ یعنی یہ فریب نظر اور یہ دھوکا خدا کے بارے میں کسی کو غلط فہمی میں نہ ڈالے کہ خدا نے یہ دنیا بےمقصد بنا ڈالی ہے اور وہ اس کے خیرو شر سے بالکل بےتعلق ہو کر الگ بیٹھا ہوا ہے۔ اگر کسی نے ایسا سمجھا ہے تو وہ خدا کو بہت غلط سمجھا ہے۔ بالآخر ایک دن آئے گا جس دن خدا کا کامل عدل ظاہر ہوگا۔ اس دن اس قسم کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے لوگ اپنی اس حماقت پر اپنے سر پیٹیں گے۔ یہی مضمون ’ ھاغرک بربک الکریم ‘ والی آیت میں بھی بیان ہوا ہے۔ لفظ ’ غرور ‘ اس دنیا کے فریب نظر کے لئے بھی استعمال ہوا ہے اور اس فریب نظر میں مبتلا کرنے والے شیطان کے لئے بھی، اور یہاں دونوں ہی معنی بنتے ہیں۔ البتہ اتنی بات یاد رکھو کہ ’ فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا ‘ میں اس فریب نظر پر تنبیہ ہے جو آدمی کو اس دنیا کے باب میں لاحق ہوتا ہے اور ولا یغرنکم باللہ الغرور میں اس مغالطہ سے آگاہ کیا گیا ہے جو نادانوں کو اللہ تعالیٰ کے باب میں لاحق ہوتا ہے اور فلسفہ دین کے اعتبار سے یہی دو مغالطے ہیں جو تمام گمراہیوں کی جڑ ہیں۔
Ayah 31:34ان اللہ عندہ علم الساعدِ وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذ تکسب غدا ط وما تدری نفس بای ارض تموت، ان اللہ علیم خبیر (34)
یہ ایک دفع دخلل مقدر یعنی ایک شبہ یا اعتراض کا برسر موقع جواب ہے۔ مخالفین کو جب قیامت سے ڈرایا جاتا تو وہ جھٹ یہ سوال کرتے کہ متی ھذا الوعد آخر یہ دھمکی کب پوری ہوگی ! اگر اس کو آنا ہے تو آکیوں نہیں جاتی ! اس کے جواب میں فرمایا کہ اس کے آنے کا وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اگر اس کا وقت معلوم نہیں ہے تو اس سے اس حقیقت کی نفی نہیں ہوجاتی۔ زندگی کی کتنی حقیقتیں ہیں جن کے وقت اور ان کی نوعیت کا کسی کو علم نہیں ہوتا لیکن کوئی عاقل ان کا انکار نہیں کرتا۔ بارش ہوتی ہے اور اس کے ہونے سے کوئی انکار نہیں کرتا لیکن اس کے ٹھیک ٹھیک وقت، اس کی مقدار اور اس کے مقامات کو کون بتا سکتا ہے ! اس زمانے میں انسان نے، سائنس میں بڑی ترقی کرلی ہے اور حکومتیں لاکھوں کروڑوں ورپے محکمہ موسمیات پر خرچ کرتی ہیں لیکن ان محکموں کی پیشئن گوئیوں کی حقیقت ظن وتخمین سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی طرح ایک عورت حاملہ ہوتی ہے، ہر شخص جانتا ہے کہ یہ عورت جنے گی، لیکن کیا جنے گی اور کب جنے گی اس کو خدا کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا۔ علیٰ ہذا القیاس کسی کو یہ پتہ نہیں کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا، کیا فرائض انجام دے گا اور کن حالات و مشاغل میں اس کی زندگی گزرے گی۔ بڑے بڑے ضابطہ پسندوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑی احتیاط سے اپنے پروگرام بناتے ہیں اور بڑی وضع داری سے ان کو بنا ہتے ہیں لیکن عین وقت پر کوئی ایسی افتاد پیش آجاتی ہے کہ ان کا سارا پروگرام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ افراد تو درکنار حکومتوں کا حال یہ ہے کہ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی کرتی ہیں کہ اس سال ہم اپنے ملک میں اتنی گندم یا اتنا چاول پیدا کریں گے لیکن ذرا سا موسم کا تغیر و تبدل اور بارش کا اتار چڑھائو ساری منصوبہ بندی پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اور زیادہ دور کیوں جائیے، آدمی کے لئے خود اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ کتنی اہمیت رکھنے والا ہے لیکن کون جانتا ہے کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا اور کہاں دفن ہوگا ! آدمی گھر سے ہنسی خوشی کسی تقریب کے لئے نکلتا ہے اور وہاں سے اس کی لاش آتی ہے۔ پیدا کہاں ہوتا ہے، رہتا بستا کہیں ہے اور دفن کہیں ہوتا ہے۔ تو جب اتنی قریب کی ایسی واضح حقیقتوں کا علم بھی انسان کو نہیں ہے، حالانکہ یہ زندگی کے وہ حقائق ہیں جن کا کوئی بھی انکار ہیں کرسکتا، تو قیامت کا اگر وقت نہیں معلوم ہے تو وہ کیوں مشتبہ ہوجائے !
ان اللہ علیم خبیر ؛ اصلی علیم وخبیر اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی، لیکن وہ آئے گی ضرور۔ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے وقوع کی شہادت دے رہا ہے۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ واللہ الحمد والمنۃ۔
اتوار۔ 8 بجے دن، 82 جولائی 1974ء، رحمان آباد۔