32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 32:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس کتاب کی تنزیل بلاشبہ رب العالمین کی طرف سے ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود گھڑ لیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا ، شاید کہ وہ ہدایت پاجائیں

درس نمبر 187 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 30 الم (1) تنزیل الکتب ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (1-3) الف۔ لام۔ میم۔۔۔ یہ وہ حروف ہیں جن سے عرب واقف تھے جن سے یہ کتاب سب سے پہلے مخاطب تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان حروف سے کلام کس طرح بنایا جاتا ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان حروف سے وہ جو کلام بناتے ہیں اس میں اور اس کلام میں کس قدر فرق ہے۔ ہر وہ شخص یہ فرق جانتا تھا جو اسالیب کلام سے واقف تھا۔ اور جو شخص بھی افکار و معانی کو الفاظ کا لباس پہنانے کا کام کرتا تھا ۔ یہ لوگ یہ بھی جانتے تھے اور اسے مانتے تھے کہ نصوص قرآنی کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے اور اس کے اندر کوئی گہرا عنصر ہے ، جو اسے ایک ایسی قوت قاہرہ عطا کرتا ہے جو بات کو دل میں اتار دیتا ہے۔ ایسی تاثیر ان تمام باتوں اور اشعار میں نہیں ہے جو انسان خود بناتا ہے ، یا اس نے بنائے ہیں۔ یہ قرآن مجید کی ایسی خصوصیت تھی جس میں کسی کو کلام نہ تھا ، موافق ہو یا مخالف۔ کیونکہ جو شخص بھی یہ کلام سنتا تھا وہ اسے محسوس کرتا تھا۔ وہ اس کلام کو دوسرے کلاموں سے ممتاز پاتا تھا اور اس پر جھوم جاتا تھا ۔ اگرچہ وہ یہ نہ جانتا تھا کہ یہ کلام الٰہی ہے۔ قرآن کریم کو مکہ میں جب مخالف لوگوں نے بھی سنا ، کلام کا یہ عنصر ان پر اثر انداز ہوا۔ مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف واقعات پیش آئے۔ ادہائے عرب کے کلام اور شعر میں اور قرآن کریم کی سورتوں اور آیات میں وہی فرق ہے جو اللہ کی مصنوعات میں اور انسانوں کی مصنوعات میں ہے۔ اللہ کی مصنوعات واضح اور تمیز اور جدا ہیں۔ کوئی انسانی مصنوعی چیز اللہ کی بنائی ہوئی چیز کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو لے لیں۔ ایک اصلی پھول کو لے لیں اور ایک مصنوعی پھول کو لے لیں۔ اگر دنیا کے تمام تصویر کشوں کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ مل کر ایسی تصویر بنائیں جس میں کسی ایک اصلی پھول میں رنگوں کی تقسیم کا مقابلہ ہو تو وہ ایسا نہ کرسکیں گے۔ ایک پھول کی کلر اسکیم ہی ایک معجزہ ہے۔ یہی حال ہے کلام الٰہی کا اور دوسرے انسانی کلاموں کا جو سب کے سب انہی حروف تہجی سے بنے ہوئے ہیں۔ تنزیل الکتب لا ریب فیہ من رب العلمین (32: 2) ” اس کتاب کی تنزیل بلاشبہ رب العالمین کی طرف سے ہے “۔ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے۔ یہاں آیت کے درمیان لا ریب فیہ یعنی شک کی نفی کو لایا گیا ہے۔ یعنی مبتداء اور خبر کے درمیان کیونکہ یہ حقیقی ” ایشو “ ہے اور اس آیت کا اصل مدعا یہ ہے کہ شک کی تردید کی جائے اور اس فقرے کا آغاز حروف مقطعات سے اس بات کا اظہار ہے کہ اگر کوئی شک کرتا ہے تو یہ رہے وہ حروف ، وہ میٹریل جس سے یہ کلام بنا ہے ، تم بھی بنا لو۔ لہٰذا شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ حروف تمہیں مہیا ہیں ، تم اہل لسان ہو ، اس کتاب کا انداز ایسا ہے جس کو تم بھی معجزانہ کلام تصور کرتے ہو۔ یہ تمہارا تجربہ ہے اور تمہارے تجربہ کار لوگوں کا یہی کہنا ہے۔ اس قرآن کی ہر سورة اور ہر آیت اپنے اندر ایک معجزانہ عنصر رکھتی ہے۔ یہ عنصر اس کلام کے اندر بہت ہی گہرا ہے اور وہ یہ بتاتا ہے کہ اس کلام کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے ۔ جب اس کی تلاوت ہوتی ہے تو انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ وہ جھوم اٹھتا ہے ، وہ متزلزل ہوجاتا ہے اور اسے اپنے اوپر کنڑول نہیں رہتا۔ جب بھی کسی نے اس کے لیے دل کھولا ، احساس نے کان دھرا ، اور انسانی ادراک بلند ہوا اور اس کو سننے اور قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ انسانی ثقافت اور علم و بصیرت جوں جوں وسیع ہوتی جاتی ہے ، قرآن کریم کی یہ خصوصیت بہت ہی نمایاں ہوتی جاتی ہے۔ جوں جوں انسان کا علم بڑھتا ہے ، وہ اس کائنات کے اندر دور تک اپنا مشاہدہ بڑھاتا ہے اور وہ اس کائنات اور اس کے اندر کی مخلوق اور افراد تک اپنا علم بڑھاتا ہے۔ اس کلام کی تاثیر و قتی نہیں ہوتی۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہوتی ہے جب قرآن انسان فطرت سے ہمکلام ہوتا ہے اور یہ تاثیر ایک حقیقت بن کر سامنے آتے ہے جب قرآن ایک تجربہ کار دل و دماغ سے مخاطب ہو۔ جب یہ ایک تعلیم یافتہ عقل سے ہمکلام ہو ، جو ایک بھرے ہوئے ذہن سے بات کر رہا ہو ، جس کے اندر علم و معلومات ہوں۔ جوں جوں انسان کا درجہ علم ، ثقافت اور معلومات بلند ہوتا ہے ، اس قرآن کے معانی ، مفاہیم اور اثرات بڑھتے جاتے ہیں (بشرطیکہ انسانی فطرت سیدھی ہو ، اس میں ٹیڑھ نہ ہو اور اس کے اوپر خواہشات نفسانیہ کے پردے نہ پڑگئے ہوں) اور انسان علی وجہ الیقین یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ ام یقولون افترہ (32: 3) ” تو یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود گھڑ لیا ہے “۔ یہ بات انہوں نے محض ضد اور عناد سے کہی تھی۔ لیکن سیاق کلام میں یہاں اس کو بصورت سوال استکاری اور نہایر ہی ناپسندیدہ بات کے لاتا ہے۔ کیا وہ ایسا کہتے ہیں ؟ ایسی بات تو انہیں نہیں کہنا چاہئے اس لیے کہ محمد ﷺ کا کردار اور سیرت ان کے اندر موجود مثال ہے۔ انہوں نے تو کبھی کسی پر الزام نہیں لگایا۔ کیا وہ اللہ پر الزام لگاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب بذات خود اپنے اوپر شہادت ہے اس میں تو شک کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ بل ھو الحق من ربک (32: 3) ” بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے “۔ سچائی ، یہ فطرت ازلی کے عین مطابق ہے۔ یہ کائنات کے اندر موجود حق اور سچائی کے عین مطابق ہے۔ لہٰذا اس کے اندر گہری سچائی پائی جاتی ہے۔ اس کی ساخت ، اس کے بیان ، اور اس کے نظام کا ثبات و دوام اور اس کا جامع و مانع ہونا۔ اس کے اجزاء کا باہم ہم آہنگ ہونا اور متصادم نہ ہونا اور اس کے اجزاء کا باہم تعارف اور یگانگت یہ سب اس کے حق پر ہونے پر شاہد ہیں۔ یہ اس لیے حق ہے کہ یہ انسان اور اس کائنات کے اندر ہائے جانے والے قوانین فطرت کے درمیان رابطہ پیدا کرتا ہے۔ انسان اور اس کائنات کے قوانین کلیہ کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور قرآن انسان اور ان کائناتی قوتوں کے درمیان توافق اور سلامتی پیدا کرتا ہے۔ چناچہ انسانی قوت اور کائیاتی قوتیں باہم معاون ، باہم ملاقی ہوجاتی ہیں اور ان کے درمیان پوری پوری مفاہمت ہوتی ہے۔ یوں انسان اپنے اس وسیع ماحول کا دوست بن جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے کہ جب انسانی فطرت اسے پاتی ہے تو اس پر لبیک کہتی ہے۔ نہایت بسر ، نہایت خوشی اور نہایت شوق سے بغیر کسی تشقت اور دشمنی کے ، کیونکہ دونوں کے اندر ازلی اور قدیم حق رکھ دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کے اندر کوئی تعارض ، کوئی تضاد نہیں ہے اور وہ پوری انسانیت کیلئے ایک مکمل منہاج حیات ہے۔ یہ منہاج انسانوں کی شخصیت ان کی قوت ، ان کے جذبات و میلانات ، ان کی حالت صحت اور حالت مرض اور حالت قوت اور حالت ضعف حالت امن اور حالت فساد کو اچھی طرح مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس میں مکمل عدل ہے۔ یہ نہ دنیا میں بےانصافی کرتا ہے نہ آخرت میں ، انسانوں کے اندر جو قومیں موجود ہیں ان کے ساتھ بھی یہ کوئی بےانصافی نہیں کرتا۔ یہ دینی اور فکری قوتوں کے ساتھ بھی بےانصافی نہیں کرتا۔ یہ انسان کی کسی حرکت کے ساتھ ظلم کرکے اسے کسی معقول سرگرمی سے نہیں روکتا۔ جب تک وہ سرگرمی اس عالم گیر سچائی کے دائرہ کے اندر ہو ، جو اس پوری کائنات کے اندر ودیعت کردی گئی ہے۔ بل ھو الحق من ربک (32: 3) ” بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے “۔ یہ تمہاری طرف سے نہیں ہے۔ یہ رب کی طرف سے ہے۔ یہ رب مسلمانوں کا ہی نہیں ہے ، رب العالمین ہے۔ یہ ہے اس حق میں کرامت انسانی۔ اس میں رسول کی تکریم ہے کہ وہ اپنی طرف سے افتراء نہیں باندھ رہا۔ پھر یہ اللہ اور رسول ﷺ کے درمیان قرب کا ایک رنگ اور پر تو ہے۔ اور یہ درپر وہ جواب ہے ان کے اس الزام کا ، کہ یہ اللہ پر افتراء ہے۔ ربک سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ حضور ﷺ اور قرآن کریم کا مصدر اور سرچشمہ باری تعالیٰ کے درمیان پختہ تعلق ہے۔ ایک باعزت تعلق اور اس کی وجہ سے وہ نہایت ذمہ داری اور امانت داری کے ساتھ ٹھیک ٹھیک وحی نقل کرتے ہیں۔ لتنذر قوما اتھم ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (32: 3) ” تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں “۔ عرب جن کے لئے حضور اکرم ﷺ کو بھیجا گیا تھا۔ آپ ﷺ سے قبل ان کی طرف کوئی رسول نہ بھیجا گیا تھا۔ تاریخ میں بنی اسماعیل میں سے کسی رسول کے آنے کا ذکر نہیں ہے جو عربوں کے جد اول تھے۔ اللہ نے حضرت محمد ﷺ پر یہ کتاب نازل کی جو سچائی ہے ، وہ سچائی جو انسان کی فطرت میں بھی موجود ہے۔ انسانوں کے دلوں کے اندر بھی موجود ہے۔ یہ لوگ جن کے ڈرانے کیلئے یہ کتاب نازل کی گئی ہے کہ ان کو ڈرایا جائے ، یہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کرتے تھے۔ چناچہ یہاں سے اللہ کی ان صفات کا بیان شروع ہوتا ہے جن کے ذریعہ وہ معلوم کرلیں کہ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی مخصوص صفات کیا ہیں اور اس طرح انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کے عقائد نہایت پوچ ہیں۔ ان عظیم صفات کا موصوف تو اللہ ہے جو رب العالمین ہے اور اس کے ہم پلہ و ہمسر ہونے کا کوئی مستحق نہیں ہے۔ نہ ان کو چاہئے کہ وہ کسی اور کو اس کا ہم پلہ بنائیں۔
Ayahs 32:4–9

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا ، اس کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا ، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے ؟

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اس کے حضور جاتی ہے ۔ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ، زبردست اور رحیم

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی۔ اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی ،

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل ایک ایسے ست ست چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور تم کو کان دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو

اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9) یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔ اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے سامنے زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دن ایک شب و روز پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ زمین اس کائنات کے اندر بہت ہی مختصر سا ٹکڑا ہے۔ ایک ذرہ ہے جس کی اس عظیم فضا میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ ہمارے روز و شب تو زمین و آسمان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے اور یہ روز و شب زمانہ کی وہ مقدار ہے جس کے مطابق ہم حساب و کتاب کرتے ہیں۔ ان چھ ایام کی حقیقت کیا ہے تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہمارے پاس ان دنوں کے حساب و کتاب کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کے ایام ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون (32: 5) ” اور تمہارے رب کے نزدیک ایک دن ، تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے “۔ یہ چھ دن وہ چھ حالات بھی ہوسکتے ہیں جن سے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی فضا گزری ، یہاں تک کہ وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی یا یہ تخلیق کے چھ مراحل تھے یا یہ چھ زمانے تھے جن کے درمیان کے وقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ بہرحال جو بھی مراد ہو ، ان سے وہ دن مراد نہیں ہیں جو ہمارے زمانے کے دن ہیں۔ بہر حال وہ ایک غیبی امر ہے اور اس کی مراد ہم متعین نہیں کرسکتے۔ مراد وہ زمانہ ہے جو تخلیق ، تقدیر میں مطابق حکمت الہیہ صرف ہوا اور اس زمانے میں اللہ نے ہر چیز کو اس کی موجودہ شکل تک پہنچایا مختلف مراحل ، ادوار سے گزار کر۔ ثم استوی علی العرش (32: 4) ” اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا “۔ استواء علی العرش اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں تمام کائنات ہے۔ رہا یہ کہ عرش کیا ہے تو ہم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ انہی الفاظ پر بات کو ختم کرتے ہیں۔ بہرحال استوا علی العرش سے مراد ہے قدرت شاملہ سے۔ پھر لفظ ثم بھی ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہے کیونکہ اللہ کے حالات بدلتے نہیں ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پہلے اللہ کس حال میں تھا پھر کسی دوسرے حال میں ہوگیا۔ یہ معنوی ترتیب ہے کہ اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا اور جب سے پیدا کیا وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے یعنی بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ پیدا پلے کیا اور قبضہ قدرت میں بعد میں ہوا اور نہ ایسا کوئی زمانہ نہ تھا کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں نہ ہو۔ اس بےقید قبضہ قدرت کے بیان کے بعد اب لوگوں سے کہا جاتا ہے۔ ما لکم من دونہ من ولی ولا شفیع (32: 4) ” اس کی مانند نہ تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا ہے “۔ کہاں اور کون سفارشی ہوسکتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ عرش پر متمکن ہوں اور زمین و آسمان سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں اور خالق ارض و سما بھی وہی ہو۔ تو اس کے سوا کوئی حامی ہوسکتا ہے اور اس کے سوا سفارش کرنے والا کون ہو سکتا ہے اور کون سفارشی اللہ کی سلطنت سے خارج ہوسکتا ہے۔ افلا تتذکرون (32: 4) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ یہ حقیقت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اللہ کا اقرار کرو ، اور اپنا رخ اسی کی طرف کر دو ۔ تخلیق اسی کی ہے وہی مکمل اختیارات رکھتا ہے ، وہی تدبیر کرتا ہے اور امور طے کرتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کی طرف بلند ہوتے ہیں ، قیامت میں بھی تمام معاملات اس کے سامنے پیش ہوں گے اور دنیا میں بھی تمام رپورٹیں اس کی طرف پہنچتی ہیں اس طویل دن میں جس کی مقدار اس کو معلوم ہے۔ یدبر الامر ۔۔۔۔۔ مما تعدون (32: 5) ” وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے “۔ قرآن کا انداز تعبیر اللہ کے تدبیر کائنات کے وسیع تر میدان کی خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ من السمآء الی الارض (32: 5) ” آسمانوں سے زمین تک “۔ اس سے انسانی ذہن کے اندر بات بٹھانا مقصود ہے یعنی ان الفاظ میں جن کا تصور ذہن انسانی کرسکتا ہے تاکہ دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ ورنہ اللہ کی تدبیر کائنات کا دائرہ زمین اور آسمان سے بہت ہی وسیع ہے۔ لیکن انسانی احساس اور شعور کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس کائنات کے سامنے کھڑا ہے اور اپنے شعور اور مشاہدے کی حد تک اللہ کی وسعت تدبیر کا تصور کر رہا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی وسعت تدبیر ہمارے تصور اور ہمارے ان شماریات سے بھی وسیع ہے جو ہمارے استعمال میں ہیں۔ پھر اللہ کی تمام تدابیر اور اللہ کی تمام تقدیرات کی رپورٹ میں ان کے نتائج اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور یہ روئیدادا سے پورے عواقب و نتائج کے ساتھ ، تمام اعمال ، اموال اور افعال کے ساتھ ، اشیاء اور زندوں اور تمام مواد کائنات کے بارے میں ایک دن اٹھائی جاتی۔ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال ہمارے شماریات کے مطابق ہے۔ غرض اس کائنات کی کوئی چیز یونہی نہیں چھوڑ دی جاتی ہے ، نہ کسی چیز کو ۔۔ پیدا کیا گیا ہے بلکہ ایک مقررہ وقت تک تمام چیزوں کی تدبیر کی گئی ہے۔ ہر شے ، ہر معاملہ ، ہر نتیجہ اور ہر واقعہ اللہ کے تحت ہے اور اس کی روئیداد اللہ کے ہاں پہنچتی ہے جس طرح وہ طلب کرتا ہے۔ ذلک علم الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم (32: 6) ” وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ، زبردست اور رحیم “۔ یعنی یہ آسمان اور زمین کی تخلیق اور یہ استواء علی العرش اور آسمانوں سے زمین تک تمام امور کا انتظام ۔ یہ ہے اللہ عالم الغیب اور عالم مشاہدہ کا جاننے والا ، وہی خالق ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور زبردست اور رحیم ہے۔ قدرت رکھنے والا ہے ، اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ لیکن وہ اپنے برتاؤ میں مخلوقات کے ساتھ رحم کرنے والا ہے۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جو چیز بھی اس نے بنائی خوب بنائی “۔ کیا شان ہے اللہ کی ! بیشک یہ حق ہے ، فطرت اسے دیکھ رہی ہے ، آنکھیں دیکھ رہی ہیں ، دل اسے دیکھ رہا ہے اور عقل اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ یہ حق جو اشیاء کی شکل میں بھی ہے۔ ان کے فرائض میں بھی ہے ، ان کی طبیعت اور ان کی ہم آہنگی میں بھی ہے۔ ان کی ہیئت میں بھی ہے اور ان کی شکل میں بھی ہے۔ بہرحال جو چیز بھی حسن اور احسان سے متعلق ہے وہ اس مخلوقات میں موجود ہے۔ سبحان اللہ ! یہ ہے اللہ کی کاریگری تمام اشیائ میں۔ اس کے دست قدرت کے کمالات تمام اشیاء میں موجود ہیں۔ جو چیز بھی اللہ نے بنائی ہے وہ حسین اور مکمل ہے۔ نہ حد سے آگے ہے اور نہ اس میں کوئی قصور ہے۔ حسن سے زیادہ نہ کم۔ نہ افراط ہے نہ تفریط۔ حجم کے اعتبار سے ، شکل کے لحاظ سے اور مقاصد اور مفاد کے زاویہ سے۔ ہر چیز ایک متعین قدر کے ساتھ ہے۔ نہ حد حسن و جمال سے کم یا زیادہ ہے۔ اپنے وقت سے نہ پہلے آتی ہے ، نہ بعد میں۔ نہ اپنی حد سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے رہتی ہے۔ ذرے سے کے کر بڑے سے بڑے اجسام تک میں حسن ملحوظ ہے۔ سادہ خلیے سے لے کر پیچیدہ ترین ذی حیات اشیاء تک ہر چیز حسین اور موزوں ہے۔ اسی طرح ، اعمال ، اطوار ، واقعات اور حرکات سب کے سب مقدر ہیں۔ سب اللہ کی تخلیق ہیں اور ہر واقعہ اور ہر حادثہ اپنے مقرر معیار کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے مقررہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ، اور یہ اس منصوبے اور نقشے کے مطابق ہوتا ہے جو ازل میں اللہ نے تیار کیا ہے اور ابد تک ایسا ہی تدبیر الٰہی کے مطابق ہوتا رہے گا۔ ہر چیز اور ہر مخلوق اس لیے بنائی گئی ہے کہ وہ اپنا مقرر اور متعین فریضہ ادا کرے اور اس فریضے کا تعین نہایت دقیق وزن کے ساتھ کردیا گیا ہے۔ اس چیز کے تمام فرائض اس کے اندر رکھ دئیے گئے ہیں اور ان خواص کی وجہ سے وہ اپنا فریضہ منصبی پورا کرتی ہے اور اس کے لیے پوری طرح اہل ہے۔ یہ خلیہ جو متعدد مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ کیڑا رینگ رہا ہے اور جس کے پاؤں اور بال و پر ہیں۔ یہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اس زمین پر اپنے لیے راستہ نکالے۔ یہ اپنا کام احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یہ پرندہ ، یہ حیوان ، اور یہ انسان ، یہ کواکب ، یہ ستارے ، یہ سیارے ، یہ افلاک اور جہاں اور یہ جہانوں کے جہاں ، یہ کر ات اور ان کے دورے اور گردشیں ، متعین اور مقرر ، عجیب اور مضبوط اور نہایت ہی وقت کے ساتھ متعین وقت کے حامل۔ دائمی طور پر متحرک۔ غرض اس کائنات کی جس چیز کو دیکھو چھوٹی یا بڑی ہر چیز حسین و جمیل ہے۔ اس کے حسن و جمال میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہر کھلی آنکھ ، ہر حساس انسان ، اور ہر صاحب بصیرت شخص اس حسن اور احسان کو دیکھ سکتا ہے جو اس کائنات کی مجموعی شکل میں بھی ہے اور اس کی ایک ایک چیز میں بھی ہے۔ جب قلب و نظر اور ذہن و خیال متوجہ ہوں تو انسان اس جہان میں حسن و جمال اور صفت و کمال کے بڑے بڑے ذخائر دریافت کرسکتا ہے۔ اس حسن و جمال اور اس تدبر و کمال کے نریجے میں ہر طرف سے انسان کے لیے خیر اور برکات جمع ہوتے ہیں۔ مثلاً نہایت ہی خوشگوار پھل اور وہ روحانی ذوق و شوق جس سے کاسہ دل بھی جاتا ہے اور اس طرح انسان اس ربانی میلے میں اور اس خدائی جشن میں جدھر دیکھے ، حسن و جمال ہی نظر آئے۔ جس چیز کا مطالعہ کرے وہ بدیع الجمال اور انتہائے کمال پر نظر آئے۔ اس طرح اس جہان فانی کے زائل ہونے والے اس حسن و جمال سے آگے بڑھ کر عالم آخرت کے دائمی حسن و جمال اور لازوال کمال تک پہنچ سکتا ہے جو صفت الٰہی میں ہے اور جس کا تصور بھی کسی دل میں نہیں آیا۔ انسان ان انعامات اور حسن و جمال اور وقت و کمال کو اس وقت دیکھ سکتا ہے جب انسان ایک عادی اور معمولی اور روٹین کے مناظر کو ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے۔ یہ اس وقت ہی اسے پا سکتا ہے جب وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کی گھنٹیوں کو سنے۔ فطرت کے اشارات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ جب وہ اس جہاں کو نور ربانی کے ساتھ دیکھے۔ جب وہ ان کو ربانی نور کے ساتھ دیکھے گا تو پھر اس کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز کے اندر کیسا حسن و جمال ہے اور ہر چیز کی صنفت میں انوکھا پن کیا ہے اور یہ حسن اسے اس وقت نظر آئے گا جب وہ ہر حسین چیز کو دیکھ کر اللہ کو یاد کرے اور سبحان اللہ کہے۔ یوں اس کا تعلق خالق کائنات سے پیدا ہوگا۔ یوں اس کا شعور جمال تک پہنچ جائے گا کیونکہ مخلوقات کے کمال و جمال سے انسان اللہ کے کمال و جمال تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ کائنات جمیل ہے اور اس کا جمال ختم نہیں ہوت اور انسان اس جمال کے ادراک میں روز بروز ترقی کرتا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کا یہ فائدہ غیر محدود ہے۔ وہ جس قدر چاہے اس فائدے کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ جہاں تک بدیع السموات انسان کے لیے مقدر کرتا ہے اور موقع دیتا ہے۔ پھر اس مخلوق میں خوبصورتی کا عنصر مقصود بالذات ہے۔ اللہ نے ہر چیز کو خوبصورت بنایا ہے کیونکہ جب کسی بنائی ہوئی چیز کو خوبصور اور اچھا بتایا جاتا ہے تو وہ اپنا فرض منصبی یا ڈیوٹی بہت اچھی طرح ادا کرتی ہے۔ یوں مصنوعات کی عمدگی کو بڑھا کر کمال تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ اس کائنات کی خوبصورتی اس کے ہر جزء سے ظاہر ہے اور مخلوقات کی ہر قسم سے عیاں ہے۔ ذرا اس کھجور کو دیکھئے ذرا کسی ایک پھول کو دیکھئے ، ذرا ایک چھوٹے سے چھوٹے ستارے کو دیکھئے ، ذرا رات کو دیکھئے اور پھر دن کو دیکھئے ، چھاؤں اور بادلوں کو دیکھئے ، اس پورے وجود کے اندر جاری وساری نغمہ سرائی کو دیکھئے اور غایت درجہ کی ہم آہنگی ، ہمداری اور حرکت کو دیکھئے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ یہ ایک سیاحت ہے اور اس خوبصورت وجود اور نہایت ہی خوبصورت اور انوکھی کائنات میں ایک تفریح ہے اور مخلوقات کا مطالعاتی سفر ہے۔ قرآن کریم ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتا ہے اور ہدایت کرتا ہے کہ اس سے لطف اٹھاؤ۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جس نے ہر چیز کو خوبصورت تخلیق بخشی “۔ اس ہدایت سے انسان اس کائنات میں حسن و جمال کے نکات تلاش کرتا ہے۔ اور لطف اٹھاتا ہے۔ وبدا خلق الانسان من طین (32: 7) ” اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق گارے سے کی۔ انداز تعبیر سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ انسان کا آغاز گارے سے تھا۔ یعنی انسان کی ابتدائی شکل مٹی کے گارے کی سی تھے۔ اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ گارے سے انسان تک کتنے مراحل سے انسان گزرا یاکتنا زمانہ اس میں لگا۔ اس معاملے میں قیاس آرائی کی جاسکتی ہے۔ خصوصاً جب ہم اس آیت کو سورة المومنون کی آیت سے ملا کر پڑھیں۔ خلق الانسان من سلالۃ من طین ” انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا گیا “۔ لہٰذا یہ کہنا ممکن ہے کہ انسان کی تخلیق ایسے مراحل سے گزری ہے جس کا اصل مٹی تک جا پہنچتا ہے۔ اس سے مراد وہ خلیہ بھی ہو سکتا ہے جو اس زمین میں پیدا کیا گیا اور یہ خلیہ مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ اور نفخ حیات اور نفخ روح سے وہ خالق مٹی تھا اور یہی وہ راز ہے جس تک آج تک انسان نہیں پہنچ سکا۔ نہ انسان یہ معلوم کرسکا ہے کہ یہ زندگی کیا ہے اور نہ یہ معلوم کرسکا ہے کہ اس خلیے میں روح کیسے داخل ہوئی اور اس خلیے سے بھی انسان کیسے پیدا کیا گیا۔ قرآن کریم نے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ یہ پورا عمل کیسے انجام تک پہنچا اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس پر کس قدر وقت لگا۔ اس تحقیق کیلئے اللہ نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جس طرح چاہے فیصلہ کرے اور اس قسم کی تحقیقات نص قرآن کے خلاف نہیں ہیں۔ نص قرآنی میں صرف یہ ہے کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے یا مٹی کے ست سے ہوئی ہے۔ یہ ہے وہ موقف جس میں قرآن مجید جو قاطع ہے اپنی جگہ رہتا ہے۔ اور سائنسی تحقیقات بھی اپنے مقام پر رہتی ہیں۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ صراحت کردی جائے کہ ڈارون کا نظریہ ارتقا کہ تمام حیوانات ایک ہی خلیے سے ارتقاء کرکے مختلف انواع کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور خود انسان بھی بند کی ترقی یافتہ شکل ہے اور یہ کہ انسان اور اعلیٰ قسم کے بندر کے درمیان ارتقائی مراحل کے انواع موجود رہے ہیں۔ یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔ نیز ڈارون کو وراثتی خصوصیات (جینز) کا علم ہی نہ تھا۔ لیکن جینز کی دریافت کے بعد تو یہ طے ہوگیا ہے کہ ایک نوع کا دوسرے نوع میں منتقل ہونا محال ہوگیا ہے۔ ہر خلیے یعنی نوع حیوان کے خلیے کے اندر جینز ہیں جو اسے اپنی نوع بدلنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ یہ جینز اپنی صورت نوعیہ کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ۔ لہٰذا بلی جس خلیے سے پیدا کی گئی وہ بلی ہی رہی ہے اور اس کی صورت نوعیہ میں کسی مرحلے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کتا ، کتا رہا ہے ، بیل ، بیل رہا ہے ، گھوڑا ہمیشہ گھوڑا رہا ہے ، بندر ہمیشہ بندر رہا ہے اور انسان ہمیشہ انسان رہا ہے۔ جو چیز ممکن ہے وہ یہ ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کے اندر ترقی کرے یا زوال پذیر ہو۔ بہرحال ممکن ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کو کر اس کرکے دوسری نوع میں داخل ہوجائے۔ یہ وہ بات ہے جو ڈارون کے نظریہ کی حقیقت ہی باطل کر رہی ہے۔ بہرحال یہ لوگ سائنس کے نام پر خود اپنے نظریات گھڑتے ہیں ، ان پر یقین کرتے ہیں لیکن یہ نظریات کسی دن جا کر باطل ہوجاتے ہیں۔ ثم جعل نسلہ من سللۃ من مآء مھین (32: 8) ” پھر اس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے یعنی نطفے کے پانی سے جو جنین کے ارتقاء کی پہلی شکل ہے کہ وہ ایک نقطے سے ایک لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر وہ گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر وہ مکمل جنین بن جاتا ہے۔ یہ پانی کا ست اور اس کا ارتقاء ہے۔ یہ نقطہ جو اس حقیر پانی میں ہوتا ، جس طرح یہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور جس طرح آج کل ایک وجیب جہان ہے اور اس حقیر پانی کے ست میں ایک دوسرے نقطے کو دیکھو اور پھر اس مکمل انسان کو دیکھو کہاں سے کہاں تک آگیا اور کیا سے کیا کچھ بن گیا۔ قرآن کریم اس عظیم تغیر و ارتقاء کو اس طرح ایک ہی آیت میں بیان کردیتا ہے۔ ثم سوہ ونفخ فیہ ۔۔۔۔۔۔ والابصار والافئدۃ (32: 9) ” پھر اس نے اس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور تم کو کون دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ سبحان اللہ یہ کس قدر عظیم ارتقائی سفر ہے انسان کا۔ کن کن مشکل حالات سے یہ انسان گزرا ہے۔ کس قدر عظیم معجزہ ہے خود انسان کی تخلیق لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ انسان کو دیکھو اور اس معتبر نطفے کے پانی کے اندر اس نکتے کو دیکھو۔ اگر دست قدرت اس معجزانہ عمل کو تکمیل تک نہ پہنچائے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس نہایت ہی چھوٹے نکتے کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ ان دشوار گزار مراحل اور راستوں سے گزر کر انسان کی شکل اختیار کرلے۔ اس چھوٹے سے نقطے اور اس خلیے کے اندر کس قدر تقسیم ہوتی ہے اور کس قدر کثرت ہوتی ہے۔ یہ بڑھتا بھی جاتا ہے اور تقسیم بھی ہوتا جاتا ہے۔ اس سے مزید مختلف قسم کے خلیے بنتے جاتے ہیں۔ یہ خلیے پھر باہم متضاد ہوتے ہیں ۔ یہ بڑھتے جاتے ہیں۔ پھر اس انسان کے ہر ہر عضو کے اپنے خلیے ہوتے ہیں ، جن کی مخصوص نوعیت ہوتی ہے اور ان کے پھر مزید اجزاء ہوتے ہیں اور ہر جزء کا اپنا وظیفہ ہوتا ہے۔ ایک ہی عضو کے اندر کئی قسم کے خلیے بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہ پہلا خلیہ کس طرح اس قدرو کثرت میں آجاتا ہے ، پھر اس کے اندر نوعیت کے اعتبار سے یہ تقسیم کس طرح ہوجاتی ہے ، پھر اس ایک ہی ابتدائی نکتے اور خلیے سے خلیات کا عظیم مجموعہ کس طرح بن جاتا ہے۔ پھر ان خلیات کے اندر انسان خصوصیات کہاں چھپی تھیں۔ پھر یہ جنین کے اندر مخصوص صلاحیتیں کہاں سے آجاتی ہیں۔ ہر خلیے کے لیے متعین فریضہ کس طرح قائم ہوجاتا ہے۔ اور ہر ایک کی خصوصیات دوسرے سے جدا کس طرح ہوجاتی ہیں۔ کون ہے جو اس قسم کے معجزے کے صادر ہونے کا یقین کرتا اگر عملاً یہ معجزہ روز ہمارے سامنے وجود میں نہ آتا۔ یہ اللہ کا دست قدرت ہی ہے جس نے انسان کو اس طرح برابر کیا اور درست کیا اور پھر یہ اللہ کی جانب سے انسان کے اندر روح پھونکنے کا عمل ہے جو انسان کو انسان بنا دیتا ہے۔ یہی ایک معقول تشریح ہے اس معجزے کی جو ہر سکینڈ میں واقع ہو رہا ہے۔ لیکن لوگ ہیں کہ اسے غافل ہیں۔ یہ اللہ کا نفخ روح ہے جس کی وجہ سے انسان انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر سننے اور سیکھنے کی قوت آجاتی ہے اور اس سمع و بصر ہی کی وجہ سے تمام عضویاتی حیوانات سے انسان مختلف اور ممتاز ہوتا ہے۔ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ (32: 9) ” تم کو کان دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ یہ وہ معجزہ ہے جو ہمارے سامنے ہر سیکنڈ میں رونما ہوتا ہے۔ اس کی تشریح اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی جانب سے نفخ روح ہے ورنہ عقل انسانی اس اتھاہ سمندر میں غوطے کھاتی رہتی اور قیامت تک وہ اس کی تشریح نہ کرسکتی ۔ اس کے علاوہ یہ اللہ کے فضل و کرم کا فیضان ہے اور یہ اللہ کا فضل ہی ہے جو اس حقیر پانی کے ایک نکتے سے انسان بنا دیتا ہے۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو اس ایک حقیر خلیے کے اندر ارتقاء اور نمو کی وہ خصوصیات رکھ دیتا ہے کہ وہ ، تبدیلیوں سے ہوتے ہوئے اور اپنے اندر مزید خصوصیات لیتے ہوئے انسان کی شکل میں پہنچ گیا۔ جس کے اندر ایسی خصوصیات پیدا ہوگئیں کہ انسان تمام دوسرے حیوانات میں ممتاز ہوگیا۔ لوگ ہیں کہ اللہ کے اس فضل و کرم کا کوئی شکر ادا نہیں کرتے۔ قلیلا ما تشکرون (32: 9) انسان کی پیدائش ، اس کے مختلف مراحل اور ان سے اس کا عجیب انداز سے گزرنا اور ہر وقت اس عظیم معجزے کا صادر ہونا اور اس معجزے کا ہمارے سامنے بار بار دہرایا جانا ، ان امور کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ انسان جب مر کر پھر مٹی بن گیا اور زمین کی دوسری مٹی میں مل گیا تو حشر و نشر کیسے ہوگا۔ اس بیان کے بعد یہ شک اور یہ اغراض بجائے خود عجیب اور احمقانہ نظر آتے ہیں۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں : ” جب ہم مٹی میں رل مل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ؟ “ اصل بات یہ ہے کہ یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

وقالوا ءاذا ضللنا ۔۔۔۔۔ ربھم کفرون (10) یہ لوگ کہتے تھے کہ مرنے اور دفن کرنے کے بعد اور اجسام کے مٹی ہوکر مٹی میں رل مل جانے کے بعد یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہمیں از سر نو پیدا کردیا جائے جبکہ ہمارے ذرات دوسرے ذرات میں مل کر ناپید اور گم ہوجائیں گے۔ جب انسان کی تخلیق اول پر غور کیا جائے تو اللہ کے لیے اس کا دوبارہ تحقق کرنا کوئی عجیب و غریب چیز نہیں ہے۔ آغاز میں اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور یہ مٹی اس زمین سے تھی جس میں وہ اپنی ذات کو گم کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری پیدائش بھی تو پہلی پیدائش ہی کی طرح ہے۔ اس میں کوئی عجیب و غریب بات تو نظر نہیں آتی۔ اصل بات یہ ہے۔ بل ھم بلقای ربھم کفرون (32: 10) ” کہ یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں “۔ اس وجہ سے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ اللہ کے سامنے حاضری کا یہ انکار ہی ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ اس قسم کے واضح معاملے میں اپنے اوپر شک طاری کرتے ہیں ، یہ معاملہ ایسا ہے جو ایک بار ہوچکا ہے اور اس قسم کے واقعات و معجزات ہر لحظ ہوتے رہتے ہیں۔ تاکید ان کی وفات اور اللہ کی طرف لوٹ آنے کی تاکید کی جاتی ہے اور دلیل وہی ہے جو اس سے پہلے دی گئی ہے۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

ان سے کہو ” موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے میں لے لے گا اور پھر تم اپنے رب کی طرف پلٹا لائے جاؤ گے

قل یتوفکم ۔۔۔۔۔ ربکم ترجعون (11) یہ ایک یقینی اطلاع کی صورت میں بتا دیا جاتا ہے۔ ملک الموت کون ہے اور وہ انسانوں کو پورا پورا اپنے قبضے میں کسی طرح لے لیتا ہے یہ اللہ کے غیبی نوشتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بارے میں اللہ نے ہمیں یہ اطلاع دے دی ہے کہ وہ لوگوں کو پورے کا پورا قبضے میں لے لیتا ہے اور پھر قیامت میں پیش کر دے گا۔ ہمیں اس پر یقین کرنا چاہئے اور زیادہ تفصیلات میں نہیں جانا چاہئے۔ یقین اسلئے کہ یہ اللہ کے سچے ذریعے سے اطلاع مل گئی ہے۔ موت کے بعد جی اٹھنے کے مسئلے کی مناسبت سے جس میں وہ شک کرتے تھے یا شک کرنا چاہتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے سامنے کھڑا کردیتے ہیں۔ یہ ایک زندہ و تابندہ منظر ہے۔ حرکات اور مکالمات سے بھرپور۔ یوں کہ گویا ابھی یہ واقعہ ہو رہا ہے۔
Ayahs 32:12–14

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

کاش تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے (اس وقت یہ کہہ رہے ہوں گے) ” اے ہمارے رب ، ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا ، اب ہمیں عاپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں ، ہمیں اب یقین آگیا ہے

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

(جواب میں ارشاد ہوگا) ” اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں ، سب سے بھر دوں گا

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

پس اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا ، ہم نے بھی اب تمہیں فراموش کردیا ہے۔ چکھو ہمیشگی کے عذاب کا مزا اپنے کرتوتوں کی پاداش میں

ولو تری اذ المجرمون ۔۔۔۔۔۔ بما کنتم تعلمون (12 – 14) یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں منکرین قیامت نہایت ہی شرمندگی کے ساتھ اعتراف کر رہے ہیں۔ اب وہ اس سچائی کو مان رہے ہیں جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ وہ یہ درخواست کریں گے کہ ہمیں ایک بار پھر زمین پر لوٹا دیا جائے اور وہ اب کی بار اس کمی کو پورا کردیں گے جو پہلی بار ہوگئی۔ یہاں شرمندگی کی وجہ سے وہ سرنگوں کھڑے ہوں گے۔ اب یہ لوگ اپنے اس رب کے پاس (عند ربھم) ہوں گے جس کے پاس حاضر ہونے کا وہ انکار کرتے تھے۔ لیکن ان کی یہ سب باتیں بعد از وقت ہوں گی اور اب اعتراف اور اعلان ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ قبل اس کے کہ ان کی اس شرمندگی پر کوئی تبصرہ کیا جائے ، یہ بتا دیا جاتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں فیصلہ کن قوت کون سی ہے اور وہ کون سی قوت ہے جو لوگوں کے آخری انجام کا فیصلہ کرنے والی ہے۔ ولو شئنا لاتینا ۔۔۔۔۔ والناس اجمعین (32: 13) ” اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا “۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی راہ پر ڈال دیتا۔ اور یہ تھا طریقہ ہدایت ، جس طرح اس مخلوقات کا طریقہ ایک ہے جو الہام فطرت کے مطابق زندگی بسر کرتی ہے اور وہ پوری زندگی ایک ہی طرح سے گزارتی ہے جیسے حشرات الارض پرندے اور زمین پر چلنے والے جانور یا وہ مخلوق جو اطاعت شعار ہے مثلاً فرشتے ، لیکن اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ انسانوں کا ایک خاص مزاج اور ماہیت ہو۔ اس کے اختیار میں ہو کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا ضلالت اختیار کرے اور وہ اپنی اس مخصوص طبیعت کے ساتھ اس جہاں میں ایک مخصوص کردار ادا کرے جس کے لئے اللہ نے اسے اس کرہ ارض پر بھیجا ہے اور ایک منصوبے کے مطابق بھیجا ہے۔ چناچہ اس منصوبے کے تقاضے کے طور پر اللہ نے لکھ دیا کہ جنوں اور انسانوں سے وہ جہنم کو بھر دے گا ان لوگوں سے جو جنوں اور انسانوں میں سے ضلالت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ جس راہ کا انجام جہنم ہے۔ یہ لوگ جو اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش کیے گئے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اختیار اور خوشی سے جہنم کی راہ اختیار کی۔ اب وہ اللہ کے سامنے سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے : فذوقوا بما نسیتم لقآء یومکم ھذا (32: 14) ” اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا “۔ یہ ہے تمہارا دن جو حاضر کیونکہ اس منظر میں ہم اسے حاضر دیکھ رہے ہیں۔ تم نے چونکہ اس دن کو بھلا دیا تھا۔ اب اس کا مزہ چکھو۔ تمہارے پاس کافی وقت تھا مگر تم نے اس کے لئے تیاری نہ کی۔ ان نسینکم (32: 14) ” ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا ہے “۔ اللہ تو کسی کو نہیں بھلاتا۔ لیکن ان کے ساتھ معاملہ اس طرح کرتا ہے کہ گویا وہ نسیا منسیا کر دئیے گئے ہیں۔ یہ ایسا سلوک ہے جس میں انہیں توہین آمیز انداز میں نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون (32: 14) ” چکھو ، اب ہمیشگی کے عذاب کا مزہ اپنے کرتوتوں کی پاداش میں “۔ اب اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے۔ فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور مجرموں کو ان کے برے انجام میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ منظر قرآن کے پڑھنے والے کے پردہ فکر پر یوں نقش ہوتا ہے کہ گویا اب یہ لوگ وہاں اسی حال میں چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ تو وہ وہاں ہی کھڑے ہیں جہاں چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ یہ ہے قرآن کی اندر کی تصویر کشی۔ اب اس مشاہدہ و منظر پر پردہ گرتا ہے اور ایک دوسرا منظر سامنے آتا ہے ، اس دوسرے منظر کا ماحول اور فضا مختلف ہے۔ یہ ایک دوسری ہی عطر آمیز اور فرحت بخش فضا ہے جس میں دل اڑا جا رہا ہے ، یہ مومنین کا منظر ہے۔ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرتے ہیں ، نہایت یکسوئی سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، وہ اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اس حال میں کہ ان کے دل کے اندر خدا کا خوف بیٹھا ہے۔ ان کے دل کانپ رہے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے فضل و کرم کی امیدیں لیے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے رب ذوالجلال نے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جس کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔
Ayahs 32:15–16

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیات سنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں ، اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے ، اس میں سے خرچ کرتے ہیں

انما یؤمن بایتنا ۔۔۔۔۔ جزاء بما کانوا یعملون (15 – 17) پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزاء میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے “۔ یہ اہل ایمان کی نہایت ہی خوبصورت اور روشن تصویر ہے۔ یہ نہایت ہی لطیف اور شفاف اور حساس لوگ ہیں۔ ان کے دل خوف خدا سے کانپتے ہیں اور وہ نہایت ہی پر امید انداز سے اس کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی بندگی کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ نہ وہ اللہ کے مقابلے میں بڑائی اور تکبر کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ہی دراصل اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے ہیں۔ یہ لوگ کی آیات کو تیز احساس ، بیدار دل اور روشن ضمیر کے ساتھ لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو اللہ کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو یہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ اذا ذکروا بھا خروا سجدا (32: 15) اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات سے بہت ہی متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کی باتیں سن کر اللہ اور اس کی آیات کی تعظیم کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں یہ احساس کرتے ہوئے کہ اللہ اور اس کی آیات کی عظمت کا اظہار صرف سجدہ ریز ہوکر ہی کیا جاسکتا ہے اور اپنی پیشانی کو خاک آلود کرنے ہی سے اس کا اظہار ہو سکتا ہے۔ وسبحوا بحمد ربھم (32: 15) ” اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں “۔ یعنی جسمانی اعتبار سے وہ سجدہ کرتے ہیں اور زبان کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں۔ وھم لا یستکبرون (32: 15) ” اور وہ تکبر نہیں کرتے “۔ کیونکہ وہ مطیع فرمان ہوکر ، اللہ کی طرف رجوع کرکے ، اللہ کی کبریائی کا شعور رکھتے ہوئے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اب ذرا ان کی جسمانی شکل و ہیئت کی تصویر دیکھئے ، انداز تعبیر اس طرح ہے کہ ان کی قلبی ، روحانی اور ذہنی کیفیت مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا وطمعا (32: 16) ” ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں۔ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں “۔ یہ لوگ رات کو نماز کے لیے اٹھتے ہیں یعنی عشاء کی آخری نماز کے لیے۔ وتروں کے لیے ، تہجد کے لیے اور رات کو دعاؤں کے لیے۔ لیکن قرآن نے ان امور کو اس انداز سے بیان کیا : ان کی پیٹھیں ان کے بستروں سے الگ رہتی ہیں۔ رات کے وقت بستروں کی تصویر کشی یوں کی جاتی ہے کہ انسان اس راحت ، آرام ، نیند اور دوسری لذتوں کو بڑی مشکل سے چھوڑتا ہے۔ لیکن ان کی پیٹھیں ، نرم بستروں ، آرام اور نیند اور عیش کے مقابلے میں دوسرا کام رکھتی ہیں۔ ان کا اپنے رب کے ساتھ کام ہوتا ہے۔ ان کو خیال ہوتا ہے کہ ان کو ایک دن رب کے ہاں حاضر ہونا ہے اور وہ خوف ورجاء کے درمیان اللہ کی طرف متوجہ ہیں۔ خوف ان کو اللہ کے عذاب کا ہوتا ہے اور امید اللہ کی رحمت کی ہوتی ہے۔ خوف اللہ کے غضب کا ہوتا ہے اور امید اللہ کی رضا مندی کی ہوتی ہے۔ خوف اللہ کی معصیت کا ہوتا ہے اور امید اس کی توفیق اطاعت کی ہوتی ہے۔ ان تمام امور کو قرآن کریم نے نہایت ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا ہے۔ نہایت ہی مجسم انداز میں۔ یدعون ربھم خوفا وطمعا (32: 16) ” اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں “۔ اس حساسیت اور کپکپی ، خضوع و خشوع کے ساتھ نماز اور گڑگڑا کر دعا کرنے کے علاوہ اپنی سوسائٹی کی بھلائی کے لیے بھی فکر مند ہوتے ہیں اور اللہ کو راضی کرتے ہوئے وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ ومما رزقنھم ینفقون (32: 16) ” اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں “۔ ان بلند ، روشن ، حساس اور مشفق صورتوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ بھی بہت مشفقانہ ہے اور نہایت ہی منفرد قسم کی جزاء ان کے لیے تیار ہے۔ وہ جزاء جس کے اندر ان کے لیے خاص مہربانی جھلکتی ہے۔ ان کے لیے ایک خاص اعزاز کا اعلان ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف سے ان پر کرم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے بلند نفوس کے لئے خصوصی اور مخفی مہربانیاں اور تعلقات رکھتے ہیں۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزاء میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے

فلما تعلم نفس ۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (32: 17) ” “۔ یہ ایک عجیب انداز تعبیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ خفیہ تعلق ہوتا ہے اور اللہ نے بذات خود اپنے دوستوں کے لیے تحفے تیار کر رکھے ہیں ، ان کو خفیہ رکھا ہے اور اللہ نے ان کے بارے میں کسی کو کوئی اطلاع بھی نہیں دی تاکہ ان کو قیامت کے دن اچانک ظاہر کیا جائے۔ اب یہ ہونے والی ملاقات کس قدر باعث احترام ہے ، کس قدر اس کا انتظار ہے اور کس قدر شاندار ہے کہ اس میں اللہ اپنے دوستوں میں نادیدہ تحفے تقسیم کریں گے جو تیار ہوچکے ہیں اور اللہ اپنی موجودگی میں یہ تحفے تقسیم کریں گے۔ سبحان اللہ ! اپنے بندوں پر اللہ کے کیا کرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کو اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے۔ ان کا عمل جو بھی ہو ، ان کی عبادت جو بھی ہو ، اور ان کی اطاعت جس قدر بھی ہو ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے خود ان کے لیے بعض تحفے تیار کر رکھے ہیں۔ نہایت اہتمام ، رعایت ، کرم اور شفقت کے ساتھ۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے اور وہ بہت ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ پھر دوبارہ اس اجمال کی تفصیل دی جاتی ہے۔ ذلیل شدہ مجرمین کے انجام کے مقابلے میں مومنین کا بہترین انجام ذرا مفصلاً بیان ہوتا ہے کہ اللہ مومنین کو کس قدر منصفانہ جزاء ان کے اعمال کی دے گا۔ وہ مومنین اور مجرمین کے انجام میں دنیا اور آخرت دونوں میں فرق کرے گا یعنی خفیہ تحفوں کے علاوہ ان کے اعمال کا بھی پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayahs 32:18–22

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا کہیں یہ ہوسکتا ہے کہ جو شخص مومن ہو ، وہ اس شخص کی طرح ہوجائے جو فاسق ہو ؟ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے تو جنتوں کی قیام گاہیں ہیں ، ضیافت کے طور پر ان کے اعمال کے بدلے میں

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے ، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اسی آنے کے عذاب کا مزا جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے ، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روشن سے ) باز آجائیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیرلے۔ ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے

افمن کان مؤمنا ۔۔۔۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون (18 – 22) مومنین اور فاسقین ، مزاج ، شعور اور طرز عمل کسی چیز میں برابر نہیں ہوتے کہ وہ دنیا و آخرت کی جزاء میں برابر ہوجائیں۔ مومن کی فطرت سیدھی ، سلیم ہوتی ہے اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے سیدھے راستے اور سیدھے نظام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور فاسق منحرف ، بےراہ رو ، مفسد فی الارض ، اور اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے والے نہیں ہوتے اور نہ اسلامی نظام قانون کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مومن اور فاسق ایک جیسی زندگی بسر نہ کریں اور ان کی زندگی کا انجام ایک نہ ہو ، دنیا اور آخرت میں۔ اور ان میں سے ہر ایک کو دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے کیے کے مطابق جزاء و سزا ملے گی۔ وما الذین امنوا ۔۔۔۔۔ الماوی (32: 19) ” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ، ان کے لیے تو جنتوں کی قیام گاہیں ہیں “۔ یہ ان قیام گاہوں میں فروکش ہوں گے اور یہ قیام گاہیں ان کو اپنے اندر لے لیں گی۔ یہ ان کے لیے اچھی منزلیں ہوں گی اور ان منازل میں وہ رہیں گے اور یہ بطور جزاء ہوں گے ان کے اعمال حسنہ پر۔ واما الذین فسقوا فماوھم النار (32: 20) ” اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ اس کی طرف لوٹیں گے اور وہ وہاں سر چھپائیں گے۔ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ کلما ارادوآ ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا (32: 20) ” جب کبھی نکلنا چاہیں گے اس میں دھکیل دئیے جائیں “ یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں بھرپور دوڑ دھوپ ہے لوگ بھاگ رہے ہیں اور انہیں پکڑ پکڑ کر دوبارہ دوزخ میں ڈالا جا رہا ہے وقیل لھم ۔۔۔۔۔ تکذبون (32: 20) ” اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اسی آگ کے عذاب کا مزہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہ ان کی سرزنش ہے۔ ان کو زیادہ ذلیل کرنے اور زیادہ سزا دینے کے لیے۔ یہ ہے آخرت میں انجام فاسق لوگوں کا۔ لیکن ان کو قیامت کے عذاب کے آنے تک مہلت نہیں دے دی گئی۔ ان کو قیامت سے پہلے اس جہاں میں بھی عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ولنذیقنھم من العذاب ۔۔۔۔۔ یرجعون (32: 21) ” اس بڑے عذاب سے پہلے ہم ایسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے ، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آجائیں۔ لیکن ان چھوٹے موٹے عذابوں کی تہہ میں بھی دراصل اللہ کی رحمت پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ اپنے بندوں کو بہرحال عذاب دیں۔ اگر وہ عذاب کے مستحق نہ ہوں۔ اگر وہ عذاب کے معصیات پر اصرار نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا جھوٹا موٹا عذاب جو بندوں پر آتا رہتا ہے وہ بھی انہیں متنبہ کرنے کے لیے آتا ہے کہ شاید وہ لوٹ آئیں۔ ان کی فطرت جاگ اٹھے اور یہ عذاب انہیں راہ راست پر لے آئے۔ اور اگر وہ باز آجائیں تو وہ اس عذاب اکبر سے بچ جائیں جو ابھی ان کے سامنے گزشتہ منظر میں پیش کردیا گیا ہے۔ اگر ان کو رب تعالیٰ کی آیات کی یاد دہانی کی گئی اور انہوں نے ان سے اعراض کیا اور اس کی وجہ سے ان پر معمولی عذاب آگیا اور پھر انہوں نے عبرت حاصل نہ کی اور اپنی روش سے نہ لوٹے تو اب یہ ظالم ہیں۔ ومن اظلم ۔۔۔۔۔ اعرض عنھا (32: 22) ” اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے ہماری آیات سنائی گئیں اور پھر وہ اس دن ان سے منہ پھیرلے “۔ لہٰذا ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان سے انتقام لیا جائے۔ انا من المجرمین منتقمون (32: 22) ” ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے “۔ یہ ایک خوفناک تہدید ہے کہ اللہ جبار اور متکبر یہ دھمکی دے رہا ہے اور وہ اعلان کرتا ہے کہ ایسے مجرموں سے میں انتقام لوں گا۔ اللہ کے مقابلے میں یہ بیچارے ضعیف کر بھی کیا سکیں گے۔ واہ رے اللہ کا انتقام !۔ یہ سبق اب مجرمین اور صالحین ، مومنین اور فاسقین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔ ان دونوں قسم کے لوگوں کا انجام مناظر قیامت کی شکل میں ہے۔ جس کے وقوع میں یہ لوگ شک کرتے تھے۔ اس کے بعد سیاق کلام میں ایک نظر حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کے حالات پر ڈالی جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ کو کتاب دی گئی تھی کہ بنی اسرائیل کے لیے کتاب ہدایت ہو جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کو قرآن دیا گیا ہے کہ یہ مومنین کے لیے ہدایت ہو۔ صاحب قرآن اور صاحب تورات ایک ہی نظریہ حیات پر متفق ہیں اور جس طرح حضرت موسیٰ کے متبعین نے صبر و ثبات سے کام لیا اور ان کو ائمہ ہدایت بنایا گیا تھا اس طرح اگر حضرت محمد ﷺ کے ساتھی اگر صبر و ثبات سے کام لیں تو وہ بھی امامت کے مستحق ہوں گے امامت کی مستحق امت کی صفات کیا ہوتی ہیں۔
Ayahs 32:23–25

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اس سے پہلے ہم موسیٰ کو کتاب دے چکے ہیں ، لہٰذا اسی چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہئے۔ اس کتاب کو ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

یقیناً تیرا رب ہی قیامت کے روز ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں (بنی اسرائیل) باہم اختلاف کرتے رہے ہیں

ولقد اتینا موسیٰ الکتب ۔۔۔۔۔۔۔ فیما کانوا فیہ یختلفون (23 – 25) فلا تکن فی مریۃ من لقائہ (32: 23) ” لہٰذا اس چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہئے “۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حق آپ کو دیا گیا ہے آپ اس پر ثابت قدم رہیں۔ یہی کافی ہے جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی اور ان دو رسولوں کی دو کتابوں میں یہی سچائی تھی۔ یہ تفسیر اس تفسیر سے زیادہ اچھی ہے جو بعض مفسرین نے بیان کی ہے کہ اس آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت محمد ﷺ شب معراج میں حضرت موسیٰ سے ملے تھے۔ غرض حضرت موسیٰ سے ملنے کے مقابلے میں اس سچائی کا ملنا زیادہ احسن ہے جو حضرت موسیٰ کو بھی ملی تھی اور دونوں رسول ایک ہی حق اور ایک ہی سچائی پر باہم مل گئے اور اس بات کا ذکر بیان موزوں ہے۔ یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس میں ان مصائب و شدائد کی طرف اشارہ ہے جو رسول اللہ اور مسلمان مخالفین کے ہاتھوں جھیل رہے تھے۔ رسول اللہ کی تکذیب ہو رہی تھی اور کفار اعراض کر رہے تھے ، اس لیے یہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ ثابت قدم رہو اور بعد کی آیات بھی اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ وجعلنا منھم ائمۃ ۔۔۔۔۔ بایتنا یوقنون (32: 24) ” اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر ایمان لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے “۔ یہاں مکہ میں چھوٹی سی مومن جماعت کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ تم اسی طرح صبر کرو جس طرح موسیٰ کے مختار مومنین نے صبر کیا اور جس طرح ان میں سے امام پیدا کیے گئے جو اللہ کی شریعت کے مطابق حکمرانی کرتے تھے ، تم میں سے بھی ایسے نام پیدا ہوں گے جو اسلامی شریعت کے مطابق حکمرانی کریں گے بشرطیکہ صبر کیا اور یقین کیا۔ رہا یہ سوال کہ بنی اسرائیل نے بعد کے ادوار میں اختلاف کیا تو وہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی ان اختلافات کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ ان ربک ھو بفصل ۔۔۔۔۔ یختلفون (32: 25) ” یقینا تیرا رب ہی قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ باہم اختلاف کرتے رہے “۔ اب سیاق کلام مکذبین مکہ کو ذرا پیچھے انسانی تاریخ کے سامنے کھڑا کرتا ہے کہ ذرا دیدہ عبرت سے دیکھو۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

اور کیا ان لوگوں کو (ان تاریخی واقعات میں) کوئی ہدایت نہیں ملی کہ ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ، جن کے رہنے کی جگہوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں ؟ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ، کیا یہ سنتے نہیں ہیں ؟

اولم یھد لھم ۔۔۔۔۔ افلا یسمعون (26) تاریخ کی ہلاک شدہ اقوام کے ساتھ جو کچھ ہوا ، وہ تمام بعد کے جھٹلانے والوں کے لیے عبرت ہے۔ اللہ کی سنت تو اس جہان میں جاری وساری ہے اور وہ کسی کی رو رعایت نہیں کرتی۔ یہ انسانیت ترقی اور زوال کے لیے الٰہی قوانین فطرت کے تابع ہے۔ اس کی کمزوری اور اس کی قوت کا راز الٰہی قوانین کے اتباع و انکار میں ہے۔ قرآن کریم بار بار اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اقوام کے عروج وزوال کے لیے اللہ نے خصوصی قوانین جاری کر رکھے ہیں اور یہ قوانین مسلسل جاری ہیں اور ماضی کے واقعات اور اقوام ہلاک شدہ کے آثار میں بڑی عبرت ہے۔ اس موضوع پر آزادانہ مطالعہ ہونا چاہئے تاکہ باقی آثار سے لوگوں کے دل بیدار ہوں ، ان کے اندر احساس پیدا ہو ، اور لوگ اللہ کی پکڑ اور انتقام سے ڈریں کیونکہ اللہ نے بڑے بڑے جباروں کو پکڑا ہے۔ پھر تاریخی مطالعہ ضروری ہے کیونکہ کوئی قوم زمان و مکان کے کسی گوشے میں گوشہ نشین نہیں ہوسکتی۔ نہ وہ اس نظام کو نظر انداز کرسکتی ہے جس کے مطابق انسانیت کی زندگی کا قافلہ آگے بڑھ رہا ہے اور صدیوں سے تسلسل کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ چونکہ اکثر اقوام نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا ، اس لیے وہ نیست و نابود ہوئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہلاک شدہ اقوام کے آثار میں بہت ہی گہرا سبق ہوتا ہے اور یہ سبق بہت ہی خوفناک ہوتا ہے۔ بشرطیکہ دل شعور رکھتا ہو ، احساس و بصیرت موجود ہو۔ اگر کوئی اس سبق کو پڑھے تو پڑھنے والے پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ ضمیر کانپ اٹھتا ہے اور دل دہل جاتے ہیں۔ عرب جن کو ان آیات میں پہلی بار خطاب کیا گیا تھا وہ اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی اقوام عاد ، ثمود ، لوط کے آثار دیکھتے رہتے تھے۔ قرآن کریم ان لوگوں کو ملامت کرتا ہے کہ ان اقوام کے آثار تمہارے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ تم رات اور دن ان پر سے گزرتے ہو ، لیکن تمہارے دلوں میں پھر بھی خدا کا خوف پیدا نہیں ہوتا۔ تمہارا شعور بیدار نہیں ہوتا۔ تمہارے احساسات کے اندر روشنی کی چمک پیدا نہیں ہوتی۔ اور تم اس قسم کے انجام سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں کرتے ہو۔ تم ہدایت اخذ نہیں کرتے اور احتیاطی اور انسدادی تدابیر اختیار نہیں کرتے۔ ان فی ذلک لایت افلا یسمعون (32: 26) ” اس میں بڑی نشانیاں ہیں کیا یہ سنتے نہیں “۔ ان کو چاہئے کہ ان لوگوں کے جو قصے قرآن کریم پیش کرتا ہے ان کو سنیں اور پھر ان کے انجام پر غور کریں۔ جبکہ رات اور دن ان لوگوں کے مساکن اور کھنڈرات سے یہ گزرتے ہیں۔ قبل اس کے کہ ڈرانے والے کی بات سچی ہوجائے اور یہ بھی ہلاک ہوجائیں انہیں ہوش میں آجانا چاہیے۔ اس ہلاکت اور تباہی کے منظر کے بعد فکر و احساس کی اس بیداری اور خوف خدا پر ابھارنے اور ڈرانے کے بعد اور ان کے دلوں پر کپکپی طاری کرنے کے بعد ان کو ایک دوسری نشانی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اس خوفناک فضا کے بعد بہت ہی خوشگوار منظر بتاتی ہے۔ دیکھو ایک مردہ زمین تمہارے سامنے پڑی ہوتی ہے ، خشک سالی سے سوختہ اور ہم اس کی طرف پانی چلانے ہیں۔ اس کے اندر زندگی حرکت کرنے لگتی ہے۔ جبکہ اقوام سابقہ کے حالات میں ہم نے پڑھا کہ اس طرح کی سرسبز اور شاداب اراضی کو اللہ بنجر بھی کردیتا ہے۔