Ayahs 31:1–5درس نمبر 185 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 19
الم ۔۔۔۔۔۔ واولئک ھم المفلحون (1 – 5)
حروف مقطعات ا۔ ل۔ م سے آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔
تلک آیت الکتب الحکیم (31: 2) ” یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کتاب الٰہی حروف سے مرکب ہے۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں بھی یہی اشارات موجود ہیں۔ کتاب کو کتاب حکمت کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا اصل موضوع ہی فلسلفہ و حکمت ہے لہٰذا یہاں اس کتاب کی اس صفت کو لایا گیا کیونکہ اس سورة کے مضامین کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور یہی قرآن کا انداز ہے۔ کتاب کو کتاب حکیم کہہ کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک زندہ کتاب ہے۔ اور یہ ارادتاً ایک ہدف کی بڑھ رہی ہے۔ گویا یہ ایک زندہ شخصیت ہے۔ بہت ہی دانشمند اور اس کی گفتگو میں ایک مقصد ہے۔ اس کا ایک متعیقن ہدف ہے ، اور یہ اس ہدف کی طرف بالارادہ بڑھ رہی ہے۔ اس میں روح ہے ، اس میں زندگی ہے۔ اس میں حرکت ہے ، اور اس کتاب کی ایک ذات اور شخصیت ہے جو متعین ہے۔ یہ محبت کرنے والی ہے اور یہ ہر اس شخص کے ساتھ مکالمہ کرتی ہے جو اس کی صحبت میں بیٹھے۔ جو اس کے سایوں میں زندگی بسر کرے اور وہ اس کی اس کشش کو محسوس کرے جس طرح ایک زندہ دوسرے زندہ کی طرف رکھتا ہے اور جس طرح دوست دوست کی طرف کھینچتا ہے۔
یہ ہے کتاب حکیم ۔ اور اس کی آیات ہدایت اور رحمت ہیں محسنین کے لیے۔ یہ اس کی اصل ماہیت ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور یہ محسنین کے لئے ہمیشہ ہدایت رہتی ہے۔ یہ ان کو ایک متعین منزل مقصود تک پہنچاتی ہے جس طرح ایک زندہ شخص کسی کو راہ دکھاتا ہے مگر کرخت طریقے سے نہیں بالکل الفت اور محبت کے ساتھ نہایت آرام اطمینان کے ساتھ اور اس کی ہدایت یہ ہے کہ پہلے نماز قائم کرو اور اپنے رب سے رابطہ قائم کرو اور پھر زکوٰۃ ادا کرو ، اہل ایمان کے دل اس کے ذریعے بالم جوڑ کر رکھ دو اور پھر تمام اہل ایمان اللہ کی اس کائنات کے لیے ہمکلام اور مربوط ہوجائیں جس میں وہ رہتے ہیں۔ یہ کتاب وہ اقدار اور وہ حالات پیدا کرتی ہے جس میں تمام انسانوں کا مقام متعین ہو اور وہ اپنی اصل پہچان جان سکیں۔ اس کتاب کے ہدایت یافتہ لوگ اس فطرت سے بھی متعارف ہوں جس فطرت پر انہیں پیدا کیا گیا ہے اور سیدھے ہوں اور ان کے اندر کوئی زیغ اور ٹیڑھ نہ ہو۔
یہ کتاب جن محسنین کے لیے ہدایت ہے وہ کون ہیں ؟
الذین یقیمون ۔۔۔۔۔ ھم یوقنون (31: 4) ” جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں “۔ جب کوئی نماز قائم کرتا ہے ۔ اس کے پورے ارکان کے ساتھ اسے ادا کرتا ہے ، بروقت ادا کرتا ہے اور مکمل طور پر ادا کرتا ہے تو اس کی حکمت ، اس کا اثر انسانی شعور اور انسانی طرز عمل میں واضح ہو کر سامنے آتا ہے ، اور اس کے ذریعہ اللہ اور بندے کے درمیان وہ تعلق قائم ہوجاتا ہے ، جو مطلوب ہے۔ اللہ سے انس پیدا ہوتا ہے اور نماز کے اندر مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے اور زکوٰۃ کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کے اندر جو فطری بخل ہے ، اس پر انسان قابو پالیتا ہے۔ وہ امت مسلمہ کے لیے ایک اجتماعی نظام کی بنیاد ہوتی ہے اور امت کے اندر اجتماعی کفالت کی بنیاد پڑتی ہے۔ اس سوسائٹی میں امیروں اور غریبوں دونوں کے اندر ارتماد ہوتا ہے۔ اطمینان ہوتا ہے اور باہم مودت اور محبت ہوتی ہے۔ اس کے اندر طبقاتی نفرت نہیں ہوتی اور آخرت پر ایمان تو تمام نیکیوں کی اساس ہے۔ اس سے قلب بشری ہر وقت بیدار رہتا ہے۔ اس کی نظریں عالم آخرت پر ہوتی ہیں اور زمین کی گندگیوں اور زمین کے عارضی سازوسامان کے مقابلے میں اس کی نظریں بلند ہوتی ہیں۔ خفیہ طور پر اور اعلانیہ طور پر انسان یہ دیکھتا ہے کہ اسے اللہ دیکھ رہا ہے اور انسان درجہ احسان تک پہنچ جاتا ہے جس کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا ” احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو کہ اسے تم دیکھ رہے ہو ، اگر تم اسے نہ دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے “۔ (بخاری و مسلم ، کتاب الایمان)
یہ لوگ جو ایسی نماز پڑھتے ہیں ، جو اس نیت سے زکوۃ دیتے ہیں۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
اولئک علی ۔۔۔۔۔ ھم المفلحون (31: 5) ” یہی لوگ رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “۔ جس نے ہدایت پائی۔ اس نے فلاح پائی۔ وہ ایک روشنی پر چل رہا ہوتا ہے۔ منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے ۔ گمراہیوں سے اور فساد سے بچ جاتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس کرہ ارض پر اپنے اس سفر پر وہ مطمئن ہوتا ہے ، پھرتا رہتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ ہم سفر ہوتا ہے اور اس کائنات کے ایک جزء کے طور پر اس کے ساتھ ہم آہنگی سے سفر طے کرتا جاتا ہے ، نہایت انس و محبت کے ساتھ۔ ایسے ہی لوگ اس کتاب کی آیات سے راہنمائی پاتے ہیں۔ محسن ، غازی ، زکوٰۃ دینے والے ، آخرت کا یقین رکھنے والے۔ یہ لوگ دنیا اور آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔ یہ لوگ ایک فریق ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک فریق اور بھی ہے۔ کیا ہیں اس کے خدوخال ؟
Ayahs 31:6–7ومن الناس من یشتری ۔۔۔۔۔ فبشرہ بعذاب الیم (6 – 7)
لہو حدیث سے مراد تفریحی اور دلچسپ کلام ہے جس کسی محض وقت گزارنا مطلوب ہو۔ اس کلام سے کوئی اچھا اور مفید نتیجہ نہ نکلتا ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی تعمیری بات ہو ، جو انسان کے منصب خلافت سے متعلق ہو۔ جو انسان کی ذہنی ، اخلاقی اور معاشی اور دینی اور اخروی کسی غرض سے وابستہ نہ ہو۔ اسلام انسان کے لیے اس دنیا میں کچھ فرائض متعین کرتا ہے۔ ان فرائض کے حدود ، وسائل اور طریقہ کار بھی متعین کرتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ یہ انسانوں کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے جو ہر زمان و مکان میں بالعموم پایا جاتا ہے۔ بعض روایات یہ بتاتی ہیں کہ اسلام کی پہلی جماعت کے دور میں ایک متعین واقعہ بھی ہوا تھا ، اس آیت میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ مکہ کا ایک ادیب نضر ابن الحارث ایران سے ایسی کتابیں خرید کر لاتا تھا جن میں ایرانیوں اور ان کے بڑے لوگوں کے افسانے اور تاریخی واقعات ہوتے تھے اور ان کی جنگوں کے دلچسپ واقعات ہوتے تھے۔ یہ شخص مکہ کی گلیوں میں بیٹھ کر ان لوگوں کو روکتا جو قرآن سننے کے لیے جاتے تھے اور ان کو یہ افسانے سناتا۔ یہ شخص قصص القرآن کے مقابلے میں قصص ایران سناتا تھا۔ اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ یہ آیت اس واقعہ میں وارد ہے تو بھی یہ آیت عام ہے۔ یہ لوگوں کی اس قسم کے خدوخال واضح طور پر بتاتی ہے۔ اس قسم کے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔ عہد رسول اللہ ﷺ میں بھی موجود تھے جس دور میں مکہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔
ومن الناس من یشتری لھو الحدیث (31: 6) ” انسانوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے “۔ یعنی اس کام میں اپنا مال اور اپنا وقت خرچ کرتا ہے اور اپنی زندگی اس میں کھپاتا ہے۔ اس قدر قیمتی چیزیں وہ اس قدر بےوقعت اور بےقیمت چیزوں میں خرچ کرتا ہے۔ اپنی محدود اور قیمتی عمر اس میں کھپاتا ہے۔ یہ عمر جو نہ واپس آتی ہے اور نہ واپس لائی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کام کیوں کرتا ہے۔
لیضل عن ۔۔۔۔ ھزوا (31: 6) ” تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے “۔ ایسا شخص جاہل ہے اور اسکی نظروں سے حقیقت اوجھل ہے۔ وہ کوئی بات علم و یقین کی بنیاد پر نہیں کرتا۔ نہ وہ حکمت کی بنیاد پر کوئی کام کرتا ہے۔ اسکی نیت بھی خراب ہے اور اس کی غرض بھی فاسد ہے۔ وہ لوگوں کو بدراہ کرنا چاہتا ہے۔ خود اپنے آپ کو بھی گمراہ کرتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور اپنی زندگی کو اس میں فضول ضائع کرتا ہے پھر وہ اس قدر گستاخ ہے کہ دعوت اسلامی کے ساتھ مذاق کرتا ہے اور اس اسلامی نظام کے ساتھ مذاق کرتا ہے جو اللہ نے وضع کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کی زندگی کا دستور قانون ہو۔ چناچہ قرآن مجید ایسے لوگوں کی تصویر کشی سے بھی قبل ان کو اہانت آمیز عذاب کی دھمکی دیتا ہے۔
اولئک لھم عذاب مھین (31: 6) ” ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ان کیلئے توہین آمیز عذاب ہوگا ، اس لیے کہ انہوں نے یہاں دعوت اسلامی کی توہین کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ لوگ اسلامی نظام زندگی کے ساتھ مزاح کرتے تھے۔ اب اس دھمکی کے بعد اس گروہ کے خدوخال قلم بند کیے جاتے ہیں۔
واذا تتلی علیہ ۔۔۔۔۔ یسمعھا (31: 7) ” اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتا ہے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس کے اندر اس متکبر شخص کی ہیئت کذائی کو اچھی طرح قلم بند کردیا گیا ہے۔ وہ نہایت غرور سے منہ موڑ کر گزر جاتا ہے ، سنی ان سنی کردیتا ہے۔ چناچہ اگلا رنگ اس تصویر میں نہایت حقارت آمیزی سے بھرا جاتا ہے۔
کان فی اذنیہ وقرا (31: 7) ” گویا اس کے کان بہرے ہیں “۔ گویا اس کے کانوں کا یہ بھاری پن اللہ کی آیات کو اس کے کانوں تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔ ورنہ ان آیات کو کوئی انسان بھی اگر سنے تو وہ ان کے ساتھ یہ مذموم برتاؤ نہیں کرسکتا۔ یہ رنگ پھر مزید اہانت آمیز کردیا جایا ہے۔
فبشرہ بعذاب الیم (31: 7) ” مژدہ سنا دو اسے دردناک عذاب کا “۔ یہ موقع کسی بشارت کا موقع نہیں ہے لیکن یہاں ان کی توہین مطلوب ہے اور ایسے متکبرین مسخروں کے لئے یہی انداز مناسب ہے۔
اعراض کرنے والوں ، تکبر کرنے والوں اور کفر کرنے والوں کی اس اہانت آمیز سزا کی مناسب سے یہاں ضروری ہے کہ اچھے عمل کرنے والے اہل ایمان کے انعام اور جزا کا بھی ذکر دیا جائے۔ اس سورة کے آغاز میں ان کا ذکر ہوچکا ہے اور ان کی کامیابی کا ذکر کردیا گیا ہے۔ اگرچہ وہاں اجمالی تھا۔
Ayahs 31:8–9قرآن کریم میں جہاں جہاں اہل ایمان کی جزاء کا ذکر ہے وہاں ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر ضرور کیا گیا ہے اس لیے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج یہ نہیں ہے کہ ایمان محض منجمد ، پوشیدہ ، معطل اور مجرد تصور ہی ہو بلکہ ایمان کو ایک زندہ ، فعال اور متحرک حقیقت ہونا چاہئے۔ جب وہ دل میں پیدا ہو ، قرار پکڑے پورا ہو ، تو متحرک ہو کر عملی شکل اختیار کرے۔ وہ حرکت اور طرز عمل کی شکل اختیار کرے اور عالم واقعہ میں اس کے آثار اپنی ترجمانی کریں۔ اور یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس مومن کے دل میں کیا ہے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو عملی شکل دی۔
لھم جنت النعیم (31: 8) ” ان کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ باغات اور یہ دوام
اللہ کے عہد کے مطابق ان کو دیا جا رہا ہے۔
وعد اللہ حقا (31: 9) ” یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے “۔ اللہ کی مہربانی اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ اس نے اپنے اوپر اپنے بندوں کے ساتھ احسان کرنا فرض کرلیا۔ یہ ان کی نیکی اور ان کے نیک اعمال کے بدلے میں حالانکہ اللہ تو غنی ہے۔ اسے کسی کے عمل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
وھو العزیز الحکیم (31: 9) ” وہ تو زبردست و حکیم ہے “۔ وہ اپنے عہد کو پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مخلوقات کو اس نے بڑی حکمت سے بنایا ہے۔ وعدہ بھی حکمت سے کرتا ہے اور پورا بھی حکمت سے کرتا ہے۔
اس بات کی دلیل کیا ہے کہ اللہ عزیر و حکیم ہے اور اس سے قبل جو کچھ کہا اس کا ثبوت کیا ہے ؟ یہ عظیم کائنات جس کی تخلیق کا دعویٰ کوئی انسان اور کوئی قوت نہیں کرسکتی ماسوائے اللہ کے۔ یہ کائنات بہت ہی عظیم ہے اور اس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اس کا نظام نہایت مستحکم اور دقیق ہے۔ اس کی ساخت نہایت ہی متوازن ہے۔ جوں جوں اس کائنات کے بارے میں زیادہ معلومات ہوتی ہیں اور انسان غور کرتا جاتا ہے ، عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان کا تصور بھی رک جاتا ہے اور یہ عظیم کائنات ایک ایسی دلیل اور ایک ایسی شہادت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جس سے کوئی منہ نہیں موڑ سکتا۔ جو بھی ذرا غور کرے ، ذات باری کے تسلیم کرنے کے سوا اس کے لیے چارہ کار ہی نہیں ہے اور جو لوگ پھر بھی اللہ وحدہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ ھق کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔
Ayahs 31:10–11خلق السموت بغیر ۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (10 – 11)
یہ آسمان ، بغیر اس کے کہ ان کے بارے میں ہم جدید پیچیدہ سائنسی معلومات پیش کریں ، اپنی ظاہری حالت میں جب ہمارے حواس کے سامنے آتے ہیں تو یہ بہت ہی عظیم لگتے ہیں۔ یہ آسمان ستارے اور سیارے ہوں ، یا کہکشاں اور سدم ہوں۔ جو بلندیوں میں تیر رہے ہیں اور ان کے ھقیقی راز سے صرف اللہ ہی واقف ہے یا آسمان سے مراد یہ قبہ ہو جسے ہم دیکھتے ہیں اور جس کی حقیقت سے اللہ ہی خبردار ہے۔ غرض آسمان سے مراد جو بھی ہو ، بہرحال یہ عظیم کر ات بغیر سہارے اور ستونوں کے کھڑے ہیں۔ انسان رات اور دن ان سماوات کو دیکھتے ہیں اور جس چھوٹے سے ستارے پر انسان سوار ہیں ، اس تک ہم جس قدر دوریاں قریب کردیں اس عالم کا محض تصور ہی سر کو چکرا دیتا ہے کہ یہ عالم کس قدر عظیم اور ہولناک ہے جس کے حدود وقیود انسان کے ادراک سے ابھی تک باہر ہیں۔ پھر جب ایک انسان سوچتا ہے کہ اس عظیم کائنات کو ایک منظم نظام میں باندھ دیا گیا ہے کہ اس کی حرکت میں ایک سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آتا۔ پھر اس عالم کو کس قدر خوبصورت بنایا گیا ہے کہ انسان دیکھتا ہی رہ جائے۔ دل سوچتا ہی رہے اور نہ تھکے۔ نظریں بھرتی ہی رہیں اور اس کے نظارے سے ملوک نہ ہوں اور جب اسنان یہ سوچے کہ اس گول آسمان میں جو چھوٹے چھوٹے نکتے نظر آتے ہیں ان میں سے ایک ایک ستارہ زمین سے ہزاروں گنا ہڑا ہے (مثلاً مشتری ایک ہزار گنا) لاکھوں گنا بڑا ہے تو کسی بھی عقلمند انسان کے لئے یہی کافی دلیل ہے۔ فضائے کائنات کے اس لا انتہا سفر سے واپس آئیے ، یہ تو قرآن نے ایک سرسری اشارہ ہی کیا ہے۔
خلق السموت بغیر عمد ترونھا (31: 10) ” اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا جو تم کو نظر آئیں “۔ اب اسی زمین کی طرف ، اور ذرا جم کر دیر تک اس کے نظاروں کو غور سے دیکھئے۔ یہ چھوٹی سی زمین ، کائنات کا ایک ذرہ ، اس عظیم کائنات میں تو یہ ایک ذرہ ہی ہے جو فضا میں اڑ رہا ہے۔ ہم اس پر واپس آتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ زمین بہت وسیع اور طویل و عریض ہے۔ انسان اپنی مختصر زندگی میں اس کی سیر بھی نہیں کرسکتا۔ اگرچہ وہ پوری عمر اس چھوٹے سے ڈرے کے سیروسفر میں گزار دے۔ انسان کو کہا جاتا ہے کہ ذرا اسی کا مطالعہ کھلی آنکھوں سے کرو ، اور طویل الضت اور بار بار دیکھنے کی وجہ سے انسان سے اس کا انوکھا پن گم ہوگیا ہے۔ ذرا اس کے عجائبات کو دیکھو۔
والقی فی ۔۔۔۔ تمید بکم (31: 10) ” اور اس نے زمین میں پہاڑ جما دئیے کہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے “۔ رواسی معنی پہاڑ۔ علمائے طبقات الارض یہ کہتے ہیں کہ پہاڑ دراصل زمین کے چھلکے کی شکئیں ہیں۔ جب زمین کا چھلکا سرد ہوگیا اور اس کے اندر کی گیس سکڑ گئیں تو زمین کا حجم کم ہوتا گیا جس کی وجہ سے زمین کے چھلکے کے اندر شکنیں پیدا ہوگئیں اور اس طرح زمین کے اوپر بلندیاں اور پستیاں اور نشیب و فراز پیدا ہوگئے۔ جس قدر جہاں زیادہ سکیڑ کا عمل ہوا اسی قدر پہاڑ بلند ہوگئے۔ اب چاہے علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ درست ہو یا غلط ہو ، لیکن اللہ کی کتاب یہ کہتی ہے۔ اللہ نے پہاڑ جما دئیے تاکہ زمین کی رفتار کے اندر توازن ہو اور انسان اس کی سطح پر رک سکے اور اس کے اندر ڈولنے کا عمل نہ ہو۔ علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ درست ہو سکتا ہے اور وہ اس بات کو تسلیم بھی کرتے ہیں کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین کی رفتار محوری کے اندر وہ توازن نہ ہوتا جو ہے اور اللہ کا حکم ہر حالت میں بلند ہے اور رہے گا کیونکہ اللہ تمام متکلمین میں سے سچا اور صادق ہے۔ صدق اللہ العظیم۔
وبث فیھا من کل دآبۃ (31: 10) ” اور اس نے ہر طرح کے جانور زمین میں پھیلا دئیے “۔ اس عظیم کائنات کے عجائبات میں سے یہ ایک حیرت انگیز عجوبہ ہے کہ اس زمین کے اوپر اللہ نے رنگا رنگ زندگی کو پھیلایا ہے۔ آج تک کوئی شخص راز حیات ہی کو نہیں پاسکا اس کی یہ بو قلمونی اور رنگا رنگی تو بڑی چیز ہے۔ انسان اس حیات کی سادہ ترین صورت کو بھی نہیں پاسکا چہ جائیکہ وہ زندگی کی اعلیٰ اقسام ، اس کی رنگارنگی اور مختلف ضخامتیں ، اور خوبصورت جانور اور پرندوں کو جان سکے جن کی تعداد کا بھی انسان کو علم نہیں ہے۔ بےحد افسوس ہے کہ بعض لوگ علم کے باوجود ان عجائبات پر آنکھیں بند کرکے گزر جاتے ہیں گویا وہ ایک بالکل معمولی چیز دیکھ رہے ہیں۔ یہی انسان جب انسان کی بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی مشین کو دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے اور بار بار الٹ پلٹ کر اسے دیکھتا چلا جاتا ہے حالانکہ یہ مشین اللہ کے پیدا کردہ ایک سادہ خلیے سے زیادہ پیچیدہ نہیں ہوسکتی اور ان خلیوں کے جو دقیق اور پیچیدہ تصرفات ہیں ، وہ سب اعجوبے ہیں۔ ہم صرف سادہ خلیے کے عجائبات کی بات کرتے ہیں۔ رہے وہ پیچیدہ تخلیق والے بڑے انسان جن کے جسم میں سینکڑوں کیمیاوی تجربہ گاہیں اور لیبارٹریاں کام کر رہی ہیں جن کے اندر سینکڑوں سٹورز ہیں جہاں مواد جمع ہوتے ہیں اور تقسیم ہوتے ہیں اور جن کے اندر ایک عجیب مواصلاتی نظام ہے جو لاسلکی کے طور پر پیغامات لیتا ہے اور ارسال کرتا ہے اور سینکڑوں دوسرے عوامل ہزار ہا فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
وانزلنا من ۔۔۔۔۔ زوج کریم (31: 10) ” اور آسمانوں سے پانی برسایا اور زمین میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اگا دیں “۔ آسمانوں سے پانی برسایا عجائبات تکوینی میں سے ایک اعجوبہ ہے لیکن چونکہ یہ اکثر ہمارے سامنے دہرایا جاتا ہے اس لیے ہم اس پر سے غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ یہ پانی جس سے نہریں ہوکر بہتی ہیں جس سے بحیرے بھر جاتے ہیں جس کے ساتھ زمین میں چشمے پھوٹتے ہیں۔ یہ پانی ایک نہایت ہی پیچیدہ نظام کے تحت آسمانوں سے برستا ہے۔ یہ آسمانوں کے نظام کے ساتھ مربوط ہے۔ اس کا مزاج ، اس کی تشکیل اور کر ات کی دوریوں سے یہ مربوط ہے۔ پھر پانی کے نزول کے بعد زمین کے اندر مختلف النوع اور مختلف اور مختلف الشکل نباتات ، ذائقے مختلف ، رنگ مختلف ، حجم مختلف ، خواص مختلف۔ ان کے اندر ایسے ایسے عجائبات کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے نباتات میں زندگی اور نمو ان کا تنوع ، ان کی وراثتی خصوصیات جو چھوٹے سے بیج کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹا سا بیج اپنے آپ کو دہراتا ہے۔ پودا ، پھول اور درخت کی شکل اختیار کرت ا ہے۔ ایک ہی پھول کے اندر رنگوں کی تقسیم کا مطالعہ ہی انسان کو خالق کائنات کی عظیم قوتوں کی طرف کھینچ لیتا ہے اور انسان کا ایمان گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔
پھر قرآن تصریح کرتا ہے کہ اللہ نے نباتات میں بھی بوڑے پیدا کیے۔
من کل زوج کریم (31: 10) ” عمدہ قسم کے جوڑے “۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے کہ سائنس کو بہت ہی قریب زمانے میں اس کا علم اور تجربہ ہوسکا ہے۔ ہر پورے میں نر اور مادہ خلیے ہوتے ہیں۔ یہ خلیے ایک ہی پھول میں یا ایک ہی شاخ کے دو پھولوں میں ہوتے ہیں یا یہ خلیے دو درختوں میں علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں اور کوئی پودا اس وقت پھل نہیں دیتا جب تک نر اور مادی خلیے باہم ملتے نہیں ہیں۔ جیسا کہ انسانوں اور حیوانوں کے توالد کا نظام واضح ہے۔ اور زوج کے ساتھ کریم کی صفت ، یہاں اس لفظ کے استعمال کے ذریعے ایک خاص تاثر دینا مطلوب ہے کہ یہ اللہ کریم کی تخلیق ہے اور یہ بہت ہی اہم اعجوبہ ہے جسے دیدہ عبرت سے دیکھا جانا چاہئے اور اس کا احترام کرنا چاہئے۔ یہ اس لیے بھی لایا گیا ہے کہ اللہ نے تو یہ عمدہ کام کیے ہیں اور جن ہستیوں کو تم الٰہ سمجھے ہوئے ، ذرا بتاؤ انہوں نے کیا کام کیے ہیں ۔ یہ تو ہے
ھذا خلق ۔۔۔۔۔۔ من دونہ (31: 11) ” یہ تو ہے اللہ کی تخلیق اب ذرا مجھے دکھاؤ ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے “۔ زوج کریم کے بعد یہ چیلنچ اور اب یہ نتیجہ
بل الظلمون فی ضلل مبین (31: 11) ” اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور شرک سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے جبکہ اس عظیم کائنات کا یہ معجزہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہاں پہلا سفر ختم ہوتا ہے اور نہایت ہی روداد الفاظ پر۔
اس کے بعد اب دوسرا راؤنڈ شروع ہوتا ہے ۔ یہ بالکل جدید ترتیب سے ہے۔ یہ بالواسطہ ہدایت اور حکایتی انداز تلقین ہے۔ موضوع بحث اللہ وحدہ کا شکر ادا کرنا ہے۔ اور اللہ کو ہر قسم کے شرک سے پاک قرار دینا ہے۔ اس حکایت کے درمیان آخرت اور اعمال اور ان کی جزا کی بات کی گئی ہے۔
Ayah 31:12ولقد اتینا لقمن ۔۔۔۔۔ غنی حمید (12)
حضرت لقمان حکیم کی زبانی یہاں عقیدہ توحید ، عقیدہ آخرت اور دوسری اخلاقی تعلیمات یہاں دی گئی ہیں۔ ان کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نبی تھے اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ نبوت کے منصب کے بغیر ایک عبد صالح تھے زیادہ تر مفسرین اس دوسری رائے کی طرف گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ ایک حبشی غلام تھے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نوبہ کے رہنے والے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے ججوں میں سے ایک جج تھے۔ وہ جو بھی ہوں قرآن نے ہمیں یہ اطلاع دی ہے کہ وہ ایک ایسا شخص تھا جس کو اللہ نے حکمت عطا کی تھی اور اس حکمت اور فلسفے کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔
ولقد اتینا ۔۔۔۔ اشکر للہ (31: 12) ” ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کے شکر گزار بنو “۔ چناچہ قرآن کریم ہمیں اس قصے کے ضمن میں یہ ہدایت دیتا ہے کہ تم لوگ اللہ کا شکر ادا کرو اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ہدایت اور اطلاع کہ شکر تو شکر کرنے والے کیلئے ایک ذخیرہ ہے۔ اس کے نتیجے میں خود شاکر کو نفع ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تو غنی بادشاہ ہے کوئی شکر کرے یا نہ کرے اس کی بادشاہت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اللہ تو بذات خود محمود اور قابل ستائش ہے ، چاہے کوئی اس کی حمد و ثنا کرے یا نہ کرے
ومن یشکر۔۔۔۔۔ غنی حمید (31: 12) ” جو کوئی شکر کرے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے اور جو کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بےنیاز ہے “۔ لہٰذا بہت بڑا احمق ہے وہ جو حکمت کے مخالف ہو اور وہ اپنے لیے یہ سرمایہ جمع نہ کرتا ہو۔
اب مسئلہ توحید ایک تقریر کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کے سامنے کی۔
Ayah 31:13واذ قال لقمن ۔۔۔۔۔ لظلم عظیم (13)
یہ ایک ایسا وعظ ہے جو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہے کیونکہ کوئی والد اپنے بیٹے کے لیے اچھائی کے سوا اور کوئی ارادہ ہی نہیں کرسکتا۔ ایک والد اپنے بیٹے کے لیے ناصح مشفق ہی ہو سکتا ہے۔ یہ ہیں لقمان حکیم جو اپنے بیٹے کو شرک سے منع کرتے ہیں اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ شرک دراصل ایک عظیم ظلم ہے۔ وہ اس بات کو دو بار اپنی تقریر میں دہراتے ہیں ۔ ایک بار تو وہ شرک سے روک کر اس کی علت بتاتے ہیں اور دوسری تاکید لفظ ان اور لام تاکید کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو حضرت محمد ﷺ اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہ ہیں کہ ناحق مجادلہ کرتے ہیں اور اس عقیدے پر زور دینے کی وجہ سے حضرت پر الزامات عائد کرتے ہیں کہ شاید ان کی کوئی ذاتی غرض اس سے وابستہ ہے ، مثلاً یہ کہ حضرت محمد ﷺ حکمران بننا چاہتے ہیں اور ان کے مقابلے میں بڑا آدمی بننا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ان کی یہ بات درست نہیں ہے اس لیے کہ حضرت لقمان اپنے بیٹے کے سامنے یہی تقریر کرتے ہیں اور ان کو شرک سے رکنے کا امر کرتے ہیں ظاہر ہے کہ کوئی والد کم از کم اپنے بیٹے سے کوئی غلط بات نہیں کرسکتا۔ لہٰذا یہ نصیحت ہر قسم کے ظن اور گمان سے پاک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسے بھی حکمت دی گئی وہ عقیدہ توحید کا قائل ہوتا ہے۔ عقیدہ توحید سے غرض خیر ہی خیر ہے اور کچھ بھی نہیں اور یہ ایک نفسیاتی استدلال ہے۔
چونکہ یہ والد کی جانب سے اپنے بیٹے کو ایک مشفقانہ وعظ تھا ، اس لیے یہ بھی بتا دیا گیا کہ جب والد اپنی اولاد کے حق میں اس قدر مخلص اور مشفق ہوتا ہے تو تمام انسانوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ والدین کا تم پر حق ہے۔ یہ تقریر بھی نہایت ہی محبت بھرے الفاظ میں ہے۔ یہ باپ اور بیٹے ، والدین اور اولاد کے تعلق کو نہایت ہی شفیقانہ اور اشاراتی انداز میں بیان کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود نظریاتی تعلق اور نظریاتی روابط کو نسب اور خون کے تعلق سے مقدم رکھا جاتا ہے۔
Ayahs 31:14–15ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔ بما کنتم تعملون (14 – 15)
قرآن کریم میں بار بار اولاد کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھیں اور رسول اللہ ﷺ کے نصائح میں بھی اس کی بار بار تاکید آتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں والدین کو اپنے کو اپنی اولاد کے بارے میں بہت کم ہدایت دی گئی ہے۔ جو نصیت کی گئی ہے وہ زندہ درگور کرنے کی بری رسم کے سلسلے میں ہے جبکہ یہ رسم بہت ہی محدود علاقوں میں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں پر رحم و شفقت ہر انسان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ اللہ نے سلسلہ حیات کو جاری رکھنے کے لیے والدین کے اندر یہ داعیہ رکھ دیا ہے کہ وہ بچوں کی نگہداشت کریں۔ والدین ، اپنے جسم ، اپنے اعصاب اور اپنی عمریں بچوں کے لئے کھپا دیتے ہیں۔ وہ اپنی ہر قیمتی چیز اپنے بچوں پر قربان کردیتے ہیں اور اس راہ میں جو بھی مشکلات آجائیں اف نہیں کرتے اور نہ شکوہ کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات والدین لاشعوری طور پر بچوں کے لیے سب کچھ کر گزرتے ہیں بلکہ وہ بچوں پر نہایت ہی خوشی خوشی سے سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔ اس طرح گویا یہ سب کچھ والدین اپنے لیے کرتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کے لیے فطرت انسانی خود کفیل ہوتی ہے ، مزید کسی وصیت اور تاکید کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ رہا لڑکا اور اولادتو ان کو بار باد یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس نسل کا خیال رکھیں جس نے تم پر سب کچھ قربان کردیا ہے ، جس نے سب تدبیریں تمہارے لیے کیں اور خواب ٹمٹماتے چراغ ہیں یا چراغ سحری ہیں جنہوں نے اپنی عمر ، اپنے جسم اور اپنی روح کو کشید کرکے تمہاری زندگی کا ساماں تیار کیا ہے اور جہاں تک بچوں اور اولاد کا تعلق ہے وہ والدین کی قربانیوں کا پورا معاوضہ نہیں دے سکتے اگرچہ وہ اپنی عمر ہی والدین کے لئے وقف کردیں۔ ذرا اس پر تاثیر کو دیکھیں۔
حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصلہ فی عامین (31: 14) ” اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے “۔ اس قربانی اور اس نیکی کی تصویر اس سے اچھی نہیں بنائی جاسکتی۔ والدہ اپنے فریضہ طبیعی کی رو سے زیادہ قربانی دیتی ہے اور بچوں کے لیے اس کی محبت ، شفقت اور نرمی باپ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی سند میں یہ روایت کی ہے بذریعہ مریدہ اور اس کے والد کا ایک شخص طواف میں تھا اور اپنی ماں کو اٹھا کر طواف کرا رہا تھا تو اس نے نبی ﷺ سے دریافت کہ کیا میں نے اس کا حق ادا کردیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا نہیں ، ایک سانس کے برابر بھی نہیں۔ یوں ایک سانس کے برابر بھی نہیں۔ حمل کے دور میں اور وضع حمل کے دور میں ، جب کہ وہ اسے ضعف جھیل کر اٹھا رہی تھی۔ اس خوشگوار شکر گزاری کے سائے میں متوجہ کیا جاتا ہے کہ منعم اول کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ پہلا شکر اللہ کا ہے اور دوسرا والدین کا ہے۔
ان اشکرلی ولو الدیک (31: 14) ” کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا “۔ اور ان حقائق کے ساتھ یہ اہم حقیقت بھی یاد رکھو۔
الی المصیر (31: 14) ” میری ہی طرف تمہیں پلٹنا ہے “۔ اور وہاں یہی سازو سامان تمہیں فائدہ دے گا۔
لیکن والدین اور اولاد کے اس تاکیدی تعلق کے باوجود اور اولاد کی جانب سے اس حرمت اور ادب کے باوجود یہ تعلق ثانوی ہے۔ اس سے قبل نظریاتی تعلق ہے۔ لہٰذا اولاد کو یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ نظریات کے سلسلے میں والدین کے احکام اور خواہش کو بھی رد کیا جاسکتا ہے۔
وان جاھدک علی ۔۔۔۔۔ فلا تطمعھما (31: 15) ” لیکن اگر رہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان “ ۔ کیونکہ والدین کی اطاعت کی سرحد یہاں ختم ہوجاتی ہے۔ اس سے آگے رب تعالیٰ کی اطاعت کا حکم ہے اور نظریاتی تعلق باپ بیٹے کے تعلق سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اس لیے والدین کسی کو مشرک بنانے کے جو احکام دیں ، جدوجہد کریں ، دباؤ ڈالیں ، مطالبے کریں ، ناراض ہوں ، تو ان کی یہ بات نہیں مانی جاسکتی کیونکہ اولاد جانتی نہیں ہے کہ اللہ کا کوئی شریک بھی ہے۔ لہٰذا حکم یہ ہے کہ یہاں سے آگے والدین کی اطاعت نہیں ہے۔ خالق کی اطاعت ہے۔
لیکن نظریاتی اختلاف اور نظریات کے بارے میں والدین کی عدم اطاعت کے حکم کے باوجود والدین کی عزت و احترام اور
ان کے ساتھ شفقت کا برتاؤ ضروری ہے۔
وصاحبھما فی الدنیا معروفا (31: 15) ” دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ “۔ یہ دنیا کی زندگی تو ایک مختصر سفر ہے۔ اصل سفر یہ ہے۔
واتبع سبیل من اناب الی (31: 15) ” مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے “۔ یعنی اہل ایمان کی پیروی کرو۔ اور اس مختصر سفر کے بعد پھر تم نے اللہ کے سامنے حاضری دینی ہے ۔
ثم الی مر جعکم فانبئکم بما کنتم تعلمیون (31: 15) ” پھر تم سب کو پلٹنا میری طرف ہے ۔ پھر میں تمہیں بتادوں گا کہ تم کیسے عمل کرکے آئے ہو “۔ اور ہر شخص کے لیے وہاں جزاء ہوگی اس کے اعمال کی چاہے اس نے شکر کیا یا کفر کیا ۔ شرک کی راہ اختیار کی یا توحید کا راستہ اپنایا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت اور سورة عنکبوت کی آیت جو اس کے مثابہ ہے اور سورة احقاف کہ ایک آیت جس کا یہی مضمون ہے ، یہ آیات حضرت سعد ابن ابی وقاص اور اس کی ماں کے حق میں نازل ہوئیں ۔ (میں نے بیسویں پارے میں سورة عنکبوت کی آیت کے ضمن میں تفصیلات دی ہیں ) بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت سعد ابن ملک ؓ کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔ طبرانی نے اسے کتاب العشرۃ میں نقل کیا ہے جو انہوں نے داؤدابن سے بند سے روایت کی ہے ۔ مسلم کی حدیث میں سعد ابن ابی وقاص کا قصہ آیا ہے اور راجح بات یہی ہے لیکن مفہوم اور حکم تمام ایسے حالات پر عام ہوگا ۔ مطلب یہ ہے کہ تعلقات میں بھی درجات میں اور فرائض میں بھیدرجات ہیں ۔ ہر حکم اور ہر تعلق کی اپنی قدرت و قیمت ہوتی ہے لہٰذا اسلام میں اللہ کا رابطہ سب سے پہلا رابطہ ہے اور اللہ کے حقوق سب سے اونچادرجہ رکھتے ہیں قرآن کریم مراتب کر اس ذوق کو بار بار بتاتا ہے کہ اگر فرق مراتب نہ کئی خوندیقی ۔ اور باربار ماکید اس لیے کی جاتی ہے کہ اس معاملے میں کوئی اجمال واشکال نہ رہے ۔ یہ تو تھا جملہ معترضہ حضرت لقمان کی تقریر میں ۔ اس کے بعد ان کی تقریر اور نصیحت پھر شروع ہوتی ہے۔ اور یہ مسئلہ بعث بعد الموت اور حشر و نشر اور جزاء و سزا کے بارے میں ہے کہ وہاں سب کو جزاء و سزا ملے گی اور یہ بہت ہی عادلانہ ہوگی لیکن اس اصول کو محض اصول کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا بلکہ اسے ایک کائناتی تمثیل اور تصویر کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس قدر موثر انداز میں جس سے انسانی شعور بےحد متاثر ہوتا ہے اور اس تصویر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ اس کائنات کے ذرے ذرے کو جانتا ہے اس لیے ہر کسی کے اجزائے جسم کے تمام ذرات کو وہ لا سکتا ہے۔
Ayah 31:16یبنی انھا ان ۔۔۔۔۔ ان اللہ لطیف خبیر (16)
اگر کوئی اللہ کے علم کی جامعیت اور مانعیت کو محض اصولی الفاظ میں بیان کر دے اور اللہ کو بہت قدرتوں والا کہہ دے اور یہ کہ اسے ذرے ذرے کا حساب لینا والا کہہ دے تو وہ اس قدر موثر نہیں ہوسکتا جس طرح یہ مصور انداز تعبیر موثر اور دلنشین ہے یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز تعبیز ہے کہ نہایت معنوی اور ذہنی امور کو مصور کردیا جاتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر النبی) ۔ رائی کا دانہ بہت ہی چھوٹا ، گم گشتہ ، بےحقیقت اور بےوزن ہوتا ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ پھر یہ دانہ کسی چٹان (مخرہ) میں ہو کہ وہاں تک پہنچنے کی کوئی راہ بھی نہ ہو یا وہ سماوات میں ہو ، جن کی دوریوں کے تصور ہی سے سر چکرا جاتا ہے ، جن کے اندر بڑے بڑے عظیم الجثہ کر ات کے وزن تیر رہے ہیں یا اس زمین کے اندر وہ رائی کے دانہ کہیں غبار میں پڑا ہوا تو اسے بھی ڈھونڈ لائے گا۔ پس ذرا تصور کرلو اس کے علم وقدرت کے بارے میں۔ وہ بہت ہی باریک بیں ہے۔
یات بھا اللہ ان اللہ لطیف خبیر (31: 16) اس مضمون کے ساتھ لطیف کا لفظ بہت ہی موزوں ہے۔ اور خیال اس ہولناک ، عظیم اور وسیع و عریض کائنات کی وادیوں میں اس رائی کے دانے کے پیچھے سرپٹ دوڑ رہا ہے اور یہ اللہ کے علم اور قدرت کے تصویر پر احاطہ کرنے سے عاجز رہ جاتا ہے ، اس لیے وہ اللہ کی طرف مڑ کر اپنی عاجزی کا اقرار کرتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اللہ ہر خفیہ بات کا جاننے والا ہے اور وہ بات ذہن نشین ہوجاتی ہے جسے پورا قرآن انسان کے ذہن میں بٹھانے کے درپے ہے کہ ” وہ “ دیکھ رہا ہے۔ نہایت ہی بہترین انداز میں اور دلنشیں اسلوب ہیں۔ حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت جاری رکھے ہوتے ہیں۔ اللہ پر پختہ ایمان لانے اور دل سے ہر قسم کے شرک کا شائبہ تک دور کرنے اور عقیدہ آخرت ثابت کرنے اور اسلامی نظریہ حیات دل میں بٹھانے کے بعد اب وہ اسلامی عقیدے کے تقاضے سامنے لاتے ہیں ، وہ تقاضے یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ رابطہ قائم رکھنے کے لیے نماز پڑھیں ، یہ معراج المومنین ہے۔ لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کیلئے ان کو اسلام کی دعوت دیں۔ جو بھی دعوت دیتا ہے اسے مشکلات پیش آتی ہیں ، اس لیے مشکلات پر صبر کرو۔
Ayah 31:17یبنی اقم الصلوۃ ۔۔۔۔۔۔ من عزم الامور (17) یہ اسلامی نظریہ حیات کا راستہ ہے کہ اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھنا ، یہ شعور پیدا کرنا کہ وہ دیکھ رہا ہے۔ اس بات کا متمنی ہونا کہ اصل اجز اس کے پاس ہے۔ اس پر بھروسہ کرنا کہ وہ عدل کرے گا اور اس کے عذاب سے ہر وقت ڈرنا اور اس کے بعد لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینا ، ان کی اصلاح کرنا اور ان کو معروف کا حکم دینا اور منکر سے روکنا اور ان تمام امور سے قبل اپنے آپ کو کفر کے ساتھ معرکہ آرائی کے لیے تیار کرنا اور اس راہ میں مادی تیاری سے زیادہ اہم تیاری اخلاقی تیاری ہے۔ اور وہ اقامت صلوٰۃ اور اس کے بعد پیش آنے والی مشکلات پر صبر ، کیونکہ لوگ دعوت کے مقابلے میں کج روی اختیار کرتے ہیں۔ دعوت کے ساتھ عناد رکھتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں۔ اذیت میں لسانی اذیت اور دست درازی کی دونوں اذیتیں شامل ہیں۔ مال کی آزمائش اور جان کی آزمائش۔
ان ذلک من عزم الامور (31: 17) ” یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے “۔ عزم الامور کا مفہوم ہے راستے میں تردد ہونے کے بعد جب کوئی کسی طرف عزم کرلیتا ہے اور پھر راستہ طے کرتا ہے۔ اب حضرت لقمان اپنی نصیحت کو نطریات و عبادات کے بعد اخلاقیات کی حدود میں داخل کرتے ہیں۔ جو کسی بھی داعی کا بہترین زادراہ ہے کیونکہ دعوت الی اللہ دینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان دوسروں کو حقیر سمجھے اور اپنے آپ کو برتر سمجھے اور پھر دعوت دیتے وقت اگر امیر بن جائے تو وہ لوگوں پر اپنی قیادت مسلط کرے اور اگر ایک آدمی دعوت الی الخیر کا کام بھی نہیں کرتا اور پھر بھی وہ بڑا بنتا ہے اور لوگوں سے اونچا رہتا ہے تو یہ بہت ہی زیادہ قبیح حرکت ہے۔
Ayahs 31:18–19ولا تصعر خدک ۔۔۔۔۔ لصوت الحمیر (18 – 19) صعر ایک بیماری ہے جب اونٹ کو لگ جاتی ہے تو وہ اپنی گردن ٹیڑھی کرلیتا ہے۔ قرآن کریم مغرور شخص کے فعل کو صعر کے ساتھ تشبیہ دے کر اس سے لوگوں کو متنفر کرنا چاہتا ہے۔ کبر اور سرتابی کے عمل کو صعر کہا گیا یعنی اپنے رخساروں کو لوگوں سے کبر و غرور کی وجہ سے پھیر دینا۔ زمین پر اکڑ کر چلنے کے معنی ہیں غرور اور استکبار کے ساتھ چلنا۔ بھولا ہوا اور لوگوں کو کچھ نہ سمجھنے والا ، یہ ایسی حرکت ہے جسے اللہ بھی مکروہ سمجھتا ہے اور لوگ بھی اسے برا سمجھتے ہیں۔ ایسا شخص اپنے بارے میں اونچا خیال رکھتا ہے اور اپنی رفتار میں اس کا اظہار کرتا ہے۔
ان اللہ لا یحب کل مختال فخور (31: 18) ” اللہ کسی خود پسند اور فخر جتلانے والے کو پسند نہیں کرتا “۔
اکڑ کر چلنے کی ممانعت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا کہ اعتدال کے ساتھ چلو۔
واقصد فی مشیک (31: 19) ” اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو “۔ قصد سے مراد میانہ روی ہے۔ یعنی وہ اقتصادی پالیسی جس میں اسراف نہ ہو ، کیونکہ جو شخص اکڑ کر چلتا ہے ، گردن مروڑ کر چلتا ہے اور اپنے آپ کو اونچا سمجھتا ہے وہ اپنی قوت کو ضائع کرتا ہے۔ گویا اسراف کرتا ہے۔ قصد سے مراد ارادہ بھی ہوسکتا ہے یعنی تمہارے چلنے کی حرکت بامقصد ہو اور تمہاری منزل متعین ہو۔ اور کڑ کو خود پسندی سے چلنے والا شخص ماسوائے دکھاوے کے اور اپنے ذہن میں بڑائی کے کوئی اور مقصد نہیں رکھتا اور یہ کوئی مقصد نہیں ہے ، یعنی اگر چلتے ہو تو کسی مقصد سے سادہ طریقے سے چلو۔ دھیمی آواز میں شائستگی ہوتی ہے۔ اس میں جو شخص بات کرتا ہے وہ اعتماد سے بات کرتا ہے اور اسے اپنی بات کی سچائی کا یقین ہوتا ہے۔ اونچی اور گرجدار آواز سے بات کرنے والا شخص عموماً بےادب ہوتا ہے یا اسے اپنی بات پر یقین نہیں ہوتا۔ یا وہ اپنی شخصیت کی کمزوری کو شور و شغب میں چھپانا چاہتا ہے۔ جھوٹا شخص ہمیشہ جوش و خروش دکھاتا ہے۔ قرآن کریم کا اپنا اسلوب ہے ، یہاں بےمقصد اونچی آواز کی قباحت کو ظاہر کرنے کے لیے ایک نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور احمقانہ صورت پیش کی جاتی ہے۔
ان انکر الاصوات لصوت الحمیر (31: 19) ” سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے “۔ یوں ہر اونچی آواز کو دگدھوں کی آواز سے تشبیہ دے کر ، اسے قابل نفرت بنا دیا گیا اور یوں ہر عقلمند اور مہذب شخص اسے حقیر اور قابل نفرت سمجھنے لگتا ہے۔ یہ حقارت آمیز تصویر جس شخص کی نظروں میں ہو ، وہ کبھی بھی گدھوں کی آواز کی طرح آواز نہیں نکالے گا۔ یوں یہ دوسرا سفر ختم ہوتا ہے جس کے اندر پہلے ہی مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔ یہ بحث نہایت ہی متنوع اور جدید سے جدید اسلوب میں کی گئی ہے ، قرآن کے اپنے انداز تصویر کشی میں۔
Ayah 31:20درس نمبر 186 تشریح آیات
20 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 34
یہ اس سورة کا تیسرا راؤنڈ ہے۔ اس کا آغاز تکوینی دلیل کے بیان سے ہوتا ہے جس کا تعلق لوگوں سے اور ان کی زندگی کی سہولیات و مفادات سے ہے کہ اللہ نے ان پر کیا کیا انعامات کیے ، جو ظاہر بھی ہیں اور باطن بھی ہیں ، جن سے وہ رات اور دن فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن ان کے باوجود انہیں شرم نہیں آتی کہ وہ ایسے منعم ، فضل و کرم کرنے والے ، داتا کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور اس کے بعد وہی مسئلہ توحید بیان ہوتا ہے جو اس سے قبل دونوں اسفار میں بیان ہوا۔
الم تروا ان اللہ ۔۔۔۔۔۔ الی عذاب السعیر (20 – 21)
” ۔
یہ وہ نظارہ ہے جسے ہم روز دیکھتے ہیں۔ جسے قرآن کریم بار بار نقل کرتا ہے اور ہر بار منظر کائنات پڑھنے والے کو نیا نظر آتا ہے کیونکہ یہ عظیم کائنات اور اس کے کسی پہلو پر بھی اگر غور کیا جائے ، جب بھی غور کیا جائے اور اس کے اسرار و رموز پر تدبر کیا جائے اور اس کے عجائبات دیکھے جائیں تو یہ نیا نظر آتا ہے۔ اور اس کے اسرار اور عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ انسان اپنی محدود عمر میں وہ پوری معلومات حاصل نہیں کرسکتا۔ جب بھی کوئی دریافت ہوتی ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے اور جب بھی ہم از سر نو غور کرتے ہیں اسے جدید پاتے ہیں۔
یہاں قرآن کریم اس کائنات کے اس پہلو کو پیش کرتا ہے کہ اللہ نے یہ کائنات ہمارے لیے مسخر کردی ہے اور یہ ہر طرف سے انسانی ضروریات کو پورا کر رہی ہے۔ پھر جب اس کائنات کے اندر پائے جانے والی تمام چیزوں کا تجزیہ کیا جائے تو اس کی ترکیب بڑی عجیب ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے کسی مدبر انجینئر نے بنایا ہے اور یہ یونہی اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوگئی۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ ایک ارادہ اس پوری کائنات کے پیچھے کام کر رہا ہے اور وہ اللہ مدبر ہے ، جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کائنات کی تمام چیزوں کو انسان کی خدمت میں لگا دیا اور پھر اس کرہ ارض کی تو ہر چیز کو خدمت انسان میں لگا دیا۔
جہاں تک اس ہولناک کائنات کا تعلق ہے ، یہ زمین اس کا ایک چھوٹا سا ذرہ ہے اور اس زمین پر پھر انسان ایک چھوٹی سی ضعیف مخلوق ہے بمقابلہ حجم زمین اور بمقابلہ ان قوتوں کے جو اس زمین کے اندر قدرت نے رکھی ہیں جو زندہ بھی ہیں اور مردہ بھی ہیں۔ ان قوتوں کے مقابلے میں انسان اپنے حجم ، طاقت اور وزن کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں۔ لیکن اللہ نے انسان کو فضیلت دی اور اس کے جسم میں اپنی روح پھونکی اور اسے اپنی مخلوقات کے ایک بڑے حصے پر فضیلت دے دی۔ اللہ کا یہ فضل و کرم ہی تاھ جس کا تقاضا یہ ہوا کہ اس مخلوق کی اس کرہ ارض پہ اہمیت ہو۔ اور اس کا سب مخلوق سے بلند مقام ہو۔ اس کے اندر یہ قوت اور صلاحیت ہو کہ وہ اس دنیا کے وسائل کو کام میں لائے اور اس کے اندر یہ قوت اور صلاحیت ہو کہ وہ اس دنیا کے وسائل کو کام میں لائے اور اس کے قدرتی ذخائر کی تلاش کرے۔ اس آیت میں جس تسخیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، وہ یہی ہے کیونکہ تسخیر کائنات ہی میں اللہ کی ظاہری اور پوشیدہ نعمتوں کا شمار ہوتا ہے۔ یہ تسخیر اس کے علاوہ ہے جو اللہ نے سماوات کی قوتوں کو بھی انسان کے لیے مفید بنایا ہے۔ انسان کا وجود ہی اللہ کا فضل ہے اور پھر انسان کو اس قدر قوت و صلاحیت دی جاتی ہے کہ وہ اس کائنات کی سرکش قوتوں کو مسخر کرے۔ یہ اللہ کا دوسرا فضل ہے اور پھر اس کی ہدایت کے لیے رسولوں کو بھیجنا ، اللہ کا مزید فضل ہے۔ ہر وہ سانس جو وہ لیتا ہے ، دل کی ہر دھڑکن جو اس کے جسم میں خون دوڑاتی ہے۔ اس دنیا کا ہر منظر جسے وہ دیکھتا ہے ، ہر وہ آواز جو اس کے کانوں سے ٹکراتی ہے ، ہر وہ خیال جو اس کے ضمیر میں آتا ہے ، ہر نئی فکر جو وہ تخلیق کرتا ہے۔ یہ سب اللہ کے وہ انعامات ہیں جن میں ایک کا شکر بھی انسان اپنی پوری زندگی میں ادا نہیں کرسکتا ۔ یہ سب اللہ کے فضل ہی فضل ہیں۔
اس انسانی مخلوق کے لیے اللہ نے ان تمام قوتوں کو مسخر کیا ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں۔ سورج کی کرنوں کو اس کی خدمت میں لگا دیا۔ چاند کے نور کو اس کے لیے مفید کردیا ، ستاروں سے اس کیلئے سمندروں میں راہنمائی فراہم کی۔ بارش ، ہوا ، پرندے اور چرندے اس کے مفید مطلب بتا دئیے گئے۔ اس کے اندر جو کچھ ہے اس کے لیے مفید اور مسخر ہوگئے۔ یہ تو ہم بڑی سہولت سے دیکھ سکتے ہیں۔ ان پر تو ہمیں رات اور دن تدبر کرنا چاہئے۔ اس طویل و عریض کرہ ارض پر اسے خلیفہ بنایا گیا اور زمین کے تمام خزانوں پر اس کا کنڑول قائم کردیا گیا۔ بعض خزانے ظاہر ہیں اور بعض باطن ہیں۔ بعض ایسے ہیں جن کے آثار و اثرات اس کے ادراک میں ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو ابھی اس کے ادراک سے باہر ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ ان سے وہ استفادہ کرتا رہا لیکن اسے ان کا علم ہی نہ تھا۔ غرض انسان ہے کہ رات اور دن کے ہر لمحے میں اس پر اللہ کے فضل و کرم کی بارش ہو رہی ہے اور وہ اللہ کی رحمتوں میں غرق ہے لیکن اسے معلوم نہیں کہ ان رحمتوں کی انتہا کیا ہے۔ اس کے انواع و اقسام کیا کیا ہیں لیکن ان سب امور کے باوجود لوگوں میں سے ایک فریق ایسا ہے جو اللہ کی ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا ، ان پر غور نہیں کرتا ، اپنے ماحول میں غوروفکر کرکے یقین نہیں رکھتا۔
ومن الناس ۔۔۔۔۔ ولا کتٰب منیر ( 2:31 ) ” اس کے باوجود حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی علم ہو یا کوئی ہدایت یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب “۔
اللہ کے بارے میں یہ مجادلہ عجیب و غریب معلوم ہوتا ہے جبکہ یہ کائنات اور اس کی بوقلمونیاں ہمارے سامنے ہیں اور ان وافر نعمتوں کی تعداد ہی ہمیں معلوم نہیں ۔ ایسے حالات میں یہ انکار اور یہ تکذیب نہایت قبیح ، نہایت مذموم ، قابل نفرت اور فطرت کے خلاف ہے ۔ اور انسان اگر غور کرے تو مارے خوف کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا یہ انکار کرنے والا شخص دراصل فطرتاًمخرف ہے ۔ اس کے اندر فطری بگاڑ پیدا ہوگیا ہے ۔ وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کی پکار کو نہیں سن رہا ہے اور وہ اس قدر جری اور بےشرم ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ایسے منعم کے بارے میں گستاخی کرتا ہے ۔ پھر اس شخص کا یہ مجادلہ اور یہ انکار کسی علم سائنس پر بھی مبنی نہیں ہے ۔ محض جہالت پر مبنی ہے۔ پھر ایسے شخص کے پاس نہ کوئی کتابی ثبوت ہے اور نہ دلیل منیر ہے ۔
Ayah 31:21واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔۔ علیہ اباءنا (31: 21) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا “۔ یہ ہے ان کی واحد دلیل جو وہ اپنے رویے پر پیش کرسکتے ہیں ۔ یہ بھی عجیب دلیل ہے ۔ پتھر جیسی جامد تقلید ، جو نہ علم پر مبنی ہے ، نہ کسی نظریہ پر مبنی ہے ۔ یہی وہ تقلید ہے جس سے اسلام انسانیت کو چھڑانا چاہتا ہے ۔ ان کی عقل کو آزادی دیتا ہے کہ وہ آزادانہ غور دفکر کریں اور انسان کے اندر بیداری ، حرکت اور روشنی پھیلانا چاہتا ہے لیکن انسان ہیں کہ وہ اپنے ماضی کے آثار سے منحرف ہوگئے ہیں اور مویشیوں کی طرح اپنے آپ کو ایک ستون سے باندھا ہوا ہے اور بیڑیاں ازخود پہن رکھی ہیں ۔
اسلام تو دراصل ضمیر کی مزیت اور شعور کی مزیت کا نام ہے ۔ وہ نور کی تلاش میں آگے بڑھتا ہے ۔ وہ زندگی کا ایسا نظام ہے جس میں کوئی تقلید اور کوئی غلامی اور جمود نہیں ہے ۔ لیکن انسوس ہے کہ یہ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور اپنی روح سے اس آزادی کو پرے پھینکتے ہیں اور اللہ کے بارے میں بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی کتاب منیر کے مجادلہ کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے اور ان کے موقف کی ایک خفیہ خطر ناکی بیان کو دی جاتی ہے ۔
اولو کان ۔۔۔۔۔ عذاب السعیر (31: 21) ” کیا یہ انہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان انیں بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف کیوں نہ بلاتاہو “۔ انہوں نے جو یہ موقف اختیار کو کررکھا ہے تو وہ شیطان کی دعوت پر اختیارکر رکھا ہے تاکہ وہ انہیں جہنم کی آگ تک پہنچادے ۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر شیطان انہیں جہنم کی طرف لے جارہا ہے تو پھر بھی یہ اس کی تقلید کریں گے ۔ یہ نہایت ہی احساس دلانے والی چٹکی ہے ۔ نہایت ہی بیدار کرنے والی اور ڈرانے والی ۔ خصوصاً اس عظیم کائنات دلیل کے بعد ۔
اس ہٹ دھرمی پر مبنی جدہل اور یہ دلیل جھگڑے کے حوالے سے ۔ اب ان کو بتایا جاتا ہے کہ ان کے لیے مناسب طرز عمل کیا ہے اور اس کائناتی دلیل اور اللہ کے وسیع انعامات کے بعد انہیں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔
Ayah 31:22ومن یسلم ۔۔۔۔۔ واقبۃ الامور (22) ” “۔
یعنی پوری طرح اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردینا اور اس کے ساتھ حسن عمل اور حسن سلوک کو اپنانا ، یعنی مکمل سپردگی اور اللہ کے فیصلوں پر پوری طرح راضی ہونا ، اللہ کے احکام ، ہدایات اور فرائض میں رنگ جانا ، اس شعور اور یقین کے ساتھ کہ اللہ کی رحمت ہمارے شامل حال ہے اور اللہ ہر وقت نگہبان ہے ۔ اس کا وجد ان اللہ کی رضا مند کو پاتا ہو اور وہ اس سپر دگی میں اپنے ساتھ پوری کا ئنات کو سربسجود سمجھتا ہو ۔ یہ سب اشارات اپنے چہرے کو اللہ کے حوالے کرنے کے لفظ کے اندر موجود ہیں ۔ چہرہ دراصل نہایت ہی مکرم حصہ ہے وجود انسانی کا ۔
ومن یسلم وجھہ ۔۔۔۔۔۔ بالعروۃ الوثقٰی (31: 22) ” جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے اور عملاً وہ نیک ہو ، اس نے فی الواقع ایک بھروسے کے قابل سہارا تھام لیا “۔ یعنی وہ رسی جو نہیں کٹتی۔ جو کبھی ڈھیلی نہیں پڑتی۔ جو کچھ اس شخص کو دھوکہ نہیں دیتی جو اسے پکڑتا ہے۔ مراد وہ سہارا ہے جسے اسنان تھام لیتا ہے یعنی جو شخص اللہ کے سپرد ہوجائے وہ سمجھے کہ وہ مشکل ترین حالات میں ، تاریک راتوں میں ، سخت مشکلات میں ، سخت آندھیوں میں ، کبھی بےسہارا نہ ہوگا۔
یہ مضبوط سہارا وہ یقین ہے اور وہ گہرا رابطہ ہے جو بندہ مومن اور اس کے رب کے درمیان ہوا کرتا ہے۔ ایسا شخص ہر حال میں مطمئن ہوتا ہے اور اس پر جو مشکلات بھی آئیں وہ انہیں برداشت کرتا ہے۔ نہایت اطمینان اور نہایت وقار کے ساتھ۔ بڑے بڑے واقعات اور حادثات میں وہ باوقار رہتا ہے اور مشکلات کو برداشت کرتا ہے۔ نیز وہ اگر خوشحال ہوتا ہے تو بھی وہ آپے سے باہر نہیں ہوتا اور اعتدال اور سنجیدگی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ اسی طرح اگر اس پر اچانک کوئی بحران آجائے تو وہ حواس باختہ نہیں ہوتا اور نہ خدا کے راستے میں آنے والی گوناگوں مشکلات میں پریشان ہوتا ہے۔
دعوت اسلامی کا سفر طویل اور خطرات سے پر ہے۔ اس میں محرومیوں اور مشکلات بھی خطرناک ہوتی ہیں لیکن خوشحالی اور مالداری اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ مصیبت بھی آزمائش اور عافیت بھی آزمائش۔ لہٰذا ایسے سہارے کی اس راہ میں ہر وقت ضرورت ہوتی ہے جو کبھی ڈھیلا نہ ہو۔ ایسی رسی کی ضرورت ہوتی ہے جو ٹوٹ نہ جائے اور یہ ضرورت ہر وقت رہتی ہے۔ یعنی مضبوط سہارے کی اور یہ مضبوط سہارا کیا ہے ؟ اسلام لانا ، اللہ پر یقین کرنا ، اس کے سپرد ہوجانا اور راہ احسان اختیار کرنا۔ پھر انجام اللہ کے ہاتھ میں دے دینا۔
والی اللہ عاقبۃ الامور (31: 22) ” اور سہارے معاملات کا آخری فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے “۔ یعنی اسی کی طرف لوٹنا ہے اور آخری مرجع وہی ہے تو مناسب ہے کہ انسان پہلے سے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دے اور اس کی طرف نہایت روشن اعتماد اور قرآن و سنت کی ہدایت کے مطابق راستے طے کرتا رہے۔