Ayahs 31:23–24ومن کفر فلا ۔۔۔۔ عذاب غلیظ (23 – 24) ” ۔ “۔
وہ تو تھا انجام ان لوگوں کا جو اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے سپرد کردیں اور یہ ہے انجام ان لوگوں کا جو کفر اختیار ہی نہ دیں گے۔
ومن کفر فلا یحزنک کفرہ (31: 23) ” اور جو کفر کرتا ہے ، اس کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے “۔ ان کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ جو سرور کونین ہیں ان کیلئے پریشان ہوں ۔ یہ تو بہت ہی حقیر و صغیر ہیں اور آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی زیادہ حقارت آمیز ہونے والا ہے۔ یہ اللہ کے قبضے میں ہیں۔ یہ اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ اللہ ان کو ان کے اعمال کے بدلے پکڑے گا ، وہ ہر شخص کے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے ، خواہ ظاہر ہو یا خفیہ ہو ، یا اس کے سینے میں ہو یا اس کی نیت میں ہو۔
الینا مرجعھم ۔۔۔۔۔ بذات الصدور (31: 23) ” انہیں پلٹ کر آنا تو ہمارے ہی طرف ہے۔ پھر ہم انہیں بتا دیں گے کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ یقیناً اللہ سینوں میں چھپے ہوئے راز جانتا ہے “۔ زندگی کا سازوسامان جو انسان کو فریب دیتا ہے ایک مختصر عرصے کے لیے ہے اور نہایت ہی کم قیمت ہے۔
نمتعھم قلیلا ۔۔۔۔۔ عذاب غلیظ (31: 24) ” ہم انہیں تھوڑی مدت اس دنیا میں مزے کرنے کا موقعہ دے رہے ہیں ، پھر ان کو بےبس کرکے ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے “۔ تھوڑے دن تو مزے کریں گے ، پھر خوفناک عذاب سے دو چار ہوں گے اور انہیں اس عذاب کی طرف دھکیل کرلے جایا جائے گا۔ عذاب کی تعریف میں غلیظ کا لفظ آیا ہے اور اس کے ذریعے عذاب کو مجسم کردیا گیا ہے۔ اور اضطرار کے معنی میں کفار کی بےبسی کا اظہار کیا گیا یعنی وہ اس عذاب سے اپنے آپ کو بچانہ سکیں گی اور نہ لیت و لعل کرسکیں گے۔ یہ تو تھا کافروں کا حال لیکن جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلے اور اپنے رخ کو اللہ کے سپرد کر دے اور سنجیدہ اور مطمئن ہوکر رب تعالیٰ کی طرف چل پڑے وہ نہایت ہی اعلیٰ مقام پر ہوگا بمقابلہ کافر کے۔
اب ان کو خود ان کی فطرت کی منطقی دلیل سے دو چار کردیا جاتا ہے ، جب ان کے سامنے یہ عظیم کائنات رکھ دی جاتی ہے اور سوال یہ ہے کہ آیا اس کا کوئی خالق ہے یا نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ ہے کیونکہ ذات باری تو انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اس کے سوا اس کائنات کی اور کوئی تعبیر ہی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ لوگ فطرت کی اس سادہ منطق سے بھی کجی اختیار کرتے ہیں اور اسے بھی بھلا دیتے ہیں حالانکہ اس سے اور کوئی قوی اور درست دلیل نہیں ہے۔
Ayahs 31:25–26ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ ھو الغنی الحمید (25 – 26) ” ۔ ۔
کوئی معقول انسان جب خود اپنے دل سے پوچھے کہ آخر اس کائنات عظیم کا خلاق کون ہے تو وہ یہی جواب پائے گا کہ اللہ۔ یہ جواب ہر شخص اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ یہ زمین اور یہ افلاک ہماری نظروں کے سامنے قائم ہیں ، ان کے حالات ، ان کے حجم ، ان کی حرکات ، ان کی دوریاں ، ان کے خواص اور ان کی صفات سب کے سب اندازہ کیے ہوئے ، صحیح اور متعین اور باہم نظم اور نسق میں پروئے ہوئے۔ پھر یہ مخلوق ہیں اور کوئی مدعی بھی نہیں ہے کہ ان کا وہ خالق ہے۔ نہ یہ کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے ان کا اور یہ بھی عقلا ممکن نہیں ہے کہ یہ عظیم کائنات خود بخود یونہی پیدا ہوگئی ہے۔ پھر یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کسی مدبر کا ہونا لازم ہے۔ جو شخص اس کا قائل ہے کہ یہ خود بخود وجود میں آگئی ، خود بخود قائم ہوگئی اور منظم ہوگئی محض اتفاقاً ، تو اس سے بڑا احمق اور کوئی نہیں ہے۔ اس قسم کے قول کو فطرت اپنی گہرائیوں کے ذریعہ مسترد کردیتی ہے۔
وہ لوگ جو اس دور میں عقیدہ توحید کا مقابلہ کر رہے تھے اور نبی ﷺ کی دعوت کا راستہ روکے کھڑے تھے سخت مجادلہ کر رہے تھے ۔ یہ لوگ خود اپنی فطرت کے شعور اور منطق کا مقابلہ نہ کرسکتے تھے ، جب ان کے سامنے یہ کائنات اور اس کی موجودگی کو رکھا جاتا تھا ، جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھی اور صرف دیکھنے کی ضرورت تھی۔ اس لیے وہ اس سوال کے جواب میں کوئی تردد نہ کرتے تھے۔ جب پوچھا جاتا کہ ” زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو وہ فوراً کہہ دیتے “ اللہ نے “۔ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس جواب کے جواب میں بس اللہ کی حمد کریں ” الحمدللہ “۔ الحمدللہ کہ ان پر حق واضح ہوگیا اور انہوں نے فطری منطق کو تسلیم کرلیا۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ اس کائنات کی تخلیق کی حد تک موحد ہوگئے۔ اس کے سوا ہر حال میں حمد و ثنا کرتے رہو۔ اب جدال و مباحثہ کو چھوڑ کر ایک دوسرا تبصرہ۔
بل اکثرھم لا یعلمون (31: 25) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ بحث اور مجادلہ کرتے ہیں۔ دلائل فطرت کو نہیں سمجھتے اور اس عظیم کائنات کے ہوتے ہوئے بھی عقیدہ توحید کے قائل نہیں۔ انہوں نے چونکہ زمین اور آسمان کی تخلیق کی حد تک اللہ کی وحدانیت کو مان لیا ہے اس لئے اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ خالق ہونے کے ناطے اس کائنات کا مالک مطلق بھی ہے۔ اس حصے کا بھی جسے انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے اور اس حصے کا بھی جسے مسخر نہیں کیا گیا۔ لیکن وہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ساری مخلوق سے غنی ہے اور وہ اپنی ذات میں خود محمود ہے اگرچہ لوگ اس کی حمد و ثنا نہ کریں۔
للہ ما فی السموت والارض ان اللہ ھو الغنی الحمید (31: 26) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ بیشک اللہ بےنیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔ یہ سفر اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ غنا ختم ہونے والی نہیں۔ اللہ کا علم لامحدود ، اس کی قدرت بےانتہا اور اس کی مشیت کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ تمام مخلوق پر وہ قادر ہے اور یہ بات ایک کائناتی منظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔
Ayahs 31:27–28ولو ان ما فی الارض ۔۔۔۔۔۔۔ ان اللہ سمیع بصیر (27 – 28)
یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسانوں کی معلومات اور ان کے محدود مشاہدات سے لیا گیا ہے تاکہ اللہ کی مشیت کے لامحدود کارناموں کو ان کے تصور کے قریب کردیا جائے۔ اس تمثیل اور مجسم انداز کے بغیر انسانی تصور اس کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تھا۔
انسان اپنے علم کو لکھتے ہیں اور اپنے اقوال کا ریکارڈ کرتے ہیں ، اپنے احکام کو نافذ کرتے ہیں اور قلموں کے ذریعے وہ لکھتے ہیں۔ یہ قلمیں جنگلوں اور کلک سے بناتے ہیں اور پھر سیاسی بنا کر اس سے لکھتے ہیں۔ یہ سیاہی ایک شیشی یا ایک دوات میں ہوتی ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ پوری زمین کے درختوں سے قلمیں بنا دی جائیں اور تمام سمندروں کے پانی کو سیاہی میں بدل دیا جائے اور ان جیسے سات اور سمندر بھی لے آئے جائیں اور لکھنے والے بیٹھ جائیں۔ اللہ کے نئے نئے کلمات جو اللہ کے علم پر دلالت کرتے ہوں تو یہ سب سمندروں کی روشنائی ختم ہوجائے اور اللہ کے کلمات علمیہ ختم نہ ہوں اور اللہ کے علم کی انتہا نہ ہو۔ اس لیے کہ ایک محدود قوت لا محدود کو احاطہ میں لانا چاہتی ہے۔ محدود قوت جس قدر بھی آگے جائے ، بہرحال اس کی قوت ایک جگہ جاکر ختم ہوجاتی ہے اور لامحدود و غیر محیط ہی رہتا ہے۔ غرض اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوتے کیونکہ اللہ کا علم لامحدود ہے۔ اللہ کا ارادہ کسی سرحد پر نہیں رکتا۔ اور اللہ کی مشیت کے حدود وقیود نہیں ہیں۔
درخت اور سمندر غائب ہوجاتے ہیں ۔ تمام زندہ چیزیں اور تمام مردہ چیزیں غائب ہو کر ختم ہوجاتی ہیں۔ تمام حالات اور صورتیں پس پردہ چلی جاتی ہیں اور انسانی دل ، اللہ کے جلال اور قدرت کے سامنے سہما ہوا رہ جاتا ہے۔ وہ قدرت جو نہ پھرتی ہے ، نہ بدلتی ہے اور نہ غائب ہوتی ہے۔ اللہ خالق اور قوی اور مدبر اور حکیم کے سامنے انسان دنگ رہ جاتا ہے۔
ان اللہ عزیز حکیم (31: 27) ” بیشک اللہ زبردست اور حکیم ہے “۔ اس سفر میں ہم ہولناک منظر کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں اور اب انسانی فکر و نظر کی تاروں پر آخری مضراب ! بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے تمام لوگوں کا دوبارہ اٹھانا بہت ہی آسان ہے۔
ما خلقکم ولا بعثکم ۔۔۔۔۔ سمیع بصیر (31: 28) ” تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جلا اٹھانا تو بس ایسا ہی ہے جیسے ایک نفس کو پیدا کرنا اور اٹھانا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے “۔ وہ ارادہ جس کے متوجہ ہوتے ہی مخلوق پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے برابر ہے کہ وہ ارادہ ایک چیز کی طرف متوجہ ہو یا بیشمار چیزوں کی طرف متوجہ ہو۔ اللہ کے لیے یہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایک آدمی کو بناتا پھرے اور ایک ایک آدمی پر محنت کرے۔ اس کے لیے ایک آدمی کا پیدا کرنا اور بیشمار ملین لوگوں کا پیدا کرنا اور ہی طرح کا ہے۔ ایک شخص کا زندہ کرکے اٹھانا اور بیشمار بلین لوگوں کو اٹھانا اللہ کے لیے ایک ہی جیسا ہے۔ اللہ نے تو صرف ایک لفظ کن کہنا ہے۔
انما امرہ اذا ۔۔۔۔۔۔ فیکون ” اس کا حکم ، جب وہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے ، تو یہ ہوتا ہے کہ اسے کہہ دے کہ ہوجا ، بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اس قدرت ، اس علم ، اور اس مہارت کے ساتھ تخلیق اور بعث بعد الموت اور حساب و کتاب کا عمل سر انجام دیا جائے گا۔ ان اللہ سمیع بصیر (31: 28) ” اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے “۔
اب اس سورة کا تیسرا سفر یا تیسرا راؤنڈ ہے۔ اور اس میں بھی وہی مسئلہ توحید زیر بحث ہے جو پہلے دو اسفار میں تھا۔ فیصلہ ہوتا ہے کہ اللہ حق ہے۔ لوگ جن شرکاء کو پکارتے ہیں وہ باطل ہیں ، عبادت صرف اللہ وحدہ کی چاہئے۔ قیامت کے دن کے بعد جو حساب و کتاب ہوگا اس میں نہ والد اپنی اولاد کا فدیہ دے سکے گا اور یہ ہی بچہ اپنے والدیں کی طرف سے کوئی بدلہ دے سکے گا۔ ان فیصلوں کے ساتھ کئی دوسرے اور جدید ایشوز نہایت موثر انداز میں لیے گئے ہیں۔ یہ سب مسائل بھی اس کائنات کے فریم و رک میں زیر بحث آتے ہیں۔
Ayahs 31:29–30الم تر ان اللہ ۔۔۔۔۔۔ وان اللہ ھو العلی الکبیر (29 – 30)
رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا ، ان کا باہم متضاد ہونا اور مختلف موسموں میں ان کا لمبا اور چھوٹا ہونا ایک عجیب منظر ہے۔ لیکن سالوں سے اسے دیکھتے چلے جانا اور بار بار ایسا ہونا انسانوں کو اس سے مانوس کردیتا ہے اور اکثریت اس اعجوبے کو دیکھتے ہوئے بھی اس کو محسوس نہیں کرتی۔ حالانکہ وہ نہایت ہی باریکی کے ساتھ اور کڑے نظم کے ساتھ واقعہ ہو رہا ہے اور اس میں سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آتا۔ اس میں کوئی خلل نہیں آتا۔ کبھی ایک بار بھی۔ یہ مسلسل دوران زمین اور دوران کر ات ، جس میں کوئی کرہ اپنے مدار سے نہ ادھر ادھر ہوتا ہے اور نہ رکھتا ہے۔ ایک عظیم اعجوبہ ہے۔ صرف اللہ وحدہ کی ذات ہی اس قسم کے نظام کو وجود میں لاسکتی ہے اور چلا سکتی ہے اور حفاظت سے رکھ سکتی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک صرف افلاک سماوی اور کر ات فلکی کے مدارات ہی کے مشاہدے سے ہوجاتا ہے۔
رات اور دن کے اس تغیر کا تعلق شمس و قمر کے دوران سے بھی واضح ہے۔ شمس و قمر کو مسخر کرکے فضا میں رکھتا ، روز و شب کے ظہور سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ ان کے لمبے چھوٹے ہونے سے بھی زیادہ عجیب۔ اس عظیم نظام کو صرف اللہ ہی مسخر کرسکتا ہے جو مدبر وخبیر ہے ، وہی ہے جو ان چیزوں کو وقت معلوم تک صحیح اندازے سے چلا سکتا ہے۔ رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا تو اس پوری کائنات کا ایک معمولی حصہ ہے۔ شمس و قمر کی تسخیر بھی ایک واضح حقیقت ہے ، شمس و قمر کی اہمیت ایک عام آدمی کے لیے یہ ہے کہ یہ دونوں اجرام فلکی انسان کے سامنے اور قریب ہیں ورنہ کائنات میں تو یہ بھی ذرے اور حقیر ذرے ہی ہیں۔ اس عظیم علم اور انتظام کے بعد پھر :
ان اللہ بما تعملون خبیر (31: 29) ” جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے “۔ یہ تو ایک معمولی سی بات ہے۔ ان کائناتی حقائق کے بعد یہ غیبی حقیقت بہت ہی چھوٹی ہے اور اللہ کے لیے اس کا کرنا مشکل نہیں۔ یہ دونوں حقائق باہم مربوط ہیں۔ گردش لیل و نہار ، تسخیر و شمس و قمر اور اللہ کے علیم وخبیر ہونا ، ان تین حقائق کے بعد ایک عظیم حقیقت بیان کی جاتی ہے جس کے اوپر ان تینوں حقائق کا دارومدار ہے اور اس عظیم حقیقت کو اس سفر میں بیان کیا گیا ہے اور اس کے لیے یہ دلیل دی گئی ہے۔
ذلک بان اللہ ھو الحق ۔۔۔۔۔۔ العلی الکبیر (31: 30) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اسے چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ سب باطل ہیں ، اور (اس وجہ سے کہ) اللہ ہی بزرگ و برتر ہے “۔ ” یہ “ یعنی یہ نظام کائنات جو بہت ہی پیچیدہ ، باریک دائم ، ثابت اور نہایت ہی ہم آہنگ ہے۔ یہ نظام اس لیے قائم ہے کہ اللہ حق ہے اور اللہ کے سوا تمام دوسرے معبود الٰہ باطل ہیں ۔ یہ نظام کائنات حقیقت کبریٰ کی وجہ سے قائم ہے اور حقیقت کبریٰ اللہ واجب الوجود ہے جس کی وجہ سے یہ پورا وجود قائم ہے۔ چونکہ یہ کائنات قائم ہے ، لہٰذا اللہ حق ہے اور تبھی یہ کائنات قائم ہے۔ وہی اسے قائم کرتا ہے۔ چلاتا ہے ، حفاظت کرتا ہے اور تدبیر کرتا ہے۔ وہی ہے جو اس کائنات کے قائم رہنے کی ضمانت ہے “ وہی اس کے قرار ربط اور نظم کا سبب ہے۔
ذلک بان اللہ ھو الحق (31: 30) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے “۔ اللہ کے سوا ہر چیز متغیر اور متبدل ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز اپنا رخ بدلتی ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز میں زیادتی اور نقصان واقع ہوتا ہے۔ اس کے اوپر ضعف اور قوت ، جوانی اور بڑھاپا ، عروج وزوال ، اقبال و ادبار آتا ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز نہ تھی نہ ہوئی نہ تھی اور نہ ہوگی۔ یہ صرف اللہ ہی ہے جو قائم و دائم ہے۔ اور اس پر کوئی تغیر ، تبدل اور زوال نہیں آتا۔ نفس انسانی کے اندر ایک چیز رہتی ہے اور وہ یہ کہ اللہ کا یہ قول۔
ذلک بان اللہ ھو الحق (31: 30) کی پوری مراد ہم الفاظ میں منتقل نہیں کرسکے۔ اس کا ایک مفہوم ہے اور اس کو محسوس کیا جاتا ہے لیکن میرے لیے اسے الفاظ میں لانا مشکل ہے۔ اسی طرح یہ تعبیر ان اللہ ھو العلی الکبیر (31: 30) اس کے سوا کوئی علی اور کبیر نہیں ہے۔ ان تعبیرات کے بارے میں ، میں نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے جس کو میرا پورا وجود پاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ انسانی تعبیرات میں وہ الفاظ نہیں ہیں کہ ان کے ذریعے ان دو فقروں میں پائے جانے والے حقائق کا اظہار کیا جاسکے۔ یہ بہت ہی بلند حقائق ہیں۔ اللہ حق ہے ، علی ہے ، کبیر ہے۔ انسانی تعبیرات ان مفاہم کو جو ان فقروں سے محسوس کیے جاسکتے ہیں اور محدود کردیتی ہیں۔ اس لیے صرف قرآن کی تعبیر ہی ان کے لیے کافی ہے۔
اس کائناتی منظر ، عالم بالا کے منظر کے بعد ایک دوسرا منظر جو انسانوں کے تجربے اور مشاہدے میں آتا ہی رہتا رہے ، روز و شب انسان ان کے تجربے سے گزرتے ہیں۔ یہ ایک کشتی ہے جو سمندر کی وسعتوں میں تیر رہی ہے۔ یہ بھی اللہ کے فضل و کرم سے تیر رہی ہے۔ اللہ لوگوں کو اس منظر میں ایک خطرناک حالت کے ساتھ کھڑا کردیتے ہیں۔ ایسے مناظر سے اکثر مخاطبین خود گزر چکے ہیں۔ یہ ایک فطری سفر ہے ۔ اس میں انسان قدرت اور قدرتی قوتوں کے اندر گھرا ہوتا ہے۔ اس کے پاس کوئی قوت ، کوئی مقابلہ ، کوئی گرفت اور کوئی غرور نہیں ہوتا۔ جب انسان اس کشتی میں سفر کر رہا ہوتا ہے اور سمندر کی گہرائیوں میں ہوتا ہے۔
Ayahs 31:31–32الم تران الفلک ۔۔۔۔۔۔ کل ختار کفور (31 – 32)
یہ کشتی ان قوانین قدرت کے مطابق چلتی ہے جو اللہ نے شمندر ، کشتی ، ہوا ، زمین اور آسمانوں میں رکھتے ہیں۔ اللہ نے ان چیزوں کو ان خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا کہ کشتی سمندروں میں چلنے لگی ہے ، نہ ڈوبتی ہے ، اور نہ ایک جگہ منجمد رہتی ہے۔ اگر اس خواص میں سے کوئی بھی خاصیت کسی ایک چیز کی ختم ہوجائے تو کشتی سمندر میں نہ چل سکے۔ اگر پانی کی کثافت ختم ہوجائے یا کشتی کے مادے کی کثافت ختم ہوجائے یا اس کی مقدار میں کمی بیشی ہوجائے۔ ہوا کا دباؤ سمندر پر کم ہوجائے ، ہوا کی موجیں یا سمندر کی موجوں میں ظلل ہوجائے اور اگر وہ درجہ حرارت ختم ہوجائے جس کے مطابق پانی پانی رہتا ہے اور جس کی وجہ سے ہوا اور پانی کی موجیں مناسب حدود میں رہتی ہیں۔ اگر موجودہ حالت سے ایک فیصدی تبدیلی بھی ہوجائے تو کشتی سمندر کے پانیوں کے اوپر نہ تیر سکے۔ ان خواص کے علاوہ دوسرے عوامل کے مقابلے میں اللہ پر کشتی کا حامی و مددگار ہوتا ہے کہ امواج کی سرکشی کو روکتا ہے۔ طوفانوں اور موسمی اثرات سے بچاتا ہے۔ سمندر کی دوریوں میں اللہ کے سوا کوئی اور بچانے والا نہیں ہوتا لہٰذا یہ ہر حال میں اللہ کے رحم و کرم اور فضل و مہربانی کے ساتھ چلتی ہے۔ پھر اس کے اندر اللہ کے فضل کی چیزیں لدی ہوتی ہیں۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ فضل کے یہ دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔
لیریکم من ایتہ (31: 31) ” تاکہ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے جو تمہاری نظروں کے سامنے ہیں۔ بشرطیکہ کوئی دیکھنا چاہے۔ ان میں کوئی اجمال اور اخفا نہیں ہے۔
ان فی ذلک ۔۔۔۔ شکور (31: 31) ” اس میں نشانیاں ہیں ہر صبار اور شکور کے لیے “۔ یعنی مشکلات پر صبر کرنے والا اور سہولیات پر شکر کرنے والا ۔ انسان ہر وقت ان دونوں حالات میں سے کسی ایک میں تو ہوتا ہی ہے۔ لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ نہ صبر کرتے ہیں اور نہ شکر کرتے ہیں۔ جب مصیبت آتی ہے تو چیختے لگتے ہیں اور اگر نجات دے دی جاتی ہے تو چند لوگوں کے سوا شکر نہیں کرتے۔
واذا غشیھم ۔۔۔۔۔ لہ الدین (31: 32) ” اور جب ان پر ایک موج سائبان کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو صرف اس کے لیے خالص کرکے “۔ ایسے حالات میں کہ کشتی گہرے سمندروں میں ایک پرکاہ کی طرح ہوتی ہے اور موجیں ایسی اٹھ رہی ہوتی ہیں جیسے سائبان ، اور کشتی کے اوپر آجاتی ہیں تو ایسے خطرناک حالات میں یہ لوگ جھوٹے خداؤں کو چھوڑ کر ، موہومہ خداؤں کو چھوڑ کر صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ امن وامان کے دنوں میں یہ جھوٹے اور موہوم معبود ان کی فطرت کو ڈھانپ لیتے ہیں اور فطرت اور خالق فطرت کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور حالت خطر میں جب یہ پردے گر جاتے ہیں اور ان کی فطرت پردوں اور تہوں کے نیچے کھلی ہو کر سامنے آتی ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے سیدھی کھڑی ہوتی ہے۔ اپنے رب کی طرف رجوع کرلیتی ہے تو زمین اللہ کے لیے خالص کردیتی ہے۔ اب وہ ہر جھوٹے مدعی کا انکار کردیتی ہے ہر اس معبود
کو ترک کردیتی ہے جو اجنبی ہے اور دین اللہ کے لیے خالص کرکے صرف اسی کو پکارتی ہے۔
فلما نجھم الی البر فمنھم مقتصد (31: 32) ” پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے “۔ اسے امن و سلامتی اور خوشحالی و سرکشی اور حد سے گزرنے کی طرف نہیں بھینچ لاتی۔ اور یہ مسلسل اللہ کا شکر ادا کرتا رہتا ہے۔ اگرچہ یہ ذکرو فکر میں اللہ کا پورا حق ادا نہیں کرتا ، کیونکہ ذاکر و شاکر جن انتہاؤں تک پہنچ سکتا ہے وہ یہی ہو سکتی ہیں کہ وہ ادا میں مقتصد ہو اور باطل سیدھا ہو۔ (لہٰذا مقتصد کا مطلب میانہ روی کا ہے) ۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خطرہ ٹلتے ہی اور حالت امن آتے ہی وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔
وما یجحد بایتنا الا کل ختار کفور (31: 32) ” اور ہماری آیتوں کا انکار وہی شخص کرتا ہے جو غدار اور ناشکرا ہو “۔ ختار ، سخت غدار کو کہتے ہیں اور کفور شدید کفر کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ یہ مبالغہ ایسا ہے کہ جو کسی شخص کا وصف بن جاتا ہے اور یہ الفاظ اس شخص کے لیے بہت ہی مناسب ہیں جو کائنات کی ان لاجواب نشانیوں کو دیکھ کر بھی اور فطرت کی واضح منطق پاکر بھی اللہ کی آیات کا انکار کرتا ہے۔
سمندر کی خوفناکیوں کی مناسبت سے ، جہاں لوگوں کا غرور علم ، غرور قوت اور غرور قدرت کا فور ہوجاتا ہے اور فطرت کے اوپر سے باطل کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور انسان فطری دلائل و نشانات کو اپنے سامنے پاتا ہے۔ ان خوفناکیوں کی مناسبت سے یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ اصل ہولناکیوں کا دن تو قیامت دن ہوگا۔ اس کے مقابلے میں سمندر کی ہولناکیاں کبھی بھی نہیں ہیں۔ وہ ایسا ہولناک دن ہوگا کہ باپ بیٹے کا تعلق ، رحم کا تعلق اور خون کا تعلق بھی ختم ہوگا۔ والد اپنی اولاد کو چھوڑ دے گا اور بیٹا والدین سے بھاگ رہا ہوگا وہاں ہر شخص اکیلا کھڑا ہوگا۔ کوئی مددگار نہ ہوگا اور کوئی سہارا نہ ہوگا۔ تمام رشتہ داریاں اور تعلقات ختم ہوں گے۔
Ayah 31:33یایھا الباس اتقوا ۔۔۔۔۔۔ یغرنکم باللہ الغرور (33) ” “۔ یہ نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ یہاں دنیا میں جو خوف ہوتا ہے دلوں میں اور شعور میں اس کی تو مثال ہوتی ہے۔ لیکن قیامت کا یہ خوف بےمثال ہوگا۔ اس میں تمام رشتہ داری اور خون کے تعلقات ختم ہوں گے۔ والدہ اولاد سے بھاگ رہا ہوگا۔ اور اولاد کو والدین کی پرواہ اور فکر نہ ہوگی۔ ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی ، نفسا نفسی کا عالم ہوگا ، کوئی کسی کی جگہ ضامن نہ ہوگا ، کسی کو بھی خود اس کے اپنے اعمال کے سوا کسی کا عمل فائدہ نہ دے سکے گا۔ ایسے حالات ظاہر ہے کہ ایسے خوف میں ہوں گے جس کی کوئی نظیر اس دنیا میں نہ ہوگی۔ لہٰذا یہاں خدا سے ڈرنے کی دعوت دینا بہت سی برمحل دعوت ہے اور آخرت کا مسئلہ نہایت ہی خوف کے عالم میں پیش ہوا ہے اس لیے و دماغ اس کی طرف متوجہ ہیں۔
ان وعد اللہ حق (31: 33) ” فی الواقعہ اللہ کا وعدہ سچا ہے “۔ نہ اللہ اس کے خلاف کرتا ہے اور نہ اللہ کا کہا ٹل سکتا ہے۔ ہر شخص کو اس بےمثال خوف سے گزرتا ہے اور ہر شخص کو پوری باریکی سے حساب و کتاب دینا ہے۔ ایک عادلانہ فیصلہ سننا ہے جس کے نیتجے میں نہ باپ بیٹے کا بدل ہوگا اور نہ بیٹا باپ کا۔
فلما تغرنکم الحیوۃ الدنیا (31: 33) ” پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے “۔ اس دنیا میں سازو سامان ہے ، لہو و لعب ہے لیکن اس کی مہلت بہت ہی محدود ہے۔ یہاں انسان آزمائش کیلئے بھیجا گیا ہے۔
ولا یغرنکم باللہ الغرور (31: 33) ” اور نہ دھوکہ باز تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے “۔ کوئی سازو سامان تمہیں دھوکا نہ دے۔ کوئی شفل میلہ تمہیں بدراہ نہ کر دے ، کوئی شیطان تمہیں وسوسے میں نہ ڈالے۔ دھوکا باز بہت ہیں ، شیطان بیشمار ہیں اور دنیا کی دلچسپیاں بھی ہر طرف سے دامن کش ہیں۔ مال کا غرور بھی شیطان ہے۔ علم کا غرور بھی شیطان ہے ، قوت کا غرور بھی شیطان ہے اور شیطان پرستی بھی شیطان ہے ، خواہش نفس بھی شیطان ہے۔ شہوت جسمانی بھی شیطان ہے۔ ان تمام شیطانوں سے بچانے والی قوت خوف خدا کی قوت ہے۔
اس سورة کے خاتمے اور اس چوتھے راؤنڈ کے خاتمے پر اور اس خوفناک منظر آخرت کی مناسبت سے فکر و خرد کے تاروں پر یہ آخری اور ذرا شدید مضراب لگتا ہے۔ اس میں اللہ کے علم لامحدود اور انسان کے محدود علم کی تصویر کھینچی جاتی ہے۔ انسان کا علم جس کی دسترس سے ہر وہ چیز غائب ہے جو نظروں سے اوجھل ہو۔ اب اس مسئلے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے جو اس سورة کا موضوع ہے اور یہ نتیجہ قرآن کی عجیب تصویر کشی سے نکلتا ہے ، اللہ کے علم ازلی اور ابدی کی تصویر۔
Ayah 31:34ان اللہ عندہ ۔۔۔۔۔ ان اللہ علیم خبیر (34)
اللہ تعالیٰ نے قیام قیامت کی گھڑی کو ایک ایسا غیب رکھا ہے جس کا علم کسی کو نہیں ہے تاکہ لوگ ہر وقت چوکنے رہیں۔ ہر وقت قیامت کی توقع کرتے رہیں۔ اور ہر وقت یہ کوشش کرتے رہیں کہ اس کے لیے کچھ کمائیں۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ کب قیامت ہوگی۔ بہرحال یہ اچانک آجائے گی اور اس وقت پھر کسی تیاری کی کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ نہ کوئی توشہ جمع کرنے کی اجازت ہوگی۔ اللہ اپنی حکمت کے مطابق جہاں چاہتا ہے ، بارش برساتا ہے ، جس قدر چاہتا ہے ، برساتا ہے۔ لوگ اپنے تجربوں اور آلات و علامات کے ذریعہ بارش کے قریب ہونے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ لیکن وہ نہ بارش برسانے کے اسباب پیدا کرسکتے ہیں اور نہ وقت کا علم رکھتے ہیں۔ آیت میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ بارش اللہ برساتا ہے کیونکہ اللہ ہی ہے جو بارش کے لیے طبیعی اسباب فراہم کرتا ہے اور ان کو منظم کرتا ہے۔ بارش میں اللہ کا اختصاص یہ ہے کہ اللہ ہی ان کے برسانے پر قادر ہے۔ جیسا کہ آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے بارش کے وقت کو اللہ کے مخصوص غیبی علوم میں داخل کیا ہے ، ان کا خیال درست نہیں ہے ، حالانکہ علم دراصل اللہ ہی کا ہوتا ہے اور وہ ہر معاملے میں مختص ہوتا ہے کیونکہ اللہ کا علم ہی صحیح ، دائمی اور حاوی ہوتا ہے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔
ویعلم ما فی الارحام (31: 34) ” وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے “۔ یہ اس طرح کا مخصوص علم ہے جس طرح قیام قیامت کا علم اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے رحم میں کیا ہے۔ یعنی پیٹ کے اندر ہر لحظہ اور ہر لمحہ کیا پرورش ہو رہی ہے۔ خصوصا اس وقت جبکہ حمل کا کوئی وزن اور حجم نہیں ہوتا۔ پیٹ میں مذکر ہے یا مونث ہے ، ابتدائی وقت سے جب خلیہ انڈے میں داخل ہوتا ہے ، اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے خدوخال کیا ہیں۔ خواص کیا ہیں ، حالت کیا اور صلاحیت کیا ہے۔ یہ سب امور اللہ کے علم کے ساتھ مختص ہیں۔
وما تدری نفس ما ذا تکسب غدا (31: 34) ” کوئی متنفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے “۔ اچھائی کمائے گا یا برائی۔ اسے نفع ہوگا یا نقصان۔ آسانی ہوگی یا مشکلات سے دوچار ہوگا۔ صحت مند رہے گا یا بیمار ہوگا۔ اللہ کی اطاعت کرے گا یا معصیت کرے گا۔ اس لیے کہ کسب محض منافع سے بہت عام ہے۔ کسب کے اندر وہ تمام حالات داخل ہیں جو کسی شخص کو پیش آسکتے ہیں۔ یہ ایک غیبی امر ہے جس کے دروازے بند ہیں۔ یہ پردوں کے پیچھے ہے اور انسان پردوں کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے۔ اور وہ نہیں جانتا کہ آگے کیا ہے ؟
وما تدری ۔۔۔۔۔ تموت (31: 34) ” کسی شخص کو خبر نہیں کہ کس زمین پر اسے موت آئے گی “۔ کیونکہ یہ بھی ایک ایسا معاملہ ہے جو پردہ فردا کے پیچھے ہے اور مستقبل کا دبیز پردہ اس کے اور نفس انسانی کے درمیان حائل ہے۔ نفس انسانی ان پردوں سے ادھر کھڑا ہے۔ وہ بےبس ہے ، اسے کچھ معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انسان کا علم کس قدر محدود ہے۔ اس کی بےبسی واضح ہے۔ اس طرح سوچنے سے اس کے ذہن سے علم و معرفت کا غرور ختم ہوجاتا ہے اور اس طرح ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ انسان کو بہت ہی قلیل علم دیا گیا ہے اور یہ کہ پس پردہ فردا بیشمار ایسے امور ہیں جنہیں انسان نہیں جانتا۔ اگر انسان ان پردوں سے ادھر کی تمام چیزوں کو جانتا تو وہ ان پردوں کے پاس کھڑا ہوجاتا اور معلوم کرنے کی کوشش کرتا کہ کل کیا ہوگا۔ لیکن انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ کل کیا ہوگا بلکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔ یوں انسانی نفس اپنی کبرائی سے ذرا نیچے اتر آتا ہے۔ وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اے اللہ اگلے لمحے میں خیر ہو۔
قرآن کریم اللہ کے ان مخصوص علوم کو نہایت وسیع دائرے میں پیش کرتا ہے ۔ ایسے وسیع دائرے میں جس کا انسان پر بہت اثر ہوتا ہے۔ نہایت ہی گہرا اثر۔ یہ میدان زمان و مکان کی وسعت کو بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ حاضر بھی اس کی لپیٹ میں ہے اور آنے والا مستقبل بھی۔ قریب بھی اور بعید بھی۔ دلوں کے خیالات میں بھی اور وسوسوں اور تفکرات میں بھی۔ قیام قیامت کی ساعت بھی اور بارش کے اوقار بھی۔ پھر رحم مادر تک یہ میدان پھیلا ہوا ہے جو نظروں سے اوجھل ہے۔ پھر پردہ مستقبل قریب کے پیچھے کہ کل کیا ہوگا۔ زمانہ اگرچہ قریب ہے لیکن علم جہالت کی دور وادیوں میں ہے۔ موت اور قبر تک یہ دائرہ پھیل جاتا ہے۔
غرض اللہ کے مخصوص علم کا ایک وسیع دائرہ ہے۔ لیکن اس وسیع چادر کے کونوں کو سمیٹ کر قرآن کے انداز بیان نے اسے ایک گٹھڑی کی شکل میں جمع کردیا ہے۔ یہ علم غیب کی وسیع چادر ہے اور اس کے اندر مختلف النوع تمام امور ، کو رکھ کر سمیٹ لیا گیا ہے۔ اب یہ سب امور ، امور فہیہ مخصوصہ ہیں اور یہ گٹھڑی مضبوطی سے بندھی ہوئی ہے۔ اور اس سے سوئی کے ناکے کے برابر کوئی چیز باہر نہیں آسکتی۔ انسان کے سامنے ان علوم کا دروازہ بند ہے کیونکہ یہ دائرہ قدرت انسان سے باہر ہیں۔ انسان کے علم سے وراء ہیں ، اللہ کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا ، ہاں اللہ اپنے حکم سے کسی کو کچھ بتا دے تو الگ بات ہے ، اللہ علیم وخبیر ہے اور اس کے سوا کوئی علم وخبیر نہیں ہے۔
یہاں یہ سورة ختم ہوتی ہے ۔ یہ درحقیقت ایک طویل اور دور دراز کا سفر تھا۔ اب ہم اس دور دراز کے مطالعاتی سفر سے تھک تھکا کر واپس ہوتے ہیں۔ ہم نے اس میں طویل راہوں کو طے کیا ، بوجھ اٹھایا اور غوروفکر کیا۔ اس کائنات کا مشاہد قدرت دنیا اور اس کے بوقلموں پرندے اور چرندے دیکھے۔ یہ سورة 34 آیات پر مشتمل ہے لیکن معانی و افکار کی دنیا طویل و عریض ہے ، بڑی برکت والی ہے ، وہ ذات جس نے دل و دماغ کی تخلیق کی۔ جس نے اس قرآن کو اتارا ، جو دلوں کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے اور مومنین کے لیے ہدایت و رحمت ہے۔