30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 30:1–7

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن ہو ہوگا جب کہ مسلمان خوشیاں منائیں گے

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر ۔ اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے ، اور وہ زبردست اور رحیم ہے

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں

الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7) سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور مسلمانوں کی خواہش نہ تھی کہ ایرانی رومیوں پر غالب آجائیں۔ اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے اور وہ مسلمانوں کے ذہن کے قریب تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی : الم ۔۔۔۔۔ فی بجع سنین (30: 1 – 4) ” ا۔ ل۔ م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے “۔ تو مشرکین مکہ نہ کہا ابوبکر ! تمہارے دوست کہتے ہیں کہ رومی چند سالوں کی میعاد پر چار اونٹنیوں کی شرط لگائی۔ یہ سات سال گزر گئے اور کچھ نہ ہوا۔ مشرکین اس پر بہت ہی خوش ہوئے۔ یہ بات مسلمانوں پر ناگوار گزری۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری زبان میں بضع سنین کا مفہوم کیا ہے تو انہوں نے فرمایا دس سے کم۔ تو آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ جائیں اور میعاد میں دو سال کا اضافہ کردیں۔ کہتے ہیں دو سال ابھی نہ گزرے تھے کہ سواروں نے آکر اطلاع دی کی رومی فارس پر غالب آگئے ہیں۔ اس پر مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔ اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم نے امام ابن جریر کی روایت اختیار کی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس واقعہ سے آگے بڑھیں ، اس واقعہ میں جو ہدایات ہیں ان پر غور ضروری ہے۔ اس واقعہ میں ہمارے لیے پہلی نصیحت یہ ہے کہ شرک اور کفر ہر زمان و مکان میں ایک ملت ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایمان اور عقیدہ توحید کے خلاف رہے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں دنیا کی حکومتوں کے باہم روابط ہمارے دور کی طرف گہرے نہ تھے اس کے باوجود مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ پوری دنیا میں مشرکین کا غلبہ ان کا غلبہ ہے ، اور اہل کتاب پر مشرکین کی فتح ان کی فتح ہے۔ مکہ کے مسلمان بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اور اہل کتاب کے درمیان رابطے کی اساس موجود ہے اور وہ بھی اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ اہل کتاب پر مشرکین کو کسی بھی جگہ غلبہ حاصل ہو۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی دعوت اور تحریک اس جہان میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتی۔ اور کفر و ایمان کی اس کشمکش پر بیرونی واقعات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ یہ وہ کھلی حقیقت ہے جس سے ہمارے دور کے اکثر لوگ غافل ہیں اور وہ اس حقیقت کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے ، جس طرح اس کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے مسلمانوں نے سمجھا تھا۔ حالانکہ چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ آج کے مسلمان صرف جغرافیائی حدود یا قومیت کی اصلاح میں سوچتے ہیں حالانکہ مسئلہ دراصل کفر و ایمان کا ہے اور اصل معرکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اس کشمکش کی اصل حقیقت کو سمجھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ اگر مسلمانوں نے اصل مسئلے کو سمجھ لیا تو پھر کفر و شرک کی علم بردار جماعتوں نے جو مختلف رنگوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ، وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ ، محض اسلامی نطریہ حیات کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ذہبی طور پر معرکے کے اسباب و عامل جو بھی ہوں ، اصل جنگ نظریات کی ہے۔ دوسرا سبق اس واقعہ میں یہ ہے کہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرو ، جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فوراً کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے سچ کہا ، جبکہ مشرکین کے نزدیک حضور ﷺ کا یہ کلام تعجب انگیز تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے صاف صاف کہہ دیا ” انہوں نے سچ کہا “۔ انہوں نے شرط باندھی اور ابوبکر ؓ نے قبول کرلی اور اللہ نے جو کہا تھا کہ چند سالوں میں یہ واقعہ ہوجائے گا تو ہوگیا۔ یہ پختہ اعتماد ، یقین اور بھروسہ ہی تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں کو یقین اور ثابت قدمی سے بھر دیا تھا اور وہ تمام مصائب اور مشکلات کو خوشی خوشی جھیل رہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ مکمل ہوگیا اور اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا اور یہی بات جہاد کے طویل راستے میں ایک نظریاتی کارکن کا بہترین ہتھیار ہوا کرتا ہے۔ تیسرا سبق اس واقعہ کے بیان کے درمیان ایک نہایت ہی مختصر جملہ معترضہ کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں للہ الامر من قبل ومن بعد (30: 4) ” اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی “۔ نہایت ہی شتابی سے بنا دیا گیا کہ معاملات سب کے سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس واقعہ میں بھی اور اس کے سوا دوسرے واقعات میں بھی۔ یہ ایک اہل کلیہ ہے ، اسلامی موقف کا یہ میزان ہے۔ فتح و ہزیمت ، دنیا میں حکومتوں کا اٹھنا اور بیٹھنا ، قوت پکڑنا اور ضعیف ہونا ، اسی طرح ہے جس طرح اس کائنات میں دوسرے طبیعی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ سب کے لیے ایک سنت مقرر ہے۔ یہ سنت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس طرح اللہ چاہتا ہے واقعات کا رخ پھیر دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے ارادے اور اس کی حکمت پذیری سے واقع ہوتا ہے۔ تمام واقعات اور حادثات دراصل اللہ کے ارادہ مطلقہ کے آثار ہیں اور ان کا رخ متعین کرنے میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ نہ کسی کے پاس قوت ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جو حکمت کا فرما ہے اس کا بھی اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں ہے۔ نہ کسی کو ان واقعات کے مصدر اور ابتداء کا پتہ ہے اور نہ انجام کا۔ لہٰذا ایک انسان کے لیے یہی محفوظ راستہ ہے کہ وہ تمام واقعات پر اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور یہ کہہ دے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیر ہے۔ الم ۔۔۔۔۔ بنصر اللہ ۔۔۔ (30: 1 – 5) ” رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے “۔ اور اللہ کا وعدہ سچا اور مومنین نے اللہ کی دی ہوئی نصرت پر خوشیاں منائیں۔ ینصر من ۔۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ غرض اختیارات سب اللہ کے ہیں ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا کرتا ہے۔ اس کی مشیت پر کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مشیت جو نتیجہ چاہتی ہے ویسے ہی اسباب بھی مہیا کردیتی ہے۔ وجود اسباب اور فتح و کامرانی کو اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کرنے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس عالم اسباب کو جو قوانین قدرت کنڑول کرتے ہیں وہ سب کے سب مشیت مطلقہ کے فراہم کردہ ہیں۔ مشیت الہیہ ہی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے اسباب اور ایسے سنن اہل جہاں میں جاری وساری ہوں جو اٹل ہوں اور اس کائنات کے اندر ایک نظم اور ایک قرار و ثبات ہو۔ لہٰذا فتح و ہزیمت بھی قدرتی اسباب اور موثرات کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں ، اللہ کے جاری کردہ قوانین قدرت کے مطابق۔ اس موضوع پر اسلامی نظریہ حیات نہایت ہی واضح ، معقول اور منطقی ہے۔ وہ تمام امور کو اللہ کے حوالے کرتا ہے لیکن اسلام عالم اسباب کی نفی بھی نہیں کرتا اور انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عالم اسباب کے اندر اپنی جدوجہد جاری رکھے ، تاکہ اللہ کے مقرر کردہ نتائج عالم ظہور میں آتے رہیں۔ انسانی جدوجہد کے مطابق عملاً نتائج نمودار ہوں یا نہ ہوں اس کا انسان ذمہ دار نہیں ہے۔ اس پر جدوجہد فرض ہے۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اعرابی نے اپنی اونٹنی کو مسجد نبوی ﷺ کے دروازے پر کھلا چھوڑ دیا اور نماز پڑھنے کے لیے اندر آگیا اور کہا توکلت علی اللہ ” میں نے اللہ پر توکل کیا “۔ اسے رسول ﷺ اللہ نے فرمایا اعقلھا و توکل ” اسے باندھ دو اور پھر توکل کرو “۔ اسلامی نظریہ حیات میں توکل عالم اسباب میں ، مطابق اسباب جدوجہد کرنے کے بعد ہے۔ جدوجہد کرو اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ ینصر من ۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ یہ نصرت قدرت الہیہ کے سایوں میں ملغوف ہے اور یہ قدرت الہیہ ہی ہے جو اس تصرف کو عالم واقعہ میں لاتی ہے۔ اس نصرت پر رحمت الہیہ کے سائے بھی چھائے ہوئے ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کے مفادات حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔ مغلوب اور پسے ہوئے طبقات کے لیے اس میں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔ ولولا دفع اللہ ۔۔۔۔۔ الارض ” اگر اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعہ دفع کرنے کا کام نہ ہوتا رہتا تو پوری زمین میں فساد واقعہ ہوجاتا “۔ زمین میں اصلاح اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مظلوموں اور پسے ہوئے لوگوں کی حمایت کی جائے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کیا جائے۔ وعد اللہ لا یخلف اللہ ۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 6 – 7) ” یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں “۔ یہ امداد اللہ کا وعدہ ہے لہٰذا وہ لازماً واقع ہو کر رہے گا۔ لایخلف اللہ وعدہ (30: 6) ” اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ اس کے بےقید ارادے کے تحت ہوتا ہے اور پھر اس کے اندر گہری حکمت مضمر ہوتی ہے اور وہ اپنے وعدہ کو حقیقت کا روپ دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ اس کی مشیت کو رد کرنے والی کوئی قوت نہیں ہے اور اس کے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کرسکتا۔ اس پوری کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس وعدے کا پورا کرنا دراصل اللہ کے وسیع قانون قدرت کا ایک حصہ ہے اور اللہ کے ناموس اکبر اور اس کے قانون قدرت اور عظیم منصوبہ کائنات کے اندر کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (30: 6) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ اگرچہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے جبہ و دستار رکھتے ہیں اور ان کے پاس علم کی ایک بڑی مقدار ہے۔ لیکن ان کا علم سطحی ہے اور زندگی کے ظاہری امور سے متعلق ہے۔ اللہ کے اٹل قوانین قدرت ، اور اس کائنات کے حقیقی ضوابط اور اس کے عظیم ناموس ، اور اس کے نہایت ہی پختہ اور گہرے روابط کا انہیں علم نہیں ہے۔ یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں “۔ اس ظاہر کے پیچھے وہ جھانکنے کی سعی نہیں کرتے اور اپنی بصیرت سے اس کے پس منظر کو دیکھنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہ ظاہری دنیا تو صغیر و حقیر ہے۔ اگرچہ لوگوں کو یہ بہت ہی وسیع نظر آتی ہے لیکن دراصل یہ بہت ہی حقیر ہے۔ انسان اس دنیا میں بہت جدوجہد کرتا ہے لیکن انسان کی محدود زندگی میں یہاں بہت ہی کم کچھ کیا جاسکتا ہے اور انسان کی یہ محدود زندگی اس عظیم کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں ان کا ایک مختصر حصہ ہے۔ اور اس زندگی پر بھی انہی قوانین کا کنڑول ہے جن کا کنڑول اس پوری کائنات پر ہے۔ وہ شخص جس کا ضمیر و قلب کائنات کے ساتھ مربوط نہیں ہے اور اسے یہ احساس نہیں ہے کہ اس کائنات کو کچھ اٹل قوانین قدرت کنڑول کر رہے ہیں ، ایسا شخص اس کائنات کو بظاہر دیکھ تو رہا ہوتا ہے لیکن وہ اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ وہ ظاہری اشکال کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، وہ دیکھ رہا ہوتا ہے یہاں ہر چیز دائرے کی شکل میں سرگردان ہے لیکن وہ اس حرکت کی حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ اس جہاں میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ حقیقی مومن تو وہ ہوتا ہے جو اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے زندگی کے اسرار و رموز سے واقف ہو۔ ایسا مومن ہی دراصل علم اور سائنس کو ایسی روح عطا کرتا ہے جو حقائق کا ادراک کرتی ہے۔ اس قسم کا ایمان رکھنے والے لوگ اس جہاں میں قلیل ہی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثریت حقیقی معرفت سے محجوب ہوتی ہے۔ وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 7) ” اور آخرت سے وہ غافل ہوتے ہیں ، اس لیے کہ آخرت اس کائنات کے سلسلہ میں وجود ہی کی ایک کڑی ہے۔ آخرت کتاب کائنات کا ایک صفحہ ہے ، جو لوگ تخلیق کی حقیقت کو نہیں سمجھتے جو لوگ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس فطرت کو نہیں سمجھتے ، وہ آخرت کو بھی نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ آخرت کو اہمیت نہیں دیتے ، اس کے لیے تیاری نہیں کرتے ، اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ حرکت کائنات کی لائن پر آخرت بھی ایک نکتہ ہے۔ دنیا اور اس کائنات نے اس نکتے پر پہنچنا ہے اور اس کے بعد پھر نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن آخرت سے غفلت کے نتیجے میں ایسے غافل لوگوں کی اقدار مضطرب ہوتی ہیں ، ان کی اقدار حیات میں کوئی ثبات اور پختگی نہیں ہوتی۔ ان کا تصور حیات ، تعبیر واقعات اور ان کی قدروقیمت کے پیمانے ناپختہ ہوتے ہیں۔ ان کا علم سطحی ، ناقص اور ظاہری ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب ایک انسان اس پوری زندگی کے اختتام پر آخرت کے قیام کو تسلیم کرتا ہے تو اس جہان کے تمام واقعات کے بارے میں اس کا نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس جہان میں اس کی زندگی ایک مختصر سا مرحلہ ہے اور اس جہاں میں اس کا جو حصہ ہے اور ہونا چاہئے وہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی اور حقیر ہے اور اس جہاں کی پوری زندگی دراصل طویل ترین ڈرامے کا ایک نہایت ہی مختصر شو یا جھلکی ہے۔ لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس طویل ترین ڈرامے کی صرف مختصر ترین جھلکی کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کر دے۔ اگر کوئی نہایت ہی حقیر جھلکی کو دیکھ کر پوری زندگی ، پوری کائنات اور آخرت اور اس کی طویل زندگی کے بارے میں فیصلہ کرے گا تو یہ سطحی فیصلہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا انسان جو قیامت کا قائل ہے ، اور جو قیامت کے لیے تیاری کر رہا ہے ، اس انسان کے ساتھ اکٹھا ہوکر نہیں رہ سکتا جس کا سطح نظر صرف یہ دنیا ہے اور اس دنیا سے آگے اسکا کوئی ہدف نہیں ہے۔ اس قسم کے دو انسان نہ اس دنیا کے کسی پروگرام پر متفق ہوسکتے ہیں اور نہ ان کا یہاں کسی قدر پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ دونوں کے پیمانے بالکل جدا ہوں گے۔ غرض ہر واقعہ ، ہر حالت ، اور زندگی کے حالات میں سے ہر حالت کے بارے میں دونوں کا فیصلہ جدا ہوگا کیونکہ دونوں کے میزان الگ ہوں گے۔ ہر ایک کا زاویہ نظر مختلف ہوگا۔ ہر ایک کی روشنی بھی مختلف ہوگی۔ لہٰذا ہر ایک کو ایک ہی چیز مختلف نظر آئے گی۔ واقعات ، اقدار اور حالات کے بارے میں دونوں کا تصور جدا ہوگا۔ ایک دنیا کی ظاہری نظر سے دیکھنے والا ہے اور دوسرا گہری نظر سے واقعات کے پس منظر کو بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ ظاہری اسباب اور واقعات کو بھی دیکھتا ہے اور باطن پر بھی اس کی نظر ہے۔ وہ ظاہر اور غائب دونوں کا علم رکھتا ہے۔ دنیا و آخرت دونوں کو جانتا ہے ، حیات اور موت دونوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل سب کا تصور رکھتا ہے۔ وہ انسانوں کے جہان سے بھی باخبر ہے اور اس کائنات کے دوسرے جہانوں اور زندوں اور مردوں سب سے واقف ہے۔ یہ ہے وہ وسیع افق جس پر اسلام انسان کی نظریں فوکس کر اتا ہے اور انسان کو ایک ایسا نقطہ نظر دیتا ہے جو انسان کے لائق ہے جو انسان کے لیے بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض ضروری ہے اور انسان کی شخصیت میں اللہ نے جو روحانیت ودیعت کی ہے ، اس کا بھی یہی تقاضا ہے۔ اس غرض کے لیے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ اسی طرح یہ حق ہے جس طرح یہ منظم کائنات ایک عظیم حق پر قائم ہے ، اور یہ کہ آخرت کا قیام اس عظیم سچائی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اب سیاق کلام ہمیں دوبارہ اس کائنات کے ضمیر کی سیر کراتا ہے۔ آسمانوں میں ، زمین میں اور ان کے درمیان جو جہان موجود ہیں ان میں۔ اس کے بعد پھر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی سیر کرائی جاتی ہے تاکہ وہ تدبر کریں ، شاید کہ وہ اس حقیقت کبریٰ تک پہنچ جائیں جس سے وہ اس وقت غافل ہوجاتے ہیں وہ آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ کسی سطحی نقطہ نظر کی وجہ سے وہ دعوت اسلامی کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ دعوت اس عظیم سچائی اور اس کے گہرے تدبر پر مبنی ہے۔
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غوروفکر نہیں کیا ؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں ، برحق اور ایک مدت مقرر ہی کے لیے پیدا کیا ہے مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

اولم یتفکروا ۔۔۔۔۔ ربھم لکفرون (8) ” “۔ کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ خود ان کی ساخت اور ان کی تخلیق اور ان کے اردگرد موجود یہ وسیع کائنات اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ وجود ایک سچائی پر قائم ہے۔ ایک ایسے اٹل ناموس فطرت کے مطابق رواں دواں ہے جس کے اندر کوئی اضطراب نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ کائنات کبھی ادھر ڈھلک گئی اور کبھی ادھر۔ نہ اس کی گردش میں فرق آتا ہے ، نہ اجرام فلکی میں تصادم ہوتا ہے اور نہ اس کی حرکت کوئی غیر مرتب اندھی حرکت ہے۔ نہ یہ حرکت بدلتی ہوئی خواہشات کے مطابق بدلتی ہے۔ بلکہ یہ حرکت نہایت ہی گہری ، دقیق اور حکیمانہ نظام کے مطابق چل رہی ہے۔ یہ سچائی جس کے مطابق انسانی زندگی اور یہ وسیع کائنات چل رہی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس جہان کا کوئی انجام ہو ، جہاں جزاء و سزا پوری ہو سکے۔ جہاں خیر اور شر دونوں کو ان کا بدلہ مل سکے۔ یہ سچائی نظر آتی ہے کہ یہاں ہر چیز ایک مقررہ انجام تک پہنچتی ہے یہ حکمت مدبرہ کے مطابق ہے اور اس کائنات کا ہر واقعہ اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اس میں کوئی تقدیم پایا خیر نہیں ہوتی۔ اگر انسان یہ اندازہ نہیں لگا سکا کہ آخرت کب وقوع پذیر ہوگی تو اس کے معنی یہ نہیں کہ آخرت نہیں آئے گی۔ آخرت کا عدم علم یا اس کی تاخیر سے صرف وہ لوگ غلط نتائج اخذ کرتے ہیں جو معاملات کا صرف ظاہری پہلو دیکھ سکتے ہیں اس طرح ان کو دھوکہ لگ جاتا ہے اس وجہ سے ان کثیر من الناس ۔۔۔۔ لکفرون (30: 8) ” بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں “۔ ضمیر کائنات اور زمین و آسمان کے درمیان پائے جانے والی مخلوقات کی سیر جو نہایت ہی وسیع سیر ہے جس کے آفاق بہت ہی طویل و عریض ہیں اور ناقابل تصور وسعتیں رکھتے ہیں اور ان آفاق کے اندر متنوع مخلوق ہے۔ جو زندہ اور غیر زندہ ، قسم قسم کی اشیاء پر مشتمل ہے جس میں اجرام سماوی ، افلاک ، نجوم و کواکب ، بڑے اور چھوٹے تارے اور سیارے ، ظاہر اور چھپے ہوئے ، قریب و بعید اور معلوم و نامعلوم ہیں۔ اس وسیع سیر کے بعد اب قرآن کریم ہمیں خود اپنی تاریخ کی سیر کی دعوت دیتا ہے کہ آغاز انسانیت کے بعد ذرا خود انسانی تاریخ کا بھی مطالعہ کرو ، خود اس تاریخ میں بھی یہ عظیم سچائی سنت جاریہ کی صورت میں اپنا کام کرتی ہے اور انسانی تاریخ کے واقعات بھی ایسے ہی اٹل اسباب کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں جس طرح اس کائنات کے حوادث۔
Ayahs 30:9–10

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ؟ وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے ، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔ پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا ، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

آخر کار جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت برا ہوا اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے

اولم یسیروا ۔۔۔۔۔ وکانوا بھا یستھزءون (9- 10) ان آیات میں ہمیں دعوت دی جاتی ہے کہ گزرنے والوں کا جو انجام ہوا ، ذرا اس پر بھی غور کرو ، یہ بھی تو تمہاری ہی کی طرح کے انسان تھے۔ اسی طرح اللہ کی مخلوق تھے جس طرح تم ہو۔ ان کا انجام تمہارے لیے ایک نمونہ ہے۔ کیونکہ اللہ کی سنت تمام انسانوں کیلئے یکساں ہے۔ اللہ کی سنت انسانی تاریخ کے بارے میں بھی اسی طرح اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے بارے میں اٹل ہے۔ اللہ کا انسانوں کی کسی نسل کے ساتھ کوئی مخصوص تعلق نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ممتاز سلوک کرے۔ نہ اللہ کی کچھ خواہشات ہیں جو زمان و مکان کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ معاذ اللہ رب العالمین یہ اس بات کی دعوت ہے کہ اس زندگی کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھا جائے اور اس پر غور کیا جائے کہ انسانی زندگی کے اس جہاں میں جو روابط تعلقات ہیں ان کی حقیقت کیا ہے اور گذشتہ تاریخ میں اس انسانیت کی تخلیق اور اس کا انجام کیا رہا ہے تاکہ انسانوں کا کوئی گروہ اور نسل صرف اپنی زندگی ، اپنے تصورات اور اپنی اقدار تک محدود نہ ہوجائے۔ تمام نسلوں کے درمیان جو مضبوط رشتہ ہے اس سے غافل نہ ہوجائے اور اس سنت کو بھی نہ بھول جائے جو تمام نسلوں پر حکمران ہے۔ اور ان قدروں کو بھی نہ بھول جائے جو ہر زمان و مکان میں ایک ہوتی ہیں۔ تاریخ ماضی میں جو اقوام ہو گزری ہیں اور جو اہل مکہ سے پہلے ہوگزری ہیں۔ وہ اہل مکہ سے۔ کانوا اشد منھم قوۃ (30: 9) ” وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے “۔ واثاروا الارض (30: 9) ” انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا “۔ انہوں نے اس میں کھیتی باڑی کا کام بھی کیا اور اس کے باطن کو پھاڑا اور اس کے ذخائر کو نکالا۔ وعمرواھا اکثر مما عمروھا (30: 9) ” اور انہوں نے اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا “۔ وہ لوگ عربوں سے زیادہ متمدن اور ترقی یافتہ تھے اور عربوں سے زیادہ زمین کے اندر تعمیرات کرنے والے تھے۔ یہ لوگ اس دنیا کی ظاہری ترقی اور خوبصورتی پر ہی اکتفاء کر گئے اور آخرت کی طرف نگاہ نہ ڈالی۔ وجاءتھم رسلھم بالبینت (30: 9) ” ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے “۔ لیکن ان روشن نشانیوں کو دیکھ کر بھی ان کی آنکھیں نہ کھلیں اور یہ لوگ اس نور پر ایمان نہ لائے جو ان کو صحیح راستہ دکھا رہا تھا۔ چناچہ ان پر اللہ کی اس سنت کا اطلاق ہوگیا جو ہمیشہ مکذبین پر نافذ ہوتی ہے ۔ عذاب الٰہی کے مقابلے میں ان کی قوت ان کے کچھ کام نہ آئی۔ ان کا علم اور ان کی ترقی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ اور ان کو ان کی وہ سزا و جزاء ملی جس کے وہ مستحق تھے۔ فما کا اللہ ۔۔۔۔ یظلمون (30: 9) ” پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا مگر وہ خود ہی اپنے اپور ظلم کر رہے تھے “۔ ثم کان ۔۔۔۔ السواء (30: 10) ” آخر کار جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت ہی برا ہوا “۔ یعنی وہ لوگ جو برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے ، ان برائیوں کے مطابق پوری پوری سزا اور جزاء ان کو دے دی گئی اور ان کی برائی کیا تھی ؟ یہ کہ ، ان کذبوا بایت اللہ وکانوا بھا یستھزءون (30: 10) ” اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑاتے تھے “۔ قرآن کریم تکذیب کرنے والوں اور مزاح اڑانے والوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ ذرا خدا کی اسی زمین پر چلیں پھریں اور گھونگھے کی طرح اپنے خول ہی میں بند نہ رہیں۔ انسانی تاریخ کو بھی ذرا پڑھیں کہ آپ جیسے مکذبین اور مزاح کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا رہا ہے۔ کہیں ایس انہ ہو کہ تمہارا انجام بھی ان جیسا ہو۔ اللہ کی سنت اٹل ہے اور وہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتی۔ وہ ذرا اپنی سوچ اور فکر کو وسعت دیں۔ پوری انسانیت کو ایک وحدت سمجھیں انبیاء کی دعوت کو ایک سمجھیں۔ اور یہ یقین کرلیں کہ اللہ کے قوانین قدرت کے مطابق تمام لوگوں کا انجام ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ تصور جس میں اسلام تمام مومنین کے فکر و نظر کو رنگنا چاہتا ہے اور اس پر بار بار زور دیتا ہے۔ اس پوری کائنات کی گہرائیوں کے مطابق اور انسانی تاریخ کے گہرے مطالعے کے بعد اب قرآن کریم انسان کو اس میدان میں لے جاتا ہے جس سے انسان ہمیشہ غافل رہتا ہے۔ یعنی بعث بعد الموت کے میدان میں۔ یہ اس عظیم سچائی کا ایک اہم عنصر ہے جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔
Ayah 30:11

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ ہی خلق کی ابتداء کرتا ہے ، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا ، پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے

اللہ یبدوا الخلق ۔۔۔۔ ترجعون (11) یہ بہت ہی واضح اور سادہ حقیقت ہے اور اس کے دونوں اجزاء اور دونوں کڑیوں کے درمیان ربط مکمل واضح ہے کیونکہ کسی چیز کا پہلی بار بنانا اور اس کا دوبارہ بناناقابل فہم بات ہے ۔ اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تخلیق میں یہی دو حلقے ہوتے ہیں ، ان کے درمیان یہی تعلق ہوتا ہے اور انسان کی تخلیق کے بعد اس کے خالق کے سامنے دوبارہ پیش ہونا ایک لازمی اور معقول امر ہے۔ وہی پہلی بار تخلیق کرنے والا ہے اور وہی دوسری بار تخلیق کرنے والا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ اچھا اور برا کام کرنے والوں کو وہ پوری پوری جزاء اور سزا دے۔ بعث بعد الموت پر یہ دلیل دینے کے بعد اب یہاں بعث بعد الموت کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں اہل ایمان اور اہل کفر کے انجام کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ، جسکے اندر شریکوں اور عقیدہ شرک کے بودے پن کو اچھی طرح ظاہر کیا گیا ہے۔
Ayahs 30:12–16

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جب وہ ساعت برپا ہوگئی اس دن مجرم ہک دک رہ جائیں گے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

انکے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہوجائیں گے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

جس روز وہ ساعت برپا ہوگی ، اس دن (سب انسان) الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایک باغ میں شاداں وفرحاں رکھے جائیں گے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہے ، وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے

ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16) یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان احمقوں نے ہمیں اللہ رب العالمین کے ساتھ شریک کیا ہے۔ چناچہ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان یوں تفریق کردی جاتی ہے اور دونوں کے راستے جدا ہوجاتے ہیں۔ فاما الذین ۔۔۔۔۔ روضۃ یحبرون (30: 15) ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ ایک باغ میں شاداں وفرحاں رکھے جائیں گے “۔ وہاں ان کو وہی صورت حال درپیش ہوگی جس سے وہ خوش ہوں گے۔ ان کے ضمیر میں فرحت پیدا ہوگی اور ان کے دل کو مسرت حاصل ہوگی۔ واما الذین کفروا ۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (30: 16) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں حاضر رہیں گے “۔ یہ ہے آخری انجام نیکوکاروں اور بدکاروں کا۔ اب عالم آخرت کی سیر اور منظر سے ہم پھر واپس اس دنیا میں آجاتے ہیں۔ اس کائنات اور اس کے اندر زندگی اور اس کے اسرار و رموز اور عجائبات و کرامات کی سیر شروع ہوتی ہے۔ فی الواقعہ یہ کائنات ایک دلچسپ تفریح گاہ ہے۔ آغاز سفر صبح و شام اللہ کی حمد سے ہوتا ہے کہ صبح و شام کے مناظر کو ذرا دیکھو کس قدر دلفریب مناظر ہوتے ہیں۔ فسبحن اللہ حین ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (17 – 27) ” پس تسبیح کرو اللہ کی جب کہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے سپہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔ وہ زندہ کو مردے میں سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ میں سے نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان حجت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کی پیدائش ، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کیلئے۔ اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جوں ہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے۔ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ وہی اللہ ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے۔ پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ یہ اس کائنات کا نہایت ہی گہرا اور عظیم مطالعاتی سفر ہے۔ اس کائنات کی دوریوں اور گہرائیوں تک۔ انسانی توائے مشاہدہ کو صبح و شام کے مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ زمین کے مناظر اور آسمانوں کے مناظر ، صبح و شام کے علاوہ پھر دوپہر کی دنیا۔ ان آفاق و مناظر میں حیات و ممات اور بہاروخزاں کی کا رستانیاں دکھائی جاتی ہیں ، ان خوشگوار فضاؤں میں انسان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ ذرا اپنی تخلیق پر غور کرے ، اپنی فطرت کے رجحانات اور میلانات کا مشاہدہ کرے۔ اپنی جسمانی اور روحانی قوتوں اور ان کی کشاکش کو ذرا دیکھے۔ اس دنیا میں ہر چیز جوڑے جوڑے ہیں۔ ان جوڑوں کی باہمی محبت کو دیکھے ، اور زوجین کے رجحانات و میلانات اور ان کے قوائے فطرت کو ڈرا دیکھے اور اس کائنات کے زمین و آسمان ، باغ و راغ اور رنگ ڈھنگ اور پھر انسانوں کی شکلیں ، ان کے رنگ اور ان کی ہزار ہا زبانیں اور پھر انسان کی بیداری ، اس کی ہشیاری اور اس کی نیند اور اس کی جدوجہد اور اس کا آرام ، پھر اس طبیقی کائنات میں طوفان باد باران اور برق و بادل اور پھر لوگوں کا ان کو چاہنا اور ان سے ڈرنا ، اور پھر زمین کی مردنی اور روئیدگی اور پھر زندگی اور بہار اور پھر بحیثیت مجموعی اس کائنات کا قیام اور گردش اور نظام و انتظام ، یہ سب کام اللہ کے سوا اور کون کرسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی تو ہے جس کی یہ تجلیات ہیں۔ اس کے لئے یہ سب کام بہت ہی آسان ہیں۔ وہی ہے جس نے ان اشیاء کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو ان کو دوبارہ پیدا کرے گا اور دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں ذات باری کے اعلیٰ مشاہد موجود ہیں جو بےمثال ہیں۔
Ayahs 30:17–18

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

پس تسبیح کرو اللہ کی جب کہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے

تسبیح کا یہ حکم اور حمد سابق فقرات و آیات میں بیان کردہ مشاہد قیامت کے بعد آتا ہے جس میں بتایا گیا کہ اہل ایمان جنت کے ایک مخصوص باغ میں خوش و خرم ہوں گے۔ اور کافر اور جھٹلانے والے ، عذاب اور سزا کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ تو یہ تسبیح دراصل بطور نتیجہ یہاں لائی گئی ہے اور سابقہ مناظر قیامت دراصل اس مطالعہ کائنات کے لئے تمہید تھے کہ یہ وسیع کائنات اور اس کے نشیب و فرار ، نفس انسانی اور اس کی نفسیات و عجائبات اور اللہ کی یہ تخلیق اور اس کے اسرار و رموز یہ سب لایعنی نہیں ہیں۔ ان پر قیامت کے نتائج مرتب ہوں گے۔ پس سابقہ مناظر قیامت اور موجودہ مطالعہ کائنات کے اندر مکمل ربط و مناسبت ہے یہاں تسبیح اور حمد کے لیے کچھ اوقات بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ شام کے اوقات میں اور صبح کے مناظر میں ، پچھلے پہر اور پہلی پہر میں۔ پھر اس حمد و تسبیح کو آفاق سماوات کے ساتھ بھی جوڑا گیا تاکہ زمان و مکان کے فاصلے مٹا کر اس حمد و تسبیح کو ہمہ گیر بنا دیا جائے اور انسان کا دل ہر وقت اور ہر جگہ اللہ کے ساتھ جڑا رہے۔ وہ اس کائنات کے ڈھانچے ، کر ات سماوی کی گردش اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مظاہر صبح و مساء کے مظاہر کو دیکھ کر انسان ہر لمحہ اللہ کو یاد کرے۔ اس کا دل کھلا رہے ، حساس رہے ، اور اپنے ماحول کے حوالے سے بیدار رہے۔ اپنے بدلتے ہوئے حالات میں ماحول کا مشاہدہ کرتا رہے اور اللہ کی حمد و تسبیح کے ساتھ یہ غور و فکر جاری رہے۔ اور ان تمام امور کو اللہ اور خالق کائنات کی آیات و معجزات سمجھے۔ یہ تمام حالات ، تمام مظاہر ، اور تمام اوقات دراصل ایک معجزہ پروردگار ہیں۔
Ayah 30:19

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہ زندہ کو مردے میں سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ میں سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے اور اسی طرح تم لوگ بھی نکالے جاؤ گے

یخرج الحی ۔۔۔۔۔ وکذلک تخرجون (30: 19) ” ہاں وہ زندہ چیزوں سے مردوں کو نکالتا ہے اور مردہ چیزوں سے زندہ کو نکالتا ہے “۔ اور یہ ایک دائمی عمل ہے۔ نہ رکنے والا عمل ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی اس میں توقف نہیں ہوتا۔ رات اور دن ہر وقت یہ عمل جاری ہے ، ہر زمان و مکان میں جاری ہے۔ زمین کی سطح میں سے چپے چپے پر جاری ہے۔ فضائے کائنات میں جاری ہے ، سمندر کی تہوں میں جاری ہے ، ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں ، یہ عمل کوئی غیر معمولی عمل نہیں ہے ، یہ تو ایک معجزہ ہے ، لیکن رات اور دن اسے دیکھتے دیکھتے ہم اس کے اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ اس کا معجزانہ پہلو نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے حالانکہ ہر لحظہ نئ آن اور شان کے ساتھ مردے سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکل رہا ہے۔ ایک مردہ اور خشک بین زمین میں ڈالا جاتا ہے اور اس سے خوشنما پودے اور پھول پیدا ہوتے ہیں ، فصلیں اگتی ہیں اور جب یہی پھل پھول خوشے اور پودے خشک ہوکر بھوسہ بن جاتے ہیں تو اس خشک بھوسے کے اندر ہزار ہا مردہ بیج تیار ہوچکے ہوتے ہیں جن کے اندر پوری حیات موجود ہوتی ہے۔ یہ مردہ پھر فضائے کائنات سے گری ، گیس ، پانی اور تپش حاصل کرکے پھر زندہ ہوتا رہتا ہے۔ انسانوں اور حیوانوں کے جنین اور پرندوں کے جنین اور انڈے مختلف اشکال اور مختلف اندازوں سے زندگی کی شکل اختیار کرتے ہیں ، غرض انسان ، حیوانات ، کیڑے اور مکوڑے اور حشرات اور بیج اور انڈے ہر وقت زندگی اختیار کرتے رہتے ہیں اور پھر مردہ بیج پیدا کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایک مسلسل سرکل ہے اور زندہ مردہ اور مردہ زندہ ہوتا رہتا ہے۔ کیا کسی زندہ اور جاگنے والے دل کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اللہ دوبارہ تخلیق کرسکتا ہے۔ قرآن کی روشنی میں اس بات کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ قرآن کی روشنی اللہ کے نور سے نکلی ہوئی ہے۔ وکذلک تخرجون (30: 19) ” بعینہ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے “۔ یہ ایک تہمل الفہم مسئلہ ہے۔ ایک عام اور معمولی بات ہے ، یہ تو تمہارا مشاہدہ ہے۔ کائنات میں رات اور دن دیکھا جا رہا ہے۔ رات اور دن اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔
Ayah 30:20

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر یکایک تم بشر ہوکر پھیلتے جا رہے ہو

ومن ایتہ ان خلقکم ۔۔۔۔۔ تنتشرون (30: 20) ۔ مٹی مردہ اور ساکن ہے۔ اس مٹی ہی سے انسان کو پیدا کیا گیا ۔ قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ آیا ہے : لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین ” ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا “۔ (المومنون :12) مٹی دراصل انسان کا اصل الاصول ہے لیکن یہاں انسانی شخصیت کے اس اصل مادے کا ذکر کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ انسان مکمل شکل میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ بتلانا یہ مقصود ہے کہ ذرا تخلیق انسان کے اصل مادے کو دیکھو اور پھر تخلیق شدہ مکمل انسان کو دیکھو ، دونوں کے اندر کس قدر فرق ہے۔ خصوصاً یہ اصول بیان کرنے کے بعد کہ یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی (30: 19) ” وہ زندہ سے مردہ چیزوں کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردے کا نکال لاتا ہے “۔ قرآن کریم کے اندراز کے مطابق یہ معنوی ربط ہے۔ یہ معجزہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی ہے۔ اور اس کی تشریح کرکے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اس زمین پر رہنے والے انسان اور اس زمین کا آپس میں رشتہ کیا ہے اور وہ کیا نکتہ ہے جس میں وہ باہم ملتے ہیں یعنی اپنی اصل تخلیق اور ان قوانین قدرت کے زاویہ سے جو خود انسان پر بھی نافذ ہیں اور اس کائنات پر بھی نافذ ہیں۔ اس مردہ مٹی کے اندر یہ عظیم انقلاب بذات خود ایک معجزہ ہے کہ وہ ایک مردہ اور پیش پا افتادہ شکل سے ایک انسانی ذی اقتدار اور ذی قدر کی شکل میں تبدیلی ہوگئی۔ یہ ایک ایسی تبدیلی اور صنعت کاری ہے جس سے اللہ جل شانہ کی عظیم صنعت کاری کا علم ہوجاتا ہے۔ انسان کا قلب و ضمیر بےساختہ اللہ کی تسبیح و تمجید پر آمادہ ہوجاتا ہے اور انسان اللہ جل شانہ کی اس عظیم صنعت کاری پر رطب اللسان ہوجاتا ہے۔ پھر خود انسان کی زندگی کی تقسیم مرد اور عورت کی شکل میں اور ان اوصاف کا باہم تعلق اور مشترکہ زندگی کا موضوع سامنے آتا ہے۔ کیا یہ کسی خارق العادت معجزے سے کم معجزہ ہے۔
Ayah 30:21

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں

ومن ایتہ ان خلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لقوم یتفکرون (30: 21) لوگوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے جذبات جنس مخالف کے ساتھ کیا ہوتے ہیں۔ دونوں اجناس کے شعور اور اعصاب ایک دوسرے کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور اپنے جذبات اور میلانات کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے لیے بےپناہ کشش رکھتے ہیں۔ یہ جذبات اور میلانات ان کو بیشمار کاموں اور مشقتوں پر آمادہ کرتے ہیں۔ لیکن جس ذات حکیم نے یہ سب کچھ کیا ہے اس کے دست قدرت کی طرف میاں بیوی کے رجحانات جاتے ہی نہیں۔ جس خالق نے ان نفوس کے اندر یہ کشش اور یہ میلان رکھا ہے اسے کوئی یاد بھی نہیں کرتا۔ حالانکہ میاں بیوی کے اس تعلق کی وجہ سے انسان کے جسم ، اس کی روح ، اس کے اعصاب بلکہ اس کی پوری زندگی کے اندر کوئی سکون اور ٹھہراؤ اور سنجیدگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس تعلق سے انسان جسمانی اور روحانی لذت بھی حاصل کرتا ہے اور یہ لذت مرد اور عورت دونوں کے لیے برابر ہوتی ہے۔ یہاں قرآن نے نہایت ہی لطیف اور نازک انداز بیان اختیار کیا ہے اور نہایت ہی اشاراتی پیرایہ میں میاں بیوی کے تعلق کو ظاہر کیا ہے۔ گویا قرآن دل کی گہرائیوں اور احساس و شعور کی تہوں میں تصویر کھینچ رہا ہے۔ لتسکنوا الیھا (30: 21) ” تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو “۔ وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ (30: 21) ” تمہارے درمیان الفت اور باہم نرمی کے جذبات پیدا کر دئیے “۔ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (30: 21) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں “۔ اور جب وہ فکر کریں گے تو ان کو معلوم ہوگا کہ مرد اور عورت کی اصناف کی تخلیق کے اندر خالق نے کیا کیا حکمتیں رکھی ہوئی ہیں۔ طبیعی لحاظ سے دونوں کو کس طرح ایک دوسرے کے مواق اور تکمیلی بنایا ہے۔ کس طرح دونوں ایک دوسرے کی فطری ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے لیے نفسیاتی ، عقلی اور جسمانی لحاظ سے تکمیل کا درجہ رکھتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے اطمینان ، استقرار اور سکون کی جگہ ہیں۔ دونوں کے اجتماع سے تکمیل ہوجاتی ہے اور ایک خود مختار یونٹ وجود میں آجاتا ہے۔ اس یونٹ کے اندر محبت اور رحمت ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کی جسمانی ، نفسیاتی ، اعصابی اور طبیعی تشکیل ہی ایسی ہے کہ ایک دوسرے کے سوا ادھوری ہے۔ مرد عورت کی خواہشات کی تسکین کا محل ہے اور عورت مرد کی خواہشات کی تسکین کی جگہ ہے۔ اس طرح دونوں کا اتحاد یکجہتی اور ملاپ اس کرہ ارض پر صدور حیات کا ذریعہ ہے۔ اس سے زندگی کی فصل کی تجدید ہوتی رہتی ہے۔
Ayah 30:22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمان و زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کے لیے

ومن ایتہ خلق ۔۔۔۔۔۔ ذلک لایت للعلمین (30: 22) زمین و آسمان کی تخلیق وہ نشانی ہے جس کی جانب قرآن کریم نے بار بار مبذول کرائی ہے لیکن ہم رات اور دن اس زمین کے اوپر رہتے ہیں اور اس آسمان کے نیچے رہتے ہیں لیکن ہم اللہ کی اس تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ حالانکہ زمین و آسمان اس قابل ہیں کہ ان پر طویل عرصہ تک غور کیا جائے اور بار بار غور کیا جائے اور گہرا غور و فکر کیا جائے۔ خلق السموات کا مفہوم کیا ہے کہ اللہ نے یہ عظیم ، پیچیدہ اور نہایت ہی وسیع کائنات تخلیق کی ہے۔ اس عظیم اور وسیع کائنات کے ایک نہایت ہی معمولی حصے کا علم ہم ابھی تک حاصل کرسکے ہیں۔ افلاک اور فلکی کر ات کا یہ عظیم اور لاتعداد اژدھام ، ستارے ، سیارے ، ان کے مدار ، کہکشاں اور پھر بلیک ہول۔ اس پوری کائنات کے اندر ہماری یہ زمین اس طرح ہے جس طرح ایک حقیر ذرہ جو ہماری اس زمین کی فضا میں اڑ رہا ہے جس کا نہ کوئی وزن ہے اور نہ کوئی سایہ ہے۔ اس ہولناک کائنات کی ناقابل تصور وسعت کے ساتھ یہ کائنات نہایت دقیق اور ناقابل تغیر نظم کے ساتھ جاری وساری ہے۔ اس کی حرکات اور اس کے کر ات کے مدارات میں بےانتہا نظم و ضبط ہے حالانکہ ان کے درمیان طویل فاصلے ہیں۔ ان حرکات میں کوئی اضطراب کوئی بےقاعدگی نہیں ہے اور ہر چیز حکم ربی کے مطابق چل رہی ہے۔ یہ مشاہدہ تو عمو۔۔ نجم اور ان کر ات کی حرکت کے نظم کے اعتبار سے ہے۔ رہے اس کائنات کے اسرار تو اس کے اندر پائی جانے والی متنوع مخلوقات ، ان کے مزاج اور وہ حالات جن میں وہ مخلوق رہتی ہے اور وہ حالات جو اس پر طاری ہوتے ہیں تو ان کی انتہا نہیں ہے۔ پھر وہ قوانین جو اس تمام مخلوق کو محفوظ رکھتے ہیں ، اس مخلوق کو چلاتے ہیں ، اور اس کے اندر تصرف کرتے ہیں تو ان کی انتہا تک پہنچنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ان تمام امور اور موضوعات پر انسان کا علم بہت ہی محدود ہے۔ سمندر میں سے قطرے کے برابر بھی نہیں ہے۔ زمین و آسمان کی تخلیق پر یہ ایک سرسری نظر ہے ، بہت ہی اختصار کے ساتھ۔ سائنس دان اور علمائے انسانیات نے اس سلسلے میں جو مختصر سا علم حاصل کرلیا ہے اس پر ہم طول بحث کرسکتے ہیں۔ اب تک جو معلومات فراہم ہوسکی ہیں ان کے مطابق یہ کائنات بہت ہی عظیم ہے اور اس کے مختلف اجزاء باہم مربوط ہیں۔ یہ تمام اجزاء بغیر اس کے کہ باہم متصادم ہوں ، روز تخلیق سے حرکت میں ہیں ، ایک سیکنڈ کے لیے بھی ان میں ٹھہراؤ نہیں ہے لیکن اس عجیب نظام میں جو بہت ہی پیچیدہ ہے ، کبھی بھی یہ اجزاء اور اجرام باہم متصادم نہیں ہوتے۔ اس نظام کے بارے میں موجودہ فراہم شدہ معلومات کے باوجود بعض ہلکے لوگ یہ کہنے کی جرات کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے۔ اور پھر اس کا کوئی مدبر نہیں ہے جو اسے یوں چلا رہا ہے۔ ان نام نہاد سائنس دانوں کی یہ بکواس آج بھی سنی جاتی ہے۔ پھر آسمانوں اور زمین کے ساتھ ساتھ اس میں پائے جانے والوں یعنی مختلف انسانوں کے مختلف رنگ اور مختلف شکلیں اور مختلف زبانیں۔ یہ اختلاف بھی تخلیق سماوات سے مربوط ہے۔ زمین پر مختلف قسم کے رنگوں اور زبانوں کا تعلق بھی تخلیق سماوات سے ہے۔ مختلف علاقوں اور موسموں سے رنگ اور زبانیں بدل جاتی ہیں۔ انسان کے رنگ و زبان اور شکل و صورت کا موسمیات کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ ہمارے دور کے علماء اور سائنس دان لوگوں کے رنگ اور زبانوں کے اختلاف کو دیکھتے ہیں اور کبھی انہوں نے اس پر غور نہیں کیا اور نہ وہ اس حقیقت کی طرف جاتے ہیں کہ اللہ کی تخلیقات کے یہ نمونے ہیں اور یہ کہ یہ باتیں بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ زبانوں کے اختلاف پر بہت ہی گہرا مطالعہ کرتے ہیں لیکن وہ اسے اللہ کی نشانی سمجھ کر اللہ تک پہنچنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ باجود اس کے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سائنس دان ہیں مگر دراصل وہ سائنس دان نہیں ہیں یعلمون۔۔۔ الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” یہ لوگ اس زندگی کے بھی بس ظاہری پہلو کو جانتے ہیں “۔ اور انسان اور علوم انسانی کا یہ پہلو کہ لوگوں کے رنگ مختلف ہیں اور زبانیں مختلف ہیں اسے صرف حقیقی علماء اور مومن سائنس دان ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ان فی ذلک لایت للعلمین (30: 22) ” بیشک اس میں نشانیاں ہیں صرف دانش مندوں کیلئے “۔
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا ، اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور سے سنتے ہیں

ومن ایتہ منامکم ۔۔۔۔۔۔ لقوم یسمعون (30: 23) ” “۔ اس آیت میں بھی کائناتی مظاہر اور ان کے ساتھ انسانی احوال میں تبدیلی کی بات کی گئی ہے اور دونوں کے درمیان تعلق دکھایا گیا ہے۔ جس کے ذریعے اس عظیم الجثہ موجودات کے اندر ربط ظاہر ہوتا ہے اور ان کے درمیان ہم آہنگی بتائی جاتی ہے۔ شب و روز کے اختلاف کے ساتھ انسان کا سونا اور جاگنا اور اس دنیا میں رزق حلال کے لئے جدوجہد کرنا مربوط ہے۔ رزق حلال کو یہاں فضل الٰہی سے تعبیر کیا گیا ہے بشرطیکہ وہ آرام کے بعد رزق حلال کے لیے جدوجہد کریں اللہ نے اس کائنات کو یوں بنایا ہے کہ وہ انسان کے لیے اس کی جدوجہد آسان کر دے اور وہ اس کرہ ارض پر خوشگواری سے رہ سکے۔ اس جدوجہد کے لیے دن کی روشنی کو موزوں بنایا ہے۔ آرام اور راحت کے لیے رات کی تاریکی کو آسان بنایا ہے۔ یہ منظر اس کرہ ارض پر رہنے والی بیشتر مخلوقات کے لیے ہے۔ ہر کسی کے لئے درجہ بدرجہ سہولت کا انتظام کیا گیا ہے۔ گرض نظام کائنات میں موجودات میں سے ہر موجود اپنے لیے سہولت پاتا ہے اور یہ سہولیات اس کے لیے نہایت فطری ہیں۔ اس کی فطرت اور اس کی زندگی سے ہم آہنگ اور خوشگوار۔ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون (30: 23) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو سنتے ہیں “۔ نیند سکون ہے اور سعی حرکت ہے۔ دونوں کا ادراک سننے سے ہوتا ہے۔ لہٰذا یسمعون کا لفظ قرآن کریم کے اسلوب بیان کے مطابق نہایت ہی موزوں ہے۔
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشا ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

ومن ایتہ یریکم ۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یعقلون (30: 24) ” “۔ بجلی کی چمک اس کائناتی نظام اور اس کی تخلیق کا ایک منظر ہے۔ بعض سائنس دانوں نے اس کی تشریح یوں کی ہے کہ بادلوں کے اندر بجلی موجود ہوتی ہے ۔ جب ان کے دو ٹکڑے باہم ملتے ہیں تو اس ٹکراؤ سے بجلی کا ایک شرارہ بادلوں کے اندر پائے جانے والی بجلی کو مشتعل کردیتا ہے یا یوں ہوتا ہے کہ یہ بادل کسی پہاڑ کی چوٹی سے ٹکراتے ہیں اور ان سے یہ اشتعال پیدا ہوجاتا ہے اور اس سے یہ بجلی چمک اٹھتی ہے۔ بالعموم اس چمک اور تصادم کے بعد بارش ہوجاتی ہے۔ بہرحال اس کی حقیقت جو بھی ہو ، لیکن یہ اس کائنات میں دست قدرت کا ایک مظاہرہ ہے ، ایک خوفناک مظاہرہ ۔ یہ اللہ کی ان قوتوں اور قدرتوں کا ظہور ہے جو اس نے اس کائنات میں ودیعت کی ہوئی ہیں۔ کا اسلوب بیشتر اوقات میں یہی ہے کہ وہ ان قدرتی مظاہر کی حقیقت اور ان کے سائنسی اسباب پر بات نہیں کرتا بلکہ ان مظاہروں سے صرف یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ انسان کا دل و دماغ ان مظاہر کو دیکھ کر خالق تک رسائی حاصل کرلے۔ اس لیے قرآن مجید ان مظاہر سے یہی سبق عطا کرتا ہے کہ یہ قدرت الہیہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ ومن ایتہ یریکم البرق خوفا وطمعا (30: 24) ” اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے۔ خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی “۔ یہ وہ احساسات ہیں جو بجلی کی چمک کے ساتھ انسان میں عموماً پیدا ہوتے ہیں۔ انسان ڈرتا بھی ہے کیونکہ یہ انسانوں ، حیوانوں اور فصلوں کو جلا دیتی ہے۔ اور پھر اس عظیم قوت اور چمک اور کڑک کو دیکھ کر انسان کے اندر اس عظیم الکل کائنات کی قوتوں سے خوف پیدا ہوجاتا ہے اور طمع یوں پیدا ہوتا ہے کہ اکثر اوقات بجلی کے ساتھ بارش ہوتی ہے جو انسان کے لیے بہت ہی مفید ہوتی ہے ۔ اسی لیے قرآن کریم نے چمک اور کڑک کے ساتھ بارش کا ذکر کردیا ہے۔ وینزل من ۔۔۔۔۔ بعد موتھا (30: 24) ” اور آسمان سے پانی برساتا ہے اور پھر اس کے ساتھ مردہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے “۔ زمین کی طرف مرنے کی نسبت اور پھر مرنے کے بعد اس کی طرف زندگی کی نسبت کرکے یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ یہ زمین دراصل زندہ ہے۔ یہ بھی زندہ ہوتی ہے اور مرتی ہے۔ اور حقیقت میں بھی یہ ایسی ہی ہے جس طرح قرآن کریم اس کی تصویر کشی کر رہا ہے ۔ یہ زمین بھی دراصل ایک زندہ مخلوق ہے۔ یہ اللہ کے حکم کو امتثال ہوتی ہے۔ اپنے رب کی مطیع اور فرمانی بردار ہے۔ ہر وقت رب کے احکام پر لبیک کہتی ہے۔ یہ اللہ کی بندگی میں ہے اور یہ انسان جو اس کرہ ارض پر رینگ رہا ہے ، یہ بھی اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے۔ یہ بھی اس زمین کے ساتھ اللہ رب العالمین کے احکام کے ساتھ چلا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ جب زمین پر بارش ہوتی ہے تو اس کے اندر سرسبزی اور شادابی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے بڑھنے والی فصلیں اگتی ہیں اور اس زمین کی سطح پر وہ لہلہاتی ہیں۔ یوں یہ زمین زندہ نظر آتی ہے۔ اس طرح جس طرح انسان اور حیوان زندہ ہوتے ہیں۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (30: 24) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں
Ayahs 30:25–26

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جوں ہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا “ بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے۔

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں

“۔ ومن ایتہ ان ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل لہ قنتون (30: 25 – 26) آسمانوں اور زمین کا انتظام و قیام نہایت ہی سلیم و متین انتظام ہے جس کی حرکات متعین ہیں اور ان میں ایک سیکنڈ کی تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی۔ یہ اللہ جل شانہ کی تدبیر سے ہے۔ کوئی مخلوق یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ یا اس کے سوا کوئی اور یہ انتظام کر رہا ہے اور کوئی عقلمند شخص اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ یہ سب کچھ بغیر کسی کرنے والے مدبر کے ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ اللہ کے معجزات میں سے ایک معجزہ نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ یہ زمین و آسمان اللہ کے کھڑے کرنے سے کھڑے ہیں۔ اللہ کے احکام کی تعمیل کر رہے ہیں ، اس کے مطیع فرمان ہیں۔ ان میں کوئی سرتابی ، انحراف اور اضطراب نہیں ہے۔ ثم اذا دعا کم ۔۔۔۔۔ تخرجون (30: 25) ” پھر جونہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا پس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے “۔ جو سائنس دان بھی اللہ کے اس نظام اور ان اندازوں اور ان قدرتوں پر غور کرے وہ اللہ کی اس دعوت کے جواب میں لبیک ہی کہہ سکتا ہے کہ جب اللہ پکارے گا تو لوگ خود کار طریقوں سے نکل آئیں گے۔ اب یہاں اس باین اور مضمون کا خاتمہ آتا ہے اور اس میں بتایا جاتا ہے کہ انسان ، حیوان ، نباتات و جمادات سب کے سب اللہ کے مطیع فرمان ہیں۔ ولہ من فی السموت والارض کل لہ قنتون (30: 26) ” اور آسمان و زمین میں جو ہیں اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اس کے تابع فرمان ہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان میں جو مخلوق بھی ہے وہ اللہ کے بندے ہیں ، طوعاً و کرہا مطیع فرمان ہیں اور یہ سب کچھ اللہ کی سنت کے مطابق چلتے ہیں اور ان میں نہ مختلف ہو سکتا ہے اور نہ انحراف ہو سکتا ہے۔ سب چیزیں اللہ کی سنت اور مشیت کی محکوم ہیں۔ دینی اعتبار سے وہ مومن ہوں یا کافر ہوں۔ اگرچہ ان کا دل اور دماغ کافر ہوتا ہے لیکن ان کا پورا جسم اور ان کے گرد پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع ہے۔ جس طرح کائنات کی دوسری اشیاء سنت الہیہ کے لیے قانت اور مطیع ہیں اسی طرح انسان بھی ہے۔ رب کائنات کا یہ گہرا ، طویل اور عظیم سفر آخری اور اہم بات پر ختم ہوتا ہے کہ ایک دن تم نے اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے لیکن تم اس دن سے غافل ہو۔
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے ، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے

وھو الذی یبدء وا ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (30: 27) ” “۔ اس سورة میں آغاز تخلیق اور اعادہ تخلیق کا ذکر پہلے بھی ہوا ہے۔ اس طویل سفر اور کائنات کی سیر کے بعد ازسر نو اس کا ذکر اس اضافے سے کیا جاتا ہے۔ وھو اھون علیہ (30: 27) ” اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے “۔ حالانکہ اللہ کے لیے کوئی چیز نہ آسان ہے اور نہ مشکل ہے اس کا معاملہ تو یہ ہے۔ انما امرہ ۔۔۔۔۔ کن فیکون ” اس کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا ، پس وہ ہوجاتی ہے “۔ لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس انداز میں سمجھاتے ہیں جس طرح ، اللہ جانتا ہے کہ وہ سمجھ سکتے ہیں۔ لوگوں کے ہاں پہلی تخلیق سے اعادہ آسان ہوتا ہے لیکن وہ خود اپنے تجربات کے خلاف جاتے ہیں کہ ابتدائی تخلیق سے اعادہ مشکل ہے۔ حالانکہ اعادہ آسان ہونا چاہئے۔ ولہ المثل ۔۔۔۔ والارض (30: 27) ” آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے “۔ وہ آسمانوں اور زمین میں منفرد ہے۔ اس کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ وہ اکیلا اور حمید ہے۔ وھو العزیز الحکیم (30: 27) ” وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ زبردست ہے اور قاہر ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے اور حکیم ہے جو بھی کرتا ہے حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس کا کیا نہایت ہی پختہ اور پورا پورا ہوتا ہے۔ کامل مکمل۔ اس عظیم مطالعاتی سفر کے اختتام پر ، جس میں ہم نے اس کائنات کے آفاق ، طول و عرض ، اس کے ظاہری احوال اور اس کی گہرائیوں کا سفر کیا ، جس میں ہم نے مناظر بھی دیکھے اور حقائق بھی اخذ کیے ، اب سیاق کلام میں عقل و خرد کی تاروں پر آخری ضرب لگائی جاتی ہے