29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 29:1–3

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دئیے جائیں گے کہ ” ہم ایمان لائے “ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون

سورة العنکبوت ایک نظر میں سورة عنکبوت مکی ہے ، بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ اس کی پہلی گیارہ آیات مدنی ہیں۔ محض اس لیے کہ ان میں جہاد اور منافقین کا ذکر ہے۔ لیکن ہم اس قول کو ترجیح دیتے ہیں یہ پوری سورت مکی ہے اور اس کی آٹھویں آیت کے بارے میں یہ روایت آتی ہے کہ یہ سعد ابن ابی وقاص کے اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ عنقریب اس کا ذکر ہوگا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص مکہ میں مسلمان ہوئے۔ ظاہر ہے کہ جن آیات کو مدنی کہا گیا ہے یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ ان سب آیات کو مکی کہا جائے۔ رہی یہ بات کہ ان میں جہاد کا ذکر آیا ہے تو اس کی تاویل آسان ہے کیونکہ مضمون کلام سے یہاں آزمائشوں کے خلاف جہاد معلوم ہوتا ہے ۔ نفس کے خلاف جہاد اور نفاق کا ذکر بھی اسی کا مفہوم ہے یعنی اسی منافقت کہ ایک آدمی بات کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا۔ ان آیات میں لوگوں کے ایک مخصوص نمونے کا ذکر ہے۔ یہ پوری سورت آغاز سے اختتام تک ایک ہی لائن اور ایک ہی موضوع پر جاری ہے۔ اس کا آغاز حروف مقطعات اور ایمان اور ایمان والوں کی آزمائش سے ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب ایمان کسی شخص کے دل میں جاگزیں ہوجاتا ہے تو اس شخص سے ایمان بھاری تقاضے کرتا ہے کیونکہ ایمان صرف چند کلمات کا نام نہیں ہے جو کہہ دئیے جائیں بلکہ ایمان کے نتیجے میں جو مشکلات آتی ہے انکو برداشت کرنا ، اس کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے فرائض و مشکلات پر صبر کرنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کا محور اور موضوع ہی ” ایمان اور اس کے تقاضے “ ہے کیونکہ ایمان اور مشکلات راہ کے ذکر کے بعد حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت لوط ، حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قصص آتے ہیں۔ پھر عاد ، ثمود ، قارون ، فرعون اور ہامان کا ذکر ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر تمام زمانوں اور اقوام میں یہی صورت حال اہل ایمان کو پیش آتی رہی ہے یعنی ایمان کے ساتھ فتنے اور آزمائش لازم ہوتی ہیں۔ اس کے بعد یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس دنیا میں شر کی قوتیں ہمیشہ ایمان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں اور مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ شر کی قوتیں اہل ایمان کو معاشرے میں حقیر قوت ظاہر کرتی ہیں۔ ان کو نظر انداز کرتی ہیں لیکن اللہ ان کو خوب پکڑتا ہے۔ فکلا اخذنا ۔۔۔۔۔۔ من اغرقنا (29: 40) ” آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا۔ پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی ، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا ، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ، اور کسی کو غرق کردیا “۔ پھر ان تمام قوتوں کی ایک مجسم مثال دی جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں یہ کس قدر کمزور ہیں اللہ کی قوتیں جب اٹھتی ہیں تو یہ بےبس ہوتی ہیں۔ مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ لو کانو یعلمون (29: 41) ” جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے “۔ اس کے بعد یہ سورت اس سچائی کو جو تمام انبیاء کی دعوتوں میں پائی جاتی ہے ، اس سچائی کے ساتھ جوڑ دیتی ہے ، جو زمین اور آسمان کی تخلیق میں ہے اور اس کے بعد ان تمام دعوتوں کو حضرت محمد ﷺ کی دعوت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ سب اللہ کی جانب سے ہیں۔ سب دعوتیں اللہ وحدہ کی طرف پکارتی ہیں۔ اس کے بعد حضرت محمد ﷺ کی دعوت کی کتاب قرآن کریم پر بات ہوتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ مشرکین کا ردعمل اس کتاب کے حوالے سے کیا تھا۔ وہ اس کتاب کے ہوتے ہوئے خارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں حالانکہ اس کے اندر جو دعوت ہے وہ اللہ کی رحمت اور نہایت ہی بہترین راہنمائی اور یاد دہانی پر مشتمل ہے۔ اور پھر تعجب انگیز انداز میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس بارے میں جلدی کرتے ہیں کہ عذاب جلد کیوں نازل نہیں ہوتا حالانکہ جہنم تو بہت جلد ان کو اپنے گھیرے میں لینے والی ہے۔ پھر خود ان کی سوچ اور اپنے عقائد میں تضاد ہے۔ ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ لیقولن اللہ ” اگر ان سے پوچھو کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ، تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ نے “۔ ولئن سالتھم من نزول ۔۔۔۔۔۔۔ لیقولن اللہ ” اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے پانی کس نے نازل کیا ، پھر زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کے ساتھ اسے زندہ کردیا تو وہ کہیں گے کہ اللہ نے “۔ فاذا رکبوا ۔۔۔۔ لہ الدین (29: 56) ” جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں ، پورا دین اس لیے خالص کرتے ہوئے “۔ لیکن یہ عقائد رکھنے کے باوجود یہ لوگ شرک کرتے ہیں اور اہل ایمان کو آزمائشوں میں ڈالتے ہیں۔ اس بحث و مباحثے کے درمیان مومنین کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان آزمائشوں سے بچنے کیلئے ہجرت کریں ، موت سے نہ ڈریں ، کیونکہ کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون ” ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے ، پھر وہ سب ہماری طرف لوٹ کر آئیں گے “۔ نیز ہجرت کرتے ہوئے اس بات کی بھی پرواہ نہ کرو کہ ہم کھائیں گے کیا ، کیونکہ وکاین من دابۃ ۔۔۔۔۔ وایاکم (29: 60) ” کتنے ہی زمین پر چلنے والے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے ہوئے نہیں ہوتے ، اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی دیتا ہے “۔ سورت کے آخر میں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ان کی تعریف اور تمجید کی گئی ہے اور ان کو ہدایت پر مطمئن ہونے اور ثابت قدم رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ والذین جاھدوا ۔۔۔۔۔۔ لمع المحسنین (29: 69) ” وہ لوگ جنہوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا ، ہم ضرور ان کی راہنمائی اپنے راستوں کی طرف کریں گے ، بیشک اللہ محسن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے “۔ یوں سورت کا خاتمہ اس کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ہے اور اس طرح پوری سورت کے پیش نظر جو حکمت ہے ، وہ واضح ہوجاتی ہے۔ اور اسکے تمام حلقے مربوط ہوجاتے ہیں اور سب اس سورت کے محور کے اردگرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ چناچہ اس سورت کی بات ، اپنے اس موضوع پر تین راونڈز میں چلتی ہے۔ پہلے راؤنڈ میں ایمان کی حقیقت ، اللہ کی یہ سنت کہ وہ کارکنوں کو آزماتا ہے اور مشکلات میں مبتلا کرتا ہے اور پھر یہ کہ ایمان لانے والوں کا انجام کیا ہوگا اور کافروں کا انجام کیا ہوگا۔ اور یہ کہ ذمہ داری انفرادی ہے۔ لہٰذا قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون (29: 13) ” قیامت کے دن ضرور ان سے پوچھا جائے گا کہ وہ کیا افترا پردازیاں کرتے رہے تھے۔ دوسرے راؤنڈ میں وہ قصص ہیں جن کی طرف ہم نے ابھی اشارہ کیا۔ ان قصص میں بھی وہ مشکلات اور رکاوٹیں بیان کی گئی ہیں جو ہمیشہ دعوت اور داعی کی راہ میں آتی ہیں۔ لیکن آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی قوتوں کے سامنے ان مشکلات اور رکاوٹوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ بتایا جاتا ہے کہ رسولوں کی دعوت حق پر مبنی ہوتی ہے اور اس کائنات کی تخلیق بھی اس حق کے اصول پر ہے۔ جس حق پر کائنات استوار ہے اور جس پر دین و شریعت استوار ہے ، دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ تیسرے راؤنڈ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ نہ کرو مگر نہایت اچھے انداز میں۔ ہاں ان میں سے ایسے لوگوں کے خلاف سخت بات کی جاسکتی ہے جو ان میں سے ظالم ہوں۔ اہل کتاب سے یہ بات کی جاسکتی ہے کہ تمام ادیان ایک ہیں ، اور کافر جس دین اسلام کا انکار کر رہے ہیں ، یہ بھی تمام ادیان سماوی کا ہم مشرب دین ہے۔ سب کا سرچشمہ ایک ہے۔ اس راؤنڈ میں مشرکین کے ساتھ مباحثہ ہے۔ اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں کہ وہ مطمئن ہوجائیں ، ان کے لیے خوشخبریاں ہیں اور ثابت قدمی سے اپنی راہ پر چلیں ۔ کیونکہ وان اللہ لمع المحسنین (29: 69) ” بیشک اللہ محسنین کے ساتھ ہے “۔ آغاز سے اختتام تک دوران کلام جا بجا تبصرے آتے ہیں ، جن میں ایمان کی حقیت کو دلوں میں بٹھایا جاتا ہے۔ ان تبصروں کے ذریعے دلوں کو خوب جھنجھوڑا جاتا ہے۔ اور داعیان حق کے دلوں کو راہ ایمان کی مشکلات کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے کہ یا تو ان مشکلات کو برداشت کردیا اس راہ کو چھوڑدو۔ اگر تم ایمان کے تقاضے پورے نہ کروگے تو یہ نفاق ہوگا۔ غرض یہ ایسے اور ایسی ضربات ہیں جن پر ان نصوص کے ضمن ہی میں بحث کی جاسکتی ہے ، جن میں یہ ضربات آتی ہیں۔ لہٰذا مفصل بات ہم نصوص کی تشریح تک موخر کرتے ہیں اور یہاں اسی اشارے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ درس نمبر 180 تشریح آیات 1 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 13 ا۔ ل۔ م۔ ان حروف میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کتاب انہی حروف تہجی سے بنی ہے جو تمہیں معلوم ہیں اور تمہاری دسترس میں ہیں لیکن ان سے تم ایسی کتاب نہیں بنا سکتے جیسے قرآن ہے۔ اس لیے کہ یہ کتاب اللہ کا کلام ہے ، انسان کا کلام نہیں ہے۔ دوسرے مفسرین نے ان کے اور معانی بھی بیان کیے ہیں لیکن میں اس معنی کو ترجیح دیتا ہوں۔ اتل ما اوحی الیک من الکتب (29: 45) ” تمہاری طرف جو کتاب نازل کی جا رہی ہے اسے پڑھئے “۔ وکذلک انزلنا الیک الکتب (29: 47) ” اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی کتاب نازل کی ہے “۔ وما کنت۔۔۔۔۔ تخطہ بیمینک (29: 48) ” اس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اولم یکفھم ۔۔۔۔۔۔ علیھم (29: 51) ” کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر کتاب نازل کی ہے جو ان پر پڑھی جا رہی ہے “۔ یہ تذکرہ اسی قاعدے کے مطابق ہے اور اسی لیے ہم نے حروف مقطعات کی تفسیر میں یہ رائے اختیار کی ہے۔ ان کے بعد ایمان کی بات شروع ہوتی ہے اور ان آزمائشوں کی بات آتی ہے جو اس ایمان کی حقیقت سمجھنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں ، تاکہ معلوم ہو کہ مدعیان ایمان صادق ہیں یا کاذب ، اس لئے کہ سچے اور جھوٹے کی آزمائش ، آزمائش ہی سے ہوتی ہے۔ الم ۔۔۔۔۔ ولیعلمن الکذبین (1 – 3) ؟ اس سورت کے پہلے پر زور قطعہ کا یہ دھماکہ خیز اعلان ہے ، سرزنش آمیز سوالیہ کے ذریعے لوگوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ تم ایمان کو کیا سمجھتے ہو ؟ کیا ایمان صرف چند الفاظ کا نام ہے جو زبانی ادا کر دئیے جائیں ؟ احسب الناس ۔۔۔۔۔۔ لا یفترون (29: 2) ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دئیے جائیں گے کہ وہ کہہ دیں کہ ” ہم ایمان لائے “ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا “۔ ایمان چند کلمات کا نام نہیں ہے جو زبان سے کہہ دئیے جائیں بلکہ وہ ایک حقیقت ہے جس کے اپنے تقاضے ہیں۔ وہ ایک امانت ہے جس کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ یہ دراصل ایک جہاد ہے جس میں بڑے صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ بات کافی ہے کہ کوئی زبان سے کہہ دے ” ہم ایمان لائے “۔ اگر وہ ایمان کا دعویٰ کریں گے تو خود ان کی آزمائش شروع ہوجائے گی اور ان کی آزمائشوں میں ان کو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان آزمائشوں سے وہ صاف ہو کر نکلیں گے اور ان کے دلوں کو خالص ہونا ہوگا۔ فتنہ کے معنی ہیں سونے کو گرم کرکے اس سے کھوٹ جدا کرنا۔ اس لفظ کے یہ لغوی معنی بھی یہاں مراد ہیں کہ آزمائشوں کے نتیجے میں ہی خالص لوگ سامنے آتے ہیں۔ آزمائشوں سے نکل کر کارکنوں کے دل صاف و شفاف ہوجاتے ہیں لہٰذا ایمان کے اعلان کے بعد آزمائش کا آنا ایک اصولی بات ہے۔ ایک جاری سنت سے اور اللہ کا معیار ہے۔ جس پر اہل ایمان پرکھے جاتے ہیں۔ ولقد فتنا۔۔۔۔۔ الکذبین (29: 3) ” حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کو چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ہیں “۔ اللہ کو تو ہر دل کی حقیقت معلوم ہے۔ ابتلا سے پہلے ہی معلوم ہے ، لیکن مقصد یہ ہے کہ ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور لوگوں سے پوشیدہ ہے وہ کھل کر سامنے آجائے تاکہ لوگوں کے ساتھ حساب و کتاب ان کے اعمال کے مطابق کیا جاسکے۔ اور صرف اسی بات پر ان کا محاسبہ نہ ہو کہ اللہ کو علم تھا کہ وہ ایسا کریں گے۔ اور یہ ایک پہلو سے اللہ کا کرم ہے اور اللہ کا عدل ہے اور لوگوں کی تربیت ہے کہ کسی شخص کو صرف ان اعمال پر پکڑا جاسکتا ہے جو کھلے ہوں ، اور جو ایک عملی حقیقت ہوں۔ کسی کو اس کی نیت پر نہیں پکڑا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا کا کوئی حاکم اللہ سے زیادہ نبات کا جاننے والا نہیں ہے اب ہم اس مضمون کی طرف آتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کو ، اپنی سنت کے مطابق ہمیشہ آزماتا ہے اور انہیں بعض مشکلات سے دوچار کرتا ہے تاہ یہ معلوم ہو کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور نظریہ اس کائنات میں اللہ کی امانت ہے۔ اس امانت کے حامل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اس کی اہلیت رکھتے ہوں اور جن کے اندر اس کے اٹھانے کی قدرت ہو ، اور وہ ایمان اور نظریہ کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھتے ہوں ، جو اپنا آرام اور امن اور سکون و سلامتی ، سازو سامان اور عیش و عشرت اس پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایمان اور اسلامی نظریہ حیات اس زمین پر منصب خلافت الہیہ کا دوسرا نام ہے۔ بایں معنی کہ اس زمین پر مومن عوام الناس کا قائد ہو اور اللہ کے احکام کو اس دنیا کی زندگی میں حقیقت کا روپ دے۔ یہ ہے نہایت اہم اور قیمتی ذمہ داری اور یہ ایک ایسا کام ہے جو بہت ہی مشکل ہے اور اس کے لیے لوگوں کی ضرورت ہے جو مشکلات کو انگیز کرسکتے ہوں۔ اہل ایمان کی آزمائشوں میں سے ایک آزمائش یہ ہوتی کہ وہ ان مشکلات اور اذیتوں پر صبر کریں جو ان کو اہل باطل کی طرف سے پہنچیں۔ خصوصاً ایسے حالات میں کہ ان کے لیے کوئی مددگار اور سہارانہ ہو۔ مومن نہ اپنا دفاع کرسکتا ہو اور نہ اسے کسی طرح سے کوئی مدد ملتی ہو۔ نہ اس کے پاس کوئی ایسی قوت ہو جس کے ساتھ وہ زیادتی کرنے والوں کا مقابلہ کرسکے۔ یہ آزمائش کی سخت ترین صورت ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں جب آزمائش کا ذکر ہوتا ہے تو ایسی ہی صورت حالات مراد ہوتی ہے۔ لیکن فتنے اور آزمائش کی اس سے بھی زیادہ سخت اور شدید صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً بعض اوقات یہ خطرہ ہوتا ہے کہ ایک مومن کی وجہ سے اس کے دوستوں ، احباب اور رشتہ داروں کو بھی اذیت دی جائے گی۔ اور یہ مومن ان کے بارے میں بےبس ہوتا ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ احباب دہائیاں دیتے ہیں کہ مومن ان کی خاطر نرمی کرلے یا باطل کے ساتھ مصالحت کرے تاکہ اقرباء اور رشتہ داروں پر تشدد نہ ہو اور دوسرے لوگ تباہ و برباد نہ ہوں۔ اس سورت میں اس قسم کی آزمائشوں کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ جہاں مومن کے ساتھ بچے بھی مارے جاتے ہیں۔ آزمائش کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ بعض اوقات باطل پرستوں پر دولت کی بارش ہوتی ہے ۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اہل باطل خوشحال اور کامیاب ہیں۔ دنیا ان کے نعرے بلند کرتی ہے۔ عوام الناس تالیاں بجا کر ان کا استقبال کرتے ہیں۔ اس کے راستے سے رکاوٹیں دور ہوتی چلی جاتی ہیں اور لوگ ان پر قربان ہوتے ہیں اور ان کی زندگی نہایت ہی خوشگواری سے گزرتی ہے اور یہ مومن بیچارہ نظروں سے گرا ہوا ، غیر اہم جس کا کوئی حامی نہ ہو ، اور وہ جس عظیم سچائی کا حامل ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ہاں چند اس جیسے لوگ اور اس کے حامی ہوتے ہیں لیکن وہ خود معاشرے کے بےاثر لوگ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک مومن اپنے آپ کو بالکل تنہا محسوس کرتا ہے ، وہ دیکھتا ہے کہ وہ خود اپنی سوسائٹی میں غریب الدیار ہے۔ اس کا پورا ماحول گمراہی میں مبتلا ہے۔ اور اس ماحول میں وہ انوکھا لگ رہا ہے۔ اور آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مومن عجیب اذیت کے ساتھ آزمایا جاتا ہے ۔ ایک مومن دیکھتا ہے کہ اس کرہ ارض پر بعض اقوام گمراہی اور رذالت میں کانوں تک ڈوبی ہوئی ہیں لیکن یہ اقوام نہایت ترقی یافتہ ہیں اور نہایت خوشحال اور مہذب ہیں اور ایسی اقوام میں ایک فرد ، جو بھی ہو ، وہ ایک انسان کے لائق عزت اور دیکھ بھال پاتا ہے۔ یہ اقوام مالدار اور خوشحال ہیں حالانکہ یہ اللہ کی نافرمان اقوام ہیں۔ اور اس سے بھی ایک عظیم آزمائش ایک مومن کے لیے اور ہے۔ یہ بہت ہی شدید ہے۔ نفس ، نفسانیت اور شہوات کا فتنہ ، دنیا کی کشش ، جسمانی لذت ، دولت اور اقتدار کی پیاس ، خوشحالی اور مرفہ الخالی کی دوڑ ، اور صراط مستقیم اور راہ ایمان پر چلنے کی دشواری۔ پھر اخلاق و کردار اور نفس کے مخالف میلانات کی دشواری ، جدید دور کی زندگی کے حالات ، جدید لوگوں کی سوچ ، اور اہل زمانہ کے تصورات کے حملے اور آزمائش۔ اور جب ایک مومن کی جدوجہد طویل تر ہوجائے ، اور اللہ کی طرف سے نصرت آنے میں تاخیر اور آزمائش شدید اور ناقابل برداشت ہوجائے اور ان کا مقابلہ وہی شخص کرسکتا ہو جسے اللہ ہی لغزشوں سے بچا رہا ہو ، تو ایسے مومن ہی دراصل وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس امانت کا حق ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں پر اس عظیم امانت کے سپرد کیے جانے کا اعتماد کیا جاتا ہے۔ یعنی زمین کے بارے میں عالم بالا کی امانت اور انسانی ضمیر میں ایمان باللہ کی امانت۔ خدا کی قسم ، یہ بات نہیں ہے کہ اللہ آزمائشوں کے ذریعہ اہل ایمان کو محض سزا دینا چاہتا ہو ، یا ان کو مصائب میں مبتلا کرکے ان کو اذیت دینا چاہتا ہو ، بلکہ اللہ ان کو اس امانت کے اٹھانے کے لیے حقیقتاً تیار کرنا چاہتا ہے اور یہ تیاری اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اہل ایمان کو عملا مشتقوں میں مبتلا نہ کیا جائے ، جب تک وہ صبر کرکے ہر قسم کی خواہشات اور شہوات پر برتری حاصل نہیں کرلیتے ، جب تک وہ اذیتوں پر صبر کرنا سیکھ نہیں لیتے ، اور جب تک انہیں اللہ کی نصرت پر حقیقی بھروسہ نہیں ہوجاتا۔ اگرچہ نصرت الہیہ بہت دیر کر دے اور اگرچہ ابتلاؤں کا دور طول کھینچ لے اور بہت شدید ہوجائے۔ نفس انسانی کو جب مصیبتوں کی بھٹی میں گرمایا جاتا ہے تو اس کا کھوٹ دور ہوجاتا ہے۔ اس کی خفیہ قوتیں جوش میں آتی ہیں ، اس کی مدافعانہ قوتیں جمع ہوتی ہیں۔ مصائب کے یہ پہاڑ جب کسی پر ٹوٹتے ہیں تو اس کا باطل عیقل ہوجاتا ہے ، اس کا جسم مضبوط ہوتا ہے اور یہ مومن ان مصائب و شدائد کا خوگر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی جماعت پر یہ مشکلات آئیں تو وہ جماعت بھی اسی طرح صاف ہوجاتی ہے۔ اس کی صفوں سے کمزور لوگ نکل جاتے ہیں۔ مضبوط لوگ ہی رہ جاتے ہیں اور اولوالعزم اور قوی الارادہ اور اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق والے ہی جماعت میں رہتے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں کسی ایک نہ ایک اچھے نتیجے والے کی امید ہوتی ہے یا فتح کی یا اجراخروی کی اور یہی لوگ ہوتے ہیں ، جن کو آخر میں جھنڈے تھمائے جاتے ہیں اور اچھی تیاری اور ٹریننگ کے بعد پھر ان پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جب اس امانت کو اٹھاتے ہیں تو یہ پھر انہیں دل و جان سے عزیز ہوتی ہے اس لیے کہ انہوں نے اس کے لیے قربانیاں دی ہوتی ہیں اور اس کی بھاری قیمت ادا کی ہوتی ہے۔ اس کی خاطر انہوں نے صبر کیا ہوتا ہے اور مشقتیں جھیلی ہوتی ہیں اور جو کارکن اپنا خون اور اپنے اعصاب قربان کرتا ہے ، آرام اور اطمینان تج دیتا ہے۔ لذائذ اور مرغوبات کی قربانی دیتا ہے۔ اور پھر اذیتوں اور محرومیوں پر صبر کرتا ہے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہی کارکن کو اس امانت اور نظریہ کا شعور ہوتا ہے کہ اس کی قدرو قیمت کیا ہے۔ اس لیے وہ اسے ارزاں فروخت نہیں کرتا ، کیونکہ اس نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہوئی ہوتی ہے۔ رہی یہ بات کہ آخر کار یہ ایمان ، امانت اور اسلامی نظریہ حیات غالب ہو کر رہے گا تو یہ وہ وعدہ ہے جو اللہ نے کیا ہے اور اس کی ضمانت دی ہے۔ اور کوئی سچا مومن اللہ کے وعدے کے بارے میں شک نہیں کرسکتا ، اگر یہ وعدہ دیر سے حقیقت بنتا ہے تو اس کی بھی کوئی حکمت ہوگی۔ اس میں اہل ایمان کے لیے بھلائی ہوگی۔ جان لو کہ اللہ جس قدر حق پر غیرت کرتا ہے ، جس قدر ان کی حمایت کرتا ہے ، اس سے زیادہ حق کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ مومن کے لیے آزمائش اور مشقت ہی بہتر ہے تاکہ اس طرح وہ بندگان مختار میں شامل ہوجائے۔ حق کا امین بن جائے ، اور اللہ اس پر گواہ ہوجائے کہ اس کا دین مضبوط ہے اور وہ حمل امانت کا اہل ہے اس لیے اسے آزمائش کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے ” ابتلاؤں میں شدید اور مضبوط لوگ انبیاء ہوتے ہیں۔ پھر صالحین ہوتے ہیں ، اور ان کے بعد درجہ بدرجہ ، ہر آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر اس کا دین مضبوط ہو تو اسے زیادہ آزمایا جاتا ہے “۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کر رہے ہیں ، یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے ؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں

رہے وہ لوگ جو اہل ایمان پر ظلم کرکے ان کو آزماتے ہیں اور برے کام کرتے ہیں تو وہ تو عذاب الٰہی سے بچ ہی نہیں سکتے۔ اگرچہ ان کی باطل قوتیں بہت پھلی پھولی ہوں۔ اگرچہ بظاہر وہ کامیاب و فاتح ہوں۔ اللہ کا وعدہ یہ ہے اور آخر کار اس کی سنت یہ ہے ام حسب الذین ۔۔۔۔۔۔ ما یحکمون (4) ” اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کر رہے ہیں ، یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے ؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں “۔ کسی مفسد کو یہ خیال نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ بچ نکلے گا یا بھاگ جائے گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے تو اس کا یہ فیصلہ غلط ہے۔ اس نے غلط اندازہ کیا ہے ، اس کی سوچ پوچ ہے۔ کیونکہ اللہ نے اہل ایمان کی آزمائش کو ایک سنت بنایا ہے لیکن یہ اس لیے کہ سچے اور جھوٹے معلوم ہوجائیں ، اس کی سنت کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ وہ بدکاروں کو پکڑتا ہے اور اس کی سنت کبھی بدلتی نہیں ہے۔ یہ اس سورت کے آغاز ہی میں ایک دوسری ضرب ہے ، کہ آنکھیں کھول لو ، اگر اہل ایمان کو آزمائش کی بھٹی سے گزارنا اور کھوٹے اور کھرے کے درمیان تمیز کرنا خدا کی سنت ہے تو بدکاروں اور مفسدوں کو پکڑنا بھی تو اللہ کی سنت ہے اس کے لیے بھی تیاریاں کو لو۔ اور تیسری ضرب ، اس سورت کے آغاز میں یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ سے ملنے کا یقین ہے وہ اطمینان رکھیں اور یقین کرلیں جس طرح ان کے دل یقین کے درجے تک پہلے ہی پہنچ چکے ہیں کہ وقت آنے والا ہے۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہے (اسے معلوم ہونا چاہئے کہ) اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے ، اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

من کان یرجوا ۔۔۔۔۔۔۔ السمیع العلیم (5) جو دل اللہ کی ملاقات کی امیدیں لیے ہوئے ہیں وہ مطمئن ہوجائیں اور انتظار کریں ان چیزوں کا جن کا اللہ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے۔ یہ انتظار اس انداز کا ہونا چاہئے جس طرح کسی کو کسی چیز کے ملنے کا پختہ یقین ہو اور وہ اس کا منظر ہو۔ بس دن کے آنے کا انتظار ہو ، اور شوق ملاقات بڑھتا ہی جائے۔ یہاں ایسے پاکیزہ قلوب کی تصویر بڑی اشاراتی ہے۔ ایک ایسے شخص کی تصویر جو ملاقات کا امیدوار بھی ہے ، مشتاق بھی ہے ، مربوط بھی ہے اور ایسے شخص کے شوق کے جواب میں اسے نہایت ہی فرحت بخش اشارے ملتے ہیں کہ دیکھو ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں اور ہمیں پورا پورا علم ہے۔ وھو السمیع العلیم (29: 5) ” اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ چوتھی ضرب کا رخ ان لوگوں کی طرف ہے جو ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی سعی میں لگے ہوئے ہیں ، جہاد فی سبیل اللہ کی تکالیف اٹھاتے ہیں کہ یہ جہاد اور مشقتیں وہ اپنے لیے برداشت کر رہے ہیں۔ اپنے جمال و و کمال اور اپنی خیر اور بھلائی کے لیے ، اللہ کو تو ان چیزوں کی چنداں ضرورت نہیں ہے وہ تو جہانوں اور کائنات سے غنی ہے۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

جو شخص بھی جہاد کرے گا اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا۔ اللہ یقیناً دنیا جہان والوں سے بےنیاز ہے

ومن جاھد ۔۔۔۔۔ عن العلمین (6) ” “۔ جب اللہ مومنین کے لیے آزمائشیں مقرر کرتا ہے اور ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ یہ مشتقیں برداشت کریں تاکہ ان کے نفوس جنگاہ حیات میں مشکلات برداشت کرنے کے اہل بن جائیں ، تو یہ احکام بھی خود اہل ایمان کی اصلاح کے لیے ہیں۔ یہ ان کو مکمل بناتے ہیں اور دنیا اور آخرت دونوں میں اہل ایمان کے لیے خیر کا باعث بنتے ہیں۔ جہاد کی وجہ سے خود ایک مومن کا نفس اور اس کا قلب پاک ہوتا ہے۔ ان کے تصورات میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور اس کے پیش نظر دنیا کے آفاق وسیع ہوتے ہیں۔ یہ حسب مال اور حب نفس سے بھی بلند ہوجاتا ہے ، اب اس کی شخصیت کے اعلیٰ جو ہر کھلتے ہیں اور اس کی صلاحیت سامنے آتی ہے۔ اس کے بعد پھر وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر ایک سوسائٹی کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ اس سوسائٹی کی اصلاح ہوتی ہے ، اسے فائدہ ملتا ہے۔ اس میں حق کے جھنڈے بلند ہوتے ہیں ، بھلائی پھیلتی ہے اور غالب ہوتی ہے اور شر مغلوب ہوتا ہے۔ اصلاح کو ترقی ملتی ہے اور فساد سکڑتا ہے۔ ومن جاھد فانما ۔۔۔۔ لنفسہ (29: 6) ” جو شخص بھی جہاد کرے گا تو وہ اپنے بھلے کے لیے کرے گا “۔ کوئی شخص جہاد شروع کرکے ، آدھی راہ میں کھڑا نہ ہوجائے کہ لائیے جی معاوضہ اب تک کے جہاد کا۔ یا اللہ پر احسان جتلائے یا تحریک اسلامی پر احسان جتلائے یا یہ کہے کہ جی اس قدر جدوجہد سے ہمیں کیا ملا کیونکہ اس کے جہاد سے اللہ کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ اللہ کو انسانوں کی طرف سے جہاد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کیا ہے اور اس کا جہاد کیا ہے ؟ اللہ تو دو جہانوں سے بےنیاز ہے۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ اس نے اس ضعیف انسان کو اس عظیم کام کے لیے منتخب کیا۔ اسے زمین کا خلیفہ بنایا اور وہ اس زمین میں کام تو اپنے لیے کرتا ہے پھر بھی اللہ اسے اجر وثواب دیتا ہے۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک اعمال کریں گے ان کی برائیاں ہم ان سے دور کردیں گے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا دیں گے

والذین امنوا اعملوا ۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (7) لہٰذا اللہ کی راہ میں کام کرنے والے مزدور اس بات پر مطمئن ہوجائیں کہ انہیں بہت کچھ ملنے والا ہے ، ان کی تقصیرات بھی معاف ہوں گی ، ان کو اچھی جزاء ملے گی ، لہٰذا ان کو جہاد کی تکلیفوں پر صبر کرنا چاہئے۔ مشکلات اور مصائب کو برداشت کرنا چاہئے کیونکہ ان کی امید روشن ہے اور جزاء پاکیزہ ہے۔ اللہ کے ہاں ان کا انتظار ہو رہا ہے۔ یہ اس قدر عظیم اجر ہے کہ اگر انہیں اس دنیا کی پوری زندگی میں انصاف نہ ملے تو بھی وہ کافی ہے۔ سورت کے آغاز میں ہم نے جن آزمائشوں کا ذکر کیا اس کا ایک رنگ اور پہلو اہل و عیال ، محبوبوں اور دوستوں کا فتنہ ہے۔ ان آزمائشوں میں اللہ ایک مومن کو نہایت ہی معتدل موقف اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔
Ayahs 29:8–9

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھہرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر۔ میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے ، پھر میں تم کو بتا دوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے ان کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے

ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فی الصلحین (8 – 9) والدین ، تمام اقرباء میں سے قریب تر اور زیادہ قابل احترام ہوتے ہیں ، ان کے حوالے سے اولاد کو مجسم شفقت بن جانا چاہئے اور ازروئے شریعت ان پر رحم اور ان کا احترام فرض کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ محبت کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا احترام کیا جائے ، اور ان کی اچھی طرح کفالت اور دیکھ بھال کی جائے ، لیکن ان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ اللہ کے حقوق مار کر ان کو دئیے جائیں اور ان کی اطاعت اس طرح کی جائے کہ اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہو یہ ہے صحیح راستہ۔ ووصینا الانسان ۔۔۔۔۔۔ فلا تطعھما (29: 8) ” ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھہرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر “۔ کیونکہ مومن کا پہلا تعلق اللہ سے ہے اور یہی تعلق اور رابطہ ناقابل شکست ہے اگر والدین مشرک و کافر ہوں تو ان کے ساتھ صرف حسن سلوک کیا جائے گا۔ احترام و رعایت ہوگی ، اتباع ان کا نہ ہوگا ، دنیا کی اس مختصر زندگی میں یہی ہوگا ، اصل تو آخرت ہے جہاں دونوں اللہ کے سامنے ہوں گے۔ الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون (29: 8) ” میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے ، پھر تم کو بتا دوں گا کہ کہ تم کیا کرتے رہے ہو “۔ قیامت میں پھر تعلق والدین و اولاد کا نہ ہوگا۔ وہاں تو مومن باہم تعلق دار ہوں گے۔ نسب اور رشتے یہیں رہ جائیں گے۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ فی الصلحین (25: 9) ” جو لوگ ایمان لائے ہوں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے ان کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے “۔ یوں اللہ والے ایک جماعت ہوں گے ، جیسا کہ حقیقتاً وہ ایک جماعت ہیں۔ اور نسب ، خون اور رشتے وہاں ختم ہوں گے۔ یہ چیزیں یہاں دنیا ہی میں رہ جائیں گی۔ یہ اس دنیا کے عارضی رشتے ہیں اور جو رشتے اس اصلی رشتے سے کٹ گئے یعنی رشتہ ایمان سے تو آخرت میں وہ نابود ہوں گے۔ امام ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت سعد ابن ابی وقاص ؓ اور ان کی ماں حمنہ بنت ابی سفیان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ اپنی ماں کے ساتھ بہت زیادہ حسن سلوک کرتے تھے۔ اس نے ان سے کہا ” یہ کیا دین ہے جو تو نے اپنایا ہے ؟ خدا کی قسم میں اس وقت تک کچھ کھاؤں گی نہ پیئوں گی جب تک تم اس دین سے ٹوٹ نہیں جاتے یا یہاں تک کہ میں مرجاؤں۔ اسی طرح لوگ پوری زندگی تمہیں طعنہ دیتے رہیں گے اور لوگ کہیں گے ” اے ماں کے قاتل “ اس نے چوبیس گھنٹے تک یہ بھول ہڑتال کی تو حضرت سعد ان کے پاس آئے اور عرض کی ” اے ماں ، اگر تمہاری سو جانیں ہوں اور تم ایک کے بعد ایک جان دیتی چلی جاؤ تو بھی میں اپنا دین چھوڑنے والا نہیں ہوں۔ اگر چاہو تو کھا پی لو اگر نہ چاہو تو بھوک ہڑتال جارہی رکھو “۔ جب وہ مایوس ہوگئی کہ یہ تو ماننے والا نہیں ہے تو اس نے کھانا پینا شروع کردیا۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ، لیکن شرک کرنے میں والدین کی اطاعت نہ کرو “۔ یوں اس واقعہ میں نسب کے قریب ترین رشتے پر ایمان غالب آگیا لیکن قرآن نے رشتہ داروں اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک جاری رکھا۔ اہل ایمان کو ہر دور میں ایسی مشکلات پیش آتی رہتی ہیں۔ لہٰذا یہ آیت اور حضرت سعد کی یہ حدیث ہمارے لیے نشانات راہ ہیں۔ یہی امن و نجات کی راہ ہے۔
Ayahs 29:10–11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر ، مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرف سمجھ لیا۔ اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ ” ہم تو تمہارے ساتھ تھے “۔ کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال ، اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون “۔

اب ، مشکلات راہ ایمان ہی کے حوالے سے ایک دوسرا کردار ، کہ جب مشکلات آتی ہیں تو چیختا چلاتا ہے ، لیکن جب اللہ کی طرف سے کامیابی اور فتوحات آتی ہیں تو پھر لمبے جوڑے دعوے کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ چند کلمات میں اس کردار کو بھی نمایاں فرماتا ہے ، یوں کہ ایک واضح تصویر سامنے آجاتی ہے۔ ومن الناس من یقول ۔۔۔۔۔۔ ولیعلمن المنفقین (10 – 11) لوگوں میں ایسے کردار عام ہیں ، ایسے لوگ لفظ ایمان کو ایک معمولی بات سمجھ کر اقرار کرتے ہیں ۔ سمجھتے ہیں کہ اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ صرف زبان سے کلمہ پڑھنا ہے ۔ اس کے کچھ تقاضے نہیں۔ لیکن جب اللہ کی راہ میں تکالیف آتی ہیں ، اور یہ آزمائش اس کلمے کی وجہ سے آتی ہیں تو جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ (29: 10) ” اس آزمائش کو اللہ کا عذاب سمجھتا ہے “۔ اور جزع و فزع اور فرمادیں شروع کردیتا ہے۔ اب اس کی دینی قدریں مختلف ہوجاتی ہیں۔ اس کا عقیدہ متزلزل ہوجاتا ہے۔ کہتا ہے کہ یہی تو جہنم کا عذاب ہے ، جہنم میں ہیں ہم۔ سوچتا ہے کہ یہی تو عذاب الیم ہے۔ لہٰذا ایمان پر جمنے کی کیا ضرورت ہے۔ آخر جس مصیبت میں ہم ہیں جہنم اس سے کیا زیادہ ہوگی۔ یہ ہوتی ہے اس کی سوچ۔ وہ دنیا کی اس معمولی تکلیف کو عذاب الٰہی سمجھتا ہے۔ حالانکہ جہنم میں وہ عذاب ہوگا جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ، نہ اس کی حدود ہوں گی۔۔ یہ تو تھا اس کا کردار آزمائش میں۔ لیکن اگر خوشیاں ہوں تو۔ ولئن جآء نصر ۔۔۔۔۔ کنا معکم (29: 10) ” اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے “۔ ہم تمہارے ساتھ تھے۔۔ اور مشکلات میں وہ کس قدر ہلکا ، ذلیل اور اس کی سوچ اور اس کے تخمینے کس قدر غلط تھے ۔۔۔ اب تو وہ لمبے چوڑے دعوے کر رہا ہے ، پھولا نہیں سماتا ، اب کہتا ہے۔ انا کنا معکم (29: 10) ” ہم تو تمہارے ساتھ تھے “۔ اور جواب خوب آتا ہے۔ اولیس اللہ باعلم بما فی صدور العلمین (29: 10) ” کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ؟ “ تمہارے دل کی فلم اللہ کے ہاں موجود ہے۔ اللہ کو تو معلوم ہے کہ کون صابر رہا اور کون جزع و فزع کرتا رہا۔ مومن کون ہے اور منافق کون ہے۔ کیا یہ اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ ولیعلمن اللہ ۔۔۔۔۔ المنفقین (29: 11) ” اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون ہیں “۔ اللہ تو ان کو ظاہر کرنا چاہتا ہے اور یہ ضرور ظاہر ہوتے رہیں گے۔ یہ آزمائشیں تو آتی ہی اس لیے ہیں کہ کھرے اور کھوٹے جدا ہوں۔ اس منافق کردار کے بارے میں یہاں قرآن کریم نے جو الفاظ استعمال کیے وہ قابل غور ہیں۔ ان الفاظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کردار کو غلطی کہاں سے لگی ہے۔ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ (29: 10) ” تو لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرف سمجھ لیا “۔ ان کی غلطی یہ نہیں ہے کہ ان پر جو سختی آئی اس کے برداشت کرنے میں ان کا صبر تمام ہوگیا ، کیونکہ بعض اوقات ایک سچا مومن بھی برداشت نہیں کرسکتا ، کیونکہ انسانی طاقت کے بہرحال حدود ہوتے ہیں۔ لیکن ایک سچا مومن انسانوں کی طرف سے آنے والی اذیتوں اور اللہ کے عذاب کے درمیان بہرحال تمیز کرتا ہے۔ وہ اس قدر غلطی نہیں کرسکتا کہ اس فانی دنیا کی کوئی چیز اور اللہ کے ہاں دائمی رہنے والے عالم آخرت کی کوئی چیز برابر ہو سکتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا کا ناقابل برداشت عذاب بھی آخرت کے عذاب الٰہی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ مومن کے احساس میں اللہ اور اس کے بےمثال کام میں کوئی چیز اس کے برابر نہیں ہوسکتی یہ ہے فرق مومن اور منافق کے درمیان۔
Ayahs 29:12–13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

یہ کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اوپر لے لیں گے۔ حالانکہ ان کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں ، وہ قطعا جھوٹ کہتے ہیں

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

ہاں ضرور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی۔ اور قیامت کے روز یقیناً ان نے ان افترا پردازیوں کی باز پرس ہوگی جو وہ کرتے رہتے ہیں

آخر میں لوگوں کو گمراہ اور بدراہ کرنے کی آزمائش کا نمونہ آتا ہے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ جزاء و سزا کے بارے میں اہل کفر کا تصور کسی قدر پوچ ہے کہ ایک شخص دوسرے کو گمراہ کرکے اخروی ذمہ داری خود لیتا ہے حالانکہ اللہ کے ہاں یہ اصل الاصول ہے کہ ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہے۔ یہ اعلیٰ درجے کا انصاف ہے جو اسلام نے واضح طور پر قائم کیا۔ یہ عدل کا زریں اصول ہے۔ وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ کانوا یفترون (12 – 13) یہ بات ، یہ لوگ اس بددیانہ اصول کے مطابق کہتے تھے جس میں جرائم کے سلسلہ میں ذمہ داری اجتماعی ہوا کرتی تھی۔ کسی جرم کا ذمہ دار اور پورا قبیلہ ہوتا تھا۔ اس غلط رواج کے تحت وہ یہ بھی زعم رکھتے تھے کہ آخرت میں شرک کی ذمہ داری بھی وہ اپنے سر لے سکتے ہیں اور اس طرح وہ ان کو جرم کی سزا سے بچالیں گے۔ یہ دراصل آخرت کی جزاء و سزا کے ساتھ مزاح کر رہے تھے۔ اتبعوا سبیلنا ولنحمل خطیکم (29: 12) ” تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اوپر لے لیں گے “۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اٹل جواب آج ہے کہ ہر شخص اللہ کے سامنے ضرور حاضر ہوگا۔ ہر شخص سے اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ اور کوئی شخص کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ وما ھم بحملین من خطیھم من شئ (29: 12) ” حالانکہ ان کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں “۔ اور بتایا جاتا ہے کہ یہ جو لاف زنی کرتے ہیں اس میں جھوٹے ہیں۔ انھم لکذبون (29: 12) ” وہ قطعا جھوٹ کہتے ہیں “۔ ہاں یہ لوگ اپنی گمراہی کا بوجھ بھی اٹھائیں گے ، شرک کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اس افترا پردازی کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ جب دوسرے گمراہ ہونے والے بھی معاف نہ ہوں گے۔ ولیحملن اثقالھم ۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (29: 13) ” ہاں وہ ضرور اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے ، اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت بوجھ بھی ، اور قیامت کے روز یقیناً ان سے ان افترا پردازویوں کی باز پرس پوگی جو وہ کرتے رہے ہیں “۔ چناچہ اس آزمائش اور فتنے کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا جاتا ہے اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ لوگوں کا حساب و کتاب جماعتی صورت میں نہ ہوگا ، فرداً فرداً ہوگا اور ہر شخص اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ کل امری بما کسب رھین ” ہر شخص اس کمائی کا رہن ہوگا جو اس نے کمائی “۔
Ayahs 29:14–15

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس ان کے درمیان رہا۔ آخر کار ان لوگوں کو طوفان نے آگھیرا ، اس حال میں کہ وہ ظالم تھے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر نوح کو اور کشتی والوں کو ہم نے بچالیا اور اسے دنیا والوں کے لیے ایک نشان عبرت بنا کر رکھ دیا

درس نمبر 181 ایک نظر میں سابقہ راؤنڈ میں یہ بتایا گیا تھا کہ جو لوگ کلمہ ایمان کا اقرار کرتے ہیں ، اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ان کو ضرور آزمایا جائے گا اور مشکلات سے دوچار کیا جائے گا تاکہ سچوں اور جھوٹوں کے درمیان امتیاز ہوجائے۔ آزمائشوں میں اذیت کی آزمائش ، رشتہ داروں کی آزمائش اور سازشوں اور لالچوں کی آزمائش شامل ہے۔ اس سبق میں ان آزمائشوں کا ذکر ہے جو نوح (علیہ السلام) سے ادھر ہر اسلامی دعوت کے قائدین کو پیش آتی رہی چاہے وہ نبی ہیں یا ان کے متبعین اور ساتھی ہیں۔ دعوت و عزیمت کی اس تاریخ میں حضرت ابراہیم اور حضرت لوط (علیہما السلام) کے حالات کو ذرا تفصیل سے لیا گیا ہے اور دوسرے انبیاء کے حالات مجملا بیان ہوئے ہیں۔ ان قصص میں بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ میں قسما قسم کی مشکلات اور رکاوٹیں آتی رہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے طویل جدوجہد کی اور حاصل نہایت معمولی رہا۔ نو سو پچاس سال کی جدوجہد کے نتیجے میں بہت کم لوگ مسلمان ہوئے۔ فاخذھم الطوفان وھم ظلمون (29: 14) ” آخر کار ان لوگوں کو طوفان نے آگھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں سرکش حکمران نے یہ صلہ دیا کہ وہ تشدد پر اتر آیا ، حالانکہ آپ نے حتی المقدور ان کی ہدایت کے لیے سعی کی۔ معقول دلائل سے بات کی تو اس قوم کا ردعمل بھی یہ تھا : فما کان جواب ۔۔۔۔۔ حرقوہ (29: 24) ” پھر ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا ” قتل کر دو اسے یا چلا ڈالو اس کو “۔ حضرت لوط کے قصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رذیل لوگ کس قدر خود سر ہوگئے ہیں اور کس قدر بےحیا اور طوطا چشم بن گئے تھے۔ نبی کا بھی کوئی لحاظ اور احترام نہیں کرتے تھے اور انہوں نے انسانیت کو حیوانات کے درجے سے بھی گرا دیا تھا اور وہ گندگی اور رذائل میں مبتلا ہوگئے تھے اور وہ اپنے ڈرانے والے ہمدرد کے مقابلے میں یہ جرات کرتے ہیں۔ فما کان جواب ۔۔۔۔۔ من الصدقین (29: 29) ” اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ کا عذاب ہم پر لے آؤ “۔ حضرت شعیب کے قصے میں بھی اہل مدین کی طرف سے فساد و سرکشی سامنے آتی ہے ، اور وہ سچائی اور حق سے منہ موڑتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔ فاخذتھم الرجفۃ ۔۔۔۔۔ جثمین (29: 37) ” آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ قوم عاد اور قوم ثمود کی طرف غرور ، قوت اور سرکشی کے مظاہرے کا اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح فرعون ، قارون اور ہامان کی طرف یہ اشارہ کیا گیا کہ انہوں نے حق کے مقابلے میں مال و دولت ، حکومت ، سازش اور سرکشی کو سرچشمہ قوت سمجھا ان تمام تاریخی قوتوں پر قرآن یہ تبصرہ کرتا ہے کہ یہ قوتیں ، چاہے وہ جس قدر زور دار کیوں نہ ہوں جب سچائی کے مقابلے میں آتی ہیں تو ان کی حیثیت مکڑی کے جالے کے برابر ہوجاتی ہے۔ کمثل العنکبوت ۔۔۔۔۔ لا کانوا یعلمون (29: 41) ” ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے ، اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے “۔ درس نمبر 181 تشریح آیات 14 ۔۔۔ تا۔۔۔ 44 ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وجعلنٰھا ایۃ للعٰلمین (24 – 25) حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک دعوت دی۔ نبوت عطا ہونے سے پہلے بھی ان کی کچھ زندگی گزری ہوگی جس کا تعین یہاں نہیں ہے اور طوفان کے بعد بھی وہ زندہ رہے تھے ، وہ عرصہ بھی متعین نہیں ہے۔ اس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر بظاہر موجودہ عمر طبیعی سے بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے لیکن یہ عمر قرآن نے بتائی ہے جو اس کائنات میں سب سے سچا ذریعہ علم ہے اور اس کی صداقت کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ قرآن کی تصریح ہے۔ اس کی توضیح اس طرح ہو سکتی ہے کہ اس وقت دست قدرت نے طویل عمریں اس لیے رکھیں کہ زمین آباد ہو اور نسل پھیلے۔ جب لوگوں کی کثرت ہوئی تو پھر لمبی عمر کی ضرورت نہ رہی۔ کئی زندہ چیزوں میں یہ اصول مروج نظر آتا ہے ، اگر کسی زندہ کی تعداد کم ہو تو عمر زیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً شکاری پرندے شاہین وغیرہ اور کچھوے جن کی عمریں اب بھی سینکڑوں سال ہوتی ہیں جبکہ مکھی زیادہ سے زیادہ دو ہفتے زندہ رہتی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ بعاث الطیر اکثرھا فراخا وام الصقر مقلاۃ نزور ” کمزور پرندوں کے بچے زیادہ ہوتے ہیں لیکن شاہین کی ماں بہت ہی کم بچے دینے والی ہوتی ہے “۔ یہی وجہ ہے کہ شاہین کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور چھوٹے اور زیادہ بچے دینے والے پرندے کم عمر ہوتے ہیں۔ اللہ کے کام حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز مقدار کے مطابق ہے۔ بہرحال حضرت نوح کے ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے نتیجے میں ایک قلیل مقدار ہی اسلام میں آئی اور اکثریت کو ان کے ظلم کی وجہ سے طوفان بہا کرلے گیا۔ چونکہ انہوں نے اس قدر طویل ہٹ دھرمی اور سرکشی کی اس لئے اللہ نے ان کو تباہ کیا اور عدو قلیل کو نجات دی جو مومن تھے۔ یہ اصحاب سفینہ تھے۔ انہی سے بعد میں انسانی نسل چلی۔ اور طوفان تمام جہاں والوں کے لیے معجزہ بن گیا اور ایک عرصہ تک ظلم ، شرک اور کفر کا انجام قصہ نوح کے حوالے سے یاد ہوتا رہا۔ نوح (علیہ السلام) کے بعد صدیوں کی تاریخ کو لپیٹ کر قرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کو لیتا ہے۔
Ayahs 29:16–18

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو بھیجا جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا : ” اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پوج رہے ہو وہ تو محض بت ہیں اور تم ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو۔ در حقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اللہ سے رزق مانگو ، اور اسی کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو ، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں ، اور رسول ﷺ پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے

و ابراہیم اذ قال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔ علی الرسول الا البلغ المبین (16 – 18) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو نہایت واضح اور سادہ دعوت دی جس میں کوئی پیچیدگی اور اجمال نہ تھا۔ اس دعوت کو انہوں نے نہایت مرتب انداز میں پیش کیا۔ جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ دعوت کی اس ترتیب اور انداز پر غور کریں۔ پہلے تو انہوں نے اپنی دعوت کی حقیقت ان کے سامنے رکھی۔ اعبدوا اللہ واتقوہ (29: 16) ” اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو “۔ اور اس کے بعد انہوں نے ان کے دلوں میں اس دعوت کے لیے دلچسپی پیدا کی کہ اس میں تمہارے لیے بہت خیر ہے ، بشرطیکہ وہ اچھائی اور برائی کو سمجھیں۔ خیر اور مقامات خیر کو جانیں۔ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون (29: 16) ” یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو “۔ اس شرطیہ تعقیب میں ان کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ جہالت کو ترک کرکے اور اپنی ذات کے حوالے سے جہالت کی نفی کرکے اپنے لیے بھلائی کی راہ اختیار کریں۔ یہ ایک حقیقت بھی ہے محض ایک خطابت اور جوش خطابت کی ہٹ دھرمی نہیں ہے اور نہ محض لفاظی ہے۔ تیسرے مرحلے میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ جو عقائد و نظریات رکھتے ہیں وہ متعدد پہلوؤں سے غلط ہیں۔ وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور یہ بت پتھر یالکڑی سے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ بندگی اور پوجا نہایت غلط اور کھوٹا عمل ہے۔ جبکہ یہ انہیں اللہ وحدہ کی بندگی سے بھی روک رہا ہے۔ پھر وہ جو پوجا کرتے ہیں اس پر کوئی معقول برہان و دلیل بھی نہیں ہے بلکہ کچھ جھوٹی باتیں ہیں جو انہوں نے ازخود گھڑ رکھی ہیں۔ ان کا نہ کوئی سابقہ اور نہ کوئی لاحقہ ہے بلکہ جھوٹی خود ساختہ باتیں ہیں۔ اور کسی مسلمہ اصول و قاعدے پر مبنی نہیں ہیں۔ پھر یہ بت ان کو کوئی نفع یا نقصان بھی نہیں پہنچا سکتے۔ نہ ان کو کچھ دے سکتے ہیں۔ ان الذین تعبدون ۔۔۔۔۔ لکم رزقا (29: 17) ” در حقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو ، وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے “۔ اور چوتھے مرحلے میں قرآن پھر ان کو متوجہ کرتا ہے کہ اللہ سے رزق طلب کرو کہ وہ وحدہ رزاق ہے۔ یہ بات ان کے لئے بہت اہم ہے اور ان کی حاجات اور ضروریات اللہ کے دربار ہی سے پوری ہو سکتی ہیں۔ فابتغوا عند اللہ الرزق (29: 17) ” اللہ سے رزق مانگو “۔ رزق دراصل مشغلہ نفوس ہے ، خصوصا نفوس مومنہ کا۔ اور رزق کو صرف اللہ کے ہاں طلب کرنا ایک حقیقت بھی ہے۔ یہ محض نفسیاتی ہیجان انگیزی نہیں ہے ، نہ نفسیاتی میلان ہے جسے ابھارا جا رہا ہو ، بلکہ ایک حقیقت ہے۔ آخر میں انکو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ انعامات اور ارزاق کے حقیقی مسبب اور حقیقی منعم کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔ واعبدوہ واشکروا لہ (29: 17) ” اور اس کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو “۔ آخر میں ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس سے بھاگ نہیں سکتے ، نہ اس اللہ سے تم کہیں پناہ پاسکتے ہو۔ لہٰذا مناسب یہی ہے اور اسی میں تمہاری بھلائی ہے کہ تم اس کی طرف لوٹ آؤ اور ایمان لاکر اس کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو ، الیہ ترجعون (29: 17) ” اسی کی طرف تم پلٹ کر جانے والے ہو “۔ اور اگر اس دعوت کے بعد وہ تمہاری تکذیب کریں تو اس تکذیب کی کیا حیثیت ہے ! اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی نقص یا کمی واقع نہیں ہوتی۔ نہ رسول اللہ ﷺ کے مقام و مرتبے میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کئی لوگوں نے تکذیب کی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ آپ ﷺ بس تبلیغ کردیں۔ وان تکذبوا فقد ۔۔۔۔۔۔ البلغ المبین (29: 18) ” اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ یوں قرآن کریم قدم بقدم ان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ اور ان کے دلوں پر ہر طرف سے اثر انداز ہوتا ہے اور ان کے دل کے تاروں کو ہر طرف سے چھیڑتا ہے۔ یہ تدریجی اقدامات دعوت پیش کرنے کا ایک بہترین نمونہ ہیں اور دعوت اسلامی کے کارکنوں کو اس انداز پر اچھی طرح غور کرنا چاہئے۔ اور اس انداز سے انسانی نفوس پر اثر انداز ہونا چاہئے۔ قبل اس کے کہ اس کہانی کو اختتام تک پہنچایا جائے۔ ایک وقفہ کیا جاتا ہے اور یہ ایک لمحہ فکر یہ ہے۔ اسمیں ہر اس شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے جو دعوت ایمان کا منکر ہے۔ جو اللہ کی طرف رجوع سے انکار کرتا ہے اور بعث بعد الموت کا منکر ہے۔