Ayahs 29:45–46اتل ما اوحی ۔۔۔۔۔ یعلم ما تصنعون (29: 45) ” جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کیجئے بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے۔ بیشک اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کام تم کرتے ہو “۔
ان کے سامنے کتاب پڑھیں کہ یہی ذریعہ دعوت اسلامی ہے ، اور ایک ربانی معجزہ ہے اور اس کتاب کے اندر بیان کردہ سچائی وہی ہے جو اس کائنات کے اندر پوشیدہ سچائی ہے۔ اور نماز قائم کرو ، جب نماز قائم کی جاتی ہے تو یہ فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے ، یہ اللہ کے ساتھ ایسا رابطہ ہے کہ جب کوئی یہ رابط قائم کرتا ہے تو پھر وہ فحاشی اور منکرات کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ ظاہری اور روحانی تطہیر کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ کوئی گندگی ، ناپاکی اور میل کچیل لگا ہی نہیں کھاتی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” جو شخص ایسی نماز پڑھے جو اسے فحاشی اور منکرات سے نہ روکے تو وہ ایسی نماز سے ماسوائے اس کے کہ اللہ سے دور ہوجائے۔ اور کوئی مفاد نہ پائے گا “۔ (ابن جریر) ۔
اگر کوئی ایسی نماز پڑھتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے نماز ادا کردی لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے نماز قائم کردی۔ اور نماز ادا کرنے میں اور قائم کرنے میں بہت بڑا فرق ہے۔ اگر نماز قائم کی جائے تو یہ ذکر اللہ ہوتی ہے اور
ولذکر اللہ اکبر (29: 45) ” اللہ کا ذکر بہت بڑا ہوتا ہے “۔ مطلقاً وہ بڑی چیز ہوتی ہے۔ ہر تصور اور ہر جذبہ سے بڑا
ہوتا ہے۔ ہر عبادت اور ہر عاجزی سے ذکر اللہ بڑا ہوتا ہے۔
واللہ یعلم ما تصنعون (29: 45) ” اور اللہ جانتا ہے جو تم بناتے ہو “۔ اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اس پر کسی امر میں التباس نہیں ہوتا۔ تم نے آخر کار اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اور وہ تمہاری تمام مصنوعات کا بدلہ تمہیں دینے والا ہے۔
درس نمبر 182 ایک نظر میں
یہ سورة عنکبوت کا آخری سبق ہے۔ پہلے دو سبق پارہ 20 میں گزر چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا اس سورة کا محور آزمائش و ابتلاء ہے۔ جو لوگ بھی کلمہ حق بلند کرتے ہیں ان کی راہ میں رکاوٹیں آتی ہیں۔ فتنوں اور آزمائشوں کی بھٹی میں سے گزار کر اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان فرق واضح فرما دیتے ہیں۔ جو جس قدر گرم و سرد چشیدہ ہوگا اسی قدر وہ درجات بلند کا مالک ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں یہ بھی ذہن نشین کرایا گیا ہے کہ زمین پر موجود شیطانی قوتیں اہل ایمان کا راستہ روکنے کے لیے چاہے جس قدر زور لگائیں ، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اہل ایمان اگر ذرا صبر کریں اور مصابرت سے کام لیں تو اللہ آخر کار بدکاروں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اہل ایمان کو کامیاب کرتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اسلامی دعوت کے ساتھ اللہ کی سنت کا ہمیشہ یہی معاملہ رہا ہے۔ نوح (علیہ السلام) سے لے کر آج تک یہ سنت اٹل رہی ہے۔ اس میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہوتی اور یہ سنت اس بڑی سچائی کے ساتھ بھی مربوط ہے جو اس کائنات میں کام کر رہی ہے جس طرح اللہ کی دعوت ایک ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں اسی طرح اللہ کی سنت بھی ناقابل تغیر ہے۔
درس سابق کا خاتمہ اس بات پر ہوا تھا کہ اے رسول اور اے اہل ایمان تمہاری طرف جو آیات الٰہی نازل ہو رہی ہیں بس تم ان کی تلاوت کرتے جاؤ، ان کو سمجھو اور مطالعہ کرو اور نماز قائم کرکے ان پر عمل کرو ، اور اس بات کو ذہن میں حاضر رکھو کہ اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ بھی تم کرتے ہو۔
اس سبق میں بھی کتاب اللہ کے بارے میں بات چلتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کتاب اور کتب سابقہ کے درمیان کیا تعلق اور نسبت ہے۔ مسلمانوں کو نصیحت کی جاتی ہے کہ ظالموں کو چھوڑ کر دوسرے عام اہل کتاب کے ساتھ رویہ اچھا رکھو ، ان کے ساتھ اچھے انداز سے مکالمہ کرو۔ ظالم لوگ وہ ہیں جنہوں نے کتاب اللہ میں تحریف کردی اور جنہوں نے عقیدہ توحید کو بدل کر شرک کا عقیدہ اپنا لیا اور شرک ہی بہت بڑا ظلم ہے۔ اہل ایمان کی راہ اور عقیدہ یہ ہے کہ اللہ ایک ہے۔ اس کی تمام رسالتیں ایک ہیں ، کتب ایک ہیں ، یہ کہ تمام کتابیں اللہ کے نزدیک عظیم سچائی پر مشتمل ہیں اور اہل ایمان ان کی تصدیق کرتے ہیں۔
اس کے بعد بعض ایسے اہل کتاب کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو اس آخری کتاب پر ایمان لے آئے ہیں۔ حالانکہ مکہ کے مشرکین جن کے اندر سے نبی آخر الزمان کا انتخاب ہوا ، اس پر ایمان نہیں لاتے۔ وہ اس عظیم اعزاز اور عظیم رحمت کی قدر نہیں کرتے جو اللہ نے ان کو بخشی۔ وہ اس کتاب کے اعجاز اور اس کی تعلیمات کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھیجے ہوئے رسول کو اپنے لیے غنیمت نہیں سمجھتے کہ وہ ان سے ہمکلام بھی ہے اور اللہ کا کلام بھی ان کو سنا رہا ہے جبکہ اس سے قبل مشرکین کے سامنے نہ انہوں نے کوئی کتاب پڑھی اور نہ وہ کوئی قلم کار تھے۔ اگر حضور ﷺ مطالعہ کتب کرتے رہتے اور کتابیں لکھتے رہتے تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ انہوں نے یہ کتاب خود تصنیف کر ڈالی ہو۔ مشرکین مکہ بات بات پر یہ مطالبہ کردیتے تھے کہ اگر تم سچے ہو تو لاؤ عذاب الٰہی جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ کہا جاتا ہے کہ یہ عذاب بہت ہی قریب ہے ، اور یہ جہنم کی شکل میں تمہیں گھیرے گا۔ یہ قیامت کے دن اوپر سے بھی ہوگا اور پاؤں کے نیچے سے بھی ہوگا۔ ہر طرف سے گھیر لے گا۔
اس کے بعد روئے سخن ان اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے جو مکہ میں اہل کنز کے تشدد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر مکہ میں ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے تو وہ ہجرت کر جائیں تاکہ وہ رب واحد کی بندگی کرسکیں۔ یہ ہدایت ان کو ایک عجیب انداز میں دی جاتی ہے۔ ہجرت کے مشورہ سے ان کے دلوں میں جو پریشانیاں اور خدشات پیدا ہوتے ہیں انہیں دور کردیا جاتا ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کو دور کردیا جاتا ہے جو ان کی راہ میں حائل ہو سکتی ہیں۔ چند چنکیوں کے ساتھ ان کی قلبی حالت بدل دی جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قرآن کو نازل کرنے والا وہی خالق ہے جو اس کائنات کو پیدا کرنے والا ہے کیوں کہ انسانی دلوں کی گہرائیوں تک اثر اور ان کے اندر اس قسم کے احساسات وہی ذات پیدا کرسکتی ہے ، جس نے ان دلوں کو پیدا کیا ہے کیونکہ وہی لطیف وخبیر ہے۔
اس کے بعد روئے سخن ان مشرکین کی طرف مڑ جاتا ہے جو نظریاتی انتشار میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ وحدہ ہی خالق کائنات ، خالق ارض و سما ، مسخر شمس و قمر ہے اور وہی ہے جو آسمانوں سے پانی اتارتا ہے جس سے یہ زمین مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوجاتی ہے۔ جب وہ بحری سفر میں ہوتے ہیں تو وہ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد وہ پھر شرک کرنے لگتے ہیں۔ اللہ کی کتاب کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں ، رسول اللہ کو ناجائز اذیتیں دیتے ہیں۔ اہل ایمان کو فتنوں اور مصیبتوں میں ڈالتے ہیں۔ اہل شرک کو یہ بھی یاد دلایا جاتا ہے کہ دیکھو تمہارے لیے اس حرم کو جائے امن بنایا گیا ہے جس میں تم چین سے رہتے ہو۔ تمہارے اردگرد تمام قبائل ہر وقت خوف و ہراس میں رہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ مشرکین اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ کے ساتھ خود ساختہ الہوں کو شریک کرتے ہیں۔ اس لیے ان کو دھمکی دی جاتی ہے کہ تم جہنم رسید ہوگے اور وہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہوگا۔
سورة کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو کامیابی کی راہیں دکھائے گا لیکن ان اہل ایمان کو جو مومنین خالص ہوں ، جنہوں نے رکاوٹوں کو پار کرلیا ہو ، آزمائشوں سے گزر گئے ہوں اور مشکلات راہ پر قابو پالیا ہو۔ اگرچہ اس راہ کی رکاوٹیں بہت ہیں لیکن انہوں نے یہ مشکل کام کرلیا ہو۔
درس نمبر 182 تشریح آیات
45 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 69
اتل ما اوحی الیک ۔۔۔۔۔۔ ونحن لہ مسلمون (45 – 46)
(اے نبی ﷺ تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو ، یقیناً نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں اور ان سے کہو کہ ” ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی ، ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کو مسلم (فرمانبردار ) ہیں “۔
وہ دعوت جس کا آغاز حضرت نوح (علیہ السلام) سے ہوا اور جس کا خاتمہ نبی ﷺ پر ہوا۔ یہ ایک ہی دعوت ہے ، ایک ہی الٰہ کی طرف سے ہے اور اس دعوت کا مقصد اور مطلوب بھی ایک ہی ہے۔ یہ کہ گمراہ انسانیت کو واپس لاکر رب العالمین کی راہ پر ڈال دیا جائے ، اللہ کی ہدایت اور منہاج کے مطابق وہ زندگی بسر کرے۔ جو لوگ سابقہ رسولوں کی دعوت پر ایمان لاتے رہے ہیں وہ اہل ایمان کے بھائی ہیں۔ سب ایک ہی امت ہیں ، ایک ہی الٰہ کی بندگی کرتے ہیں۔ انسانیت اپنے ہر دور اور ہر زمان و مکان میں دو گروہوں میں بٹی رہی ہے۔ ایک گروہ مومنین کا ہے جسے حزب اللہ کہا جاتا ہے اور دوسرا گروہ اللہ کے دشمنوں کا ہے اور یہ حزب الشیاطین کے نام سے موسوم ہیں۔ اس سلسلے میں کسی زمان و مکان میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ لہٰذا زمانہ قدیم سے لے کر آج تک مومنین ایک پارٹی ہیں اور اہل کفر ایک پارٹی ہیں۔
یہ ایک عظیم اور بلند حقیقت ہے جس کے اوپر اسلام قائم ہے اور جسے اس آیت میں منضبط کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان میں پائے جانے والے تعلقات اور روابط کو محض خون ، نسب ، قومیت ، وطن ، تجارت اور مفادات سے بلند کرکے انہیں الٰہ واحد کی اساس پر قائم کرتی ہے۔ تمام انسانوں کا ایمان ایک ایسے نظریہ حیات پر ہو جس میں تمام رنگوں اور تمام نسلوں کے لوگ پگھل جائیں۔ تمام قومتیں ختم ہوں خواہ نسلی ہوں یا وطنی ہوں اور جس میں زمان و مکان کی دوریاں غائب ہوں اور تمام انسانوں نے ایک ہی مضبوط رسی کو پکڑ رکھا ہو۔ خالق کائنات اور شارع کائنات کی رسی کو۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کو اہل کتاب کے ساتھ مکالمے اور مجادلے سے منع کیا جاتا ہے ماسوائے اس کے کہ یہ مجادلہ نہایت ہی مستحسن طریقے سے ہو۔ مسلمانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے اور سابقہ رسل کی تعلیم اور رسالت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو اس تاریخی اسلامی دعوت کی آخری شکل یعنی دین اسلام پر اکتفاء کرنا چاہئے ، جو تمام سابقہ دعوتوں کے مطابق ہے۔ جو تمام سابقہ دعوتوں اور رسالتوں کی تکمیل ہے۔ یہ آخری صورت اس کو اللہ کے علم و حکمت نے دی ہے جو انسانوں کی مصلحت خود انسانوں سے زیادہ جاننے والے ہیں۔
الا الذین ظلموا منھم (29: 46) ” سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں “۔ جنہوں نے توحید سے انحراف کیا ، جو اسلامی نظریہ حیات کا سنگ اساس ہے ، جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کی اور جنہوں نے اسلام کو بحیثیت منہاج حیات چھوڑ دیا ، کیونکہ ایسے لوگوں کے ساتھ نہ نرمی ہے اور نہ ایسے لوگوں کے ساتھ مکالمے کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی ظالم لوگوں کے ساتھ اسلام نے اس وقت جنگ کی ، جب مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی۔ بعض لوگوں نے نبی ﷺ پر یہ الزام لگایا کہ مکہ میں جب اہل شرک نبی ﷺ کے ساتھ سخت برتاؤ کر رہے تھے تو آپ نے یہ باتیں کہیں کہ اہل کتاب کے ساتھ نرمی اور احسان کا طریقہ اختیار کیا جائے مگر جب مدینہ میں آپ کی حکومت قائم ہوگئی تو آپ نے اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ شروع کردیا اور جنگیں لڑیں اور مکی اقوال کے خلاف طرز عمل اختیار کیا۔ یہ بہت بڑا بہتان ہے اور خود یہ مکی آیت اس کا انکار کر رہی ہے ۔ اسلام صرف ان اہل کتاب کے ساتھ نرم برتاؤ کرنے کی اجازت دیتا ہے ، جو ظالم اور مشرک نہ ہوں ، اپنے اصل دین پر ہوں اور سابقہ رسولوں کی ہدایات کے مطابق صحیح توحید پہ قائم ہوں۔
وقولوا امنا بالذی ۔۔۔۔۔۔ لہ مسلمون (29: 46) ” اور ان سے کہو کہ ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی اور ہمارا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کے مسلم ہیں “۔ لہٰذا بحث و اختلاف کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے اور جدل وجدال بےمحل ہے۔ ہم سب اللہ واحد کو خدا مانتے ہیں۔ اہل ایمان تو قرآن پر بھی ایمان لاتے ہیں اور انبیائے سابقہ کی کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ اسلام کی ایک ہی زنجیر ہے اور تمام نبوتیں اس کی کڑیاں ہیں۔
Ayah 29:47وکذلک انزلنا الیک ۔۔۔۔۔۔ بایتنا الا الکفرون (47)
” اسی طرح “ یعنی ایک ہی مسلسل اور تاریخی منہاج کے مطابق ، ایک ہی سنت الہیہ کے مطابق جو اٹل ہے اور اسی طریقے کے مطابق جس کے ذریعے اللہ ہمیشہ رسولوں کو ہدایت دیتا رہا ہے۔
وکذلک انزلنا الیک الکتب (29: 47) ” اے نبی ﷺ ، ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے “۔ اور جب کتاب نازل کی تو لوگ اس کے مقابلے میں دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ۔ ایک تو وہ لوگ تھے جو اہل کتاب میں سے بھی تھے اور قریش میں سے بھی تھے وہ تو ایمان لے آئے اور دوسرا گروہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب کے ایمان اور شہادت کے بعد بھی اس کو تسلیم نہیں کرتے حالانکہ وہ اس کی سچائی کی تصدیق کرچکے ہیں۔
وما یجحد بایتنا الا الکفرون (29: 47) ” اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں “۔ یعنی یہ آیات اس قدر واضح ہیں ، اس قدر سیدھی ہیں کہ ان کا انکار وہی شخص کرسکتا ہے جس کی عقل پر پردے پڑگئے ہوں ، جس کی روح مستور ہو ، اور وہ اس قابل ہی نہ رہی ہو کہ سچائی کو دیکھ سکے۔ کفر کے حقیقی معنی ہی چھپانے اور پردوں میں ڈالنے کے ہیں۔ یہاں قرآن نے جو انداز بیان اختیار کیا ہے اس میں کفر کے اصطلاحی معنوں کے ساتھ لغوی معنی بھی ملحوظ رکھے گئے ہیں۔
Ayah 29:48وما کنت تتلوا ۔۔۔۔۔ لارتاب المبطلون (48)
قرآن کریم کفار کے شبہات کا پیچھا کرتا ہے ، یہاں تک کہ ان کے بچگانہ اعتراضات اور شبہات کا بھی دفعیہ کردیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے زندگی کا طویل ترین حصہ کفار مکہ کے درمیان بسر کیا تھا۔ آپ نہ پڑھ سکتے تھے اور نہ لکھ سکتے تھے۔ اچانک انہوں نے ایسی عجیب کتاب پیش کی جس نے تمام پڑھے لکھے لوگوں اور لکھنے والوں کو عاجز کردیا۔ اگر حضور اکرم ﷺ نزول قرآن سے قبل پڑھے لکھے ہوتے تو کفار مکہ جائز طور پر اعتراض کرتے کہ حضور ﷺ خود تصنیف کر رہے ہیں لہٰذا اب وہ جو اعتراضات کرتے ہیں وہ بےبنیاد ہے۔ میں کہتا ہوں قرآن کریم ان کے لغو اور بچگانہ سوالات کا بھی جواب دیتا ہے۔ ورنہ اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ پڑھے لکھے تھے تو پھر بھی قرآن کریم پر ان کے لیے شبہ کرنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ کیونکہ اگر قرآن کریم پر بذات خود غور کیا جائے تو یہ ایک معجز کتاب ہے اور انسانوں کی تصنیف کردہ کتاب نہیں ہے۔ یہ انسانی قوت اور معرفت کے حدود سے باہر ہے۔ انسانی علم و معرفت کی حدود سے اس کے مضامین وراء ہیں۔ قرآن کریم میں جو سچائی درج ہے وہ بےقید سچائی ہے جس طرح اس کائنات کے اندر موجود سچائی بےقید ہے۔ انسان جب بھی نصوص قرآنی پر غور کرتا ہے ، اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن کی پشت پر بےپناہ قوت ہے۔ قرآن کریم کی عبادت میں بھی ایک عظیم شوکت ہے اور یہ قوت اور یہ شوکت کلام انسانی طاقت سے وراء ہے
Ayah 29:49بل ھو ایت بینت ۔۔۔۔۔ بایتنا الا الظلمون (49)
” دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جنہیں علم بخشا گیا ہے ، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں “۔ یہ قرآن اہل علم کے لیے واضح دلائل پر مشتمل ہے جن میں کوئی التباس اور پیچیدگی نہیں ہے نہ کوئی شبہ اور شک ہے۔ یہ ایسے دلائل ہیں جو لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں ، لوگوں کے دل ان دلائل پر مطمئن ہیں اس لیے اہل علم قرآن آیات پر کوئی مزید دلیل طلب نہیں کرتے۔ وہ علم جس پر لفظ علم کا اطلاق کیا جاسکتا ہے وہ ان لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔ وہ بصورت ملکہ منتقلاً وہاں بیٹھا ہے۔ وہ دلوں سے پھوٹتا ہے ، وہ دلوں کی راہنمائی کرتا ہے اور سیدھا منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔
وما یجحد بایتنا الا الظلمون (29: 49) ” اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ لوگ جو ظالم ہیں “۔ جو حقیقت اور معاملات کا صحیح اندازہ نہیں کرتے اور جو صراط مستقیم کو چھوڑ کر ٹیڑھی راہوں پر چلتے ہیں۔
Ayah 29:50وقالوا لو لا ۔۔۔۔۔ انا نذیر مبین (50)
” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ” کیوں نہ اتاری گئیں اس شخص پر نشانیاں اس کے رب کی طرف سے ؟ “ کہو ” نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر “۔
ان معجزات اور نشانیوں سے ان کو مراد وہ معجزات اور نشانیاں ہیں جو آغاز انسانیت بھی انسانیت کے دور طفولیت میں ان کے سامنے پیغمبروں نے پیش کیں ، یعنی مادی معجزات۔ اور یہ معجزات صرف ان لوگوں کے لیے حجت ہوتے تھے جو ان کو دیکھتے تھے۔ جبکہ نبی ﷺ کی رسالت وہ آخری اور دائمی رسالت ہے جو ان تمام لوگوں کے لیے حجت ہے جن تک اس کی دعوت پہنچ جائے اور یہ رسالت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انسانیت موجود ہے اور یہ دنیا قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس رسالت کو ایک ایسی معجز کتاب دی ہے جو ہمیشہ پڑھی جاتی ہے اور جس کا اعجاز ختم نہیں ہوتا۔ اور جس کے کمالات و عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اللہ کے لیے قرآن کے خزانوں کا علیحدہ ذخیرہ ظاہر ہوتا رہتا ہے اور اس کے یہ معجزات اور دلائل ہر دور کے اہل علم کے سینوں میں موجود رہتے ہیں۔ جب بھی اہل علم اس پر غور کرتے ہیں وہ اس کتاب کے اعجاز اور معجزات کو پاتے ہیں اور وہ اچھی طرح محسوس کرلیتے ہیں کہ قرآن کریم کو یہ عظمت اور شوکت کس سرچشمے سے ملی ہے۔
قل انما الایت عنداللہ (29: 50) ” کہو ، نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں “۔ اور اللہ اپنی نشانیاں اس وقت ظاہر کرتا ہے جب ان کی حاجت اور ضرورت ہو۔ اور یہ سب کام ، اللہ کے نظام تدبیر اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے اس لیے میں اس سلسلے میں نہ کوئی تجویز دے سکتا ہوں اور نہ مطالبہ کرسکتا ہوں ۔ یہ میرے لائق نہیں ہے اور نہ ہی یہ میری عادت ہے۔
وانما انا نذیر مبین (29: 50) ” میں صرف خبردار کرنے والا ہوں ، کھول کھول کر “۔ میں ڈراتا ہوں اور خبردار کرتا ہوں اور لوگوں کے سامنے حقائق کھول کھول کر بیان کرتا ہوں اور یہی میرا فریضہ ہے جس میں ادا کرتا ہوں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ اللہ کی تقدیر و تدبیر کے مطابق ہوگا۔
اس طرح اللہ اسلامی نظریہ حیات کو ہر شک اور شبہ سے پاک کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے منصب اور مقام کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی صفات اور الٰہ واحد وقہار کی صفات کے درمیان امتیاز کردیا جاتا ہے۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کے ارد گرد سے شبہات کے وہ بادل چھٹ جاتے ہیں جو ان رسولوں کی شخصیات کے ساتھ وابستہ ہوگئے تھے جن کو مادی معجزات دئیے گئے کیونکہ سابقہ رسولوں کی صفات کو خدائی صفات کے ساتھ ملا دیا گیا تھا اور لوگوں نے ان رسولوں کی شخصیات کو اوہام و خرافات سے گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے ان کے عقائد کے اندر بہت بڑا انحراف واقعہ ہوگیا۔
یہ لوگ جو مادی معجزات طلب کر رہے ہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکے اور نہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکے ہیں کہ اللہ نے تو قرآن نازل کرکے ان پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔
Ayah 29:51اولم یکفھم ۔۔۔۔۔ لقوم یؤمنون (51)
یہ ان کی جانب سے اللہ کی نعمتوں اور مہربانیوں کی ناشکری ہے ، حالانکہ اللہ کے انعامات شکر اور قدردانی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ یہ لوگ اس قرآن کے ساتھ آسمانوں میں پہنچ جائیں اور دیکھیں کہ یہ آسمانوں سے نازل ہو رہا ہے اور آسمانوں سے آکر وہ ان کے دلوں کے تاروں کو چھیڑ رہا ہے۔ ان کے دلوں کی بات کرتا ہے۔ ان کے ماحول کی باتیں کرتا ہے۔ ان کو یہ شعور دلاتا ہے کہ اللہ کی ان پر ہر وقت نظر ہے۔ اللہ کے ہاں تمہاری بہت اہمیت ہے کہ وہ تمہارے امور سے بحث کرتا ہے۔ تمہیں قصص سناتا ہے جبکہ اے انسان تو تو اللہ کی اس وسیع کائنات میں ایک مچھر سے بھی زیادہ کمزور اور چھوٹا ہے۔ بلکہ اے انسان تو ، تمہاری یہ زمین اور تمہارا یہ شمس و قمر تو اللہ کی اس کائنات میں اس طرح ہیں جس طرح پرکاہ اس زمین کے مقابلے میں اور یہ پرکاہ بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے ، لیکن اس کے باوجود اللہ نے تمہیں مکرم بنایا ہے اور وہ رم پر بلندیوں سے یہ قرآن نازل کرتا ہے لیکن تم پھر بھی اس کی قدر نہیں کرتے ہو ؟
ان فی ذلک ۔۔۔۔۔ یومنون (29: 51) ” بیشک اس میں رحمت ہے اور نصیحت ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں “۔ اس لیے کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہی لوگ اس رحمت و شفقت کا احساس کرسکتے ہیں۔ اور وہی لوگ اس بات کا شعور حاصل کرسکتے ہیں کہ قرآن کو نازل کرکے اللہ نے اپنے بندوں پر کس قدر رحمت و شفقت فرمائی۔ یہی لوگ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ جو بہت ہی بلند مرتبہ ہے ، جو بہت ہی عظمتوں والا ہے وہ اس ناچیز انسان کو اپنے اس دستر خوان پر بلاتا ہے۔ ایسے ہی لوگ اس قرآن سے نفع حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ یہ تو مطالعہ کرنے والے کے لیے آب حیات ہے اور اس کے ذریعہ مومن اور متدبر پر بےپناہ خزانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں ، اور ان کی روحوں کے اندر یہ قرآن ایک روشنی اور اشتراق پیدا کردیتا ہے۔
جن لوگوں کو ان امور کا شعور نہیں دیا گیا ، وہ حقیر مادی معجزات طلب کرتے ہیں اور حقیر معجزات کے ذریعے وہ اس عظیم اور ابدی معجزے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی شخصیت مسخ ہوچکی ہے اس لیے ان کے دل اس نور کے لئے نہیں کھلتے لہٰذا ایسے لوگوں پر اپنا وقت نہ ضائع کرو۔ ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ ان کا فیصلہ وہی کرے گا۔
Ayahs 29:52–55قل کفی باللہ بینی ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (52)
وہ ذات جو جہانوں کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے اس کی شہادت سے بڑی شہادت کس کی ہوسکتی ہے اور اللہ اپنے علم سے شہادت دے رہا ہے کہ یہ لوگ باطل پر ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (29: 52) ” جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ مطلقاًخسارے میں ہیں ۔ ہر چیز سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ دنیاو آخرت دونوں ہار چکے ہیں ۔ اپنی ذلمت ، شخصیت ، ہدایت ، استقا مت ، اطمینان ، سچائی اور نور سب چیزوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔
اللہ کی ذات پر ایمان لا نا بھی ایک عمل اور کمائی ہے ۔ یہ بذات خود اچھی کمائی ہے ۔ اس پر اللہ اپنے فضل وکرم سے اجر دیتا ہے ۔ اجردیتا ہے ۔ اجر یہ کہ ایمان سے قلبی اطمینان اور زندگی کی راہوں کا تعین ہوجاتا ہے ۔ جو داقعات بھی اس زندگی میں پیش آئیں ، بندئہ مومن ان کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے ، وہ اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ اللہ کی حمایت کا طلبگار اور امیدوار ہوتا ہے اور
اسے اچھے انجام کا یقین ہوتا ہے یہ بذات خود ایک کسب ہے ، ایک کمائی ہے جس سے کافر محروم ہوتے ہیں ۔
اولئک ھم الخسرون (29: 52) ” وہی لوگ خسارے میں ہوتے ہیں “۔
اب مشرکین کی بحث ذرا آگے بڑھتی ہے کہ یہ لوگ عذاب کے آنے میں عجلت کرتے ہیں حالانکہ جہنم تو ان کے بہت ہی قریب ہے ۔
ویستعجلونک بالعذاب ۔۔۔۔۔ ویقول ذوقوا ما کنتم تعملون (53 – 55)
مشرکین نبی ﷺ کی جانب سے ڈراوے اور تخویف کی آیات سنتے تھے ، لیکن ان کی سمجھ میں یہ حکمت نہ آتی تھی کہ پھر ان کے کفر کی وجہ سے ان پر یہ عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اس مہلت کی وجہ سے بےباک ہو کر نبی ﷺ سے بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ حالانکہ بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرمین کو حد سے گزرنے کی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ سرکشی اور فساد کی آخری حدوں کو چھو لیں۔ پھر عذاب آجاتا ہے یا یہ مہلت اس لیے طویل ہوجاتی ہے کہ اللہ اہل ایمان کا امتحان لیان چاہتا ہے تاکہ وہ بہت زیادہ ثابت قدم اور پختہ مومن بن جائیں اور ان کی صفوں سے وہ شخص نکل جائے جو صبر و ثبات نہیں رکھتا۔ یا یہ مہلت اس لیے ہوتی ہے۔ اللہ علیم وخبیر ہے اور اسے معلوم ہے کہ اہل کفر کی صفوں میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو حق کی راہیں تلاش کرکے ہدایت پر آجائیں گے یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے ہوتے ہیں جو راہ ہدایت پالینے والے ہوں گے۔ وہ اللہ کی پارٹی میں شامل ہوں گے اگرچہ ان کے والدین مشرک ہوں۔ ان کے علاوہ بھی اللہ کی مصلحتیں ہوسکتی ہیں جو وہ خود جانتا ہے اور جو ہم سے مستور ہیں۔
ان مشرکین کو ایسا فہم و ادراک حاصل نہ تھا کہ وہ اللہ کی ان حکمتوں اور تدبیروں کو سمجھ سکیں ۔ اس لیے وہ علی سبیل التحدی اور بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے لیکن
ولولا اجل مسمی لجآءھم العذاب (29: 53) ” اگر ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا “۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس حکمت کے بیان کے درمیان میں بھی ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ جس عذاب کے بارے میں تمہیں جلدی ہے وہ اچانک ہی تم پر آجائے گا لیکن اس وقت تمہیں اس کا انتظار اور توقع نہ ہوگی اور جب یہ اچانک آجائے گا تو یہ لوگ مبہوث ہو کر رہ جائیں گے۔
ولیاتینھم ۔۔۔۔ لایشعرون (29: 53) ” اور یقیناً وہ آکر رہے گا اچانک اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی “۔
اور بعد میں بدر کے میدان میں ان پر یہ عذاب آیا۔ اللہ کا کہنا سچ ہوکر رہا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ کا وعدہ کس قدر سچا ہوتا ہے۔ اللہ نے ان پر ایسا جامع اور ہمہ گیر عذاب نازل نہ کیا جس طرح پہلی اقوام پر آیا اور اللہ نے مادی معجزات کے اظہار کا مطالبہ بھی قبول نہ کیا جس طرح پہلی اقوام کی معجزات دکھائے گئے۔ انہوں نے انکار کیا اور ان پر ہمہ گیر عذاب آیا۔ وہ نیست و نابود ہوئے کیونکہ ان میں ایسے لوگ موجود تھے جو علم الٰہی کے مطابق زمانہ مابعد میں ایمان لانے والے تھی۔ جو اسلامی لشکر کے بہترین لوگ بننے والے تھے اور ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے ازمنہ مابعد میں طویل عرصہ تک اسلام کے جھنڈے اٹھائے رکھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی تدبیر و تقدیر کے مطابق ہونا تھا اور ہوا۔
یستعجلونک ۔۔۔۔۔ بالکفرین (29: 54) ” یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے “۔ یہ قرآن کا مخصوص اور عجیب موثر اسلوب کلام ہے کہ وہ مستقبل موعود کا عالم شہود کی شکل دے دیتا ہے۔ ایسی تصور کشی یہاں کردی گئی ہے کہ گویا جہنم کفار کو گھیرے میں لے چکی ہے جبکہ ابھی وہ مستقبل کے پردوں میں مستور ہے۔ لیکن ان کے کرتوتوں کے اعتبار سے وہ واقعہ ہے جو مشاہدہ میں آچکا ہے اور انسانی احساس کے پردوں پر نظر آتا ہے۔ ان لوگوں کو ایسا خطرناک چیلنچ دینے سے باز رہنا چاہئے۔ کیا وہ لوگ جلدی مچاتے ہیں جن کو جہنم گھیرے میں لے چکی ہے اور کسی بھی وقت گھیرا تنگ کرکے وہ ان کو گرفت میں لے سکتی ہے۔ اب وہاں ان کی صورت حالات کیا ہوگی جس کیلئے یہ بہت سی شتابی کر رہے ہیں۔
یوم یغشھم العذاب ۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (29: 55) ” اس روز جبکہ عذاب انہیں اوپر سے بھی ڈھانپ لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی۔ اور کہے گا کہ اب چکھو مزا ان کو توتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا۔ نہایت ہی خوفناک حالت میں ان کو یوں طنزیہ سرزنش کی جائے گی۔
ذوقوا ما کنتم تعملون (29: 55) ” اب چکھو مزا ان کرتوتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ ہے انجام اس جلد بازی اور عجلت کا جو تم کرتے تھے اور ڈرانے والوں کو تم اہمیت نہ دیتے تھے۔
یہاں سیاق کلام منکرین اور مکذبین اور حد سے گزرنے والوں کو ایک دردناک عذاب کے منظر میں چھوڑ دیتا ہے ، یہ عذاب انہیں اوپر نیچے سے گھیرے ہوئے ہے۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے جن پر یہ مکذبین محض عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ڈھاتے ہیں اور ان کو ان کے رب کی عبادت سے روکتے ہیں ، ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے اپنے دین ، اپنے عقائد کو لے کر کہیں اور جابسو۔ یہ نصیحت نہایت ہی پر محبت اور تروتازہ اور نہایت ہی موثر اسلوب میں کی جاتی ہے۔ اس طرح کا یہ نغمہ دل کی تمام تاروں کو چھیڑ دیتا ہے اور ان میں ارتعاش پیدا کردیتا ہے۔
Ayahs 29:56–60یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60)
دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو یہ دلایا جاتا ہے۔
ان ارضی واسعۃ (29: 56) ” میری زمین وسیع ہے “۔ تم میرے بندے ہو اور یہ میری زمین ہے اور بہت ہی وسیع ہے۔ اس قدر وسیع ہے کہ یہ تمہیں جگہ دے سکتی ہے اس لیے کیوں تم مکہ کی تنگنائیوں میں ڈٹے ہوئے ہو ، جہاں تم پر محض تمہارے دین اور عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ہو رہے ہیں۔ یہاں تمہیں اس کی اجازت بھی نہیں ہے کہ تم اپنے رب اور مولائے کریم کی بندگی کرسکو۔ ان تنگیزوں کو خیرباد کہو اور اللہ کی وسیع دنیا کی طرف نکل جاؤ۔ اپنے دین کو لے کر اس ظلم سے نجات پاؤ تاکہ آزادی سے اپنے رب کی بندگی کو سکو۔ فایای فاعبدون (29: 56) ” پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ “۔
جب کسی کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کیا جاتا ہے تو دل میں پہلا دکھ ملک چھوڑنے کا کروٹیں لیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس قدر میٹھا انداز اختیار کیا ، میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، الا یہ کہ میری زمین وسیع ہے ، مکہ بھی میرا اور مدینہ بھی میرا ہے۔ تمام زمین میری ہے۔ لہٰذا محبت صرف اسی زمین سے رکھو جس میں تم میری عبادت کرسکو اور جس میں تمہارے لیے وسعت ہو۔ دوسرا خیال ایسے مواقع پر ہجرت کے عمل کے خطرات اور خدشات کا آتا ہے یعنی یہ کہ اپنے گھروں سے نکلیں گے تو راستوں میں موت ہی نہ آجائے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ کفار نے مسلمانوں کو مکہ میں قید کر رکھا تھا۔ ان کو وہاں سے نکلنے کی اجازت ہی نہ دیتے تھے اس لیے مہاجرین کے لیے ہجرت کی راہ میں نکلنا بھی پر خطر تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان کے اس خدشے کو بھی دور فرماتے ہیں
کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون (29: 57) ” ہر متنفس کو موت کو مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم سب ہماری طرف پلٹا کر لائے جاؤ گے “۔ جہاں تک موت کا تعلق ہے تو وہ ہر جگہ آنے والی ہے ، لہٰذا موت کی پرواہ مت کرو ، جبکہ موت کا وقت اور سبب کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ تو ہجرت کرنے والے ہیں اور اگر نہ بھی کریں تو پھر بھی اللہ کی طرف سب کو پلٹایا جانا ہے اور تم تو اللہ کے غلام ہو ، تم کو تو دنیا و آخرت دونوں میں اللہ ہی کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ لہٰذا اس بارے میں ڈرنا کیا یا دلوں میں خوف و خطر کو لانے کا کیا مقام ہے۔ پھر اللہ کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ تمہیں دنیا میں زمین کی وسعتیں دے گا اور تم محفوظ ہوگے بلکہ قیامت میں تمہارے لیے جو آرام گاہ تیار ہے وہ تو بہت ہی عظیم ہے۔ اب تم وطن چھوڑ رہے ہو تو دنیا میں بھی وسعت ملے گی اور گھر تم چھوڑ رہے ہو تو جنت میں تمہارے لیے محلات تیار ہیں اور وہ محلات تمہارے ان چھوٹے چھوٹے گھر وندوں سے بہت ہی بڑے اور عظیم ہیں۔
والذین امنوا ۔۔۔۔۔ خلدین فیھا (29: 58) ” جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اور وہاں ان کو خوش آمدید ان الفاظ میں کہا جائے گا اور ان کی جدوجہد کا تذکرہ ہوگا۔
نعم اجر العملین ۔۔۔۔۔ یتوکلون (29: 59) ” کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ، ان لوگوں کیلئے جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ چناچہ یوم اہل ایمان کو ہجرت پر آمادہ کیا جاتا ہے ، ان کے ساتھ وعدے کیے جا رہے ہیں اور اس پر پریشانی ، خدشات اور خوف کے ماحول سے ان کو ثابت قدمی اور جرات مندی اور حوصلہ سکھایا جا رہا ہے۔
قدرتی طور پر ہجرت کے وقت یہ فکر بھی لاحق ہوجاتی ہے کہ انسان کے ساتھ پیٹ تو لگا ہوا ہے۔ آخر صبح و شام کی ضروریات کا بندوبست کیا ہوگا۔ وطن چھوڑ دیں گے ، مال چھوڑ دیں گے ، روزگار ترک کرکے چلے جائیں گے۔ یہاں تو مکہ میں بہرحال ضروریات زندگی کی فراہمی کا بندوبست تو یقینی ہے۔ ہر شخص روزگار پر لگا ہے۔ چناچہ ان خدشات کا جواب بھی دے دیا جاتا ہے۔
وکاین من دآبۃ لا تحمل رزقھا اللہ یرزقھا وایاکم (29: 60) ” اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ، اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے “۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسان کی آنکھیں کھول دیتا ہے اور یہ واقعی صورت حالات ہم رات اور دن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے جانور ہیں جو نہ رزق اٹھائے پھرتے ہیں ، نہ جمع کرتے ہیں ، نہ اس کا کوئی اہتمام کرتے ہیں۔ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس رزق کو پیدا کرنے کی کیا تدبیر کریں گے۔ نہ ذخیرہ کرنا انہیں آتا ہے۔ اس کے باوجود اللہ سب کو رزق دیتا ہے۔ کوئی جانور کبھی بھوک سے نہیں مرا۔ اسی طرح اللہ لوگوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کو یہ زعم لاحق ہوجاتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے رزق پیدا کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وسائل رزق اللہ ہی فراہم کرتا ہے اور یہ وسائل ہی دراصل رزق ہیں۔ اگر اللہ کے یہ پیدا کردہ وسائل نہ ہوں تو انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہجرت کی وجہ سے تم بھوک سے نہ مرو گے۔ اس کی فکر نہ کرو ، تم اللہ کے بندے ہو اور اللہ اپنے بندوں کا بندوبست کرتا ہے جہاں بھی وہ ہوں جس طرح اللہ اپنی دوسری مخلوق کا بندوبست کرتا ہے اور کسی کو بھی بھوکا مرنے نہیں دیتا۔
یہ محبت آمیز نغمے اس شعور پر آخر ختم ہوتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ وہ ہر وقت ان پر نظر کرم رکھتا ہے ، وہ ان کی سب باتیں سنتا ہے۔ ان کے حالات کو جانتا ہے اور کبھی بھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔
وھو السمیع العلیم (29: 60) ” وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ یہ دور یہاں اگر ختم ہوتا ہے ، اس حال میں اللہ نے مہاجرین کے دلوں میں پائے جانے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اللہ کی راہ میں نکلتے وقت دل میں کھٹکنے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اہل ایمان کے دلوں میں جو خدشات اور اندیشے پائے جاتے تھے اب ان کی جگہ اطمینان نے لے لی۔ قلق و پریشانیوں کی جگہ اب وہ مطمئن ہیں اور اب اہل ایمان کے دل اس قدر سکون اور ٹھہراؤ اور ثبات پا چکے ہیں کہ وہ اللہ کا قرب ، اللہ کی نگرانی اور اللہ کی پناہ میں اپنے آپ کو اب محفوظ تصور کرتے ہیں۔ کون ہے جو انسان کے خدشات کو اس انداز میں محسوس کرسکتا ہے اور ان کو اس طرح دور کرسکتا ہے ماسوائے خالق کائنات کے۔ جو ان تمام باتوں سے واقف ہوتا ہے ، جو دلوں میں گزرتی ہیں۔
مومنین کے ساتھ اس مختصر مکالمہ کے بعد روئے سخن پھر مشرکین کے باہم متضاد افکار کی طرف پھرجاتا ہے۔ ان کے تصورات اس قدر غیر معقول ہیں کہ وہ ایک طرف تو یہ اقرار کرتے ہیں کہ صرف اللہ ہی ہے جو زمینوں اور آسمانوں کا خالق ہے۔ وہی ہے جس نے شمس و قمر کر مسخر کر رکھا ہے۔ وہی ہے جو آسمانوں سے بارشیں برساتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہی ہے جو رزق کو کھلا بھی کرتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے۔ جب یہ لوگ انتہائی خوف کی حالت میں ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کو تسلیم کرنے کے بعد یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔ جو لوگ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اس کی بندگی کرتے ہیں ، یہ ان کو اذیت دیتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کو یہ بھی تسلیم کرتے ہیں اور بلاوجہ یہ لوگ ایسے لوگوں پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ اللہ نے ان پر جو احسانات کیے ، ان کو یہ لوگ بھلاتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو بیت اللہ میں خوفزدہ کرتے ہیں۔
Ayahs 29:61–63ولئن سالتھم من خلق السموت والارض ۔۔۔۔۔۔۔۔ جھنم مثوی للکفرین (61 – 67)
اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی کا گھر تو دار آخرت ہے ، کاش یہ لوگ جانتے۔ جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس سے دعا مانگتے ہیں ، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر ان کا کفران نعمت کریں۔ اور (حیات دنیا کے) مزے لوٹیں ۔ اچھا ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ ان کے گردو پیش لوگ اچک لیے جاتے ہیں ؟ کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں ؟ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو ؟ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم ہی نہیں ہے ؟ “
ان آیات میں نزول اسلام سے قبل عرب عقائد کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے اصل عقائد توحید پر مبنی تھے۔ بعد کے ادوار میں ان کے عقائد اور نظریات کے اندر انحراف پیدا ہوگیا۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کیونکہ یہ اولاد اسماعیل تھے۔ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہیں اس لیے وہ پنے عقائد کو حضرت اسماعیل و ابراہیم (علیہم السلام) کی طرف منسوب کرتے تھے۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے دین کو کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ یہ دین جزیرۃ العرب کے آس پاس موجود تھے کیونکہ یہ لوگ دین ابراہیم کو برتر سمجھتے ہوئے ، اس پر فخر کرتے تھے۔ لیکن وہ اس بات کو سمجھ نہ سکتے تھے کہ ان کے عقائد کے اندر اصل دین کے مقابلے میں کس قدر انحراف آگیا ہے اور عملاً وہ مشرک ہوگئے ہیں
جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کا خالق کون ہے ؟ اور شمس و قمر کو کس نے مسخر کیا ہے ؟ آسمانوں سے پانی کون برساتا ہے ؟ مرونی کے بعد زمین میں روئیدگی کون لاتا ہے ؟ تو یہ لوگ صاف صاف اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب کام اللہ ہی کرنے والا ہے۔ لیکن ان کے باوجود وہ اپنے بتوں کو بھی پوجتے ہیں۔ جنوں کی عبادت بھی کرتے ہیں ، ملائکہ کی پرستش بھی کرتے ہیں ، اور ان سب کو عبادت میں اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔ جبکہ تخلیق میں ان کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں کرتے۔ یہ عجیب تناقص تھا۔ اس تضاد کی وجہ سے ان آیات میں اللہ ان کے اس طرز فکر پر تعجب کا اظہار فرماتے ہیں :
فانی یوفکون (29: 61) ” پھر یہ کدھر سے دھوکہ کھا رہے ہو “۔ یعنی کس طرح تم حق سے پھر کر ان مغلوبہ عقائد میں پھنس گئے ہو۔
بل اکثرھم لا یعقلون (29: 63) ” ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں “۔ کیونکہ جس کی عقل سلیم ہو وہ ایسے عقائد اختیار نہیں کرتا۔
خالق سماوات وارض کے بارے میں سوال ، شمس و قمر کے مسخر کرنے والے کے بارے میں دریافت اور آسمانوں سے پانی نازل کرنے والے کے بارے میں سوال اور مدہ زمین کو سرسبز کرنے والے کے بارے میں سوال کے درمیان یہ بھی قرار دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کا رزق تنگ کردیتا ہے اور کسی کا کشادہ کردیتا ہے۔ یوں تمام آثار قدرت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ رازق بھی وہی ہے اور اللہ تمام مخلوقات کو جانتا ہے۔ اور سب کو رزق پہنچاتا ہے۔
ان اللہ بکل شیئ علیم (29: 62) ” یقینا اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے “۔
آسمانوں کی گردش کے ساتھ رزق واضح طور پر مربوط ہے۔ پانی ، زندگی اور روئیدگی بھی گردش افلاک سے مربوط ہے۔ اسی طرح رزق کی کشادگی اور تنگی بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ تمام مظاہر ان آیات میں واضح طور پر دکھائے گئے ہیں۔ رزق پانی سے وجود میں آتا ہے۔ نہریں اور دریا بارش سے بہتے ہیں اور ان کی وجہ سے حیات و نبات قائم ہیں۔ یہ پانی زمین کے اندر بھی ذخیرہ ہوتا ہے اور اوپر بھی بہتا ہے اور اس کی وجہ سے بحروبر کا شکار پیدا ہوتا ہے۔ غرض تمام ارزاق پانیوں سے وابستہ ہیں۔ اس کائنات کے نوامیس فطرت کے مطابق پانی پیدا ہوتے ہیں اور شمس و قمر کے سب مظاہر شمس و قمر کی تسخیر کے نتیجے میں ، اور اگر یہ نوامیس فطرت ذدہ بھر بدل جائیں تو سطح زمین کا یہ منظر ہی یکلخت بدل جائے۔ پھر زمین کے اندر کے تمام ذخائر اور قدرت وسائل بھی اللہ کے جاری کردہ نوامیس زمان و مکان کے مطابق ہیں۔ زمین کی یہ تمام بوقلمونیاں شمس و قمر کی گردش کے نتیجے میں ہیں (فی ظلال پارہ 19 میں ہم نے تفصیلات دی ہیں) ۔
قرآن کریم اس عظیم کائنات اور اس کے مشاہدہ مناظر کو بطور حجت اور برہان پیش کرتا ہے۔ جو سچائی قرآن لے کر آیا ہے اس کا نکتہ تدبر یہ عظیم کائنات ہے۔ ایک متفکر اور سوچ رکھنے والا دل اس عظیم کائنات پر ضرور غور کرتا ہے۔ وہ اس کائنات کے عجائبات کو دیکھ کر زندہ و بیدار رہتا ہے ، دست قدرت کی صنعت کاریوں کو سمجھتا ہے۔ اس وسیع کائنات کے لیے جو نہایت ہی اٹل ناموس قدرت وضع کیا گیا ہے وہ اس کا شعور رکھتا ہے۔ وہ نہایت ہی ٹھنڈے دل اور نہایت ہی سنجیدگی سے اور نہایت ہی سہولت سے اس شعور کو پالیتا ہے۔ اسے بہت گہرے غور و فکر کی ضرورت بھی نہیں پڑتی اور جب بھی یہ زندہ اور بیدار دل اس کائنات کی عظیم آیات میں سے کوئی نشانی پالیتا ہے تو وہ اللہ کی حمدوثنا میں رطب اللسان ہوجاتا ہے۔
قل الحمدللہ ۔۔۔۔۔ لایعقلون (29: 63) ” کہو الحمدللہ ، مگر ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں “۔ زمین کے اوپر آثار حیات اور رزق کی تنگی اور کشادگی کے حوالے سے انسانوں کے سامنے اقدار حیات کا حساس ترازو رکھ دیا جاتا ہے کہ دیکھو دنیا کی یہ زندگی اپنی تمام بوقلمونیوں اور لہو ولعب کے باوجود ایک تحصیل تماشا ہے۔ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔
Ayah 29:64وما ھذہ الحیوۃ ۔۔۔۔۔ لو کانوا یعلمون (29: 64) ” ۔ یہ زندگی عمومی لحاظ سے تو ایک کھیل تماشا ہی ہے۔ خصوصاً اس وقت جب یہ اس طرح گزر رہی ہے کہ آخرت کی کوئی فکر نہ ہو اور یہی دنیا لوگوں کا مقصد اعلیٰ ہو اور اس دنیا کا سازوسامان ہی غایت زندگی ہو۔ رہی آخرت کی زندگی تو وہ حقیقی زندگی ہے اور اس میں نہایت ہی اعلیٰ معیار ہوگا۔ وہی حقیقی زندگی ہے۔ وہ بھرپور ہے اور اس میں حقیقی حیات اور نشاط ہے۔
یہ کہہ کر قرآن یہ تعلیم بھی نہیں دیتا کہ دنیا کو ترک کردیا جائے یا اس کے متاع کو دور پھینک دیا جائے یا زندگی کی سرگرمیوں سے فرار اختیار کرکے رہبانیت اختیار کی جائے۔ یہ نہ اسلام کی روح ہے اور نہ اسلام زندگی کا یہ رخ اختیار کرتا ہے بلکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اصل ہدف آخرت ہو اور حدود اللہ کا لحاظ رکھا جائے۔ اس زندگی پر سربلندی حاصل کر کے اسے اپنے قبضہ قدرت میں رکھا جائے اور انسان اس دنیا کے متاع کا اسیر نہ بن جائے۔ انسان زندگی کے فرائض پورے کرے اور اس سے فرار اخٹیار نہ کرے۔ غرض اصل مسئلہ صحیح سوچ اور صحیح قدر کا ہے۔ انسان کو اس دنیا کی بھی صحیح قدروقیمت معلوم ہونا چاہئے اور آخرت کی بھی صحیح قدروقیمت معلوم ہونی چاہئے۔ مومنین کو ان اقدار کا صحیح شعور ہونا ضروری ہے۔ اس طرح جب ایک باشعور مومن دنیا سے معاملہ کرے گا تو اس کا نقطہ نظر معتدل ہوگا کہ دنیا تو کھیل تماشا ہے مختصر وقت کے لیے ہے اور آخرت اس طرح سنجیدگی کے لائق ہے جس طرح کھیل تماشے اور میلے ٹھلے کے بعد انسان سنجیدگی سے اس دنیا کے کاموں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
فکر و نظر کی اس درستگی کے بعد اب بتایا جاتا ہے کہ کفار کے فکر و نظر میں کیا کیا تضادات ہیں۔
Ayah 29:65فاذا رکبوا فی ۔۔۔۔ اذاھم یشرکون (29: 66) . یہ بھی ان کے عقائد کا بہت بڑا تضاد ہے۔ ان کے عقائد اس قدر ڈانواں ڈول ہوتے ہیں کہ جب کشتی پر وہ گہرے سمندر میں ہوتے ہیں اور یہ جہاز بحری امواج کے تلاطم میں ایک کھلونا بن جاتا ہے اور ان پر خوف طاری ہوتا ہے تو وہ اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارتے۔ اس وقت ان کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ اصل قوت تو صرف اللہ ہی کی قوت ہے۔ پھر ان کی سوچ میں بھی اللہ وحدہ ہوتا ہے اور اس کی زبان پر بھی اللہ وحدہ کا نام ہوتا ہے۔ اب وہ اپنی اس فطرت کے تابع ہوتے ہیں جو وحدانیت کا شعور رکھتی ہے ۔ لیکن جب اللہ ان کو بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو یہ لوگ اچانک پھر شرک کرنے لگتے ہیں اور وہ فطری شعور پھر دب جاتا ہے۔ اب اچانک وہ اس حالت کو بھول جاتے ہیں جس میں وہ اللہ وحدہ کو پکارتے تھے اور اقرار اور تسلیم کے بعد دوبارہ یہ لوگ شرک کی راہ پر پڑجاتے ہیں۔
اس بےراہ روی اور گمراہی کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ یہ کہ یہ لوگ ان انعامات کی ناشکری اور کفر کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو دئیے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس فطری راہ سے منحرف ہوجاتے ہیں جو اللہ نے ان کی شخصیت کے اندر ودیعت کردی ہوئی ہے۔ ان فطری براہین کو نظر انداز کردیتے ہیں جن کو وہ مھسوس کرتے ہیں اور وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ حیات دنیا تو ایک محدود وقت تک کے لیے ایک سازو سامان ہے لیکن ان کو بہت جلد اپنے حقیقی انجام کا پتہ چل جائے گا۔ وہ بہت ہی برا انجام ہوگا۔
Ayah 29:66لیکفروا بما ۔۔۔۔۔ یعلمون (29: 66) ۔ یہ نہایت ہی شدید ڈراوا ہے یعنی نامعلوم مصیبت کا۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو بتاتے ہیں کہ دیکھو اللہ نے تم کو یہ ” حرم امن “ دیا ہے جس کے اندر تم نہایت ہی امن و سکون سے زندگی بسر کرتے ہو۔ کیا اللہ کی اس عظیم نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ یوں کہ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اسی کو پکاریں بلکہ اس کے برعکس اس حرم امن میں اہل ایمان کو تم ڈراتے اور پریشان کرتے ہیں۔
Ayah 29:67اولم یروا انا جعلنا ۔۔۔۔۔۔ یکفرون (29: 67)
اہل مکہ کی حالت یہ تھی کہ وہ حرم مکی کی وجہ سے نہایت ہی امن و سکون سے زندگی بسر کرتے تھے۔ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے ان کی تعظیم کرتے تھے۔ ان کے اردگرد جو عرب قبائل تھے وہ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کے دل میں دوسرے کا خوف ہوتا تھا۔ ان کو اگر امان نصیب ہوتا تھا تو بیت اللہ کے سائے میں ہوتا تھا۔ اور یہ امان اللہ نے دیا تھا لیکن یہ بہت بڑی ناشکری کی بات تھی کہ یہ لوگ بیت اللہ کو بتوں کا اڈہ بنا دیں اور بیت اللہ میں غیر اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔
افبالباطل ۔۔۔۔۔۔ یکفرون (29: 67) ” کیا پھر بھی یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری
کرتے ہیں “۔
Ayahs 29:68–69ومن اظلم ۔۔۔۔۔ مثوی للکفرین (29: 68) اور اہل مکہ اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ہے کہ اللہ نے خود اپنے ساتھ شریک ٹھہرائے ہیں اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کس مقام کے مستحق ہیں۔ اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کسی مقام کے مستحق ہیں۔ یقیناً ایسے لوگ جہنم کے مستحق ہیں۔
سورة کا خاتمہ کفار کے فریق مقابل کی تصویر کشی پر ہوتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہوں میں جدوجہد کی تاکہ وہ اللہ تک پہنچ جائیں۔ ان کا رابطہ اللہ سے ہوجائے۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں ناقابل برداشت مصائب جھیلنے کے باوجود نہ اپنا عہد توڑا اور نہ مایوس ہوئے۔ جنہوں نے نفس کی خواہشات پر قابو پایا اور لوگوں کے تشدد کو بھی برداشت کیا۔ جنہوں نے اپنے بوجھ اپنائے اور ان بھارتی بوجھوں کے ساتھ اس طویل سفر پر چل پڑے ، جو طویل بھی تھا اور پر مشقت بھی۔ ایسے لوگوں کو اللہ اس سفر میں تنہا نہیں چھوڑتا اور نہ ان کے ایمان کو ضائع کرتا ہے اور نہ ان کی اس جہدوجہد کو بھولتا ہے۔ اللہ اپنے عرش بریں سے ان کو دیکھ رہا ہے اور ان سے بہت ہی راضی ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے اور قدم قدم پر ان کی راہنمائی کرتا ہے۔ وہ ان کی کوششوں کو دیکھے گا اور ان کے ہاتھ پکڑ کر ان کو صحیح راہ پر ڈال دے گا۔ ان کو صبر اور ان کی پاکیزگی کو دیکھا جا رہا ہے وہ بہت ہی اچھی جزاء دینے والا ہے۔