Ayahs 29:19–23اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔۔ واولئک لھم عذاب الیم (19 – 23)
یہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اللہ کے سامنے جو ابدہی کا انکار کرتا ہے ۔ اس خطاب پر اس پوری کائنات کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس استدلال کا دائرہ زمین و آسمانوں تک وسیع ہے۔ یہ قرآن کریم کا معروف طرز استدلال ہے کہ وہ اس پوری کائنات کو دلائل و نشانات الہیہ کی نمائش گاہ بنا دیتا ہے اور انسانی قلب و نظر کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب میں دلائل و آیات الہیہ تلاش کریں۔ اللہ کے وجود ، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدے اور وعید کی سچائی تلاش کریں۔ اس کائنات کے یہ مشاہد اور مظاہر تو بر وقت ہماری نظروں کے لیے کھلے ہیں اور حاضر ہیں۔ پیش پا افتادہ ہیں لیکن انسان چونکہ انہیں ہر وقت دیکھتا رہتا ہے ، اس وجہ سے ان کا عادی ہوجاتا ہے اور ان کے اعجاز کا پہلو نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور یہ معجزات چونکہ بار بار دہرائے جاتے ہیں اس لیے انسانی قلب و نظر پر ان کا زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ وہ ان پیش پا افتادہ مناظر اور دلائل اعجاز کو ازسر نو زندہ کرکے اور حسین بنا کر پیش کرتا ہے اور یہ اس قدر خوبصورت ، حسین اور پر تاثیر بن جاتے ہیں کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ گویا یہ مشاہد و مناظر اس کے سامنے پہلی بار پیش ہوئے ہیں۔ یہ مناظرہ زندہ شکل میں سامنے آتے ہیں اور انسانی قلب و نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان ان کے آثار و نتائج کو اخذ کرتا ہے اور یہی مناظر انسانی وجدان کے لیے دلائل اور براہین بن جاتے ہیں اور ان سے انسانی شعور بےحد متاثر ہوتا ہے۔ یہ طرز استدلال خشک منطقی استدلال کی طرح نہیں ہوتا جس میں محض ظاہری جدل وجدال ہوتا ہے اور ایک مردہ انداز گفتگو ہوتا ہے۔ یہ فلسفیانہ اور منطقی انداز استدلال اسلامی منطق اور شعور کے لیے ہمیشہ نا آشنا رہا ہے۔ اس لیے اسلامی شعور اس سے کبھی گہرے طور پر متاثر نہیں ہوا۔ اسلامی انداز استدلال یہ ہے :
اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔ اللہ یسیر (29: 19) ” کیا ان لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتداء کرتا ہے ، پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ، یقیناً یہ تو اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ بیشک یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ کس طرح تخلیق کرتا ہے ، ایک چھوٹے سے پودے میں بھی یہ تخلیق نظر آتی ہے ، ایک انڈے اور جنین میں بھی نظر آتی ہے۔ اور ہر اس چیز میں نظر آتی ہے جو نہ تھی اور پھر موجود ہوگئی اور ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ انسان انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر بھی کوشش کریں تو اس جیسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے اور نہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اس کے خالق ہیں۔ اللہ کی تخلیقات تو بہت ہیں ، صرف معجزہ حیات ہی ایک مسلسل معجزہ ہے۔ یہ حیات کس طرح وجود میں آئی ؟ یہ بھی ایک معجزہ ہے ، کسی کی جانب سے ایجاد حیات کا دعویٰ کرنا تو ایک بڑی بات ہے۔ حیات کے بارے میں تو انسان صرف یہی کہہ سکتا ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کردہ ہے۔ اللہ ہر لمحہ میں اسے دہراتا ہے اور لوگ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں اور اسکا انکار بھی نہیں کرسکتے۔
لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ لوگوں کو پیدا فرما رہا ہے تو ان اشیاء کا دوبارہ پیدا کرنا اللہ کے لئے نہایت ہی آسان ہے۔
ان ذلک علی اللہ یسیر (29: 19) ” اور یہ (اعادہ) اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے تو کوئی چیز اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ انسانی معیار کے مطابق ان سے بات کرتا ہے۔ کیونکہ انسانوں کی مصنوعات میں پہلی صنعت کے مقابلے میں اس کا اعادہ آسان ہوتا ہے ورنہ اللہ کے لیے آغاز و اعادہ یکساں ہیں۔ اللہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے تو ارادہ متوجہ کرکے کن کہتا ہے اور وہ ہوجاتی ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ ذرا کھوکھلی آنکھوں کے ساتھ زمین میں پھرو ، اور اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھو۔ زندہ اور مردہ چیزوں میں عجائبات تخلیق الٰہی پر غور کرو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کی تخلیق بھی کسی مشقت کے بغیر خود کار طریقے سے ہو رہی ہے۔ اور اعادہ بھی اسی طرح ہوگا۔
قل سیرو فی الارض ۔۔۔۔۔ کل شئ قدیر (29: 20) ” ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی ہے۔ پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔
زمین میں سرو سیاحت سے انسان کی بصیرت اور بصارت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسان ایسے مناظر دیکھتا ہے جو کبھی آنکھ نے نہیں دیکھے ہوتے اور قلب نے کبھی ان پر غور نہیں کیا ہوتا ، اس آیت میں اللہ نے ایک گہری حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔ انسان کسی خطے میں بستا ہے اور اس کے مناظر اور عجائبات اس کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں لیکن جب وہ سیاحت کرتا ہے تو اس کے احساسات اور قوائے مدرکہ ہر نئے منظر کو غور سے دیکھتے ہیں۔ جدید دنیا اور علاقے میں اسے نئے مناظر و مشاہد متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ اس جیسے مناظر و مشاہد ان سے اچھے مناظر خود اس کے علاقے میں موجود ہوتے ہیں لیکن وہ کبھی ان کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے۔ جب وہ اپنے علاقے کو واپس آتا ہے تو پھر وہ خود اپنے مسکن کو بھی ایک جدید احساس اور جدید غور و فکر کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اس سے قبل وہ جن چیزوں کو کوئی اہمیت نہ دیتا تھا ، اب وہ چند یوم غائب رہنے کے سبب ان کو رحہمی نظر سے دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ اب یہ مناظر و عجائبات اس سے از سر نو ہمکلام ہوتے ہیں جبکہ اس سے قبل یہ عجائبات اس کے لیے نہ عجیب تھے اور نہ اس کے ساتھ ہمکلام ہوتے تھے۔
پس پاک ہے وہ ذات جس نے یہ قرآن نازل کیا۔ جو دلوں کی ان راہوں کو جانتا ہے جن کے ذریعے دل کی دنیا پر اثر ڈالا جاسکتا ہے ، عالم نفس کی راہ و رسم سے بھی وہ واقف ہے۔
قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ الخلق (29: 20) ” ان سے کہو ، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی “۔ یہاں ماضی کے صیغے کے ذریعہ آغاز تخلیق کو بیان کیا گیا ہے۔
کیف بدا الخلق (29: 20) ” اس نے تخلیق کا آغاز کیسے کیا تھا ؟ “ اور اس بات کو تم زمین میں چل پھر کر ، سیروسیاحت کرکے معلوم کرو ، اس سے ایک یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تم زمین میں چل پھر کر آغاز تخلیق الٰہی کو معلوم کرو ، ان چیزوں پر غور کرو جن سے ” حیات “ کی ابتدائی حالت کا پتہ چلے کہ اس دنیا میں آغاز حیات کیسے ہوا آج کل آثار قدیمہ کے بعض علماء زمین کو کھود کر ابتدائی تخلیق کی کیفیت معلوم کرتے ہیں کہ حیات کا آغاز کیسے ہوا اور اس نے کس طرح ترقی کی۔ اور وہ کس طرح پھیلی۔ ان تخلیقات کے باوجود ابھی تک یہ علماء ” حیات “ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکے کہ یہ حیات ہے کیا ؟ یہ کہاں سے آتی ہے ؟ اور اس دنیا پر پہلا زندہ انسان یا مخلوق کیسے آیا۔ یہ سب تحقیقات اور یہ سب آثار دراصل دوبارہ تخلیق پر دلائل ہوں گے۔
اور اس خیال کے ساتھ ایک دوسرا خیال ! کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات معلوم کرنے کے تو وہ لوگ قابل ہی نہ تھے جس پر قرآن نازل ہوا تھا۔ جس طرح آج کل کے لوگ اس کے قابل ہوگئے ہیں کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات کا مشاہدہ کریں۔ لہٰذا اس آیت کا اگر مفہوم یہی ہے تو وہ لوگ تو اس قابل ہی نہ تھے لہٰذا قرآن کریم اپنے پہلے مخاطین سے کوئی اور چیز معلوم کرنے کے لیے کہہ رہا تھا جیسے وہ معلوم کرسکتے تھے۔ اور جس کے معلوم کرنے سے وہ یہ نتیجہ نکال سکتے تھے کہ اس سے وہ نشاۃ ثانیہ کا امکان اخذ کریں۔ لہٰذا ان سے مطلوب یہ ہوگا کہ وہ ہر جگہ نباتات ، حیوانات اور انسان کے آغاز تخلیق کا مشاہدہ کریں اور زمین میں پھریں اور ان کی یہ سیر اور مشاہدہ ان کی قوت مشاہدہ کو تیز کرنے کا باعث بنے جیسا کہ ہم نے پہلے پیرے میں وضاحت کی کہ وہ آثار قدرت الہیہ کا مشاہدہ کریں اور رات اور دن اللہ کی قدرت جن معجزات و نشانات کو ظاہر کر رہی ہے اس پر غور کریں۔
ایک احتمال یہ بھی ہے جو قرآن کریم کے طریقہ کار کے مطابق ہے کہ قرآن ہر دور کے لوگوں کو ان کے حالات کے مطابق ، اور علم و ثقافت کے لحاظ سے ان کے مرتبہ و مقام کے مطابق اور ان کے حالات زندگی کے مطابق اور ان کے موجودہ وسائل اکتشاف کے مطابق ، متوجہ کرتا ہے وہ اپنے ظروف و احوال کے مطابق اس کائنات میں پائے جانے والے دلائل قدرت الہیہ پر غور کریں۔ اس طرح زندگی کے حالات کی ترقی کے مطابق قرآن کریم کے مفہوم کے فہم و ادراک میں بھی ترقی ہوگی اور دونوں خیالات میں کوئی تعارض بھی نہ ہوگا اور یہ مفہوم قرآن کے طریق کار کے زیادہ قریب ہے۔
ان اللہ علی کل شئ قدیر (29: 20) ” یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اللہ اس زندگی کا آغاز بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی کرے گا اور یہ اس کی قدرت قاہرہ کے ذریعہ ہوگا۔ اور اللہ کی قدرتیں انسان کی محدود سوچ کے دائرے کے اندر محدود نہیں ہیں۔ نہ اللہ کی قدرتوں کو ان کی سوچ کی محدود و امکانیات کے اندر محدود کیا جاسکتا ہے کیونکہ انسان کی سوچ انسان کے محدود تجربات تک محدود ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جسے چاہے عذاب دے دے اور جسے چاہے اپنی رحمت کے
دائرے کے اندر لے آئے۔ سب لوگوں نے آخر کار اس کی طرف لوٹنا ہے اور اللہ کو اس عمل کے کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی نہ کوئی اس کی ممانعت کرسکتا ہے۔
یعذب من یشآء ۔۔۔۔۔۔ ولی ولا نصیر (29: 21 – 22)
” جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں ، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “۔ رحمت اور عذاب دونوں اللہ کی رحمت کے تابع ہیں ، اس طرح کہ اللہ نے ہدایت اور ضلالت کا راستہ بیان کردیا۔ اور انسان کے اندر ایسی استعداد پیدا کردی کہ وہ ہدایت و ضلالت کے راستے میں سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ اور اس نے دونوں راستے انسان کے لیے میسر کر دئیے۔ اب اس انسان کی مرضی ہے کہ وہ کون سا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ البتہ اگر وہ اللہ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ ایسے شخص کی معاونت کرے اور اگر وہ اللہ کی دلائل سے منہ موڑے اور اللہ کے راستے سے رک جائے تو وہ اللہ سے رابطہ منقطع کردیتا ہے اور اسی اصول کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور اللہ کا عذاب لوگوں کو ملتا ہے۔
والیہ تقلبون (29: 21) ” اور اس کی طرف سے تم پھیرے جانے والے ہو “۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں “۔ تمہارے پاس ایسی کوئی قوت نہیں ہے کہ تمام مخلوق کو اللہ کی طرف پھرنے سے روک سکو۔ نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ۔ جنات اور فرشتے بھی تمہاری قوت نہیں ہیں۔
وما لکم ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (29: 22) ” اور اللہ سے بچنے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “ اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار ہے کون ؟ اور کہاں ہے ؟ کوئی ملائکہ ہے یا کوئی جن ہے ؟ یہ تو سب خود اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ یہ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ دوسروں کے لیے کیا کچھ کر کیں گے۔
والذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (29: 23) ” جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک سزا ہے “۔ یہ اس لیے کہ انسان اللہ کی رحمت سے تب مایوس ہوتا ہے جب اس کا دل کافر ہو ، اس حالات میں پھر اس کے اور رب کی درمیانرابطہ کٹ جاتا ہے۔ جو بھی کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اس کے اور رب تعالیٰ کے درمیان رابطہ کٹ چکا ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت میں تروتازگی نہیں ہوتی۔ اس لیے اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کے لیے وہ کوئی راہ نہیں پاتا۔ اور پھر انجام بھی متعین ہوتا ہے۔
اولئک لھم عذاب الیم (29: 23) ” ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا ہوتی ہے “۔
اس لمحہ فکریہ کے بعد اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کی طرف سے جواب آتا ہے۔ یہ ضمنی خطاب ہر اس شخص کے غور و فکر کے لیے تھے جو دعوت ایمان کا انکار کرتا ہے ، یہ جواب نہایت ہی مایوس کن اور عجیب ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر و سرکشی کے حاملین کس طرح بر خودغلط ہوتے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس اقتدار کی قوت ہوتی ہے۔
Ayah 29:24فما کان جواب ۔۔۔۔۔ لقوم یؤمنون (24)
” اسے قتل کر دو یا جلا ڈالو “ یہ اس سادہ اور قابل فہم دعوت کا جواب ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش فرمائی۔ جو انہوں نے ان کی عقلوں کے سامنے نہایت ہی قابل فہم انداز میں پیش کی ہے جس طرح کوئی پیش کرتا ہے۔
جب کفر اور سرکشی کھل کر سامنے آگئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پوزیشن یہ تھی کہ آپ اس ظلم اور سرکشی کا دفعیہ نہ کرسکتے تھے ، وہ ایک فرد تھے اور ان کا کوئی والی اور مددگار نہ تھا۔ ایک طرف عظیم قوت ہے ، دوسری جانب وہ اکیلے کھڑے ہیں۔ اس لیے ایسے حالات میں دست قدرت بھی کھل کر ان کا ساتھ دیتا ہے۔ ایک خارق عادت معجزہ نمودار ہوتا ہے۔ ایک ایسا معجزہ جو انسانوں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔
فانجہ اللہ من النار (29: 24) ” آخر کار اللہ نے اسے آگ سے بچا لیا “۔ جس انداز میں خارق عادت کے طور پر اللہ نے ان کو بچایا تھا۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک معجزہ تھا جو ایمان لانے والے تھے مگر اس کے باوجود اس قوم نے ایمان قبول نہ کیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ طے کردیں کہ انہوں نے مان کر نہیں دینا ہے تو معجزات بھی ان کے لیے مفید نہیں رہتے۔ ہدایت اسے نصیب ہوتی ہے جو ایمان لانے کے لئے تیار ہو ، اسی لیے کہا جاتا ہے :
ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (29: 24) ” یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں “۔ پہلی نشانی تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیم آگ سے نجات پاگئے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ کفر اور سرکشی اور حکومتی قوت ایک فرد واحد کو اذیت نہ دے سکی۔ تیسرا معجزہ یہ ہے کہ اگر اللہ کسی کو ہدایت نہ دینا چاہے تو معجزات بھی مفید نہیں رہتے۔ اور یہ نشانیاں ان لوگوں کے لیے ہیں جو دعوت اسلامی کی تاریخ پر غور و فکر کرتے ہیں اور یہ معلوم کرتے ہیں کہ دلوں کو پھیرنے والا کون ہے اور ہدایت و ضلالت کے اسباب کیا ہوتے ہیں۔
Ayah 29:25حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نجات کے بعد بھی یہ کہانی آگے بڑھتی ہے۔ حضرت ابراہیم اب اس قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے ہیں جو اس قدر واضح اور بین معجزے کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتی تو قبل اس کے کہ حضرت ان کو الوداع کہیں ان کو آخری حجت کے طور پر ایک حقیقت کے سامنے کھڑا کرتے ہیں :
وقال انما اتخذتم ۔۔۔۔۔۔ من نصرین (25)
” اور اس نے کہا ، تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور آگ تمہارا ٹھکانا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا “۔
ہم نے بتوں کی بندگی اس لیے اختیار نہیں کی کہ تم عقیدتاً ان کو الٰہ سمجھتے ہو اور تم ان کی بندگی پر مطمئن ہو بلکہ تم اس برائی پر ایک دوسرے کا لحاظ ملاحظہ کرتے ہوئے متفق ہوگئے ہو۔ محض ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے ، یہ بندگی کرتے ہو۔ تم میں سے ایک دوست یہ نہیں چاہتا کہ دوسروں کے الہوں کو چھوڑ دے۔ اگرچہ حق واضح ہوگیا ہو۔ اگر کوئی نئی سچائی کو قبول کرلے تو اس صورت میں دو ستیاں ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ دوستیاں تم سچائی کی حق تلفی کرکے قائم رکھتے ہو۔ تم سچائی کو نظر انداز کرتے ہو اور اس کے مقابلے میں دوستیوں کو زیادہ قائم رکھتے ہو۔ تم سچائی کو نظر انداز کرتے ہو اور اس کے مقابلے میں دوستیوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہو ، حالانکہ دعوت اسلامی ایک سنجیدہ امر ہے۔ یہ کوئی نری ، کوئی ڈھیل اور کوئی دوستی قبول نہیں کرتی۔
اس کے بعد ان کے اخروی انجام کے صفحات کھولے جاتے ہیں۔ جن دوستوں کا لحاظ کرتے ہوئے وہ حق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور بتوں کی بندگی پر قائم ہیں۔ قیامت کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے اور ایک دوسرے کو ملامت کریں گے اور یہ دو ستیاں ٹوٹ جائیں گی۔
ثم یوم القیمۃ یکفر۔۔۔۔۔ بعضکم بعضا (29: 25) ” مگر قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار اور ایک دوسرے پر لعنت کروگے “۔ لیکن یہ لعن و طعن کوئی فائدہ نہ دے گا۔ اس سے تمہارے عذاب میں کوئی کمی نہ آئے گی۔
وماوکم النار وما لکم من نصرین (29: 25) ” آگ تمہارا ٹھکانا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا “۔ اسی آگ میں یہ لوگ رہیں گے جس کے ساتھ وہ حضرت ابراہیم کو جلانا چاہتے تھے لیکن اللہ نے ان کی مدد کی اور ان کو نجات دے دی رہے وہ تو ان کیلئے نہ نصرت ہے اور نہ نجات۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت دینا چھوڑ دیا۔ یہ معجزہ جو ناقابل شک تھا ، وہ بھی ان کے سامنے آگیا ۔ اس دعوت اور اس ناقابل تردید معجزے کے نتیجے میں صرف ایک شخص مسلمان ہوئے ، حضرت لوط ، ان کی بیوی نے بھی اسلام قبول نہ کیا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت لوط آپ کے بھتیجے تھے۔ یہی ایک مسلمان حضرت ابراہیم کے ساتھ ایرانیوں کے شہر ار سے ہجرت کرکے اردن سے آگے کے علاقے میں جاکر آباد ہوئے۔
Ayah 29:26فامن لہ لوط ۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (26 – 30)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول قابل غور ہے ، وہ کہتے ہیں۔
انی مھاجر الی ربی (29: 26) ” میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں “۔ انہوں نے کیوں ہجرت کی۔ انہوں نے نجات کے لیے ہجرت نہیں کی۔ نہ زمین کے حصول کے لیے ، نہ کسی تجارت اور کمائی کے لئے ہجرت کی تھی۔ انہوں نے رب کی طرف ہجرت کی ، اللہ کے قریب ہونے اور اس کی پناہ میں آنے کے لئے ہجرت کی۔ اپنا دل اور اپنا نظریہ لے کر ہجرت کی۔ ان کے جسم اور خون سے پہلے ان کے دل و دماغ نے ہجرت کی۔ انہوں نے اللہ کی طرف ہجرت کی تاکہ خالص اللہ کی عبادت اور بندگی کریں ، اپنا جسم اور اپنی سوچ اس کے لیے خاص کردیں اور کفر اور ضلالت کے علاقے کو چھوڑ دیں اس لیے کہ اس علاقے کے لوگوں کی ہدایت کا اب کوئی امکان نہ رہا تھا۔ یہ علاقے چھوڑنے کا اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس دنیا میں بھی انعام دیا۔ اللہ نے ان کو ایسی صالح اولاد دی کہ رہتی دنیا تک ان کی وراثت اور نظریات کی وارث بنی۔ اس کے بعد نبوت ان کی اولاد ہی میں رہی۔ دنیا اور آخرت میں اس سے بڑا انعام نہیں ہے۔
Ayah 29:27ووھبنا لہ اسحاق ۔۔۔۔۔ لمن الصلحین (29: 27) ” “۔
یہ اللہ کا ایسا انعام ہے جس میں سے فیوض و برکات کے سوتے پھوٹ رہے ہیں ، جس میں اللہ کی رضا مندی عیاں ہے۔ اس ذات بابرکات کی شخصیت میں یہ فیض عیاں ہے جس کے جلا ڈالنے پر تمام باغی اور سرکش قوتیں جمع ہوگئی تھیں لیکن اللہ نے عظیم معجزانہ انداز میں ان کے ماحول کو ٹھنڈا اور سلامتی سے بھرا ہوا بنا دیا۔ یہ تھی اللہ کی مہربانی ، اس کا کرم اور اہل توحید کے لیے جزائے مناسب۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مختصر قصے کے بعد اب حضرت لوط کا قصہ آتا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ رب کی طرف مہاجر ہوئے۔ دونوں وادی اردن میں اترے۔ حضرت لوط بحر مردار کے کنارے کسی قوم کو دعوت دینے لگے۔ اس کے بعد اس بحیرے کا نام بحیرہ لوط پڑگیا۔ آپ شہر سدوم میں مقرر ہوئے۔ حضرت لوط نے ان لوگوں میں رشتہ داری بھی کی اور معاشی سرگرمی بھی ان لوگوں میں اختیار کی۔
اس قوم میں ایک عجیب اخلاقی بیماری پھیل گئی۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ قبیح بیماری اس سے قبل کسی قوم میں نہ پھیلی تھی۔ یہ کہ ان لوگوں نے عورتوں کے مقابلے میں اور ان کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنا شروع کر دئیے۔ حالانکہ اللہ نے اس مقصد کے لیے عورتوں کو پیدا کیا تھا تاکہ ایک مرد اور عورت سے ایک خاندان وجود میں آئے۔ اور اس طرح فطری طور پر انسانی زندگی کا تسلسل قائم رہے۔ جس طرح تمام دوسرے حیوانات میں یہ نظام قائم ہے کہ تمام حیوانات اور نباتات کو اللہ نے جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے۔ مرد اور عورتیں ، مذکر اور مونث غرض یہ بیماری قوم لوط سے قبل کسی اور قوم میں پیدا نہ ہوئی تھی
Ayahs 29:28–30ولوطا اذقال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (28: 29 – 30) ” ۔ “۔ “۔
حضرت لوط کی اس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس برائی میں کانوں تک ڈوب گئے تھے۔ یہ لوگ ایک ایسی برائی میں مبتلا ہوگئے تھے جس کا ارتکاب ان سے قبل کسی انسان نے نہیں کیا تھا۔ یہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔ یہ ایک انوکھا اور گندہ فعل تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی فطرت ہی بدل گئی تھی۔ جب بھی کوئی قوم اعتدالا کو چھوڑتی ہے اس کی فطرت بدل جاتی ہے کیونکہ پاکیزہ جنسی تعلق ایک عورت ہی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے نہایت ہی گھناؤنا جرم قرار دیا گیا۔ عورت کے ساتھ جنسی تعلق بھی بعض اوقات حدود وقیود سے نکل جاتا ہے لیکن وہ ہوتا بہرحال ایک فطری عمل ہے۔ رہی ہم جنس پرستی تو یہ حیوانات سے بھی گری ہوئی حرکت ہے۔ اس میں انسان کی فطری عضویاتی ترکیب کے لحاظ سے بھی فساد ہے۔ اور نفسیاتی لحاظ سے بھی فساد ہے۔ زوجین کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے اس میں جو لذت ہوتی ہے وہ امتداو حیات کے عظیم مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں انسانی حیات کا تسلسل قائم ہوتا ہے اور فریقین جسمانی اور روحانی اعتبار سے اس تعلق سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان کے تعلق اور ملاپ کے اندر جسمانی اور عضویاتی ہم آہنگی ہوتی ہے۔ رہا یہ تعلق جو قوم لوط قائم کرتی تھی۔ یہ غیر فطری ، غہیر فرحت بخش اور بےمقصد تھا۔ اگر اس تعلق میں کسی کو مزہ آتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی فطرت بگڑ گئی ہے۔ اور مسخ ہوگئی ہے اور وہ حقیقت کے مطابق نہیں ہے۔ یہ لوگ اس برائی کے ساتھ ڈاکے بھی ڈالتے تھے ، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے مالی مفا دات وصول کرتے تھے ۔ پھر وہ اس فعل کا ار تکاب بھی مردوں کو مجبور کر کے کرتے تھے یہ پھر اس فعل بد کی ایک گھناؤنی شکل تھی کہ لوٹ مار کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ اس بدفعلی کا ارتکاب کرتے تھے
پھر یہ اس منکر فعل کا ارتکاب اپنی مجلسوں میں کرتے تھے ۔ کھلے طور پر اور اجتماعی شکل میں ۔ ایک دوسرے سے ، کتوں کی طرح ، شرم بھی محسوس نہ کرتے تھے۔ فحاشی کا یہ بدترین درجہ ہے۔ فساد فطرت کی یہ انتہا ہے اور یہ رذائل پر اس قدر فخر ہے کہ اس کے بعد کسی اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی۔
یہاں اس قصے کا اختصار کے ساتھ لایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ پہلے پہل حضرت لوط نے ان کو نہایت ہی اچھے انداز میں اس سے منع کیا ہوگا۔ انہوں نے اصرار کیا ہوگا۔ حضرت لوط نے ان کو عذاب الٰہی سے ڈرایا ہوگا اور یہ بتایا ہوگا کہ یہ بہت ہی قبیح فعل ہے اور اس کا انجام بھی خوفناک اور عبرتناک ہوگا۔
فما کان جواب ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (29: 29) ” پھر کوئی جواب اس کی قوم کے اس اس کے سوا نہ تھا کہ لے آؤ اللہ کا عذاب ، اگر تم سچے ہو “۔ یہ ہے خود سری اور سرکشی ایک ڈرانے والے نبی کے مقابلے میں ، ایک چیلنچ کے انداز میں تکذیب اور یہ ایک ایسا بگاڑ ہے جس سے کسی خیر کی توقع نہیں رہتی اور نہ اصلاح کی امید رہتی ہے۔ رسول خدا نے ان پر حجت تمام کردی اور اس کے سوا کوئی راہ نہ رہی کہ وہ اللہ سے نصرت طلب کریں جو آخری سہارا ہے۔
قال رب انصرنی علی القوم المفسدین (29: 30) ” لوط نے کہا اے میرے رب ، ان مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما “۔ اب یہاں پردہ گرتا ہے۔ منظر پر صرف لوط (علیہ السلام) دعا کرتے نظر آتے ہیں۔ اب ہمارے سامنے اس دعا کی قبولیت کا منظر آتا ہے۔ جن کا ملائکہ کو حکم دیا گیا ہے کہ سدوم کو اوپر نیچے کردو ، انہوں نے اس عمل سے پہلے حضرت ابراہیم کو خوشخبری بھی دی ہے ۔ ایک ایسی بیوی سے صالح بیٹے کی خوشخبری جو بانجھ تھی۔
Ayahs 29:31–32ولام جآءت رسلنا ابراھیم ۔۔۔۔۔ کانت من الغبرین (31 – 32)
یہ منظر ، ابراہیم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا منظر ، یہ منظر یہاں چونک مقصود بالذات نہ تھا ، اس لیے اسے نہایت اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے میں دوسری جگہ یہ بات آگئی ہے کہ انہیں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی بشارت دی گئی۔ اور حضرت اسحاق کی ولادت تو خوشخبری کا موضوع تھا۔ اس لیے ان باتوں کو ہاں مفصل نہیں دیا گیا کیونکہ مقصود اتمام قصہ لوط تھا۔ یہاں صرف یہ کہہ دیا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فرشتے اس لیے ہو کر آئے کہ انہیں خوشخبری دے دیں اور یہ بتا دیں کہ وہ کس مہم پر آئے ہیں۔
انا مھلکوآ اھل ۔۔۔۔۔۔۔ ظلمین (29: 31) ” ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ، اس کے لوگ سخت ظالم ہیں “۔ اب حضرت ابراہیم کا جذبہ رحم اور محبت امنڈ آیا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ وہاں تو ان کے بھتیجے حضرت لوط بھی رہتے ہیں اور وہ تو ظالم نہیں ، صالح ہیں۔ اللہ کے فرشتوں اور فرستادوں نے جواب دیا کہ ان کو اس مہم کے بارے میں پوری معلومات دی گئی ہیں اور وہ سب باتوں کو جانتے ہیں۔
قالوا نحن اعلم ۔۔۔۔۔۔ من الغبرین (29: 32) ” انہوں نے کہا ، ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہیں۔ ہم اسے ، اور اس کی بیوی کے سوا ، اس کے باقی سب گھر والوں کو بچالیں گے “۔ اس کی بیوی پیچھے وہ جانے والوں میں سے ہے “۔ یہ بیوی قوم کے ساتھ تھی۔ یہ بھی ان کے جرائم اور بد اعمالیوں کی تصدیق کرتی تھی اور یہ عجیب بات تھی کہ عورت کے حقوق پر ایک عورت ڈاکہ ڈالے۔
اب یہ قصہ ایک تیسرے منظر میں داخل ہوتا ہے۔ یہ منظر بھی عجیب ہے۔ یہ فرشتے نہایت خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں حضرت لوط کے پاس آتے ہیں۔ حضرت لوط بھی جانتے ہیں کہ یہ خطرناک مہمان ہیں ، خوبصورت نوجوان اور قوم جس گندی حالت میں۔ لازم ہے کہ یہ لوگ ان مہمانوں کے ساتھ بدسلوکی کریں گے۔ اور وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنے مہمانوں کا دفاع کرسکیں اس لیے اس پریشانی سے ان کا دل بھر آیا ، اور ان پر پریشانی اور وحشت طاری ہوگئی۔
Ayahs 29:33–35ولما ان جآءت ۔۔۔۔۔ بھم ذرعا ” پھر جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور تنگ دل ہوا “۔ یہاں ان اوباشوں کی طرف سے مہمانوں پر ہجوم کے واقعہ کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ اس موقعہ پر حضرت لوط کے ساتھ ان کا جو مکالمہ ہوا ، اسے بھی کاٹ دیا گیا ہے ، جبکہ وہ اس وقت اس بیماری کے جوش میں تھے۔ یہاں بات کو انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے اور آخری انجام کو ذکر ہوتا ہے اس لیے کہ یہ خدائی فرستادے خود بات کو کھول دیتے ہیں اور حضرت لوط کو اپنا تعارف کرا دیتے ہیں کیونکہ وہ شدید اعصابی دباؤ میں تھے اور سخت دل تنگ تھے۔
وقالوا لا تخف ۔۔۔۔۔ کانوا یفسقون (33 – 34)
” انہوں نے کہا ، نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔ ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچالیں گے ، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں “۔ اس گاؤں کے لوگوں پر جو عذاب الٰہی ہو ، اس کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے کہ حضرت لوط ، ان کے اہل و عیال اور اہل ایمان کے سوا تمام لوگوں کو ہلاک کردیا گیا۔ ان پر خاک آلود پتھروں کی بارش کردی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ کے فرشتوں نے آتش فشانی کا عمل برپا کردیا جس کے نتیجے میں خاک آلود پتھروں کی بارش ہوا کرتی ہے۔ اور اس عذاب کے آثار کو باقی رکھا گیا تاکہ آنے والی اقوام کے اہل عقل و دانش اس سے عبرت لیں اور صدیاں گزرنے کے بعد بھی یہ آثار باقی ہیں۔
ولقد ترکنا ۔۔۔۔۔ یعقلون (35) ” اور ہم نے اس بستی کی ایک کھلی نشانی چھوڑ دی ہے ، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ اور یہ انجام اس قوم کا طبیعی انجام تھا۔ کیونکہ اس کی مثال ایک خبیث درخت اور پودے کی تھی جسے زمین سے زمیندار ہمیشہ اکھاڑ پھینکتا ہے کیونکہ یہ درخت نہ پیداوار دیتا ہے اور نہ زندگی کے لیے مفید ہوتا ہے اس کے ساتھ یہی سلوک ہوسکتا ہے کہ اسے اکھاڑ کر بھوسہ بنا دیا جائے۔ اب قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) :
Ayahs 29:36–37والی مدین اخاھم شعیبا ۔۔۔۔۔۔ دارھم جثمین (36 – 37)
” اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، اللہ کی بندگی کرو اور روز آخر کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسدبن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو “۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ دعوت اسلامی تمام ادوار میں ایک رہی ہے اور دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ بھی ایک رہا ہے۔
اعبدوا اللہ وارجوا الیوم الاخر (29: 36) ” اللہ کی بندگی کرو اور روز آخرت کے امیدوار رہو “۔ اللہ واحد کی بندگی کرنا اسلامی نظریہ حیات کی نبی اد ہے اور آخرت کی امیدواری کے ذریعہ یہ ممکن ہو سکتا تھا کہ وہ اس دنیا میں جو حلال و حرام سمیٹے چلے جا رہے تھے اور ناپ اور تول کے پیمانوں میں خیانت کر رہے تھے ، اس سے باز آجائیں۔ نیز وہ لوگوں کے حقوق مارتے تھے اور راہ زنی کرتے تھے۔ شاید خوف آخرت کی وجہ سے وہ ان جرائم سے باز آجائیں۔ اس کے علاوہ بھی وہ لوگوں پر کئی قسم کی دست درازیاں کرتے تھے اور زمین میں فساد پر با کرتے تھے خوف آخرت سے ان کی اصلاح ہو سکتی تھی۔
غرض آخر کار انہوں نے اپنے رسول کی تکذیب کی اور ان پر خدا کا عذاب ہوا اور اللہ نے مکذبین کے بارے میں اپنی سنت جاریہ کے مطابق ان کو ہلاک کردیا اور صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔
فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین (29: 37) ” آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس سے قبل اس سخت زلزلے کی تفصیلات دے دی گئی ہیں ، جس نے ان کی زمین کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور یہ زلزلہ ایک سخت چیخ کے بعد آیا تھا۔ جس نے ان کو بےہوش کردیا تھا اور لوگ اسی جگہ پڑے کے پڑے رہ گئے جہاں تھے۔ اور یہ سزا ان کے ان جرائم کی وجہ سے دی گئی جن میں وہ چیخ چلا کر لوگوں پر ڈاکے ڈالتے اور ان کو لوٹتے۔
Ayah 29:38اس کے بعد قوم عاد وثمود کی ہلاکت کی طرف اشارہ :
وعادا و ثمودا ۔۔۔۔۔ وکانوا مستبصرین (38)
” اور عاد وثمود کو ہم نے ہلاک کیا ، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے۔ ان کے اعمال کو شیطان نے ان کیلئے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہ راست سے برگشتہ کردیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے “۔
عاد کے لوگ جزیرۃ العرب کے جنوب میں علاقہ احقاف میں رہتے تھے۔ یہ علاقہ حضر موت کے قریب ہے۔ اور ثمود علاقہ حجر شمالی جزیرۃ العرب میں رہتے تھے۔ اور یہ وادی القری کے قریب علاقہ ہے ، قوم عاد کو تیز رفتار ہوائی طوفان کے ذریعہ ہلاک کیا گیا جو ناقابل کنٹرول تھا اور قوم ثمود کو ایک ہلاکت خیز چیخ کے ذریعہ جس کے بعد زلزلہ آیا۔ ان کے گھر عربوں کو معلوم تھے اور یہ لوگ اپنے گرمیوں اور سردیوں کے اسفار میں ان علاقوں سے گزرتے تھے اور ان کے آثار کو دیکھتے تھے کہ عزت اور اقتدار کے بعد یہ اقوام کس طرح ملیا میٹ ہوئیں۔ یہاں اس مختصر اشارے میں بتا دیا گیا ہے کہ ان کی گمراہی کا راز کیا تھا۔ یہی راز ہے دوسری تمام اقوام کی ضلالت کا۔
وزین لھم ۔۔۔۔۔ وکانوا مستبصرین (98: 37) ” ان کے اعمال کو شیطان نے ان کے لیے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہ راست سے برگشتہ کردیا اور وہ ہوش و گوش رکھتے تھے “۔ یہ عقلمند تھے۔ ہدایت کے دلائل بھی ان کے سامنے تھے لیکن شیطان نے ان کو خواہشات نفسانیہ کے تابع کرکے ان کے ان اعمال کو ان کے لیے مزین بنا دیا تھا۔ اور ان پر وہ اس راستے سے حملہ آور ہوا جو کھلا تھا۔ یہ کہ وہ سخت مغرور تھے اور اپنے برے اعمال پر فخر کرتے تھے اور ان اعمال کے ذریعہ انہوں نے جو قوت اور مال و متاع جمع کرلیا تھا ، اس کی وجہ سے وہ اعمال انہیں اچھے لگتے تھے۔
فصدھم عن السبیل (98: 38) ” انہیں راہ راست سے برگشتہ کردیا تھا “۔ اور ایمان کا تو یہ واحد راستہ تھا۔ لہٰذا انہوں نے اس راہ پر چلنے کے مواقع گنوا دئیے۔
وکانوا مستبصرین (98: 38) ” اور بڑے دانش مند تھے “۔ صاحب فکر و نظر تھے اور عقل و ادراک کی قوتوں کے مالک تھے۔ اب قارون ، فرعون اور ہامان کی طرف اشارہ۔
Ayah 29:39وقارون وفرعون ۔۔۔۔۔ وما کانوا سبقین (39) ” اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا اور موسیٰ ان کے پاس بینات لے کر آیا ، مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا ، حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے “۔
قارون قوم موسیٰ کا فرد تھا مگر اس نے اپنی دولت مندی کی وجہ سے ان سے بغاوت کی۔ اور اس نے نصیحت کرنے والوں کی یہ نصیحت نہ سنی کہ اعتدال اور تواضع کا راستہ اختیار کرو ، لوگوں پر احسان کرو اور سرکشی اور بغاوت نہ کرو۔ اور فرعون ایک جبار اور سرکش حکمران تھا۔ اور قوم کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرتا تھا۔ اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا اور پوری طرح کنڑول میں لے رکھا تھا۔ وہ بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرتا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ اور یہ محض ظلم کی وجہ سے ۔ ہامان فرعون کا وزیر تھا اور اس کی ان قاہرانہ اور ظالمانہ ریاستی پالیسیوں کی تنفیذ وہ کرتا تھا۔ فرعون کے تمام جرائم میں یہ اس کیلئے معین و مددگار تھا۔ یہ لوگ جو قوت ، مال اور اسباب حیات کے مالک تھے اور زمین پر پوری طرح غالب تھے ان سب کو اللہ نے پکڑا ، کیونکہ انہوں نے لوگوں کو فتنے میں ڈال دیا تھا اور ان کو اذیت دیتے تھے۔ اور وہ طویل عرصہ تک ایسا کرتے رہے تھے۔
Ayah 29:40فکلا اخذنا بذنبہ ۔۔۔۔۔ انفسہم یظلمون (40)
” آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا۔ پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی ، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا ، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ، اور کسی کو غرق کردیا۔ اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا ، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے “۔ قوم عاد پر اللہ نے ایسی تیز ہوا بھیجی جو پتھر اڑا کر پھینک رہی تھی۔ اسی طرح جو جہاں تھا ، مارا گیا۔ قوم عود پر سخت دھماکہ دار چیخ آئی اور سب ڈھیر ہوگئے۔ اور قارون معہ اپنی دولت اور کوٹھیوں کے زمین میں دھنس گیا۔ اور فرعون اور ہامان بحراحمر میں غرق ہوئے۔ یہ سب لوگ اپنے اپنے ظلم میں پکڑے گئے۔
وما کان اللہ ۔۔۔۔۔ انفسھم یظلمون (29: 41) ” اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا ، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے “۔ پوری انسانی تاریخ کے باغیوں ، سرکشوں اور ظالموں کی تباہی اور بربادی کا عبرت آموز جائزہ لینے کے بعد اور آغاز سورت میں آزمائش اور گمراہی کے فتنوں کے ذکر کے بعد اب آخر میں ، اسلام اور کفر اور ایمان اور ضلالت کی قوتوں کی کشمکش کو ایک تمثیل سے سمجھایا جاتا ہے کہ حقیقی قوت ایک ہی ہے اور وہ اللہ کی قوت ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر قوتیں ہیں وہ نہایت ہی ناتواں اور کجی ہیں۔ ان کی مثال تار عنکبوت کی طرح ہے جو شخص تار عنکبوت کا سہارا لے گا وہ گویا ایک نہایت کچی چیز کا سہارا لیتا ہے۔ اللہ کے سوا تمام قوتوں کی یہی مثال ہے۔
Ayahs 29:41–43مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ وما یعقلھا الا العلمون (41 – 43)
یہ ایک عجیب اور سچی تصویر ہے ، ان تمام قوتوں کی جو اس کائنات میں موجود ہیں۔ اس میں ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کیا
گیا ہے جس سے لوگ بالعموم غافل رہتے ہیں اور اس غفلت کی وجہ سے پھر ان کے پیمانے اور اقدار بدل جاتی ہیں۔ پھر وہ غلط رابطے قائم کرلیتے ہیں ۔ ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ وہ صحیح فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کیا لیں اور کیا چھوڑیں۔
اس غلط سوچ کی وجہ سے وہ پھر ریاستی قوت سے بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ریاستی قوت ہی اصل قوت ہے اور سب کچھ ہے۔ اور ہر جگہ موثر ہے۔ اس لیے وہ اس قوت سے ڈرتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے کوشاں رہے ہیں وہ اس ریاستی قوت کی اذیتوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں اور اس کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔
پھر ایسے لوگوں کو دولت کی قوت سے بھی دھوکہ ہوتا ہے ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی قوت ہے ، جس کے نتیجے میں زندگی کی قدریں حاصل ہوتی ہیں۔ اور تمام اقدار حیات دولت کے تابع ہوتی ہیں۔ چناچہ ایسے لوگ حصول دولت کا شوق رکھتے ہیں اور زوال دولت کا انہیں ہر وقت خوف رہتا ہے۔ اور وہ حصول دولت کے لیے ہر وقت جدوجہد کرتے ہیں تاکہ اس دولت کے ذریعہ وہ لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوں اپنے زعم کے مطابق۔
یہ لوگ سائنس کی قوت کو بھی ایک بڑی قوت سمجھتے ہیں۔ اس کو بھی یہ مالی قوت اور تمام قوتوں کی بنیاد تصور کرتے ہیں ، جن کے ذریعہ کوئی شخص گرفت کرتا ہے یا چلتا پھرتا ہے۔ سائنسی قوت کے سامنے بھی لوگ اس طرح جھکتے ہیں جس طرح سائنس کوئی معبود ہے اور لوگ اس کے بندے ہیں۔
غرض انسان کو یہ سب ظاہری قوتیں دھوکہ دیتی ہیں۔ جن افراد کے پاس یہ قوتیں ہیں جن سوسائٹیوں کے پاس یہ وسائل ہیں یا جن حکومتوں کے پاس یہ قوتیں ہیں ان سے دوسرے لوگ ڈرتے ہیں اور ان کا طواف کرتے ہیں اور ان پر لوگ اس طرح فدا ہوتے ہیں جس طرح پروانہ چراغ پر گرتا ہے۔ یا جس طرح وہ آگ میں گرتا ہے۔
ان ظاہری قوتوں سے دھوکہ کھا کر انسان اس اصلی قوت کو بھول جاتا ہے جو ان حقیر قوتوں کو پیدا کرنے والی عظیم قوت ہے۔ جو ان قوتوں کی پیدا کرنے والی ہے ، جو ان سب قوتوں کی مالک ہے ، جو کسی کو یہ قوتیں عطا کرتی ہے ، جو ان قوتوں کی تسخیر کرتی ہے اور ان کا رخ جس طرف چاہتی ہے ، پھیر دیتی ہے۔ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ دنیا کی ان حقیر اور ظاہری قوتوں کے پاس پناہ لینا ، خواہ قوتیں افراد کے ہاتھ میں ہوں ، چاہے کسی سوسائٹی میں ہوں ، چاہے کسی حکومت کے پاس ہوں ، اسی طرح ہے جس طرح کوئی تار عنکبوت کا سہارا لے ، یا بیت عنکبوت میں پناہ لے۔ یہ عنکبوت تو ایک کمزور ، حقیر ، اور نہایت نرم کپڑا ہے اس کی ساخت ہی کمزور ہے۔ اور اس کا گھر بھی کمزور گھر ہے۔ وہ کسی کو کیا پناہ دے سکتا ہے۔
یاد رکھو ! کہ حمایت صرف اللہ کی حمایت ہے ، پناہ صرف اللہ کی پناہ ہے جو ایک قوی پناہ دینے والا ہے۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے جو قرآن کریم مومن لوگوں کے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ اور ایک بار جب قرآن نے اہل ایمان کے دلوں میں یہ حقیقت بٹھا دی تھی تو وہ گروہ دنیا کا ایک طاقت ور گروہ بن گیا تھا۔ اور اس نے ان تمام ظاہری قوتوں کو روند ڈالا تھا جو اس کی راہ میں کھڑی ہوگئی تھیں۔ زمین کے تمام جباروں اور قہاروں کی گردنیں مروڑ کر جھکا دی تھیں اور بڑے بڑے قلعے مسمار کرکے رکھ دئیے تھے۔
یہ حقیقت قرآن نے اس گروہ میں کس طرح بٹھا دی تھی ؟ یہ حقیقت ہر نفس میں بیٹھ گئی تھی۔ اس سے ہر دل بھر گیا تھا۔ یہ حقیقت ان کے خون میں مل گئی تھی اور یہ ان کو رگوں میں دوڑ رہی تھی۔ یہ حقیقت صرف الفاظ کی ادائیگی تک محدود نہ تھی۔ نہ یہ ایک موضوع بحث تھی جس پر سیمینار ہوتے تھے بلکہ یہ ان نفوس میں واضح طور پر نظر آتی تھی۔ اور ان کے حس و خیال میں اس کے سوا کوئی اور بات نہ تھی۔ یہ کہ اللہ کی قوت ہی واحد قوت ہے اور اللہ کی دوستی ہی واحد دوستی ہے اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ کمزور و ناتواں ہے۔ اگرچہ بظاہر دوسری قوتیں جس قدر بھی ظلم و استبداد کریں۔ اگرچہ انہوں نے ظلم و سرکشی کی حد کردی ہو ، اگرچہ ان کے پاس گرفت اور دست درازی کے تمام وسائل ہوں اور وہ پکڑ دھکڑ کر رہے ہوں۔
یہ سب کچھ بیت عنکبوت ہے۔ یہ تمام قوتیں اور وسائل تار عنکبوت ہیں۔
وان اوھن ۔۔۔ یعلمون (29: 41) ” اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ جانتے “
وہ داعی جو فتنوں اور آزمائشوں سے دوچار ہوجاتے ہیں ، جنہیں قید و بند اور تشدد و اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے ، ان کو چاہئے کہ اس حقیقت پر غور کریں اور ایک لمحے بھر کے لیے بھی اسے نظروں سے اوجھل ہونے نہ دیں ، ان کو تو اس میدان میں مختلف مزاحم قوتوں سے دوچار ہونا ہے۔ یہ قوتیں ان پر وار کرتی ہیں اور ان کو نیست و نابود کرنا چاہتی ہیں۔ بعض ایسی قوتیں ہوتی ہیں جو انہیں خریدنا چاہتی ہیں۔ یہ سب قوتیں تار عنکبوت کی طرح ہوتی ہیں بشرطیکہ کسی کا ایمان و نظریہ مضبوط ہو ، اور کوئی جانتا ہو کہ اصل اور حقیقی قوت ہے کیا ۔
ان اللہ یعلم ۔۔۔۔ من شئ (29: 42) ” یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو پکارتے ہیں ، اللہ اسے خوب جانتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے سوا بعض دوسری چیزوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ یہ سہارے کے قابل چیزیں نہیں ہیں۔ ان کی حقیقت وہی ہے جو تمثیل سابق میں بیان کی گئی یعنی مکڑی کا جالا۔
وھو العزیز الحکیم (29: 42) ” وہی زبردست اور حکیم ہے “۔ وہی غالب ہے ، وہی قاہر ہے ، وہی حکیم ہے اور وہی اس پوری کائنات کا مدبر ہے۔
وتلک الامثال ۔۔۔۔ الا العلمون (29: 43) ” یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں “۔ مشرکین کے بعض لوگ ایسے تھے جن کے دلوں پر تالے لگے ہوئے تھے اور ان کی عقل ماری گئی تھی ، وہ لوگ اس تمثیل کے ساتھ یہ مزاح کرتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد کے رب مکھیوں اور مچھروں کی بات بھی کرتے ہیں اور اس تمثیل میں جو حقیقت بیان کی گئی تھی ، اس کو وہ سمجھ ہی نہ سکے تھے۔ نہ اس کا ان پر اثر ہوا۔ اس لیے اللہ نے فرمایا کہ
وما یعقلھا الا العلمون (29: 43) ” مگر ان چیزوں کو وہی لوگ سمجھے ہیں جو عقلمند ہیں “۔
اب آخر میں ان تمام حقائق کو اس عظیم حقیقت کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے جو اس کائنات کے نقشے میں ودیعت کردی گئی ہے ، جس طرح قرآن کریم کا خاص اسلوب ہے۔
Ayah 29:44خلق اللہ ۔۔۔۔۔ لایۃ للمؤمنین (44)
” اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے ، در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے اہل ایمان کے لیے “۔
تمام انبیاء کے قصص کے بعد یہ آیت آتی ہے اور اس تمثیل کے بعد آتی ہے جس میں اللہ کی قوت کے مقابلے میں دوسری قوتوں کو تار عنکبوت کی طرف نزار و نحیف بتایا گیا ہے۔ یہ آیت ان سب قصص و تمثیلات کے ساتھ مربوط اور ہم آہنگ ہے۔ اور ان کے درمیان ایک گہرا رابطہ ہے کہ زمین و آسمان میں وہی حقیقت بکھری ہوئی ہے اور ہر سو نظر آتی ہے۔ یہ کائنات جس ٹھوس نظام پر قائم ہے ، اس کے اندر وہی حقیقت ہے وہی قوت ہے جو اس قرآن کے اندر پوشیدہ ہے۔
ان فی ذلک لایۃ للمومنین (29: 44) ” درحقیقت اس میں نشانی ہے اہل ایمان کے لیے “۔ کہ یہ ایک عظیم نظام ہے ، ناپیدا کفار کائنات ہے اور پھر بھی باہم متصادم نہیں ہے۔ اور اہل ایمان ہی ہیں جن کے دل اس کائنات میں بکھری ہوئی نشانیوں کے لیے کھلے ہوتے ہیں ، جن کا نظم و نسق یہ شہادت دیتا ہے ، جس قدر بھی دور تک ہمارا مشاہدہ جائے کہ یہ کائنات ایک عظیم سچائی پر پیدا کی گئی ہے صرف اہل ایمان ہی اس سے حقیقت کو پاسکتے ہیں اس لیے کہ ان کو مومنانہ بصیرت اور بصارت حاصل ہوتی ہے اور ان کا شعور اور قوت مدرکہ تیز ہوتی ہے۔
آخر میں اس کتاب کو جو حضرت محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے ، ذکر و صلوٰۃ سے مربوط کردیا جاتا ہے۔ اور اس حق کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے جو اس پوری کائنات میں پوشیدہ ہے اور اس ذکر و فکر سے مربوط کیا جاتا ہے جو نوح (علیہ السلام) سے ادھر تمام انبیاء کو نکتہ دعوت رہا ہے ۔