Ayahs 28:1–2درس نمبر 176 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 43
طسم (1) تلک ایت الکتٰب المبین (2)
” “۔ سورت کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ۔ حر وف تہجی سے آغاز کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت ایسے ہی حروف سے مر کب ہے ، لیکن عام حروف تہجی سے مر کب یہ کتاب ایک بلند مر تبہ اور معجز انہ کتاب ہے۔ ان ہی حروف سے بننے والی دوسری کتابوں اور اس کتاب میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ یہ کتاب عام لوگوں ہی کی زبان میں ہے ، عام لوگ فانی ہیں لیکن یہ کتاب لازوال ہے ۔ اور یہ تلک ایت الکتب المبین (2:28) ” یہ کتاب مبین کی آیات ہیں “۔ لہٰذایہ کتاب مبین کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے کیونکہ اگر انسان کی بنائی ہوئی ہوتی تو دوسرے انسان بھی ایسی کتاب بنا کرلے آتے جبکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انسان ایسی کتاب نہیں لاسکے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ یہ وحی من جانب اللہ ہے اور اس سے اس کی فصاحت وبلاغت اور معجزانہ شان بالکل واضح
ہے ۔ پھر اس کے اندر جو مضامین ہیں وہ چھوٹے بڑے معاملے میں سچائی کی چھاپ لیے ہوئے ہیں ۔
Ayah 28:3نتلوا علیک من نبا موسٰی وفرعون بالحق لقوم یومنون (3)
” “۔ یہ کتاب اب لوگوں کے لیے آرہی جو ایمان لانے والے ہوتے ہیں ، یہ ان کی تربیت کرتی ہے ، ان کو اٹھاتی ہے اور ان کے لیے منہاج حیات وضع کرتی ہے ۔ راستہ بتاتی ہے ۔ یہ قصص بھی ایسے ہی اہل ایمان کے لیے لائے جارہے ہیں اور ایسے ہی لوگ ان سے نفع اٹھاتے ہیں ۔
اس کتاب کی یہ تلاوت براہ راست اللہ کی طرف سے ہے ، یہ اللہ کی عنایات میں سے ایک عنایت ہے ۔ اور اہل ایمان کے لیے اس کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ یہ کتاب اہل ایمان کو بتاتی ہے کہ وہ نمایت ہی بلند مر تبہ اور قیمتی لوگ ہیں اور اللہ کے نزدیک وہ مرتبہ بلند رکھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر یہ کتاب ان کے لیے تلاوت کرتا ہے اور ان کے لیے یہ کتاب ان کی صفت ایمان کی وجہ سے تلاوت کی جارہی ہے ۔
لقوم یومنون (3:28 ) ” ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں “۔
اس کے بعد اصل قصہ شروع ہوتا ہے ، یہاں قصے کا آغاز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے آغاز یعنی آپ کی ولادت سے ہوتا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ کئی سورتوں میں آیا ہے لیکن آپ کی ولادت کے واقعات کا بیان صرف اس سورت میں اس انداز سے ہے کیونکہ آپ کی سیرت کا پہلا دور یعنی آپ کی ولادت اور وہ حالات جن میں ولادت ہوئی بےبسی کا دور تھا ولادت ہوتے ہی آپ بےبس تھے ۔ آپ کی قوم بھی بےبس تھی ۔ فرعون کی غلامی میں یہ لوگ بندھے ہوئے تھے ، ذلیلوخوار تھے اور یہی ذلت ومسکنت یہاں اس سورت کا حقیقی موضوع ہے ۔ ایسے مشکل حالات میں صاف صاف نظر آیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بچانے کے لیے دست قدرت واضح طور پر سرگرم ہے ۔ جو تدابیر اختیار کی گئیں وہ بالکل ظاہر ہیں ۔ ایسے حالات میں جبکہ ظلم زیادتی اور سرکشی کے خلاف تمام انسانی قوتیں عاجزآگئی ہیں۔ دست قدرت اس عظیم قوت پر ایسی ضرب لگاتی ہے جس کی کوئی آواز نہیں ہے۔ اس طرح مستضعفین کی نصرت کا آغاز ایسے حالات میں ہوتا ہے کہ ان کے پاس حالات کو بدلنے کا کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔ قوم بنی وسرائیل کو سخت ترین عذاب اور ظلم اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور ان کے پاس بچاؤ کی کوئی ظاہری سبیل نہیں ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال تھی جس سے مکہ میں مٹھی بھر ایمان والے دوچار تھے۔ مکہ کے اہل ایمان کو بھی اس طرح دست قدرت کی غیبی امداد کی ضرورت تھی اور مکہ میں تشدد کرنے والوں کو ضرورت تھی کہ ان کو متنبہ کیا جائے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے اور یقیناً ہوتا ہے۔
دوسری سورتوں میں اکثر اوقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا آغاز رسالت کے سپرد کیے جانے کے واقعات سے ہوتا ہے۔ کسی جگہ اس قصے کا آغاز ولادت موسیٰ کے واقعات سے نہیں ہوا۔ دوسرے مقامات پر جب ہم دیکھتے ہیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قوی مومن کی طرح ایک سرکش مقتدر اعلیٰ کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں اور یہ قوت ایمان غالب آتی ہے اور ظلم اور سرکشی سرنگوں ہوتی ہے لیکن یہاں یہ مفہوم بتانا مقصود نہیں ہے۔ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ شر جب ننگا ہوکر اپنے عروج تک جا پہنچتا ہے تو اس کے اس عروج کے اندر سے اس کی خرابی کا سامان نمودار ہوتا ہے۔ شر اور ظلم جب کھل کر سامنے آجاتے ہیں تو پھر ان کی شکست و ریخت کا سامان قدرتی طور پر فراہم ہوتا ہے۔ کسی بیرونی دفاع کی ضرورت نہیں رہتی۔ شر کے خاتمے کے قدرتی عوامل شروع ہوجاتے ہیں ، اور دست قدرت خود اس کا دفعیہ کرتا ہے اور مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کو ظلم کی چکی سے نجات دے دی جاتی ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے ، خیر پھلتا اور پھولتا ہے۔ اس کی تربیت ہوتی ہے اور اہل خیروقت کے امام بن جاتے ہیں اور تمام اقتدار ان کے ہاتھ میں آجاتا ہے اور وہ اس کے وارث ہوجاتے ہیں۔
یہی وہ حکمت ہے جس کے لیے سورة قصص میں قصہ موسیٰ کو لایا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں اس قصے کی وہ کڑی لی گئی ہے جو پوری طرح اس مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔ قرآن کریم میں قصص جہاں جہاں بھی لائے گئے ہیں ، ہر جگہ ان سے ایک مخصوص غرض سامنے آتی ہے۔ لوگوں کی ، ایک زاویہ سے ، تربیت مقصود ہوتی ہے اور کچھ معانی ، کچھ حکمتیں اور کچھ اصول ان کو بنانے مقصود ہوتے ہیں۔ چناچہ جس مقصد کے لیے قصہ لایا جاتا ہے ، وہ نہایت ہی ہم آہنگی کے ساتھ اور مربوط طریقے سے ذہنوں میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ حقائق پر ودئیے جاتے ہیں اور قلب و نظر کی تعمیر صحیح خطوط پر ہوتی ہے۔
یہاں اس قصے کی جو کڑیاں لائی گئی ہیں ، مثلاً ولادت موسیٰ (علیہ السلام) ، وہ سخت حالات جن میں آپ کی ولادت ہوئی ، ان حالات میں جس معجزانہ انداز میں اللہ نے آپ کو بچانے کی تدابیر کیں ، پھر آپ کی پرورش کا معجزانہ انتظام اور آپ کو جوانی ، علم اور حکمت کا عطا ہونا ، قبطی کا قتل ہونا ، فرعون اور اس کے سرداروں کا آپ کے خلاف مشورت کرنا ، حضرت موسیٰ کا مصر سے مدین کی طرف بھاگنا ، وہاں شادی کرنا ، خدمت گزاری کی مدت پوری کرنا ، پھر طور پر آپ کا ندائے ربی سنتا اور منصب رسالت پانا ، پھر آپ کا فرعون اور اس کے سرداروں کے سامنے فریضہ تبلیغ رسالت پورا کرنا۔ ان کی جانب سے تکذیب ، حضرت ہارون کو بحیثیت معاون نبی متعین کرنا اور آخری انجام کہ فروعون کی غرقابی۔ یہ سب امور نہایت ہی تیزی کے ساتھ سین پر آتے ہیں۔
یہاں قصے کی دو کڑیوں کو قدرے تفصیل سے پیش کیا گیا ہے ۔ اس لیے کہ ان کو قرآن کریم میں پہلی بار لایا گیا ہے۔ اور ان دونوں کے ذریعے یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ اللہ کس طرح کھل کر ظلم کے خلاف اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے ، فرعون کی تمام قوتیں اور مکاریاں فیل ہوجاتی ہیں۔ تمام احتیاطی تدابیر بےاثر ہوجاتی ہیں اور اللہ کے فیصلے نافذ ہو کر رہتے ہیں۔
Ayah 28:4ونری فرعون ۔۔۔۔۔ کانوا یحذرون (28: 6) ”“۔ جس طرح پورے قرآن میں قرآن کریم کا انداز بیان قصص ہوتا ہے ۔ قصہ فرعون و کلیم کو بھی یہاں مناظر کی شکل میں لایا گیا ہے۔ ان مناظر کے درمیان ان کڑیوں کو حذف کردیا گیا ہے۔ جن کو انسان کی قوت متحیلہ خود بخود نظروں کے سامنے لے آتی ہے ، لہٰذا دو مناظر کے درمیان جو کڑیاں ترک کردی جاتی ہیں۔ ان کے بارے میں انسان لاعلم نہیں رہتا ، بلکہ انسان کی قوت متحیلہ پر دہ خیال پر ان واقعات کو لے آتی ہے۔ یوں ظاہری اسکرین کے ساتھ ساتھ پردہ خیال پر بھی مناظر آتے اور جاتے رہتے ہیں۔
اس قصے کا پہلا حصہ پانچ مناظر ، دوسرا نو مناظر ، تیسرا حصہ چار مناظر پر مشتمل ہے۔ اور ان مناظر اور ٹکڑوں کے درمیان ایک خلا ہے ، کہیں یہ گیپ بڑا ہے اور کہیں چھوٹا ہے۔ جس طرح پردہ گرتا ہے اور منظر آنکھوں سے غائب ہوجاتا ہے اور خیال کی اسکرین پر مناظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔
قصہ کے آغاز سے بھی پہلے اس فضا کی تصویر کشی کی جاتی ہے جس کے اندر واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ وہ حالات جن میں یہ قصہ واقع ہوا اور وہ مقاصد جن کے لیے دست قدرت نے یہ واقعات رونما کئے اور پھر وہ مقاصد جن کے لئے یہاں اس قصے کو دہرایا جا رہا ہے۔ یہ بھی قرآن کا ایک اسلوب ہے جو وہ قصہ پیش کرتے وقت اختیار کرتا ہے۔
ان فرعون علا فی الارض ۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یحذرون (4 – 6)
واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا ، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔ فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا۔ اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کرکے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہیں کو وارث بنائیں اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا “۔
یہ ہے وہ اسٹیج جس پر یہ واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اس ماحول کو وہ ذات بیان کر رہی ہے جو ان واقعات کو رونما کرا رہی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیتی ہے کہ ہم نے کیوں ایسا کیا اور یہ بھی صراحت کی کہ یہ ہم ہیں جو ایسا کر رہے ہیں۔ اور اس لیے کر رہے ہیں۔ ” واقعات۔ قصہ “ کے آغاز ہی میں صاف صاف بنا دیا جاتا ہے ہم ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ قصے کا ہدف واضح طور پر ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ چناچہ اس عجیب انداز میں یہاں اس قصے کا آغاز ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انداز اس کتاب کے عجائبات میں سے ہے۔
یہاں فراعنہ مصر میں سے اس فرعون کا نام نہیں لیا جاتا جس کے عہد میں یہ واقعات رونما ہوئے کیونکہ واقعات کا خالص تاریخی پہلو متعین کرنا مقاصد قرآن میں سے نہیں ہے۔ نہ اس سے اس علم و حکمت میں کوئی اضافہ ہوتا ہے جو قرآن کریم اہل ایمان کو سکھانا چاہتا ہے۔ یہ کافی ہے کہ حضرت یوسف کے زمانہ مصر کے بعد یہ واقعات رونما ہوئے کیونکہ حضرت یوسف کے والدین اور بھائیوں کی مصر منتقلی کے ساتھ بنی اسرائیل کی مصر منتقلی شروع ہوئی اور یہاں وہ پھلے پھولے۔ حضرت یوسف کے دور کے بعد سرکش فرعون نے مصر کا اقتدار اعلیٰ حاصل کیا۔ یہ بڑا جبار وقہار تھا۔ اس نے مصر میں طبقاتی نظام جاری کردیا تھا۔ ہر طبقے کے فرائض متعین کر دئیے تھے اور بنی اسرائیل پر اس دور میں بےحد مظالم ہو رہے تھے ۔ کیونکہ بنی اسرائیل کے عقائد و نظریات مصریوں کے عقائد و نظریات سے بالکل جدا تھے۔ بنی اسرائیل اپنے دادا حضرت ابراہیم کے دین پر تھے۔ اگرچہ ان کے عقائد میں تغیر و انحراف واقع ہوگیا تھا لیکن دین کا بنیادی ڈھانچہ وہی تھا۔ وہ عقیدہ توحید کے قائل تھے۔ فرعون کی الوہیت کے منکر تھے۔ اس طرح فراعنہ جن بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ بنی اسرائیل ان کے قائل نہ تھے۔
فرعون کو یہ خوف لاحق تھا کہ بنی اسرائیل مصر میں ، اپنے خیالات کی وجہ سے اس کے تاج و تخت کے لیے خطرہ ہیں۔ وہ مصر سے ان کو یکلخت نکال بھی نہ سکتا تھا۔ کیونکہ وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے نیز اس صورت میں فرعون کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر اس قدر عظیم آبادی کو یکبارگی مصر سے نکال دیا جائے تو وہ دشمن مجاور اقوام سے مل کر مصر پر حملہ آر ہوجائیں گے ۔ اس لیے اس نے اس قوم کو نیست و نابود کرنے کے لیے نہایت ہی وحشیانہ طریقہ نکالا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یہ لوگ نہ فرعون کو مانتے ہیں اور نہ اس کی خدائی کے قائل ہیں ، اس لیے اس نے اس قوم کو سخت ترین مشقت کے سپرد کردیا ، ان کو ہر طرح ذلیل کرکے رکھا ، اور ان پر قسم قسم کے مصائب ڈھانے لگا۔ آخر کار اس نے یہ انتہائی فیصلہ کیا کہ ان کے تمام پیدا ہونے والے لڑکوں کو ذبح کردیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے تاکہ ان کی آبادی میں اضافہ بالکل ختم ہوجائے۔ مرد زیادہ نہ ہوں اس طرح کی عورتوں کی کثرت اور مردوں کی کمی کی وجہ سے ان کی قوت ٹوٹ جائے گی اور یہ لوگ اس سخت عذاب اور ظلم کی وجہ سے دبا کر بھی رکھے جاسکیں گے۔
روایات میں آتا ہے کہ اس نے تمام حاملہ عورتوں کے لیے دائیاں مقرر کر رکھی تھیں جو ہر پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں فوراً رپورٹ کرتی تھیں اور اور بچے کو فوراً ٹھکانے لگا دیا جاتا تھا۔ اور اس سنگدلانہ منصوبے پر عمل کرنے میں کوئی رو رعایت نہ برتی جاتی تھی۔ فرعون کا یہ اس قدر ظالمانہ منصوبہ تھا کہ بےگناہ بچوں کو یوں ذبح کرنے کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان حالات میں حضرت موسیٰ کا قصہ یوں ان کی ولادت سے شروع ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے :
ان فرعون علا ۔۔۔۔۔۔ من المفسدین (28: 4) ” واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا ۔ اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا۔ فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا “۔
لیکن اللہ کا ارادہ اور منصوبہ فرعون کے منصوبے سے مختلف تھا۔ اللہ کا فیصلہ سرکش فرعون کے فیصلے سے جدا تھا۔ ہمیشہ یوں ہوتا ہے کہ ظالم اور سرکش اپنی قوت اور تدابیر پر مست ہوتے ہیں ، وہ اللہ کے فیصلوں اور قدرتوں کو بھلا دیتے ہیں۔ وہ یوں سوچتے ہیں کہ یہ لوگ جو سوچیں گے نتائج ویسے ہی ہوں گے۔ یہ لوگ اپنے دشمنوں کے لیے ان کا انجام خود متعین کرتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ حالات کے نتائج ان کے اندازوں کے مطابق ہی ہوں گے۔ اللہ یہاں اپنے ارادے کا اعلان کرتا ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں ہماری تقدیر یہ ہے۔ یہاں فرعون ، ہامان اور ان کے لشکروں کو متنبہ کردیا جاتا ہے کہ تم جو تدابیر اختیار کر رہے ہو وہ تمہارے لیے مفید مطلب نہ ہوں گی۔
Ayahs 28:5–6ونرید ان نمن علی الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یحذرون (28: 5 – 6) ”
“۔ یہ کمزور لوگ جن کو اس سرکش نے پوری طرح غلام بنا رکھا تھا ، ان کے حالات میں اپنی مرضی سے تصرف کرتا تھ ، ان کو سخت سے سخت سزائیں دیتا تھا ، ان کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا۔ اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑتا تھا۔ اس تشدد اور ظلم و ستم کے باوجود وہ اپنی ذات اور اپنے اقتدار کے بارے میں ان عوام سے سخت خائف تھا۔ چناچہ اس نے ان کے خلاف خفیہ پولیس قائم کر رکھی تھی اور ان کے ہاں جو بچہ بھی پیدا ہوتا اسے رپورٹ مل جاتی اور وہ اسے مذبح خانے کو بھیج دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قصاب تھا۔ یہ مفلوک الحال مستضعفین تھے جن پر اللہ نے پناہ فضل و کرم کرنے والا تھا۔ ان کو اللہ وقت کا امام بنانا چاہتا تھا۔ دنیا کی قیادت ان کے حوالے کرنے والا تھا۔ ان کو غلامی اور اطاعت کے درجے سے نکال کر قائدانہ رول دینا چاہتا تھا کہ وہ زمین پر اقتدار کے مالک بن جائیں ۔ (بعد میں جب وہ اس کے مستحق بنے تو ایسا ہی ہوا لیکن یہ استحقاق ایمان و صلاح کی بنیاد پر تھا) وہ ثابت قدم اور قوت و شوکت کے مالک بن جائیں اور ان کے ہاتھوں وہ خطرات واقعات بن جائیں جو ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کا لاحق تھے اور جن کے خلاف وہ ممکن حد تک احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے تھے لیکن ان کو یہ شعور نہ تھا کہ دست قدرت سے کیا ظاہر ہونے والا ہے۔
غرض واقعات قصہ کے بیان سے بھی پہلے یہاں مقاصد قصہ بیان کر دئیے جاتے ہیں۔ موجودہ صورت حالات کو بھی قارئین کے سامنے رکھا جاتا ہے اور جو ہونے والا ہے اس کی جھلکی بھی دکھائی جاتی ہے تاکہ دونوں قوتیں باہم بالمقابل ہوں۔ ایک طرف فرعون کا ظاہری کروفر ہے جس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ وہ جو کچھ چاہے ، کرسکتا ہے اور دوسری طرف اللہ کی وہ عظیم حقیقی قوت ہے جس کے مقابلے میں انسانی قوتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس کی قوت کے سامنے سب قوتیں ضعیف ، لاغر اور نیست و نابود ہونے والی ہیں۔
اس قصے کے بارے میں یہ اعلان اس سے قبل ہوجاتا ہے کہ اس کے مناظر کا آغاز کیا جائے جبکہ لوگ واقعات قصہ کے منتظر بیٹھے ہیں۔ ان کو انتظار ہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ اور جس طرح اعلان کیا گیا ہے یہ مستضعفین کس طرح اس عظیم قوت کو پاش پاش کرکے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہوجائیں گے ۔
یوں یہ قصہ زندگی سے بھرپور ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ شاید اسے قرآن کریم میں سورة قصص میں پہلی بار لایا گیا اور یوں نظر آتا ہے کہ اس کے مناظر اب پیش ہو رہے ہیں۔ یہ کوئی تاریخی واقعہ نہیں ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ گویا واقعات اب پیش ہو رہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کا منفرد انداز بیان ہے کہ وہ تاریخی نہیں بلکہ تمثیلی انداز میں قصص کو بیان کرتا ہے۔
اس قصے کا آغاز ہوتا ہے ، اس چیلنج کے بعد دست قدرت کے تصریحات کھلے کھلے اسکرین پر نظر آتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی ولادت ہوتی ہے اور جن حالات میں ہوتی ہے وہ بیان کر دئیے گئے ہیں۔ ولادت کے ساتھ ہی یہ خطرہ لاحق ہے کہ ان کی ولادت کی رپورٹ ہوجائے اور وہ فوراً موت کے منہ میں چلے جائیں ، ان کی گردن پر چھری چل پڑے اور ان کا سر زمین پر جاگرے۔
ان کی والدہ سخت پریشان ہے۔ اسے ان کی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ہر آن یہ خطرہ ہے کہ ان جلادوں کو اطلاع ہوجائے۔ وہ جب سوچتی ہے کہ اس معصوم کی گردن پر چھری چل رہی ہے تو وہ کانپ اٹھتی ہے ، یہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اس بچے کو اٹھائے ہوئے ہے۔ اس کے پاس اس کے بجانے کی کوئی قوت نہیں ہے۔ وہ اسے چھپا بھی نہیں سکتی۔ وہ اس کی فطری آواز ، رونے کی آواز کو بھی نہیں دبا سکتی۔ کوئی حیلہ اور وسیلہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ وہ اکیلی ہے ، عاجز ہے اور مسکین ہے۔ اس نازک موقعہ پر دست قدرت حرکت میں آتا ہے ۔ اس حیران و پریشان ماں کا رابطہ عظیم قوت کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ اسے اس حالت خوف میں ہدایت مل جاتی ہے کہ وہ کیا کرے۔ اسے یوں حکم دیا جاتا ہے۔
Ayah 28:7واوحینا الی ام موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ ولا تحزنی ” ہم نے موسیٰ کی ماں کو اشارہ کیا کہ ” اس کو دودھ پلا “ پھر جب تجھے اس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر “۔
کیا شان کبریائی ہے ، اللہ کی عظیم قدرت قابل دیدے ہے ! حکم ہوتا ہے ، موسیٰ کی ماں اسے دودھ پلاؤ، اسے پالتی رہو ، اپنی حفاظت میں رکھو۔ اور جب بھی تم خطرہ محسوس کرو ، اسے دریا میں ڈال دو ، بےخطر ہوکر اسے موجوں کے سپرد کر دو ، اگرچہ اس وقت وہ دودھ پی رہا ہو اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو۔
ولا تخافی ولا تحزنی (28: 7) ” کچھ خوف اور غم نہ کر “۔ وہاں دریا میں یہ اللہ کی نگرانی میں ہوگا۔ ایسی قوت کی نگرانی میں کہ امن و سلامتی اسی کے جوار رحمت میں دستیاب ہے۔ اس کی قوت کی نگرانی میں کسی کے لیے کوئی ڈر رہتا ہی نہیں۔ یہ وہی ہاتھ ہے جو آگ کو گلزار بنا دیتا ہے۔ آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیتا ہے۔ جو سمندر کو جائے پناہ بنانے والا ہے جس کو یہ ہاتھ پناہ دے دے اس کو فرعون جیسا جابر بھی ہاتھ نہیں لگا سکتا بلکہ زمین کا کوئی جبار وقہار بھی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
انا رآدوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین (7)
” ہم اسے تیرے ہی پاس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے “۔ میں رب ذوالجلال تمہارے ساتھ وعدہ کرتا ہوں کہ وہ تمہارے ہاتھوں میں لوٹا دیا جائے گا ، اس کی زندگی کے لیے کوئی خطرہ نہ رہے گا اور مزید خوشخبری یہ ہے کہ وہ نبیوں میں سے ہوگا اور اللہ سے زیادہ سچا وعدہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔
یہ اس قصے کا پہلا منظر ہے۔ ایک ماں ہے جو حیران و پریشان ہے۔ اسے خوف لاحق ہے کہ اس کے بچے کو قتل کردیا جائے گا۔ اس قتل کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس لیے وہ اس تصور ہی سے بےتاب ہوجاتی ہے کہ اسے عالم بالا سے ہدایات ملتی ہیں ، اسے خوشخبری دے دی جاتی ہے۔ وہ مطمئن ہوجاتی ہے اور اسے سکون ملتا ہے۔ ڈرے اور سہمے ہوئے اس دل پر ایسا اثر ہوتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم کے لیے آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی تھی۔ سیاق کلام میں اس کی تفصیلات نہیں ہیں کہ ام موسیٰ کو یہ ہدایت کس طرح ملیں اور کس طرح انہوں نے ان پر عمل کیا۔ پس پردہ گر جاتا ہے اور جب پر دہ اٹھتا ہے تو ہماری نظروں کے سامنے ایک دوسرا منظر ہے۔
Ayah 28:8فالتقطہ ال فرعون ” آخر کار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا “۔ کیا یہی امن تھا ؟ اور کیا یہی فرعون تک بشارت تھی ؟ کیا ہل فرعون کے علاوہ کسی اور سے اس بیچاری کو کوئی ڈر تھا ؟ ڈر تو یہی تھا کہ اس کے حالات سے ظالم فرعونی خبردار نہ ہوجائیں۔ ڈر تو صرف یہ تھا کہ یہ بچہ فرعون کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ دیکھئے قدرت خداوندی کا کرشمہ کہ یہ بچہ ان کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔
ہاں ، یہی کچھ تھا ، یہ دست قدرت کا کھلا چیلنج ہے اور نہایت ہی کھلا چیلنج ہے۔ فرعون اور ہامان کی عظیم سیاسی اور مالی قوت کا چیلنج ہے۔ یہ عظیم قوت رات دن بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکوں کا پیچھا کر رہی ہے۔ ان کو ڈر ہے کہ ان کا اقتدار ، ان کا تخت ، بلکہ خودان کی ذات کو ان لوگوں سے خطرہ ہے۔ فرعونیوں نے خفیہ سروس اور خفیہ ایجنسیوں کا جال پھیلا رکھا تھا ، وہ ایک ایک گھر پر نظر رکھتے تھے کہ کوئی بچہ بچ کر نہ نکل جائے۔ لیکن خالق حقیقی ان کی ان سرگرمیوں کا دفعیہ بغیر کسی قیل و قال ، بغیر کسی خفیہ سروس کے خود ان کے ہاتھوں سے کر رہا ہے۔ خود ان سے اس بچہ کی پرورش کرا رہا ہے۔ یہ کون سا بچہ ہے ؟ اس بچے کے ہاتھوں ان کی اس عظیم قوت کو پاس پاس ہونا ہے۔ یہ بغیر سہارے ، بغیر کسی ظاہری تدبیر کے ، عاجزی اور ناتوانی کی انتہائی شدید کمزوری کے حالات میں ان کے ہاتھوں میں ہے اور یہ بیچاری ماں اسے ان کے حوالے کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں کہ یہ بچہ اپنے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ یہ خود اس بچے کو فرعوں کے مضبوط قلعوں تک پہنچا دیتی ہے۔ اس ظالم کو اس بچے کی تلاش بھی نہیں کرنا پڑتی۔ جس طرح وہ ہر پیدا ہونے والے بچے کی تلاش رات دن جاری رکھتے تھے۔ جس کے ہاں بھی بچہ پیدا ہوتا ، سرکار وہاں پہنچ جاتی۔ دست قدرت نہایت ہی چیلنج کے انداز میں اپنے منصوبے کا صاف صاف اعلان کردیتا ہے۔
لیکون لھم عدوا وحزنا ” تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سبب رنج بنے “۔ یہ بچہ ان کے لیے ایک ایسا دشمن بن جائے جو ان کی قوت کو چیلنج کرے اور ان کے لیے پریشانی کا باعث بن جائے۔
ان فرعون وھامن وجنودھما کانوا خطئین (8) ” واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر (اپنی تدبیر میں) بڑے غلط کار تھے “۔ وہ کس طرح ان کا دشمن بنے گا اور کس طرح باعث تشویش ہوگا حالانکہ وہ ان کے ہاتھ میں ہے اور بےبس ہے۔ اس کے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔ اس کے پاس کوئی ظاہری ذریعہ اور تدبیر بھی نہیں ہے۔ سیاق کلام اس کا جواب خود دیتا ہے
Ayah 28:9وقالت امرات فرعون ۔۔۔۔۔۔ وھم لا یشعرون (9) ” فرعون کی بیوی نے (اس سے) کہا ، ” یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اسے قتل نہ کرو ، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں۔ اور وہ (انجام سے) بیخبر تھے “۔
یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو فرعون کے حصن حصین میں داخل کردیا ، پھر فرعون کی بیوی کے دل میں ان کی محبت ڈال دی اور یوں محبت کے مہین اور شفاف پردے میں حضرت موسیٰ کو محفوظ فرما دیا۔ حضرت موسیٰ کی حفاظت نہ اسلحہ سے کی گئی اور نہ مال و متال کے ذریعے کی گئی۔ اللہ نے فرعون کی بیوی کے دل میں اس کی محبت ڈال دی۔ اس طرح فرعون کی سختی ، اس کی سنگدلی اور اس کی تمام احتیاطی تدابیر دھری کی دھری رہ گئیں۔ اور اللہ کے لئے یہ مشکل نہ تھا کہ وہ اس ضعیف بچے کو محبت کے ان مہین پردوں کے سوا بھی بچا لے ، لیکن یہ اس کی ایک شان ہے۔
قرت عین لی ولک لا تقتلوہ (28: 9) ” یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اسے قتل نہ کرو “۔ اس عورت کے سوا وہ سب کے لیے دشمن اور موجب پریشانی بننے والا ہے اور اسی کے ہاتھوں فرعون اور اس کا لشکر غرق ہونے والا ہے جبکہ ان کی سوچ یہ تھی :
عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا (28: 9) ” عجب ہے کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو ، یا ہم اسے بیٹا بنا لیں “۔
حالانکہ اس بچے کے ساتھ ان کا وہ انجام بندھا ہوا ہے جس سے وہ ایک طویل عرصہ سے ڈر رہے تھے اور جس کے خلاف وہ احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے تھے۔ لیکن انہیں کیا خبر تھی۔
وھم لا یشعرون (28: 9) ” وہ انجام سے بیخبر تھے “۔ قدرت ان کے ساتھ مذاق کر رہی تھی۔ یہاں آکر یہ دوسرا منظر بھی ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ گرتا ہے۔
یہ تو تھے حالات حضرت موسیٰ کے۔ ان کی غم زدہ ماں کی حالت کیا تھی اس کی بےتابیوں کا کیا عالم تھا ؟
Ayahs 28:10–11واصبح فؤاد ام موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھم لا یشعرون (10- 11)
اس نے عالم بالا کی طرف سے اشارہ پایا اور اپنے بچے کو دریا کی موجوں کے نذر کردیا۔ لیکن اب وہ کہاں جا رہا ہے اس کا کیا انجام ہونے والا ہے ؟ وہ دل میں سوچتی رہی۔ کس طرح اس کے لئے ممکن ہوا کہ وہ اپنے جگر گوشے کو دریا کی موجوں کے حوالے کر دے۔ کس طرح اس سے یہ ہوسکا جبکہ اس سے قبل کوئی ماں ایسا نہ کرسکی تھی۔ اس حالت خوف میں کیا یہی سلامتی کا راستہ تھا ؟ کیونکہ یہ ممکن ہوا کہ اس نے آواز غیب پر اس طرح لبیک کہہ دیا ؟
قرآن کریم اس بیچاری کی دلی کیفیات کی تصویر کشی عجیب انداز میں کرتا ہے۔ یہ دل خالی اور فارغ ہے ۔ نہ اس میں عقل ہے ، نہ اسے کچھ سمجھ میں آرہا ہے ، نہ کوئی سوچ ہے اور نہ کوئی تدبیر ہے۔
ان کا در لتبدی بہ (28: 10) ” قریب تھا کہ وہ راز فاش کر بیٹھتی “۔ اور وہ مجنونہ کی طرح چیخ اٹھتی کہ میں نے اسے رکھا ہے ، میں نے اسے رکھا ہے ، تمام لوگوں کو خبر ہوجاتی اور قریب تھا کہ وہ پکار اٹھتی کہ میں نے اسے دریا برد کیا ہے اور ایک غیبی آواز پر میں نے ایسا کیا ہے۔
لولا ان ربطنا علی قلبھا (28: 10) ” اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے “۔ اس کے دل کو سخت نہ کردیتے ،
اس کے اندر قوت برداشت نہ پیدا کردیتے۔ اور اسے چیخ و پکار اور آہ و فغان سے روک نہ دیتے تو وہ اس راز کو فاش کردیتی۔
لتکون من المومنین (28: 10) ” تاکہ وہ ایمان لانے والوں میں سے ہو “۔ اسے اللہ کے وعدے کا پورا یقین ہوجائے ، اور اللہ کی راہ میں ابتلا پر صبر کرنے اور اس پر جمے رہنے کا مقام مل جائے ، اور وہ ہدایت پر چلنے والی بن جائے۔
لیکن ام موسیٰ پھر بھی بقاضائے فطرت انسانی تجسس سے نہ رکی۔ اپنی سی کوشش اس نے کی۔
وقالت فاختہ قصیہ (28: 11) ” اس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جاؤ “۔ ذرا دیکھتی جاؤ کہ کیا ہوتا ہے۔ دیکھو کہ یہ زندہ رہتا ہے ؟ اگر رہتا ہے تو کیونکر رہتا ہے۔ اسے مچھلیاں کھا جاتی ہیں یا خشی کے درندے کھا جاتے ہیں۔ کہاں ڈوبتا ہے اور کہاں رکتا ہے ؟
بہن نے نہایت ہی خفیہ انداز میں نہایت ہی احتیاط کے ساتھ اس کا پیچھا کیا۔ راستوں اور بازاروں میں اس کی خبریں تلاش کرتی رہی۔ آخر کار اس کو معلوم ہوگیا کہ دست قدرت نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ اس نے دور سے دیکھ لیا کہ فرعون کے نوکروں نے اسے دریا سے پکڑ لیا ہے۔ بچہ دودھ نہیں پی رہا ہے اور نوکر اس کے لیے دودھ پلانے والی کی تلاش میں ہیں
Ayah 28:12وحرمنا علیہ المراضع ۔۔۔۔۔۔۔ وھم لہ نصحون (12)
” اور ہم نے بچے پر پہلے ہی دودھ پلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں۔ (یہ حالت دیکھ کر) اس لڑکی نے ان سے کہا ” میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں “۔
قدرت الہیہ کے اس عجوبے پر غور کیجئے ، اسے پیدا کیا گیا ہے اور اس کو پالا گیا ہے اس لیے کہ فرعون اور اس کی قوم کے لیے باعث ہلاکت ہو ، لیکن تدبیر یوں ہے کہ وہ خود اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں ، اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں ، اس کے لئے دودھ پلانے والی کی تلاش کرتے ہیں۔ دست قدرت اس پر تمام پلانے والیوں کا دودھ حرام کردیتا ہے۔ دودھ پلانے والیاں دودھ پیش کرتی ہیں اور وہ پستان منہ میں نہیں لیتا۔ انہیں یہ خوف لاحق ہوجاتا ہے کہ کہیں وہ مر ہی نہ جائے۔ اس کی بہن دور سے یہ منظر دیکھتی ہے۔ قدرت اس کے لئے بات کرنے کے مواقع پیدا کردیتی ہے۔ وہ آگے بڑھ کر پیشکش کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی عورت کا پتہ دے دوں جو اس کی اچھی طرح تربیت کرے اور وہ اس کے لیے خیر خواہ بھی ہو وہ خوشی خوشی اس پیشکش کو منظور کرلیتے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ اگر یہ بچہ اس عورت کا دودھ لے لے ، اور اس طرح موت سے بچ جائے تو بہت ہی اچھا ہو کیونکہ یہ بہت ہی پیارا بچہ ہے۔
اب یہاں یہ چوتھا منظر بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اب ہم اس کڑی کے پانچویں اور آخری منظر کے سامنے ہیں۔ یہ بچہ اب اپنی بےتاب ماں کی گود میں ہے۔ اس کو سکون مل گیا ہے۔ شاہی بچے کو دودھ پلانے کی وجہ سے ایک بلند مقام بھی مل گیا ہے۔ فرعون اور اس کی بیوی دونوں اس بچے کا خیال رکھتے ہیں ، خوف کے سائے اس کے اردگرد منڈلاتے ہیں لیکن وہ نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کر رہا ہے۔ یہ ہیں دست قدرت کی صنعت کاریاں۔ قدرت کے اس عجوبے کی پہلی کڑی یہاں اختتام کو پہنچی ہے۔
Ayah 28:13حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے ان مناظر کے بعد اب سیاق کلام کے اندر کئی سالوں کا وقفہ ہے۔ قصے کا اگلا حصہ آپ کے شباب کے زمانے سے متعلق ہے۔ جب حضرت موسیٰ کو دودھ پلانے کے لیے ان کی ماں کے حوالے کردیا گیا تو اس کے بعد کیا حالات پیش آئے ، اس کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ قصر فرعون کے اندر آپ کے شب و روز کیسے رہے اور یہ کہ زمانہ رضاعت کے اختتام کے بعد اپنی ماں کے ساتھ اس کا رابطہ کیسے تھا۔ یہ کہ بلوغ اور شباب کے بعد قصر شاہی میں آپ کا مقام و مرتبہ کیا تھا۔ آپ کا عقیدہ کیا تھا۔ بہرحال وہ فرعون اور اس کے کاہنوں کے درمیان باری تعالیٰ کی نگرانی میں تیار ہو رہے تھے تاکہ وہ اپنا فریضہ ادا کریں۔ اس طویل وقفے کے بعد پھر یہ حالات پیش آئے۔ بہرحال شباب اور بلوغ تک پہنچنے کے ساتھ ہی آپ کی علمی اور روحانی تربیت مکمل ہوئی۔ اللہ نے آپ کو علم و حکمت عطا کیا اور یہ تھی جزا نیک لوگوں کی۔
Ayah 28:14” بلوغ اشد “ کے معنی ہیں جب آپ کی جسمانی قوتیں مکمل ہوگئیں اور استواء کا مفہوم ہے جسمانی اور عقلی اعتبار سے پختگی تک پہنچنا۔ یہ درجہ بالعموم تیس سال کی عمر میں حاصل ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عرصے تک حضرت موسیٰ کیا فرعون کے قصر شاہی ہی میں رہے ؟ اور فرعون اور اس کی بیوی کے لے پالک اور محبنی رہے یا یہ ان سے علیحدہ ہوگئے اور انہوں نے قصر شاہی کو چھوڑ دیا۔ اس لیے کہ شاہی محلات کے گندے اور سڑے ہوئے ماحول میں کسی ایسے شخص کا رہنا ممکن ہی نہیں جس کی روح پاک و صاف ہو اور جس سے مستقبل میں نبوت کا کام لیا جانا ہے۔ خصوصاً جبکہ ان کی ماں نے ان کو یہ بات بتا دی ہوگی کہ ان کی شناخت کیا ہے۔ ان کی قوم کیا ہے اور ان کا دین کیا ہے اور اس کے بعد جب وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ ان کی قوم پر کسی قدر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ، ان کو کس قدر ذلیل و خوار کر کے رکھا جا رہا ہے اور معاشرے کے اندر ایک ہمہ گیر فساد برپا ہے اور ہر طرف ظلم و تشدد کا دور دورہ ہے۔
لیکن ہمارے پاس ان کی اس زندگی کے بارے میں کوئی مستند ذریعہ علم نہیں ہے۔ البتہ بعد میں آنے والے واقعات کی بنیاد پر انسان ان کی اس زندگی کے بارے میں قیاس کرسکتا ہے۔ بعد میں اس پر تبصرہ کریں گے۔ یہاں اس پر غور کرنا ہے کہ علم و حکمت عطا کرنے کے بعد اللہ نے اس پر یہ تبصرہ کیا ہے۔
وکذلک نجزی المحسنین (28: 14) ” ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
انہوں نے پاکیزگی اور احسان کی زندگی اپنا لی تھی اور یہ علم و حکمت جزائے احسان تھا۔
Ayahs 28:15–17ودخل المدینہ علی حین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (15- 17)
” وہ شہر میں داخل ہوا “ اور شہر سے مراد دار الخلافہ ہے ، جس طرح کہ اس وقت وہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کہاں سے آئے اور شہر میں داخل ہوئے۔ کیا یہ عین الشمس کے قصر شاہی سے نکل کر آئے یا یہ کہ انہوں نے شاہی محل اور دارالحکومت کو چھوڑ دیا تھا اور کسی اور جگہ رہائش اختیار کرلی تھی اور وہ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے یعنی دوپہر کا وقت تھا یا لوگوں کے آرام کا وقت تھا۔ جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں۔
فوجد فیھا رجلین ۔۔۔۔۔۔۔ من عدوہ (28: 15) ” وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا “۔ ان میں سے ایک قطبی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فرعونی کے مصاحین میں سے تھا ، بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ شاہی محل کا باروچی تھا اور دوسرا اسرائیلی تھا۔ یہ دونوں آپس میں لڑ رہے تھے۔ تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدد کے لیے پکارا کیونکہ قبطی دونوں کا دشمن تھا۔ یہ کیسے ہوا ؟ یہ کس طرح ممکن ہوا کہ ایک عام اسرائیلی فرعون کے پروردہ شخص کو خوف فرعون کے ملازم یا اس کی قوم کے آدمی کے خلاف پکار رہا ہے۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو بدستور شاہی محل میں فرض کرلیا جائے تو وہ ممکن نہیں ہے کہ فرعون کے متنبی کو ایک دوسرے فرعونی کے خلاف پکارا جائے۔ یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ فرض کیا جائے کہ انہوں نے شاہی محل کو ترک کردیا ہے اور فرعون سے ان کے رابطے ختم ہیں۔ بنی اسرائیل میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل سے ہیں اور یہ کہ وہ بادشاہ اور اس کے حاشیہ نشینوں کے خلاف ہیں اور اب وہ اپنی پسی ہوئی قوم کی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) جیسا مقام و مرتبہ رکھنے والے شخص کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ قصر شاہی سے نکل گئے ہوں کیونکہ آپ کا پاک نفس شروفساد کے اس گندے نالے میں کس طرح رہ سکتا تھا۔
فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ (28: 15) ” موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا “۔ وکز اس ضرب کو کہتے ہیں جو انسان پورے ہاتھ کے ساتھ دوسرے کو لگائے۔ انداز بیان سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی گھونسے کے ساتھ قبطی ڈھیر ہوگیا۔ اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کس قدر مضبوط اور قوی جوان تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ منفعل المزاج تھے اور سخت غصے والے تھے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں فرعونیوں اور فرعون کے خلاف سخت نفرت تھی۔
لیکن قرآن کریم کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس قبطی کو قتل کرنا نہ چاہتے تھے۔ یہ نہ چاہتے تھے کہ اسکی جان لے لی جائے ، جو نہی آپ نے دیکھا کہ وہ تو آپ کے سامنے ٹھنڈا پڑا ہے ، آپ پشیمان ہوگئے کہ آپ نے یہ غلط کام کر ڈالا۔ آپ نے اسے شیطانی کام کہا ، کیونکہ یہ غصے کی وجہ سے کام ہوا اور غصہ شیطانی عمل ہوتا ہے یا یہ شیطان کی اکساہٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
قال ھذا ۔۔۔۔۔ مضل مبین (28: 15) ” موسیٰ نے کہا یہ شیطان کی کار فرمائی ہے وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے “۔ حضرت موسیٰ مزید کہتے ہیں کہ غصے کی وجہ سے انہوں نے اس فعل کا ارتکاب کیا۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے اس لغزش کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کیا۔ چناچہ آپ رب تعالیٰ سے طلب مغفرت کرتے ہیں۔
قال رب انی ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم ” پھر وہ کہنے لگا اے میرے رب ، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا ، میری مغفرت فرما دے۔ چناچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی ، وہ غفور و رحیم ہے “۔ اللہ نے آپ کی عاجزانہ دعا کو قبول کرلیا۔ کیونکہ آپ کو غلطی کا احساس ہوگیا اور فوراً استغفار کرلیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کانپتے ہوئے دل اور اپنے تیز احساس اور اپنی توجہ الی اللہ سے محسوس کرلیا کہ ان کے رب نے ان کو بخش دیا ہے۔ قلب مومن کو جب اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے تو وہ محسوس کرلیتا ہے اور جب دعا قبول ہوتی ہے تو بھی اسے احساس ہوجاتا ہے کہ دعا قبول ہوگئی ، انسان اپنے تقویٰ خدا خوفی اور اپنے احساس کی وجہ سے اس مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے تیز شعور ، اپنی طہارت اور اتصال باللہ کے ذریعہ یہ محسوس کرلیتے ہیں کہ رب تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ہے تو آپ فوراً اپنے اوپر لازم کرتے ہیں کہ رب ، آپ نے مجھ پر جو انعامات کیے ہیں آئندہ ان کا شکر ادا کروں گا کہ مجرموں کے مددگار نہ بنوں گا۔
قال رب بما ۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (28: 17) ” اے میرے رب ، یہ احسان جو تو نے مجھ پر کیا ہے اس کے بعد میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا “۔
حضرت موسیٰ کی طرف سے یہ عام عہد ہے کہ وہ مجرموں کا معین و مددگار نہ بنیں گے یعنی آپ نے جرم اور مجرمین سے اپنی برات کا اظہار کیا ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ اگرچہ بعض اوقات ان کا طبعی غصہ انہیں اس بات پر مجبور کر دے۔ بعض اوقات ظلم اور تشدد کے نتیجے میں ایک معتدل مزاج میں بھی تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔
آپ یہ عہد اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی۔ پھر اللہ کے ان انعامات کے بدلے بطور شکر انہوں نے یہ عہد کیا کہ اللہ نے ان کو جسمانی قوت اور علم و حکمت سے نوازا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اندر نیکی اور صراط مستقیم پر چلنے کا ایہ ارتعاش اور اس سے قبل اپنی قوم کے حق میں مشتعل ہونے اور انتقام لینے کا ارتعاش یہ بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت میں کس قدر سیمابیت تھی۔ آپ کا وجدان تیز ، انتقام سخت تھا اور دوسرے مقامات پر آپ کی شخصیت کا یہ پہلو بار بار ظہور پذیر رہتا ہے۔ بلکہ اگلے ہی منظر میں دیکھئے کہ آپ پھر اپنی قوم کے شخص پر غصہ ہوتے ہیں۔
Ayahs 28:18–19فاصبح فی المدینۃ ۔۔۔۔۔۔ ان تکون من المصلحین (18- 19)
پہلے معرکے میں تو قبطی کا کام تمام ہوگیا تھا ، اس فعل پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ندامت ہوئی۔ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے اس غلطی پر استغفار کیا اور آپ کو معاف کردیا گیا۔ اور آپ نے اب عہد کرلیا کہ آپ کبھی بھی مجرمین کے معین و مددگار نہ ہوں گے۔
وہ دن تو گزر گیا لیکن آپ اس شہر میں ڈرے سہمے پھر رہے تھے شاید یہ راز کھل نہ گیا ہو۔ آپ ہر وقت راز کے انکشاف اور شرمندگی اور سزا سے خائف تھے۔ لفظ یترقب میں یہ تمام مفہوم موجود ہیں۔ آپ کی ہیئت سے بھی ظاہر تھا کہ آپ کسی پریشان میں گھوم رہے ہیں۔ سہمے ہوئے ، ہر لمحہ اور ہر لحظہ کسی خطرناک صورت حالات کی توقع کرتے ہوئے۔ ایک منفعل مزاج شخص کی حالت ہمیشہ ایسی ہوتی ہے کہ ذرا سا کھٹکا بھی اس کی حرکات و سکنات کو ظاہر کردیتا ہے۔ یترقب سے خوف اور پریشانی کا اچھی طرح اظہار ہوتا ہے۔ یترقب کے بعد فی المدینہ سے اس میں مزید مبالغہ آجاتا ہے کیونکہ شہر تو ہمیشہ امن وامان کی جگہ ہوتی ہے۔ لیکن وہ اس پر امن شہر میں بھی خائف ہیں اور سب سے بڑا خوف وہ ہوتا ہے جو انسان کو اپنے گھر اور جائے امن میں لاحق ہو۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ پریشانی کن حالات قطعی طور پر بتائی ہے کہ آپ اس وقت شاہی محل سے منسلک نہیں ہیں ، کیونکہ شاہی محل کے لوگوں کو کسی ظلم و فساد کے نتیجے میں کوئی ڈر لاحق نہیں ہوتا۔ اگر آپ شاہی محل ہی میں مقیم ہوتے تو قرآن کریم ، آپ کے لیے۔ فی المدینۃ خآئفا یترقب (28: 18) کے الفاظ استعمال نہ کرتا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایسے ہی حالات میں پھر رہے تھے کہ وہ ایک نیا منظر دیکھتے ہیں :
فاذا الذی ۔۔۔۔ یستصرخہ (28: 18) ” یکایک کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکار رہا ہے “۔ یہ وہی شخص ہے جس کی کل انہوں نے قبطی کے خلاف طرف داری کی تھی۔ یہی شخص اب کسی دوسرے قبطی کے ساتھ الجھ رہا ہے۔ اور حضرت موسیٰ کو پکار رہا ہے کہ بچاؤ مجھے اس سے۔ شاید اس کا خیال یہ تھا کہ حضرت موسیٰ اس دوسرے مشترکہ دشمن پر ایک ضرب کلیم لگائیں اور یہ بھی اسی طرح ڈھیر ہوجائے۔
لیکن حضرت موسیٰ کے ذہن پر توکل کے مقتول کی سوچیں چھائی ہوئی تھیں اور اس پر انہوں نے اللہ سے معافی بھی مانگ
لی تھی اور معافی ملنے کے بعد اللہ سے آپ نے عہد کرلیا تھا کہ آئندہ آپ کسی مجرم کے طرف دار نہ ہوں گے اور سابقہ فعل کے راز کے افشا کا خوف بھی ابھی زندہ تھا۔ اب آپ کو اس شخص پر غصہ آگیا جو مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ آپ نے غصے میں اس شخص سے کہا کہ تم تو بہت بڑے شرپسند ہو۔
قال لہ موسیٰ انک لغوی مبین (28: 18) ” موسیٰ نے کہا تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے “ یعنی تو ایسا آدمی ہے کہ ہر کسی کے ساتھ الجھتا ہے اور تمہارا یہ الجھاؤ ختم نہیں ہوتا ، ہر کسی کے ساتھ تیرا جھگڑا ہے ، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس طرح تو بنی اسرائیل پر کوئی بڑی مصیبت لے آئے گا اور ان کی پوزیشن یہ ہے کہ نہ وہ انقلاب لا سکتے ہیں اور نہ مزید تشدد کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ وہ اس وقت کوئی تعمیری تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں۔ لہٰذا اس قسم کی جزوی جھڑپوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
لیکن اس تنبیہہ کے بعد بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو اس قبطی پر غصہ آگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس پر اسی طرح جھپٹے جس طرح انہوں نے گزشتہ روز کیا تھا اور اس کا کام بھی اسی طرح تمام کردیں جس طرح کل انہوں نے کیا تھا۔ یہاں بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی جلالی طبیعت قبطیوں کے مظالم کو برداشت نہ کرسکتی تھی۔ آپ مشتعل ہوگئے کیونکہ قبطیوں کے مظالم حد سے بڑھ گئے تھے۔ اس لیے ظلم و سرکشی کے خلاف ان کا یہ ردعمل فطری تھا جبکہ یہ مظالم ایک طویل عرصے سے ہو رہے تھے اور بنی اسرائیل کے دلوں میں ان لوگوں کے خلاف نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور بہت گہری ہوچکی تھی۔
فلما ان اراد ان ۔۔۔۔۔ تکون من المصلحین (28: 19) ” پھر جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا “ اے موسیٰ ! کیا آج تو مجھے اسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے ؟ تو اس ملک میں جبارین کر رہنا چاہتا ہے ، اصلاح کرنا نہیں چاہتا “۔ ایسی باتیں اس وقت عام ہوجاتی ہیں جب معاشرہ فساد پذیر ہو ، اس میں مظالم عام ہوجائیں ، معاشرہ سے اعلیٰ قدریں ختم ہوجائیں ، ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہو۔ ظلم کی وجہ سے لوگوں کا دم گھٹنے لگے۔ حالات ، قوانین اور رسم و رواج سب خراب ہوجائیں اور انسانوں کی فطرت اس طرح بدل جائے کہ لوگ ظلم کو دیکھیں اور ان کے اندر کوئی ردعمل پیدا نہ ہو۔ ان پر زیادتی ہو رہی ہو اور ان کے نفوس کے اندر کوئی جوش مدافعت پیدا نہ ہو۔ بلکہ لوگوں کی فطرت میں اس قدر بگاڑ پیدا ہوجائے کہ لوگ ان مظلوموں کو برا کہنے لگیں جو اپنی مظلومی کا دفاع کرتے ہوں اور جو شخص حق کے ساتھ دے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائے ، اسے کہا جائے کہ یہ شرپسند اور دہشت گرد ہے۔ اور یہ زبردستی اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ الفاظ کہ ” تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے اور جبار بن کر رہنے والا ہے “ قبطی نے حضرت موسیٰ سے کہے۔ اس لیے کہ ان قبطیوں نے یہی دیکھا تھا کہ اسرائیلیوں پر ہر طرف سے مظالم ہو رہے تھے اور وہ سر نہ ہلاتے تھے۔ اس طرح ان کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ ایک اعلیٰ اخلاقی اصول ہے اور یہ فضائل اخلاق میں سے ہے اور نہایت مہذب زندگی ہے اور اعلیٰ اخلاقی رویہ ہے اور اسی میں معاشرے کی اصلاح و فلاح ہے کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔ جب اس قسم کے لوگ دیکھتے کہ اور مظلوموں کے رویہ کے برعکس ۔۔۔۔۔ شخص مدافعت کرتا ہے اور حکمرانوں نے جو غلامانہ اخلاقی نظام جاری کر رکھا تھا اور جس کے مطابق لوگ زندگی بسر کر رہے تھے اس کے خلاف ایک شخص بغاوت کر رہا ہے تو یہ بات ان کے لیے انوکھی ہوتی تھی۔ اور ان کو خوف لاحق ہوجاتا ہے۔ وہ الٹا مظلوم کو جبار وقہار کہتے تھے اور اس پر دہشت گردی اور بداخلاقی کا الزام لگاتے تھے۔ الٹا مظلوم کو لغت و ملامت کرتے تھے۔ ظالم تک ان کی لعنت و ملامت کا بہت ہی کم حصہ پہنچتا تھا۔ مظلوم کے لیے ان کے ذہنوں میں مدافعت کا کوئی جواز نہ تھا۔ اگرچہ وہ بندگلی تک پہنچ جانے کے بعد کوئی جسورانہ اقدام کرنے پر مجبور ہوگیا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل پر ایک عرصے تک ظلم ہوتا رہا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دیکھتے دیکھتے عاجز آگئے۔ ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے وہ ایک اسرائیل کی مدافعت کرتے ہیں اور نادم ہوجاتے ہیں لیکن حالات کا دباؤ اس قدر شدید ہے کہ وہ دوبارہ وہی فعل کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور قریب ہے کہ وہ یہ کام کر گزریں۔ آپ ارادہ کرلیتے ہیں کہ اس شخص کو پکڑ لیں لیتے ہیں کہ اس شخص کو پکڑلیں جو ان کا ، اور ان کی قوم کا دشمن ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کے اس فعل پر ، حضرت موسیٰ کو چھوڑ نہ دیا بلکہ اللہ نے ان کی تربیت کی اور ان کی دعا کو قبول کیا کیونکہ اللہ علیم وخبیر ہے۔ اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انسان کس قدر قوت برداشت رکھتا ہے۔ جب ظلم شدید ہوتا ہے اور انصاف کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ تو مظلوم مجبور ہوکر حملہ کرتا ہے اور کسی بھی جسورانہ اقدام پر مجبور ہوجاتا ہے۔ لہٰذا قرآن نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے ارتکاب قتل کے فعل کو زیادہ خوفناک انداز میں بیان نہیں کیا ، جس طرح ایسے کام کو وہ سوسائٹیاں بہت ہی خوفناک سمجھتی ہیں جن کی فطرت اور جن کا ضمیر غلامی کے مظالم سہتے سہتے بدل جاتا ہے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ حالات کے دباؤ اور تشدد کے جواب میں لوگ ایسے کام پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جب ان کی قوت برداشت کو اب دے دیتی ہے۔
قرآن کریم ان دونوں واقعات کا جس انداز میں ذکر کرتا ہے اس سے یہی تاثر ملتا ہے ۔ قرآن نہ تو ان اقدامات کے لے وجہ جواز بیان کرتا ہے اور نہ ہی ان کی برائی میں مبالغہ آرائی کرتا ہے۔ البتہ قرآن نے اس کو نفس پر ظلم اس لیے کہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مقام پر قومیت کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ وہ ہونے والے رسول تھے ، اور اللہ تعالیٰ خود اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرما رہا تھا۔ یا اس وجہ سے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے مظالم پر قبل از وقت کشمکش شروع کردی تھی اور اللہ کا ارادہ اور اس کی اسکیم یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو پوری طرح اجتماعی نجات ملے۔ کیونکہ انفرادی جھڑپوں کے نتیجے میں کوئی اجتماعی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی جس طرح مکہ میں مسلمانوں کو یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ وہ ہاتھ روکے رکھیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ شاید پہلے قتل کی بات پورے مصر میں پھیل گئی تھی۔ حضرت موسیٰ کے بارے میں حکومتی حلقوں میں شبہات پھیل گئے تھے کیونکہ اس سے قبل فرعون اور اس کی کارروائیوں پر وہ ناپسندیدگی کا اظہار کرچکے تھے۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ اسرائیل نے بطور افتخار اور مسرت اس راز کو پھیلا دیا ہوگا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کے اپنے حلقوں کے اندر تو یہ تیزی سے پھیل گیا ہوگا۔ اور باہر والوں کے کان میں بھی بھنک پڑگئی ہوگی۔
ہم اس کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ ایسے حالات میں موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے کسی
کو قتل کرنا ہرا سرائیلی کے لیے خوشی اور مسرت کی بات تھی۔ اس طرح ان کے غیظ و غضب کی آگ ٹھنڈی ہو سکتی تھی۔ ایسی باتیں بالعموم ایک سے دوسرے کی طرف بڑی تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔ اور بعض اوقات ایک حلقے سے نکل کر دوسرے حلقوں تک جا پہنچتی ہیں جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مشہور بھی تھا کہ وہ اس فرعونی تشدد پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور مظلوموں کی حمایت کرتے رہتے ہیں۔
جب موسیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ دوسرے قبطی کو پکڑ کر گوشمالی کریں تو اس نے پکار کر ان سے پہلے قبطی کے قتل کا الزام لگا دیا وہ دیکھ رہا تھا کہ موسیٰ اسے پکڑنے ہی والے ہیں۔ اور شاید ضرب کلیم اس کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو تو وہ پکاراٹھا۔
اترید ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالامس (28: 19) رہی باقی عبارت ان ترید الا ۔۔۔۔۔ من المصلحین (28: 19) ” تم مجھے سی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح کل تم ایک شخص کو قتل کرچکے ہو تو اس ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا “ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت اصلاح کی کوئی تحریک شروع کر رکھی تھی اور وہ مصلح مشہور تھے ، اس لیے وہ شخص آپ پر الزام لگاتا ہے کہ تم اپنے منشور کے خلاف عمل کر رہے ہو۔ تم ایک جبار شخص کی طرح اس ملک میں رہنا چاہتے ہو۔ اصلاح احوال کے بجائے لوگوں کو قتل کرنا چاہتے ہو۔ جس طرح یہ شخص حضرت موسیٰ پر الزام لگا رہا ہے اور جس انداز میں حضرت موسیٰ کو مخاطب کر رہا ہے ان دونوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں حضرت موسیٰ فرعون کے مقربین اور اہل خانہ میں سے نہ تھے۔ ورنہ کوئی مصری ان پر الزام لگانے کی اس قدر جسارت نہ کرسکتا تھا اور اس کا انداز خطاب بھی ایسا نہ ہو سکتا تھا۔
بعض مفسرین نے کہا کہ یہ فقرے اس اسرائیلی کے ہیں جس کی حمایت میں آپ قبطی کو پکڑنا چاہتے تھے ، اس قبطی کے نہیں ہیں۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے اسرائیلی کو ڈانٹا تھا۔
انک لغوی مبین (28: 18) ” تو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے “۔ اس فقرے کے بعد جب موسیٰ قبطی کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھے تو اس اسرائیلی نے یہ گمان کیا کہ شاید ضرب کلیم مجھ پر پڑنے والی ہے تو وہ خوف کے مارے یہ الزام لگا گیا اور راز فاش کردیا۔ ان مفسرین نے یہ رائے اس لیے اختیار کی ہے کہ یہ راز مصر میں راز ہی تھا کہ اس شخص کا قاتل کون ہے ؟
لیکن زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہ بات قبطی نے کہی ہو۔ ہم نے بتا دیا ہے کہ یہ راز چپکے چپکے پورے شہر میں پھیل گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مصری نے اپنی فراست اور دانش مندی سے یہ الزام لگا دیا ہو کہ مقتول مجمول کے قاتل موسیٰ ہی ہو سکتے ہیں۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ پر اس شخص نے قتل کا الزام لگایا تو موسیٰ (علیہ السلام) اس شخص کے پکڑنے سے رک گئے اور یہاں سے چھوٹ کر یہ شخص بھاگتے بھاگتے فرعون کے ہاں پہنچ گیا ہوگا اور کہہ دیا ہوگا کہ قاتل دراصل موسیٰ ہے۔ اب یہاں سابق منظر اور آنے والے منظر کے درمیان ایک وقفہ اور ۔۔۔۔۔ منظر یہ ہے کہ ایک شخص بھاگتا ہوا مدینہ سے باہر یعنی شاہی دربار و رہائشی کے علاقے سے آتا ہے اور حضرت موسیٰ کو خبر دار کرتا ہے کہ تمہارے بارے میں اعلیٰ سطح پر مشورے شروع ہوگئے
ہیں اور تمہارے لیے بہتر یہ ہے کہ جان بچا کر مصر سے نکل جاؤ۔
Ayah 28:20وجآء رجل من اقصا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لک من النصحین (20)
” اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا ” اے موسیٰ ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں ، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں “۔
فرعون کے سرداروں ، اس کے حاشیہ نشینوں اور حکومتی افسروں اور اس کے خاص الخاص لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ قتل میں موسیٰ کا ہاتھ ہے۔ اس لیے انہوں نے محسوس کرلیا کہ موسیٰ کی صورت میں خطرہ مجسم ہوکر آلگا ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا کام ہے جس کی نوعیت انقلابی اور خطرناک ہے۔ یہ بغاوت کا آغاز ہے۔ اور اس کے محرکات میں بنی اسرائیل کا جذبہ انتقام ہے۔ لہٰذا یہ ایک نہایت خطرناک رجحان ہے اور اس کے انسداد کے لیے سخت تدابیر کی ضرورت ہئ۔ اگر یہ قتل کوئی معمولی واردات ہوتی تو اس پر انتہائی اعلیٰ سطح پر غور کی کیا ضرورت تھی۔ آئے دن انسانوں میں قتل ہوتے رہے ہیں لیکن اس قتل نے پورے نظام حکومت کو ہال کر رکھ دیا۔ انہوں نے بھی تدابیر کا آغاز کیا اور دست قدرت نے بھی اپنا کام شروع کردیا۔ سرداروں میں سے ایک شخص جو موسیٰ کا ہمدرد تھا ، دست قدرت نے اس سے کام لیا۔ یہ شاید وہی شخص ہے جو اپنے ایمان کو چھپا رہا تھا اور جس کا ذکر سورة غافر کی آیت 28 میں ہوا ہے۔ یہ شخص اٹھا اور اس نے حضرت موسیٰ کو اعلیٰ سطح پر ہونے والے مشوروں سے آگاہ کردیا۔ یہ شخص نہایت سنجیدگی ، اہتمام اور جلدی میں آیا اور اس نے شاہی کارندوں کو کسی کاروائی سے قبل حضرت موسیٰ کو اطلاع کردی۔
ان العلا یاتمرون ۔۔۔۔۔ من النصحین (28: 20) ” موسیٰ سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں ، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں “۔
Ayah 28:21فخرج منھا ۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (21) ” یہ خبر سنتے ہی ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دیا کی کہ ” اے میرے رب ، مجھے ظالموں سے بچا “۔
حضرت موسیٰ سہر سے ڈرے ہوئے اور سہمے ہوئے نکل کھڑے ہوئے ، یکہ و تنہا ، ڈر رہے ہیں اور اللہ پر اعتماد کے سوا ان کے پاس کوئی سازوسامان نہیں ہے۔ ان کی توجہ صرف اللہ کی طرف ہے۔ صرف اللہ کی مدد اور ہدایت کے وہ طلب گار ہیں۔