Ayah 28:22ولما توجہ تلقاء ۔۔۔۔۔۔ سوآء السبیل (22) ”(مصر سے نکل کر ) جب موسیٰ نے مدین کا رخ کیا تو اس نے کہا ” امید ہے کہ میرا رب ، مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا “۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یکہ و تنہا مصر سے نکلنے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں اور وہ ایک بےآب وگیاہ صحرا میں بغیر کسی زاد و عتاد کے جانب مدین رواں ہیں ، مدین کا علاقہ شام کے جنوب اور حجاز کے شمال میں ہے۔ یہ ایک طویل سفر ہے ، دور دراز کا سفر۔ جس کے لیے حضرت موسیٰ نے کوئی تیاری نہیں کی۔ وہ شہر سے نہایت ہی ڈر کی حالت میں سہمے ہوئے نکلے اور فرعون کے سردار ناصح نے انہیں مزید خوفزدہ کردیا تھا۔ اس لئے آپ نے ایک منٹ کی تاخیر کے بغیر وہاں سے نکل جانے میں عافیت سمجھی۔ اس ناصح کی نصیحت میں آپ نے کوئی شک نہ کیا اور نہ نکلنے میں کوئی تردد کیا۔ کسی کو راہنما بنانے کی تاخیر بھی نہ کی اور نہ کوئی رفیق سفر تلاش کیا۔ لکین صاف نظر آتا ہے کہ ان کا رخ اللہ کی طرف ہے ، اللہ کے آگے انہوں نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ صرف اللہ کی رہنمائی کے طالب ہیں۔
عسیٰ ربی ان یھدینی سوآء السبیل (28: 22) ” امید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا “۔
ایک بار پھر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ خطرات میں گھر گئے ہیں۔ بچپن کے بعد وہ نہایت امن سے عیش و آرام سے زندگی بسر کر رہے تھے اور شاہی محل میں نہایت ہی آرام سے رہ رہے تھے لیکن وہی شہزادہ اب اکیلا اور تنہا صحرا نوردی کر رہا ہے اور اس کے پاس دنیا کا کوئی سازوسامان نہیں ہے۔ فرعون اور اس کے جاسوس اس کے تعاقب میں ہیں۔ ہر جگہ اس کی تلاش ہو رہی ہے۔ آج وہ اس سے انتقام لینا چاہتے ہیں اور اس سے وہ متاع حیات چھین لینا چاہتے ہیں۔ جو بچپن میں وہ نہ چھین سکے۔ لیکن قدرت کی جن قوتوں نے اسے اس وقت بچایا وہ آج بھی اس کے ساتھ ہیں۔ قدرت اسے اس کے دشمنوں کے سپرد کرنا ہرگز گوارہ نہیں کرتی۔ اس سے تو بہت سا کام لیا جانا ہے ، چناچہ وہ بےآب وگیاہ صحرا میں اکیلے جا رہے ہیں۔ اب وہ ایسے علاقے تک پہنچ گئے جہاں فرعون کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ نہ وہ انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔
Ayah 28:23ولما ورد مآء مدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی من خیر فقیر (23-24)
یہ طویل صحرائی سفر ختم ہوا اور حضرت موسیٰ مدین کے ایک چشمے پر پہنچے۔ آپ تھکے ماندے مسافر ہیں۔ اس چشمے پر وہ ایک ایسا منظر دیکھتے ہیں جسے کوئی شریف اور بامروت آدمی برداشت نہیں کرسکتا اور پھر حضرت موسیٰ کیسے برداشت کرتے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ مرد چرواہے اپنے مویشیوں کو لا لا کر پانی پلا رہے ہیں اور دو عورتیں ہیں جو اپنی بکریوں کو پانی سے دور روک رہی ہیں۔ حالانکہ فطرت سلیمہ اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے عورتوں کو موقعہ دیا جائے کہ وہ اپنی بھیڑوں کو پانی پلائیں اور چلی جائیں اور مرد ان کو موقع دیں اور ان کے ساتھ تعاون کریں۔ ” Ladies First “ ایک فطری اصول ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک غریب الدیار مسافر ہیں ، اپنے علاقے سے نکلے ہوئے ہیں اور ان کا پیچھا بھی ہو رہا ہے۔ تھکے ہارے ہیں اور آرام کرنے کی خاطر اس چشمے پر آئے ہیں ، وہ دیکھتے ہیں کہ یہ منظر معروف اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔ وہ آگے بڑھتے ہیں اور ان دو عورتوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا معاملہ ہے ؟
قال ما خطبکما (28: 23) ” تمہیں کیا پریشانی ہے “۔
قالتا لا نسقی ۔۔۔۔۔ شیخ کبیر (28: 23) ” انہوں نے کہا ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاسکتیں جب تک چرواہے اپنے جانور نکال نہ لے جائیں اور ہمارے والد ایک سن رسیدہ بوڑھے ہیں “۔ چناچہ انہوں نے بتا دیا کہ وہ کیوں اپنے جانروں کو روک رہی ہیں اور کیوں دوسروں کو پہلے موقعہ دیتی ہیں۔ سبب یہ ہے کہ وہ عورتیں ہیں اور ضعیف ہیں اور دوسرے چرواہے مرد ہیں اور زور آور ہیں۔ اور باپ بوڑھے ہیں وہ نہ مویشی چرا سکتے ہیں اور نہ ان مضبوط چرواہوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے جذبہ ایمانی جوش میں آیا ۔ آپ کی فطرت سلیمہ جاگ اٹھی۔ وہ آگے بڑھے اور اصول کے مطابق کام کیا تاکہ بیچاری عورتیں پہلے پانی پلائیں جیسا کہ شریف اور مہذب لوگوں کا رواج ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ غریب الدیار تھے۔ ان کا کوئی نہ جانتا تھا ، نہ یہاں ان کا کوئی حامی و مددگار تھا ، تھکے ماندے تھے ، ایک طویل سفر کاٹ کر یہاں تک پہنچے تھے۔ ان کا کوئی نہ جانتا تھا ، نہ یہاں ان کا کوئی حامی و مددگار تھا ، تھکے ماندے تھے ، ایک طویل سفر کاٹ کر یہاں تک پہنچے تھے اور ان کے پاس مزید سفر کے لیے کوئی سازوسامان بھی نہ تھا۔ ان کا پیچھا بھی ہو رہا تھا ، دشمن تعاقب میں تھے لیکن یہ تمام امور ان کو اس بات پر آمادہ نہ کرسکے کہ وہ اس موقعہ پر مروت اور جوانمردی کا مظاہرہ نہ کریں۔ اور امر بالمعروف پر عمل پیرا نہ ہوں اور لوگوں کو یہ بتا نہ دیں کہ قدرت انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عورتوں کو پہلے موقعہ دیا جائے۔
Ayah 28:24فسقی لھما (28: 24) ” یہ سن کر موسیٰ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا “۔ یہاں سیاق کلام سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نہایت ہی تربیت یافتہ شریف النفس شخصیت کے مالک تھے۔ وہ جسمانی لحاظ سے بھی ایک کڑیل جوان تھے ، جسے دیکھ کر عام آدمی مرعوب ہوجاتا تھا۔ حالانکہ وہ طویل سفر سے تھکے ہوئے آئے تھے۔ چرواہوں پر ان کی جسمانی قوت سے زیادہ ان کی نفسیاتی برتری اور اخلاقی رویہ نے زیادہ اثر کیا۔ کیونکہ جسمانی قوت کے مقابلے میں لوگ اخلاقی رویوں سے زیادہ مرعوب ہوتے ہیں۔
ثم تولیٰ الی الظل (28: 24) ” پھر ایک سائے کہ جگہ جا بیٹھا “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسم سخت گرمی اور لو کا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس قسم کی شدید گرمی میں یہ سفر کرنا پڑا تھا۔
فقال رب ۔۔۔۔۔ خیر فقیر (28: 24) ” اور بولا پروردگار جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے ، میں اس کا محتاج ہوں “۔ اس وقت انہوں نے جسمانی اعتبار سے درختوں کے گھنے سائے میں اپنے جسم کو آرام پہنچانے کے لیے پناہ لے رکھی ہے ، لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت اور رحم و کرم کرنے والے بادشاہ کے سایہ رحمت میں بھی پناہ چاہتے ہیں۔ اپنی روح اور اپنے قلب کو اللہ کی طرف متوجہ کیے ہوئے ہیں۔ اے اللہ میں محتاج ہوں ، شدید لوہے ، میں اکیلا ہوں۔ اے رب میں بےوسائل ہوں ، اے رب میں تیرے فضل و کرم اور تیرے احسان کا بےحد محتاج ہوں۔
انی لما انزلت من خیر فقیر (28: 24) ” جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں ، اس کا محتاج ہوں “۔ ابھی ہم
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مناجات کے اس منظر میں ہیں ، کہ سیاق کلام میں نہایت فرحت بخش بشارت آتی ہے ۔ اس کا آغاز صرف (فاء) تعقیبی سے ہوتا ہے ، گویا عالم بالا نے حضرت موسیٰ کی دعاء کو اس سے قبل قبول کرلیا کہ وہ ہاتھ نیچے کریں۔ کیونکہ وہ نہایت ہی خضوع سے یہ دعا کر رہے تھے۔
Ayah 28:25فجآء تہ احدھما ۔۔۔۔۔ اجر ما سقیت لنا۔
”(کچھ دیر نہ گزری تھی) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی “۔ میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں “۔
اللہ کے فضل وکرم کے کیا کہنے ، حضرت موسیٰ اللہ کے کس قدر قریب ہیں ، ان کی پکار کس قدر تیزی سے سنی جاتی ہے۔ دو عورتوں کے والد سن رسید شیخ عالم بالا کی ہدایت پر حضرت موسیٰ کو دعوت دیتے ہیں ، یہ دعوت عزت و احترام پر مبنی پناہ عطا کرنے اور جزائے احسان دینے کے لیے ہے۔ یہ دعوت لے کر ان دو دوشیزاؤں میں سے ایک آتی ہے اور وہ تمشی علی استحیآء (28: 25) ” شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی ہے “۔ اس کی روش میں وقار ہے ، عامیت نہیں ہے ، وہ مقامات زینت کا اظہار نہیں کرتی بلکہ ان کو چھپا رہی ہے۔ نہ نسوانی غرور ہے اور نہ جاذبیت کا اظہار ہے۔ وہ آتی ہے اور والد کی طرف سے نہایت ہی مختصر ، جامع الفاظ میں یہ دعوت دیتی ہے۔ قرآن کریم نے اس کے الفاظ نقل کیے ہیں۔
ان ربی ۔۔۔۔۔ سقیت لنا (28: 25) ” میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے ، اس کا اجر آپ کو دے دیں “۔ شرم و حیا کے دائرے میں نہایت وضاحت کے ساتھ ، جامع الفاظ میں یہ پیغام دیا جس میں کوئی بناوٹ کوئی جھجک کوئی توقف نہ تھا اور کوئی پیچیدگی یا لکنت نہ تھی۔ یہ اس طرح کیوں ہے ، اس لیے کہ فطرت سلیمہ ، عفیفہ اور سیدھے سادھے کیریکٹر والی خواتین کی روش ایسی ہی ہوتی ہے۔ سیدھی فطرت کی نوجوان عورت جب بھی مردوں سے ملتی ہے ، اسے حیا آتی ہے۔ وہ مردوں سے بات کرتے ہوئے شرماتی ہے لیکن یہ لڑکی چونکہ پر اعتماد اور عفیف اور سلیم الفطرت ہے۔ اس لیے اس کی باتوں میں کوئی اضطراب نہیں ہے۔ ورنہ گری ہوئی فطرت اور کردار کی لڑکیاں ایسے موقع پر ناز ، و انداز اور کشش و ہیجان پیدا کرنے کا رویہ اختیار کرتی ہیں۔ لیکن اس لڑکی نے بس نہایت ہی مختصر الفاظ میں مطلوبہ پیغام پہنچا دیا۔ کوئی ایک لفظ بھی ضرورت سے زیادہ منہ سے نہیں نکالا۔
قرآن کریم بھی اس منظر کی یہی جھلک دکھاتا ہے اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کرتا۔ صرف شیخ کبیر کی طرف سے ایک لڑکی انہیں دعوت پیش کرتی ہے۔ موسیٰ قبول کرلیتے ہیں اور پردہ گرتا ہے۔ اگلا منظر دونوں کی ملاقات کا ہے۔ اس شیخ کبیر کا نام قرآن مجید نے نہیں لیا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ مشہور نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور ان کا نام یثرون تھا۔
فلما جآءہ وقص ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من القوم الظلمین (25)
” موسیٰ جب اس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اسے سنایا تو اس نے کہا ” کچھ خوف نہ کرو ، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہو “
حضرت موسیٰ کو اس وقت سب سے پہلے جائے امن کی ضرورت تھی۔ نیز انہیں ایسی جگہ کی ضرورت تھی جہاں ان کے کھانے پینے کا انتظام ہوجائے۔ لیکن ان کو کھانے پینے کی ضروریات سے زیادہ احتیاج ایک پر امن اور مامون و محفوظ ٹھکانے کا تھا۔ یہی وجہ ہے اس سنجیدہ اور سن رسیدہ بوڑھے نے سب سے پہلے انہیں کہا تخف ” خوف نہ کرو “۔ اس شخص نے ان کو سب سے پہلے جو بات کہی کہ آپ اطمینان رکھیں ، ڈریں نہیں اور اس یقین دہانی کے بعد یہ فرمایا
نجوت من القوم الظلمین (28: 25) ” اب تم ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہو “ مدین پر ان کی حکومت نہیں ہے۔ مدین کے باشندے کو مصری کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
Ayah 28:26اب منظر پر ایک نہایت ہی سلیم الفطرت اور عفیف عورت کی آواز آتی ہے
قالت احدھما ۔۔۔۔۔۔ القوی الامین (26)
ان دونوں بہنوں کو بھیڑ بکریاں چرانا پڑتی تھیں اور پانی پلاتے وقت ان کو مردوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان کو مردوں سے واسطہ پڑتا تھا اور ان سے ٹکرانا پڑتا تھا ، جس طرح ہر اس عورت کو ایسے حالات درپیش ہوتے رہتے ہیں جو مردوں والا کام کرتی ہے۔ ان دونوں بہنوں کو ہر وقت اس کام میں اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ وہ امور خانہ داری تک محدود ہوجائیں اور ایک پاک دامن عفت مآب ” زن خانہ “ کی طرح زندگی بسر کرنے کا موقع ملے اور انہیں چراگاہوں اور گھاٹوں پر غیر مردوں کے ساتھ اختلاط پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ پاک دامن ، پاک فطرت اور سلیم الفطرت عورتوں کی روش یہی ہوتی ہے کہ ان کو مردوں کے ساتھ مقابلہ اور مزاحمت کرنا پسند نہیں آتا اور اس قسم کے اختلاط اور مزاحمت کی وجہ سے عورتوں کے اندر جو ہلکا پن پیدا ہوجاتا اسے کوئی سلیم الفطرت عورت پسند نہیں کرتی۔
حضرت موسیٰ نوجوان ، مسافر اور غریب الوطن ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قوی اور امین بھی ہیں۔ اس عورت نے دیکھ لیا تھا کہ ان کی قوت اور شخصیت کو دیکھ کر تمام چرواہے سہم گئے تھے۔ انہوں نے موسیٰ کو فوراً راستہ دے دیا تھا اور ان دو مستورات کے جانوروں نے پانی پی لیا تھا۔ حالانکہ حضرت موسیٰ غریب الوطن تھے اور غریب الوطن اگرچہ کوئی بڑا آدمی ہو۔ کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اور جب یہ عورت موسیٰ کو دعوت دینے گئی تھی تو اس نے دیکھ لیا تھا کہ پاک نظر اور پاک زبان رکھتے ہیں۔ چناچہ یہ عورت باپ کو مشورہ دیتی ہے کہ ابو آپ اس شخص سے اجارہ کرلیں تاکہ وہ اور اس کی بہن بکریاں چرانے کے عذاب سے نجات پالیں اور اس طرح ان کو وہ کام نہ کرنا پڑے جو مرد کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ مضبوط آدمی ہیں ، امین ہیں۔ اس لیے کہ جو شخص کسی دوشیزہ کی عفت کا امین ثابت ہوجائے ، وہ تمام امور پر امین ثابت ہوجاتا ہے۔ یہ اپنے اس مشورے میں بھی بالکل واضح سوچ رکھتی ہے اور صاف صاف بات کر رہی ہے اسے یہ خطرہ نہیں ہے کہ اس پر کوئی بدظنی کرے گا کیونکہ اس کی دل کی کتاب صاف ہے۔ اس کا احساس و شعور پاک ہے۔ اس لیے اسے کسی محاسبے سے ڈر نہیں ہے۔ چناچہ وہ اپنی اس تجویز میں شف شف نہیں کرتی۔ اور نہایت ہی صاف الفاظ میں واضح تجویز دیتی ہے۔
یہاں ان روایات کو دہرانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے جو مفسرین نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت کے بارے میں نقل کی ہیں ، مثلا یہ کہ جس کنویں سے چرواہے پانی پلاتے تھے ، اس پر ایک بڑا پتھر رکھا ہوا ہوتا تھا جسے بیس ، چالیس یا اس سے بھی کم و بیش افراد اٹھا سکتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم کے سباق سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کنویں کے اوپر پتھر ہوتا تھا بلکہ دوسرے چرواہے پانی پلا چکتے تو بعد میں یہ دو عورتیں پانی پلاتیں۔ حضرت موسیٰ نے ان چرواہوں کو ہٹایا اور ان عورتوں کے مویشیوں کو پانی پلا دیا یا دوسرے چرواہوں کے ساتھ ساتھ پانی پلا دیا۔
نیز یہاں ان روایات کے دہرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے جن میں ان کی دیانت و امانت پر یہ دلیل دی گئی ہے۔ جس میں انہوں نے اس دوشیزہ سے کہا کہ تم میرے پیچھے چلو اور پیچھے سے مجھے راستہ بتلاتی چلو ، اس خوف سے کہ کہیں ان کی نظر اس عورت پر نہ پڑجائے۔ یا یہ کہ حضرت موسیٰ نے اس لڑکی کو پیچھے چلنے کا اس وقت کہا جب وہ آگے چل رہی تھی تو ہوا نے اس کے کپڑوں کو ٹخنوں سے اوپر کردیا۔ یہ محض تکلفات ہیں اور ان کے ذریعہ سے ایسے شکوک کو دور کرنے کی سعی کی گئی ہے جن کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ بذات خود عفیف النظر تھے ، پاک احساسات رکھتے تھے اور یہ عورت بھی پاک دامن تھی ، عفت اور امانت جہاں ہو ان کے ثبوت کے لئے تکلفات کی ضرورت نہیں ہے خصوصاً مرد اور عورت کی ملاقات کے وقت کیونکہ عفت وہ پختہ ملکہ ہے جو بغیر کسی تکلف اور بناوٹ کے حصہ کردار ہوتا ہے۔
اس بوڑھے نے اپنی بیٹی کی اس تجویز کو قبول کرلیا۔ انہوں نے محسوس کرلیا کہ لڑکی اور موسیٰ دونوں کے اندر خواہش اور اعتماد پایا جاتا ہے اور فطری میلان موجود ہے۔ اور یہ دونوں مل کر ایک صالح خاندان کی بنیاد ڈال سکتے ہیں۔ جب کسی نوجوان میں قوت اور عفت جمع ہوجائیں تو فطرتاً ہر سلیم الفطرت دوشیزہ ایسے شخص کو زندگی کا ساتھی بنانے پر راضی ہوتی ہے۔ جو خود پاک دامن اور صالح ہو۔ اس لیے اس بوڑھے نے حضرت موسیٰ کو پیش کش کردی کہ وہ اپنی بیٹیوں میں سے ایک تمہارے نکاح میں دے سکتے ہیں۔ اگر تم آٹھ سال تک میری خدمت کرو اور میرے مویشی چراؤ اور اگر بطور احسان تم دس سال تک یہ خدمت کرو تو تمہاری طرف سے احسان ہوگا۔
Ayah 28:27قال انی ارید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاء اللہ من الصلحین (27)
یوں نہایت ہی سادگی اور بےتکلفی سے اس شخص نے اپنی دو بیٹیوں میں ایک حضرت موسیٰ کے عقد میں دینے کے لیے خود پیش کش کردی۔ شاید یہ وہی لڑکی تھی جس نے تجویز دی تھی اور اس کے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قلوب کا میلان ایک دوسرے کی طرف تھا۔ اس شخص نے بےتکلفی سے اور براہ راست پیش کش صراحت کے ساتھ کردی۔ کیونکہ یہ پیش کش عقد کے لیے تھی۔ لہٰذا اس میں حجاب محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ یہ پیش کش اس لیے تھی کہ ایک نیا خاندان وجود میں آجائے۔ اس شخص نے تکلف اور کنایہ و اشارہ میں بات کرنے کا تکلف نہیں کیا۔ ایسے تکلفات اور بناوٹیں ان معاشروں میں ہوتی ہیں جن میں فطرت سے انحراف پیدا ہوجاتا ہے اور ایسے معاشرے نہایت ہی باطل ، گندی رسومات اور تکلفات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان تکلفات کی وجہ سے والد یا سرپرست کسی بچی کو کسی کے عقد میں دینے کے لیے کبھی صاف صاف پیش کش نہیں کرتا ، حالانکہ دل سے وہ کئی لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ فلاں رشتہ اس کی بہن بیٹی اور رشتہ دار کے لیے بہت مفید ہے ، لیکن لوگ انتظار کرتے ہیں کچھ خاوند ، اس کے وکیل یا اس کے سرپرست کی طرف سے کوئی پیش کش ہو ، بالعموم یہ تصور کیا جاتا ہے کہ عورت کی جانب سے پیش کش مناسب نہیں ہے۔
لیکن ایسی غیر فطری اور سڑی ہوئی سوسائٹیوں کے تضادات میں سے ایک تضاد یہ ہے کہ نوجوان لڑکے ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ میل جول رکھتے ہیں۔ آزادانہ گب شپ لگاتے ہیں ، آزادانہ اختلاط اور باہم انکشاف کے روادار ہوتے ہیں لیکن نکاح اور عقد کی پیش کش کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جب نکاح کی پیش کش ہوتی ہے تو اس وقت بھی مصنوعی حجاب اور پردہ داری شروع ہوجاتی ہے اور لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت چھوڑ دیتے ہیں بلکہ پردہ شروع ہوجاتا ہے۔ غرض نکاح کی پیش کش میں فطری بےتکلفی نہیں ہوتی حالانکہ اس میں سادگی اور کھلاپن ہونا چاہئے۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں باپ صاف صاف اپنی لڑکیوں کا رشتہ پیش کرتے تھے بلکہ عورتیں بھی اپنے آپ کو پیش کرتی تھیں۔ عورتیں اپنے آپ کو نبی ﷺ کے نکاح میں آنے کی پیش کش کرتی تھیں یا ان لوگوں کو بےتکلف پیش کش کرتی تھیں جو ان کے ساتھ نکاح میں دلچسپی رکھتے تھے۔ یہ معاملہ نہایت سادگی اور علانیہ اور بےتکلفی اور کھلے پن سے طے ہوجاتا۔ اور اس کے لیے کوئی مخصوص آداب و تکلفات نہ تھے۔ نہ اس طرح پیش کش سے کسی کی عزت اور شرافت میں فرق آتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنی بچی حفصہ کی پیش کش حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کی تو وہ خاموش ہوگئے۔ پھر انہوں نے حضرت عثمان کو کی تو انہوں نے معذرت کی۔ جب انہوں نے حضور ﷺ کو اطلاع دی کہ انہوں نے ایسا کیا ہے تو حضور ﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا ہوسکتا ہے کہ اسے ایسا رشتہ مل جائے جو ان دونوں سے بہتر ہو۔ اس کے بعد حضور اکرم ﷺ نے خود ان کے ساتھ نکاح کرلیا۔ ایک دوسری عورت نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے لیے پیش کیا تو آپ ﷺ نے معذرت کی۔ پھر اس عورت نے اپنے نکاح کا اختیار حضور ﷺ کو دے دیا۔ حضور ﷺ نے اس کا نکاح ایک ایسے شخص سے کردیا جس کے پاس قرآن کی دو سورتیں تھیں۔ حضور ﷺ نے اس عورت کا نکاح اس کے ساتھ کردیا اور ان دو سورتوں کو اس کا مہر قرار دیا۔
یہ تھی وہ سادگی جس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں خاندان بن رہے تھے اور اس طرح ایک اسلامی سوسائٹی وجود میں آرہی تھی۔ اس معاملے میں ان کے ہاں کوئی اشارہ ، کنایہ ، تکلف اور تصنع اور ٹیڑھ نہ تھی۔ مدین کے اس بوڑھے نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس نے خود موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ پیش کش کی اور یہ وعدہ بھی کیا کہ اس عرصے میں وہ ان پر کوئی سختی نہ کرے گا۔ اور ان کی وسعت سے زیادہ کام نہ لے گا۔ اور وہ یہ امید کرتا ہے کہ تم ایک صالح نوجوان کا کردار ادا کرو گے۔ اور ہمارے معاملات و صفائی کے ساتھ چلیں گے۔ یہ نہایت ہی خوبصورت اور سادہ آداب ہیں۔ وہ نہ اپنے آپ کو آسمانوں پر چڑھاتے ہیں اور پاکی داماں کی حکایات کرتے ہیں اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تعریف اور مدح سرائی کرتے ہیں۔ پس صرف خیر کی امید رکھتے ہیں۔ اور تمام معاملات اللہ کی مشیت کے سپرد کرتے ہیں۔
Ayah 28:28حضرت موسیٰ نے بھی اسی سادگی ، صداقت اور بےتکلفی سے اس پیش کش کو قبول کرلیا اور اس پر اللہ ہی کو گواہ ٹھہرا کیونکہ وہاں اللہ کے سوا ان کا گواہ تھا کون ؟
قال ذلک بینی وبینک ۔۔۔۔۔۔ ما نقول وکیل (28)
جب دو افراد باہم معاہدہ کرتے ہیں تو اس میں کوئی باپ پیچیدہ نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی بات کو مجمل چھوڑنا چاہئے۔ نہ اس موقعے پر بات چھپانا چاہئے بلکہ بات کھل کر ہونی چاہئے۔ عقد کے موقعہ پر کسی بات کی وضاحت کرنے میں شرم حسوس نہیں کرنی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ اس پیش کو مان لیتے ہیں اور نکاح کرلیتے ہیں۔ اس بوڑھے نے جو مشروط پیشکش کی اس کے متعلق حضرت موسیٰ یہ وضاحت کرتے ہیں ان دو میعادوں میں سے جو بھی وہ چاہیں پورا کریں۔
ایما الاجلین قضیت فلا عدوان عل (28: 28) ” دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کروں اس کے بعد کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہوگی “۔ چاہے میں آٹھ سال رہوں یا دس سال پورے کردوں۔ لیکن کام کے فرائض میں زیادتی نہ ہوگی۔ یعنی آٹھ کے بعد دو سال کا جو اضافہ ہے وہ اختیاری ہے اور ہمارے اس معاہدے پر اللہ گواہ ہے کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے اور معاہدہ کرنے والے دونوں فریقوں پر اللہ گواہ ہوتا ہے ، اور وہ کافی گواہ ہے۔
حضرت موسیٰ نے یہ بیان اپنی فطرت کے عین مطابق دیا۔ وہ نہایت ہی سیدھی اور کھلی طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے دس سال پورے کرنے کے بارے میں جو صاف صاف اختیاری ہونے کی شرط کی وضاحت کی وہ اس لیے کہ معاہدہ کرنے والے فریقوں کا فرض ہے کہ وہ صاف صاف بات کریں۔ حالانکہ ان کی نیت یہ تھی کہ وہ ان دو میعادوں میں سے لمبی معیاد پر عمل کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لمبی اور زیادہ طویل مدت پوری کی (بخاری) ۔
یوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے سسر کے گھر میں نہایت عزت اور احترام سے رہے۔ وہ فرعون اور اسکی سازشوں سے مومن و محفوظ ہوگئے۔ یہ جو کچھ ہو رہا تھا اللہ کی عین حکمت کے مطابق ہو رہا تھا ۔ اب یہ دس سال کیسے گزرے اسے چھوڑ دیجئے۔ ہمارے قصے میں ان کی اہمیت نہیں ہے۔ قرآن نے ان کے مناظر کو کاٹ دیا ہے اور خاموش ہے۔ پردہ گرتا ہے۔
غرض یہ دس سال گزر گئے جن پر فریقین کے درمیان عقد ہوا تھا۔ اس سورت میں ان کے بارے میں کچھ مذکور نہیں
ہے۔ اب اگلے منظر میں حضرت موسیٰ دس سال کی میعاد پوری کرکے جانب مصر رواں نظر آتے ہیں۔ یہ مدین کو چھوڑ کر ان مصر لوٹ رہے ہیں۔ یہ انہی راہوں پر واپس جا رہے ہیں جن پر وہ اکیلے آئے تھے ، ڈرے اور سہمے ہوئے لیکن اب ان کی واپسی کی فضا ایسی نہیں جس طرح ان کے فرار کی فضا تھی۔ وہ لوٹ رہے تھے لیکن اثنائے راہ وہ جن تجربات سے دو چار ہونے والے تھے ان کا خواب خیال بھی ان کے ذہن میں نہیں ہے ، یہ کہ رب تعالیٰ انہیں پکارے گا۔ اب وہ موسیٰ کلیم اللہ ہوجائیں گے اور اب وہ مشن ان کے سپرد ہوجائے گا جس کے لیے اللہ نے انہیں اپنی نظروں میں بچائے رکھا۔ تربیت اور پرورش کی۔ یہ مشن کیا تھا فرعون جیسے جبار اور اس کے سرداروں کے سامنے کلمہ حق کا بلند کرنا۔ اور کلمہ بھی یہ کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دو کہ وہ جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں اور رب تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اور وہ اس سرزمین کو آزاد کرائیں جس کے بارے میں اللہ نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور یہ کہ حضرت موسیٰ فرعون ہامان اور ان کے حواریوں کے لیے دشمن ہوں اور ان کے لیے باعث پریشانی ہوں۔ تاکہ ان دونوں کا انجام حضرت موسیٰ کے ہاتھوں سے ہو ، کیونکہ یہ اللہ کا سچا وعدہ تھا۔
Ayahs 28:29–35فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35)
قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔
دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین شاہی محل میں پرورش پائیں ، دشمن کے گھر میں پلیں۔ پھر وہ لوگوں کی غفلت کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور ایک آدمی ان کے ہاتھوں مرگیا۔ پھر ان کے پاس فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص کو بھیجا گیا کہ نکلو تمہارے قتل کی تدابیر ہو رہی ہیں ، یہ تائیدی ایزفی مصر اور مدین تک کے صحرائی سفر میں اس کے ساتھ رہی جبکہ ان کے پاس کوئی زادو عتاد نہ تھا۔ اور پھر مدین کے کنویں پر ان کی ملاقات دختران شیخ سے کرادی گئی اور اس بہترین مربی اور بوڑھے کے ساتھ ان کا دس سالہ معاہدہ ہوگیا اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو طور پر ان کو عظیم مشن سپرد کیا گیا۔
مشن سپرد کرنے کی ندا سے قبل ان پر خدا کا طویل فضل و کرم ہوتا رہا ، ان کو تلقین ہوتی رہی اور تمام آسمانی قوتیں ان کی تائید میں بڑھتی رہیں۔ اور ان کو زندگی کے مختلف تجربات سے دوچار کیا جاتا رہا۔ مہربانی ، محبت اور راہنمائی کا تجربہ ، حالات کے دباؤ میں آکر انتہائی اقدام کرنے کا تجربہ ، نادم ہونے ، احتیاط کرنے اور غلطی پر استغفار کرنے کا تجربہ۔ ڈر ، تعاقب اور پریشانی کا تجربہ ، تنہائی ، مسافری اور بھوک و افلاس کا تجربہ اور دوسروں کی خدمت کرنے اور بکریوں تک چرانے کا تجربہ اور ان بڑے بڑے تجربوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے روز مردہ کے تجربات ، ولی احساسات ، مختلف قسم کے تصورات و خلجانات ، نئی نئی دریافتیں اور معلومات۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اللہ نے جوان ہوتے ہی ان کو علم و حکمت سے نوازا لیا تھا۔ (ایک شاہزادنے کی حیثیت سے نکال کر یہ تجربات کرائے گئے) ۔
حقیقت یہ ہے کہ منصب رسالت ایک ایسا فریضہ اور ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہوتی ہے جس کے متعدد پہلو ہوتے ہیں اور گوناگوں ذمہ داریاں نبی اور رسول پر آن پڑتی ہیں۔ لہٰذا نبی کو علم و فضل ، حکمت و دانائی اور زندگی کے مختلف تجربات اور مختلف لوگوں کی عملی زندگی کا ادراک کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ عملی تجربہ اس لغوی علم و حکمت اور وحی الٰہی سے الگ ہوتا ہے جو ہر نبی کو کرایا جاتا ہے تاکہ نبی کا ضمیر پاک و صاف ہوجائے اور ہدایت نبی کے قلب میں بٹھا دی جائے۔
رسولوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے سوا تمام انبیاء کو سپرد کئے جانے والے مشنوں میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ذمہ داریاں بہت بھاری اور مشکل ذمہ داری تھی۔ ان کو فرعون جیسے سرکش اور جنار وقہار حکمران کے سامنے جانا تھا۔ یہ اپنے دور کے بادشاہوں میں سے بڑا اور مالدار بادشاہ تھا۔ قدیم شاہی سلسلے کا مالک تھا۔ حکومت نہایت مستحکم تھی اور تہذیب و تمدن کے لحاظ سے مصر اس وقت ترقی یافتہ تھا۔ اس نے تمام پسی ہوئی اقوام کو غلام بنا رکھا تھا اور زمین کے اوپر اس کو مقام بلند حاصل تھا۔
پھر حضرت مو سیٰ علیہ اسلام کو ایک ایسی قوم کی آزادی اور ہجرت کے لیے بھیجا گیا تھا جس کے دل و دماغ میں غلا می رچ بس گئی تھی ۔ وہ غلا مانہ زند گی کے عادی ہوگئے تھے اور ان کا ضمیر پو ری طرح بدل گیا تھا ۔ وہ عملا ایک طو یل زما نے تک غلام رہے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامی انسانی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے اندر تعفن اور سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور اس قوم کے احساسات سے گندگی اور تعفن اور سڑاند کا احساس ہی جاتا رہتا ہے ۔ بھلا ئی ، خیر اور جمال اور برتری اس کو راس ہی نہیں آتی ۔ اس طرح کی بگڑی ہو ئی قوم کو اٹھانا معنی دارو۔
آپ کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو قویم زمانہ سے اسلامی نظریہ کی حامل تھی لیکن اس کے اندر نظریاتی انحراف پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے دل دماغ میں اس کی اصل حقیقی صورت وہ نہ رہی تھی ۔ نہ یہ قوم پرانے اسلامی عقیدہ اور شریعت پر قائم تھی اور نہ جدید عقیدے کو صحیح طرح قبول کر رہی تھی ۔ اس قسم کے لوگوں کی اصلاح کرنا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ ان کے اندر پائے جانے والی کجی کو درست کرنا ، ان کے انحراف کو سیدھا کرنا اور ان کے اصل عقائد کے اوپر سے خرافات کی گہری تہوں کو ہٹانا اس مہم کی مشکل ترین باتیں تھیں۔
مختصر اً یہ کہ حضرت موسیٰ نے بالکل ایک نئی امت کی تعمیر کرنا تھی ۔ بالکل ننے سرے سے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کو ایک خاص قوم ، ایک خاص نظام کی حامل قوم اور ایک خاص رسالت کی حامل امت بنانا تھا اور ظاہر ہے کہ کسی قوم اور امت کی تعمیر ایک نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا بار بار دہرایا ہے ۔ اس لئے کہ ایک نظریہ کی اساس پر کسی نئی امت کی تعمیر کے سلسلے میں حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ایک مخصوص نمونہ تھی ۔ ایسے عظیم کام کی راہ میں داخلی اور خارجی مشکلات ہوتی ہیں ۔ ایسی ہمہ گیر دعوتوں میں کجی بھی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔ وہ مخصوص شکل بھی اختیار کرلیتی ہے اور اسے بہت سے تجربات سے بھی گزارنا پڑتا ہے ۔ اور راستے میں مشکلات بھی آتی ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی بددیانہ زندگی سے کیوں گزارا گیا تو یہ اس لیے تاکہ وہ عوام الناس کی پر مشقت زندگی کے نشیب و فراز بھی جان لیں اور براہ راست تجربہ بھی حاصل کرلیں ۔
شاہی محلات کی زندگی کی ایک مخصوص فضا ہوتی ہے ، مخصوص آداب اور پروٹوکول ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی درجے کا سلیم الفطرت ، پاک طینت اور صاحب علم و فضل کیوں نہ ہو ، محلات کی زندگی کی پرچھائیں اس پر ضرور پڑتی ہے۔ اور اس کے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور رہ جاتے ہیں جہاں تک رسالت کا تعلق ہے اس میں ایک رسول کا واسطہ غنی سے بھی پڑتا ہے اور فقیر سے بھی۔ امت میں مالدار بھی ہوتے ہیں اور فقراء بھی ہوتے ہیں۔ اس میں صاف ستھرے بھی ہوتے ہیں اور میل کچیل والے بھی ہوتے ہیں ، مہذب بھی ہوتے ہیں اور وحشی بھی ہوتے ہیں۔ پاک فطرت بھی ہوتے ہیں اور خبیث الفطرت بھی ہوتے ہیں۔ اچھئ بھی اور برے بھی ، قوی بھی اور ضعیف بھی۔ صابر بھی اور جزع و فزع کرنے والے بھی۔ غرض امت میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور نبی نے سب کی اصلاح کرنی ہوتی ہے۔ فقراء لوگوں کے کھانے پینے ، چلنے پھرنے اور لباس کی الگ عادات ہوتی ہیں۔ وہ معاملات کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھتے ہیں۔ ان کے سامنے زندگی کا ایک مخصوص تصور ہوتا ہے ، ان کی بات چیت ان کی حرکات و سکنات ، ان کا کلام اور ان کے شعور کا اپنا مخصوص انداز ہوتا ہے۔ یہ عوامی عادات ان لوگوں پر بہت بھاری ہوتی ہیں ، جنہوں نے محلات میں تربیت پائی ہوئی ہوتی ہے۔ اونچے محلات کے لوگ ، ان کے عوامی انداز کو دیکھنے کے روداد بھی نہیں ہوتے ، چہ جائیکہ وہ انہیں برداشت کریں اور ان کا علاج کریں۔ اگرچہ ان عامی لوگوں کے دل بھلائی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ اصلاح پذیر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ظاہری ربگ ڈھنگ ان کی ظاہری عادات ، اونچے محلات والے کو نہیں جچتے۔
ایک رسول کو بعض اوقات مشتقوں ، تنہائیوں اور تنگ دستیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو بڑے بڑے محالات میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں ، ان کے اندر قربانی دینے کا بےپناہ جذبہ کیوں نہ ہو ، وہ بہت طویل عرصے تک تنگ دستی ، محرومی اور عملی زندگی میں مشقتوں کو برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ محلات کے اندر پر تعیش ، فراوانی اور آرام طلبی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں
چناچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو محلات کے اس اعلیٰ معیار کی زندگی سے ذرا نیچے لا کر عوامی زندگی کی سطح تک اتارا جائے۔ انہیں فرواہوں کی سوسائٹی کے اندر ڈال دیا جائے اور خوف ، تعاقب اور پکڑے جانے کے ڈر سے فرار کے بعد ایک چرواہے کی زندگی گزارنے کا عادی بنایا جائے جہاں انہیں صرف کھانا اور ٹھکانا ملتا ہے تاکہ شہزادوں کے مزاج میں غربت اور غرباء سے جو کچھاؤ ہوتا ہے وہ دور ہوجائے۔ چرواہوں کی عادات ، ان کے اخلاق ، ان کی درشی اور ان کی سادگی کے بارے میں شہزادوں کے اندر جو ناگواری پائی جاتی ہے وہ دور ہوجائے۔ ان کی جہالت ، غربت ، بدحالی اور مجموعی طور طریقوں سے حضرت موسیٰ شہزادہ اپنے آپ کو بلند اور دور نہ سمجھیں ، اور اس لئے کہ ان کو عوامی زندگی کے گہرے سمندروں کے اندر ڈال دیا جائے جبکہ پہلے وہ انسانی زندگی کے ایک محدود دھادے کے اندر تیرتے رہے تھے تاکہ آنے والی داعیانہ زندگی کے لیے وہ اچھی طرح تیار ہوجائیں۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت نے یہ تجربے مکمل کرلیے اور وہ عوامی زندگی کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہوگئے اور یہ تجربات انہیں ایک غریب الدیار اجنبی کی حیثیت سے دوسرے علاقے میں رہ کر ہوئے تو دست قدرت نے انہیں پھر اپنی جائے پیدائش کی طرف روانہ کیا۔ جہاں ان کے اہل و عیال اور ان کی قوم رہتی تھی۔ اور جہاں انہوں نے مشکل ترین فریضہ رسالت ادا کرنا تھا اب وہ اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس سے وہ بھاگے تھے اور بالکل یکہ و تنہا بھاگتے چلے جا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک ہی راستے پر وہ کیوں آئے اور واپس ہوئے ؟ یہ دراصل ایک جنگی مشق تھی انہیں اس راستے کے نشیب و فراز اور راہ و گھاٹ سے خبردار کرنا مطلوب تھا۔ کیونکہ قدرت نے طے کر رکھا تھا کہ عنقریب اسی راستے سے موسیٰ نے اپنی قوم کی قیادت کرتے ہوئے سینائی میں داخل ہونا ہے۔ یہ دراصل ہر ادل دستے اور رہبر کی مشق تھی تاکہ حضرت موسیٰ کو خود اپنے سوا کسی اور راہنما کی ضرورت نہ پڑے ، راستہ بتلانے والے کی بھی۔ کیونکہ ان کی قوم ایسی حالت میں جاگری تھی کہ انہیں چھوٹے بڑے سب کاموں میں راہنمائی کی ضرورت تھی اس لئے کہ ذلت ، غلامی اور ماتحتی نے انہیں پوری طرح بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے اندر کوئی تدبر اور کوئی سوچ نہ رہی تھی۔
اب معلوم ہوگیا کہ قدرت الٰہیہ کس طرح اپنی نظروں کے نیچے حضرت موسیٰ کی تربیت کر رہی تھی اور ان کا فریضہ رسالت کی ادائیگی کیلئے کس طرح اچھی تربیت دی گئی۔ اب ذرا دیکھئے کہ حضرت موسیٰ نے واپسی کا سفر کس طرح طے کیا
فلما قضی موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ لعلکم تصطلون (28: 29) ” جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ” ٹھہرو ، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو “۔
یہاں یہ ایک اہم سوال ہے کہ وہ کیا سوچ تھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر لوٹنے پر آمادہ کیا۔ مدین میں انہوں نے عرصہ کار پورا کردیا۔ اب وہ مصر لوٹ رہے ہیں حالانکہ وہ مصر سے نہایت ہی خوف کی حالت میں نکلے تھے۔ ان کو تعاقب کا ڈر تھا۔ وہ یوں واپس ہو رہے تھے کہ شاید وہ اس خطرے کو بھول گئے ہیں جو مصر میں اب بھی ان کو درپیش ہے۔ وہاں انہوں نے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا ہے ، فرعون ابھی زندگہ ہے جو اپنے سرداروں کے ساتھ آپ کے قتل کا مشاورت کر رہا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ عالم بالا کی اپنی سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس بار شاید اہل و عیال اور قوم اور وطن کیلئے فطری مبلان انہیں واپسی پر مجبور کر رہا ہے اور ان کے دل سے وہ خطرات اب محو ہوگئے جن کی بنا پر اس نے یکہ و تنہا یہاں سے فرار اختیار کیا تھا۔ اور یہ دست قدرت اس لیے کر رہا ہے کہ وہ اس مہم اور منصب کیلئے تیار ہوجائیں جس کیلئے اللہ نے ان کو اول روز پیدا کیا ہے
بہرحال وجہ جو بھی ہو ، حضرت موسیٰ واپس ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی ہیں۔ رات کا وقت ہے ، سخت اندھیرا ہے۔ یہ قافلہ راستے سے بھٹک گیا ہے۔ سردیوں کا موسم ہے۔ اس لیے کہ آگ دیکھ کر وہ وہاں سے آگ لانے کے لیے جا رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے پاس جو کوئی ہوگا یا تو راستہ بتا دے گا ورنہ وہ ایک انگارہ لے آئیں گے تاکہ تاب سکیں۔ یہ اس حصے کا پہلا منظر ہے۔
دوسرا منظر نہایت غیر متوقع ہے۔
فلما اتھا نودی ۔۔۔۔۔۔ من الشجرۃ (28: 30) ” وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا “۔ حضرت موسیٰ تو دیکھ رہے ہیں کہ آگ ہے اور یہ وادی طور میں ان کے دائیں جانب ہے۔ اور یہ جگہ نہایت ہی متبرک ہے ، اور یہ وادی بھی آج ہی متبرک ہو رہی ہے ، پوری کائنات لمحہ بھی کے لیے خاموش ہے اور اس کے اندر عالم بالا اور رب ذوالجلال کی یہ آواز گونج رہی ہے ، بظاہر کانوں پر وہ ایک درخت مبارک سے آرہی ہے اور شاید یہ اس علاقے میں واحد درخت ہے۔
ان یموسی انی انا اللہ رب العالمین (28: 30) ” اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں سارے جہانوں کا مالک “۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو براہ راست سنا۔ اس گہری اور خاموش وادی میں وہ اکیلے کھڑے تھے۔ نہایت ہی تاریک اور خاموش رات میں۔ یہ آواز پوری کائنات بھی ہر طرف سے اس آواز کو سن رہی تھی ، زمین اور آسمانوں کی دوریوں اور بلندیوں میں یہ آواز گونج رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو پایا ، کس ذریعہ سے پایا ، کس طرح سے سنا ، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ البتہ حضرت موسیٰ کی ذات اور ان ماحول اور پوری کائنات اس سے گونج رہی تھی اور بھری ہوئی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کائنات کی آواز کو پایا اور اس کے متحمل ہوگئے ، کیونکہ ان کو اس کے لیے تیار کرلیا گیا تھا۔ اس کائنات کے ۔۔ نے اس آواز کو ریکارڈ کرلیا ، جہاں اس آواز کو حضرت موسیٰ نے پایا ، وہ جگہ بابرکت ہوگئی۔ یہ جگہ اب مکرم ہوگئی اور حضرت موسیٰ اب نہایت ہی بابرکت اور مکرم جگہ میں کھڑے تھے اور یہ آواز ابھی ختم نہیں ہوئی مکاملہ جاری ہے۔
الق عصاک (28: 31) ” پھینک دے اپنی لاٹھی “۔ حضرت موسیٰ نے باری تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے فوراً لاٹھی پھینک دی۔ دیکھتے کیا ہیں ؟ وہ تو اب ان کی وہ لاٹھی نہیں ہے جو ان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہی اور جس کو وہ یقیناً جانتے تھے کہ یہ ایک عصا ہے۔ عصا نہیں اب تو وہ ایک سانپ ہے جو زمین پر رینگ رہا ہے۔ بڑی تیزی سے ادھر ادھر جا رہا ہے اور یہ اس طرح کروٹیں بدل رہا ہے جس طرح چھوٹے چھوٹے سانپ بدلتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی بڑا سانپ نظر آتا ہے۔
فلما راھا ۔۔۔۔۔۔۔ ولم یعقب (28: 31) ” جو موسیٰ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے ، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا “۔ اس لیے کہ یہ نہایت ہی غیر متوقع صورت حال تھی ، اس کے لیے وہ ذہنا تیار نہ تھے ، پھر آپ کا مزاج بھی انفعالی تھا۔ آپ پر ہر صورت حال کا جلد اثر ہوجاتا تھا۔ آپ اس طرح بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ یہ سانپ ان کی طرف بڑھ بھی رہا ہے یا نہیں تاکہ وہ معلوم کرتے کہ یہ عجیب معجزہ ہے اور اس پر کچھ غور کرتے۔ جو لوگ بھی جلد متاثر ہوجاتے ہیں ان کی روش اسی طرح ہوتی ہے۔ ندائے ربانی جاری ہے۔
یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” موسیٰ پلٹ آ اور خوف نہ کر تو بالکل محفوظ ہے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے خوف اور امن کے یہ تجربے کوئی نئے نہ تھے۔ ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں خوف اور امن کے چکروں پر مشتمل ہیں۔ خوف اور امن ان کی پوری زندگی کے موسم ہیں۔ آغاز سے انجام تک اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یوں متاثر ہوجانا بھی حکمت خداوندی پر مبنی اور مطلوب و مقصود تھا۔ ان کی زندگی میں اسی طرح مقدر تھا کیونکہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں یہ زیر و بم اور یہ اضطراب اور یہ تلاطم بنی اسرائیل کی جامد ، تقلیدی اور رکی ہوئی زندگی کے بالمقابل قصداً پیدا کیا گیا تھا ۔ یہ قدرت کی تقدیر تھی اور قدرت کی گہری حکمت اور تدبیر پر مبنی تھی۔
اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” واپس آجاؤ “ اور ڈرو نہیں تم محفوظ ہو “۔ کس طرح وہ محفوظ نہ ہوگا جسے دست قدرت آگے بڑھا رہا ہو اور جس کی نگرانی اللہ تعالیٰ خود کر رہا ہو۔ ابھی مکالمہ جاری ہے۔
اسلک یدل فی جیبک تخرج بیضآء من غیر سوء (28: 32) ” اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال ، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے “۔ حضرت موسیٰ نے حکم کی اطاعت فرمائی اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈالا اور نکالا۔ یہ ان کے لئے اسی وقت دوسرا غیر متوقع منظر تھا کہ ہاتھ سفید اور چمکدار ہے اور بغیر کسی بیماری کے ایسا ہے حالانکہ پہلے وہ گندم گوں تھا۔ ہاتھ کے سفید ہونے میں اشارہ اس طرح تھا کہ حق اور سچائی واضح اور صاف اور روشن دن کی طرح ہے۔
اب موسیٰ (علیہ السلام) جذباتی اور متاثر ہونے والی شخصیت نے اپنا کام دکھایا۔ وہ ان مناظر ، غیر متوقع مناظر کو دیکھ کر ڈر گئے
اور کانپنے لگے۔ ایک بار پھر ربانی ہدایت براہ راست آتی ہے۔ حکم ہوتا کہ اپنے ہاتھوں کو اپنے بازوؤں کو بھینچ لو ، اس طرح تمہارے دل کی دھڑکن کم ہوگی اور تمہیں پورا اطمینان ہوجائے گا۔
واضمم الیک جناحک من الرھب (28: 32) ” اور خوف سے بچنے کیلئے اپنا بازو بھینچ لو “۔ گویا ان کے ہاتھ ان کا پر ہے جسے وہ سینے کے ساتھ ملا رہے ہیں جس طرح پرندہ مطمئن ہوکر پروں کو جسم سے جوڑ لیتا ہے۔ جب پرندہ پروں کے ساتھ پھڑ پھڑاتا ہے تو اس کی کیفیات کے ساتھ مشابہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم یہاں اس مفہوم کی ایسی ہی تصویر کشی کرتا ہے :
اب موسیٰ (علیہ السلام) باری تعالیٰ کی طرف سے ہدایات پاچکے ہیں اور جو مشاہدات ان کو کرائے گئے وہ مشاہدہ دہ کرچکے ہیں۔ یہ دو نشانیاں اور معجزات تو وہ خود دیکھ چکے ہیں۔ پہلے وہ خود بھی خائف ہوگئے اور ان کا دل دھڑکنے لگا۔ پھر ان کو اطمینان دیا گیا۔ اب ان کو وہ اصل مشن سپرد کیا جاتا ہے جس کے لیے ان کو ابتدا سے آغاز پیدائش سے تربیت دی جا رہی ہے۔
فذلک برھانن ۔۔۔۔۔۔ قوما فسقین (28: 32) ” یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں “۔
یہ پیغام گویا فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے تھا۔ اور یہ اس وعدے کا ایفا ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ” ہم اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے مرسلین میں سے بنانے والے ہیں “۔ اور یہ پختہ وعدہ تھا ، کئی سال گزر گئے کہ یہ طے ہوا تھا۔ لیکن یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ وعدہ خلافی نہیں فرمایا کرتا۔ وہ تو سب سے سچی بات کرنے والا ہے۔
اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد آتا ہے کہ انہوں نے تو ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے اور یہ کہ وہ ان سے اس وقت چلے گئے جب گرفتاری کا خطرہ تھا۔ اور اس لیے بھاگ گئے تھے کہ انہوں نے انہیں قتل کرنے کے مشورے شروع کر دئیے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ شروع تھا اور یہ عظیم اعزاز تھا جو انہیں بخشا گیا۔ پھر ان کو دو عظیم معجزات کا اعزاز بھی بخشا گیا۔ اور پھر اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرمائی۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مشن کے سلسلے میں ایک عملی دشواری کی طرف سے خدشے کا اظہار کیا۔ یہ نہ ہو کہ وہ لوگ چھوٹتے ہی انہیں قتل کردیں اور دعوت کا سلسلہ ہی کٹ جائے۔
قال رب ۔۔۔۔۔۔ ان یقتلون (28: 33) ” موسیٰ نے عرض کیا میرے آقا میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں اور ڈرتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) منصب نبوت قبول کرنے سے معذرت نہ کر رہے تھے۔ نہ ان کا مقصد یہ تھا کہ پیچھے ہٹ جائیں یا منہ موڑلیں اور نافرمانی کریں بلکہ وہ یقین دہانی چاہئے تھے اور یہ اطمینان چاہتے تھے کہ دعوت کو جاری رہنا چاہئے۔ اور اگر وہ قتل ہوگئے جس طرح خدشہ ہے تو سلسلہ شروع ہی سے ختم ہوجائے گا۔ یہ ان کی جانب سے ایک مناب بات بھی ہے حالانکہ وہ قوی اور امین تھے۔ ڈرنے والے نہ تھے۔
واخی ھرون ۔۔۔۔۔۔ انی اخاف ان یکذبون (28: 34) ” اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے ، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے۔ مجھے اندیشہ ہت کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے “۔ ہارون مجھ سے زیادہ فصیح وبلیغ مقرر ہے اور دعوت کو اچھی طرح پیش کرسکتا ہے ، اسے میرے لیے تائید کنندہ کے طور پر بھیج دے تاکہ وہ میرے دعوائے رسالت کی تائید کرے اور اگر وہ مجھے قتل ہی کردیں تو میرا خلیفہ ہو۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور درخواست قبول کرلی جاتی ہے۔
قال سنشد عضدک ۔۔۔۔۔۔ اتبعکما الغلبون (28: 35) ” فرمایا ! ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سعادت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہوگا “۔ جو واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں ان میں قدرت الہیہ کی معجزانہ قوتیں زیادہ واضح طور پر حضرت موسیٰ کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی اور غلبہ کے پیچھے صرف متعارف اسباب ہی نظر نہ آئیں بلکہ اس پر عالم بالا کی مشیت کا رنگ غالب ہوتا کہ لوگوں کے نظریات کے اندر محض مادی اسباب کے علاوہ آسمانی قوتوں کی مشیت بھی واضح طور پر اہمیت اختیار کرلے۔ لوگوں کو اللہ پر ایمان حاصل ہو اور وہ اللہ پر توکل کریں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔
یہ خوبصورت اور عظیم منظر ختم ہوجاتا ہے اور زمان و مکان کے فاصلے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اب دربار فرعون میں ہیں۔ اللہ کی واضح آیات لیے ہوئے ہیں۔ اب ہدایت و ضلالت آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیان سخت مکالمہ شروع ہے۔ اور اس دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کا فیصلہ یوں ہوتا ہے کہ باطل اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں لازماً وہ لعنت کا مستحق ہوگا۔