28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 28:82

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اب وہی لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کر رہے تھے ، کہنے لگے ” افسوس ، ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے ، کشادہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ افسوس ہم کو یاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے

واصبح الذین تمترا مکانہ ۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الکفرون (82) اب یہ لوگ اس بات پر اللہ کی حمد و ثنا کر رہے ہیں کہ اللہ نے ان کی دعا قبول نہ کی۔ اور ان کو وہ دولت نہ دی جس کی وہ تمنا کرتے تھے اور جو دولت قارون کو دی گئی وہ ان کو نہ دی گئی۔ ورنہ ان کی حالت بھی وہ ہوجاتی جو چوبیس گھنٹوں میں قارون کی ہوگئی۔ ان کو اب ہوش آیا کہ دولت اس بات کی علامت اور دلیل نہیں ہے کہ دولت مند پر اللہ کا فضل ہے اور اللہ اس سے راضی ہے بلکہ اللہ اپنے بندوں میں سے کسی کو کم رزق دیتا ہے اور کسی کو زیادہ دیتا ہے یہ اس لیے نہیں ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے یا ناراض ہے۔ رزق کی فراہمی کے اسباب اور ہیں۔ اگر وافر رزق اللہ کی رضا مندی کی دلیل ہوتا تو قارون اللہ کی اس شدید گرفت اور پکڑ میں نہ آتا ایسے ضعیف الاعتقاد لوگوں کو اب معلوم ہوا کہ کافر کبھی فلاح نہیں پاتے۔ قارون کے بارے میں قرآن نے کلمہ کفر نقل نہیں کیا گیا۔ البتہ مال و دولت پر غرور کرنا اور یہ سوچ رکھنا کہ یہ دولت اس نے خود اپنے علم و حکمت کے زور سے کمائی ہے ، یہ بھی ایک قسم کا کفر ہے اور اس کا انجام ایس اہوا جو کافرون کا ہوتا ہے یعنی مکمل تباہی اور ہلاکت۔
Ayahs 28:83–84

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھلائی ہے ، اور جو برائی لے کر آئے تو برائیاں کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے

اب اس منظر پر بھی پر ودہ گر جاتا ہے۔ دست قدرت کی مداخلت سے اہل ایمان کے دلوں کو قوت ملی۔ اور اللہ کے پیمانوں میں ایمان کی قوت کو ترجیح ملی۔ اور اب ان مناظر پر بہترین تبصرہ : تلک الدار الاخرۃ ۔۔۔۔۔۔ والعاقبۃ للمتقین (83) یہ دار آخرت جس کی بات اہل علم کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جن کے پاس سچا علم ہے جو اشیاء کی صحیح قدروقیمت متعین کرتا ہے یہ جہاں نہایت ہی بلند مرتبت ہے۔ بہت ہی وسیع ہے یہ جہاں کس کے لیے ہے ؟ نجعلھا للذین ۔۔۔۔۔ ولا فسادا (28: 83) ” یہ ہم نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں “۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال ہی نہیں آتا کہ وہ زمین میں برتری اپنی ذاتی سربلندی کے لیے حاصل کریں۔ وہ تو اپنی ذات اور اپنی شخصیت پر بھی فخر نہیں کرتے۔ ان کی ذات بھی اللہ کے تصور ، اللہ کی یاد اور اللہ کے شعور میں گم ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے نظام حیات کے لیے ساعی ہوتے ہیں ، ان لوگوں کے پیمانوں میں ، اس زمین ، اس کی اشیاء ، اس کے سامان ، اور اس کی اقدار کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ وہ اقتدار فساد فی الارض کے لیے نہیں حاصل کرتے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ نے دار آخرت تیار کیا ہے جو عالی شان ہے۔ والعاقبۃ للمتقین (28: 83) ” اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے “۔ جو اللہ سے ڈرتے ہیں ، جو اس کے غضب سے خائف ہوتے ہیں اور اس کی رضا مندی کے طلبگار ہوتے ہیں “۔ اس جہاں آخرت میں سب لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا ملے گی اور یہ بات اللہ نے اپنے اوپر لکھ دی ہے کہ نیکیوں کا اجر کئی گنا ملے گا اور برائیوں کی سزا ان کے برابر ہوگی۔ زیادہ نہ ہوگی۔ یہ ہے اللہ کی رحیمانہ شان۔
Ayah 28:85

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

اے نبی ، یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے “ (یعنی مکہ تک) ۔ ان لوگوں سے کہہ دو کہ “ میرا رب خوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کھلی گمراہی میں کون مبتلا ہے

درس نمبر 179 تشریح آیات 85 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 88 اب قصص ختم ہیں۔ ان قصص پر جو تبصرے تھے وہ بھی ختم ہوگئے۔ اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں اس وقت مٹھی بھر اہل ایمان آپ کے ساتھ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ خطاب ایسے حالات میں ہے کہ مکہ سے لوگ آپ کو نکالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ آپ مدینہ کی طرف جانے والے ہیں اور اس میں بھی قوم آپ کا پیچھا کر رہی ہے۔ ابھی آپ مدینہ نہیں پہنچے۔ راستہ ہی میں ہیں۔ یہ آیات جحفہ میں اتریں جو مکہ کے قریب ہے۔ اس وقت ہجرت کرتے ہوئے آپ کی نظریں اور آپ کا دل اپنے محبوب شہر مکہ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ آپ ﷺ پر مکہ چھوڑنا نہایت ہی دشوار گزر رہا ہے۔ اگر دعوت اسلامی کا عظیم مقصد آپ کے پیش نظر نہ ہوتا تو آپ اپنے بچپن کے اس شہر کو ہرگز نہ چھوڑتے ، جس کے ساتھ آپ کی یادیں وابستہ ہیں۔ جہاں آپ کے آباؤ اجداد خوابیدہ ہیں اور جہاں آپ کے رشتہ دار رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہوتا ہے ان الذی فرض علیک القران لدآدک الی معاد۔ ” اللہ آپ کو مشرکین کے حوالے کرنے والا نہیں ہے۔ جبکہ اللہ نے آپ ﷺ پر قرآن کی تبلیغ اور دعوت فرض کردی ہے۔ اللہ مشرکین مکہ کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ ﷺ کو مکہ سے نکال دیں۔ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی دعوت کے حاملین پر تشدد اور ظلم کرتے رہیں ۔ اللہ نے جو آپ ﷺ کو قرآن کی دعوت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ وہ ایک مقرر وقت پر آپ کو نصرت بھی کرنے والا ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ ٹھیک ہے آج ان لوگوں نے آپ کو نکال دیا ہے لیکن بہت جلدی آپ پھر واپس آنے والے ہیں۔ جن حالات میں حضور اکرم ﷺ ہجرت پر مجبور ہوئے تھے وہ بہت زیادہ کربناک تھے لیکن اللہ نے چاہا کہ ایسے حالات ہی میں آپ ﷺ کے ساتھ یہ پختہ عہد کردیا جائے کہ آپ ظفر مندی کے ساتھ پھر اس شہر کو لوٹیں گے تاکہ رسول اللہ ﷺ ہجرت کی مشکلات کو امن اور یقین کے ساتھ برداشت کریں۔ مطمئن ہوجائیں کہ جلدی آپ فاتح کی حیثیت سے لوٹنے والے ہیں۔ اور آپ ﷺ کو اچھی طرح یقین ہوگیا کہ جلد ہی یہ تحریک مکہ میں فاتحانہ داخل ہوگی۔ اللہ کا یہ وعدہ ان تمام لوگوں کے لیے قائم ہے جو بھی اس راہ پر چلنا چاہیں۔ جو شخص بھی اللہ کے لیے تشدد کا شکار ہو اور وہ اس پر صبر کرے اور یقین رکھے کہ اس ظلم اور تشدد کے بعد آخرکار اللہ کی مدد آئے گی تو اللہ نے آخر کار ایسے شخص کی مدد کی ہے۔ ایسا شخص آخر کار کامیاب ہوتا ہے اس معرکے سے سرخرو ہوکر نکلتا ہے۔ اس کا کاندھوں سے بوجھ اتر جاتا ہے اور وہ اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرلیتا ہے۔ ان الذی فرض ۔۔۔۔ الی معاد (28: 84) ” یقین کرو جس نے تم پر قرآن فرض کیا ہے وہ تمہیں ایک بہترین جگہ (مکہ) واپس پہنچانے والا ہے “۔ اور اس سے قبل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکال دئیے گئے تھے اور ان کا تعاقب بھی ہوا تھا لیکن اللہ نے ان کو پھر مصر کی طرف لوٹا دیا۔ وہ واپس ہوئے اور انہوں نے اپنی قوم کے کمزور لوگوں کو فرعون کی غلامی سے نکالا اور فرعون اور اس کی فوج ہلاک ہوئی اور اچھا انجام ان لوگوں کا ہوا جنہوں نے ہدایت قبول کی تھی۔ لہٰذا آپ بھی جس راہ پر نکل پڑے ہیں ، چلتے رہیں اور آپ کی قوم اور آپ کے درمیان فیصلہ وہ کرے گا جس نے آپ کو اس ڈیوٹی پر مامور کیا ہے۔ قل ربی اعلم من جآء ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (85) یعنی ہدایت و ضلالت کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ وہ اہل ہدایت کو جزاء دے گا اور اہل ضلالت کو سزا دے گا۔ آپ ﷺ پر جو قرآن فرض کیا گیا ہے وہ آپ ﷺ پر اللہ کی طرف سے ایک رحمت اور مہربانی ہے۔ آپ کے تو خواب و خیال میں یہ بات نہ تھی کہ یہ امانت آپ ﷺ کے حوالے کی جائے گی۔ یہ ایک عظیم منصب ہے جو آپ کو دیا گیا اور اس منصب کے دئیے جانے سے قبل آپ ﷺ کے تصور میں بھی ایسی کوئی بات نہ تھی۔
Ayahs 28:86–88

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

تم اس بات کے ہرگز امیدوار نہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی ، یہ تو محض تمہارے رب کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے) پس تم کافروں کے مددگار نہ بنو

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کفار تمہیں ان سے باز رکھیں۔ اپنے رب کی طرف دعوت دو اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے۔ فرمانروائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو

وما کنت ترجوا ۔۔۔۔۔ من ربک یہ اس مسئلہ پر ایک فیصلہ کن بات ہے کہ رسالت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو کوئی امید نہ تھی کہ آپ رسول ﷺ بھی ہوسکتے ہیں۔ پس یہ اللہ کا اچانک انتخاب تھا۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، منتخب کرتا ہے۔ یہ اس قدر بلند منصب ہے کہ اس کے لیے کوئی انسان قبل از وقت توقع بھی نہیں کرسکتا ، سوچ بھی نہیں سکتا کہ اللہ اسے اس منصب کے لیے چن لے گا یا اللہ اسے اس کے اہل بنا دے گا۔ یہ اللہ کا محض رحم و کرم ہوتا ہے۔ کسی شخص پر یا کسی قوم پر کہ ان میں سے کسی کو اللہ چن لیتا ہے اور یہ انتخاب ان کا ہوتا ہے جو اللہ کے اونچے بندے ہوں ، ان کا انتخاب نہیں ہوتا جو اس منصب کے امیدوار ہوتے ہیں۔ مکہ کے ماحول میں عربوں میں اور اسرائیل میں بہت سے لوگ تھے۔ اس انتظار میں تھے کہ نبی آخر الزمان آنے والا ہے ، لیکن وہ کون ہوگا ، یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ منصب رسالت کہاں لے جا کر رکھ دے۔ اللہ نے اس قوم اور اس شخص کو اس منصب کے لیے چن لیا جو اس کے لیے نہ امیدوار تھا اور نہ اس کو اس کا خیال تھا کیونکہ اللہ جہاں منصب نبوت دیتا ہے اس کے لیے پہلے اس کو قبولیت کے لیے فیض عظیم اور استعدادوافر عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے چونکہ آپ کو یہ کتاب دی گئی جس کے مطابق آپ ﷺ نے حق پر فیصلے کرنے ہیں ، لہٰذا کافروں کے مددگار بنیں ، کیونکہ وہ تو آپ کو اللہ کی ان روشن نشانیوں سے روک دیں گے۔ بلکہ آپ مشرکین کے مقابلے میں صاف صاف عقیدہ توحید پر مبنی دعوت لے کر اٹھیں۔ فلا تکونن ظھیرا للکفرین ۔۔۔۔۔۔۔ لہ الحکم والیہ ترجعون (86 – 88) اس سورت کے آخر میں یہ انسانی عقل و خرد کے تاروں پر آخری ضرب ہے۔ اس فیصلہ کن ضرب میں بتا دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے راستے اور مشرکین اور مشرکین کے طریقے کے درمیان بڑے فاصلے ہیں۔ آپ کو متبعین قیامت تک آپ ﷺ کی راہ اور اس کی نشانات پر رہیں۔ یہ فیصلہ کن بات آپ ﷺ کی ہجرت کے موقعہ آئی ہے جس کے ذریعے حضور اور مشرکین مکہ کے راستے ہمیشہ کے لیے جدا ہو رہے تھے اور آنے والے عہد میں مختلف تاریخیں تیار ہونے والی تھیں۔ فلا تکونن ظھیرا للکفرین (28: 84) ” پس آپ کافروں کے مددگار نہ بنیں “۔ کیونکہ مومن اور کافر کے درمیان کوئی تعاون اور باہم نصرت کا تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔ دونوں کے راستے جدا ہیں ، دونوں کے نظام زندگی متضاد ہیں۔ مومن حزب اللہ ہیں اور کافر حزب الشیطان ہیں۔ اس لیے دونوں کے باہم تعاون کے لیے کوئی مشترکہ اساس ہی نہیں ہے۔ دونوں کے تعاون کے لئے وئی مشترکہ میدان نہیں ہے۔ ولا یصدنک عن ۔۔۔۔۔ انزلت الیک (28: 85) ” اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کفار تمہیں ان سے باز رکھیں “۔ کفار کا ہمیشہ یہ مقصد رہا ہے کہ اہل دعوت کو کسی نہ کسی طریقے سے دعوت سے باز رکھیں اور مسلمانوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی دعوت کے راستے پر چلتے رہیں۔ اگرچہ رکاوٹیں ڈالنے والے رکاوٹیں ڈالیں۔ اور اس طرح چلتے رہیں کہ کوئی ان کو راہ دعوت سے روک نہ سکے۔ وہ قرآن اور سنت کی آیات کو لے کر اور ان پر بھروسہ کرکے اپنی راہ پر چل نکلیں۔ وادع الی ربک (28: 85) ” اپنے رب کی طرف دعوت دو “۔ یہ دعوت خالص اسلامی دعوت ہو ، بالکل واضح ہو اور اس کے اندر کوئی پیچیدگی اور کوئی التباس نہ ہو۔ یہ صرف اللہ کی طرف ہو ، کسی قومیت اور کسی عصبیت کی طرف نہ ہو۔ کسی زمین اور کسی جھنڈے کے لیے نہ ہو ، کسی مصلحت اور کسی مفاد کے لیے نہ ہو۔ کسی ذاتی خواہش اور کسی دنیاوی عیاشی کے لیے نہ ہو۔ اس دعوت کو کوئی قبول کرتا ہے یا نہیں کرتا ، اس کی کوئی پرواہ نہ کی جائے۔ اور کوئی اس کو قبول نہیں کرتا تو وہ اپنے لیے کوئی اور راہ لے ، ہمارا طریقہ اور راستہ تو یہی ہے۔ ولا تکونن من المشرکین (28: 85) ولا تدع مع اللہ الھا اخر (28: 88) ” اور ہرگز مشرکین میں شامل نہ ہو اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ پکارو “۔ ایک ہی اصول کو تاکیداً دو مرتبہ بیان کیا گیا یعنی شرک نہ کرو ، اور اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو ، اس طریقہ سے اسلامی نظریہ حیات نکھر کر سامنے آتا ہے۔ توحید اور شرک اسلامی عقیدہ کا بنیادی مسئلہ ہے۔ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات بنیادی کلمہ ہے۔ اسی پر اسلامی نظریہ حیات قائم ہے۔ اسلام کے آداب ، اس کے فرائض ، اس کے اخلاقی ضابطے اور اس کے قانونی ضابطے سب اسی نظریہ پر قائم ہیں۔ ہر ہدایت اور ہر قانون نظریہ توحید پر قائم ہے۔ اس لیے ہر ہدایت اور ہر ضابطہ بندی سے قبل عقیدہ توحید کا ذکر ہوتا ہے۔ مزید تاکید ملاحظہ ہو۔ لا الہ الا ھو کل شئ ھالک الا وجھہ (28: 88) ” اس کے سوا کوئی معبود الٰہ نہیں ہے ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے “۔ لہٰذا اسی کے آگے جھکنا ہے۔ اسی کی بندگی کرنا ہے ، اس کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔ اس کے سوا کسی کے پاس جائے پناہ اور جائے تحفظ نہیں ہے۔ کل شئ ھالک الا وجھہ (28: 88) ” ہر چیز ہلاک ہونے والئ ہے سوائے اس کی ذات کے “۔ ہر شے زائل ہونے والی ہے ، ہلاک ہونے والی ہے ، مال ہو یا جاہ ، اقتدار ہو یا قوت ، زندگی ہو یا سامان زندگی ، زمین ہو یا زمین کے باشندے۔ آسمان ہوں یا ان میں رہنے والی ہر چیز۔ اور یہ پوری کائنات جسے ہم جانتے ہوں یا جو ہمارے علم سے باہر ہو ، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے ماسوائے ذات باری تعالیٰ کے۔ صرف ذات باری تعالیٰ اکیلی ہی باقی رہے گی۔ لہ الحکم (28: 88) ” فرمانروائی اسی کی ہے “۔ وہ جو فیصلے چاہتا ہے ، کرتا ہے ، جو احکام چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اس کے احکام اور بادشاہت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا۔ اس کے حکم کے بالمقابل کوئی حکم نہیں۔ اور وہ چاہے وہ ہوتا ہے اور اسکے سوا کوئی ایسی ذات نہیں ہے جس کی مشیت چلتی ہو۔ والیہ ترجعون (28: 88) ” اور اسی کی طرف تم کو پلٹنا ہے “۔ لہٰذا اس کے حکم سے کوئی جائے خلاصی و جائے پناہ نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں فرار کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی ملجا و ماویٰ نہیں ہے۔ یوں اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ قدرت الہیہ اس میں برملا کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ذات باری دعوت اور داعیوں کی محافظہ نظر آتی ہے۔ اور دعوت اسلامی کے مقابلے میں تمام قوتوں کو پاش پاش کرنے کے مناظر صاف نظر آتے ہیں۔ اور سورت کا اختتام دعوت اسلامی کی بنیاد یعنی عقیدہ توحید پر ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہیہ و حاکم نہیں ہے۔ حکم اور فیصلہ اسی کا چلے گا اور اس دعوت کو لے کر اہل دعوت کو چاہئے کہ وہ یقین ، اعتماد اور یکسوئی کے ساتھ اپنی راہ پر گامزن رہیں۔