28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 28:36–42

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ ۔۔۔۔ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ” یہ کچھ نہیں ہے مگر بناؤٹی جادو۔ اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنیں ہی نہیں

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا ” میرا رب اس شخص کے حال سے خوف واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہوتا ہے ، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا ” اے اہل دربار ، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسٰٰ کے خدا کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جھوٹ سمجھتا ہوں

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کس گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا۔ اب دیکھ لو کہ ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

ہم نے انہیں جہنم کی طرف دعوت دینت والے پیش رو بنا دیا اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔

فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42) یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔ یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس سورت میں دست قدرت نمایاں طور پر متحرک نظر آتا ہے اس لیے یہاں بھی موسیٰ اور فرعون کے آمنے سامنے کے بعد جلد ہی فرعون کا انجام بد دکھا دیا گیا اور دست قدرت نے چشم زدن میں اس عظیم قوت کو ختم کردیا اور تفصیلات بیان کرنے کے بجائے جلدی سے آخری جھلک دکھا دی۔ فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ الاولین (28: 36) ” پھر جب موسیٰ ۔۔۔۔ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ” یہ کچھ نہیں ہے مگر بناؤٹی جادو۔ اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنیں ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسی سچائی کا انکار ہے جس کا کوئی جواب ان سے بن نہ پڑتا تھا اور تمام زمانوں میں حاملین حق کے ساتھ مکذبین نے یہی سلوک کیا ہے۔ جب وہ لاجواب ہوگئے تو ایسی باتیں کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ یہ رہا ہے کہ یہ جادو ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ تو نئی بات ہے۔ اس قسم کی بات ہم نے کبھی اپنے آبا سے نہیں سنی۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ کے معجزات کے مقابلے میں کوئی حجت اور دلیل نہیں پاتے اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں کوئی برہان پیش کرتے ہیں۔ وہ بس ایک مجمل بات کرتے ہیں جس سے نہ حق ثابت ہوتا ہے اور نہ باطل ۔ نہ کوئی دعویٰ رد ہوتا ہے اور نہ ثابت ہوتا ہے۔ کیا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہم نے یہ بات کبھی نہیں سنی۔ یہ محض شک کا اظہار ہے اور اہل باطل ہمیشہ جب سچائی کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ اسے مشکوک بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر دور میں باطل کا یہی رویہ رہا۔ لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہاں بات مختصر کرتے ہوئے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا۔ وقال موسیٰ ربی ۔۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الظلمون (28: 37) ” موسیٰ نے جواب دیا “ میرا رب اس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے ، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ نہایت ہی مہذب اور با ادب جواب ہے۔ یہ جواب بہت ہی واضح اور نصیحت آموز ہے لیکن اس میں کوئی تلمیح اور اشارہ اور اجمال نہیں ہے۔ یہ جواب پر اعتمادی کے ساتھ دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ کو پورا اطمینان ہے کہ حق و باطل کے اس مقابلے میں حق فلاح پائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو خوب معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ سچے ہیں اس لئے کہ وہ اللہ کی براہ راست ہدایت اور مکالمے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو ہدایت پر ہیں اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اگرچہ بعض معاملات بظاہر یوں نظر آتے ہیں کہ حق کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اسی سنت کے ساتھ حضرت موسیٰ بھی فرعون کے مقابلے میں اترے ہیں اور تمام انبیاء سنن الہیہ کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ اب اس پر اطمینان ، مہذبانہ اور معقول جواب کا جواب الجواب فرعون کیا دیتا ہے محض دعویٰ سرکشی ، کھیل اور مزاح اور غرور لاابالی پن اور سستی۔ وقال فرعون یایھا الملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من الکذبین (28: 38) ” اور فرعون نے کہا ” اے اہل دربار ، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔ اے سرداران مصر میں نہیں سمجھتا کہ میرے سوا تمہارا اور بھی کوئی حاکم والٰہ ہے۔ فسق و سرکشی کا ، یہ بلند ترین رویہ ہے اور سردار ظاہر ہے کہ وہ اقرار کریں گے۔ اب وہ یہاں اس نظریہ کا سہرا لیتا ہے جو اس دور میں مصر میں عام طور پر تسلیم کیا جاتا تھا کہ بادشاہوں کا نسب عامہ الہوں سے ملتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس جبر کا سہارا بھی لیتا ہے جس کے مقابلے میں کوئی دماغ سوچتا نہیں اور کوئی شخص سر اٹھا کر نہیں چلتا۔ اور کوئی زبان یہ جرات نہیں کرتی کہ کوئی اختلافی بات کرے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بادشاہ انہی جیسا ایک بشر ہے جو پیدا ہوتا ہے اور مرتا ہے لیکن ان اساطیر اور پھر جبر کی بنا پر کہتا تھا اور یہ تسلیم کرتے تھے ، بغیر اعتراض اور تنقید کے۔ اب وہ ایک ایسی حرکت کرتا ہے جس سے بظاہر تو وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فی الواقعہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ موسیٰ کے الہہ کو وہ آسمانوں میں تلاش کرنے نکلا ہے لیکن دراصل وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ایک سنجیدہ مزاح کرتا ہے فاوقد لی یھا من ۔۔۔۔۔ الہ موسیٰ (28: 38) ” اے ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں “۔ موسیٰ کہتا ہے کہ اس کا الٰہ آسمانوں میں ہے۔ بطور مزاح وہ کہتا ہے کہ مجھے تو اس میں شک ہے لیکن اس شک کے باوجود میں حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ وانی لاظنہ من الکذبین (28: 38) ” میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔ جس طرح دوسرے مقامات پر ہوا ، یہاں حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ بھی ہوا۔ جس کو یہاں حذف کردیا گیا ہے۔ واستکبر ھو ۔۔۔۔۔ لا یرجعون (28: 39) ” اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اس بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے “۔ جب ان کو یہ واہمہ ہوگیا کہ انہوں نے اللہ کی طرف نہیں پلٹنا تو انہوں نے زمین میں ناحق گھمنڈ شروع کردیا۔ اور معجزات اور پیغمبروں کو جھٹلایا۔ وہ معجزات جن کی تفصیلات اس سے قبل گزر گئی ہیں اور دوسری سورتوں میں ان کا مظاہرہ مفصل دکھایا گیا ہے۔ فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم (28: 40) ” آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا “۔ یہ نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیکن فیصلہ کن انداز میں سخت پکڑ اور ، سمندر میں پھینک دیا جانا ہے جس طرح انسان کسی کنکر اور کسی پتھر کو سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ جس طرح موسیٰ کی والدہ نے شیرخوار موسیٰ کو فرعون کے ڈر سے دریا میں پھینک دیا تھا ، اس طرح اسے اور اس کے لشکروں کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ لیکن اس بچے کو اللہ نے بچانا تھا تو بچ گیا اور فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کرنا تھا تو غرق ہوگئے۔ سمندر ان کے لئے باعث ہلاکت ہوگیا۔ لہٰذا امن وامان بھی اللہ کے ہاں ہے اور ڈرنا ہے تو اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ وہ ڈرنے کا مستحق ہے۔ فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین (28: 40) ” دیکھو ، ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟ “ یہ انجام وہ منظر پر نظر آتا ہے۔ تمام دنیا کے سامنے ہے۔ اس میں مکذبین کے لیے بھی عبرت ہے اور نصیحت پانے والوں کے لیے بھی عبرت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکش جباروں کو اللہ ہلاک کرنا چاہے تو چشم زدن میں نیست و نابود کردیتا ہے ، نصف سطر لکھنے سے بھی پہلے۔ اگلے لمحے فرعون اور اس کا لشکر اس دنیا سے اس جہاں میں ہیں اور فرعون اور اس کا لشکر وہاں بھی ایک عجیب منظر میں نظر آتے ہیں۔ ان کو حشر کے فیصلے کے بعد جہنم کی طرف بلایا جاتا ہے۔ فرعون وہاں بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت جہنم کی طرف رواں دواں ہے جس طرح وہ تعاقب میں حضرت موسیٰ کے پیچھے رواں تھا۔ وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار (28: 41) ” ہم نے ان کو جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا “۔ کیا ہی بری دعوت ہے جو یہ لوگ دیتے ہیں۔ اور کیا ہی بری قیادت و امامت ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ ویقوم القیمۃ لاینصرون (28: 41) ” اور قیامت کے روز کہیں سے کوئی مدد نہ پاسکیں گے “۔ دنیا میں بھی ان کو ہزیمت اٹھانی پڑی اور آخرت میں بھی ان کو ناکامی کا سامنا کرنا ہوگا۔ سرکشی اور ظلم کا یہی بدلہ تو ہوتا ہے۔ وہاں صرف ناکامی ہی نہ ہوگی ، بلکہ ہر طرف سے لعنت و ملامت بھی ہوگی۔ اس زمین پر بھی اور آخرت میں حشر کے میدان میں بھی۔ واتبعنھم فی ۔۔۔۔۔ من المقبوحین (28: 42) ” ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے “۔ مقبوحین کا لفظ ہی ایسا ہے کہ اس کی آواز ہی اس کے مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔ ” قبح “ شرمندگی ، طعن ، تشنیع ، گندگی اور نفرت کے تمام مفہومات مقبوحین میں شامل ہیں۔ یہ اس لیے کہ زمین میں یہ کبر و غرور کا روپ اختصار کرتے تھے۔ عزت و جاہ اور قوت اور بندوں پر ظلم ان کا وطیرہ تھا۔ یہاں سیاق کلام میں مصر سے بنی اسرائیل کے ثروج کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ اور فرعون کے انجام بد کی ایک جھلک سرعت کے ساتھ دکھانے کے بعد یہ دکھایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو کس قدر مقام بلند عطا ہوا۔
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی ، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر ، ہدایت اور رحمت بنا کر ، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں

ولقد اتینا موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لعلھم یتذکرون (43) ۔ یہ ہے حضرت موسیٰ کا انجام۔ یہ ایک بہترین انجام ہے ، کس قدر باعزت انجام و مقام ہے یہ۔ جہاں تک وہ پہنچے ، ان کو کتاب دی گئی جو لوگوں کے لئے اس طرح ذریعہ ہدایت تھی جس طرح انسانوں کے لیے آنکھیں ذریعہ ہدایت ہوتی ہیں۔ ہدایت ہے اور رحمت ہے۔ اور اس لیے ہے کہ بنی اسرائیل سبق سیکھیں۔ دیکھیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے نشیب و فراز میں دست قدرت نے کس طرح بار بار مداخلت کی۔ کس طرح اللہ نے کمزوروں کی حمایت کی اور جباروں کو ہلاک کیا۔ اور مظلومین کو بالاخر برتری حاصل ہوئی۔ قصہ موسیٰ و فرعون اس سورت میں یوں بیان ہوا۔ اس سے یہاں یہ ہدایت دی گئی کہ امن و سکون اللہ کی جانب سے ہوا کرتا ہے۔ اور انسانوں سے ڈرتے وہ لوگ ہیں جو اللہ سے نہیں ڈرتے۔ جو اللہ سے دور ہوجاتے ہیں اور یہ کہ جب ظلم اور سرکشی حد سے بڑھ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ مظلوموں کے حق میں براہ راست مداخلت کرتا ہے اور ہمیشہ اللہ ظالم کا ہاتھ پکڑتا ہے۔ لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب جبار وقہار لوگ ظلم کرنا شروع کردیں اور مخلوق خدا اپنے دفاع سے عاجز آجائے۔ یہ وہ ہدایت تھیں جو اس وقت مکہ میں برسر عمل ایک مختصر سی انقلابی جماعت کے لیے بےحد ضروری تھیں۔ نیز مکہ کے مشرکین جو ان بیچاروں کے لیے فرعون کی طرح جبار وقہار تھے ، ان کو بھی بار بار سنایا جاتا ہے کہ تم بھی غور کرو ، اور نبی ﷺ کے بعد بھی جہاں جہاں کوئی انقلابی عمل شروع کرے گا اسے ان ہدایات کی ضرورت ہوگی۔ جہاں بھی دعوت ہو اور اس پر تشدد ہو۔ قرآن کریم میں قصص صرف ایسی ہی انقلابی تعلیمات کیلئے آتے ہیں۔ داعیوں کی تربیت کے لئے۔ اللہ کے سنن کے مناظر دکھانے کیلئے کہ سنن الہیہ کس طرح کام کرتی ہیں ، تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور اپنی جدوجہد میں ان سے بصیرت حاصل کریں۔
Ayahs 28:44–51

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ تم اس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو یہ فرمان شریعت عطا کیا ، اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

بلکہ اس کے بعد (تمہارے زمانے تک) ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر بہت زمانہ گزر چکا ہے۔ تم اہل مدین کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ ان کو ہماری ایات سنا رہے ہوتے ، مگر (اس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور تم طور کے دامن میں بھی اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰ کو پہلی مرتبہ) پکارا تھا ، مگر یہ تمہارے رب کی رحمت ہے (کہ تم کو یہ معلوماے دی جار ہی ہیں) تاکہ تم ان لوگوں کو متنبہ کر دو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا ، شاید کہ وہ ہوش میں آئیں

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

(اور یہ ہم نے اسلئے کیا کہ) کہیں ایسانہ ہو کہ انکے اپنے کیے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں ” اے پروردگار ، تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ” کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ کیا یہ لوگ اس کا انکار کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا ” دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ان سے کہو ، ” اچھا تو لاؤ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو میں اس کی پیروی اختیار کروں گا

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشا

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور (نصیحت کی) بات پے درپے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں

درس نمبر 177 تشریح آیات 44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے میدان حشر کے بھی بعض مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو تعلیم لے کر آئے وہ سچی ہے۔ اہل کتاب میں سے سلیم الفطرت لوگ اسے قبول کرتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ مدعی دین ابراہیمی ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں تو یہ ان کیلئے رحمت ثابت ہوگی۔ اس قصے سے جو پہلا نتیجہ یہاں نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو کلام نازل ہو رہا ہے وہ سچا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ ان قصص کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جس طرح کوئی عینی شاہد کسی واقعہ کو بیان کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ حضور اکرم ﷺ ان واقعات کے پیش آنے کے وقت وہاں موجود نہ تھے بلکہ یہ علیم وخبیر اللہ کی طرف سے وحی ہے جو آپ پر آرہی ہے اور یہ وحی رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک میں مبتلا ہیں۔ اور اس فعل کی وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں اور اس لیے کہ اگر یہ وحی نہ آتی تو ان لوگوں کو ایک بہانہ ہاتھ آجاتا۔ ربنا لولا ارسلت ۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی نبی بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ وما کنت بجانب الغربی ۔۔۔۔۔۔۔ لھم القول لعلکم یتذکرون (44 – 51) غربی سے یہاں طور کا جانب غربی مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمے اور چلہ کشی کے چالیس روز و شب کے لیے متعین فرمایا تھا۔ اصل میعاد تیس راتیں تھیں پھر اس میں دس کا اضافہ کردیا گیا۔ اس کا تذکرہ سورت اعراف میں گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی وہ تختیاں دی گئیں جن میں احکام خداوندی لکھے ہوئے تھے تاکہ ان احکام پر بنی اسرائیل کا قانونی نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے کہ آپ ازخود ان حالات و مشاہدات کی رپورٹ دے رہا ہے کیونکہ حضور ﷺ اور حضرت موسیٰ کے زمانوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر (28: 45) ” ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر زمانہ گزر چکا ہے “۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کو یہ اطلاعات اللہ علیم وخبیر دے رہا ہے اور یہ قرآن وحی من جانب اللہ ہے۔ قرآن کریم نے حضرت موسیٰ کے قیام مدین کے واقعات کے بارے میں بھی تحدی کی ہے اور چیلنج کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے وہاں قیام کیا۔ حضرت محمد ﷺ وہ واقعات بتا رہے ہیں تو حضور ہدایت خود مدین میں بھی تو موجود نہ تھے کہ اس زمانے کی خبریں حضور اکرم ﷺ نے ان سے لی ہوں اور پھر تفصیلات بیان کردیں۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ لکنا کنا مرسلین (28: 45) ” مگر یہ خبریں ہم بھیجنے والے ہیں “۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جس کے پاس انبیائے سابقین کی خبریں محفوظ ہیں۔ پھر قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات اور مکالمے کو بھی اپنی جزئیات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ نہایت گہرائی کے ساتھ۔ وما کنت بجانب الطور اذنادینا (28: 46) ” اور تم طور کے دامن میں اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے پہلی مرتبہ موسیٰ کو پکارا “۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ پکار تو نہ سنی تھی۔ نہ اس کی تفصیلات انہوں نے قلم بند فرمائی تھیں۔ یہ اللہ کی جانب سے اہل مکہ قوم رسول کیلئے ایک رحمت ہے کہ وہ خبریں تفصیلات کے ساتھ دی جا رہی ہیں لہٰذا یہ خبریں بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ آپ سچے ہیں اور جو دعویٰ کرتے ہیں اس پر پہلی دلیل خود یہ قرآن ہے تاکہ عرب جیسی قوم کو آپ ڈرائیں جن کے پاس اس سے قبل ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس سے قبل کی رسالتیں بنی اسرائیل کے پاس آتی تھیں جو عربوں کے پڑوس میں بستے تھے۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل عرب میں کوئی رسول نہ آیا تھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ یہ قرآن لوگوں کیلئے رحمت خداوندی بھی ہے اور ان پر حجت بھی ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہمارے لیے تو کوئی رسول بھیجا ہی نہ گیا تھا اور یہ کہ ان کو تو اچانک ہی پکڑ لیا گیا اور یہ کہ اس پکڑ سے قبل ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ یہ لوگ جس جاہلیت اور شرک میں مبتلا تھے وہ تو موجب عذاب تھی تو اللہ نے ان کی حجت بازی اور ان کے عذرات کو ختم کرنے کیلئے رسول بھیج دیا اور آخری رسول بھیج دیا تاکہ ان کے بعد کوئی عذر نہ کرے۔ ولولا ان تصیبھم ۔۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں اے پروردگار تو نے کیوں ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ اگر رسول نہ آتا تو وہ ایسی ہی بات کرتے۔ اگرچہ رسول کے پاس آیات نہ ہوتیں ، لیکن جب رسول آگیا اور اس کے پاس آیات بھی ہیں تو یہ لوگ ماننے سے انکار کر رہے ہیں حالانکہ اس کے پاس ناقابل تردید و ناقابل شک دلائل ہیں۔ فلما جآءھم الحق من عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل کفرون (28: 48) ” مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ” کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ کیو یہ لوگ اس کا انکار کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا ” دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں “۔ اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “۔ یہی غرض تھی ان کی بہانہ سازی اور ان کے غلط عذرات کی۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تسلیم نہ کیا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے یعنی مادی معجزات یا قرآن کریم تختیوں پر لکھا ہوا کیوں نہیں اتارا گیا جس طرح تورات کو لکھا ہوا اتارا گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے جو دلیل بیان کی ہے ، یہ اس میں سچے نہیں ہیں۔ نہ ان کا یہ اعتراض مخلصانہ ہے۔ اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل (28: 48) ” کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ جزیرۃ العرب میں یہودی رہتے تھے۔ ان کے پاس تورات بھی تھی تو عربوں نے تورات کو کیوں نہ مانا۔ انہوں نے تو تورات کو بھی تکذیب کی تھی۔ نیز ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کی بشارت اور صفات دونوں دی گئی ہیں اور انہوں نے قرآن کے بارے میں بعض اہل کتاب سے فتویٰ بھی پوچھا تھا اور انہوں نے کہہ دیا تھا کہ محمد جو تعلیم پیش کرتے ہیں وہ سچی ہے اور یہ تعلیم بھی کتب سابقہ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ لیکن انہوں نے ان فتاویٰ کو بھی تسلیم نہ کیا۔ انہوں نے تورات کو بھی جادو کہا۔ قرآن کو بھی جادو کہا اور چونکہ دونوں جادو ہیں اس لیے دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔ قالوا سحرن تظھرا وقالوا انا بکل کفرون (28: 48) ” انہوں نے کہا دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “ وہ حق طلب کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ورنہ دلائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ قرآن کی پشت پر موجود دلائل ضعیف ہیں۔ قرآن مجید ایک قدم آگے بڑھ کر ان کو اچھی طرح لاجواب کردیتا ہے ، ان سے کہا جاتا ہے اگر تم قرآن کو تسلیم نہیں کرتے ، اور تورات کی تعلیمات بھی تمہارے دل کو نہیں لگتیں تو تم کوئی ایسی کتاب لاؤ جو تورات اور قرآن دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اس کتاب کو مان لیں گے۔ یہ آخری بات ہے اور دلیل وبرہان کی آخری حد ہے کہ تم ایسی کوئی کتاب لاؤ، اس کے بعد بھی اگر کوئی حق کے سامنے نہیں جھکتا تو یہ مکابرہ ہوگا اور ہٹ دھرمی ہوگی۔ اور ہٹ دھرمی کے سامنے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔ فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔۔۔ لا یھدی القوم الظلمین (28: 50) ” اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ قرآن جن حقائق پر مشتمل ہے وہ نہایت واضح ہیں۔ دین اسلام کے جو دلائل ہیں وہ قطعی اللبوت ہیں۔ ان دلائل کا جو شخص انکار کرتا ہے وہ وہی شخص ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی میں لگا ہوا ہو۔ کیونکہ معقول انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ تیسرا راستہ ہی نہیں ہے یا تو وہ مخلص اور حق قبول کرنے والا ہوگا تو وہ لازماً دلائل ایمان کو دیکھ کر ایمان لائے گا اور یا وہ شک میں مبتلا ہوگا ، اپنی خواہشات کا پیرو ہوگا وہ ہٹ دھرم اور کج بحثی کرنے والا ہوگا۔ انکار محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے کرے گا ، اسلئے نہیں کرے گا کہ اسلامی عقائد میں کوئی پیچیدگی ہے یا حجت میں کوئی ضعف ہے یا دلیل میں کوئی کمی ہے جیسا کہ نفس پرست لوگ کہتے ہیں۔ فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔ اھوآءھم (28: 50) ” اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے تو جان لیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ حتمی ہے ، آخری ہے ، اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس لیے اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اس دین کو قبول نہیں کرتے وہ مفاد پرست ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور عذر نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زبردستی ناسمجھ بنا رکھا ہے دراصل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔ حق واضح ہے اور پھر بھی یہ لوگ منہ موڑتے ہیں۔ ومن اضل ممن اتبع ۔۔۔۔۔۔۔ القوم لظلمین (28: 50) ” اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ اور یہ اہل مکہ اس معاملے میں بڑے ظالم اور باغی ہیں۔ یہ آیت ان لوگوں کے تمام عذرات ختم کردیتی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو سمجھا نہیں ہے اور ان کو دین کا پورا پورا علم نہ تھا۔ اسلام کا موقف ہے کہ اسلام بالکل واضح ہے۔ صرف لوگوں تک پہنچنا چاہئے ، ان پر حجت تمام ہونا چاہئے کہ اسلام پہنچا دیا گیا۔ بس پھر مجادلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف پہنچا دینے سے لوگوں کے عذرات ختم ہوجائیں گے۔ دین پہنچ جانے کے بعد محض نفس پرست یا مفاد پرست ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے اور تکذیب وہی شخص کرسکتا ہے جو زبردستی اپنے آپ کو جاہل بنائے اور اپنے اوپر ظلم کرے۔ اس سچائی پر ظلم کرے۔ ایسا شخص مستحق ہدایت ہی نہیں ہوتا۔ ” ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت ہی نہیں بخشتا “۔ حق پہنچتے ہی ان کا عذر ختم ہوا۔ ان پر دعوت پیش کرتے ہی رسول اور امت کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اب ایسے لوگوں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔ ولقد وصلنا ۔۔۔۔۔ یتذکرون (28: 51) ” اور نصیحت کی بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں “۔ گذشتہ آیات میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ لوگ منہ موڑتے ہیں ، شک کرتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ اب یہاں بعض ایسے لوگوں اور ایسے کرداروں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جو حق کو خلوص نیت سے قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی مثال اہل کتاب میں ملتی ہے۔ ذرا دیکھو انہوں نے سچائی پر مشتمل اس کتاب کو کس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا۔
Ayahs 28:52–55

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو اس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی ، وہ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں۔

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب یہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ” ہم اس پر ایمان لائے ، یہ واقعی حق ہے ہمارے رب کی طرف سے ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبارہ دیا جائے گا اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔ وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ” ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ، تم کو سلام ہے ، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے

الذین اتینھم الکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (52 – 55) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ ان 70 پادریوں کے بارے میں ہے جنہیں نجاشی نے بھیجا تھا۔ جب یہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان پر سورت یسین پڑھی۔ جب سورت ختم ہوگئی تو یہ لوگ رونے لگے اور مسلمان ہوگئے ان کے بارے میں زیر بحث آیات بھی نازل ہوئیں۔ الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے قبل کتاب دی ہے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔ محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے ” اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے پاس قریبا بیس آدمی آئے۔ آپ ﷺ مکہ میں تھے۔ یہ لوگ عیسائی تھے اور انہوں نے آپ کے بارے میں سنا تھا۔ یہ لوگ حبشہ سے آئے تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کو مسجد حرام میں پایا۔ یہ لوگ حضور ﷺ کے پاس بیٹھے اور آپ ﷺ سے بات کرتے رہے۔ قریش کے کچھ لوگ کعبہ کے اردگرد محافل سجائے بیٹھے تھے۔ جب ان لوگوں کا سوال و جواب ختم ہوا تو حضور ﷺ نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا۔ جب انہوں نے قرآن مجید سنا تو ان کے آنسو جاری ہوگئے۔ انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کرلی ، ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں آپ کے بارے میں جو کچھ لکھا ہوا پایا تھا وہ علامات آپ میں معلوم کرلیں۔ جب یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھ کر جانے لگے تو ابوجہل اور ہشام نے چند دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کی راہ روک لی اور انہوں نے ان لوگوں سے کہا تم کس قدر بدبخت مسافر ہو ، تمہیں تمہارے ملک کے ہم مذہب لوگوں نے بھیجا تھا کہ اس شخص کے بارے میں معلومات لے کر آؤ، تم ابھی اس کے پاس اچھی طرح بیٹھے بھی نہ تھے کہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا اور اس شخص کی تصدیق کردی۔ ہم سمجھتے ہیں تم جیسا احمق اور کوئی سوار نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، ہم تمہارے ساتھ جہالت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہمارا دین ہمارا ہے اور تمہارا دین تمہیں مبارک ہو۔ ہم اپنے آپ کو خیر سے دور نہیں رکھتے “۔ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ وفد نجران کے نصاریٰ کا تھا۔ خدا ہی جانتا ہے کہ یہ وفد نجرانیوں کا تھا یا حبشیوں کا ۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی۔ الذین اتینھم الکتن من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) کہتے ہیں میں نے زھری سے پوچھا کہ یہ آیات کس کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے علماء سے یہ سنتا رہا کہ یہ آیات نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور وہ آیات بھی جو سورت مائدہ میں ہیں۔ ذلک بان منھم قسیسین ورھبانا۔۔۔۔۔۔ فاکتبنا من الشھدین تک ۔ بہرحال یہ آیات جس کے بارے میں بھی نازل ہوئی ہوں ، قرآن ایک واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں کفار جانتے تھے اور اس کا انکار نہ کرتے تھے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ دنیا میں ایسے پاک نفس لوگ بھی ہیں جو قرآن کو سن کر اس کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس سچائی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں جو اس میں ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کے پاس جو سابق کتاب تھی۔ قرآن کی تعلیمات اس کے مطابق ہیں۔ ایسے لوگوں کو کوئی روکنے والا ایمان لانے سے روک بھی نہیں سکتا۔ نہ ان کے اندر کا ان کا نفس امارہ اور نہ بڑائی کا تصور اور گھمنڈ ہے اور ایسے لوگ پھر دوسرا جہلاء کی طرف سے دی جانے والی اذیتوں اور طعنوں کو بھی برداشت کرتے ہیں۔ اور ان ایذاؤں اور اپنی خواہشات نفس کے علی الرغم حق پر جم جاتے ہیں۔ الذین اتینھم ۔۔۔۔۔ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں اس سے قبل کتاب دی گئی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔ اور قرآن کی حقانیت کے دلائل میں سے یہ ایک دلیل ہے ، ورنہ تمام کتابیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ ان کے مضامین باہم ملتے جلتے ہیں جس کو اس کا ابتدائی حصہ دیا گیا وہ اس کے آخری حصہ میں بھی حق پاتا ہے ، مطمئن ہوتا ہے ، ایمان لاتا ہے ، اور جان لیتا ہے کہ یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ واذا یتلی ۔۔۔۔۔۔ قبلہ مسلمین (28: 53) ” جب ان کو سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ واقعی حق ہے ، ہمارے رب کی طرف سے۔ ہم تو پہلے ہی مسلم ہیں “۔ یعنی یہ کلام اس قدر واضح ہے کہ اسے صرف تلاوت کی ضرورت ہے ، جن لوگوں کو پہلے کتاب دی گئی ہے وہ تو دیکھتے ہی معلوم کرلیتے ہیں کہ یہ اسی سرچشمے سے ہے۔ اور اس کا سرچشمہ بھی وہی ہے جس سے سچائی نکلتی ہے۔ جھوٹ وہاں سے نہیں آسکتا۔ ” یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے “۔ اور یہ کہہ ” ہم تو اس سے پہلے سے مسلم تھے “۔ اللہ کے مسلم ہونے کا مفہوم ہے کہ ہم پہلے سے اللہ کے مطیع فرمان تھے۔ یہ لوگ جو اللہ کے مطیع فرمان تھے اور پھر انہوں نے محض سنتے ہی قرآن کی بھی تصدیق کردی۔ اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا (28: 54) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا ، اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی “۔ یہ کہ انہوں نے خالص اسلام پر صبر کیا ، انہوں نے اپنے دل و دماغ کو اسلام کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے ذاتی خواہشات اور ہوائے نفس پر غلبہ پایا اور پہلے دین پر بھی جمے رہے اور دوسرے پر بھی جمے رہے۔ اس لیے ان کو دو مرتبہ اجر دیا جائے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے صبر کیا اور قبول حق کرنے کے بعد جم گئے۔ کسی عقیدے کو قبول کرنے کے بعد جم جانا بہت ہی مشکل کام ہے اور پھر خواہشات نفس ، چاہتوں ، بےراہ روی اور سرکشی کے خلاف جم جانا تو بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور ان لوگوں نے یہ سب کام کیے۔ ان لوگوں نے لوگوں کی علامت کی بھی پرواہ نہ کی۔ اور لوگوں کی طرف سے ایذا رسانی کی پرواہ نہ کی۔ جیسا کہ سابقہ روایات میں ذکر ہوا۔ ویدرءون بالحسنۃ السیئۃ (28: 54) ” اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں “۔ یہ بھی ایک قسم کا صبر ہے۔ اور یہ صبر خالص صبر سے زیادہ پر مشقت ہوتا ہے۔ خالص صبر تو یہ ہے کہ ایذارسانی اور مذاق پر صبر کیا جائے۔ برائی پر صبر بہت مشکل ہے۔ نفسانی غرور کو صرف اسی طرح قابو میں لایا جاسکتا ہے کیونکہ نفس چاہتا ہے کہ مزاح اور ایذا رسانی کا جواب دیا جائے ، غصہ کیا جائے اور انتقام لے کر دل کو ٹھنڈا کیا جائے اور پھر ایذا پر صبر کرنے کے بعد دوسرا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ایذا کے بدلے میں احسان کیا جائے۔ مزاح کے بدلے میں نرمی اور ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کیا جائے اور پھر بدروی کے مقابلے میں اچھا رویہ اختیار کرنا اور برائی کے بدلے احسان کرنا صرف ان لوگوں کا کام ہے جو بھلائی اور احسان کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوں۔ یہ مقام صرف اچھے مومن ہی حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ لوگوں سے اذیت پاتے ہیں اور پھر بھی راضی اور مطمئن رہتے ہیں۔ ومما رزقنھم ینفقون (28: 54) ” اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں یہاں ان لوگوں کی قبولیت حق میں کشادہ دلی کے ساتھ ساتھ اتفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں کشادہ دلی کا ذکر بھی کردیا گیا۔ کیونکہ نیکی اور سخاوت ایک ہی سرچشمے سئ نکلنے والی بھلائیاں ہیں اور یہ تب صادر ہوتی ہیں کہ جب انسان اپنی خواہشات نفس پر قابو پالے اور زمینی اقدار کے مقابلے میں اعلیٰ قدروں کو اہمیت دے۔ ان اقدار میں پہلی قدر کا تعلق نفسیات کی دنیا سے ہے اور دوسری کا معیشت سے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بسا اوقات ایمان اور انفاق کا ذکر ایک جگہ آتا ہے۔ ایمان پر صبر کرنے والوں اور خالص عقیدہ اختیار کرنے والوں کی ایک دوسری صفت : واذا سمعوا ۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ، تم کو سلام ہے۔ ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے “۔ لغو کا مطلب فضول باتیں کرنا ہے جن میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ ان کے پیچھے کوئی مقصد ہو۔ یعنی وہ لاحاصل گفتگو جس سے دل و دماغ کے اندر کسی مفید علم و حکمت کا اضافہ نہ ہو۔ یعنی وہ گری ہوئی باتیں جن سے احساس و شعور میں اور زبان و کلام میں گندگی اور برائی کا اضافہ ہو۔ چاہے وہ کسی کے ساتھ مکالمے کی صورت میں ہوں یا کسی غائب شخص کے واقعات نقل کرتے ہوئے ہوں۔ مومن دل کبھی بھی اس قسم کی لغو باتوں میں مشغول نہیں ہوتے۔ نہ وہ لغو باتیں سنتے ہیں کیونکہ ان کے پیش نظر بلند وبالا امور ہوتے ہیں ، پاکیزہ اور نورانی باتیں۔ واذا سمعوا اللغو اعرضوا عنہ (28: 55) ” انہوں نے جب بیہودہ بات سنی تو کنارہ کش ہوگئے “۔ لیکن وہ اہل لغو پر نہ غصہ ہوتے ہیں ، نہ ان سے الجھتے ہیں کہ زبردستی منع کردیں اور نہ وہ ان کے ساتھ بحث شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ اہل لغو کے ساتھ الجھنا بھی ایک طرح کا لغوا مر ہے۔ وہ بس ان کو چھوڑ کر علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ وقالوا لنا ۔۔۔۔۔ سلم علیکم (28: 55) ” اور کہا ہمارے اعمال ہمارے لئے ، اور تمہارے اعمال تم کو سلام ہے “ نہایت ادب سے ، دعائے خیر کے ساتھ ، اس خواہش کے ساتھ کہ وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں۔ لیکن یہ خواہش رکھتے ہوئے بھی یہ ان کے لغو میں شریک نہیں ہوتے۔ لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرتے “۔ اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ اپنا قیمتی وقت ان کے ساتھ ضائع کریں۔ نہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے لغو میں شریک ہوں اور خاموشی سے سنتے رہیں۔ ایسی رواداری کے بھی قائل نہیں۔ یہ ایک روشن نفس کی تصویر ہے جو نفس مومنہ ہے ، اپنے ایمان پر مطمئن ہے۔ لغو سے بالا و برتر ہے۔ لیکن کشادہ دل اور کشادہ دست ہے ۔ یہ نفس مومنہ ان لوگوں کے لیے رسم و راہ مقرر کرتی ہے جو صحیح راستہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا جاہلوں کے ساتھ جاہلیت میں اشتراک بھی نہیں ۔ ان کے ساتھ مخاصمت بھی نہیں ، ان پر غصہ بھی نہیں ، ان کے ساتھ ترش روئی بھی نہیں بلکہ سنجیدگی ، سربلندی ، کشادہ دلی اور برائی کرنے والے کے ساتھ بھی نیکی اور بھلائی۔ یہ اہل کتاب ، جو ایمان لائے ، ان کے ایمان لانے میں رسول اللہ ﷺ کو کوئی بڑا مجاہدہ کرنا نہیں پڑا۔ آپ نے صرف قرآن کی تلاوت فرمائی ، بس چند سوالات کیے اور ایمان قبول کرلیا جبکہ وہ خود اپنی قوم کے ساتھ آپ رات دن سالوں تک مجاہدہ کرتے رہے۔ پھر اپنے محبوب رشتہ داروں کے ساتھ تو بہت ہی محنت کرتے رہے۔ لیکن ان لوگوں کو ایمان نصیب نہ ہوا ۔ یہ بات حضور ﷺ خود جانتے تھے کہ آپ ﷺ کے اختیار میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ اپنے محبوبوں کو ہدایت دے دیں۔ اللہ تعالیٰ تو صرف ان لوگوں کو ہدایت عطا کرتا ہے جن کے نفس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ مستحق ہیں اور ایمان کے لیے تیار ہیں۔
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، تم جسے چاہو ، اسے ہدایت نہیں دے سکتے ، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ، ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں

انک لا تھدی ۔۔۔۔۔ وھو اعلم بلمھتدین (56) صحیحین میں وارد ہے کہ یہ آیت نبی ﷺ کے چچا ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔ یہ نبی ﷺ کے حامی و مددگار تھے اور قریش کے مقابلے میں آپ کے دفاع کے لیے بنیان مرصوص بنے ہوئے تھے۔ یہ آپ ﷺ کے اس قدر حامی تھے کہ ان کی حمایت کی وجہ سے آپ آزادانہ دعوت دے سکتے تھے۔ اس حمایت کی وجہ سے قریش نے ان کو اور پورے بنی ہاشم کا مقاطعہ کیا تھا ، اور ان کو شعب ابو طالب میں محصور کردیا۔ یہ سب کام وہ اپنے بھیجتے کی محبت میں کرتے تھے اور قوی حمیت اور عزت و آبرو کو بچانے کے لیے کرتے تھے جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو نبی ﷺ نے آپ کو دعوت ایمان دی اور عرض کیا کہ آپ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ لیکن اللہ نے ان کے حق میں ایمان نہ لکھا تھا کیونکہ اس کا حقیقی علم اور اصلی سبب اللہ کو معلوم تھا۔ زھری اور سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے تو ابوجہل ابن ہشام ان کے پاس بیٹھا تھا۔ عبد اللہ ابن امیہ بھی تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے چچا ، صرف لا الٰہ اللہ کہہ دیں۔ میں اللہ کے ساتھ اس پر تمہارے لیے جھگڑلوں گا۔ ابوجہل اور عبد اللہ ابن امیہ نے کہا ابو طالب تم عبد المطلب کی ملت کو چھوڑ رہے ہو ، رسول اللہ بار بار ان پر یہ پیش فرماتے تھے اور یہ دونوں بار بار اسے روکتے تھے۔ اور یہی بات دہراتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آخری الفاظ یہ کہے ” عبد المطلب کے دین پر “۔ اور لا الٰہ الا اللہ کہنے سے انکار کردیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا واللہ (خدا کی قسم) میں تمہارے لیے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا جب تک مجھے منع نہ کردیا جائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ما کان للنبی والذین ۔۔۔۔۔۔ اولی قربی اور ابو طالب ہی کے حق میں نازل ہوئی۔ انک لا تھدی ۔۔۔۔۔ من یشاء (28: 56) (صحیحین) مسلم اور ترمذی نے ، ابو حازم اور ابوہریرہ کی روایت نقل کی کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا۔ تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس پہنچے اور کہا ” اے چچا کہہ دو ” لا الٰہ الا اللہ “۔ میں قیامت میں تمہارے حق میں شہادت دوں گا۔ انہوں نے کہا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قریش مجھے طعنہ دیں کہ سکرات الموت کی تکلیف کی وجہ سے اس نے یہ کہہ دیا تو میں ضرور یہ کلمہ پڑھ دیتا ، تیری آنکھوں کی ٹھنڈک کی وجہ سے۔ میں یہ کلمہ صرف تیری آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پڑھتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ انک لا تھدی۔۔۔۔۔۔۔ اعلم بالمھتدین (28: 56) ” تم ہدایت نہیں دے سکتے جسے تم محبوب سمجھو ، یہ اللہ ہے جسے چاہتا ہے ، ہدایت دیتا ہے۔ وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے “۔ اور حضرت ابن عباس ؓ اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے اور مجاہد ، شعبی اور قتادہ کی بھی یہی رائے ہے کہ یہ ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ اور انہوں نے جو آخری لفظ کہے وہ تھے علی ملۃ عبد المطلب۔ انسان جب اس حدیث پر غور کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کس قدر پختہ اور سیدھا دین ہے۔ ابو طالب رسول اللہ ﷺ کے حقیقی چچا ، آپ ﷺ کے کفیل ، حامی اور آپ ﷺ کا دفاع کرنے والے تھے۔ لیکن اللہ نے انہیں ایمان نصیب نہ کیا۔ باوجود اس کے کہ رسول اللہ کو ان سے بہت زیادہ محبت تھی اور آپ ﷺ حد سے زیادہ خواہش مند تھے کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ابو طالب نے رشتے اور قومی حمیت کو ایمان سے زیادہ اہمیت دی۔ اللہ کو اس بات کا علم تھا اور اللہ کو اس بات کا خوب علم تھا کہ حضور اکرم ﷺ ان سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ شاید وہ ایمان لے آئیں۔ اس لیے اللہ نے ہدایت نہ دینے کا اختیار حضور ﷺ کے اختیارات ہی سے خارج کردیا۔ ہدایت دینا یا نہ دینا صرف اللہ الٰہ العالمین کے اختیار میں ہے اور رسول کی ڈیوٹی صرف تبلیغ تک محدود ہے۔ لہٰذا داعیوں کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ دعوت دیں۔ دعوت کے بعد پھر لوگوں کے دلوں میں تصرف کرنا اللہ کا کام ہے۔ لوگوں کے دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ اللہ لوگوں کو ہدایت دیتا ہے ، یا گمراہ کرتا ہے۔ یہ فیصلے لوگوں کے دلوں کے حالات کے مطابق ہوتے ہیں اور ان کے شخصی استعداد پر ہوتے ہیں اور اس بارے میں علم صرف اللہ کو ہے۔ اب قرآن مجید ان کے اس خدشے پر تبصرہ کرتا ہے جس کا اظہار وہ کرتے رہتے تھے کہ اگر ہم نے حضرت محمد ﷺ کا اتباع کیا تو قبائل عرب پر اہل قریش کو قیادت و سیادت کا جو منصب حاصل ہے ، وہ جاتا رہے گا۔ یہ لوگ خانہ کعبہ کی تعظیم کرتے ہیں۔ خانہ کعبہ کے مجاوروں یعنی اہل قریش کی اطاعت کرتے ہیں ، خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کی تعظیم کرتے ہیں اس لیے یہ قبائل انہیں اچک لیں گے۔ یا جزیرۃ العرب سے باہر کا کوئی دشمن ان پر فتح پالے گا اور یہ قبائل ایسے دشمن کی تایت کریں گے ، چناچہ کہا جاتا ہے کہ خوف و امن کا سرچشمہ ذات باری ہے۔ فرعون بھی بظاہر بہت بڑی قوت کا حامل تھا۔ ہلاکت کا حقیقی سبب تو دنیا پرستی ، دولت پرستی ، اللہ کی آیات اور اللہ کے رسولوں کی تکذیب ہے۔ اور ھق سے منہ موڑنا ہے۔ حق کو قبول کرنا ، ہلاکت کا سبب کبھی نہیں ہوا۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ہلاک وہ اقوام ہوا کرتی ہیں جن کے پیش نظر صرف دنیا کے مفادات ہوتے ہیں ، حالانکہ متاع دنیا ایک حقیر چیز ہے ، انسان کا اصل فائدہ آخرت میں ہے اور وہ اللہ کے پاس ہے۔