28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 28:57–61

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں ” اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پر امن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں ، ہماری طرف سے رزق کے طور پر ؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو ، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے ؛ آخر کار ہم ہی وارث ہوکر رہے

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے۔

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے۔ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو ، کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روزسزا کیلئے پیش کیا جانے والا ہو ؟

یہ اہل مکہ کا ایک سطحی اور دنیاوی نقطہ نظر تھا۔ قریش کو اسی دنیا پرستی کے نقطہ نظر نے ڈر میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر ہم نے اس جدید تحریک کو قبول کیا تو نقصان ہوگا۔ دشمن حملہ آور ہوجائیں گے اور معاون و مددگار حمایت سے ہاتھ اٹھالیں گے اور ہم مالی لحاظ سے کمزور اور بدحال ہوجائیں گے۔ وقالوا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ یہ لوگ اس بات کے منکر نہیں تھے کہ حضرت پیغمبر ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ہیں وہ حقیقی راہ ہدایت ہے۔ لیکن انہیں ڈر یہ تھا کہ مکہ کے اردگرد کے لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے دراصل ان کی نظروں میں صرف دنیا کی قوت ہی تھی۔ ذات باری اور اللہ وحدہ کی قوت کو انہوں نے بھلا دیا تھا۔ حالانکہ حقیقی محافظ تو اللہ ہے۔ حقیقی بچانے والا تو وہی ہے۔ اگر وہ اللہ کی حمایت میں آجاتے ہیں تو پوری کائنات کی قوتیں ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ اور اگر اللہ ان کو ذلیل و خوار کرنا چاہے تو دنیا کی پوری قوتیں بھی ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتیں۔ ان کا یہ نقطہ نظر اس لیے تھا کہ ایمان ان کے دلوں کی تہہ تک ابھی نہ اترا تھا۔ اگر اترا ہوتا تو حقیقی قوت کے بارے میں ان کا نقطہ نظر یہ نہ ہوتا۔ وہ معاملات کا اندازہ یوں نہ کرتے۔ اور ان کو یہ یقین ہوجاتا کہ امن تو اللہ کے جوار رحمت میں ہے اور خوف اور خطرات تو اللہ سے دوری کی راہ میں ہیں اور یہ کہ تحریک اسلامی میں شامل ہونا دراصل قوت اور عزت سے وابستہ ہونا ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا حقیقی سرچشمہ قوت ہونا محض طفل تسلی نہیں ہے ، نہ کوئی وہم ہے۔ بلکہ ایک سائنٹیفک حقیقت ہے ، اس لیے کہ اللہ کا اتباع کرنا دراصل اس کائنات کے قانون قدرت کا اتباع ہے۔ اس طرح انسان اور کائنات کی قوتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ یوں انسان کی پشت پر پوری تکوینی قوتیں جمع ہوجاتی ہیں۔ اس لیے کہ اس کائنات کا خالق اور مدبر بھی اللہ ہے اور اسلامی دین کا بھیجنے والا بھی وہی ہے اور جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے وہ اللہ کی تمام قوتوں کو کام میں لاتا ہے اور اس کائنات کی قوتیں لا محدود ہیں۔ ایسا شخص گویا ایک عظیم سرچشمہ قوت ہے مربوط ہوجاتا اور اس کا وارث بن جاتا ہے۔ اور یہ ہے ایک تاریخی حقیقت اور پوری زندگی کے تجربوں سے ثابت شدہ حقیقت۔ اللہ کی ہدایات ہی زندگی کا صحیح منہاج ہیں۔ ان کے مطابق زندگی گزارنا ہی اس کرہ ارض کی حقیقی زندگی ہے اور جب دنیا میں اسلامی نظام اور اسلامی منہاج حیات رائج اور قائم ہوجاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اخروی فلاح اور دنیا میں شوکت نصیب ہوتی ہے۔ اور اس نظام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دنیا اور آخرت کے درمیان کوئی دوئی نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ فلاح اخری تب ہی حاصل ہو سکتی ہے کہ اس دنیا کے نظام کو معطل کردیا جائے یا اسے پس پردہ ڈال دیا جائے۔ اسلامی منہاج حیات میں دنیا آخرت دونوں باہم مربوط اور باندھے ہوئے ہیں۔ اسلام کیا ہے ، دل مومن کی اصلاح ، انسانی سوسائٹی کی اصلاح اور اس کرہ ارض پر اجتماعی نظام کی اصلاح۔ یہی وجہ ہے کہ اس سوچ کے مطابق دنیا آخرت کے جہاں میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔ یہ دنیا آخرت کے لئے مزرعہ ہے ، کھیت ہے۔ اس دنیا میں جنت کی تعمیر ہی دراصل وسیلہ ہے آخرت میں تعمیر جنت کا ، اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنے کا بشرطیکہ یہ کام اسلامی ہدایت اور اسلامی شریعت کے مطابق کیا جائے اور دنیا کی تمام تعمیر میں رضائے الٰہی مطلوب ہو۔ انسانی تاریخ کا تجزیہ شاہد ہے کہ جب بھی کسی جماعت نے اللہ کی ہدایت کا جھنڈا اٹھایا ہے ، اللہ نے اسے قوت ، شوکت اور دنیا کی قیادت دی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ جماعت اپنے آپ کو اس امانت کے اٹھانے کیلئے تیار کرے ، اس کی اہل ہوجائے اور جان لو کہ یہ امانت ، امانت خلافت ارضی ہے۔ یعنی اس دنیا میں تمام قوتوں پر کنڑول اور زندگی کے نشیب و فراز پر کنڑول۔ اکثر لوگ اتباع شریعت اور اللہ کی ہدایت پر چلنے سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے دشمنوں کی عداوت اور ان کی مکاریوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ کے دشمن ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ یہ لوگ اقتصادی تکالیف اور اقتصادی پابندیوں سے بھی ڈرتے ہیں۔ یہ اسی قسم کے اوہام ہیں جس طرح قریش کو یہ اوہام لاحق تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ لیکن جب انہوں نے اس ہدایت کو سینے سے لگا لیا تو وہ مشرق و مغرب پر قابض ہوگئے اور یہ قبضہ صرف 25 سال کے عرصے میں مکمل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عذر لنگ کی اسی وقت تردید کردی تھی کہ وہ کون ہے جس نے ان کو مکہ میں امن عطا کیا ہے۔ وہ کون ہے جس نے ان کے لیے مکہ کو بیت الحرام قرار دیا۔ وہ کون ہے جو تمام دنیا کے لوگوں کے دل مکہ کی طرف مائل کرتا ہے اور وہ دنیا کے تمام ثمرات لے کر وہاں حاضر ہوتے ہیں۔ تمام دنیا سے جمع ہوکر حرم میں آتے ہیں حالانکہ ان کے ملک مختلف ہیں اور ان کی عیدیں مختلف ہیں۔ اولم نمکن لھم ۔۔۔۔۔۔ من لدنا ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پر امن حرم کو ان کیلئے جائے قیام بنایا جس کی طرف ہر قدم کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں ، ہماری طرف سے رزق کے طور پر “۔ پھر وہ کیوں ڈرتے ہیں کہ لوگ ان کو اچک لیں گے۔ اگر انہوں نے اللہ کی ہدایت کو قبول کرلیا۔ حالانکہ اس حرم کو جائے امن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے اللہ ہی نے تو بنایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ نافرمان ہونے کے باوجود ان لوگوں کو کس نے یہ پرامن ماحول دیا ہے ؟ اور اگر وہ فرمان بردار ہوجائیں تو اللہ ان کے لوگوں کے حوالے کر دے گا کہ ان کی زمین سے وہ ان کو اچک کرلے جائیں۔ یہ کس طرح معقول ہو سکتا ہے ؟ ولکن اکثرھم لا یعلمون (28: 58) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ مانتے نہیں “۔ وہ نہیں جانتے کہ امن کہاں سے ملتا ہے اور خوف کہاں سے ملتا ہے۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ دراصل تمام امو راللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اگر وہ بدامنی اور خوف سے بچنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ وہ ہلاکت اور بربادی سے دو چار ہوں تو بربادی کے اسباب یہ ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ ان سے بچیں۔ وکم اھلکنا من قریۃ ۔۔۔۔۔۔ الوارثین (28: 58) ” اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو ، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے ، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ انعامات خداوندی پر اترانا ، اور ان کا شکر ادا نہ کرنا دراصل بستیوں کی ہلاکت کا حقیقی سبب رہا ہے۔ اہل قریش کو بھی شکر ادا کریں ورنہ ان کی ہلاکت بھی یقینی ہوگی جیسا کہ ان بستیوں پر اللہ کی ہلاکت آئی جن کے بارے میں خوب جانتے ہیں۔ اور اہل قریش رات دن ان بستیوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ برباد پڑی ہیں اور اس بربادی کے بعد کوئی بھی آکر ان میں بسا تک نہیں۔ ان کے کھنڈرات موجود ہیں۔ لم تسکن من بعدھم الا قلیلا (28: 58) ” جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے “۔ یہ بستیاں صاف صاف نظر آتی ہیں اور اپنے باسیوں کی کہانی سنا رہی ہیں۔ اور یہ کہانی سنا رہی ہیں کہ اللہ کے انعامات پر یعنی محض معاشی ترقی پر اترانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ان کے باشندے اس طرح فنا ہوئے کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ کوئی ان کا وارث نہ ہوا۔ وکنا نحن الوارثین (28: 58) ” آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ لیکن ان کے اس اترانے اور سرکشی کے باوجود اللہ نے ان کو تب ہلاک کیا جب ان بستیوں کے مرکزی مقامات پر رسول بھیجے ، کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے اور اس سنت کو اللہ نے انسانوں پر مہربانی کرتے ہوئے اپنے اوپر لازم کردیا ہے۔ وما کان ربک ۔۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (59:28) ” اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات نہ سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے “۔ رسولوں کو بستیوں کے مرکزی مقامات میں اس لیے بھیجا گیا کہ یہ مرکزی مقامات مراکز تبلیغ ہوں اور ان سے پیغام الٰہی اطراف واکناف میں نشر ہو ، تاکہ کوئی یہ کہہ نہ سکے ان تک تو پیغام نہیں پہنچا۔ رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں بھیجا گیا کیونکہ یہ عربوں کا ام القریٰ تھا۔ اور آپ کا فریضہتھا کہ آپ اردگرد کے تمام لوگوں کو ان اقوام کے انجام سے خبردار کریں جن کے پاس رسول آئے اور انہوں نے نہ مانا اور ظلم کیا ۔ وما کنا مھل کی ۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (58:28) ” ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے تھے “۔ وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے حا لان کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ حق ہیں۔ نیز یہ کہ زندگی کا پوراپورا سامان اور دنیا کی پوری دولت اور متاع ، اور وہ تمام خزانے جو زمین کے اندر ودیعت ہیں اور وہ پیداواریں تو انسانوں کو اس کرئہ ارض پر دی گئیں ۔ اور وہ تمام چیزیں جو تمام انسانوں کے لیے اس جہاں میں پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں اللہ کے ہاں جنتوں میں تیار کردہ سازوسامان کے مقابلے میں ایک حقیر چیز ہیں ۔ وما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ افلا تعلمون (60:28) ” تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ، وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے ۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یہ آخری حساب ہے ۔ صرف اس سا زو سامان کا نہیں جس کے فوت ہونے کا انہیں ڈر لاحق تھا۔ یعنی سامان زیست ، امن اور زمین کا۔ یہ حساب صرف اقتدار ، ہر قسم کی پیداواروں اور امن وامان ہی کا نہیں جس کا احسان اللہ نے ان کو جتوایا ، صرف ان بستیوں کا حساب نہیں جنہیں اللہ نے ہلاک کیا ، محض اس لیے کہ وہ اپنی معیشت پر اترا رہی تھیں ، بلکہ یہ حساب ہے اس تمام سامان زندگی کا جس کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ دنیا کا پورا سازو سامان ، مکمل سازوسامان اور دائمہ سازوسامان جس کے بعد کوئی ہلاکت اور بربادی بھی نہ ہو اور اس سے پوری طرح اور مکمل طور پر استفادہ بھی کیا گیا ہو ، یہ سب سازوسامان اللہ کے ہاں پائے جانے والے اور ہمیشہ باقی رہنے والے متاع کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے وہ خیر ہے یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اور باقی رہنے والا ہے یعنی مدت کے اعتبار سے۔ افلا تعقلون (28: 60) ” کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یعنی اس دنیا وہ سازوسامان اور اخروی سازوسامان کے درمیان فرق وہی شخص کرسکتا ہے جو دنیا و آخرت کی حقیقت کو سمجھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آخری تعقیب نہایت ہی ایسے الفاظ میں آتی ہے جن میں عقل سے کام نہ لینے پر سرزنش کی گئی ہے کیونکہ عقل سے کام لینا ہر شخص کے اختیار میں ہے۔ آخر میں دنیا اور آخرت دونوں کا تقابل پیش کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ ان میں سے اپنے لیے جسے چاہیں پسند کرلیں۔ افمن وعدنہ وعدا ۔۔۔۔۔۔ من المحضرین (28: 61) ” بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو ، کبھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو ؟ “۔ ایک طرف وہ شخص ہے جس کے ساتھ اچھا وعدہ ہے اور وہ اسے قیامت کے دن پانے والا ہے اور دوسرا شخص وہ ہے جسے دنیا کا سازوسامان دیا گیا ہے اور وہ یہ مختصر زندگی میں اس حقیر سامان کو برت لیتا ہے۔ اور پھر اسے قیامت کے دن زبردستی حساب کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس کے لیے ” مضرقین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی گرفتار کرکے حاضر کیا جاتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کی وہاں خواہش یہ ہوگی کہ ان کو حساب کے لیے نہ لایا جائے کیونکہ حساب کے بعد تو ان کے لیے عذاب حاضر ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ایمان لے آئیں تو ہمیں اپنی زمین سے اچک لیاجائے گا اور اب ان کو اس طرح جواب دیا جاتا ہے کہ اگر تمہیں اچک بھی لیا جائے اور تم دنیا کے تمام سازہ سامان سے محروم بھی کردیئے جاؤ تو بھی یہ گھاٹا نہ ہوگا ، کیونکہ یہ محرومیت اس مصیبت سے ہلکی ہے کہ تمہیں گرفتار کرکے لایا جائے لیکن ایسی صورت بھی نہ ہوگی کیونکہ حضور اکرم ؐ کے متبعین تو دنیا بھی امن اور اقتدار اعلیٰ کے مالک رہیں گے اور آخرت میں تو ان کو بہت بڑی عطا اور بڑا امن وامان ہوگا ۔ لہٰذا اللہ کی ہدایت سے منہ وہی لوگ موڑتے ہیں جو بہت ہی غافل اور احمق ہیں ۔ اور وہ عقل کو کام میں لاکر اس کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کی سعی نہیں کرتے ۔ ایسے لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ خوف کا سبب کیا ہے اور امن کا سر چشمہ کیا ہے ۔ اور یہی لوگ بڑے خسارے والے ہیں جو اپنی قوت اختیار کو اچھی طرح استعمال نہیں کرتے اور اپنے آپ کو دائمی ہلاکت سے نہیں بچاتے ۔
Ayahs 28:62–67

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور (بھول نہ جائیں یہ لوگ ) اس دن کو جب کہ وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا ” کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے ؟

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

یہ قول جن پر چسپاں ہوگا وہ کہیں گے ” اے ہمارے رب ، بیشک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ انہیں ہم نے اسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ۔ ہم آپ کے سامنے برات کا اظہار کرتے ہیں ۔ یہ ہماری توبندگی نہیں کرتے تھے

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ پکار دواب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکون کو یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور (فراموش نہ کریں یہ لوگ ) وہ دن جب کہ وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ ” جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا ؟

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

اس وقت کوئی جواب ان کو نہ سوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ ہی سکیں گے

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

البتہ جس نے آج تو بہ کرلی اور ایمان لے آیہ اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا

اب قیامت کے مناظر جس میں ان لوگوں سے یوں سوال و جواب ہوگا اور اس سے اندازہ ہوگا کہ وہاں ان کی حالت زار کیسی ہوگی ۔ ویوم ینادھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون من المفلحین (62 – 67) پہلاسوال تو سرزنش کے لیے ہوگا اور اس سے محض ان کو شر مندہ کرنا مطلوب ہوگا۔ این شرکاءی الذین کنتم تزعمون (28: 62) ” کہاں ہیں وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے “۔ اللہ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس دن اس قسم کے کسی شریک کا وجود نہ ہوگا ۔ اور اس دن ان کے متبعین کو بھی کچھ پتہ نہ ہوگا کہ ان شرکاء کا کوئی وجود ہے یا نہیں ۔ نہ یہ لوگ ان شرکاء تک پہنچ سکیں گے ۔ یہ سوال دراصل ان لوگوں کو مجمع عام میں شرمندہ کرنے اور سرزنش کرنے کے لیے کیا جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ جن کے متعلق یہ سوال کیا گیا وہ یہاں جواب نہیں دیتے کیونکہ یہ سوال جواب طلب ہی نہیں ہے بلکہ وہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے جو متبعین گمراہ ہوئے اور ان کی پیروی اختیار کی ان کے اس جرم سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیں ۔ جیسا کہ کبراء قریش لوگوں کو گمراہی پر آمادہ کرتے تھے اور ان کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے ۔ اسلیے ان کا جواب یوں ہوگا ربنا ھولاء الذین ۔۔۔۔۔۔۔ یعبدون (28: 63) ” اے ہمارے رب ، بیشک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ۔ انہیں ہم نے اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے ۔ ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں ۔ یہ ہماری کوئی بندگی نہ کرتے تھے “۔ ہمارے رب ہم نے ان کو زبر دستی گمراہ نہیں کیا ۔ ان کے دل دماغ پر ہمیں کوئی کنٹر ول حاصل نہ تھا ۔ یہ لوگ اپنی مرضی اور آزادانہ اختیار سے گمراہی میں پڑے جیسا کہ ہم خود بغیر کسی مجبوری کے گمراہی میں پڑے ۔ تبرانا الیک (28: 63) ” ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں “ کہ ہم نے ان کو گمراہ کیا ہے ۔ ما کانوا ایانا یعبدون (28: 63) ” یہ ہماری بندگی تو نہ کرتے تھے “۔ بلکہ یہ بتوں ، آستانوں اور دوسری مخلوقات کی بندگی کرتے تھے۔ ہم نے ان سے یہ نہ کہا تھا کہ ہم تمہارے الٰہ ہیں ، اور نہ وہ وہاں ہماری عبادت کرتے تھے۔ اب ان کو اس مقام شرمندگی کی طرف لایا جا رہا ہے جس کی طرف وہ بات کا رخ کرنا نہیں چاہتے جس سے وہ بات کر پھیر کر دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں یعنی وہ شرکاء جو ان لوگوں کو اللہ کے سوا پکڑے ہوئے تھے۔ وقیل ادعوا شرکآء کم (28: 64) ” پھر کہا جائے گا کہ پکارو ، ان ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو “۔ یعنی ان کو پکارو ، اور ان کی سیرت سے بہ بھاگو ، ان کو پکارو کہ وہ اب تمہیں تمہاری پکار کو پہنچیں۔ تمہیں اس مصیبت سے چھڑائیں ، ان کو پکارو کہ آج دن ہے ان کے کام کرنے کا۔ یہی تو ان کا فائدہ تھا۔ یہ بدبخت لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان شرکاء کو آج پکارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، لیکن بامر مجبوری وہ احکام الہیہ کو بچا لائیں گے۔ فدعوھم فلم یستجیبو الھم (28: 64) ” یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے “۔ ان شرکاء سے یہی توقع تھی کہ وہ کوئی جواب نہ دیں گے۔ البتہ آواز اس لیے دلوائی جائے گی تاکہ یہ پکارنے والے اچھی اطرح ذلیل ہوں۔ ورآوا العذاب (28: 64) ” اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے “۔ یعنی اس بحث و مباحثے کے درمیان ہی عذاب دیکھ لیں گے۔ یہ اس عذاب ہی کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور عذاب ان کو نظر آجائے گا۔ اس ذلیل کرنے والے منظر کے بعد پھر اسی عذاب کا منظر ہوگا۔ یہ شرمسار کنندہ منظر جب اپنی انتہاؤں پر ہوتا ہے تو اچانک ان پر وہ ہدایت پیش کردی جاتی ہے کہ کاش تم اسے قبول کرلیتے۔ اس برے حال میں یہ لوگ یہی آرزو کرتے ہوں گے کہ اے کاش کہ وہ ایسا کرتے ، دنیا میں تو یہ ہدایت ان کے دسترس میں تھی اور اگر وہ لبیک کہہ کر اسے قبول کرلیتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔ لو انھم کانوا یھتدون (28: 64) ” کاش وہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے “۔ اب سیاق کلام انہیں اس کربناک منظر کی طرف لے جاتا ہے۔ ویوم ینادھم فیقول ماذا اجبتم المرسلین (28: 65) ” اور وہ دن جب وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا ؟ “ اور اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ لیکن یہ باز پرس محض ذلیل اور شرمسار کرنے کیلئے ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں وہ خاموش ہوں گے بلکہ مدہوش کھڑے ہوں گے۔ اس لیے کہ وہ سخت کرب میں مبتلا ہوں گے اور ان کو سمجھ میں نہ آ رہا ہوگا کہ وہ کیا جواب دیں۔ فعمیت علیھم ۔۔۔۔۔ لا یتسائلون (28: 66) ” اس وقت کوئی جواب ان کو نہ سوجھے گا اور نہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے “۔ انداز گفتگو اس منظر میں لوگوں کی ایسی تصویر کھینچتا ہے کہ گویا وہ اندھے ہیں۔ گویا ” خبریں “ اندھی ہوگئی ہیں اور وہ ان تک پہنچ نہیں پاتیں۔ جس طرح اندھا آدمی کسی جگہ نہیں پہنچ جاتا۔ وہ کچھ نہیں جانتے۔ نہ پوچھ سکتے ہیں ، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ مدہوشی کی سی حالت میں کھڑے ہیں۔ فاما من تاب ۔۔۔۔۔ من المفلحین (28: 67) ” البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا ؟ “ یہ صفحہ بالمقابل ہے ۔ جب غم اور تکلیف مشرکین کے لیے عروج پر ہوگی ، اس وقت توبہ کرنے والوں ، ایمان لانے والوں اور عمل کرنے والوں کے لئے ایسی فلاح ہوگی۔ اس لیے اے لوگو ! یہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ، ابھی تمہارے سامنے کھلا وقت ہے ، بہتر ہے کہ اسے اختیار کرلو۔
Ayahs 28:68–70

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے) منتخب کرلیتا ہے ، یہ انتخاب ان لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ اللہ پاک ہے اور بہت بالا تر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

تیرا رب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ اسی کیلئے حمد ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، فرماں روائی اس کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو

اب ہر امر اور ہر چیز کو نتیجہ ارادہ الٰہی قرار دیا جاتا ہے ، کیونکہ وہی ذات ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اول میں بھی آخر میں بھی۔ دنیا میں بھی وہی قابل تعریف ہے اور آخرت میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔ دنیا میں بھی اس کا حکم چلتا ہے اور آخرت بھی اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ لوگوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خود کوئی فیصلہ کرسکیں نہ دوسروں کے بارے میں یہاں کوئی انسان کوئی فیصلہ کرسکتا ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے ، تخلیق کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، اختیار کرلیتا ہے۔ وربک یخلق ۔۔۔۔۔۔ والیہ ترجعون (68: 70) ” ۔ ۔ “۔ یہ تبصرہ ان لوگوں کے اس ریمارکس کے بعد آیا ہے کہ اگر ہم نے ہدایت کو قبول کرلیا تو ہم اپنی زمین سے اچک لے جائیں گے۔ اسی قول کے بعد یوم الحساب کا ایک منظر پیش کیا گیا اور اس میں مشرکین کے موقف کو پیش کیا گیا۔ اب اس دوسرے تبصرے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کا اختیار تو خود ان کے نفوس کے بارے میں بھی نہیں ہے کہ وہ ازخود امن اور خوف کا کوئی راستہ اپنے لیے اختیار کریں۔ اس لیے اللہ کی وحدانیت کے اختیارات کی وجہ سے آخر کار تمام امور میں اللہ ہی موثر ہے۔ وربک یخلق ما یشآء ویختار ما کان لھم الخیرۃ (28: 68) ” اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور منتخب کرلیتا ہے اور یہ انتخاب ان لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے “۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جسے بسا اوقات لوگ بھال دیتے ہیں یا اس کے بعض پہلوؤں کو لوگ بھلا دیتے ہیں کہ اللہ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے۔ کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ کے کاموں کے سلسلے میں کچھ تجاویز دے یا اللہ کی تخلیق میں ۔۔۔۔ اضافہ کرے یا اس کی تخلیق میں تغیر و تبدل کرے۔ وہ اپنی مخلوق میں سے مختلف چیزوں کو مختلف فرائض کے لیے اختیار کرلیتا ہے۔ مختلف مقامات میں مختلف چیزیں اپنا فریضہ ادا کرتی ہیں۔ اس لیے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اللہ کے سامنے کسی شخص کو تجویز کرے ، کسی حادثہ کی تجویز کرے ، کسی حرکت ، کسی بات اور کسی فعل کی تجویز کرے۔ اور نہ ایسا کام اختیار کرنے کا اللہ نے کسی کو اختیار دیا ہے۔ نہ اپنے نفسوں کے بارے میں اور نہ دوسروں کے بارے میں۔ غرض تمام امور کے فیصلے اللہ کرتا ہے ، چھوٹے ہوں یا بڑے۔ اگر لوگوں کے دل و دماغ میں صرف یہ ایک حقیقت بیٹھ جائے تو لوگوں پر جو مصائب آتے ہیں وہ ان کی وجہ سے ہرگز پریشان نہ ہوں ، یا ان کی اپنی وجہ سے ان کو جو تکلیف پہنچتی ہے اس کی وجہ سے بھی وہ پریشان نہ ہوں ، نہ وہ اس چیز کی وجہ سے پریشان ہوں جو ان کے ہاتھوں سے نکل گئی یا وہ محروم ہوگئے کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ ہی ہے جو واقعات کا انتخاب کرتا ہے اور اس کو اختیارات ہیں۔ لیکن اس کا مفہوم یہ بھی نہیں ہے کہ لوگ اپنی عقل کو معطل کردیں ، اداروں کو موقوف کردیں اور سرگرمیاں چھوڑ کر ٹھنڈے ہوکر بیٹھ جائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان غوروفکر کرکے ، اچھی سوچ کے بعد پوری جدوجہد کرے اور اپنی پوری قوت استعمال کرتے ہوئے ایک کام کرے اور اس کے بعد جو نتائج ہوں ، ان کو اللہ پر چھوڑ دے۔ نتائج کو تسلیم ورضا سے قبول کرے۔ کیونکہ اس کے دائرہ قوت میں جو کچھ تھا ، اس نے کرلیا۔ اس کے بعد کے امور اللہ کے لیے ہیں۔ مشرکین اللہ کے ساتھ خود ساختہ الہوں کو بھی شریک کرتے تھے۔ اور ان کو بھی پکارتے تھے۔ حالانکہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور وہی اختیار و انتخاب کرتا ہے۔ اس تخلیق میں کوئی شریک نہیں اور نہ اس کے اختیارات میں کوئی شریک ہے۔ سبحن اللہ و تعلی عما یشرکون (28: 68) ” اللہ پاک ہے ، اور بہت بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔ وربک یعلم ۔۔۔۔۔۔ وما یعلنون (28: 69) ” اور تیرا رب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں “۔ اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں “۔ اس لیے وہ ان کی جن باتوں کو جانتا ہے ، ان پر ان کو سزا دیتا ہے۔ ان کے لیے نتائج وہ منتخب کرتے ہیں ان کے لیے ہدایت و ضلالت کا فیصلہ بھی وہی کرتا ہے۔ وھو اللہ لا الہ الا ھو (28: 70) “ وہ ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ لہٰذا خلق میں یا اختیارات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ لہ الحمد فی الاولی والاخرۃ (28: 70) ” اس کے لیے حمد ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی “۔ اس بات پر کہ وہ کسی کے لیے کیا انجام اختیار کرتا ہے ، کسی کے لئے کیا انعامات تجویز کرتا ہے ، کسی کے لیے کیا حکمت و تدبیر اختیار کرتا ہے ، کسی کے ساتھ کیا انصاف کرتا ہے اور کسی پر کیا رحمت کرتا ہے ۔ حمد و ثنا صرف اسی کے لیے ہے۔ ولہ الحکم (28: 70) ” حکم اس کا ہے “۔ اس لیے وہ اپنے بندوں کے درمان جو فیصلے چاہتا ہے ، کرتا ہے اس کے کسی امر کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے۔ اور نہ اس کے فیصلوں کو کوئی بدل سکتا ہے۔ والیہ ترجعون (28: 70) ” اور اس کی طرف تم سب پلٹ کر جانے والے ہو “۔ اور آخری فیصلہ بھی وہاں اللہ ہی اپنے پورے اختیارات کے ساتھ کرے گا۔ یوں اللہ تعالیٰ یہ شعور اہل ایمان کے گلے میں تعویذ کی طرح باندھ دیتا ہے کہ اس کائنات میں صرف اللہ کا ارادہ چلتا ہے۔ اور یہ بھی سمجھا دیتا ہے کہ اللہ رازوں کو بھی جانتا ہے ، اس سے کوئی چیز خفیہ نہیں ہے۔ سب نے اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس سے کوئی شخص بچ کر نہیں نکل سکتا۔ کس طرح یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کی جرات کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ اس کے قبضے میں ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ اس کے بعد ایک سفر اس پوری کائنات کا بھی کرایا جاتا ہے جس میں یہ لوگ رہتے ہیں لیکن اس کے اندر اللہ کی جو گہری تدبیر و حکمت کام کر رہی ہے اس سے غافل ہیں۔ حالانکہ ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے تمام فیصلے اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس طرح اللہ ان کے شعور کو اس کائنات کے دو بہت اہم مظاہر کی طرف متوجہ کرتا ہے یعنی گردش لیل و نہار کی طرف۔ اور اس امر کی طرف کہ گردش لیل و نہار کے اس نظام کے اندر اللہ وحدہ کی وحدانیت اور اس کے اختیار مطلق کے کیسے شواہد ہیں۔
Ayahs 28:71–73

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، ان سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

ان سے پوچھو ، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں رات لا دے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو ؟ کیا تم کو سوجھتا نہیں ؟

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور (دن کو) اپنے رب کا فضل تلاش کرو ، شاید کہ تم شکر گزار بنو

قل ارءیتم ان جعل اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (71 – 74) وگوں کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے رات اور دن کی گردش دیکھ دیکھ کر ان سے اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ اس گردش کے اندر ان کو کوئی بات نئی نہیں لگتی۔ وہ سورج کے طلوع اور غروب سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔ اسی طرح دن کا نمودار ہونا اور رات کا چھا جانا بھی ان کو کچھ زیادہ نہیں کرتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ گردش لیل و نہار کے اندر انسانوں کے لیے جو فائدے ہیں اور جو رحمتیں ہیں اور جس طرح یہ گردش ان کو تباہی و ہلاکت سے بچاتی ہے ، اکتانے اور تھکانے سے بچاتی ہے۔ یہ باتیں ان کے شعور میں مسحضر نہیں رہتیں۔ قرآن کریم ان کو غفلت کی نیند سے جگاتا ہے ان کو ذرا اس عادی رویہ اور عادی منظر سے دور لے جاتا ہے۔ ان کو متوجہ کرتا ہے کہ تمہارے اردگرد گردش لیل و نہار کی وجہ سے کس قدر عظیم واقعات رونما ہوتے ہیں تو تم توجہ نہیں کرتے ۔ ذرا اتنا سوچو کہ رات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رک گئی یا دن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم ہوگیا۔ تو کس قدر خوفناک نتائج کا سامنا تمہیں کرنا ہوگا۔ انسانوں کو کسی چیز کی قدروقیمت کا پتہ تب چلتا ہے جب وہ نہیں ہوتی۔ قل ارءیتم ان جعل ۔۔۔۔۔ افلا تسمعون (28: 71) ” اے نبی ﷺ ، ان سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو اس میں روشنی لا دے۔ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟ “۔ جب سردیوں میں رات قدرے طویل ہوجاتی ہے تو لوگ سپیدہ صبح کے لیے بےتاب ہوجاتے ہیں اور جب سورج تھوڑی دیر کے لیے بادلوں میں چھپ جائے تو یہ آرزوئیں کرنے لگتے ہیں کہ سورج نکل آئے۔ اور اگر روشنی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی جائے تو ان کی حالت کیا ہوجائے گی جب رات ہمیشہ کے لیے قیامت تک ان پر مسلط ہوجائے۔ یہ تو اس صورت میں ہے کہ یہ پھر زندہ بھی کسی صورت میں رہ سکیں۔ حالانکہ ایسی صورت میں تو خطرہ یہ ہوگا کہ دنیا سے زندگی کے آثار ہی مٹا دئیے جائیں اور کبھی بھی دن نمودار ہو یا زندگی برقرار ہو۔ قل ارءیتم ان جعل اللہ ۔۔۔۔۔ افلا تبصرون (28: 72) ” ان سے پوچھو ، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں رات لا دے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو کیا تم کو سوجھتا نہیں “۔ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اگر دن ذرا طویل ہوجائے تو وہ سایوں کے تعاقب میں دوڑتے ہیں۔ اور گرمیوں میں دن طویل ہو تو رات کے مشتاق ہوتے ہیں اور رات کی تاریکی میں سکون وقرار تلاش کرتے ہیں۔ جبکہ زندگی رات کس سکون بھی چاہتی ہے جبکہ دوسرے دن ، دن کی سرگرمی دکھائی جاسکے۔ لیکن اگر دن قیامت تک کے لئے جاری کردیا گیا تو لوگوں کی حالت کیا ہوجائے گی۔ پہلے تو وہ ختم ہی ہوجائیں گے اور اگر کسی طرح زندہ رہ گئے تو زندگی کس قدر مشکل ہوجائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہر چیز ایک مقدر کے مطابق بنائی ہے۔ اور اس جہاں کی چھوٹی اور بڑی ہر چیز کے پیچھے ایک تدبیر ہے اور ہر چیز اللہ نے ایک اندازے کے مطابق بنائی ہے۔ ومن رحمتہ جعل ۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (28: 73) ” یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے یہ رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اور دن کو اپنے رب کا فضل تلاش کرو ، شاید کہ تم شکر گزار بنو “۔ پس رات سکون وقرار کے لیے ہے۔ دن سرگرمیوں اور جہدوجہد کے لیے ہے۔ اور دن کے اندر نکتہ توجہ یہ ہے کہ انسان کاروبار کرے اور رحمت الٰہی کی تلاش کرے۔ کیونکہ انسان کما کر ہی اللہ کے فضل سے کوئی چیز بطور شکر دوسروں کو دے سکتا ہے۔ اللہ نے تمہیں گردش لیل و نہار کی جو سہولت دی اس کی نعمت و رحمت ہے۔ پھر رات و دن کا ایک نظام کے ساتھ بدلتے رہنا بھی نعمت ہے اس کائنات کے دوسرے سنن اور قوانین طیبیہ اللہ نے پیدا کیے ہیں ، تم نے نہیں جاری کیے۔ اللہ نے ان قوانین کو اپنے علم و حکمت سے جاری کیا اور تم ان سے غافل ہو۔ یہ سبق قیامت سے ایک ایسے منظر پر ختم ہوتا ہے جو بڑی تیزی سے نظروں کے سامنے سے گزر جاتا ہے۔ اس منظر میں سرزنش کے طور پر مشرکین سے پوچھا گیا کہ کہاں ہیں وہ شریک جن کو تم شریک سمجھتے تھے۔ وہاں ان کو ان کے باطل موقف سے دوچار کیا جاتا ہے۔ سوال و جواب کے اس شرمسار کنندہ موقف میں یہ لوگ پگھل کر رہ جاتے ہیں اور ٹوٹ کر زمین پر گرتے ہیں۔
Ayahs 28:74–75

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

(یاد رکھیں یہ لوگ) وہ دن جب کہ وہ انہیں پکارے گا ، پھر پوچھے گا ” کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے ؟

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے پھر کہیں گے کہ ” لاؤ اب اپنی دلیل “۔ اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے ، اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے

ویوم ینادیھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یفترون (74 – 75) قیامت کے دن پکارنے کا منظر اور شرکاء کی بابت پوچھنے کا وقفہ گزشتہ سبق میں بھی گزرا ہے لیکن یہاں اسے بطور تاکید دوبارہ ایک نئے منظر میں لایا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ سوال و جواب ایک گواہ کے سامنے ہوگا۔ یہ ہر امت کا نبی ہوگا اور یہ شہادت دے گا کہ کس نے دعوت اسلامی کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا۔ اس منظر میں اصل مقصد یہ ہے کہ نبی کے سامنے لایا جائے گا تاکہ اس کی امت بھی اسے سب کی سب دیکھے اور وہ بھی ان کو سب کے سب کو دیکھے۔ اور اس عظیم گواہ کے سامنے مشرکین کو مزید شرمسار کرنے کے لیے ان سے پوچھا جائے کہ وہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم ایسا سمجھتے تھے ۔ اس وقت ان کا نہ کوئی شریک ہوگا اور نہ اس شرک پر کوئی دلیل ہوگی۔ اور نہ وہ دنیا کی طرف ہٹ دھرمی کرسکیں گے۔ اور نہ کوئی مکالمہ اور دلیل پیش کرسکیں گے۔ فعلموا ان الحق للہ (28: 75) ” ان کو معلوم ہوگا کہ حق اللہ کی طرف ہے “۔ اور ایسا حق اور سچائی اللہ کی طرف ہوگی جس میں کوئی شبہ نہ ہوگا۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون (28: 75) ” اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے “۔ یعنی ارتکاب شرک ، شرکاء۔ نہ شرکاء ان کو دیکھیں گے اور نہ یہ شرکاء کو پا سکیں گے۔ حالانکہ اس مکالمے اور مناظرے کے وقت برہان کی ضرورت تھی۔ یہاں آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے پر تبصرہ ختم ہوتا ہے۔ اس تبصرے میں انسانوں کے دل و دماغ کو ایک وسیع بنیاد کی سیرکرائی گئی۔ دنیا کی بھی ، آخرت کی بھی ، انفس انسانی کے نشیب و فراز میں بھی اسے پھرایا گیا ، اور اس کائنات کی وسعتوں میں بھی ، سابقہ مکذبین کے کھنڈرات میں بھی اور اس کائنات کے سنن الہیہ میں بھی۔ اور یہ تمام سورت کے اصل مقاصد اور اس کے قصوں کے مضمون کے ساتھ ہم آہنگ اور مربوط رہی۔ اب ہم سورت کے دوسرے قصے کی طرف آتے ہیں۔
Ayahs 28:76–78

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

یہ ایک واقعہ ہے کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا ایک شخص تھا ، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ” پھول نہ جا ، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر ، جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے ، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر ، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

تو اس نے کہا ” یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے کیا اس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے ؟ مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے

درس نمبر 178 ایک نظر میں اس سورت کا ابتدائی حصہ قصہ فرعون و کلیم پر مشتمل تھا۔ اس قصے میں بتا یا گیا تھا کہ قوت اور اقتدار کے نتیجے میں کسی طرح نافرمانی اور سرکشی آتی ہے ۔ اور حکمران کس طرح اللہ کی ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتے ہیں اور پھر ان سب باتوں کے نتیجے میں وہ زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ اب یہاں قارون کا قصہ لایا جاتا ہے کہ مال اور علم و ہنر جب سرکشی اختیار کرلیں ، مالدار اترانے لگیں ، عوام پر برتری جتلائیں ، اللہ کی نعمتوں کا انکار کریں تو ان پر کس طرح ہلاکت آتی ہے۔ اس کے بعد درست تصورات اور نظریات کے مطابق مال اور علم دنیا کی زیب وزینت ہیں اور ایمان اور نیک عمل کے مقابلے میں علم و ہنر اور مال و دولت کی کوئی قدر نہیں ہے۔ نیز درست طرف فکر و عمل یہ ہے کہ علم و ہنر اور مال و دولت کو اعتدال کے ساتھ ضروریات زندگی کے لیے استعمال کیا جائے۔ علو فی الارض اور فساد فی الارض کے لیے نہیں۔ قرآن کریم نے اس قصے کا زمان و مکان بیان نہیں کیا۔ بس اس قدر معلومات کافی ہیں کہ یہ محض قوم موسیٰ میں سے تھا اور یہ موسیٰ (علیہ السلام) سے باغی ہوگیا تھا۔ کیا یہ واقعہ اس وقت ہوا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل خروج سے قبل مصر ہی میں تھے ؟ یا موسیٰ (علیہ السلام) کے خروج کے بعد ؟ یا بنی اسرائیل میں موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا۔ اور خود موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں یہ واقعہ ہوا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ قارون نے حضرت موسیٰ کو اذیت بھی دی تھی اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف رشوت دے کر ان کو ایک عورت کے ساتھ سکینڈل میں الجھانے کی کوشش کی تھی۔ اللہ نے حضرت موسیٰ کو ۔۔۔ لیا اور قارون زمین میں دھنسا دیا گیا۔ ہمیں ان روایات کی ضرورت نہیں ہے ، نہ اس قصے کے زمان و مکان کے تعین کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم میں جس طرح یہ قصہ آیا ہے اس سے اس کے لانے کے مقاصد اچھی طرح واضح ہوتے ہیں اور وہ اقدار وہ اصول واضح طور پر ہمارے سامنے آجاتے ہیں جن کی وجہ سے یہ قصہ لایا گیا۔ اگر اس کے زمان و مکان اور اس کے ماحول کے دوسرے واقعات و حالات کی یہاں ضرورت ہوئی اور ان سے کسی مزید حقیقت ، قدر یا اصول کی وضاحت ہوتی تو اللہ ضرور وہ دوسری تفصیلات بھی دے دیتا۔ لہٰذا ہم اس کی تشریح صرف قرآنی اسلوب ہی میں کرتے ہیں اور ان روایات سے ہٹ کر اس کی وضاحت کرتے ہیں کیونکہ ان تک اس کی تشریح کے سلسلے میں کوئی ضرورت باقی نہیں ہے۔ درس نمبر 178 تشریح آیات 76 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ 84 ان قارون کان من قوم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ علی علم عندی (76 – 77) ” ۔ “۔ تو اس نے کہا ” یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے “۔ یوں اس قصے کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کے ہیرو کا نام قارون ہے۔ اس کی قوم ، قوم موسیٰ ہے اور اس نے اپنی قوم کے عقائد سے بغاوت کرلی۔ یہ اپنی قوم کے خلاف ظلم کا ارتکاب بھی کرتا اور یہ بغاوت اور ظلم وہ محض اپنی دولت مندی کی وجہ سے کرتا۔ واتینہ من الکنوز۔۔۔۔۔۔ اولی القوۃ (28: 76) ” اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ اور اس کے بعد پھر واقعات ، اقوال اور وہ تاثرات بیان کیے جاتے ہیں جو اس قصے کے ساتھ ساتھ ذہن میں آتے ہیں ۔۔۔ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم قوم تھا۔ اللہ نے اسے بہت بڑی دولت دی۔ اس کی کثرت کی وجہ سے اسے خزانوں سے تعبیر کیا گیا۔ کنز (خزانہ) اس مال کو کہا جاتا ہے جو استعمال اور گردش سے زیادہ اور جسے محفوظ جگہ میں رکھا گیا ہو۔ نظروں سے اوجھل۔ اور یہ دولت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی تجوریوں کی چابیاں بھی بہت زیادہ تھیں۔ اور ان کو طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت ہی اٹھا سکتی تھی۔ اس دولت کی وجہ سے قارون اپنی قوم سے باغی ہوگیا۔ یہاں اس کا ذکر نہیں ہے کہ اس نے کسی قسم کی بغاوت کی۔ یہاں بغاوت مجمل ہے اس لیے اس سے ہر قسم کی بغاوت اور نافرمانی مراد ہو سکتی ہے۔ یہ بغاوت بنی اسرائیل پر ظلم کے ذریعہ بھی ہوسکتی ہے۔ ان کی اراضی غصب کرنے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ ان کی دوسری چیزیں چھین لینے سے بھی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ مال پر دست درازی کرنے والے اکثر لوگ کرتے ہیں۔ غریبوں کا ستحصال کرتے ہیں۔ یہ بھی بغاوت ہے کہ قارون کے مال میں غریبوں کا حق تھا اور وہ ادا نہ کرتا تھا۔ کیونکہ اغنیاء کے اموال میں فقراء کا حق ہوتا ہے۔ تاکہ یہ مال اغنیاء کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ محتاجوں تک بھی جائے۔ اس طرح طبقاتی نفرت پیدا ہوتی ہے اور سوسائٹی کا امن وامان تباہ ہوتا ہے۔ یہ بغاوتیں بھی ہو سکتی ہیں اور اس کے سوا اور بھی نافرمانیاں ہو سکتی ہیں۔ بہرحال قارون کی قوم میں ایسے لوگ تھے جو چاہتے تھے کہ یہ اس بغاوت سے باز آجائے اور اسلام کے عادلانہ نظام معیشت کی طرف آجائے ، جو اللہ نے دولت میں تصرف کیلئے مقرر فرمایا ہے۔ اور یہ ایسا نظام ہے کہ جس کے ذریعہ دولت مند اپنی دولت سے محروم نہیں ہوتا۔ اور وہ اعتدال کے ساتھ اپنی دولت سے استفادہ کرسکتا ہے ، جو اللہ نے اسے بخشا ہے لیکن یہ نظام میانہ روی اور اعتدال کو اہل ثروت کے لئے لازم قرار دیتا ہے ، اور یہ کہ وہ اس ذات کو ہر وقت دل میں رکھیں جس نے انہیں یہ مال دیا ہے اور دولت کو اس طرح کام میں لائیں کہ قیامت میں اپنے کیے کا حساب دے سکیں۔ اذ قال لہ قومہ لا تفرح ۔۔۔۔۔۔ لا یحب المفسدین (28: 76 – 77) ” ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ” پھول نہ جا ، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے ابھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر ، جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے ، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر ، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا “۔ اس آیت میں ان سب اقدار اور خصوصیات کو جمع کردیا گیا ہے جو تمام دوسرے نظامہائے زندگی کے مقابلے میں اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات ہیں۔ اور وہ صرف اسلام میں پائی جاتی ہیں۔ لا تفرح (28: 76) ” پھول نہ جاؤ “۔ مال اور دولت پر مست ہوکر حد سے زیادہ خوشی محسوس نہ کرو۔ دولت کے ساتھ ضرورت سے زیادہ دلچسپی نہ لو ، اور دل کو خزانوں کے ساتھ باندھ نہ دو ۔ مملوکات اور مقبوضات کو دیکھ کر زیادہ مسرت کا اظہار نہ کرو ، اور دولت پر اس طرح نہ پھول جاؤ کہ دولت عطا کرنے والے ہی کو بھول جاؤ۔ اللہ کی نعمتوں کو بھلا دو اور اس کا حمد و شکر چھوڑ دو ۔ بعض لوگ مال و دولت ہی کی وجہ سے ہلکے ہوکر ہوا میں اڑنے لگتے ہیں ، ان کا دماغ بھی اڑنے لگتا ہے اور محض دولت کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں اور لوگوں پر دست درازی کرتے ہیں۔ ان اللہ لا یحب الفرحین (28: 76) ” اللہ بھول جانے والے لوگوں کو پسند نہیں کرتا “۔ اس طرح قارون کی قوم نے کوشش کی کہ قارون کو اللہ کی طرف لوٹا دے ، کیونکہ اللہ مال اور دولت کی اساس پر غرور اور تکبر کو پسند نہیں کرتا اور نہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو دولت کی وجہ سے دوسرے کے ساتھ ظلم کرتے ہیں اور ان کا استحصال کرتے ہیں۔ وابتغ فیما ۔۔۔۔۔ من الدنیا (28: 77) ” جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے ، اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے ابھی اپنا حصہ فراموش نہ کر “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا نظام زندگی کس قدر معتدل اور سیدھا ہے جو ایسے دل کو جس کے پاس دولت ہے آخرت کے ساتھ بھی باندھ دیتا ہے اور اسے دنیا کے حصہ سے بھی محروم نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اسے حکم دیتا ہے کہ دنیا میں مال سے استفادہ کو بھول نہ جاؤ، اس طرح نہ ہو کہ تم تارک الدنیا ہوکر اس دنیا کی زندگی کو معطل کر دو ۔ اللہ نے دنیا کے اندر یہ پاکیزہ چیزیں اس لیے تو پیدا کی ہیں کہ لوگ ان سے استفادہ کریں اور زمین میں ان پاکیزہ چیزوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے ہر وقت کوشاں رہیں اور زندگی میں ترقی اور تنوع ہوتا رہے۔ اور اس طرح انسان اس کرہ ارض پر منصب خلافت ادا کرتا رہے۔ لیکن یہ پیداوار اور یہ ترقی عالم آخرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہو۔ آخرت کی راہ سے لوگ منحرف نہ ہوں اور آخرت کی تکالیف اور فرائض کو بھول نہ جائیں۔ اس انداز سے دنیا کے سازوسامان سے لطف اندوز ہونا بھی ایک طرح کا شکر نعمت ہے اور اللہ کے دین کو قبول کرنا ہے اور ان سے لطف اندوز ہونا ہے اور یہ بھی اللہ کی عبادت میں سے ایک عبادت اور اطاعت ہے۔ یوں اسلامی نظام زندگی ، انسانی زندگی کے اندر اعتدال اور ہم آہنگی پیدا کردیتا ہے اور اس معتدل زندگی ہی کے ذریعہ اس کو روحانی ترقی کے مدارج بھی طے کراتا ہے جس میں کسی قسم کی محرومیت نہیں ہوتی اور نہ اسی میں انسان کی فطری زندگی کے کسی بھی حصے کا تعطل لازم آتا ہے۔ واحسن کما احسن اللہ الیک (28: 77) ” احسان کرو ، جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا “۔ یہ مال اللہ کی طرف سے بخشش اور انعام ہے۔ اور اللہ کا احسان ہے۔ لہٰذا احسان کا بدلہ احسان ہونا چاہئے۔ اس احسان کو قبول کرو ، احسان کے ساتھ اس میں تصرف کرو ، اور لوگوں کے اوپر احسان کرو اور اپنے ذہن میں اللہ کے اس احسان کا شعور تازہ رکھو اور شکر ادا کرتے رہو۔ گہرے شعور کے ساتھ صرف زبان سے شکر گایا نہ کرو۔ ولا تبغ الفساد فی الارض (28: 77) ” اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرو “۔ یعنی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے فساد نہ کرو ، اور دنیا کا سازو سامان اگر خدا خوفی اور آخرت کے حساب سے مبرا ہو کر استعمال کیا جائے تو اس سے زمین میں فساد برپا ہوتا ہے ، یوں کہ مالداروں کے خلاف لوگوں کے دل میں حسد ، بغض اور کینہ کی آگ جلنا شروع ہوجاتی ہے اور اگر مال کو بےجا طریقے سے خرچ کیا جائے تو بھی ظلم اور فساد کا باعث۔ اگر جائز طریقوں میں خرچ سے روکا جائے تو بھی ظلم کا باعث ہے۔ ان اللہ لا یحب المفسدین (28: 77) ” اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا “۔ جس طرح اللہ تعالیٰ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح مفسدوں کو بھی پسند نہیں کرتا۔ یہ تو تھیہ نصیحت قوم قارون کی ، قارون کو ، اس پوری اصلاحی تقریر کے جواب میں وہ بس ایک ہی جملہ کہتا ہے لیکن یہ جملہ جامع شروفساد ہے۔ قال انما اوتیتہ علی علم عندی (28: 78) ” تو اس نے کہا ، یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے “۔۔۔ یعنی میرے علم و ہنر نے اس مال کو جمع کیا ہے ، لہٰذا یہ مرا حق ہے۔ تم کون ہوتے ہو مجھے اس کے تصرف کے لیے خاص ہدایات دینے والے ؟ اور میری مخصوص ذاتی ملکیت کے بارے میں ازخود فیصلے کرنے والے۔ یہ مال تو میں نے بڑی جدوجہد کے بعد بنایا ہے اور اپنی مہارت اور دانش مندی کی وجہ سے اس دن کا اہل ہوا ہوں۔ یہ اس مغرور اور برخود غلط شخص کی بات ہے جو نعمت اور حکمت کے اصل مصدر کو فراموش کردیتا ہے اور جسے مال فتنے میں ڈال دیتا ہے اور دولت اندھا کردیتی ہے۔ اس قسم کے لوگ انسانوں میں ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جدوجہد ان کے مالدار ہونے کا حقیقی سبب ہے۔ اس لیے اپنے حاصل کیے ہوئے مال کے بارے میں انہیں مسئول نہ ہونا شاہئے۔ اس مال کو وہ اصلاح کے کاموں میں لگائے یا فساد کے کاموں میں ، اس کے اوپر کوئی محاسبہ نہ ہونا چاہئے۔ اور اس کی خوشی اور غمی اور مرضی اور انکار کے اوپر اور کوئی نگرانی نہ ہونا چاہئے۔ اسلام انفرادی ملکیت کی اجازت دیتا ہے اور حلال طریقوں سے دولت جمع کرنے کی اسلام حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسلام انفرادی جدوجہد کو نظر انداز نہیں کرتا اور نہ اسے فضول سمجھتا ہے۔ لیکن اسلام اس آزادی کے ساتھ ساتھ انفرادی ، دولت اور مملوکات کے استعمال کے لیے ضابطہ بھی متعین کرتا ہے جیسا کہ دولت کے کمانے اور ترقی دینے کے لیے اسلام ایک منہاج مقرر کرتا ہے۔ اسلام کا طریقہ کار اور اس کی معاشی پالیسی نہایت معتدل اور متوازن ہے۔ اس میں فرد اپنی جدوجہد کے ثمرات سے محروم نہیں ہوتا اور وہ اس جمع کردہ دولت کو اس طرح صرف بھی نہیں کرسکتا کہ وہ اسراف اور تبذیر کی حدود میں داخل ہوجائے اور نہ اس کو یوں جمع اور خزانہ کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کنجوسی اور مکھی چوسی کی حدود میں داخل ہوجائے۔ اسلام انفرادی ملکیت میں سوسائٹی کو بھی حصہ دار کرتا ہے اور انفرادی دولت کمانے کی بھی نگرانی کرتا ہے۔ دولت کو ترقی دینے کے طریقے بھی منصفانہ طور پر متعین کرتا ہے اور ان سے استفادہ کرنے اور خرچہ کرنے پر بھی کنڑول کرتا ہے۔ اسلام کی معاشی ہدایات واضح ہیں اور ممتاز خصوصیات کی مالک ہیں۔ بہرحال قارون نے اپنی قوم کی آواز پر لبیک نہ کہا۔ اس نے اللہ کے انعامات کا شعور قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور اسلام کی معاشی پالیسی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور نہایت ہی گھٹیا انداز میں قوم کی اس نصیحت سے اس نے منہ موڑا۔ چناچہ آیت کے خاتمہ سے بھی پہلے اسے تنبیہہ کردی گئی اور اس کے اس فقرے کو رد کردیا گیا۔ اولم یعلم ان اللہ ۔۔۔۔۔ ذنوبھم المجرمون (78) ” “۔ اگر تم صاحب مال دولت ہو اور کچھ قوت رکھتے ہو ، تو تم سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ایسی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو تم سے مال میں بھی زیادہ تھیں اور قوت اور گرفت میں بھی۔ یہ تاریخی حقیقت تمہیں معلوم ہونا چاہئے کیونکہ اس علم سے تمہیں نجات ملے گی۔ اس سے نہیں جس کے بل بوتے پر تم نے دولت جمع کی ہے۔ تم جیسے نو دولتے تو اس قابل ہی نہیں کہ ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ اگر انہیں ہلاک کرے تو اس سے پوچھے یا نوٹس دے۔ کیونکہ نہ تم فیصلہ کرنے والے ہو اور نہ گواہ ہو۔ ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون (28: 78) ” مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے “۔ اس قصے کے مناظر میں سے یہ پہلا منظر تھا اس منظر میں نظر آتا ہے کہ سرمایہ دار ہمیشہ سرکش اور ظلم کرتے ہیں۔ وہ نصیحت پر کام نہیں دھرتے ، نصیحت سے اپنے آپ کو بالا سمجھتے ہیں کہ ان کا نفس کبھی ان کو شکر نعمت بجا لانے پر بھی آمادہ نہیں کرتا۔ دوسرے منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ قارون کسی موقع پر اپنی دولت کی نمائش کرتا ہے۔ اس کی اس نمائش کو دیکھ کر بعض اہل ایمان کے دل بھی اڑنے لگے۔ وہ احساس کمتری میں مبتلا ہونے لگے اور رہ تمنائیں کرنے لگے کہ ہمیں بھی ایسا ہی دیا جائے جس طرح قارون کو دیا جاتا ہے اور وہ لوگ جن کو دولت سے محروم رکھا گیا تھا انہوں نے یہ تبصرہ کیا کہ قارون کو تو دولت کا حظ و افر دیا گیا ہے ۔ اس موقع پر صحیح علماء اور مومنی سامنے آتے ہیں اور وہ دکھاتے ہیں کہ وہ قارون کی اس نمائش سے بلند ہیں اور جو لوگ اس مظاہرہ سے متاثر ہوگئے تھے ان کو وہ نہایت ہی اعتماد ، یقین اور زوردار انداز سے منع کرتے ہیں “۔
Ayahs 28:79–80

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پورے ٹھاٹھ میں نکلا۔ جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے ایکھ کر کہنے لگے ” کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے ، یہ تو بڑا نصیب والا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے ” افسوس تمہارے حال پر ، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو

فخرج علی قومہ فی زینتہ ۔۔۔۔۔ ولا یلقھا الا الصبرون (79 – 80) ” “۔ “۔ دنیا کی اس زندگی کے اس فتنے کے سلسلے میں دو قسم کے ردعمل سامنے آئے۔ ایک گروہ اس کی گرفت میں آگیا ، مبہوت ہوگیا۔ اس منظر کے سامنے بچھ گیا اور اس پر ٹوٹ پڑا اور دوسرے گروہ کا ردعمل یہ تھا کہ وہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا ، نظر بلند رکھی ، امیدیں اس ثواب کے ساتھ وابستہ کرلیں جو اللہ کے ہاں محفوظ ہے یوں اس کے نزدیک مال کی قوت کے مقابلے میں ایمان کا ترازو بھاری رہا۔ قال الذین یریدون ۔۔۔۔۔ لذو حظ عظیم (28: 79) ” وہ لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا۔ یہ تو بڑا نصیب والا ہے “۔ ہر دور میں دنیا کی زیب وزینت بعض لوگوں کو مقصد بن جاتی ہے اور جو لوگ دنیا کے طالب ہوتے ہیں ان کی آنکھیں اسے دیکھ کرچکا چوند ہوجاتی ہے۔ اور اس قسم کے لوگ اس چیز کی طرف بلند نظریں نہیں رکھتے جو اس دنیا سے اعلیٰ اور زیادہ قیمتی ہے۔ ایسے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ اس زیب وزینت کو خریدنے والے نے کس قدر زیادہ قیمت ادا کرکے خریدا ہے۔ اور یہ دنیا کا سازوسامان اس شخص نے کیا کیا ذرائع کام میں لاکر حاصل کیا ہے۔ اس کے لیے مال ، مصب اور عزت کی کیا کیا قربانیاں دی گئی ہیں ۔ چناچہ سطحی نگاہ رکھنے والے ایسے مظاہر پر ٹوٹ پڑتے ہیں جس طرح مکھیاں ہر میٹھی چیز پر جمع ہوجاتی ہیں۔ اور اس پر گرتی ہیں اور ایسے لوگ جب اہل ثروت کو دیکھتے ہیں تو ان کے منہ میں پانی آجاتا ہے لیکن ان کی نظر اس بات پر نہیں ہوتی کہ یہ دولت اور زیب وزینت جمع کرنے والے نے بہت مہنگی قیمت ادا کی ، کن کن گندگیوں سے ہو کر گزرا ہے اور کیا کیا خبس ذرائع استعمال کیے ہیں۔ اور جن لوگوں کا رابطہ اللہ سے ہوتا ہے اور وہ اعلیٰ اقدار کو اہمیت دیتے ہیں اور دولت اور دنیا کی زیب وزینت سے بڑھ کر ان کی نظروں میں مزید اعلیٰ قدریں بھی ہوتی ہیں۔ اپنی شخصیت کے اعتبار سے بند ہوتے ہیں اور ان کا دماغ اس قدر اونچا ہوتا ہے کہ وہ زمین کی قدروں کے سامنے کسی مالدار کے سامنے نہیں جھکتے۔ یہ لوگ ہیں جن کو حقیقی علم دیا گیا ہے۔ یہی وہ علم ہے جو انسانی زندگی کو سیدھا رکھتا ہے۔ وقال الذین اوتو ۔۔۔۔۔۔ الا الصبرون (28: 80) ” مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے افسوس تمہارے حال پر ، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو “۔ اللہ کے ہاں جو درجہ ہے وہ اس زینت سے بہتر ہے ، اللہ کے خزانے قارون کے خزانوں سے زیادہ ہیں اور یہ شعور اعلیٰ قدروں کی بابت صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں ، جو دوسروں کے اعلیٰ معیار حیات کو دیکھ کر متاثر نہیں ہوتے۔ اور زندگی کے تمام فتنوں اور رعنائیوں کے مقابلے میں اپنے مقام پر جمے رہتے ہیں۔ جب ایسے لوگوں کا شعور یہ ہوتا ہے کہ آخرت کا اجر ، اللہ کی رضا مندی بہت قیمتی سامان ہے تو ان کا درجہ اور بلند ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا کے سازوسامان سے بلند ہوجاتے ہیں اور ان کی نظریں ثواب آخرت کے اعلیٰ افق پر ہوتی ہیں۔ جب زیب وزینت کا یہ فتنہ انتہا کو پہنچ جاتا ہے ، اور لوگ اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتے بلکہ اس سے شکست کھا کر اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو اب دست قدرت کی طرف سے براہ راست مداخلت کا وقت آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ضعیف الارادہ لوگوں کو اس کے جال میں شکار ہونے سے بچانے کے لیے اس فتنے کو پاش پاش کرکے رکھ دیتا ہے۔ زیب وزینت کا یہ غرور ختم کردیا جاتا ہے۔ اور عبرتناک منظر میں ایک فیصلہ کن گرفت کی جھلک پیش کرتا ہے :
Ayah 28:81

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔ پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کر سکا

فخسفنا بہ وبدارہ ۔۔۔۔۔۔۔ وما کان من المنتصرین (81) ” “۔ نہایت ہی مختصر جملے میں ایک مختصر جھلکی کی صورت میں یہ انجام دکھایا گیا۔ فخسفنا بہ وبدارہ الارض (28: 81) ” آخر ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا “۔ زمین اسے بھی نگل گئی اور اس کے محل کو بھی نگل گئی۔ جس زمین پر وہ اپنے آپ کو سربلند سمجھتا تھا۔ جس کے اوپر وہ لوگوں پر ظلم کرتا تھا ۔ اللہ نے اسے اسی کے اندر داخل کردیا۔ اور وہ ضعیف و ناتواں ہوگیا۔ نہ اس کی مدد کوئی دوسرا کرسکا اور نہ وہ اپنی جاہ و مال کے ساتھ اپنی کوئی مدد کرسکا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فتنہ بھی دفن ہوا جس کے اوپر بعض لوگ فریفتہ ہو رہے تھے۔ غرض فیصلہ کن ذدنے ان کو اللہ کی قدرت کی طرف پھیر دیا اور غضب اور گمراہی کے پردے دور ہوگئے اور یہ آخری منظریوں رہا۔