Ayah 27:1درس نمبر 071 تشریح آیات
1………تا……6
طس تلک ایت القرآن و کتاب مبین (1)
حروف مقطعات دراصل اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ یہ سورت اسی مواد پر مشتمل ہے جو ان حروف سے بنا ہے۔ پورا قرآن بھی اسی سے بنا ہے۔ یہ مواد عام عربی دانوں کے دسترس میں ہے لیکن وہ اس مواد سے ایسی کتاب تصنیف کرنے سے عاجز ہیں۔ باوجود بار بار کی تحدی اور چیلنج کے۔
یہاں کتاب سے مراد قرآن مجید ہی ہے ۔ یہاں قرآن مجید پر کتاب (خط) کا اطلاق اس لئے کیا گیا ہے کہ اس کتاب اور قریش کی جانب سے اس کے حوالے سے ردعمل اور حضرت سلیمان کے خط اور ملکہ سبا کی جانب سے اس کے بارے میں ردعمل کے درمیان مقابلہ کیا جائے ، حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھے۔
اس تمہید اور چیلنج کے بعد قرآن کریم کا ذکر اور اس کی تعریف یوں ہوتی ہے۔
Ayah 27:2ھدی و بشریٰ للمئومنین (2)
یہ اسلوب اس سے زیادہ بلیغ ہے اگر کہا جاتا ” اس میں ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت و بشارت ہے۔ “ قرآن جو اسلوب اختیار کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کتاب کا مواد ہی بذات خود ہدایت و بشارت ہے۔ اس طرح قرآن کریم اہل ایمان کو ان کی زندگی کے ہر نشیب و فراز میں ہدایت دیتا ہے۔ ہر پہلو سے ہدایت ہے اور انسان کی دنیاوی اور اخروی دونوں زندگیوں کے لئے یہ کتاب بشارت اور خوشخبری ہے۔
یہ کتاب صرف مومنین کے لئے ہدایت اور بشارت ہے ؟ اس فقرے میں اللہ نے ایک عظیم اور گہری حقیقت کو سمو دیا ہے۔ یہ قرآن کوئی نظریاتی اور فلسفیانہ کتاب نہیں ہے کہ جو بھی اسے پڑھے اور اس کے مضامین کا انطباق کرے اور ان کو نافذ کر دے تو بس قرآن کا مقصد پورا ہوگیا۔ یہ کتاب سب سے پہلے انسان کے قلب و نظر کو مخاطب کرتی ہے تاکہ وہ اسے ایمان ، احترام اور یقین کے ساتھ قبول کرے۔ کھلے دل سے قبول کرے۔ پھر یہ کتاب اپنا نور ، اپنا خطر اور اپنی حکمت اس کے دل میں ڈال دیتی ہے اور جس قدر قاری کا دل ایمان کی تراوٹ رکھتا ہوگا اسی قدر وہ اس کے مٹھاس کو پائے گا۔ اس کے معانی اس پر کھلتے جائیں گے اور اس کی توجہات اور تاویلات اس کی سمجھ میں آئیں گی۔ کسی سنگدل اور خشک دل و دماغ رکھنے والے انسان پر اس کتاب کے راز نہیں کھلتے۔ اسی طرح ایک مومن صادق کو اس سے وہ ہدایات ملتی ہیں جو منکر حق اور سخت دل کو نہیں ملتیں اور اس کے نور سے وہ شخص ہدایت پاتا ہے جو مومن ہو اور وہ نہیں پاتا جس کا دل و دماغ مسخ ہوچکے ہوں۔
بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک انسان کسی آیت اور کسی سورت کو بار بار پڑھتا ہے۔ وہ غفلت اور جلدی میں گزر جاتا ہے۔ اس کے پلے کچھ نہیں پڑتا۔ اچانک اس کے قلب میں روشنی کی ایک چمک اٹھتی ہے۔ اس کے ذہن میں معانی کے جہان روشن ہو کر آجاتے ہیں جن کے بارے میں کبھی اس نے سوچا بھی نہ تھا۔ یوں اشراق کے بن اوقات میں اس کی زندگی میں ایک انقلاب آجاتا ہے۔ وہ ایک منہاج سے دوسرا منہاج اور ایک راستہ اختیار کرلیتا ہے۔
غرض قرآن کے اندر جس نظام ، جس قانون اور جن اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے اس کا دار و مدار ایمان پر ہے۔ لہٰذا جس شخص کے دل میں ایمان نہیں ہے اور وہ اس قرآن کریم کو منجانب اللہ وحی نہیں سمجھتا ہے اور یہ یقین نہیں رکھتا کہ اس کے اندر جو کچھ آیا ہے وہ ایک نظام ہے جسے اللہ تعالیٰ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جو شخص قرآن کے بارے میں ایسا ایمان و یقین نہیں رکھتا وہ قرآن کریم سے کوئی ہدایت نہیں پا سکتا۔ نہ اس میں پھر اس کے لئے کوئی خوشخبری ہے اور نہ کوئی فائدہ۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کے اندر ہدایت و معرفت اور تحریک اور راہنمائی کے عظیم المقدار خزانے پڑے ہوئے ہیں لیکن ان خزانوں کے دروازے کھولنے کی چابی ایمان ہے۔ یہ خزانے اس چابی کے بغیر کھل نہیں سکتے۔ جو لوگ صحیح طرح ایمان لے ٓتے ہیں۔ ان ہاتھوں پر ، اس قرآن کے ذریعے ایسے عظیم کارنامے صادر ہوتے ہیں جس طرح پیغمبروں کے معجزات لیکن اگر قرآن کی حیثیت یہ ہوجائے کہ اسے گانے والے ترنم سے گائیں تو اس صورت میں قرآن صرف کانوں کے پردوں سے ٹکراتا ہے ، دلوں تک نہیں اترتا۔ اور اس صورت میں قرآن پھر کوئی تبدیلی نہیں لاتا اور اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہ ہوگا اور اس کی حیثیت اس خزانے کی سی ہوئی ، جس کی چابی نہ ہو۔
اس سورت میں ان مومنین کی تعریف بھی کی گئی جن کے ہاتھ میں قرآن کے خزانوں تک پہنچنے کی چابی ہوتی ہے ، یہ لوگ ایسے ہوتے ہیں۔
Ayah 27:3وہ نماز قائم کرتے ہیں اور نماز کی ادائیگی اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس کا حق شبے یوں کہ جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں تو ان کے دل جاگ رہے ہوں اور اس وقت ان کو یہ شعور ہو کہ وہ ذوالجلال والا کرام کے دربار میں کھڑے ہیں ۔ اس وقت ان کی توجہ اس بلند افق پر ہو ، ان کے دل مناجات الٰہی میں مشغول ہوں ، اسے پکار رہے ہوں اور اسکے عظیم دربار میں حاضر ہوں۔
وہ زکوۃ دیتے ہیں ، اس طرح ان کے نفوس کنجوسی کی رذالت سے نجات پا جائیں۔ یوں ان کی روح مال کے فتنوں سے سربلند ہوجائے اور وہ بعض ان نادار بھائیوں کے ساتھ مربوط ہوجائیں اور ان تک رزق پہنچا دیں اور اس طرح اپنی اجتماعی ذمہ داریاں ادا کردیں۔
وہ آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہوں۔ ہر وقت ان کو احساس ہو کہ آخرت میں اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ ان کا دل امور آخرت میں مشغول ہو ، ان کا دل خدا کے خوف سے بھرا ہو اور انسانی خواہشات ان کے دل پر اثر نہ کرتی ہوں۔ اللہ کی خشیت اور قیامت کے حساب و کتاب کا غم ان کو کھائے جا رہا ہو۔
یہ مومن ، اللہ کو یاد کرنے والے ، اس کے فرائض ادا کرنے والے ، اس سے ڈرنے والے اصحاب خشیت اللہ کے جر اور ثواب کے امیدوار یہ ہیں وہ لوگ جن کے دل قرآن کے لئے کھل جاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے قرآن ہدایت و بشارت بن جاتا ہے۔ وہ ان کی روح کا نور بن جاتا ہے ، یہ ان کے خون کو گرم کردیتا ہے اور ان کی زندگی کو متحرک بنا دیتا ہے اور یہ قرآن پھر ان کا زاد راہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے وہمنزل مقصود کو پہنچتے ہیں اور اپنے رب سے مربوط ہوجاتے ہیں۔
ذکر آخرت کے حوالے سے مزید تاکید کرتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ جو آخرت پر پختہ یقین نہیں رکھتے وہ اپنی گمراہی میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اچانک وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔
Ayah 27:4ان الذین ……یعمھون (4)
حقیقت یہ ہے کہ آخرت پر ایمان وہ قوت ہے جو اس دنیا میں انسانی خواہشات ، اس کے جذبات کو دباتی ہے اور ان کو اعتدال اور توازن بخشتی ہے۔ جو شخص ایمان نہیں رکھتا وہ اپنی کسی خواہش اور کسی میلان کو دبانے کی طاقت اور اخلاقی قوت ہی نہیں رکھتا وہ تو یہ سمجھتا ہے کہ بابر بعیش کوش کو عالم دوبارہ نیست اور اس عالم میں زندگی بھی مختصر ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ اگر ہم نے اس دنیا میں کوئی عیش اور کوئی لذت ترک کردی یا ہم حاصل نہ کرسکے تو اس زندگی میں ایک منٹ کی توسیع ہوجائے۔ جب سوچ یہ ہوجائے تو کسی کو عیش و عشرت اور لذات و رغبات کے ہاتھوں کون چھڑا سکتا ہے۔ الا یہ کہ وہ اللہ کے سامنے کھڑ آجانے کا ایمان اپنے اندر پیدا کر دے۔ قیامت کے دن کے ثواب اور اجر کا امیدوار ہو اور آخرت کی سزائے خائف ہو جہاں تمام لوگ کھڑے ہوں گے۔
لہٰذا جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہوتا ان کے لئے ہر قسم کی شہوات اور لذات کو خوبصورت بنا دیا جاتا ہے۔ وہ بغیر خوف خدا ، بغیر خوف آخرت اور پھر بلاشرم و حیا ان کے پیچھے کتوں کی طرح بھاگتے ہیں۔ نفس کی فطرت اور پیدائش اس پر ہے کہ یہ لذت کا دلدادہ ہے۔ یہ حسن پرست اور جمال پر مٹنے والا ہے۔ الایہ کہ اسے آیات الہیہ اور رسول ان کریم کی راہنمائی نصیب ہوجائے اور وہ اسے دائرہ ایمان کے اندر لے آئیں اور وہ سمجھ لے کہ یہ جہاں تو فانی ہے۔ جب کوء نفس یہاں تک پہنچ جائے تو اس کے اعمال کا رنگ بدل جاتا ہے۔ اس کا عالم اشواق بدل جاتا ہے۔ اسے پھر اچھے کاموں میں اسی طرح لذت آتی ہے جس طرح مادی لذت ہوتی ہے بلکہ پیٹ اور جسم کی لذت پھر اسے نہایت ہی حقیر و قلیل نظر آنے لگتی ہے۔
یہ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو ایسا پیدا کیا ہے۔ اسے اس قابل بتایا ہے کہ اگر اس کا دل ہدایت کے لئے کھل جائے تو وہراہ ہدایت پا سکے۔ اور اگر اس کا دل بجھ جائے اور شمع ایمان گل کردی جائے تو پھر وہ گمراہی کی راہ پر سرپٹ دوڑتا ہے۔ پھر اس انسانیت کی ہدایت پر ضلالت کے لئے اس نے ایک سنت بھی جاری کردی ہے اور اس کے مطابق وہ ہدایت پاتا ہے یا راہ ضلالت اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم یہ صراحت کردیتا ہے اور خدا اسے اپنا فعل بتاتا ہے کہ وہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔
ربنا لھم اعمالھم فھم یعمھون (82 : 3) ” ہم نے ان کے کرتوتوں کو ان کے لئے خوشنما بنا دیا ہے ، اس لئے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں۔ “ چونک وہ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ، اس لئے اس پر اللہ کی سنت کا نفاذ ہوجاتا ہے اور اس طرح ان کے اعمال اور ان کی لذات اور خواہشات ان کے لئے خوشنما بنا دی جاتی ہیں۔ یہاں تزئین اعمال یعنی اعمال کو مزید بنانے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اس طرح بھٹکتے ہیں کہ جس شہر میں یہ لوگ مبتلا ہوتے ہیں اس شہر نہیں سمجھتے۔ اس لئے یہ شر کے چکر میں رات دن بڑے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ان کو اس کا شعور ہرگز نہیں ہوتا۔
اور جس شخص کے لئے شر کو مزین کردیا گیا ہو اس کا انجام سب کو معلوم ہے۔
Ayah 27:5اولئک الذین لھم شوآء العذاب ……الاخسرون (5)
چاہے یہ برا عذاب ان کو دنیا میں ملے یا آخرت میں۔ لیکن مکمل خسارہ آخرت کا خسارہ ہے۔ وہ انسان کے اعمال کے عین مطابق ہوتا ہے۔ جتنا کوئی برائی کی طرف مائل ہوتا ہے اسی قدر وہاں اس کی سزا سخت ہوتی ہے۔
اب اس سورت کی اس تمہید کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اے نبی ، تم جس مصدر سے قرآن پا رہے ہو یہ تو حلیم و حکیم کا سرچشمہ ہے۔
Ayah 27:6وانک ……لتلقی القرآن من لدن حکیم علیم (6)
“ تلفی کے لفظ میں یہ اشارہ ہے آپ کو علیم و حکیم ذات کی طرف سے براہ راست ہدایات دی جا رہی ہیں اور یہ ذلت ہر چیز کو حکیمانہ انداز میں بنانے والی ہے اور ہر معاملے کی تدبیر علم سے کرنے والی ہے اور اس ذات کے علم و حکمت کا ایک نمونہ یہ قرآن ہے۔ اپنے منہاج کے اعتبار سے ، اپنے احکام و فرائض کے لحاظ سے ، اپنی ہدایات اور طریقہ کار کے لحاظ سے ، اپنی آیات و احکام کے نزول کے اعتبار سے ، اپنے اجزاء کے تسلسل اور اپنے مضامین و موضوعات کے توازن اور ہم آہنگی کے اعتبار سے۔
اب قرآن کریم قصص کو لیتا ہے اور ان قصص سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی حکمت اور الل ہ کی نہایت ہی خفیہ تدابیر اس کائنات میں اور اس قرآن میں کس قدر موثر ہیں۔
درس نمبر 171 تشریح آیات
7……تا……41
حضرت مسویٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حلقہ نہایت اختصار اور تیزی سے اسکرین پر آتا ہے اور گزر جاتا ہے اور سیاق کلام میں یہ آیت
وانک لتلقی ……علیم (82 : 6) ” اے نبی ، بلاشبہ آپ یہ قرآن ایک حکیم وعلیم کی طرف سیپا رہے ہیں “ کے بعد متصاد آتا ہے۔ اب گویا بتایا جاتا ہے کہ نزول قرآن کا یہ علم کوئی انوکھی بات نہیں ہے ، تمام انبیاء اللہ سے ہدایات اور کتب پاتے رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ کا حال بطور نمونہ پیش کریں کہ یہ فریضہ ان کو بھی سونپا گیا۔ وہ فرعون اور اس کے سرداروں اور قوم کے پاس گئے اور قوم نے تکذیب کی۔ جس طرح آج قریش تکذیب کر رہے ہیں۔ جس طرح قوم موسیٰ کو یقین تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو آیات و معجزات پیش کرتے ہیں وہ حق ہیں اور پھر بھی انکار کرتے تھے اور یہ انکار ظلم اور تکبر کی وجہ سے تھا ، یہی روش آج قریش کی ہے لیکن
فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین (82 : 31) ” دیکھ لیں کہ مفسدین کا انجام کیسا ہوا۔ “ یہی انجام قریش کا بھی ہوگا۔ جو محض غرور کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔
Ayah 27:7سورة طہ میں بھی اس قصے کی یہ کڑی لائی گی تھی ۔ جب آپ مدین سے مصر کی طرف لوٹ رہے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی بیوی ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دختر بھی رفیق تھیں۔ ایک ادھیری سیاہ اور سردرات میں آپ سے راستہ گم ہوگیا تھا۔ حضرت کے الفاظ ” میں تو ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے آتا ہوں یا کوئی انکار اچن لاتا ہوں تاکہ تم گرم ہو سکو۔ “ اس وقت حضرت موسٰ کوہ طور کے ایک طرف تھے۔ اور اس زمانے میں یہ رواج تھا کہ بلند ٹیلوں پر ات کے وقت آ گ چلائی جاتی تھی۔ تاکہ اگر کوئی مسافر بھٹک جائے تو اس کی راہنمائی ہو۔ ایسی صورت میں جب کوئی مسافر آتا تو اسے مہمان نوازی بھی ملتی اور وہ سردی میں اپنے آپ کو گرم بھی کرتا اور صحراء میں راستے کی راہنمائی بھی ہوتی۔
انی انست نارا (82 : 8) ” مجھے ایک آگ سی نظر آنی ہے “ دور سے انہوں نے آگ کو دیکھا تو ان کو ایک گونہ اطمینان حاصل ہوگیا اور یہ امید پیدا ہوگئی کہ اس آگ کے پاس جا کر انہیں کچھ نہ کچھ راہنمائی مل جائے گی یا وہ کوئی انگارا لے آئیں گے جس سے وہ آگ جلا کر اس صحراء میں اپنے آپ کو گرم کرسکیں گے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کی طرف آگے بڑھے جسے انہوں نے دیکھا تھا تاکہ وہ وہاں سے کوئی خبر لائیں۔ اچانک یہاں انہیں ایک نہایت ہی معزز اور شاہانہ آواز آتی ہے۔
Ayahs 27:8–9فلما جآء ھا نودی……الحکیم (9)
یہ وہ پکار ہے جس کے ساتھ پوری کائنات ہمقدم ہے اور جس کے ساتھ تمام جہان اور تمام آسمان ہم آہنگ ہیں۔ تمام کائنات اس کے سامنے سہمی ہوئی ہے اور انسان روح اور ضمیر اسے سن کر کانپ اٹھتا ہے۔ یہ وہ آواز ہے جس کے ساتھ زمین و آسمان کا اتصال ہے اور انسان جو ایک چھوٹا سا ذرا ہے وہ عظیم اور بلند ذات کی آواز کو پاتا ہے اور ایک فانی اور ضعیف انسان ایک لافانی اور قوی ذات باری کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور یہ مقام اسے محض فصل رب تعالیٰ سے ملتا ہے۔
فلما جاء ھا نودی (82 : 8) ” جب وہ وہاں پہنچا تو ندا آئی۔ “ پکارا گیا ، یہاں قرآن پکارنے والے کا نام نہیں لیتا ، لیکن وہ معلوم ہے۔ یہ نام نہ لینا اور ماضی مجہول کا صیغہ احترم ، تعلظیم اور جلالت شان کبریائی کے لئے استعمال ہوا ہے۔
نودی ان بورک من فی النار ومن حولھا (82 : 8) ” پکارا گیا کہ مبارک ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس کے ماحول میں ہے۔ “ آگ میں کون تھا اور آگ کے ماحول میں کون تھا ؟ راجح تفسیر یہی ہے کہ یہ آگ دیسی آگ نہ تھی جسے ہم جلات یہیں بلکہ یہ ایک ایسی آگ تھی جس کا مصدر عالم بالا تھا۔ یہ وہ آگ تھی جسے پاک فرشتوں نے عظیم ہدایت کے لئے روشن کیا تھا اور یہ آگ کی طرح نظر آرہی تھی اور یہ پاک روحیں اس میں تھیں لہٰذا یہ ندا کہ جو اس آگ میں ہے وہ مبارک ہے۔ یہ اعلان تھا کہ اس آگ اور اس کے اردگرد جو پاک روحیں ہیں وہ بابرکت ہیں۔ اور اس آگ کے ماحول میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے اور پوری کائنات نے اس اعزاز کو ریکارڈ کردیا کہ یہ خطہ زمین اس پوری کائنات میں بابرکت جگہ ہے ، ایک مقدس مقام ہے اور اس میں اس پر اللہ ذو الجلال کی تجلیات اور برکات کا نزول ہوا ہے اور پھر اس جگہ کے تقدس اور برکت کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کو بھی ریکارڈ کردیا گیا ” کہ پاک ہے ، اللہ سب جہان والوں کا پروردگار ، اے موسیٰ ! میں اللہ زبردست اور دانا۔ “
وسبحن اللہ رب العلمین (82 : 8) یموسی انہ انا اللہ العزیز الحکیم (82 : 9) اس آیت میں اللہ نے اپنی ذات کی پاکیزگی اور پورے جہان کے لئے اس کی ربوبیت کا اعلان کردیا اور یہ بھی بتا دیا کہ جو آواز آرہی ہے وہ میں ہوں جو عزیز و حکیم ہوں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات کے ذریعے پوری انسانیت کو یہ بلندی بخشی گئی اور وہ کائنات کے آسمان پر ایک چمکتا ہوا تارا بن گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس آگ کے پاس سے بہت بڑی خبر مل گئی جو انہوں نے دور سے دیکھی تھی لیکن یہ عظیم خبر ایک عظیم ذمہ داری تھی۔ آپ کو گرمانے والا انگارا بھی مل گیا مگر وہ عوام کو راہ ہدایت کی طرف لانے کی آگ تھی۔
یہ آواز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چننے کے لئے تھی اور ان کے ذمہ فریضہ رسالت عائد کرنے کے لئے تھی اور پیغام بھی ان لوگوں تک پہنچانا تھا جو اس کرہ ارض کے عظیم ترین سرکش تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کو اس کام کے لئے تیار فرماتا ہے اور تربیت دیتا ہے اور دلائل و معجزات کے ساتھ مسلح کرتا ہے۔
Ayah 27:10والق عصاک
یہ یہاں بات اختصار سے کی جاتی ہی اور سورة طہ کی طرح طویل مناجات نہیں ہے۔ یہاں مقصد آواز دینا اور فریضہ عائد کرنا ہے۔ “
فلما راھا تھتز کانھا جآن ولی مدبراً ولم یعقب ط
حضرت مسویٰ نے حکم کے مطابق عصا پھینکا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک سانپ ہے اور زمین پر رینگ رہا ہے ۔ جیسا کہ چھوٹے اور سریع الحرکت سانپ تیزی سے دوڑتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انفعالی طبیعت کے مالک تھے۔ یہ اچانک منظر ان کے لئے غیر متوقع تھا۔ حضرت اس سانپ سے دور بھاگ گئے اور واپس نہ دیکھا۔ یہ ایک ایسی حرکت تھی جو غیر متوقع اور اچانک پیش آجانے کی صورت میں ہر انسان سے صادر ہوتی ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مزاج بھی ایسا تھا کہ وہ جلد متاثر ہوتے تھے۔
اب پھر عالم بالا سے آواز دی جاتی ہے۔ اطمینان عطا کرنے والی آواز اعلان کیا جاتا ہے آپ کا منصب رسالت ہے اور کسی رسول کے لئے ڈرنا مناسب نہیں ہے۔
یموسیٰ لاتخف انی لایخاف لدی المرسلون
’ آپ گھبرائیں نہیں۔ آپ کے اس قدررسالت کا منصب اور فرائض ہیں اور رسول اللہ کے دربار میں ہوتے ہیں اور وہاں ، ان کے ڈرنے کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔
Ayah 27:11الا من ……رحیم (11)
ہمارے ہاں تو وہ لوگ ڈرتے ہیں جو ظالم ہیں الا یہ کہ ظلم کے بعد وہ نیک ہوجائیں تو بھی معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ انہوں نے ظلم ترک کر کے عدل اپنا لای ہے۔ شرک کو چھوڑ کر توحید کا عقیدہ اپنا لیا ہوتا ہے۔ شر کو چھوڑ کر خیر کی راہ لے لی ہے۔ میری رحمت وسیع ہے اور میری مغفرت بہت بڑی ہے۔
اب حضرت مسویٰ کو اطمینان اور قرار نصیب ہوگیا۔ اب اللہ آپ کو دوسرا معجزہ عطا فرماتا ہے لیکن ابھی تک ان کو رسالت کی مہم نہیں بتائی گئی کہ جانا کہاں ہے۔
Ayah 27:12وادخل یدک ……سوآء
یہ عمل بھی ایسا ہی ہوا حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالا اور جب نکالا تو وہ بغیر بیماری کے چمک رہا تھا۔ یہ کوئی مرض نہ تھی بلکہ معجزہ تھا اور اللہ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ اس قسم کی نونشانیاں او معجزات تمہیں دیئے جائیں گے جن میں سے دو کا مشاہدہ اور مظاہرہ تم نے دیکھ لیا ۔ اب حضرت موسیٰ کے سامنے اس مہم کا انکشاف کیا جاتا ہے جو انہوں نے سر کرنی ہے اور جس کے لئے ان کو یوں تیار کیا گیا۔
فی تسع ……فسقین (41)
” یہ (دو نشانیاں) نو نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اس کی قوم کی طرف (لے جانے کے لئے) وہ بڑے بدکردار لوگ ہیں۔ “
یہاں باقی نشانیاں نہیں گنوائی گئیں جبکہ سورة اعراف میں تفصیلات دی گئی ہیں جو یہ ہیں ، خشک سالی ، پیداوار کی کمی طوفان ، ٹٹڈی دل کا حملہ ، جوئیں اور مینڈک اور خون کیوں کہ سورة اعراف میں موضوع سخن یہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ اسلام بڑی قوی نشانیاں دی گئی تھیں لیکن پھر بھی فرعون نے انکار کیا۔ بہرحال ان نشانیوں کی وضاحت کافی اور شافی ہونے کے باوجود قوم نے انکار کردیا۔
Ayahs 27:13–14فلما جآء تھم ……المفسدین (41)
یہ بیشمار نشانیاں ، حق کو باطل سے واضح کرنے والی نشانیاں ، ایسی نشانیاں کہ جس کو اللہ نے دو آنکھیں دی ہیں وہ انہیں دیکھ سکتا ہے۔ جن کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نشانیاں مبصر ہیں یعنی وہ دیکھنے والی ہیں۔ دیکھ دیکھ کر لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف لانے والی ہیں۔ لیکن وہ لوگ ایسے ہٹ دھرم تھے کہ ان کو بھی انہوں نے کہا کہ سحر مبین ہے ، کھلا جادو ہے۔ یہ نہیں کہ وہ دل سے کہتے تھے یا وہ فی الواقعہ ایسا سمجھتے تھے یہ تو انہوں نے محض ظلم اور علوم کی وجہ سے کہا۔ ان کے دل و دماغ تو اس پر مطمئن تھے کہ یہ حق ہے۔ بالکل ان کو کوئی شبہ نہ تھا۔
واستبف تھا انفسھم (82 : 31) ” حالانکہ ان کے دل ان کے قائل ہوچکے تھے۔ “ محض ہٹ دھرمی اور مکا برہ کی وجہ سے کیونکہ یہ ایمان لانا نہیں چاہتے تھے اور نہ کوئی دلیل وہ طلب کرنا چاہتے تھے۔ یہ اپنے آپ کو سچائی سے برتر سجھتے تھے اور اپنے نفوس پر ظلم کر رہے تھے کیونکہ قبول حق میں خود ان کی بھلائی تھی۔
بعینہ یہی حال اکابرین قریش کا بھی تھا۔ یہ قرآن کریم کو سنتے تھے ، ان کو اچھی طرح یقین تھا کہ یہ حق ہے لیکن محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے تھے اور نبی ﷺ کی دعوت کا انکار کرتے تھے یہ دعوت صرف اللہ وحدہ کی طرف تھی۔ وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ ہر حال میں اپنے دین اور عقائد پر قائم رہنا چاہتے تھے کیونکہ اس دین میں ایسے اصول تھے جن کی وجہ سے ان کو مسند حاصل تھی۔ کچھ مفادات حاصل تھے اور یہ مسندیں اور مفادات ان عقائد باطلہ پر مبنی تھ۔ دعوت اسلامی سے ان کے لئے خطرہ ہی یہ تھا۔ اس کی کامیابی سے ان کے یہ مفادات ختم ہوجائیں گے اور ان کا مقام و مرتبہ جاتا رہے گا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے قدموں کے نیچے سے زمین نکلی جا رہی ہے اور ان کے عقائد اور شعور کے اندر ایک زلزلہ برپا ہے اور قرآن کو ” حق مبین “ تھا اور اس کی کارگر ضربات ہر وقت ان پر لگتی رہتی ہیں۔
سچائی کا انکار ہمیشہ اس لئے نہیں ہوتا کہ لوگ اسے جانتے نہیں ہیں ، بلکہ سچائی کا انکار اس لئے ہوتا ہے کہ لوگ جانتے ہیں کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ ان کے نفوس اچھی طرح جانتے ہیں۔ پھر ان منکرین کو اپنی جان کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا بلکہ اپنے حالات اپنے مفادات اور اپنی مصلحتوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ حق کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں حالانکہ سچائی واضح اور بین ہوتی ہے۔
فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین (82 : 31) ” اب دیکھو کہ مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔ “ فرعون اور اس کی قوم کا انجام کیا ہوا۔ قرآن نے دوسری جگہ اس کی پوری تفصیلات دی ہیں۔ یہاں صرف اشارہ کردیا۔ شاید کہ انکار کرنے والوں میں سے کچھ عقلمند مان جائیں۔ قبل اس کے کہ ان کا وہ انجام ہو جو فرعون کا ہوا۔
Ayah 27:15درس نمبر 271 ایک نظر میں
” یہاں حضرت دائود کی طرف صرف ایک اشارہ ہے لیکن پورا قصہ صرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ہے اور اس سے قبل حضرت مسویٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک مختصر کڑی دی گئی ہے۔ یہ سب حضرات انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے اور اس سورت کے آغاز ہی میں قرآن کریم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا۔
ان ھذا ……یختلفون (82 : 68) اس سورت میں حضرت سلیمان علیہالسلام کے قصے کی سب سورتوں کے مقابلے میں زیادہ تفصیلات دی گئی ہیں ، یعنی جہاں جہاں حضرت سلیمان کا تذکرہ ہوا ہے۔ اگرچہ یہاں ان کے حالات زندگی میں سے قصہ ہد ہد اور ملکہ سبا کی تفصیلات ہیں۔ اس کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علہی السلام یہ اعلان فرماتے ہیں کہ اللہ نے ان کو خصوصی طور پر پرندوں کی باتیں سکھانی ہیں اور ہر چیز عطا کی ہے اور اللہ نے ان پر جو فضل و کرم کیا ہے وہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک منظر آتا ہے جس میں حضرت سلیمان اپنے لائو لشکر سمیت چلتے نظر آتے ہیں۔ اس عظیم لشکر میں جن ، انس اور پرندے سب شامل ہیں۔ جب یہ لشکر چلتا ہے تو ایک چھوٹی سی چیونٹی اپنی قوم کو خبردار کرتی ہے کہ ایک عظیم لشکر جرار اس علاقے کا رخ کر رہا ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو بچائو۔ حضرت سلیمان یہ الفاظ سنتے ہیں اور اس پر بھی رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس بات کو پاتے ہیں کہ نعمت تو باتلا ہے ۔ اس لئے وہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ تو اس ابتلا میں مجھے شکر اور کامیابی کی توفیق عطا فرما۔
یہ قصہ اس سورت میں کیوں لایا گیا ہے۔ سورت کے آغاز میں بیان کردیا گیا ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور پھر اسی سورت میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے سامنے ان بیشتر موضوعات پر کلام رتا ہے جن کے بارے میں ان کے اندر اختلاف رائے ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم کہہ آئے ہیں اور حضرت موسیٰ ، حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہم السلام) کے قصص تاریخ بنی اسرائیل کی اہم کڑیاں ہیں۔
یہاں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصے کی جو کڑی پیش کی گئی ہے اس کی اس سورت کے مضمون سے مناسبت کیا ہے۔ یہ کڑی کئی پہلوئوں کے اعتبار سے مناسبت رکھتی ہے۔
اس سورت کا مرکزی مضمون علم ہے جیسا کہ ہم نے اس سورت پر تبصرے میں کہا ہے۔ اور حضرت دائود و سلیمان کے قصے میں سب سے پہلا اشارہ ہی اسطرف ہے۔
” یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان بیشتر باتوں کی تفصیلات بیان کرتا ہے جس میں وہ مختلف الرائے ہیں۔ “
وقد اتینا دائود و سلیمان علماً (82 : 51) ” ہم نے دائود اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ “ اور پھر سلیمان (علیہ السلام) نے اس کڑی میں منطق الطیر کے علم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ کی نعمت کا اعتراف کیا ہے۔
وقال یایھا الناس علمنا منطق اطیر (82 : 61) ” لوگو ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں ۔ “ اور اس قصے کے درمیان ہد ہد اپنی غیر حاضری کا عذر بیان کرتے ہوئے یہ کہتا ہے۔
احطت بمالم تحظ ……یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو تیرے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔ “ اور پھر اس قصے میں ہے کہ جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا ، اس نے کہا کہ میں ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکتے لاتا ہوں۔
سورت کے افتتاح میں تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے ایک کتاب مبین ہے اور اس کو مشرکین مکہ کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے۔ لیکن وہ اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ پھر اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ایک خط کا ذکر ہے جو ملکہ سبا کے نام لکھا گیا۔ لیکن وہ جبم علوم کرلیتی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سچائی کی دعوت دیتے ہیں تو وہ اور اس کی قوم اسے جلد ہی قبول کر کے مطیع فرمان ہوجاتے ہیں۔ خصوصاً جبکہ وہ دیکھتے ہیں کہ جان و انس اور پرندوں کی قوتیں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کر دیگئی ہیں اور یہ اللہ ہی ہے جس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو یہ قوتیں عطا کی ہیں۔ وہی ہے اقتدار اعلیٰ کا مالک ۔
پھر اس سورت میں انسانوں پر اللہ کے انعامات کا بھی ذکر ہے۔ اس کائنات میں اس کے جو نشانات ہیں ان کا بھی ذکر ہے۔ لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ پھر بھی اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور شکر نعمت بجا نہیں لاتے۔ اس قصے میں بھی ایک بندہ شکر گزار کا ذکر ہے ، جو اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں کہ اے اللہ مجھے یہ توفیق دے کہ میں تیری انعامات کا شکر بجا لائوں۔ جو اللہ کی آیات پر غور کرتے ہیں اور ان سے کسی وقت بھی غافل نہیں ہوتے اور نہ وہ اللہ کے انعامات کی وجہ سے سرکشی اختیار کرتے ہیں۔ نہ قوت کی وجہ سے وہ گھمنڈ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس قصے کی مضمون سورت کے ساتھ کئی ربط اور مناسبتیں ہیں اور سورت کے موضوع اور قصے کے اندر جا بجا واضح اشارات موجود ہیں۔
حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کی کہانی کو جس طرح قرآن مجید نے بیان کیا ہے وہ اس بات کا نمونہ ہے کہ قرآن مجید قصص کو کس طرح لاتا ہے اور اس کا قصص کا فنی انداز بیان کیسا ہوتا ہے۔ اس قصے میں تگ و دو ، جذبات و تاثرات ، مختلف مناظر اور مشاہد پائے جاتے ہیں۔ پھر مختلف مناظر کے درمیان گیپ جن میں غیر ضروری حصوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔ اور اس کے دوسرے فنی کمالات ہیں۔
اب ذرا آیات کی تفصیلات
درس نمبر 271 تشریح آیات
51……تا……44
ولقد اتینا دائود ……المومنین (51)
”(یہ اشارہ ہے کہ اب قصے کا آغاز ہونے والا ہے اور یہ افتتاحی کلمات ہیں۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس قصے کے بڑے کرداروں کو ہم نے بڑے بڑے انعامات سے نوازا تھا اور سب سے بڑا اعزاز تو علم ہوتا ہے جو حضرت دائود اور سلیمان (علیہم السلام) کو دیا گیا ۔ حضرت دائود کو جو علوم دیئے گئے تھے قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔ یہ کہ زبور کی آیات کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا فن ان کو دیا گیا تھا ، وہ اس فن میں اس قدر ماہر تھے کہ جب وہ زبور کی آیات پڑھتے تھے تو یہ پوری کائنات انکے ساتھ گنگناتی تھی۔ پہاڑ کی گونج اور پرندوں کی چہچہاہٹ ان کے ساتھ زبور کو گاتے کیونکہ آپ کی آواز بےحد میٹھی تھی۔ وہ سوز دل سے پڑھتے تھے اور اپنے رب کے ساتھ مناجات میں وہ غرق ہوجاتے تھے۔ پھر ان کو اللہ نے جنگی ساز و سامان کی بنیادی ٹیکنالوجی دی تھی۔ وہ اچھی زر ہیں بناتے تھے ، دھاتوں کو پھگلانے میں مہارت رکھتے تھے اور ان سے ہر قسم کی چیزیں بناتے تھے اور وہ ایک بہترین جج تھے اور اس کام میں حضرت سلیمان ان کے مشیر خاص تھے۔
رہے سلیمان (علیہ السلام) تو اس سورت میں وہ پوری تفصیلات دی گئی ہیں جو اللہ نے انکو سکھائیں یعنی پرندوں کی بولیاں اور جس طرح دوسری سورتوں میں ذکر ہے کہ وہ ایک بہترین جج تھے اور ان کے لئے ہوائوں کو بھی مسخر کردیا گیا تھا اور اس قصے کا آغاز بھی اسی اشاریے سے ہوتا ہے۔
ولقد اتینا دائودو سلیمان علماً (82 : 51) ” یہ واقعہ ہے کہ ہم نے دائود اور سلیمان کو علم دیا تھا۔ “ لیکن آیت ختم ہونے سے پ ہے حضرت سلیمان اور حضرت دائود (علیہم السلام) کی جان سے یہ بات آجاتی ہے کہ وہ رب تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں اور علم کی نعمت کی ان کے ہاں بڑی قدر و قیمت ہے۔ وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ نے اس معاملے میں ان کو اپنے مومن بندوں کی ایک بڑی تعداد کے مقابلے میں ترجیح دی ہے۔ یوں وہ علم کی قدر و قیمت اور پھر اس عظیم احسان کا اعتراف کرتے ہیں۔
یہاں اس علم کی نوعیت اور تفصیلات نہیں دی گئیں کیونکہ اللہ کے ہاں مطلق علم ایک فضل الٰہی ہے۔ عام علم کو اللہ کی نعمت بتانا مقصود ہے۔ ہر قسم کا اور ہر نوع علم مطلوب مومن ہے۔ پھر ہر عالم کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کے اس فضل کا شکر ادا کرے۔ اور اللہ کا شکر اور اس کی حمد بیان کرتا رہے اور یہ دعا کرتا رہے کہ اے اللہ یہ علم میرے لئے نافع ہو۔ یہ نہ ہو کہ علم انسان کو اللہ سے دور کر دے ، اللہ کو بھلانے کا سبب بنے حالانکہ علم دینے الا اللہ ہے۔
وہ علم جو قلب انسانی کو اللہ سے دور کرے ، وہ فاسد علم ہے۔ وہ اپنے مقصد اور اپنے ہدف سے دور اور ایک طرف ہوگیا ہوتا ہے۔ ایسا علم صاحب علم کے لئے فلاح و نجات اور سعادت مندی کا باعث نہیں ہوتا اور نہ ایسا علم انسانوں کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ ایسا علم انسانوں کے لئے مصیبت ، بدبختی ، خوف ، قلق ، بےچینی اور بالاخر ہلاکت کا سبب بنتا ہے ۔ کیونکہ یہ علم اپنے مصدر و منبع سے کٹ گیا ہے ، اس کی سمت غلط ہے اور اس نے اللہ تک پہنچنے کی راہ گم کردی ہے۔
اس وقت انسانیت علم کے ایک اعلیٰ مرتبے تک پہنچ چکی ہے۔ خصوصاً ایٹم کے توڑنے کے بعد۔ اور پھر اسے مختلف مفید کاموں میں استعمال کرنے کے بعد۔ لیکن جن لوگوں کے ہاتھ یہ ایٹمی علم آیا اور جن کے دلوں میں خدا کا خوف نہ تھا۔ ان کے ہاتھوں انسانیت نے کس قدر کڑوا پھل چنا اور کھایا۔ یہ اس لئے کہ ان لوگوں کے دل میں خدا کا خوف خدا کی تعریف اور خدا کی طرف توجہ نہ تھی۔ چناچہ اس علم نے اور ایسے علماء نے ہیرو شیما کا رنامہ سر انجام دیا۔ ناگاسا کی کی تباہی مچائی اور ان واقعات کے بعد اب شرق و غرب کے تمام انسان رات دن اس کرہ ارض اور تمام انسانیت کی تباہی کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس تمہید کے بعد کہ حضرت دائود سلیمان دونوں کو ہم نے علم سے نوازا اور انہوں نے اللہ کو حمد اور تعریف کی کہ اللہ نے ان پر احسان کیا اور علم کی قدر و قیمت کو محسوس کیا۔ اب صرف حضرت سلیان (علیہ السلام) کی زندگی کے واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔
Ayah 27:16وورث ……المبین (61)
حضرت دائود کو نبوت اور علم کے ساتھ ساتھ حکومت بھی دی گئی تھی لیکن ان دونوں پر اللہ کے فضل و کرم کے بیان میں ان کے اقتدار کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صرف علم و حکمت کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ علم و حکمت کے مقابلے میں اقتدار ایک حقیر چیز ہے۔
وورث سلیمان دائود (82 : 61) ” او سلیمان نے دائود کی وراثت پانی۔ “ یہاں وراثت سے مراد بھی علم کی وراثت ہے کیونکہ علم و حکمت ہی اس قابل ہے کہ اس میں کوئی پیغمبر دوسرے کا وارث بنے اور اس بات کی تاکید اس سے بیھہوتی ہے کہ حضرت سلیمان لوگوں میں یہ اعلان کرتے ہیں۔
وقال یایھا الناس ……من کل شیء (82 : 61) ” اے لوگو ، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں۔ “ تو علم کا ذکر کردیا گیا اور باقی نعمتوں کا ذکر اس کے ضمن میں کردیا گیا۔ گویا دائود نے یہ چیزیں نہیں دی ہیں بلکہ دینے والا اللہ ہے جہاں سے علم آیا۔
وقال ……کل شیء (82 : 61) ” لوگو ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں۔ “ ان باتوں کا حضرت سلیمان (علیہ السلام) لوگوں میں اعلان کرتے ہیں۔ یہ اعلان وہ بطور تحدیث نعمت کرتے ہیں اور اللہ کے ہاں اپنے مقام فضیلت کے لئے کرتے ہیں ، بطور فخر و مباہات نہیں کرتے۔ یہ کہ آپ لوگوں پر رعب جماتے تھے اور ایسی باتوں کا ذکر کرتے تھے جو ان میں نہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ذکرہوا۔
ان ھذا لھو الفضل المبین (82 : 61) ” بیشک یہ اللہ کا نمایاں فضل ہے۔ “ یعنی اللہ کا فضل ہے اپنے بندے پر کیونکہ پرندوں کی بولیوں کی تعلیم پر صرف اللہ ہی قادر ہے اور اس طرح حضرت دائود سلیمان کو علی العلوم تمام انعامات دیئے گئے تھے۔ یہ بھی اللہ ہی دے سکتا ہے۔
پرندوں ، حیوانات اور حشرارت الارض کو اللہ نے ایک دور سے کو سمجھانے کے لئے وسائل دیئے تھے اور یہ ان کی زبان اور منطق ہے ۔ اللہ ان تمام جہانوں کے خالق ہیں۔ فرماتے ہیں۔
وما من دآبۃ فی الارض ولا طئر یطریر بجناحیہ الا امم امثالکم (الانعام : 83) ” زمین پر چلنے الے جتنے جانور ہیں اور اڑنے والے پرندے جو اپنے دوپروں کے ساتھ اڑتے ہیں وہ تمہیں طرح امتیں ہیں۔ “ یہ چزیں امت تب ہو سکتی ہیں جب ان کے درمیان اجتماعی روابط ہوں۔ جن کے مطابق وہ رہتے ہوں اور ایسے وسائل اور ذرائع ہوں ، جن کے ذریعے وہ ایک دور سے کو سمجھتے ہیں۔ بیشمار حشرات حیوانات اور پرندوں کے اندر یہ چیزیں نظر آتی ہے۔ حشرارت الارض کی اقسام کے ماہرین نے اپنے اندازوں اور مشاہدوں کے ذریعے ان انواع کے ذرائع تفاہم کی بعض علامات دریافت بھی کی ہیں جو اگر چہ ظنی ہیں۔ رہا وہ علم جو حضرت سیمان (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا وہ ان کے ساتھ خاص تھا اور وہ معجزانہ انداز میں ان کو دیا گیا تھا وہ عام انسانوں کا عام مشاہدہ نہ تھا۔ نہ وہ ایسا علم تھا جس طرح ہمارے دور میں مشاہدہ اور تتبع سے بعض لوگوں نے بعض انواع کے بارے میں معلوم کی ہیں۔ یہ انسانی علوم ظن وتخمین ہیں۔ ان کی نوعیت اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علم کی نوعیت مختلف ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ بطور تاکید مزید اس بات کی وضاحت کر دوں کیونکہ بعض جدید مفسرین کو سائنس کی علمی کامیابیوں نے اس قدر متاثر کردیا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تفسیر جدید علمی انکشافات کی روشنی میں کرتے ہیں۔ ان مفسرین نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علم منطق الطیر کی ایسی ہی تشریح کی ہے کہ یہ ایسا ہی علم تھا جیسا کہ دور جدید کے بعض ماہرین نے حشرارت الارض اور حیوانات کی بعض انواع و اجناس کے بارے میں معلوم کیا ہے۔ ایسی کوششیں دراصل قرآنی معجزات کو اپنی حقیقی ماہیت سے نکال دیتی ہیں۔ یہ دراصل ایک شکست خوردہ انداز فکر ہے اور جدید سائنس کے سامنے غیر ضروری طور پر بچھ جاتا ہے۔ حالانکہ سائنس کی انکشافات بہت ہی حقیر و قلیل ہیں جبکہ اللہ کے لئے یہ بات کوئی مشکل امر نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کو حیوانات ، حشرارت اور طیور و حوش کے وہ تمام طریقہ اظہار اور مکالمہ سمجھا دے اور معجزانہ انداز میں سمجھا دے۔ بغیر سائنس ریسرچ اور جہد کے اللہ کے لئے یہ اس طرح آسان ہے کہ اس نے انسانوں اور حیوانوں کے درمیان جو پردہ حائل کردیا ہے بس صرف اسے ہٹانا ہے وہ تو تمام انواع کا خالق ہے۔
پھر یہ بات اس عظیم معجزے کا ایک پہلو تھا جو سلیمان (علیہ السلام) کا دیا گیا تھا۔ اس کے دوسرا مصدر یہ تھا کہ حضرت کے لئے جنوں اور پرندوں کی ایک بڑی تعداد کو مسخر کردیا گیا تھا تاکہ وہ آپ کی حکومت کے ماتحت ہوں اور آپ کے لئے پوری طرح مطیع فرمان ہوں ، جس طرح انسانوں کی جو افواج آپ نے بھرتی کر رکھی تھیں اور پرندوں میں سے جو گروہ آپ کے زیر نگیں کردیا گیا تھا اسے اللہ نے ایک خاص قوت مدد کہ دی تھی اور وہ قوت ان جیسے عام پرندوں میں نہ تھی۔
یہ بات ہد ہد کے قصے سے معلوم ہوتی ہے جس نے ملکہ سبا کی مملکت کے حالات معلوم کئے اور اس نے ان کے حالات کو اس طرح سمجھا جس طرح کہ اعلیٰ درجے کا عقلمند اور متقی شخص سمجھ سکتا ہے اور یہ بھی اس معجزے کا ایک حصہ تھا جو حضرت سلیمان کو دیا گیا تھا۔
اللہ کی یہ سنت ہے کہ اللہ کی مخلوق میں جو حیوانات پائے جاتے ہیں ان کے درمیان عقلمندی کی سطح اونچی اور نیچی تو ہو سکتی ہے لیکن کسی حیوان کو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا ہے کہ اس کی قوت مدر کہ انسان سے بڑھ جائے یا اس کے برابر ہوجائے۔ یہ حیوانات اور طیور کی خلقت میں سنت الہیہ نہیں ہے۔ اور نہ یہ سنت اس پوری کائنات کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور سنت الہیہ کے تابع ہے۔ یہ سنت اول روز سے ایسی ہی چل رہی ہے۔
آج ہمارے ہاں جو ہد ہد پایا جاتا ہے ، ہزار باملین سال پہلے بھی ہد ہد اسی نہج پر پیدا ہو رہا تھا۔ جب سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ کیونکہ اللہ نے ہر حیوان کی اندر ایسے جینز پیدا کئے ہیں کہ آج کا ہد ہد ہزار ہا ملین سال پہلے پیدا کئے جانے والے ہد ہد کی پوری کاپی ہے۔ اس کے اندر جو اور جس قدر تبدیلی بھی ہو وہ اپنی نوعیت کے دائرے سے نہیں نکل سکتا۔ یہ بھی سنت الہیہ کا ایک پہلو ہے اور اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
لیکن ان دونوں حقائق کے باوجود یہ نوامیس فطرت اور یہ سنت الہیہ اس بات سے مانع نہیں ہیں کہ اللہ اپنی قدرت کے اصولوں کے اندر استنائی صورت پیدا کر دے۔ بعض اوقات یہ استثنائی حالت بھی دراصل ناموس عام اور سنت جاریہ ہی کا ایک حصہ ہوتی ہے لیکن ہم اس مخصوص پہلو سے خبردار نہیں ہوتے۔ اس جزئی ناموس اور استثنائی حالت کا علم دراصل صرف اللہ کو ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بظاہر چلتے ہوئے اصول کو روک دیتا ہے۔ اس طرح سنت الہیہ میں بظاہر جو تبدیلی ہوتی ہے وہ بھی ایک برتر سنت ہوتی ہے۔ یہی تھی کہ کہانی ہد ہد اور سلیمان کی اور اللہ نے ان قوتوں کو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کردیا تھا۔
اب ہم اس نکتے سے سلیمان (علیہ السلام) کے قصے کی طرف آتے ہیں کہ حضرت دائود کی وراثت پا کر انہوں نے اللہ کی طرف سے کیا کیا انعامات پائے۔
Ayah 27:17وحشر ……یوزعون (71)
یہ تھا حضرت سلیمان کا لشکر۔ بہت بڑی تعداد میں ہر طرف سے اٹھایا ہوا۔ جن انس اور پرندوں پر مشتمل۔ انسان تو معلوم ہیں ، جن وہ مخلوق ہے جس کے بارے میں خود قرآن نے معلومات دی ہیں اور ان کی حقیقت کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ وہ آگ کے شعلے سے پیدا شدہ ہیں۔ یعنی ایسے شعلے جو موجوں کی شکل میں اٹھتے ہیں۔ بشر ان کو نہیں دیکھ سکتے مگر وہ بشر کو دیکھ سکتے ہیں۔
انہ یراکم و قبیلہ من حیث لاترونھم ” وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں دیکھتا ہے مگر تم اسے نہیں دیکھتے۔ “ یہ آیت اگرچہ ابلیس کے بارے میں ہے لیکن وہ جنوں میں سے تھا۔ پھر ان جنوں کے اندر یہ قوت ہے کہ یہ انسانوں کے دلوں میں برائی کے وسوسے ڈالتے ہیں اور پھر یہ انسانوں کو اللہ کی معصیت پر آمادہ کرتے ہیں ۔ لیکن اس کی تفصیلی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے اور جنوں کا ایک طائفہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان بھی لایا تھا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں نہیں دیکھا۔ نہ آپ نے ان کے ایمان کو سنایا دیکھا۔ البتہ اللہ نے اس بات کی اطلاع حضرت نبی ﷺ کو دی ۔
قل اوحی ……احداً (2) (28 : 1-2) ” اے پیغمبر کہہ دے ، میری طرف یہ وحی کی گئی ہے۔ ایک گروہ جس نے کان لگا کر سنا اور پھر کہا ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے ، جو راہنمائی کرتا ہے عقلمندی کی راہ کی طرف تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے والے نہیں ہیں۔ “ ہمیں اس کا علم ہے کہ جنوں کا ایک گروہ بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زیرنگیں تھا۔ جو آپ کے لئے محرابی عمارات ، تصویریں اور بڑے بڑے حوضوں جیسے کھانے کے لگن بناتا تھا اور یہ جن آپ کے لئے سمندر میں غوطے بھی لگاتے تھے اور آپ کے دوسرے احکام بجالاتے تھے اور یہ سب آپ کے لشکر میں انسانوں اور پرندوں کے ساتھ موجود تھے۔
اور یہ جو ہم کہتے ہیں کہ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے جنوں اور انسانوں کا ایک گروہ مسخر کردیا تھا تو اس لئے کہ تمام روئے زمین کے جن و انس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر میں شامل نہ تھے کیونکہ حضرت سیمان کی حکومت کی حدود فلسطین ، شام ، عراق تک محدود تھیں۔ اسی طرح تمام جن اور تمام پرندے بھی آپ کے لئے مسخر نہ تھے۔ ان میں سے ایک گروہ آپ کے لئے مسخر کردیا گیا تھا۔
جن سب کے سب مسخر نہ تھے۔ اس لئے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا ، اس کی ذریت بھی جن تھی جس طرح قرآن مجید میں ہے۔
کان من الجن اور سورت الناس میں ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے اور حضرت سلیمان کے زمانے میں بھی شیطان جنات لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے ، لوگوں کو گمراہ کرتے تھے اور تمام شر کے کاموں پر آمادہ کرتے تھے۔ لہٰذا تمام جن حضرت سلیمان کے لئے مسخر نہ تھے ورنہ ان کی تسخیر میں ہوتے ہوئے وہ کس طرح فسادی کام کرتے۔ کیونکہ حضرت سلیمان ایک نبی تھے اور لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے تھے لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ جنات کا ایک گروہ ان کے تابع تھا۔
پرندوں کے سلسلے میں بھی یہی استدلال ہے کہ جب پرندہ حاضر نہ پایا گیا ، تو معلوم ہوا کہ تمام پرندے مسخر نہ تھے ورنہ ہزار ہا پرندوں میں سے ایک کا ہونا نہ ہونا محسوس نہ ہونا۔ جب ہد ہد نہ پایا گیا تو آپ نے فرمایا۔
مالی لا اری الھدھد (82 : 2) ” یہ ہد ہد کہاں گیا میں اسے نہیں دیکھ رہا ہوں۔ “ معلوم ہوا کہ یہ ایک مخصوص ہد ہد تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ہی ہد ہد ہو۔ یا یہ کہ جو ہد ہد ڈیوٹی پر تھا وہ موجود نہ تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس ہد ہد یا مسخر ہدہدوں کو اللہ نے ادراک کی ذرا زیادہ قوت دے رکھی تھی جو اور ہدہدوں میں نہ تھی۔ اور یہ قوت مدر کہ صرف ان کے پرندوں کے لئے تھی جو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کئے گئے تھے۔ کیونکہ ان آیات سے ہد ہد کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ذہین اور نیک پرندہ تھا۔
غرض حضرت سلیمان کے لئے جن و انس اور وحوش و طیور کی ایک عظیم فوج اٹھائی گئی تھی۔ یہ ایک عظیم فوج تھی اور یہ سب کے سب بےحد منظم تھے۔ یہ غیر منظم بھیڑ کی شکل میں نہ تھی۔ اس لئے ان کو افواج کہا گیا ہے اور جنود کے لفظ سے دونوں مفہوم ظاہر ہوتے ہیں یعنی کثرت تعداد اور تنظیم ۔
Ayahs 27:18–19حتی ……عبادک الصلحین (91)
یہ لشکر جب نکلا ، جس میں انسان ، جن او طیور شامل تھے۔ نہایت تنظیم اور ترتیب کے ساتھ اس کا اول اس کے آخری حصہ سے مربوط تھا۔ اس کی صفیں منظم تھیں اور اس کی حرکت بھی منظم تھی۔ یہ لشکر ایک ایسی وادی میں پہنچا جہاں چیونٹیاں بڑی تعداد میں تھیں۔ اس کثرت سے کہ اس ودی کا نام ہی وادی نمل تھا۔ تو ایک ایسی چیونٹی نے جو ان کی سربراہ تھی ، چیونٹیوں سے کہا۔
ادخلوا مسکنکم (82 : 81) ” اپنے گھروں میں داخل ہو جائو۔ “ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ چیونٹیوں بھی شہد کی مکھیوں کی طرح بہت منظم ہوتی ہیں۔ ان کے اندر ڈیوٹیاں تقسیم ہوتی ہیں اور یہ ایک عجیب نظام کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہیں۔ ایسے نظام کے ساتھ کہ خود انسانوں کے لئے اس قدر منظم زندگی بسر کرنا مشکل ہے۔ ان کو بڑی ترقی یافتہ عقل اور بلند قوت مدر کہ دی گئی ہے تو اس چیونٹی نے اپنی زبان میں کہا۔
لا یحطمنکم سلیمن و جنودہ وھم لایشعرون (82 : 81) ” کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو “ ۔ حضرت سلیمان نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا۔ ان کا دل بہت خوش ہوا کہ چیونٹی کیا احکام دے رہی ہے۔ انہوں نے اس پر تعجب کیا کہ ایک چیونٹی حضرت سلیمان کی شان کو جانتی ہے۔ خطرہ محسوس کرتی ہے ، جبکہ ان کے دل میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ ان کو اذیت دیں جس طرح ایک چھوٹا بڑے کی اذیت سے ڈرتا ہے۔ حضرت سلیمان کو خوشی اس پر ہوئی کہ اس قدر چھوٹی مخلوق بھی ان کے بارے میں ادراک رکھتی ہے اور پھر تعجب بھی ہوا کہ ایک چیونٹی کی اطاعت اس کے ماتحت سمجھتے ہیں اور کرتے ہیں۔ ان کو اللہ کی مخلوقات اور عجائبات پر بڑا ، تعجب ہوا۔
جب حضرت سلیمان کو یہ سب باتیں معلوم ہوئیں تو
فتبسم ضاحکا من قولھا (82 : 91) ” سلمان اس کی بات پر مسکراتے ہئوے ہنس پڑا۔ “ لیکن اس مشاہدے نے ان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان کے دل کو رب تعالیٰ کی طرف متوجہ کردیا۔ جس نے اسے یہ خارق عادت علم سے نوازا۔ یوں انسانوں اور دوسری مخلوقات کے درمیان راز کے جو پردے حائل تھے وہ ہٹا دیئے گئے۔ چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نہایت عاجزی کے ساتھ رب کی طرف متوجہ ہوئے۔
وقال رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی و علی
والدی (82 : 91) اور کہا اے میرے رب ، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اسا حسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے۔ “
اے رب یہ براہ راست ایک خدا رسیدہ شخص کی دعا ہے۔ اوزعنی یعنی مجھے جمع رکھ میرے شعور اور میرے اعضا جمع رکھ ، میرے دل اور میری زبان کو قابو میں رکھ۔ میرے خیالات اور خلجانات کو منضبط کر دے اور میرے کلمات اور میری عبادات کو مجتمع کر دے۔ میرے اعمال اور میری سرگرمیوں کو منضبط کر دے۔ میری تمام طاقتوں کو مجتع منضبط کر دے۔ میرے وجوہ کو اول سے آخر تک ایک کر دے۔ یہ سب مفہومات ” اوزعنی “ میں شامل ہیں۔ تاکہ میں پورے کا پورا مجسمہ شکر بن جائوں۔ ان انعامات کے عوض جو مجھ پر اور میرے والدین پر کئے گئے ۔
اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قلب پر ان انعامات کا اثر تھا۔ ان پر جو اثر تھا اس کی نوعیت بھی اس سے ظاہر ہوتی ہے اور ان کا وجود اور ان کا وجدان اللہ کے فضل و کرم کی اس بارش سے سرشار تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان پر اور ان کے والدین پر اللہ کا دست شفقت ہر وقت نعمت ، رحمت اور فضل و کرم کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔
” اے میرے رب ، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا۔ “
وان اعمل صالحا ترضہ (82 : 91) ” اور میں ایسا عمل کرتا رہوں جو تجھے پسند آئے۔ “ عمل صالح بھی دراصل اللہ کا فضل وکرم ہوتا ہے اور یہ اس شخص پر ہوتا ہے۔ جو اللہ کا شکر گزار ہو اور سلیمان (علیہ السلام) ایسے شکر گزار ہیں کہ اس معاملے میں وہ اللہ کی استعانت طلب کرتے ہیں کہ شکر بھی اللہ کی امداد کے بغیر ممکن نہیں ہے اور توفیق عمل بھی اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اس نکتے کا اچھا شعور تھا۔
وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین (82 : 91) ” اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر۔ “ حضرت جانتے ہیں کہ اللہ کے بندوں میں داخل ہوجانا اور ان کے ساتھ ہو لینا بھی اللہ کی رحمت ہے۔ اس سے بھی انسان کی مدد ہوتی ہے۔ اور انسان کو اچھے کام کی توفیق ہوجاتی ہے۔ پھر وہ صالحین کے ساتھ چلتا ہے ، اللہ سے دعا کرتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں میں ہو جن پر تیرا رحم ہوتا ہے ، جو تیری راہ کے سالک ہیں اور اس گروہ میں ہیں۔ حضرت سلیمان اللہ کے سامنے عاجزی کرتے ہیں حالانکہ وہ نبی ہیں انس ، جن اور طیور ان کے لئے مسخر ہیں لیکن وہ پھر بھی اپنے آپ کو اللہ کی رحمت کا محتاج تصور کرتے ہیں ، وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان سے عمل صالح کی شکر نعمت میں کتواہی نہ ہوجائے۔ غرض تیز احساس ، ایسا ہی شعور ، اللہ کا خوف و خشیت ، اللہ کی رضا اور رحمت کی طلبگاری کے پختہ شعور کے لمحات ہی ہوتے جن میں اللہ کی نعمتیں اپنے خاص بندوں پر کھلی نازل ہوتی ہیں ، جس طرح حضرت سلیمان پر نازل ہوئیں۔
اب یہاں ہمارے سامنے ایک نہیں ، دو معجزات ہیں۔ ایک معجزہ یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو علم ہوگیا ہے اور دوسرا یہ کہ چیونٹی کو یہ علم ہوگیا ہے کہ یہ لشکر سلیمان (علیہ السلام) کا ہے۔ پہلا معجزہ تو یوں ہے کہ حضرت سلیمان کو اللہ نے تعلیم دی۔ وہ نبی تھے ، انسان تھے اور انسان کے بارے میں ایک انسان سہولت سمجھ سکتا ہے کہ اسے چیونٹی کے احکامات کا علم ہوگیا۔ لیکن دوسرا معجزہ جو چیونٹی کے قول میں ہے تو اس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ چیونٹیوں کو معلوم ہوگیا کہ انسان ایک بڑی مخلوق ہے اور یہ ان کو روند ڈالیں گے۔ ہر زندہ مخلوق کے اندر زندہ بچانے کا داعیہ ہوتا ہے۔ اسی طرح چیونٹیوں میں بھی یہ شعور ہوگا۔ رہی یہ بات کہ ایک چیونٹی کو یہ علم کیسے ہوگیا کہ بڑی مخلوق کا یہ لائو و لشکر سلیمان (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ بہرحال ایک معجزہ ہے اور اسے معجزہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ نے اسے معجزانہ طور پر یہ بات سکھا دی تھی۔
اب آیئے سلیمان (علیہ السلام) اور ہد ہد کے واقعہ اور ملکہ سبا کے ساتھ معاملات کی طرف۔ اس قصے میں چھ اہم مناظر ہیں۔ ان مناظر کے درمیان خلا ہے۔ غیر ضروری واقعات کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ درمیانی واقعات و مناظر دیکھنے کے بعد خود ذہن میں آجاتے ہیں۔ اس طرح قصے بیان کرنے میں ایک اعلیٰ فنی مظاہرہ ہوتا ہے اور ان مناظر کے درمیان بعض سبق آموز تبصرے بھی ہوتے ہیں جن میں انسانی شعور کو اس مقصد اور ہدف کی طرف متوجہ کردیا جاتا ہے۔ جس کے لئے یہ قصہ لایا گیا ہے۔ اس طرح قصہ لانے کا حقیقی مقصد پورا ہوجاتا ہے۔ یوں قصے کا فنی اسلوب اظہار کی خوبصورتی اور اخلاقی سبق اور دینی تعلیم دونوں مقاصد پورے ہوجاتے ہیں۔
سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں بات شروع کرتے وقت ہی انس ، جن اور طیور کا ذکر ہوگیا تھا۔ جس میں سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ کی نعمتوں میں سے نعمت علم کا اشارہ بھی تھا۔ لہٰذا اس قصے میں انسانوں ، جنوں اور طیور کا اہم رول ہر جگہ موجود ہے اور ان کے سب کردار کا تعلق پھر علم کے ساتھ ہے اور اس سورت کے مقدمہ میں بھی ان اہم کرداروں کی طرف اشارہ تھا اور یہ قرآنی قصوں کی اہم خصوصیت ہے۔
پھر اس قصے میں جو کردار ہیں ان کی شخصیت ان کی ممتاز صفات اور خصوصیات بھی قصے میں موجود ہیں۔ حضرت سلیمان کی شخصیت ، ملکہ سبا کی شخصیت ، ہد ہد کی شخصیت ، ملکہ سبا کی حاشیہ نشینوں کی شخصیات اور ان شخصیات اور کرداروں کی نفسیات ، سوچ اور میلانات سب کے سب قصے میں موجود ہیں۔
……
پہلا منظر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی لشکر کشی کا ہے یا یہ سامان حرب کی سالانہ پریڈ ہے۔ یہ لشکر نکلتا ہے جس میں جن ، انس اور طیور ہیں اور یہ وادی نملہ سے گزرتا ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی گفتگو سنتے ہیں اور اللہ کی طرف متوجہ ہو کر شکر بجا لاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللھم زدفزد