27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

” آسمان اور زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی نہ ہو “۔

وما من غائبۃ فی السماء والارض الا فی کتب مبین (27: 75) فکر و خیال اب زمین و آسمان کے وسیع میدان میں چلا جاتا ہے۔ زمین و آسمان کے اندر چھپے ہوئے بھید تو بیشمار ہیں۔ بیشمار راز ، بیشمار قوتیں ، بیشمار عجوبے ، سب کے سب اللہ کے علم و ناموس کے پابند۔ کوئی چیز بھی علم الٰہی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اور نہ وہ بنیست علم الٰہی غائب ہے۔ یہ حاضر و غائب تو انسانی علم کی تقسیم ہے۔ اس سورت کی تذکیر تو علم پر ہے۔ پوری سورت میں علم کی طرف اشارات ہیں اور اس سبق کے اختتام پر یہ آخری اشارہ ہے۔ اللہ کے علم مطلق کے حوالے سے یہاں علم الٰہی نے کس طرح قرآن کریم میں فیصلہ کن اور دو ٹوک باتیں سامنے لاکر بنی اسرائیل کے وہ مسائل حل کر دئیے جس میں وہ صدیوں سے مختلف فیہ تھے۔ یہ قرآن اللہ کے علم کا ایک حصہ اور نمونہ ہے۔ اور اللہ کے فضل میں سے ایک فضل ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک گونہ تسلی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو اللہ کے اس آخری فیصلے کی طرف بلاتے رہیں۔
Ayahs 27:76–81

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

” یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثر ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ، ایمان لانے والوں کے لیے

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

۔ یقیناً (اسی طرح) تیرا رب ان لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

پس اے نبی ﷺ اللہ پر بھروسہ کرو ، یقینا تم صریح حق پر ہو

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ، نہ ان بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو ، جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں

ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81) نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے بصورت انسان پیدا ہوئے۔ ایک جماعت نے کہا کہ ابن ازلی نہیں ہے ، جس طرح باپ ازلی ہے۔ ہاں وہ عالم سے قبل پیدا کردہ ہے۔ لہٰذا وہ رب سے کم درجے کا ہے اور رب کے تابع فرمان ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ روح القدس اقتوم نہیں ہے اور نیقیا کی مجلس منعقدہ 325 نے یہ فیصلہ کیا اور قسطنطینہ کی مجلس 381 نے اس کی توثیق کی کہ ابن اور روح القدس باپ کے برابر ہیں اور یہ بھی لاہوت کی وحدت کا حصہ ہیں۔ یہ بیٹے بھی ازل ہی میں پیدا ہوئے تھے جبکہ روح القدس رب سے نکلے ہیں۔ اور طیفلہ کی مجلس منعقدہ 589 نے یہ فیصلہ کیا کہ روح القدس ابن سے نکلا ہے۔ اس نکتے پر مشرقی اور مغربی کنیہ کے درمیان افتراق پیدا ہوگیا جو آج تک نکتہ اختلاف ہے۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو اس نے ایک فیصلہ کن بات کردی کہ وہ ایک کلمہ ہے جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔ اور وہ بشر ہیں ان ھو الا ۔۔۔۔۔ اسراء یل (43: 59) ” نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنا دیا “۔ یہ تھی وہ فیصلہ کن بات جس میں ان کے درمیان اختلاف رائے تھا۔ اسی طرح بنی اسرائیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سولی پر چٖڑھائے جانے کے مسئلے میں بھی اختلاف ہوا۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کو سولی پر چڑھایا گیا۔ آپ فوت ہوگئے اور دفن کر دئیے گئے اور تین دنوں کے بعد آپ اپنی قبر سے نکلے اور آسمانوں کی طرف اٹھالیے گئے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے حواریوں میں سے ایک شخص یہوذا کو حضرت مسیح کے مشابہ بنا دیا گیا اور اس کو سولی دے دی گئی اس لیے کہ اس شخص نے حضرت مسیح کے ساتھ خیانت کی تھی اور حکومت کو آپ کی نشاندہی کی تھی اور آپ گرفتار ہوگئے تھے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے ایک حواری شمعون کو آپ کا مشابہ بنا دیا گیا اور وہ گرفتار ہوئے۔ قرآن کریم نے اصل بتا دی وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم (4: 157) ” انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر چڑھایا ، لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا “۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید نے فرمایا : یا عیسیٰ انی ۔۔۔۔۔۔ ومطھرک (3: 55) ” اے عیسیٰ میں تمہیں واپس لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں پاک کرنے والا ہوں “۔ یہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں فیصلہ کن بات تھی۔ اس سے قبل یہودیوں نے بھی تورات کی شریعت کو بدل دیا تھا۔ کئی احکام میں تحریفات کردی گئی تھی۔ قرآن مجید آیا تو اصل شریعت بتا دی۔ وکتبنا علیھم فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ قصاص ” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ “۔ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کے انبیاء کے بارے میں حقائق بتائے۔ اور ان حقائق میں سے ان قصے اور کہانیوں اور افسانوں کو علیحدہ کرکے صاف کردیا جو ان حقائق کے ساتھ انہوں نے ناحق ملا دئیے تھے۔ یہ افسانے ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی نبی بھی معصوم اور پاک ہوکر نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے افسانوں کے چند نمونے مشہور ہیں۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ انہوں نے ابو مالک شاہ فلسطین اور فرعون شاہ مصر کے سامنے اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پیش کیا۔ اور ان کے کہنے کے مطابق حضرت ابراہیم ان کی نظروں میں مقام بلند حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا نام اسرائیل تھا ، انہوں نے خود اپنے باپ اسحاق سے ، حضرت ابراہیم کی برکات حیلہ سازی ، جھوٹ اور چوری کے طور پر حاصل کیں۔ جبکہ یہ تبرکات ان کے بڑے بھائی عیصو کی ملکیت تھیں۔ اور حضرت لوط کے بارے میں ان کی روایات یہ ہیں کہ ان کی دو بیٹیوں نے ان کی میراث اوروں کے پاس نہ چلی جائے اور جس طرح ان لڑکیوں نے چاہا ایسا ہی ہوا۔ اور داؤد نے اپنے محل میں ایک خوبصورت عورت کو دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ ان کے فوجی کی بیوی ہے۔ پھر اس فوجی کو انہوں نے ایک ہلاکت آفرین مہم میں بھیجا تاکہ وہ بیوی کو حاصل کرسکیں۔ اور سلیمان لعل کی عبادت کی طرف مائل ہوگئے۔ محض اپنی عورتوں میں سے ایک عورت کو خوش کرنے کے لئے ، کیونکہ ان کو اس کے ساتھ محبت تھی اور وہ اس کے مطالبے کو رد نہ کرسکتے تھے۔ یہ تھے ان کے الزامات اپنے پیغمبروں پر۔ اور جب قرآن کریم نازل ہوا تو اللہ نے تمام پیغمبروں کی صفائی بیان کی اور ان اوہام اور افسانوں کو پیغمبروں کی سیرتوں سے نکال دیا۔ کیونکہ یہ اوہام یہود و نصاریٰ نے خود اپنی کتابوں کے اندر داخل کر دئیے تھے۔ خصوصا قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی ذات کے ساتھ منسوب تمام غلط باتوں کی نفی کی اور وہ صحیح تعلیمات بیان کردیں جو اللہ کی طرف سے تھیں۔ اس مفہوم میں اس قرآن کو سابقہ کتب کے لیے مہیمن کہا گیا ہے کہ وہ سابقہ کتب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور تمام اختلافی اور جدلیاتی مسائل میں فیصلہ کن بات کرتا ہے۔ وانا لھدی ورحمۃ للمومنین (27: 77) ” اور یہ ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے “۔ یہ وہ ہدایت ہے جو اہل ایمان کو ضلالت اور اختلاف سے بچاتا ہے۔ ان کو ایک منہاج حیات دیتا ہے۔ زندگی کی راہ میں ان کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور ان کو اپنی تعلیماے اور نظریات دیتا ہے جو اس پوری کائنات میں موجود سنن الہیہ سے ہم آہنگ ہیں۔ اور یہ قرآن ہدایت کے ساتھ رحمت بھی ہے ۔ انسانوں کو شک ، بےچینی اور پریشانی اور بےیقینی سے نجات دیتا ہے۔ اور انسان کو ایسے کچے نظریات سے بچاتا ہے جو آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔ پائے چوبیں رکھتے ہیں اور اپنے حال پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اس کی تعلیمات انسان کو مطمئن کرکے اللہ کے جوار رحمت اور بارگاہ سکون تک پہنچاتی ہیں۔ اس طرح انسان اپنے ماحول ، اپنی سوسائٹی اور کود اپنے افکار کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور عظیم ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ انسانی نفس کی تربیت اور از سر نو قوانین فطرت کے مطابق اس کی تسکیل و تصفیل کے معاملے میں قرآنی طریق کار ایک منفرد طریق کار ہے۔ اس طریق کار کے مطابق انسان اپنی زندگی ان قوانین فطرت کے مطابق گزارتا ہے جو خود اس کائنات میں بھی جاری وساری ہیں اور اس طرح انسان کی زندگی نہایت سکون کے ساتھ ، فطری انداز میں گزرتی ہے۔ اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔ اسلامی منہاج تربیت کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کی گہرائیوں تک میں اطمینان محسوس کرتا ہے اور یہ بہت بڑی دولت ہوتی ہے۔ اور یہ اطمینان اسے اس وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے مطابق انسان کی زندگی قوانین فطرت کے ساتھ متصادم نہیں ہوتی اور نہ انسان قوانین فطرت اور ان کے مطابق چلنے والی اس کائنات سے متصادم ہوتا ہے ، نہ انسانی اخلاقیات ان قوانین فطرت سے متصادم ہوتی ہیں۔ بشرطیکہ انسان قوانین فطرت اور نوامیس کو اچھی طرح معلوم کرسکے اور وہ مقامات معلوم کرلے جہاں انسانی شخصیت اور اس کائنات کے درمیان باہم اتصال ہوتا ہے۔ اور انسان اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ انسانی فطرت اور کائناتی فطرت اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ وہ باہم متناسب اور ہم آہنگ ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم سلامتی جو انسانی شخصیت اور انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی اس عظیم کائنات کے درمیان قائم ہوتی ہے اور اس سلامتی کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کرتی ہے۔ اور یہ ہے وہ رحمت جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے۔ یہ رحمت الہیہ کا وسیع تر مفہوم ہے۔ ان اشارات کے بعد کہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے بیشتر نطریاتی مسائل کو حل کرتا ہے ، ان کے اختلافات کو دور کرتا ہے اور اہل ایمان کو ایک فطری نظام زندگی دے کر ان کو عظیم سکون اور سلامتی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کو یہ تسلی دیتا ہے کہ آپ کی قوم آپ کے ساتھ ناحق مجادلہ کر رہی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی عنقریب اللہ کر دے گا ۔ ایسا فیصلہ جسے کوئی رد نہ کرسکے گا۔ کیونکہ اللہ کے فیصلے حقائق اور صحیح علم پر مبنی ہوتے ہیں۔ فتوکل علی اللہ انک علی الحق المبین (27: 79) ” پس اے نبی ﷺ ، اللہ پر بھروسہ رکھو یقیناً تم صریح حق پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی نصرت کرنا ، حق کو غالب کرنا ، اپنے اوپر اسی طرح لازم قرار دیا ہے جس طرح اس کائنات میں اللہ کے دوسرے چلنے والے قوانین لازمی اور اٹل ہیں۔ یہ قوانین رکتے نہیں ، اسی طرح حق بھی غالب آتا ہے لیکن اللہ کی بعض پوشیدہ حکمتوں کی وجہ سے کبھی کبھار یہ غلبہ دیر سے آتا ہے اور ان حکمتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ کچھ مقاصد ہوتے جن کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے لیکن یہ سنت پوری ہوکر رہتی ہیں اور آخر کار حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انسان کا ایمان اس وقت تک پورا اور مکمل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس سنت کے اٹل ہونے پر ایمان نہ لائے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کی کامیابی کے لیے اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس سے قبل یہ کامیابی نہیں آسکتی۔ انسان اگر جلدی کرتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔ نبی ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے بڑی مشکلات درپیش تھیں ، بات بات پر وہ جھگڑتے تھے ، کٹ جحتی اور ہٹ دھرمی کرتے تھے۔ محض عناد کی وجہ سے بادی النظر چیزوں کو بھی نہ مانتے تھے۔ حضور ﷺ کی جدوجہد اور نہایت ہی واضح بیان و تبلیغ کے بعد بھی وہ کفر پر اصرار کر رہے تھے۔ قرآن کریم کے بار بار کے خطاب کو نظر انداز کر رہے تھے۔ ان سب باتوں پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے تو تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے ، کوئی قصور نہیں کیا ہے ، لیکن بات کو وہ لوگ سنتے ہیں جو زندہ ہوں اور ان کے کانوں کے پردے حساس ہوں۔ مردے تو کبھی سنا نہیں کرتے۔ مردوں کا دماغ مرچکا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے عاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مردے نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ بس آپ کی قوم کے دل و دماغ مرچکے ہیں۔ لہٰذا ان کو سنانا اب نہ سنانے کے برابر ہوگیا ہے۔ ہدایت پر آنے کی ان کے سامنے کوئی سبیل باقی نہیں ہے۔ اب چھوڑدیں ان کو اپنی گمراہی اور سرکشی اور بےراہ روی پر۔ انک لا تسمع ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (27: 80- 81) ” تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ، نہ ان بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو ، جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں ، اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔ قرآن کریم نے نہایت ہی عجیب انداز میں ان لوگوں کی نظریاتی اور نفسیاتی حالت کی تصویر کشی کی ہے۔ چناچہ غیر محسوس معانی کو محسوس شکل دے دی ہے۔ قلبی جمود ، روح کی مردنی ، کند ذہنی اور شعور کی گراؤٹ کو یوں بیان کیا ہے کہ گویا یہ لوگ مردے ہیں اور بہرے ہیں اور رسول ان کو پکار رہا ہے۔ یہ نہیں سنتے ، نہ جواب دیتے ہیں۔ کیونکہ مردے نہ سنتے ہیں ، نہ ان کو شعور ہوتا ہے اور نہ جواب دے سکتے ہیں۔ ایک دوسری محسوس صورت یوں ہے کہ ایک شخص بہرا ہے۔ بالکل نہیں سنتا اور پکار والے کی طرف اس کا رخ بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ مخالف سمت پر جا رہا ہے۔ ایسے شخص کو لاکھ پکارو وہ نہ سنے گا۔ کبھی قرآن ان کو اس شکل میں لاتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ ایک اندھا شخص راہ راست پر کیسے جاسکتا ہے۔ جب اسے اگلے قدم پر کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان آیات میں ان تمام صورتوں کو نہایت ہی مجسم و شخصی صورت میں پیش کردیا گیا ہے۔ اب ان مردوں ، بہروں اور اندھوں کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں۔ یہ زندہ ہیں ، یہ سنتے ہیں ، یہ دیکھتے ہیں۔ ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (27: 81) ” آپ اپنی بات انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔ یعنی جن لوگوں کے اندر زندگی ، قوت سامعہ اور قوت باصرہ ہے۔ آپ انہی کو سنا سکتے ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کو سنائیں۔ یہ علامات زندگی ہیں اور شعور زندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ سننے والے اور دیکھنے والے ہی دعوت کو قبول کرسکتے ہیں اور یہ اہل ایمان ہی ہیں جن کے اندر حیات ، سماعت اور بصارت پائی جاتی ہے۔ ان لوگوں پر رسول اللہ ﷺ نے کام کیا۔ انہوں نے دعوت کو قبول کیا اور سرتسلیم خم کردیا۔ اسلام بہت ہی سادہ اور قریب الفہم دین ہے۔ فطرت سلیم کے بہت ہی قریب ہے۔ قلب سلیم اور فطرت سلیم دعوت اسلامی کو پاتے ہی قبول کرتے ہیں اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ وہ پھر قیل و قال اور جدل وجدال میں نہیں پڑتے۔ یہی تصویر ہے اہل ایمان کی اور ایسے ہی لوگوں کو دعوت دینا چاہئے۔ ایسے لوگ دعوت کو سنتے ہی اس کی طرف لپکتے ہیں اور فوراً ایمان لاتے ہیں۔ مردوں کو اپنی جگہ پر چھوڑ کر داعی کو ایسے لوگوں تک پہنچنا چاہئے جو قبولیت کے لیے تیار ہوں۔
Ayahs 27:82–90

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان پر آپہنچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور ذرا تصور کرو اس دن کا جب ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے ، پھر ان کو (ان کی اقسام کی لحاظ سے درجہ بدرجہ) مرتب کیا جائے گا

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے ، تو (ان کا رب ان سے) پوچھے گا کہ ” تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے ؟

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا ، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ۔۔۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو ؟

اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے مگر بےفائدہ ۔ جب پہاڑ چل پڑیں گے اور یہ فضائے کائنات میں بادلوں کی طرف اڑ رہے ہوں گے پھر بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ اس جزع و فزع اور خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں گے اور بالکل مطمئن کھڑے ہوں گے اور کچھ دوسرے نہایت ہی دہشت زدہ سرنگوں ہوں گے۔ اور اسی حالت میں جہنم کے اندر گرا دئیے جائیں گے۔ واذا وقع القول علیھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (82- 90) ” ، ۔ “۔۔۔۔ ، “۔ زمین سے جانور نکالنے کا ذکر بعض احادیث میں آتا ہے۔ لیکن ان صحیح روایات میں اس جانور کی تفصیلات وصفات نہیں ہیں۔ جن روایات میں اس جانور کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں۔ وہ حد صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہیں ، لہٰذا ہم یہاں ان صفات سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کسی جانور کا طول اگر سات گز ہو یا اس کا روئیں والا ہونا ، یا داڑھی والا ہونا ، یا اس کا سر بیل جیسا ہونا ، یا اس کی آنکھیں خنزیر جیسی ہونا ، یا اس کے کان ہاتھی جیسے ہونا یا اس کے سینگ بارہ سنگے یا اس کی گردن آہو کی طرح ہونا اور اس کا سینہ شیر کی طرح ہونا اور اس کا رنگ چیتے کی طرح ہونا اور اس کے دونوں پہلو بلی کی طرح ہونا اور اس کی دم دنبے کی طرح ہونا ، اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہونا اور پروں اور کھروں والا ہونا کوئی ایم بات نہیں ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن میں مفسرین پریشان ہوئے۔ بس ہمیں چاہئے کہ قرآنی نص اور صحیح احادیث پر اکتفاء کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ علامات قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ اس قسم کا جانور نکلے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس وقت جو لوگ ہوں گے ان پر فیصلہ اٹل ہوجائے گا اور اب ان کے لیے توبہ کرنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا۔ بس اب جو لوگ جس حالت اور جس عقیدے پر ہوں گے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس وقت یہ جانور نکلے گا۔ یہ ان کے ساتھ بات کرے گا جبکہ عموماً جانور بات نہیں کرتے یا ہم لوگ ان کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ لیکن آج سب لوگ اس جانور کی بات سمجھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ وہ معجزہ ہے جسے قیامت سے قبل آنا تھا۔ اس سے قبل وہ آیات الہیہ پر ایمان نہ لاتے تھے۔ نہ ان کی تصدیق کرتے تھے اور نہ قیامت کی تصدیق کرتے تھے یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سورت نمل میں ایسے مشاہدات و عجائبات کا ذکر ہے مثلاً حشرات الارض کی آپس میں گفتگو ، طیور کی گفتگو ، جنوں کی گفتگو ، اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان کی گفتگو سمجھنا۔ اسی ضمن میں دابۃ الارض اور لوگوں کے ساتھ اس کی گفتگو ، مضمون کلام کی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ اس طرح قرآن کریم ہر سورت میں مناظر ، مثالیں اور مضامین و مفاہیم و معانی بھی باہم متناسب اور ہم آہنگ لے کر آتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی) اب علامت دابۃ الارض کے بیان کے بعد ، بات خود مناظر قیامت میں داخل ہوتی ہے۔ ویوم نحشر من ۔۔۔۔۔۔۔ یوزعون (27: 83) ” اور ذرا تصور کرو اس دن کا ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو مرتب کیا جائے گا “۔ تمام لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ اللہ کی مرضی یوں اس لیے ہوئی کہ وہ مکذبین کے موقف کو واضح کر دے۔ یوزعون کے معنی ہیں کہ ان سب کو ایک نظم کے ساتھ چلایا جائے گا ، ان کا اپنا کوئی اختیار و ارادہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنی مرضی سے کسی طرح جاسکیں گے۔ حتی اذا جآء ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (27: 84) ” یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو وہ پوچھے گا : تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے ؟ “ پہلا سوال تو ان کو شرمندہ کرنے اور ملامت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو معلوم و معروف تھی کہ انہوں نے تکذیب کی تھی۔ رہا دوسرا سوال تو وہ ان کی زندگی پر ایک بھرپور طنز ہے۔ اور اس انداز خطاب کے نظائر ہر زبان میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا تم نے تکذیب کی یا تم کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ بظاہر تمہاری زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ یعنی تکذیب کے علاوہ تمہاری زندگی کا اور تو کوئی عمل معلوم نہیں ہے جبکہ تمہیں تکذیب نہ کرنا چاہئے تھی۔ ایسے سوالات کا جواب ظاہر ہوتا ہے اس لیے جواب نہیں دیا جاتا اور مکاطب خاموش رہتا ہے۔ گویا اس سوال ہی کی وجہ سے مخاطب گنگ ہوجاتا ہے اور اس سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔ ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لاینطقون (27: 85) ” اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی بول نہ سکیں گے “۔ یعنی دنیا میں ظلم اور شرک کرنے کی وجہ سے ان پر فیصلہ برحق ہوگیا اور اب وہ بیکار ، لاجواب اور خاموش کھڑے ہیں اور یہ اس وقت ہوگا جب دابۃ الارض بات کرے گا اور لوگ بات نہ کرسکیں گے۔ قرآن کے معجزاتی انداز کا یہ ایک پہلو ہے کہ وہ کلام کے اندر ایک حسین معنوی تقابل پیدا کرتا ہے کہ جانور بات کر رہا ہے ، اسکے منہ میں زبان ہے اور یہ انسان ہوکر بھی لاکلام ہیں۔ پھر یہاں مشاہد دنیا اور مشاہد قیامت کے درمیان بھی ایک امتزاج اور تقابل ہے۔ کبھی دنیا کا منظر سامنے آتا ہے اور کبھی آخرت کا کیونکہ خروج دابہ دنیا کے آخری ایام میں ہوگا۔ اور یوں فضا میں گہرا تاثر قائم ہوجاتا ہے یہاں پہلے قیامت کا منظر ہے کہ مکذبین وہاں مبہوت اور لاجواب کھڑے ہیں۔ پھر بات دنیا کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور ان کے وجدان اور شعور کو بیدار کیا جاتا ہے اور دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ذرا اس نظام کائنات پر غور تو کریں کہ الہہ العالمین کس قدر عظیم قدرت والا ہے کہ تمہارے لیے وہ تمام اسباب حیات مہیا کرتا ہے ۔ تمہارے لیے دنیا میں راحت اور آرام کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو اس طرح سازگار بنایا ہے کہ اس کے اندر تمہاری زندگی نہایت خوش و خرم گزر رہی ہے۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ممد حیات ہیں ، مضر حیات نہیں ہیں۔ وہ حیات انسانی کیلئے معاون ہیں۔ اس کے ساتھ برسرپیکار نہیں ہیں۔ الم یروا انا ۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یومنون (27: 86) ” کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے “۔ رات کا منظر بالکل پرسکون اور خاموش ہے اور دن روشن اور گویا ہے۔ اور یہ منظر اس قابل ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا شعور اور وجدان پیدا کریں جو اسے اللہ سے ملا دے ۔ جو رات اور دن کو گردش میں لانے والا ہے۔ رات اور دن کو منظر تو دراصل دو کائناتی شواہد ہیں اور ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو ایمان لانا چاہیں لیکن وہ ایمان نہیں لاتے۔ اگر رات نہ ہوتی تو تمام زمانہ دن پر مشتمل ہوتا اور اس کرہ ارض پر حیات ممکن نہ ہوتی اور اسی طرح اگر مسلسل رات ہوتی تو بھی زندگی ممکن نہ ہوتی بلکہ اگر رات اور دن اپنے موجودہ وقت سے دس گنا بھی طویل ہوتے تب بھی اس کرہ ارض پر زندگی محال ہوجاتی۔ سورج تمام نباتات کو جلا ڈالتا۔ اور رات تمام چیزوں کو منجمد کرکے رکھ دیتی۔ لہٰذا گردش لیل و نہار بھی انسانوں کے لیے ذریعہ حیات ہے لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اب گردش لیل و نہار کے ان دونوں دلائل و معجزات کے منظر سے بات چشم زدن میں قیامت کے مناظر کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایک لمحہ پہلے انسان اس کرہ ارض پر خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے کہ صور پھونک دیا گیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان ایک بھونچال سا آگیا ۔ تمام مخلوقات الا ماشاء اللہ خوفزدہ ہوگئی۔ پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگے ، حالانکہ وہ سکون وقرار کی علامت تھے۔ پھر اس دن لوگوں کے انجام سامنے آگئے۔ کسی کا انجام امن و عافیت ہوا اور کسی کا جزع و فزع اور اوندھے منہ آگ میں گرائے جانے تک پہنچا۔ ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔۔۔۔۔ الا ما کنتم تعملون (27: 87- 90) ” اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۔۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے ، اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو ؟ “ صور وہ نرسنگھا ہے ، جس میں قیامت کے دن پھونکا جائے گا۔ اور یہ وہ آواز ہوگی جس سے زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوجائے گی۔ الایہ کہ کسی کو اللہ اس سے مامون و محفوظ کر دے۔ کہا گیا ہے کہ شہداء اس سے محفوظ ہوں گے۔ تمام زندہ مخلوق بیہوش ہوجائے گی یا مر جائے گی۔ اس کے بعد دوسری بار پھونکا جائے گا تو تمام لوگ یکدم جی اٹھیں گے۔ وکل اتوہ دخرین (27: 87) ” اور سب کان دبا کر اس کے حضور حاضر ہوں گے “۔ یعنی نہایت مطیع فرمان ، سرخم کیے ہوئے ہوں گے۔ اس خوف و ہراس کے ساتھ ہی افلاک کا موجودہ نظام خلل پذیر ہوجائے گا اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے۔ تمام مدار ختم ہوں گے۔ اور پہاڑ بادلوں کی طرح چل پڑیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جس طرح لوگ مشوش ہوں گے اسی طرح پہاڑ بھی مشوش ہوں گے۔ ذی حیات اور جمادات سب میں انتشار ہوگا ، گویا پہاڑ بھی کو فزدہ ہوجائیں گے اور حیران و پریشان دوڑتے پھریں گے۔ اور پریشان و بےقرار ہوں گے۔ زندہ چیزوں کی طرح ان کی حرکت کی نہ سمت ہوگی نہ کوئی قرار ہوگا۔ صنع اللہ الذی اتقن کل شی (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا “۔ سبحان اللہ ، اس کی کاریگری کی خوبصورتی اور کمال تو اس کی تمام مصنوعات سے عیاں ہے ۔ اس کا ہر کام صحیح وقت پر ہوتا ہے ، اس میں کوئی نقص ، کوئی بخت و اتفاق ، کوئی بغاوت نہیں ہے نہ اس میں اللہ نے کوئی چیز بھال دی ہے ۔ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کے مالہ و ما علیہ کو مکمل کیا۔ ہر چیز بامقصد بنائی۔ ہر چھوٹی اور بڑی چیز ایک اندازے سے رکھی۔ منصوبے اور مقاصد کے مطابق اور اس کے اندر اس قدر گہری حکمت اور دقیق منصوبہ بندی ہے کہ سر چکرا جاتے ہیں۔ مزید تفصیلات دیکھئے سورة الفرقان کی آیت خلق کل شئ کی تفسیر میں۔ انہ خبیر بما تفعلون (27: 88) ” وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اور یہ ہے یوم الحساب ، ان کاموں کا جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور اس دن کو اس ذات نے مقرر کیا ہے جس کی قدرت کا کرشمہ یہ پوری کائنات ہے۔ اللہ اسے اپنے وقت پر لایا ہے۔ اس میں ایک گھنٹے کی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر چیز نے اس کی حکمت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ عمل اور مکافات عمل کی خدائی اسکیم اپنے انجام کو پہنچے۔ عمل پہلی زندگی میں ہو اور اس کا اجر وثواب دوسری زندگی میں۔ صنع اللہ الذی۔۔۔۔ بما تفعلون (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اس خوفزدہ کرنے والے ہولناک دن میں ، وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اچھے کام کیے ، نہایت ہی امن و سکون میں ہوں گے۔ اور اس امن و سکون کے علاوہ ان کو جو اجر اور بدلہ ملے گا وہ بہت ہی بڑا ہوگا اور کافی و شافی ہوگا۔ من جآء ۔۔۔۔۔ یومئذ امنون (27: 89) ” جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے “۔ قیامت کے دن کے ہول سے پر امن رہنا ہی ہمارے حقیر اعمال کی پوری جزاء ہے۔ اس کے بعد جو انعامات و اکرامات ملیں گے وہ گویا انعام اور پنشن ہے۔ اس لیے کہ اہل تقویٰ دنیا میں بھی اللہ سے ڈرتے رہتے تھے لیکن دنیا میں اللہ کے خوف اور تقویٰ کے ساتھ آخرت کے ہول کو جمع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اللہ نے اہل تقویٰ کو اس سے مستثنیٰ کیا۔ اس دن جو مخلوق بھی زمین و آسمانوں میں ہے وہ اس ہول کا شکار ہوگی ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے بچا لیا اور یہ متقین ہوں گے۔ ومن جآء ۔۔۔۔۔۔ فی النار (27: 90) ” اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ایسے سب لوگ اوندھے منہ اگ میں پھینکے جائیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے کہ لوگوں کو لا لا کر جہنم کے دھانے سے اوندھے منہ اس کے اندر گرایا جا رہا ہوگا اور اس پر مزید ان کو زجر و توبیخ بھی کی جا رہی ہوگی۔ ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (27: 90) ” کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو “۔ اس سے قبل دنیا میں انہوں نے ہدایت سے منہ موڑا اور انکار کیا۔ اس لیے یہاں ان کو بطور سزا منہ کے بل آگ میں گرایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے سامنے سچائی نہایت ہی واضح ہو کر اور کھل کر آگئی تھی۔ اور اس طرح واضح تھی جس طرح رات اور دن واضح تھے مگر انہوں نے منہ موڑا۔
Ayahs 27:91–93

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ، ان سے کہو) ” مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہر (مکہ) کے رب کی بندگی کروں جس نے اسے جرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں “۔ اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اس سے کہہ دو کہ ” میں تو بس خبردار کردینے والا ہوں “

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

ان سے کہو تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے ْاور تیرا رب بیخبر نہیں ہےٗ ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو

اب سورت کے آخر میں آخری ضربات ہیں۔ یہاں یہاں رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی دعوت کا خلاصہ بیان کریں۔ اپنے منہاج کار کی وضاحت کردیں۔ طریقہ دعوت بتا دیں اور تبلیغ کردینے اور خدا کا پیغام پہنچا دینے کے بعد اب ان کو اس انجام کے حوالے کردیں۔ جو اللہ نے ان لوگوں کے لیے پسند فرمایا ہے اس لیے کہ انہوں نے خود اپنے لیے اسے چنا ہے۔ اور بات کا خاتمہ بھی اسی حمد و ثنا پر ہوتا ہے جس کے ساتھ آغاز ہوا تھا۔ انما امرت ان اعبد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون (27: 91- 93) ” “۔ اہل عرب مکہ مکرمہ کو بیت الحرام اور حرم کو قابل احترام سمجھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور حرم شریف کے اس احترام پر ان کی قیادت و سیادت قائم تھی لیکن اس کے باوجود وہ اس اللہ کو وحدہ لاشریک نہ سمجھتے تھے جس نے اس شہر اور کعبہ کو احترام دے کر ان کو عزت بخشی تھی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ یہاں ان کے نظریہ کو اس طرح درست فرماتے ہیں جس طرح نظریہ کو درست کرنا چاہئے۔ وہ اعلان فرماتے ہیں کہ لوگو مجھے سب سے پہلے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس شہر کو محترم بنایا ہے۔ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ اللہ کی الوہیت کا پورا تصور یہاں یہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس شہر کا مالک ہے اور اس شہر کے علاوہ بھی ہر چیز اس کی ملکیت ہے۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ مجھے سب سے پہلے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں بھی سرتسلیم خم کردینے والا بندہ ، مسلم بن جاؤں۔ اس طرح کہ اس تسلیم و رضا میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ ایسا ہی مسلم وہ گروہ ہے جس پر پوری انسانی تاریخ میں دعوت اسلامی کا مدار رہا ہے۔ جو پورے موحد اور پوری طرح سر تسلیم خم کرنے والے رہے ہیں۔ یہ تو تھے دعوت اسلامی کے بنیادی عناصر۔ رہا اس دعوت کا وسیلہ اور اس کا ذریعہ تو وہ تلاوت قرآن ہے۔ وان اتلو القران (27: 92) ” اور یہ کہ قرآن پڑھ کر سناؤں “۔ قرآن دراصل دعوت اسلامی کی کتاب اول بنے۔ یہ ہمارا دستور ہے اور ہماری کامیابی اور فلاح کا وسیلہ ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اس قرآن کے ذریعے جہاد فرمائیں بمقابلہ کفار۔ انسانی عقل اور انسانی روح کی تربیت کے لیے اس کے اندر بہت کچھ ہے۔ یہ نفس انسانی کے ہر پہلو کو لیتا ہے۔ یہ انسانی شعور کے تمام طریقوں کو آزماتا ہے۔ اس کے اندر ایسی قوت ہے کہ وہ خشک دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کردیتا ہے۔ وہ انسان کے دل و دماغ کو اس قدر جھنجھوڑتا ہے کہ انہیں بےقرار کردیتا ہے۔ دعوت اسلامی کے لیے تو قرآن کافی و شافی ہے۔ اس کے ساتھ جہاد و قتال کو تو محض اس لیے فرض کیا گیا ہے کہ اہل ایمان کو فتنوں اور دشمنوں کے شر سے بچایا جاسکے۔ اور پوری دنیا میں قرآن کی دعوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اور جہاد کو دوسرا مقصد ایسی قوت کا حصول ہے جس کے ذریعے شریعت نے قانون کو نافذ کیا جاسکے۔ رہی دعوت اسلامی تو اس کا ذریعہ اور وسیلہ صرف کتاب اللہ ہے۔ وان اتلو۔۔۔۔۔ (27: 92) ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن کریم کی تلاوت کروں “۔ فمن اھتدی فانما یھتدی ۔۔۔۔۔۔۔ من المنذرین (27: 92) ” اب جو ہدایت اختیار کرے گا ، وہ اپنے بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اس سے کہہ دو کہ میں بس خبردار کردینے والا ہوں “۔ اس آیت میں انفرادی ذمہ داری کا اصول بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ہدایت و ضلالت کی راہ اپنانے میں ہر شخص خود ذمہ دار ہے۔ اس انفرادی ذمہ داری کے اصول کے اندر یہ اصول کار فرما ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان بہت ہی محترم ہے۔ اور اسلام احترام آدمیت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اسلام انسانوں کو حیوانوں کی طرح ہانک کر اسلام کے دائرے میں جبراً داخل نہیں کرتا ۔ اسلام دعوت اسلامی کو قرآن کی شکل میں انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ان کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ دعوت لوگوں کے دلوں پر اثر کرتی ہے۔ یہ ہے اسلام کا گہرا ، عمدہ اور عمیق طریق کار۔ یہ انسانی فطرت کو اس کی گہرائیوں سے لیتا ہے جس طرح قرآن نے انسانی نفوس کی تربیت کے لیے نہایت ہی فطری منہاج اپنایا ہے۔ وقل الحمدللہ (27: 93) ” ان سے کہو تعریف اللہ ہی کے لیے ہے “۔ اللہ کے کمالات اور کاری گریوں سے پہلے اللہ کی تعریف۔ سیریکم ایتہ فتعرفونھا (27: 93) ” عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے “۔ اللہ نے بالکل سچ کہا ، اللہ کے بندے ہر دن انفس و آفاق میں اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھتے ہیں اور اللہ نے اس کائنات میں جو اسرار و رموز ودیعت کیے ہیں ، آئے دن ان کے بارے میں انکشافات ہوتے رہے ہیں۔ وما ربک بغافل عما تعلمون (27: 93) ” اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔ یہ وہ آخری ضرب ہے جو انسانی عقل و خرو کی تاروں پر اس سورت کے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ نہایت ہی میٹھے ، خوبصورت اشاراتی اور پھر نہایت ہی دو ٹوک اور خوفناک انداز بیان میں۔ اس کے بعد لوگوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اب وہ جو چاہیں کریں لیکن ان کو اس تنبیہہ کے ساتھ آزاد چھوڑا جاتا ہے۔ وما ربک بغافل عما تعلمون (27: 93) ” اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔