Ayahs 27:20–21وتفقد……مبین (13)
اس منظر میں حضرت سلیمان ایک نبی اپنے ایک عظیم و کثیر لشکر میں نظر آتے ہیں۔ جب وہ پرندوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہد ہد کو غائب پاتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص ہد ہد تھا جسے اس لشکر میں ہونا چاہئے تھا۔ یہ کوئی عام ہد ہد نہ تھا کہ جس طرح لاکھوں میں سے ایک غائب ہو ۔ یا کرہ ارض کے تمام ہد ہدوں میں سے صرف ایک کم تھا۔ نیز اس سے یہ بھی معلمو ہوتا ہے کہ یہ مخصوص ہد ہد ایک خاص کردار رکھتا تھا اور مخصوص خصوصیات رکھتا تھا۔ یہ نہایت ہی بیدار مغز ، باریک بیں اور عقلمند ہد ہد تھا۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کی شخصیت بھی معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنی اس عظیم الشان فوج پر بھی پوری نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ فوج کو اول و آخر تک جانتے ہیں۔
وہ اسکیبارے میں ایک اعلیٰ کمانڈر انچیف کے جچے تلے جامع الفاظ میں وپچھتے ہیں۔
مالی لا اری الھدھد ام کان من الغآئبین (82 : 02) ” کیا بات ہے میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا۔ کیا وہ غائب ہوگیا ہے۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ ہد ہد غائب ہے اور سب کو معلوم ہوتا ہے کہ جب بادشاہ اس کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ بغیر اجازت کے غائب ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو اب سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ تاکہ فوج کے اندر افراتفری نہ ہو اور دوسری لوگ بھی ادھر ادھر کھسکنا شروع نہ کردیں۔ کیونکہ بادشاہ کی جانب سے اس انکوائری کے بعد بات تو راز نہ رہی تھی۔ اگر اس پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو یہ دوسرے فوجیوں کے لئے ایک بری مثال ہوگی۔ چناچہ حضرت سلیمان اپنی فوج کے اس سپاہی کی غیر حاضری کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
لا عذبنہ عذاباً شدیداً اولا اذبحنہ (82 : 12) ” میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر دوں گا۔ “ لیکن بہرحال آپ نبی تھے ……جبار نہ تھے ۔ ابھی تو آپ نے ہد ہد کے عذرات نہیں سنے ، اسے نوٹس نہیں دیا گیا ، لہٰذا فیصلہ عذرات سننے کے بعد ہوگا۔ بغیر سنے فیصلہ اسلامی اصول عدل کے خلاف ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
ولیاتینی بسلطن مبین (82 : 12) ” یا اسے مرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی ہوگی۔ “ یعنی ایسی دلیل اور ایسا عذر جس کی وج ہ سے وہ مواخذے سے بچ جائے اور عذر معقول ہو۔
اب پردہ گرتا ہے اس قصے کا یہ پہلا منظر ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) دوسرے کاموں میں مشغول ہیں یا ہد ہدی ہی کی تلاش میں ہیں۔ بہرحال ہد ہد آجاتا ہے۔ اس کے پاس ایک چونکا دینے والی خبر ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے بھی حیران کن اور ہمارے لئے بھی حیرن کن جو ہم آج اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔
Ayahs 27:22–26فمکث ……العظیم (63)
یہ ہد ہد بادشاہ کی دانشمندی اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے باخبر تھا۔ اس لئے ہد ہد نے پہلے ہی فقرے میں چونکا دینے والی خبر سے اپنی بات کا آغاز کیا تاکہ اس خبر کے بعد اس سے جواب طلبی کا موقع ہنہ رہے اور بادشاہ اس کی بات کو غور سے سنیں۔
احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبابنیا یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے بارے میں یقینی معلومات لے کر آیا ہوں۔ “ کون بادشاہ ایسا ہوگا اپنے کسی ملازم سے وہ باتیں نہ سنے جن کے بارے میں اسے علم نہیں۔
جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سننا شروع کیا تو اس نے تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ مملکت سبا جنوب یمن میں واقعہ تھی۔ ہد ہد کہتا ہے ہے کہ اس قوم پر عورت حکمرانی کرتی ہے۔
واوتبت من کل شی (82 : 32) ” اسے ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے۔ “ یعنی اس کی مملکت عظیم اور مالدار ہے اور اس کے اندر خوشحالی اور تہذیب کے تماماسباب موجود ہیں۔ قوت اور پیداوار
ولھا عرش عظیم (82 : 32) ” اس کا تحت بڑا عظیم الشان ہے۔ “ یعنی جہاں ملکہ جلوس فرماتی ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی مملکت بڑی ہے ، مالدار ہے ، خوشحال ہے اور اس کے اندر صنعت و حرفت کی ترقیات ہیں اور ان لوگوں کی نظریاتی حالت یہ ہے کہ
وجدتھا و قومھا یسجدون للشمس من دون اللہ (82 : 32) ” میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ “ یہاں ہد ہد یہ تفصیل بھی بتاتا ہے کہ شیطان نے ان کے لئے ان کے ان برے اعمال کو مزید کردیا ہے۔ لہٰذا ان کو گمراہ کردیا ہے اور یہ لوگ اللہ وحدہ کی عبادت اور راہ ہدایت نہیں پاتے۔
الذی یخرج الخبء فی السموت والارض (82 : 52) ” وہ اللہ جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے “ خب کا مفہوم وہ چیز ہے جو چھپی ہوئی ہو۔ یہ پوشیدہ چیز خواہ آسمانوں کی بارش ہو ، زمین کے اندر سے نباتات ہوں یا زمین و آسمان کے دوسرے اسرار و رموز ہوں۔ یعنی پردہ غیب کے پیچھے پائے جانے والے عجائب وغرائب جو اللہ نے پیدا کیا ، نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے عجائب غرض وہ سب چیزیں جو ظاہر ہیں یا باطن ہیں۔
یہاں تک تو ہد ہد ایک ملزم کی حیثیت میں کھڑا ہے۔ ابھی تک شاہ سلیمان (علیہ السلام) نے ان کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ چناچہ انتظامی لحاظ سے سخت گیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے وہ اپنی بات کے آخر میں ایک اشارہ کرتا ہے۔ کہ اللہ جو جبار وقہار ہے اور سب کا رب ہے ، صاحب عرش عظیم ہے۔ اس کیا قتدار اور انسانوں کے اقتدار کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے تاکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کی اس برتری کے سامنے انسان کی بادشاہت کی کم مائیگی کے بارے میں سوچ لیں۔
اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم (82 : 62) ” السجدۃ ” اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے اہل نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ “ یوں ہد ہد ملکہ سبا کی قوم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ اشارہ کرتا ہے کہ اسے معاف کردیا جائے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ہد ہد بھی بڑا عجیب پرندہ ہے۔ یہ نہایت ذہین سمجھدار اور مومن پرندہ ہے۔ اور اس نے نہایت ہی خوبصورت ، جامع اور مانع رپورٹ بھی پیش کردی ہے۔ یہ حالات کو خوب جانتا ہے اور حالات پر ماہرانہ رائے بھی دیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ ملکہ ہے ، یہ اس کی رعایا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ سورج پرست قوم ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے سجدہ ریزہ ناجائز نہیں ہے۔ وہ اللہ جس نے زمین و آسمان کی تمام ظاہری اور خفیہ چیزوں کو پیدا کیا ۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ ہر ہد ہد تو ایسا علم نہیں رکھتا لہٰذا یہ کوئی مخصوص معجزاتی ہد ہد ہے۔ عام ہد ہد سے علیحدہ۔
اب حضرت سلیمان یوں نہیں کرتے کہ ہد ہد کی رپورٹ کو آنکھیں بند کر کے قوبل کرلیں۔ وہ اس عظیم خبر پر اچھل نہیں پڑتے۔ چناچہ وہ ایک تجربہ کار حکمران کی طرح اس کو تصدیق کے لئے لیتے ہیں۔ بادشاہ کے ساتھ ساتھ ایک عادل نبی اور رسول بھی ہیں۔
Ayahs 27:27–28قال سننظر……یرجعون (82)
اس منظر میں خط کا مضمون نہیں دکھایا جاتا۔ گویا یہ بند پیغام ہے تاکہ یہ مکتوب الیہ تک پہنچ جائے اور وہاں کھولا جائے تاکہ ہر نئی بات ناظرین کے سامنے اپنے صحیح وقت پر آئے۔
پردہ گرتا ہے۔ اب ہم ملکہ سبا کے دربار میں ہیں اور خط وہاں پہنچ گیا ہے اور کھولا جاتا ہے۔ ملکہ اب اپنی شوریٰ کے سامنے مضمون پیش کر کے مشورہ لیتی ہے۔
Ayahs 27:29–31قالت ……مسلمین (13)
وہ اپنی شوریٰ کو بتاتی ہے کہ اس کے دربار میں یہ خط پھینکا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ خط پھینکا کس نے ہے اور کس طرح پھینکا ہے۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ اسے ہد ہد نے پھینکا ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے تو وہ اس کا اعلان کردیتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک اور عجیب بات ہوتی اور یہ بات روزانہ کے معجزات تو تھے نہیں کہ ہد ہد خط پھینکتا تھا ، چونکہ اسنے صیغہ مجہول استعمال کیا ہے اور اللہ نے نقل کیا ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اسے معلوم نہ تھا کہ خط پھینکنے والا کون ہے۔
ملکہ اسے ایک معزز خط ” کتاب کریم “ کہتی ہے۔ شاید اس خط کے انداز تحریر ، اس کی مہر اور اس کے طریقہ تلخیف کی وجہ سے اس نے معلوم کیا ہو کہ یہ کوئی غیر معملوی خط ہے۔ نیز جب اس کے مضون سے اپنے مشیروں کو آگاہ کیا تو اس سے بھی اس کے دل میں اس خط کی مزید اہمیت بیٹھ گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔
انہ من سلیمن ……اتونی مسلمین (82 : 13) ” یہ خط لیمان کی طرف سے ہے اور یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا گیا ہے اور مضمون یہ ہے ” میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جائو۔ “ یہ مسلمان تو نہ تھی لیکن سلمیان (علیہ السلام) کی حکومت کا نشرو اس علاقے میں عام تھا۔ قرآن کریم نے اس خط کے الفاظ کو جس طرح نقل کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو ٹوک اور نہایت ہی رعب دار اور خوفناک مضمون کا خط تھا۔ اسی وجہ سے اس نے اسے کتاب کریم کہا۔
خط کا مضمون نہایت ہی سادہ ہے اور نہایت ہی پرتاثیر آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہے اور مضمون صرف یہ ہے کہ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور میرے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے حاضر ہو جائو۔ میرے سامنے نہیں بلکہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اور مسلمان بن کر آ جائو۔
ملکہ نے یہ کتاب اور یہ خط اپنے اہل حل و عقد کے سامنے رکھا اور ان سے اس کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ وہ کہتی ہے کہ میں کسی معاملے میں بھی تمہارے مشورے سے قبل فیصلہ نہیں کرتی۔ تمہاری رضامندی سے اور تمہارے اتفاق رائے سے سب کچھ ہوتا ہے۔
Ayah 27:32قالت ……تشھدون (23)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ سبا کس قدر ہوشیار عورت ہے اس نے اس خط کو لیا جبکہ اس کے پھینکنے والے کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ خط سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو ٹوک ہے اور جس نے لکھا ہے وہ کوئی سپرطاقت ہے۔ یہ تاثر اس نے اپنے اہل حل و عقد کے ذہنوں میں یوں منتقل کیا کہ اس نے اسے ایک اہم کھلا اور کتاب کریم کہا۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مکلہ مقابلہ کرنا نہیں چاہتی لیکن وہ بصراحت اس کا اظہار بھی نہیں کرتی۔ بطور تمہید کہہ دیتی ہے۔ پھر رائے طلب کرتی ہے اور حاشیہ نشینوں کا جواب آتا ہے۔ وہ حسب عادت یہی کہتے ہیں کہ حکم کیجیے ہم تیار ہیں۔ طاقتور ہیں لیکن بہرحال فیصلہ بدست حضور ہے !
Ayah 27:33قالوا ……تامرین (23)
اب یہاں اس عورت کی اصل شخصیت سامنے آئی ہے۔ یہ ملکہ سبا کی صورت میں ہے۔ ہر عورت تباہی اور بربادی کو فطرتاً ناپسند کرتی ہے۔ چناچہ وہ سیاست اور تدبیر کے ہتھیار کو جنگی ساز و سامان سے پہلے آزمانا چاہتی ہے۔
Ayahs 27:34–35قالت ……المرسلون (53)
وہ جانتی ہے کہ بادشاہ جب کسی بستی پر قابض ہوتے ہیں تو وہ اسے برباد کردیتے ہیں۔ (لفظ قریہ عربی میں بڑے شہر پر بھی بولا جاتا ہے۔ ) لوگوں کی عزت و آبرو کو خراب کردیتے ہیں ، خونریزی کرتے ہیں اور مقامی لوگوں کی قوت کو پاش پاش کر کے رکھ دیتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے موجود رئوساء اور بااثر طبقات کو ختم کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہی لوگ ہوتے ہیں جو مقابلہ اور مدافعت کرتے ہیں۔ یہ ان کا تاریخی طرز عمل ہے۔
ہدیہ انسان کے دل کو زم کردیتا ہے اور محبت پیدا کرتا ہے۔ بسا اوقات معمولی ہدیہ سے ایک بہت بڑی جنگ ٹل جاتی ہے۔ یہ ایک تجربہ ہے۔ اگر حضرت سلیمان ہدیہ قبول کرلیں تو یہ ایک دنیاوی معاملہ ہوگا اور دنیا میں ایسے ہی وسائل کارگر ہوتے ہیں اور فائدہ دیتے ہیں اور اگر وہ قبول نہیں کرتے تو یہ ایک نظریاتی معاملہ ہوگا اور نظریاتی تحریکوں کو پیسے کے ذریعے نہیں روکا جاسکتا نہ اس دنیا کے کوئی ہتھکنڈے انہیں روک سکتے ہیں۔
اب یہاں پھر پردہ گرتا ہے۔ اب اگلے منظر میں ملکہ سبا کے کارندے حضرت سلیمان کے دربار میں ہدایات پیش کرتے ہیں اور حضرت سلیمان ان کی اس حرکت کو ناپسند کرتے ہیں کہ وہ انہیں مال و دولت کے ذریعہ خریدنا چاہتے ہیں اور دعوت اسلامی کو چند ٹکوں کے عوض خریدنا چاہتے ہیں۔ چناچہ حضرت سلیمان ان کو سخت تنبیہ کرتے ہیں اور سخت دھمکی دیتے ہیں۔
Ayahs 27:36–39فلما جآء ……صغرون (73)
ان لوگوں کے ہدایا کو رد کرتے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دولت کی حقارت کا اظہار بھی کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ دولت کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن نظریات اور ایمانیات کے مقابلہ میں دولت ایک حقیر چیز ہوتی ہے۔
اتمدونن بمال (82 : 63) ” کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ “ کیا تم یہ حقیر چیز میرے سامنے پیش کرتے ہوے اور میری اس قدر کم قیمت لگاتے ہو۔
فما اتن اللہ خیر مما اتکم (82 : 63) ” جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ “ مجھے مال بھی تم سے زیادہ دیا ہے اوپر منصب نبوت بھی دیا ہے جو جنس مال سے خیر ہے۔ علم نبوت جو بڑی دولت ہے۔ انسانوں ، جنوں اور طیور کی تسخیر جو روپے کے ذریعے نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا اس زمین کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کرسکتی۔
بل انتم بھدیتکم تفرحون (82 : 63) ” تمہارا یہ ہدیہ تمہیں مبارک ہو۔ “ تم دنیا پرست لوگ ایسی چیزوں پر خوش ہوتے ہو ، لیکن ہمارے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ہم تو اللہ سے لو لگائے ہوئے ہیں اور اللہ کے ہدایا قبول کرتے ہیں۔
اس کے بعد انہیں سخت تہدید آمیز جواب دیا جاتا ہے۔
ارجع الیھم (82 : 83) ” واپس جا اپنے بھیجنے والے کی طرف۔ “ یہ ہدایا ان کو دو اور عبرت آمیز انجام کو انتظار کرو۔
فلنا تینھم بجنودلا قبل لھم بھا (62 : 83) ” ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کا مقابلہ وہ نہ کرسکیں گے۔ “ یہ ایسی افواج ہیں جو دنیا کے کسی انسان کے پاس نہیں ہیں اور ملکہ سبا اور اس کی قوم ہماری افواج کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
ولنخر جنھم منھا اذلۃ و ھم صغرون (82 : 83) ” اور ہم انہیں ایسی ذلت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ “ اب یہاں پر وہ گرتا ہے اور یہ چیلنج اور تہدید کا منظر ختم ہوجاتا ہے۔ سفارت واپس ہوجاتی ہے۔ اب سیاق کلام یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ اگلے اقدام کے بارے میں یہاں ایک لفظ بھی نہیں کہا جاتا ہے۔
حضرت سلیمان یہ جانتے ہیں کہ ملکہ کے ساتھ معاملہ ختم ہوگیا ، وہ نہ مقابلہ کرسکتی ہے۔ نہ دشمنی چاہتی ہے۔ کیونکہ ہدایا کے ساتھ سفارت بھیجنے کا مقصد ہی یہ تھا۔ حضرت سلیمان جان گئے کہ یہ ملکہ مطابق حکم سلیمان دعوت قبول کرے گی اور اطاعت کرلے گی جیسا کہ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔
لیکن سیاقکلام میں یہ بات نہیں ہے کہ یہ سفارت واپس ہوئی ۔ اس نے ملکہ کے سامنے یہ یہ رپورٹ پیش کی۔ نہ سیاق کلام میں ملکہ کے اگلے ارادے کا ذکر ہے۔ یہ سب خود بخود معلوم ہوجائیں گے جب ملکہ کا دورہ دار الخلافہ معلوم ہوگا اب حضرت سیمان علیہ ال سلام یہ حکم دیتے ہیں کہ کون ہے جو ملکہ کے پہنچنے سے قبل ہی اس کے عرش کو لے کر آجائے اور پھر اس عرش اور تخت کو اس کے سامنے ذرا انجان ہو کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ عرش وہ اپنے علاقے میں چھوڑ کر آئی ہے اور یہ وہاں اس کے دارالخلافہ میں محفوظ و مامون ہے۔
Ayah 27:40قال ……الیک طرفک
آپ کو معلوم ہے کہ سلیمان علیہ اسللام نے اس کے تحت کو اس کی جانب سے اطاعت قبول کرنے سے قبل کس غرض کے لئے منگوایا ؟ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ کام اس لئے کیا کہ وہ ملکہ سبا کو دکھائیں کہ کائنات کی معجزانہ قوتیں ان کی تائید کر رہی ہیں تاکہ ملکہ سبا ان سے متاثر ہوجائے اور ظاہری اختیار کے ساتھ ساتھ اس کے ایمان لانے کی راہ بھی ہموار ہوجائے۔
جنوں میں سے ایک دیوہیکل جن نے یہ پیشکش کی کہ وہ یہ تخت اس وقت تک حاضر کر دے گا جب تک یہ اجلاس جاری ہے۔ جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) انتظامی اور عدالتی فصلہ کرنے کے لئے صبح سے ظہر تک بیٹھتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس عرصے کو طویل سمجھے۔ یہ کہا کہ اس وقت تک تو بہت دیر ہوجائے گی۔ چناچہ ایک شخص جس کے پاس علم کتاب تھا۔
الذی عندہ علم من الکتب (82 : 03) ” جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا۔ “ اس نے کہا کہ پلک جھپکنے سے پہلے میں اسے لائے دیتا ہوں۔ یہاں اس شخص کا نام نہیں لیا گیا کہ وہ کون تھا اور نہ اس کتاب کا ذکر ہے جس کا علم اس کے پاس تھا۔ ہم سمجھے ہیں کہ یہ ایک مومن شخص تھا ، اللہ کے ساتھ اس کا اتصال تھا ، خدا رسیدہ شخص تھا اور وہ اللہ کی جانب سے ایسی قوتوں کے مالک تھے جن کے لئے غیب کے پردے اور دوریاں ختم ہوجاتی ہیں اور یہ ایسے امور اور کرامات ہیں جن کا صدور بعض اوقات خدا رسیدہ لوگوں سے ہوتا ہے اور جس کے اسرار و رموز سے عام لوگ واقف نہیں ہوتے۔ کیونکہ عام انسان جس دنیا میں رتے ہیں اور جن اسباب کے تحت وہ زندگی بسر کرتے ہیں اس سے یہ مختلف زندگی ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ قصے کہانیوں اور داستانوں اور خرافات سے نکلنے کے لئے بس اس مقام پر یہی کہا جاسکتا ہے۔
بعض مفسرین اس شخص کے پیچھے پڑے ہیں کہ یہ شخص کون تھا ؟ اور کتاب کون سی تھی۔ کتاب کے بارے میں کہا کہ وہ تورات تھی اور بعض نے کہا کہ یہ شخص اسم اعظم کو جانتا تھا اور بعض مفسرین نے اور اقوال اختیار کئے ہیں۔ تمام اقوال کی پشت پر کوئی مستند دلیل نہیں ہے۔ اگر واقعیت پسندی سے کام لیا جائے تو یہ معاملہ بہت آسان ہے۔ اس کائنات کے ہزارہا ایسے راز ہیں جن کو ہم نہیں جانتے۔ بیشمار ایسی قوتیں ہیں جن کو ابھی تک ہم کام میں نہیں لا سکے۔ خود نفس انسانی کے اندر ایسے راز موجود ہیں جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ جب کسی ایک انسان کو ان اسرار سے واقف کردیتا ہے تو پھر دوسروں کے لئے ایک معجزہ صادر ہوجاتا ہے کیونکہ یہ معجزہ عام انسانوں کی طبیعی زندگی کے لخفا ہوتا ہے جبکہ یہ خارق عادت معجزہ بھی اللہ ہی کی قوتوں میں سے کسی قوت کے مطابق ہوتا ہے اور اللہ اس خارق عادت بات کو جس کے ہاتھ پر چاہتا ہے چلا دیتا ہے۔ (اس طرح وہ معجزہ اور کرامت ہوتی ہے۔ )
یہ شخص جس کے پاس علم کتاب تھا ، اس علم کی وجہ سے اس کا نفس اس کام کے لئے تیار تھا۔ اللہ نے بعض کائناتی راز اس شخص پر منکشف کردیئے تھے اور یوں یہ کرامت اس کے ہاتھ سے ظاہر ہوگئی کیونکہ علم کتاب کی وجہ سے یہ شخص خدا رسیدہ شخص تھا اور وہ روحانی طور پر اس کے لئے تیار تھا کہ اس پر بعض اسرار کھول دیئے جائیں۔
بعض مفسرین نے کہا یہ شخص خود سلیمان (علیہ السلام) تھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ شخص حضرت سلیمان نہ تھے۔ ورنہ پھر اپنے آپ کو چھپانے کی ضرورت کیا تھی۔ قصہ خود انکا چل رہا تھا اور قصہ بھی ایسا کوئی نہ تھا کہ حضرت کا نام مخفی رکھا جائے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس کا نام آصف بن برقیا تھا۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
فلما راہ ……کریم (04)
تخت کی اچانک اور برق رفتار حاضری کا سلیمان (علیہ السلام) پر بےحد اثر ہوا۔ وہ ڈر گئے کہ اللہ نے کس طرح معجزاتی انداز میں ان کا مقصد پورا کردیا۔ انہوں نے سوچ لیا کہ یہ ایک عظیم نعمت خداوندی ہے اور اس کا فضل و کرم ہے۔ اور اس قدر عظیم کرم دراصل ایک عظیم ابتلا ہے۔ ایک خوفناک ابتلا ہے۔ اس لئے اس ابتلا سے وہ کامیابی کے ساتھ تب ہی گزر سکتے ہیں جب وہ ہر وقت بیدار رہیں اور اس آزمائش میں بھی کامیابی کے لئے اللہ کی مدد درکار ہے۔ اسے خدا خوفی کی ضرورت ہے ، نعمت خواندی کا احساس کرنا ضروری ہے۔ اور اللہ کے اس فضل پر شکر بجالانا ضروری ہے۔ تاکہ اللہ پر ثابت ہوجائے کہ میں شکر گزار ہوں جبکہ الل ہکو کسی کی جانب سے کسی شکر کی ضرورت نہیں ہے جو کوئی شکر کرتا ہے۔ وہ خود اپنے لئے کرتا ہے اور شکر سے زیادہ نعمت حاصل ہوتی ہے اور ابتلائے نعمت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے اور اگر کوئی شکر نہیں کرتا ، ناشکری کرتا ہے تو اللہ تو عالم اور عال والوں سے مستغنی ہے۔ وہ تو کریم ہے۔ بغیر کسی احتیاج کے شکر کرنے والوں کو بخشتا ہے۔
شکر نعمت اور شکر کو ایک آزمائش تصور کرنے کے بعد حضرت سلیمان ملکہ کو حیران کن صورت حال سے دوچار کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔
Ayah 27:41قال نکروالھا ……لایھتدون (14)
یعنی اس تخت کی امتیازی خصوصیات کو ختم کر دو تاکہ دیکھا جائے کہ وہ اس تحت کو اپنی فراست اور ذہانت سے پہنچانتی ہے یا نہیں۔ یا اس معمولی تبدیلی سے اس کے لئے اس کا پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔
شاید یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے اس کی ذہانت اور فراست کا امتحان تھا۔ تخت کے بارے میں اس اچانک اور ناقابل توقع صورتحال سے دوچار ہونے کے بعد اب حضرت سلیمان اور ملکہ کی ملاقات ہوتی ہے۔
Ayah 27:42فلما جآءت قیل اھکذا عرشک قالت کانہ ھو
یہ اس لئے ایک انوکھی اور غیر متوقع بات تھی۔ اس کی مملکت کہاں اور تخت کہاں اور وہ دیکھ رہی ہے۔ آخر محفوظ مقامات کے اندر زیر حراست تخت یہاں کس طرح آگیا ۔ جنوب یمن اور بیت المقدس کا فاصلہ یہ کیسے آگیا اور کون اسے لایا ہے۔
لیکن تھوڑی سی تبدیلی کے باوجود تخت تو اسی کا ہے لیکن وہ غیر متوقع ہونے ، حالاتی شہادت خلاف ہونے کی وجہ سے اور زیادہ تر علامات اصلی باقی رہنے کی وجہ سے وہ یوں کہتی ہے کہ ” گویا یہ وہی ہے۔ “ اس نے نہایت فراست اور عقلمندی سے یہ جواب دیا۔ جس میں نہ اس تخت کا اقرار ہے اور نہ انکار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان غیر متوقع حالات میں بھی دھوکہ نہیں کھاتی اور اعلیٰ درجے کی سفارتی زبان استعمال کرتی ہے۔
اب یہاں سیاق کلام میں ایک خلا ہے۔ گویا اسے حضرت سلیمان نے اطلاع کردی کہ یہ قوت ہے جس کے ذریعے ہم تمہارا تخت تم سے بھی پہلے لے آئے۔ تو اس کا جواب وہ دیتی ہے کہ ہم نے خود اپنے ہاں حالات کا جائزہ لے لیا تھا اور یہ عزم کرلیا تھا کہ ہم سلیمان کی اطاعت قبول کریں گے جب ہمارے ہدایا رد کردیئے گئے تھے۔
واو تینا العلم من قبلھا وکنا مسلمین (24)
اب قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ ملک سبا اپنی اس دانشمندی کے باوجود پھر حضرت سلیمان کے پہلے خط پر ایمان کیوں نہیں لائی۔ یہ اس لئے کہ یہ ایک کافر سوسائٹی میں پیدا ہوئی تھی۔ لہٰذا وہ بھی عام رواج کے مطابق اللہ کی بندگی کے بجائے سورج کی بندگی کرتی رہی۔ جیسا کہ ہد ہد کی رپورٹ سے ظاہر ہے۔
Ayah 27:43وصدما ……قوم کفرین (34)
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کو مرعوب کرنے کیل ئے ایک دوسری غیر متوقع امتحان گاہ بھی اس کے لئے تیار تھی۔ یہ امتحان اس قدر اچانک ہے کہ یہاں بھی بیان قصہ کے وقت بھی اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔ پہلے تخت کے سلسلے میں تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو بتا دیا کہ یہ تخت یوں معجزانہ انداز میں لایا گیا ہے۔ یہاں قرآن کریم کی طرز ادا بھی نہایت ہی بلبغانہ ہے۔
Ayah 27:44قیل لھا ادخلی ……رب العلمین (34)
یہ غیر متوقع محتان یوں تھا کہ حضرت سلیمان نے ایک عظیم الشان محل تعمیر کرایا تھا۔ یہ شیش محل تھا۔ اس کے فرش کے نیچے سے پانی گزارا گیا تھا اور فرش شیشے کا بھی اب فرش یوں نظر آ رہا تھا کہ گویا پانی کی لہر ہے۔ جب ملکہ کو کہا گیا کہ آپ اس محل میں داخل ہوں تو اس نے سمجھا کہ اسے پانی سے چل کر گزرنا ہے۔ اس پر اس نے شلوار کے پائنچے اٹھا دیئے۔ اس کی ٹانگیں کھل گئیں۔ اس واقعہ کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بتایا۔
قال انہ صرح ممرد من قواریر (82 : 33) ” انہوں نے کہا کہ یہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔ “ یہاں ملکہ حیران رہ گئی کہ حضرت سلیمان کے پاس تو حیران کن عجائبات ہیں اور یقینا یہ قوتیں فوق الفطرت ہیں۔ یوں اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔ اور اللہ کو پکار اٹھی کہ اس نے اس سے قبل جو غیر اللہ کی عبادت کی ہے وہ اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔ چناچہ اس نے سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا کہ میں اب سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کرتی ہوں۔
اس نے سوچ لیا کہ اسلامی نظام زندگی کیا چیز ہے۔ یہ کہ اس میں کوئی انسان کسی انسان کے آگے نہیں جھکتا۔ بلکہ سب انسان اللہ کے آگے جھکتے ہیں۔ سلیمان اگرچہ نبی ہیں لیکن وہ کہتی ہے کہ میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی اطاعت قبول کرتی ہوں یعنی سلیمان کی معیت تو ہے جس طرح ایک مسلمان دوسرے مسلمانوں کا ساتھی ہوتا ہے لیکن اطاعت رب العالمین کی ہوتی ہے۔
اسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین (82 : 33) قرآن کریم نے یہاں اس بات کو خصوصی طور پر ریکارڈ کیا ہوا ہے کہ اسلام اللہ کے لئے ہوتا ہے اور اسلام قبول کرنے سے ایک انسان ایک ایسی صف میں جا کر کھڑا ہوجاتا ہے جو مقتدر اعلیٰ ہوتی ہے بلکہ اسلام میں آ کر غاب اور مغلوب اور محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دونوں بھائی ہوتے ہیں کوئی غالب و مغلوب نہیں ہوتا۔ سب مساوی طور پر رب العالمین کے آگے جھکتے ہیں۔
اہل قریش اسلام کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرتے تھے حالانکہ رسول اللہ انہیں اسلام اور رب العالمین کی اطاعت کی طرف بلاتے تھے۔ محمد ابن عبداللہ کی اطاعت کی ضرورت نہیں کہ وہ ایک سربراہ مملکت بن جائیں۔ قریش کو ملکہ سبایہ تعلیم دیتی ہے کہ کس نبی کی دعوت قبول کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان اس نبی کی معیت میں اللہ رب العالمین کا مطیع ہوجاتا ہے ۔ داعی اور مدعو برابر ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ اسلام قبول کریں تو رسول اللہ کے ساتھ وہ رب العالمین کے مطیع ہوں گے۔
Ayah 27:45درس نمبر 371 تشریح آیات
54……تا……35
قرآن کریم میں حضرت صالح اور قوم ثمود کا قصہ بالعموم حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قصص کے ساتھ آتا ہے۔ ان قصص کے ساتھ حضرت ابراہیم کا قصہ کبھی آتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔ اس سورة میں بھی بنی اسرائیل کے قصص آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ اور حضرت دائود اور حضرت سلیمان کے قصے گزر گئے ہیں۔
ہیاں بھی حضرت ہود اور حضرت شعیب کا قصہ مختصراً آیا ہے جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ نہیں آیا۔
حضرت صالح کے قصے میں ناقہ والی کڑی نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے 9 مفسدین کا ذکر ہے جو حضرت صالح کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ حضرت صالح کو ان کی مکاریوں کا علم نہ تھا۔ ان کی ان سازشوں کے جواب میں اللہ نے ان کے خلاف ایسی تدبیر اختیار کی جس کا وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ وہ یہ کہ ان سب مفسدوں کو تباہ کر کے رکھ دیا اور حضرت صالح اور اہل ایمان کو نجات دے دی۔ مشرکین مکہ کو کہا جاتا ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے ان کے مکانات کو دیکھتے ہو مگر عبرت نہیں پکڑتے۔
ولقد ……یختصمون (54)
حضرت صالح کی رسالت کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ ” صرف اللہ کی بندگی کرو۔ “ ہر دور میں انسانوں کو جو سماوی ہدایت دی گئی ہے اس کا خلاصہ یہی رہا ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی رو ، ہر رسول اور ہر قوم کو یہی تعلیم دی گئی جبکہ اس کائنات میں انسانوں کے اردگرد پائی جانے والی کائنات میں اور خود انسانوں کے نفوس کے اندر بھی وجدانی دلائل موجود ہیں جو یہی حقیقت بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا معبود ایک ہی ہے۔ لیکن انسان ہے کہ وہ اس سادہ حقیقت کا انکار کرتا ہے۔ نہ صرف انکار بلکہ وہ اس دعوت کے ساتھ مذاق بھی کرتا ہے۔ اور حقارت آمیز انداز میں اسے ٹھکراتا ہے اور آج تک انسان بھٹک رہا ہے ۔ مختلف راستوں پہ چلتا ہے ، ٹھوکریں کھاتا ہے لیکن صراط مستقیم کی طرف نہیں آتا۔
یہاں قرآن کریم نے حضرت صالح کی دعوت کا صرف یہ اثر بتایا ہے کہ قوم دو ٹکڑے ہوگئی اور ان کے درمیان مخاصمت شروع ہوگئی۔ ایک فریق نے دعوت قبول کرلی اور دوسرا مخالف ہوگیا۔ فریق ، تعداد میں بہت زیادہ تھا جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری سورتوں سے ظاہر ہے۔
یہاں قصے کے اختصار کی وجہ سے خلا ہے۔ اس میں قوم نے حضرت صالح سے مطالبہ کیا ہے کہ تم ہمیں جس عذاب سے ڈراتے ہو ، اسے لے آئو۔ منکرین کا ہمیشہ یہ طریقہ ہوتا ہے کہ وہ ہدایت و رحمت طلب کرنے کی بجائے اللہ کا عذاب طلب کرتے ہیں جس طرح مشرکین قریش نبی ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے۔ حضرت صالح نے انہیں تنبیہ کی کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم رحمت و ہدایت طلب کرنے کی بجائے خدا کا عذاب طلب کرتے ہو۔ وہ ان کو مشورہ دیتے ہیں اللہ سے مغفرت طلب کرو وہ تم پر رحم کر دے گا۔
Ayah 27:46قال یقوم لم ……ترحمون (64)
لوگوں کے دماغ اس قدر بگڑ گئیت ہے کہ سچائی کو جھٹلانے والے کہنے لگے تھے۔ اے اللہ ، اگر یہ شخص تیری طرف سے رسول ہے اور سچائی پر ہے تو ، تو ہم پر پتھروں کی بارش کر دے اور درد ناک عذاب نازل کر دے۔ “ حالانکہ ان کو کہنا یوں چاہئے تھا ” اے اللہ ، اگر یہ شخص تیری طرف سے آیا ہوا ہے اور سچا ہے تو ، تو ہمیں توفیق دے کہ ہم ایمان لے آئیں اور اس کی تصدیق کردیں۔ “
یہی حال قوم صالح کا ہوگیا تھا۔ ان کا رسول ان کو رحمت ، توبہ اور استغفار کی راہ کی طرف بلاتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں ، یہ لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں ہم تو صالح اور ان لوگوں سے تنگ آگئے ہیں جو اس کے ساتھ ہوگئے تھے کیونکہ یہ لوگ ہمارے لئے مصیبت بن گئے ہیں اور ہمیں خطرہ ہے کہ یہ لوگ ہم پر کوئی بڑی مصیبت لے آئیں گے۔
Ayah 27:47قالوا اطیرنا بک وبمن معک ط
تطسیر کے معنی بدشگونی کے ہیں۔ یہ لفظ اقوام جاہلہ کی وہم پرستیوں اور خرافات سے نکلا ہے۔ وہ اوبام جن سے کوئی شخص صرف سیدھے اور صاف ایمان کے ذریعے نکل سکتا ہے۔ ایام جاہلیت میں اگر کوئی کسی کام کے لئے نکلنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نیک شگون یا بدشگون معلوم کرنے کے لئے کسی پرندے سے فال گیری کرتا ہے۔ وہ کسی جگہ بیٹھے ہوئے پرندے کو اڑاتا۔ اگر یہ پرندہ اس کے دائیں جانب سے بائیں جانب جاتا تو یہ خوش ہوتا اور وہ کام کر گزرتا۔ اور اگر یہ پرندہ بائیں جانب سے دائیں جانب کی طرف جاتا تو یہ شخص بدشگوفی کرتے ہوئے یہ سمجھتا کہ یہ معاملہ خطرناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ کسی پرندے کو لیا معلوم ہے کہ وہ کدھر جائے اور کدھر نہ جائے۔ نیز کسی پرندے کی اتفاق حرکت سے غیبی باتیں کس طرح معلوم ہو سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نفس انسانی اپنے معاملات ہمیشہ کسی غیبی قوت کے حوالے کرتا ہے۔ اگر کوئی اپنا غیب اور مستقبل اللہ علام الغیوب کے حوالے نہیں کرتا اور اللہ پر بھروسہ نہیں کرتا تو پھر وہ ایسے ہی اوہام و خرافات کا شکار ہوتا ہے۔ پھر وہ اوبام و خرافات کسی حد پر جا کر رکتے نہیں۔ نہ عقل کی حدود میں رہتے ہیں۔ نہ ان سے کوئی یقین و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
آج صورت حال ایسی ہے جو لوگ ایمان نہیں لاتے اور عالم غیب کے پوشیدہ امور کو اللہ کے سپرد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور جن کا زعم یہ ہے کہ انہوں نے اس قدر علمی ترقی حاصل کرلی ہے کہ دین و مذاہب کے خرافات پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں ، نہ دین اسلام پر ایمان لاتے ہیں اور نہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ، لیکن ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کی وہم پرستی کا حال یہ ہے کہ یہ لوگ بھی عدد 31 کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ اور جب یہ لوگ جا رہے ہوں اور کوء سیاہ بلی ان کے راستے سے گزر جائے تو اس کو بھی نہایت ہی اہم واقعہ سمجھتے ہیں۔ مثلاًدیا سلائی کی ایک پتلی سے دو سے زیادہ سگریٹ جلانا اور اس قسم کے دور سے خرافات پر یہ لوگ بڑا یقین رکھتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ اس قسم کے لوگ دراصل فطرت سے عناد کرتے ہیں حالانکہ فطرت سلیمہ کے اندر ایمان باللہ کو پیاس ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کبھی بھی مستغنی نہیں ہوتی۔
اس دنیا کے حقائق میں اسے عالم غیب کا سہارا لینا پڑتا ہے ، جن تک انسانی علم و معرفت کی رسائی نہیں ہوتی اور بعض حقائق تو ایسے ہیں کہ ان تک انسانی علم کبھی بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ کیونکہ یہ حقائق انسان کی قوت مدرکہ کی حدود طاقت ہی سے ماوراء ہیں اور جو انسان کے مخصوص مقصد پیدائش او خلافت فی الارض کے منصب کے ساتھ متعلق ہی نہیں ہیں۔ اس لئے انسان کو ان کے علم کی طاقت ہی نہیں دی گئی۔ انسانی قوتیں اس کے منصب تک محدود ہیں۔
جب قوم صالح نے اپنی وہی بدویانہ اور گمراہانہ بات کہی ، جو اوہام و خرافات کے اندر ڈوبی ہوئی تھی تو حضرت صالح نے ان کو یقین کی روشنی کی طرف موڑ دیا اور ایک واضح حقیقت کی دعوت دی جس کے اندر کوئی پیچیدگی اور کوئی تاریک گوشہ نہ تھا۔
قال طئرکم عند اللہ
صالح نے جواب دیا تمہارا نیک و بد اور تمہارا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ نے اس کائنات کے لئے ایک سنت جاری کی ہے اور پھر لوگوں کو کچھ احکام دیئے ہیں اور لوگوں کے لئے ایک نہایت ہی سیدھی راہ تجویز کی ہے۔ پس جس نے سنن الہیہ کا اتباع کیا ، اللہ کی ہدایات پر چلا تو اس کا انجام اچھا ہوگا اور اسے پرندے اڑانے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی ، اور جو شخص سنن الہیہ سے سرتابی کرے گا اور صحیح راستے سے ادھر ادھر ہوجائے گا وہ ایک عظیم شر سے دوچار ہوگا۔ اسے پھر پرندوں سے نیک شگون اور بدشگون لینے کی ضرورت نہ ہوگی۔
بل انتم قوم تقنتون (74)
” اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔ “ اللہ نے تم پر جو انعامات کئے ہوئے ہیں۔ یہ تمہارے لئے ایک فتنہ ہے اور جو خیر و شر تمہیں پیش آ رہا ہے۔ وہ تمہارے لئے آزمائش ہے۔ لہٰذا بیداری ، اللہ کے قوانین فطرت کے مطابق تدبیر اور واقعات و حادثات کو سمجھنا اور ان کے اندر جو آزمائش اور ابتلا ہوتی ہے ، اس کا ادراک کرنا اور شعور رکھنا ہی اچھے انجام کا ضامن ہے۔ یہ جو تم پرندوں کو اڑا کر شگون یا بدشگون معلوم کرتے ہو ، اس کا واقعات کے انجام پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، یہ محض تمہارے اوہام ہیں۔
ایک صحیح نظریہ اور عقیدہ لوگوں کو ذہنی روشنی اور استقامت عطا کرتا ہے اور انسان معاملات کی صحیح قدر معلوم کرلیتا ہے۔ انسان کا دل بیدار ہوتا ہے اور وہ اپنے ماحول پر اچھی نظر رکھتا ہے اور غور و فکر کرتا ہے۔ انسان کو یہ شعور ہوتا ہے کہ اس کے اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے دست قدرت اس میں موثر ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں یہ واقعات یونہی اتفاقاً واقع نہیں ہوتے ، نہ یہ زندگی ایک عبث عمل ہے بلکہ انسان کی زندگی بامقصد ہوتی ہے ، وہ ایک قیمت رکھتی ہے۔ لوگوں کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اور یوں یہ چھوٹا سا انسان اس کرہ ارض پر ایک بامقصد سفر کرتا ہے۔ وہ اللہ سے بھی مربوط ہوتا ہے اور اللہ کی اس کائنات کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہوتا ہے اور ان قوانین کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہوتا ہے۔ جو خالق نے اس کائنات کے لئے وضع کئے ہیں اور جن کے مطابق یہ کائنات بحفاظت چل رہی ہے۔
لیکن یہ سادہ سادہ استدلال ان لوگوں پر کیا اثر کرتا جن کے قلوب بگڑ چکے ہوں۔ ان کے دل اس قدر فساد میں مبتلا ہوئے ہوں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ اصلاح کا کوئی امکان نہ رہا ہو۔ قوم صالح بگاڑ کے اس مرحلے پر پہنچ گئی تھی جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔ ان میں 9 افراد ایسے تھے جو پوری بگاڑ کے ذمہ دار تھے۔ یہ لوگ فساد کی آخری سرحدوں کو چھو رہے تھے چناچہ انہوں نے اس تحریک کو ختم کرنے کے لئے ایسی سازش تیار کی جس پر رات کے اندھیروں میں عمل کیا جانا تھا۔
Ayahs 27:48–49وکان فی المدینۃ ……لصدقون (94)
یہ نو افراد ایسے تھے جن کی اصلاح ناممکن ہوگئی تھی ، یہ ہر وقت فساد اور سرکشی پر آمادہ رہتے تھے۔ یہ لوگ حضرت صالح کی دعوت سے اس قدر تنگ آگئے کہ انہوں نے ایک دور سے کے ساتھ رات کو ایک خفیہ معاہدہ کیا اور اس عہد پر اللہ کے نام سے قسم بھی اٹھائی کہ اس پر عمل کریں گے ، حضرت صالح کو قتل کردیں گے۔ حالانکہ حضرت صالح تو ان کو صرف اللہ ہی کی طرف بلاتے تھے۔
یہاں عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سازش پر بھی اللہ ہی کو گواہ ٹھہرایا۔
تقاسموا ……اھلہ (82 : 93)
” خدا کی قسم کھا کر عہد کر لوگو ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے۔ “ نہ ہم نے قتل کیا ہے نہ موجود تھے۔
وانا لصدقون (82 : 93) ” اور ہم بالکل سچے ہیں۔ “ اس لئے کہ یہ قتل رات کے اندھیرے میں ہوگا کوئی دیکھنے والا نہ ہوگا۔
ان لوگوں کی یہ تدبیر بھی نہایت سطحی اور سادہ تدبیر تھی لیکن بہرحال یہ تدبیر کر کے وہ اپنے آپ کو مطئمن کر رہے تھے۔ اور ان لوگوں کے نزدیک خدا کے نام پر یہ جھوٹ بالکل جائز تھا اور پھر یہ اپنی اس اسکیم کے مطابق اپنے آپ کو بالکل سچا بھی ثابت کرتے ہیں۔ انسانی سوچ بھی عجیب پیچیدہ اور سطحی ہوتی ہے۔ خصوصاً جبکہ انسان کا دل نور ایمان سے خالی ہو ، کیونکہ سیدھا راستہ تو ایمان ہی بناتا ہے۔
یہ تھی ان کی تدبیر اور ان کی سوچ۔ لیکن اللہ بزرگ و برتر تو سب کچھ دیکھ رہا ہے اور یہ لوگ اللہ کو نہیں دیکھ رہے ۔ اللہ کے علم میں ان کی پوری سازش ہے ، لیکن اپنے خیال میں یہ سازش بھی اندھیرے میں کر رہے ہیں اور عمل بھی اندھیرے میں ہوگا۔ لیکن ہیں خود اندھیرے میں۔
Ayah 27:50ومکروا ……لایشعرون (05)
دیکھیے ان کی تدبیر کیا ہے۔ ان کی سازش بمقابلہ امرا نہی۔ اللہ کی قوت کے مقابلے میں یہ شرپسند کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں جھوٹے جبار وقہار جو تھوڑی بہت قوت کے مالک بن جاتے ہیں وہ اپنی اس قوت میں اس قدر مست ہوجاتے ہیں کہ اوپر دیکھنے والی آنکھ سے غافل ہوجاتے ہیں۔ وہ اس قوت سے بالکل غافل ہوتے ہیں کہ جو اچانک ان کو پکڑ لے گی اور ان کی توقع ہی نہ ہوگی۔
Ayah 27:51فانظر ……ظلموا ط
ایک لمحے کے اندر ان کو برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ اگلے لمحے میں ان کے محلات ان پر الٹ دیئے گئے۔ گھر خالی رہ گئے ۔ ایک لمحہ پہلے وہ تو اہل ایمان کے خلاف سازشیں کر رہے تھے اور ان کو پورا یقین تھا کہ وہ اپنی سازشوں پر عمل کرسکیں گے۔
سیاق کلام میں یہ شتابی کہ ادھر سازش ہوئی ادھر وہ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ اس اچانک اور فیصلہ کن گرفت سے ڈرانا مقصود ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں قوت آجاتی ہے۔ وہ مغرور نہ ہوں اور غرے میں نہ آجائیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو اسی طرح اچانک گرفت میں لے سکتا ہے اور ان کو ان کی مکاریوں اور تدابیر کے ساتھ ہلاک کرسکتا ہے۔
Ayah 27:52ان فی ذلک لایۃ لقوم یعلمون (25)
” اور بچا لیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے۔ “ کفار کی اچانک ہلاکت کے بعد اب بتا دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو نجات دے دی گئی۔ اس لئے کہ وہ دنیا کی قوتوں کی بجائے صرف اللہ سے ڈرتے تھے۔ اور کسی مومن کے دل میں اللہ کے ڈر کے ساتھ دورسا کوئی ڈر جمع نہیں ہو سکتا۔
Ayah 27:53درس نمبر 471 ایک نظر میں
حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصے کا یہ مختصر ترین حلقہ مختصر اور شوٹنگ کے انداز میں ہے۔ قوم لوط حضرت لوط کو ملک بدر کرنا چاہتی ہے اور جرم کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ اخلاقی تطہیر اور پاکیزگی کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کو اس اخلاقی گندگی سے نکالنا چاہتے تھے جس میں یہ لوگ علانیہ اور اجتماعی طور پر مبتلا تھے۔ ہم جنس پرستی یعنی مردوں کا مردوں کے ساتھ جنسی ملاپ اور عورتوں کے قریب نہ آنا ، یہ انتہائی گندگی ، غلاظت اور خلاف فطرت عمل تھا۔
انسانی تاریخ میں یہ جنسی بےراہ روی کبھی کبھی اجتماعی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ بعض اوقات بعض افراد تو اس میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور ان کے لئے ایسے حالات بھی ہو سکتے ہیں مثلاً فوجی چھائونیوں میں لوگ خلاف فطرت جنسی عمل میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، جہاں انہیں فوجی کیمپوں میں عورتیں نہیں ملتیں۔ پھر قید خانوں اور جیلوں میں بھی یہ بیماری پھیل سکتی ہے۔ جہاں ایک طویل عرصے تک قیدیوں کو جنسی ملاپ سے محروم رکھا جاتا ہے اور ان پر جنسی ملاپ کا سخت دبائو ہوتا ہے اور عورتوں سے وہ دور ہوتے ہیں۔ رہی یہ صورتحال کہ کس بستی میں یہ جنسی بےراہ روی اور ایک عام مسلمہ قاعدہ بن جائے ، عورتیں موجود ہوں ، نکاح ہو سکتے ہوں تو حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں فی الواقعہ ، یہ ایک عجیب واقعہ ہے۔ (1)
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی فطرت ایسی بنائی ہے اس میں نر اور مادہ ہیں اور فطرتاً نر اور مدہ کے درمیان ملاپ کا داعیہ رکھا ہے۔ تمام زندہ مخلوقات کی یہ فطرت ہے۔
سبحن الذی ……یعلمون (63 : 63) ” پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس میں سے یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں۔ “ تو اللہ نے تمام زندہ اشیاء کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ خواہ زمین کی نباتات ہوں یا انسان ہوں یا دوسرے حیوان ہوں ، خواہ ان کو انسان جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ اللہ کی مخلوقات میں سے بیشمار ایسی مخلوق اب بھی ہے جسے ہم نہیں جانتے ۔ لہٰذا نرو مادہ یا مخلاف جوڑا اس پوری کائنات کی تخلیق میں اصل الاصول ہے۔ زندہ چیزوں کے علاوہ دوسری نامعلوم مخلوقات میں بھی۔ ایٹم ، کائنات کا صغیر ترین ٹکڑا ابھی الیکٹرون سے پیدا شدہ ہے ، جس میں مثبت اور منفی چارج ہوتے ہیں ، گویا کائنات کے ہر ایٹم کے اندر جوڑا موجود ہے۔
……
(1) مصنف جس وقت لکھ رہے تھے اس وقت یورپ کے ملکوں نے اس فعل کو قانوناً جائز نہ کیا تھا (مترجم) ۔
جہاں تک زندہ مخلوقات کا تعلق ہے ان کے اندر نر و مادہ کا ہونا تو ایک لازمی امر ہے اور معلوم ہے یہاں تک کہ جن زندہ چیزوں میں نر اور مدہ نہیں ہوتے خود ان کے اندر نر اور مادہ کے خلیے ہوتے ہیں اور ان خلیوں کے اجتماع کی وجہ سے ان کے اندر پیداواری عمل جاری رہتا ہے۔
چونکہ نر اور مادہ کا ہونا اور تمام زندہ مخلوقات کا جوڑا جوڑا ہونا ناموس فطرت ہے۔ اس لئے اللہ نے فطرتاً نر اور مادہ کے درمیان ایک کشش رکھی ہے۔ ایسی کشش جسے کسی خارجی تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ کسی غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نے زندگی کو اس کی صحیح طور چلانا تھا اور اس راستے پر چلنے کا داعیہ بھی فطرتاً رکھا گیا اور اس کے لئے تعلیم و ترغیب کی ضرورت ہی نہ رکھی گئی۔ لوگوں کے لئے دواعی فطرت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا باعث لذت بنایا۔ اس طرح دست قدرت بغیر تعلیم اور ترغیب کے لوگوں سے یہ فطری کام لیتی ہے۔ اللہ نے نر اور مادہ کے مقامات نہانی کے اندر اس فطری ملاپ کا میلان رکھ دیا ہے اور یہ میلان اور لذت اللہ نے دو مردوں کے اعضاء کے اندر نہیں رکھا۔
یہی وجہ ہے کہ فطرت کا یہ اجتماعی بگاڑ ، جو قوم لوط کے اندر ہوا ، عجیب لگتا ہے کیونکہ یہ تقاضا ئے فطرت کے خلاف ہے۔ چناچہ حضرت لوط ان لوگوں کے اس فطری بگاڑ کی اصلاح کرنے لگے۔
درس نمبر 471 تشریح آیات
45……تا ……95
Ayahs 27:54–55ولوطا……قوم تجھلون (55)
پہلے فقرے میں اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ تم جس بگاڑ میں مبتلا ہو یہ نہایت ہی عجیب و غریب ہے ، تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمام زندہ مخلوقات کی فطرت کیا ہے۔ تم تو اچھی طرح دیکھتے ہو کہ حیات انسانی و حیوانی کے اندر قانون فطرت کیا ہے۔ تمام زندہ مخلوق میں سے صرف تم ایسے ہو کہ خلاف فطرت روش میں مبتلا ہو اور دوسرے فقرے میں اس بات کی وضاحت کردی کہ تمہار ایہ فعل انسانیت کے خلاف ہے کہ تم اپنی جنس ضرورت عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے پوری کرتے ہو۔ محض یہ بیان کہ وہ ایسا کرتے تھے ، اس بات کے لئے کافی ہے کہ یہ فعل غیر فطری اور عجیب ہے اور پوری حیوانی نباتاتی بلکہ کائنتای فطرت کے خلاف ہے۔
اس کے بعد ان پر تنقید کی کہ تم بہت ہی جاہل ہو۔ اس مفہوم میں بھی جاہل ہو کہ تمہیں فطرت کائنات اور ناموس کائنات کا علم نہیں ہے اور اس لحاظ سے بھی جاہل اور احمق ہو کہ تم ایسے برے افعال کا ارتکاب کرتے ہو کیونکہ جو شخص فطرت کے تقاضوں سے نابلد ہو ، وہ جاہل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بیوقوف اور احمق بھی ہوتا ہے۔
اب آپ کی قوم کا جواب کیا تھا ؟ ان سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اس جہالت اور حماقت کو چھوڑ کر اصل راہ فطرت کی طرف آ جائو جس کے مطابق تم پیدا ہوئے ہو تو ان کا جواب یہی تھا جو ہر جاہل کا ہوتا ہے یعنی یہ کہ تم بہت پاک لوگ ہونکلو ہمارے گائوں سے۔ “
Ayah 27:56فما کان ……یتطھرون (65)
انہوں نے بطور مزاح حضرت لوط اور مومنین کو ” پاکباز “ کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کا یہ فعل گندہ ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ الٹا ان پاکبازوں کو گندے لوگ سمجھتے ہیں اور ان کو یہ بات بری لگتی ہو کہ مسلمان اپنے آپ کو پاک سمجھتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کی فطرت کے اندر اس قدر انحراف پیدا ہوگیا تھا کہ اس فعل کو گندگی نہ سمجھ رہے تھے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس فعل کو چھوڑنا وہ اپنے لئے گندہ فعل سمجھ رہے ہوں۔
بہرحال ان لوگوں نے فیصلہ کرلیا اور پختہ ارداہ کرلیا کہ حضرت لوط کو ملک بدر کردیں لیکن اللہ کا ارادہ کچھ اور تھا۔ اللہ نے ان کو دنیا بدر کردیا۔
Ayahs 27:57–58فانجینہ ……المئنذرین (85)
یہاں اس بارش کی تفصیلات نہیں دی گئیں جس طرح دوسری سورتوں میں دی گئی ہیں۔ لہٰذا ہم بھی سیاق کلام کے مطابق بس اس آیت کو اسی طرح مجمل چھوڑتے ہیں لیکن اس قوم کو پانی سے ہلاک کیا گیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ لوگ نامہ حیات کو غلط جگہ گراتے تھے جو فعل خلاف فطرت تھا۔ اس سے کوئی انسانی فعل مطلوب نہ تھا ، اس لئے اللہ نے بھی ان کو پانی کے ذریعے ہلاک کیا حالانکہ پانی سے اللہ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا ہے۔ یہ ان کے ساتھ ایک لطیف مذاق بھی تھا۔ واللہ اعلم ! یہ میری رائے ہے ورنہ اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی سنت کس طرح اور کیوں کام کرتی ہے۔