Ayah 27:59درس نمبر 175 ایک نظر میں
یہ سبق سورة نمل کا خاتمہ ہے۔ درمیان میں حضرت موسیٰ ، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان ، حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہم السلام) کے قصص سے مختصر کڑیاں لائی گئیں۔ یہ خاتمہ سورت کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اسی طرح سورت کے مضمون اور موضوع کے ساتھ بھی مربوط ہے۔ اس سورت میں قصص انبیاء میں سے جو کڑیاں لائی گئی ہیں وہ بھی سورت کے آغاذ ، اختتام اور موضوع و مضمون کے ساتھ مربوط ہیں۔ ہر قصہ اس مقصد کو ثابت کرتا ہے جو اس سورت کے پیش نظر ہے۔
یہ سبق اللہ کی حمد کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ اور ان بندگان خدا پر سلامتی بھیجی جاتی ہے جو برگزیدہ ہیں۔ ان میں وہ انبیاء ورسل شامل ہیں جن کے قصے اس سورت میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس حمد وسلام کے بعد پھر اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقیدے کا بیان شروع ہوتا ہے۔ اس میں اس کائنات کے دلائل توحید نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے وجدانی دلائل ، بعض غیبی امور اور علامات قیامت اور پھر مشاہد قیامت اور پھر حشر و نشر کے ہولناک لمحات بیان کئے گئے ہیں۔ جن کے اندر زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوگی الا وہ شخص کہ جسے اللہ بچالے۔
اس سبق میں انسان کو نفس انسانی اور اس کائنات کے کچھ مشاہدات کرائے جاتے ہیں۔ کوئی انسان ان مشاہدات اور ان دلائل کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور کوئی شخص بھی ان کی کوئی تشریح اس کے سوا نہیں کرسکتا کہ ایک واحد خالق ذات موجود ہے جو نہایت مدبر اور صاحب قدرت ہے۔
یہ مشاہدات مسلسل اور نہایت موثر ضربات کی شکل میں آتے ہیں اور انسان پر حجت تمام کرتے ہیں ، اس کے شعور کو جگاتے ہیں ، مسلسل سوالات ہیں جن کا جواب حقیقی یہی ہے کہ اللہ کون ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ؟ کون ہے جس نے آسمانوں سے پانی اتارا جس کے ذریعہ ہم نے تروتازہ باغات پیدا کئے ؟ کون ہے جس نے اس زمین کو ٹھہرا رکھا ہے ؟ کون ہے جس نے زمین کے اندر دریا بہائے ؟ کون ہے جس نے زمین میں اونچے اونچے پہاڑ کھڑے کیے ؟ کون ہے جس نے دو دریاؤں اور سمندروں کے درمیان پر دے کھڑے کیے۔ کون ہے جو ایک مضطرب شخص کی پکار سنتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتا ہے ؟ کون ہے جو تمہیں زمین کے اندر اقتدار دے کر خلیفہ بناتا ہے ؟ یہ بحروبر کی ظلمات میں تمہیں راہ دکھانے والا کون ہے ؟ پھر اپنی رحمت (بارش) سے قبل ٹھنڈی ہوا کون بھیجتا ہے ؟ کون ہے جس نے یہ تخلیق کی اور پھر دوبارہ تخلیق کرے گا ؟ کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یہ سوالات مسلسل آتے ہیں اور ہر سوال کے بعد پھر ان کو جھنجھوڑا جاتا ہے کہ آیا ہے کوئی الٰہ اللہ کے سوا ؟ چناچہ کوئی معقول شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ کوئی الٰہ اللہ کے ساتھ اور بھی ہے۔ کوئی ایسا دعویٰ نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود ان کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ اللہ کے سوا اور معبودوں کی بندگی کرتے ہیں۔
یہ ضربات جو براہ راست انسان کے دل پر پڑتی ہیں۔ اس لیے کہ یہ اس کائنات کی کھلی کتاب کے صفحات ہیں اور یہ ان کا شعوری وجدان ہے جسے وہ محسوس کرتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ پھر بھی آخرت کی تکذیب کرتے ہیں اور آخرت کے معاملے میں یہ لوگ نہایت التباس کا شکار ہیں۔ چناچہ ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ امم سابقہ نے بھی اسی طرح تکذیب کی تھی تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا تھا۔ یہاں سے بات پھر حشرونشر کے ہولناک مناظر کی طرف لوٹ کر آتی ہے۔ دیکھئے ہر لمحے میں قارئین پھر دنیا کے اندر آجاتے ہیں اور دوبارہ مشاہد قیامت نہایت ہی خوفناک انداز میں آتے ہیں۔ یوں انسانی دلوں کو ہلا مارا جاتا ہے اور ان کو خوب جھنجھوڑا جاتا ہے۔
اس سبق کے آخر میں ایک زبردست چوٹ لگائی جاتی ہے ، جس طرح کوئی آخری بات کرتا ہے اور خوفناک نتائج سے خبردار کرکے اور آخری وارننگ دے کر اٹھ کر چلا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے یہ کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اب ان مزاح کرنے والوں اور آخرت کا انکار کرنے والوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ آپ ﷺ نے ان کو دلائل تکوینی کی طرف بھی متوجہ کردیا۔ قیامت کے ہولناک مناظر بھی پیش کر دئیے ۔ پس اب چھوڑ دئیے جائیں یہ لوگ تاکہ وہ اپنے فطری انجام تک پہنچ جائیں۔ کیونکہ انہوں نے اس انجام کو اپنے لیے خود پسند کیا ہے اور ان کو بتا دیا جاتا ہے کہ رسول ﷺ کے ذمہ جو کام ہے وہ محدود اور متعین ہے۔ اور رسول کے پاس جو ذرائع ہیں وہ محدود ہیں کیونکہ ڈرانے کے بعد اختیار ان کا ہے کہ وہ راہ راست کو اختیار کریں یا نہ۔
آیت نمبر 91 تا 92
” اے نبی ﷺ کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لئے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبردار کرنے والا ہوں “۔
اور یہ سبق اسی مضمون پر ختم ہوتا ہے جس کے ساتھ اس کا آغاز ہوا تھا۔ یعنی صرف اللہ کی حمد جس کا وہ اہل ہے۔ ان لوگوں کو اللہ کے سپرد کردیا جاتا ہے جو ان کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور جو ان کے اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے خواہ ظاہر ہوں یا باطن۔
آیت نمبر 93
” ان سے کہو تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ عنقریب تمہیں اپنی ۔۔۔۔۔ دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ، ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔
درس نمبر 175 تشریح آیات
60 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ 93
آیت نمبر 59
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو وہ کلمات سکھاتا ہے جن کے ساتھ ہر مومن کو اپنے کلام کا آغاز کرنا بھی ایسے ہی کلمات پر ہونا چاہئے۔ وقل الحمد للہ سیریکم ” کہو سب تعریف اللہ کے لئے ہے عنقریب وہ تمہیں دکھائے گا۔۔۔ “۔ اللہ نے اپنے بندوں پر جو انعامات کیے ہیں ان کی وجہ سے اللہ مستحق ہے کہ وہ اس کی تعریفیں کرتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں میں سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو صحیح راہ دکھائی۔ وہ نظام جس کے مطابق انسانوں نے زندگی گزارنی ہے۔ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی (72: 59) ” اور سلام اس کے ان بندوں کے لیے جنہیں ان نے برگزیدہ کیا “۔ یعنی اپنی رسالت کے لیے دعوت کے لئے اور اسلامی نظام زندگی کی تبلیغ اور اقامت کے لیے۔
اس افتتاح کے بعد اب مشرکین پر حملے شروع ہوتے ہیں اور ان کو خوب ضربات لگائی جاتی ہیں۔ ان دلوں کو جھنجھوڑا جاتا ہے جو آیات الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں۔ آغاز ایسے سوال سے کیا جاتا ہے جس کا صرف ایک ہی جواب ہے۔ اس سو سال کے ذریعے ان پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ ٹھہراتے ہیں۔ اللہ خیر اما یشرکون (27: 59) ” اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بناتے ہیں “۔
یہ جن لوگوں کو شریک بناتے ہیں وہ بت ہیں یا آستانے ہیں یا ملائکہ ہیں اور یا جن ہیں اور یہ سب چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں یا ان کے علاوہ کسی اور مخلوق کو یہ شریک کرتے ہیں۔ بہر حال ان کے معبود ان باطل کسی حالت میں اللہ کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے ، چہ جائیکہ وہ اللہ سے بہتر ہوجائیں۔ کوئی عقلمند آدمی ان معبودوں اور اللہ کے درمیان کوئی موازنہ نہیں کرسکتا ۔ یہ سوال اپنے ان الفاظ میں گویا ان کے ساتھ ایک خوبصورت مزاح ہے اور ایک طرح کی تہدید اور توبیخ بھی ہے ، کیونکہ کوئی شخص اس قسم کا سوال سنجیدگی سے نہیں کرسکتا۔ یہ اس سوال کا جواب طلب کیا جاسکتا ہے۔ چناچہ جواب کے انتظار سے بھی پہلے دوسرا سوال کردیا جاتا ہے اور یہ سوال انسانوں کے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات کے بارے میں ہے ، جس کی بو قلمونیوں کو وہ رات دن مشاہدہ کرتے ہیں
Ayah 27:60امن خلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم یعدلون۔ آیت نمبر 60
” زمین و آسمان ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو ہمارے اردگرد قائم ہے۔ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور نہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ جن الہوں کو وہ پکارتا ہے ان میں سے کسی نے ان کو پیدا کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ تو اصنام و اوثان اور مائک و شیاطین اور شجر و حجر کے پوجنے والے تھے یا پھر شمس و قمر کے پجاری تھے۔ لہٰذا یہ بات بدیہی ہے کہ ان چیزوں نے اس کائنات کو پیدا نہیں کیا ، بلکہ مشرکین میں ایسے بیوقوف بھی نہ تھے جو یہ دعویٰ کرتے ہوں کہ یہ کائنات خود اپنے وجود کی وجہ سے قائم ہے۔ بذات خود خالق و مخلوق ہے۔ اس قسم کے کم عقل صرف ہمارے ترقی یافتہ دور ہی میں پیدا ہوئے۔ لہٰذا صرف یہ بات ان کے لیے کافی تھی کہ ان کو اس کائنات کی طرف متوجہ کردیا جائے اور یہ کہا جائے کہ ذرا اس کے بارے میں غوروفکر کرو۔ محض یہ توجہ ہی کافی دلیل ہے ، ردشرک کے لئے اور مشرکین کو لاجواب کرنے کے لیے ۔ اور یہ سوال انسان ، ایک سوچنے والے انسان کے سامنے ہمیشہ قائم رہتا ہے کیونکہ اس کائنات کی تخلیق ایسی ہے کہ اسے کسی ذات نے ایک منصوبے اور ارادے سے پیدا کیا ہے۔ اس کے اندر کسی مدبر کی تدبیر صاف نظر آتی ہے۔ اس کے اصولوں کے اندر اس قدر ہم آہنگی ہے کہ یہ محض اتفافی مخلوق معلوم نہیں ہوتی صرف معمولی غور کرنے ہی سے انسان اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کی خالق کوئی عظیم قدرت ہے۔ یہ واحد قوت ہے اور اس کی تخلیق کے آثار بتاتے ہیں کہ وہ وحدہ لاشریک ہے اور اس نے اس کائنات کو ایک زبردست منصوبے کے ساتھ بنایا ہے۔ اس کائنات کے اصولوں اور اس کے قوانین میں وحدت اور تناسق پایا جاتا ہے۔ لہٰذا اس کا خالق بھی ایک ہے اور وہ ایسا خالق ہے کہ اس کا ارادہ اس کائنات کی ہر چھوٹی اور بڑی چیز میں جاری وساری نظر آتا ہے۔
ذرا سوالات پر دوبارہ غور کریں۔ ” بھلا وہ کون ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ؟ “۔ ” وہ کون ہے جس نے تمہارے لیے پانی برسایا ؟ “۔ ” وہ کون ہے جس نے تمہارے لیے یہ رنگ برنگے دریچے بنائے ؟ “۔ ” کیا تم ایسے درخت اگا سکتے ہو ؟ “۔
پانی آسمانوں سے بارش کے ذریعہ اترتا ہے۔ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور کسی کے پاس اس کے حقیقی اسباب کے لیے اس کے سوا اور کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ ایک خالق کائنات ہے جو اس کائنات کی تدبیر کر رہا ہے۔ وہی ہے جس نے اس کائنات اور اس کے اس فطری نظام کو جاری کیا ہے۔ اور اس کے جاری کردہ اس قانون قدرت کے مطابق ایک خاص مقدار میں بارش نازل ہوی ہے۔ پھر اس بارش کے ذریعہ اس کرہ ارض پر اس انداز اور مقدار کے مطابق زندگی پائی جاتی ہے لہٰذا یہ سب کچھ محض اتفاق کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ یہ اتفاقات ایک خاص پیچیدہ ترتیب کے مطابق ہوتے ہیں۔ نہایت ہی طے شدہ اور مضبوط تسلسل کے ساتھ۔ جس میں زندہ مخلوق کی تمام ضروریات کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ خصوصا انسان کی تو تمام ضروریات کے مطابق اس کائنات کو بنایا گیا ہے۔ اس کی تخلیق میں انسانوں کی ضروریات کو مخصوص طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے :
وانزل لکم (27: 60) ” اور اس نے تمہارے لیے نازل کیا ہے “۔ قرآن کریم اس طرف بار بار اشارہ کرتا ہے کہ نازل ہونے والے اس پانی کے اندر زندہ کرنے والے اثرات ہیں۔ اس کے اندر انسان کے وجود ، اس کی ضروریات اور اس کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ قرآن انسانوں کو ان زندہ آثار کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جو ان کے سامنے زندہ موجود ہیں لیکن یہ لوگ ان سے غافل ہیں۔
فانبتنا بہ حدآئق ذات بھجۃ (27: 60) ” پھر اسکے ذریعہ ہم نے وہ خوشنما باغ اگائے “۔ یعنی تروتازہ اور خوبصورت ، زندہ اور خوش منظر باغ اگائے۔ باغات کو دیکھ کر انسان کے دلوں میں زندگی ، خوشی اور نشاط کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اس حسن و جمال اور تروتازگی پر غور کرنے سے مردہ دل بھی زندہ ہو سکتے ہیں۔ پانی سے پیدا ہونے والے اس حسن و جمال کے آثار پر غور کرکے ایک زندہ دل دماغ والا انسان صانع کائنات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور اس کی تسبیح و تمجید کرسکتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ایک خوبصورت چیز کی ساخت پر غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ دنیا کے تمام ماہرین فن بھی جمع ہوجائیں تو وہ ایک خوبصورت پھول بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اس کے اندر رنگوں کی لہریں اور امتزاج ، اس کے خطوط ، اس کی پتیوں کی ترتیب و تنظیم صرف ایک پھول کے اندر تخلیق و فن کا وہ کمال ہے جو معجز ہے۔ اسنان کے قدیم اور جدید ترقی یافتہ فن کے اندر اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ رہی پورے درخت کے اندر قوت نامیہ تو یہ ایک عظیم راز ہے۔ پھر درخت کے اندر سے اس کی نسل کا تسلسل یہ وہ راز ہیں جو انسان کے لیے تو معجزہ ہیں۔
ما کان لکم ان تنبتوا شجرھا (27: 60) ” جن کے درختوں کا اگانا تمہارے لیے ممکن نہ تھا “۔ اور زندگی تو ابھی تک علماء کے نزدیک ایک راز ہی ہے۔ خواہ بناتات کی ہو یا حیوانات کی۔ آج تک کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ زندگی کس طرح وجود میں آگئی یا زندہ انسان کے جسم ، حیوانات کے اجسام اور درختوں کے اجسام کے اندر پائے جانے والے میٹریل کے ساتھ کس طرح وابستہ ہوگئی۔ لہٰذا زندگی کی اس تخلیق کا مقصد کہیں اور تلاش کرنا ہوگا۔
نباتات کی زندگی ، اور اس کے آثار اور باغ و راغ کو پیش کرکے اور انسانی عقل کو دعوت غور وفکر دے کر اور انسان کے قوائے مدرکہ کو تحریک دے کر اب قارئین کے سامنے ایک سوال رکھا جاتا ہے۔
ء الہ مع اللہ (27: 60) ” کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ بھی ہے “۔ کون ہے جو اس سوال کے جواب میں ہاں کہہ سکتا ہے اقرار اور یقین اور نفی شرک کے سوا اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے لیکن ایسے واضح حالات میں بھی لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ پھر بھی عجیب موقف اختیار کرتے ہیں اور وہ ایسے خالق کائنات کیساتھ اپنے نام نہاد معبودوں کو الٰہ سمجھتے ہیں ، ان کی بندگی کرتے ہیںٗ
بل ھم قوم یعدلون (27: 60) ” بلکہ یہ لوگ راہ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں “۔ یعدلون کا معنی یا تو یہ ہے کہ وہ الٰہ سمجھتے ہیں اور یا اس کے معنی ہیں عدل عن الحق یعنی یہ لوگ سچے راستے سے ایک طرف ہو کر چلتے ہیں حالانکہ حق کا راستہ بالکل واضح ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ دیگر الٰہوں کو شریک کرکے وہ سچائی کے راستے سے ہٹ گئے جبکہ اللہ وحدہ خالق ہے۔ دونوں مفہوموں کے اعتبار سے ان کا موقف قابل تعجب ہے جو کسی عقل مند آدمی کے لائق نہیں ہے۔ اب ان کو ایک دوسری کائناتی حقیقت کی طرف منتقل کیا جاتا ہے۔ جس طرح پہلے تخلیق حیات اور اس کے مظاہر کی طرف متوجہ کیا گیا تھا۔
Ayah 27:61امن جعل الارض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بل اکثرھم لایعلمون (61)
اس کائنات کی پہلی حقیقت اور اس کے بارے میں پہلا سوال جو انسانی ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کیسے ہوئی۔ پھر جب ہم کرہ ارض پر ہیں ، تو اس زمین کا اپنی موجودہ ہیئت پر وجود میں آنا ہمارے لیے ایک اہم سوال ہے۔ پھر یہ کہ اس زمین کو زندگی کا مستقر اور سکون کی جگہ بنایا گیا ہے۔ زمین کو ایسا بنایا گیا ہے کہ اس کے اندر زندگی وجود پا سکتی ہےٗ یہاں اسے سکون ملتا ہے اور نشوونما کے اسباب ملتے ہیں۔ اگر اس زمین کی موجودہ شکل یہ نہ ہوتی اور شمس و قمر کے مقابلے میں اس کے موجودہ فاصلے نہ ہوتے یا اس کا حجم وہ نہ ہوتا جو ہے یا اس کے عناصر اور اس کی فضا میں جو عناصر ہیں وہ نہ ہوتے ، یا زمین کی حرکت اپنے محور کے اردگرد ذرا تیز ہوتی یا سورج کے اردگرد اس کی گردش موجودہ گردش سے زیادہ تیز ہوتی یا چاند کی گردش زمین کے گرد تیز ہوتی۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے حالات جو محض اتفاق سے وجود میں نہیں آئے۔ بلکہ ایک مکمل ترتیب اور ہم آہنگی کے ساتھ وجود میں لائے گئے ہیں۔ اگر ان حالات میں سے کسی چیز میں کوئی ادنیٰ سا تغیر بھی آجائے تو یہ زمین ” قرار “ نہ ہوتی اور نہ اس میں انسان یا کوئی اور چیز زندہ رہ سکتی۔
یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم کے پہلے مخاطب اللہ کے اس قول سے وہ باتیں نہ سمجھتے ہوں جو ہم سمجھتے ہیں : امن جعل الارض قرار (27: 61) ” کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا “۔ لیکن اس قدر وہ لوگ بھی سمجھتے تھے کہ یہ زمین زندگی کے لیے ایک جائے قرار ہے اور اس کے اوپر زندگی کو ممکن بنایا گیا ہے۔ وہ اس حقیقت کو ذرا اجمال کے ساتھ سمجھتے تھے اور ہم ذرا مزید تفصیلات کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی مشرک بھی یہ دعویٰ نہ کرسکتا تھا کہ ان کے الہوں میں سے کوئی الہہ تخلیق زمین میں اللہ کے ساتھ شریک ہے۔ پس اس آیت سے ان کے لیے یہ بات کافی تھی اور اس آیت کے معنی کے اندر علم کی وسعت کے ساتھ ساتھ اب تفصیلات کی وسعت پیدا ہوگئی اور ہوتی رہے گی۔ یہ قرآن کریم کے انداز بیان اور طرز استدلال کا معجزہ ہے کہ اس سے سائنسی اعتبار سے پسماندہ سوسائٹی بھی اسی قدر استفادہ کرتی تھی جس طرح زمانوں بعد آج کے ترقی یافتہ لوگ کرتے ہیں۔
امن جعل الارض قرار وجعل خللھا انھرا (27: 61) ” کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے “۔ زمین کے اوپر اللہ نے جو دریا چلا رکھے ہیں وہ دراصل زندگی کے شربان ہیں۔ یہ اس کرہ ارض کی بلندیوں سے مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب کی سمتوں میں چلتے ہیں۔ اور اپنے ساتھ سرسبزی شادابی اور نشوونما لاتے ہیں۔ ان کی تشکیل ان پانیوں سے ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ زمین میں جمع فرماتا ہے ، ہر علاقے کے طبیعی حالات کے مطابق ، جس ذات نے اس زمین کو پیدا کیا ، اس نے اس کے منصوبے میں بادلوں کی تشکیل ، بارش کا نظام اور دریاؤں کا بہاؤ رکھا۔ کوئی ہے جو یہ کہہ سکتا ہو کہ اس نظام کی تشکیل میں خالق کائنات کے سوا کوئی اور بی شریک ہے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ اس کرہ ارض پر بڑے بڑے دریا بہہ رہے ہیں۔ یہ سوال ایک حقیقی سوال ہے کہ آخر کون ہے جس نے ان دریاؤں کو یوں چلایا اور بہایا۔ کیا ہے کوئی الہہ اللہ کے ساتھ ؟
وجعل لھا رواسی (27: 61) ” اور اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں “۔ رواسی کے معنی اونچے پہاڑ کے ہیں۔ یہ اپنی جگہ جمے ہوئے اور زمین پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اور اکثر اوقات ان پہاڑوں ہی سے نہریں نکلتی ہیں۔ جہاں سے بارشوں کے پانی نکل کر دریاؤں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر ان دریاؤں کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں شگاف اور گہرائیاں پیدا ہو کر وادیاں بن جاتی ہیں اور اونچے مقامات سے یہ دریا قوت کے ساتھ نشیبی علاقوں کی طرف چلتے ہیں۔ یہاں انداز بیان میں اونچے اور جمے ہوئے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی ندیاں اور دریا دکھائے گئے ہیں۔ قرآن کی تصویر کشی کے اندر یہ طرز ادا عام ہے کہ وہ ایک ہی آیت میں باہم متضاد مناظرو معانی پیش کرتا ہے ۔ یہاں بھی چلتے دریاؤں کے بعد کھڑے پہاڑ دکھائے گئے ہیں۔
وجعل بین البحرین حاجزا (27: 61) ” اور پانی کے دو سمندروں کے درمیان پردے حائل کر دئیے “۔ ایک سمندر سخت نمکین کھارا اور دوسرا میٹھا اور خوشگوار۔ دونوں کو بحرین کہا گیا۔ بطور تغلب کیونکہ دونوں کا مشترکہ مادہ پانی ہے اور دونوں کے درمیان پردہ ایک طبعی پردہ ہوتا ہے۔ اس طرح کہ سمندر کا پانی دریا کے پانی کے ساتھ ملتا نہیں۔ اس طرح اسے کھارا نہیں بنا دیتا۔ اس کی تفصیلات یوں ہیں کہ دریاؤں کی سطح سمندر کی سطح سے قدرے اونچی ہوتی ہے۔ جب دریاؤں کا پانی سمندر میں گرتا ہے تو اس پانی کی سطح سمندر کی سطح سے اونچی ہوتی ہے ۔ یہ دریا پھر سمندر کی سطح کے اوپر دور تک چلتا رہتا ہے۔ سمندر اس کو خراب نہیں کرتا۔ اب اگر دریا کا یہ پانی سمندر کے پانی سے نیچے بھی ہوجائے تو وہ آپس میں ملتے نہیں۔ اس وجہ سے کہ سمندر کا پانی دریا کے پانی کی نسبت زیادہ کثیف ہوتا ہے۔ اس فرق کی وجہ سے دونوں پانی ایک دوسرے کے ساتھ ملتے نہیں ، جدا ہی بہتے ہیں۔ یہ ہے اللہ کی سنت اپنی اس کائنات کے اندر اور اس معجزانہ انداز میں اللہ نے اپنی اس کائنات کو بنایا ہے۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ یہ معجزانہ کام کس نے کیا۔ اللہ کے سوا اور کون ہو سکتا ہے ؟ ء الہ مع اللہ (27: 61) اگر کوئی اللہ کے سوا کسی اور کی بابت ایسا دعویٰ کرسکتا ہے ، تو وہ سامنے آئے۔ اگر نہیں تو اس کائنات کے یہ عجوبے اور یہ منصوبے دلیل ناطق ہیں کہ اس کا ایک خالق ہے اور وہ ایک ہی ہے۔
بل اکثرھم لا یعلمون (27: 61) ” بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں “۔ یہاں بھی علم کا ذکر کیا کہ ” بےعلم نتواں خدارا شناخت “۔ اور جس طرح اس سورت کے خلاصہ میں اور پارہ سابق میں ہم نے بتایا تھا کہ اس سورت کا محور ہی علم ہے۔ پوری سورت میں علم کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اب روئے سخن مشاہد کائنات سے خود انسان کی نفسیاتی دنیا کی وادیوں کی طرف پھرجاتا ہے۔
Ayah 27:62امن یجیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قلیلا ما تذکرون (62)
اب ان کے وجدان کو چھوا جاتا ہے۔ ان کے نفس کے اندر موجود خلجانات کو چھڑا جاتا ہے اور ان کی زندگی کے عملی حالات اور اہم واقعات کے دوران ان کے نفس کی کیفیات ان کے سامنے رکھی جاتی ہیں۔ سمندر کے سفر میں جو لوگ نہایت ہی مشکل حالات میں گھر جاتے ہیں اور جہاں ظاہری اسباب ختم ہوجاتے ہیں اور بظاہر مدد کو پہنچنے والا کوئی نہیں رہتا۔ صرف اللہ کی مدد کی امید ہوتی ہے اور تمام سہارے ختم ہوجاتے ہیں۔ انسان ہر طرف نظر دوڑاتا ہے اور کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ زمین کی کوئی قوت ان کی مدد کو نہیں پہنچ رہی ہوتی۔ انسان اپنے خیال میں جن قوتوں کے سہارے کے بارے میں سوچتا رہتا تھا ۔ وہ سب قوتیں ایک ایک کرکے اوجھل ہوجاتی ہیں۔ ہر وہ قوت جس سے کچھ بھی توقع تھی وہ جواب دے دیتی ہے۔ ایسے مایوس کن حالات میں پھر انسان کی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ انسان اس قوت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، جو صحیح قوت ہوتی ہے۔ اب انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے حالانکہ اس سے قبل انسان اپنے نارمل حالات میں اللہ کو بھولا ہوا تھا۔ کیونکہ اب تو اللہ ہی ہے جو کسی مجبور شخص کو امداد دیتا ہے جب وہ بےسہارا ہوکر اس پکارتا ہے اور یہ اللہ ہی ہے جو پھر اس کو مشکلات سے نکالتا ہے۔ امن و سلامتی عطا کرتا ہے اور اس مشکل سے نکالتا ہے۔
جب لوگ امن و عافیت اور خوشحالی میں ہوتے ہیں تو وہ غفلت میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ وہ ذات باری کو بھول جاتے ہیں۔ پھر وہ زمین کی قوتوں میں کسی قوت سے نصرت و امداد طلب کرتے ہیں ۔ لیکن جب سختی آتی ہے اور انتہائی کرب کے حالات میں وہ گھر جاتے ہیں تو اس وقت غفلت کے پردے اتر جاتے ہیں اور اس وقت وہ گڑ گڑا کر اپنے رب کی طرف لوٹتے ہیں۔ اگرچہ وہ غافل تھے اور ہٹ دھرمی کرنے والے تھے۔
قرآن کریم منکرین اور ہٹ دھرمی کرنے والوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ جو خود ان کی فطرت میں ہے۔ یہ بات قرآن کریم ایسے ماحول میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے جس میں زمین و آسمان کی تخلیق ، آسمانوں سے پانی کا نزول ، زمین کے اوپر تروتازہ باغ و راغ کی پیدائش ، اس کرہ ارض کا قرار ، اس کے اوپر پہاڑوں کا نصب کرنا اس کے اندر دریاؤں اور نالوں کا چلانا اور بہانا اور سمندر کے اندر دو قسم کے پانیوں کے پردے حائل کرنے کے مناظر پیش کیے گئے ہیں اور پھر سمندر میں ایک مضطرب اور کربناک صورت حال پیش کرکے سمجھا یا گیا کہ ایسے حالات میں تو کوئی شخص بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارتا اور یہ بھی مذکورہ بالا کائناتی خالق کی طرح ایک حقیقت ہے۔ وہ خالق کائناتی تھے اور اس کا تعلق انسان کی نفسیاتی دنیا سے ہے۔
اب ان کی نفسیات کی دنیا سے بھی باہر لاکر ، اللہ تعالیٰ ان کو ان کی زندگی کے ایک عملی حال کی طرف لاتا ہے۔
ویجعلکم خلفاء الارض (27: 62) ” اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے “۔ وہ کون ہے جس نے یہاں انسان کو پیدا کیا ، پوری مخلوقات پر فضیلت بخشی۔ اس کے بعد پھر ایک کے بعد دوسرے کو اس زمین کا اقتدار دیتا رہا ، کسی کو زوال ہوا اور دوسرے نے کمال حاصل کیا۔ یہ گرا اور وہ اٹھا۔
کیا یہ اللہ ہی نہی ہے کہ جس نے قوانین قدرت کے مطابق تمہیں اس زمین پر زندگی بخشی اور پھر تمہیں ایسی قوتیں عطا کیں جن کی وجہ سے تم اس کرہ ارض پر اللہ کی خلافت کے مستحق قرار پائے اور پھر تمہیں اس عظیم منصب کے لیے یہاں تیار کیا۔ زمین کو تمہارے لئے جائے قرار بنایا۔ اور اس کی ہر چیز کو تمہاری زندگی کے لیے ممدومعاون اور ہم آہنگ بنایا کہ زمین کو ہر چیز تمہارے لیے ممد حیات بن گئی اور اگر ایسا ہوتا کہ زمین کے اہم عناصر میں سے ایک عنصر غائب کردیا جائے تو تمام انسان کیا تمام زندہ چیزیں ایک دم میں ختم ہوکر رہ جائیں۔ اور آئندہ کے لیے بھی یہاں کسی چیز کا وجود محال ہوجائے۔
سب سے آخر میں یہ بات ہے کہ اللہ ہے وہ ذات جس نے موت وحیات کو پیدا کیا اور ایک نسل کے بعد دوسرے لوگوں کو اٹھایا۔ اگر اللہ اگلی نسلوں کو اسی طرح قائم رکھتا اور آنے والی نسلیں پیدا ہوتی چلی جاتیں تو اس کرہ ارض پر تل دھرنے کی جگہ ہی نہ ہوتی۔ زندگی کا یہ دھارا بہت ہی سست ہوتا۔ انسانی سوچ نہایت سست رفتار ہوتی۔ کیونکہ تازہ تازہ نسلیں وجود میں آنے کے ساتھ تازہ افکار اور تازہ خیالات بھی آتے ہیں۔ لوگ نئے نئے تجربے کرتے ہیں اور زندگی کی جدوجہد میں نئی نجی کوششیں کرتے ہیں۔ زندگی گزارنے کے نئے نئے طریقے دریافت کرتے ہیں اور اب تو صورت یہ ہے کہ پرانے اور نئے لوگوں کی جنگ صرف فکر و شعور کے میدان میں ہوتی ہے۔ اور اگر سابقہ لوگ بھی سب کے سب زندہ ہوتے تو پرانے اور نئے لوگوں کے درمیان جسمانی تصادم بھی ہوتا۔ اور زندگی کی گاڑی آگے بڑھنے کے بجائے باہم تضادات اور تصادمات کا شکار ہوجاتی۔
یہ تمام نفسیاتی حقائق ہیں جس طرح اس سے قبل بیان کیے جانے والے آفاقی حقائق تھے۔ کون ہے جس نے یہ حقائق پیدا کیے ، تمہیں خلیفہ بنایا۔ کوئی ہے اللہ کے سوا ؟ ء الہ مع اللہ (27: 62) ” کیا اللہ کے ساتھ ہے کوئی اور الہ “۔
حقیقت یہ ہے کہ لوگ حقائق کو بھول جاتے ہیں جب سمندر کی مشکلات سے نکلتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ان کی فطرت بھی سو جاتی ہے اور یہ غافل ہوجاتے ہیں حالانکہ خود ان کے نفس اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں حقائق موجود ہیں
قلیلا ما تذکرون (27: 62) ” تم لوگ کم ہی سوچتے ہو “۔ اگر انسان حقائق کو یاد رکھے ، اور ان پر مسلسل غور کرتا رہے ، تو وہ ہمیشہ اللہ کے ساتھ جڑا رہے اور فطرت کی پکار کو سنتا رہے۔ وہ کبھی اپنے رب سے غافل نہ ہو اور کبھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔
اس کے بعد لوگوں کی زندگی سے بعض اور حقائق پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کا تعلق اس کرہ ارض پر لوگوں کی سرگرمیوں سے ہے اور ان کے ان مشاہدات سے ہے جو ہر وقت دہرائے جاتے ہیں۔
Ayah 27:63امن یھدیکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلی اللہ عما یشرکون (63)
سب لوگ بحری سفر کرتے ہیں اور ان میں وہ لوگ بھی تھے جو قرآن مجید کے مخاطب اول تھے۔ یہ لوگ بحرو بر کے راستوں میں سفر کرتے ہیں اور انہوں نے بحروبر کی تاریکیوں میں اپنے تجربات اور علم کے مطابق سفر کیے اور کرتے ہیں۔ ان سفروں میں وہ صحیح راستے معلوم کرلیتے ہیں ، وہ کون ہے جو ان سفروں میں انسان کو سیدھے راستے بتاتا ہے ؟ کس نے انسانوں کو یہ عقل و خرد عطا کیا جس کے ذریعے وہ ان راستوں کا ادراک کرتے ہیں۔ ستاروں کے علوم کس نے دئیے ، پھر آلات دریافت کرنے کی قوت کس نے دی۔ اور تجربات و نشانات کس نے بتائے ؟ وہ کون ذات ہے جس نے انسانی فطرت اور فطرت کائنات کے اندر ہم آہنگی پیدا کی۔ اور انسان کے لیے فطرت کائنات تک پہنچنے کی راہ ہموار کی۔ کون ہے جس نے کانوں کے ذریعے انسانوں کو آوازیں معلوم کرنے کی طاقت دی۔ کون ہے جس نے آنکھ کے ذریعے انسان کو دور تک مشاہدے کی طاقت دی۔ اور کون ہے جس نے حواس خمسہ کے ذریعے انسان کو تمام محسوسات معلوم کرنے کی توفیق دی ؟ پھر انسان کو عقل کی طاقت دی جس کے ذریعے انسان حواس سے بھی زیادہ لطیف مدرکات معلوم کرتا ہے۔ پھر حواس کے تجربات سے نتائج اخذ کرنے اور وجدان اور الہام کے ذریعہ حقائق اخذ کرنے کی قوتیں دیں۔ ئ الہ مع اللہ (27: 63) ” کیا ہے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الہٰ “۔
ومن یرسل الریح بسرا بین یدی رحمتہ (27: 63) ” اور کون ہے جو اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری دے کر بھیجتا ہے “۔ یہ ہوائیں جن کے فلکی اسباب کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے اور کہا جائے گا لیکن یہ وہ ہیں جو روز اول سے اللہ نے اس کرہ ارض کے ساتھ پیدا کی ہیں۔ اور جس طرح یہ چلتی ہیں روز اول سے ان کے لیے یہی منصوبہ ہے کہ یہ ایک جگہ سے بادلوں کو اپنی دوش پر لے کر چلتی ہیں اور انسانوں کو اس چیز کی خوشخبری دیتی ہیں جو ممد حیات ہے یعنی پانی۔
سوال یہ ہے کہ یہ ہوائیں ، یہ بادل اور یہ بارش کا نظام اپنی موجودہ شکل میں کس نے تخلیق کیا ؟ اور پھر ہوائیں ، ٹھنڈی ہوائیں ، بادلوں اور بارش سے قبل کون بھیجتا ہے۔
ء الہ مع اللہ (27: 63) ” کیا ہے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الہٰ “۔
تعالیٰ اللہ عما یشرکون (27: 63) بہت بلند اور بالا ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔
Ayah 27:64امن یبدوا الخلق ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (64)
اس کائنات و مخلوقات کا آغاز ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی نہیں کرسکتا۔ نہ تخلیق کائنات کے مسئلے کو اللہ وحدہ کے وجود کو تسلیم کیے بغیر حل کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کائنات کا وجود ہی اس بات کو مستلزم ہے کہ اللہ موجود ہے۔ دنیا میں جن لوگوں نے اس کائنات کے وجود کے مسئلے کو وجود باری تعلیم کرنے کے بغیر حل کرنے کی سعی کی ہے ، درآں حالیکہ اس کائنات کے وجود ہی میں ایک معمم ارادہ اور ایک قصد اور ایک منصوبہ نظر آتا ہے تو ایسے لوگ مسئلہ کائنات کے حل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اور اللہ کی وحدانیت اس لیے ثابت ہوتی ہے کہ اس کائنات کے تمام آثار کے اندر وحدت نظر آتی ہے ، اس کی تدبیر ایک ہے ، تقدیر ایک ہے اور اس پوری کائنات کی اسکیم میں ایک ایسا ربط اور ہم آہنگی ہے کہ اس کا ایک ہی خالق تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔
یہ تو تھا آغاز ، رہا یہ معاملہ کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کی تخلیق کا دوبارہ اعادہ کرے گا تو اس بارے میں تمام کفار اور مشرکین کو خلجان تھا۔ لیکن جو شخص اس کائنات کے آغاز کے بارے میں اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ ایک صاحب ارادہ و تدبیر ذات کی تخلیق ہے اور وہ اس کائنات کے اندر پائی جانے والی وحدت اور ربط کی وجہ سے ایک ہے تو اس کے لیے یہ تسلیم کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہوتی کہ وہ ذات اسے دوبارہ پیدا کرے گی تاکہ اس دنیا میں آنے والے لوگ اپنے اعمال کی جزا پوری کی پوری وہاں پائیں گے کیونکہ اس دنیا میں اچھے برے عمل پر انسان کو اگرچہ جزاء و سزا ملتی ہے مگر وہ پوری جزاء و سزا نہیں ہوتی۔ لہٰذا مکمل مکافات عمل کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا جہاں ہو جس میں مکمل جزاء و سزا ہو۔ اس کے بغیر اس دنیا کی زندگی کی تکمیل ممکن ہی نہیں ہے۔ لہٰذا ایک آنے والی زندگی کی تصدیق ضروری ہے جس میں مکمل ہم آہنگی ، مکمل کمال نصیب ہو۔ سوال یہ ہے کہ مکافات عمل کے اصول کے مطابق جزاء و سزا اس جہاں میں کیوں نہ ہوئی۔ تو یہ ان حکمتوں کی وجہ سے جن کو خالق کائنات ہی خوب جانتا ہے۔ کیونکہ اپنی مخلوق کے تمام راز خالق ہی کے پاس ہیں۔ اور یہ وہ غائبانہ راز ہیں جن کی اطلاع اللہ نے انسان کو نہیں دی۔
یہی اصول ہے جس کے مطابق اس آیت میں سوال کیا گیا ہے کہ کس نے ابتداء اس کائنات کو پیدا کیا اور کون ہے جو دوبارہ پیدا کرے گا ؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں ہے۔
ء الہ مع اللہ (27: 64) ” کیا ہے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الہٰ “۔
رزق دینے کا تعلق ، آغاز تخلیق سے بھی متعلق ہے اور اعادہ تخلیق سے بھی وابستہ ہے۔ اللہ کے بندوں کے رزق کا انتظام بالکل ظاہر و باہر ہے۔ نباتات کی شکل میں اور حیوانات کی شکل میں۔ پانی اور ہوا ، کھانے پینے اور سانس لینے کے لیے ضردری ہیں۔ زمین کے معدنی ذخائر اور دھاتیں بھی انسانوں کے لیے مفید اور ضروری ہیں ، جن میں مقناطیسی قوت اور بجلی کی قوت بہت ہی اہم ہے ۔ اس کائنات کے اندر اللہ نے انسانی زندگی کے لیے اس کے علاوہ اور بھی بےحدوحساب ایسی قوتیں رکھی ہیں جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں لیکن انسان کو ابھی تک ان کے بارے میں علم نہیں ہے ۔ وقفے وقفے سے اللہ تعالیٰ انسانوں کو ان کے بارے میں بتاتا جاتا ہے ۔
آسمانوں سے انسان کو کس طرح رزق فراہم ہوتا ہے ؟ دنیا میں انسان کو آسمانوں سے روشنی فراہم ہوتی ہے ، حرارت فراہم ہوتی ہے ، بارش فراہم ہوتی اور تمام دوسری چیزیں جن کا مرکز آسمانوں میں ہے اور قیامت میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جو درجات بلند اور جو انعامات دے گا وہ بھی معنوی اعتبار سے ایک آسمانی رزق ہے کیو ن کہ قرآن بھی آسمان ارتفاع اور بلندی سے آتا ہے اور بلندی کے لیے آتا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے تخلیق اور اعادہ تخلیق کے بعد اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ اپنی مخلوق کو آسمانوں سے رزق فراہم کرتا ہے ۔ اس لیے کہ آغاز تخلیق کے ساتھ زمین کے ارزاق کا واضح تعلق ہے ۔ تمام مخلوق زمین کے ارزاق کی وجہ سے زندہ ہیں ۔ اور آخرت کے ساتھ ان ارزاق کا تعلق بھی آغاز تخلیق سے واضح ہے۔ دنیا میں حیات انسانی کے لیے آسمانوں کے ارزاق اور سامان زیست کی ضرورت ہے اور آخرت میں یہ انعامات انسان کے جزاء و فاقا ” پوری پوری جزا “ کی صورت میں ہوں گے ۔ لہٰذا آغاز تخلیق اور زمین و آسمان کے ارزاق سے اس کا تعلق واضح ہے اور کلام الٰہی باہم حیرت انگیز انداز میں مربوط ہے۔ آغاز تخلیق اور اعادہ تخلیق تو درحقیقت پیش پا افتادہ حقائق ہیں۔ اسی طرح زمین و آسمان سے انسانوں اور تمام مخلوقات کے لیے رزق کا سامان بھی دراصل معلوم حقائق ہیں لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان حقائق پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے قرآن نہایت زوردار اور تحدی یعنی چیلنج کے انداز میں ان کو اس طرح متوجہ کرتا ہے۔
قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین (27: 64) ” کہو لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو “۔
بیشک اس وقت بھی مخالفین اس قسم کی کوئی دلیل لانے سے عاجز رہے اور آج تک کوئی اس قسم کی کوئی دلیل نہیں لاسکا۔ یہ ہے نظریاتی مباحث میں قرآن کا انداز کلام۔ قرآن کریم کائنات کے مناظر و مشاہد پیش کرتا ہے۔ انسانی نفس کے اندر موجود حقائق کو پیش کرتا ہے۔ اس طرح قرآن جو منطق پیش کرتا ہے اس کا دائرہ اس پوری کائنات تک وسیع ہوتا ہے۔ انسانی فکر و نظر کو پوری کائنات میں گھماتا ہے۔ انسان کی فطرت کو میقل کرتا ہے تاکہ انسانی دماغ اور انسانی فطرت خود کسی نتیجے تک پہنچ سکیں جو واضح اور سادہ ہو۔ اور انسانی شعور پر جوش ہو اور اسکی وجدانی قوت اچھی طرح کام کر رہی ہو ، کیونکہ دلائل تو خود انسانی نفس اور انسانی فطرت میں موجود ہیں لیکن غفلت اور نسیان کی وجہ سے انسان ان کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ اور کفر اور انکار ان دلائل پر پردے ڈال دیتے ہیں۔ چناچہ ان وجدانی اور کائناتی دلائل سے اور اپنی اس فطری منطق کے بل بوتے پر قرآن کریم انسان کو اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے عظیم حقائق تک پہنچاتا ہے۔ یہ حقائق اس طرح واضح ہوجاتے ہیں کہ ان میں وہ شکوک و شبہات نہیں رہتے جو کسی خشک منطقی استدلال سے بذریعہ صغریٰ و کبریٰ ثابت کیے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ کتابی منطق ہم تک یونانی ثقافت کے ذریعے آتی ہے اور ہمارے علم الکلام کا حصہ بن گئی حالانکہ اس کا انداز قرآنی نہ تھا ۔ اس نے ہمیں قرآنی منطق سے دور کردیا۔ انفس وآفاق کی وا دیوں میں سیر کرتے ہوئے اور عقیدہ تو حید اور نفی شرک کو وجدانی طور پر ثا بت کرنے کے بعد ، اب قران کر یم ہمیں اس وادی میں لے جاتا ہے جو عا لم غیب کے اندر مستور ہے اور جس کے حالات صرف وہ خالق اور مدبر ہی بتا سکتا ہے جس نے اس کا ئنات کو پیدا کیا ہے یعنی یہ کہ موت بعد کیا ہوگا ۔ آخرت کس طرح کیونکہ یہ اللہ کے غیوب میں ایک غیب ہے ۔ اور قرآن منطقٰ وجد انی ہدایت اور انسانی فطرت اس کے و قوع کی شہادت دیتی ہیں اور انسان علم وادراک کے ذریعہ اس بات کے تعین سے قاصر ہیں کہ یہ گھڑی کب آئے گی ؟
قل لایعلم من فی السوتوالارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والارض الا فی کتب مبین (75)
” ان سے کہو ، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا اور وہ (تمہارے معبود تو یہ بھی) نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔ بلکہ آخرت کا تو علم ہی ان لوگوں سے گم ہوگیا ہے ، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں ، بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں۔ یہ منکرین کہتے ہیں ” کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوچکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا ؟ یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباؤ اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں ، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سنتے چلے رہے ہیں “۔ کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔ اے نبی ﷺ ، ان کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ ان کی چالوں پر دل تنگ ہو۔ ۔ وہ کہتے ہیں کہ ” یہ دھمکی کب پوری ہوگی اگر تم سچے ہو ؟ “ کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو ، اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ بلاشبہ تیرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو “۔
غیب پر ایمان لانا ، موت کے بعد اٹھایا جانا اور پوری زندگی کے اعمال کا حساب و کتاب دینا اسلامی عقائد کے اندر ایک بنیادی عنصر ہے۔ اسلامی زوایہ سے زندگی کا کوئی نظام ان عقائد کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ آنے والے جہان پر ایمان لائے ، جہاں اعمال کی مکمل جزاء و سزا ہو اور عمل اور اس کی اجرت کے درمیان مکمل توازن ہو۔ یہ عقیدہ انسان کے دل میں جاگزیں ہو ، انسانی نفس اس کے بارے میں حساس ہو ، اور اس دنیا میں انسان کی تمام سرگرمیاں اس عقیدے پر قائم ہوں کہ اس نے آخرت میں اپنی زندگی کا پورا حساب و کتاب دینا ہے۔
انسانیت نے اپنی طویل تاریخ میں عقیدہ آخرت کے بارے میں مختلف رسولوں کے مقابلے میں عجیب و غریب موقف اختیار کیے ، حالانکہ یہ عقیدہ بہت ہی سادہ ہے اور ہادی النظر میں بہت ہی ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ جب بھی کوئی رسول آیا اور اس نے لوگوں کو عقیدہ آخرت کی طرف متوجہ کیا تو لوگوں نے اس دعوت کو بہت ہی عجیب و غریب سمجھا۔ حالانکہ یہ کائنات موجود تھی ، اس کے اوپر یہ رنگا رنگ حیات موجود تھی ، وہ کود موجود تھے کیا ان معجزات کو پہلی مرتبہ صادر کرنا اور پیدا کرنا مشکل تھا یا دوسری مرتبہ ان کو دہرانا مشکل تھا ؟ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ انسانوں نے آخرت کے بارے میں ڈرانے والوں کی دعوت سے منہ موڑا۔ وہ اس دعوت کے بارے میں بکواس کرتے رہے۔ اور کفر و انکار میں بڑھتے ہی چلے گئے۔
قیام قیامت ایک غیب ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے ، اور اس کے بارے میں علم صرف اللہ کو ہے۔ کفار نے ہمیشہ نبیوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ قیامت کے وقوع کے وقت کا تعین کردیں۔ جب یہ یقین نہ ہوا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا اور اسے محض پرانے وقتوں کی ایک کہانی سمجھا کہ یہ ایک بات ہے جو پرانے وقتوں سے کہی جا رہی ہے لیکن ابھی تک واقع نہیں ہوئی۔
یہاں پہلے یہ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا علم آخرت کے بارے میں محدود ہے اور آخرت کا وقوع ان غیبی امور میں سے ایک ہے جس کا انسان کو علم نہیں ہے۔
Ayahs 27:65–66قل لا یعلم من فی السموت ۔۔۔۔۔۔ ایان یبعثون (65) بل ادرک علمھم ۔۔۔۔۔ بل ھم منھا عمون (66) (27: 65- 66) “۔
ابتدائے تخلیق سے انسان کو اس خفیہ غیب کا سامنا ہے۔ انسانی علم ایک حد سے آگے نہیں جاسکتا ۔ غیب کے آگے جو پردے لٹک رہے ہیں ان سے وہ آگے نہیں جھانک سکتا۔ یہ مغیبات میں سے صرف اسی قدر علم حاصل کرسکتا ہے جس قدر اللہ تعالیٰ اسے توفیق دیتا ہے اور انسان کے لیے بھلائی اسی میں ہے کہ اللہ نے اسے مستقبل کے علوم غیبیہ سے محروم رکھا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس میں انسان کے لیے کوئی خیر دیکھتا تو وہ ضرور اسے عالم غیب کے بارے میں پورا علم عطا کردیتا۔
اللہ نے انسان کو اس قدر قوت اور استعداد دی ہے جس نے ذریعے وہ اس دنیا میں اپنے فرائض بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض پورے کرسکے۔ یہ فرائض کوئی معمولی فرائض نہیں دیں۔ اس سے آگے اللہ نے انسان کو مزید غیبی قوتیں نہیں دیں ۔ اگر انسان کو ایسی قوت دے دی جاتی جس کے ذریعہ وہ مستقبل کے پردوں کو چاک کرکے معلومات حاصل کرسکتا تو اس کے ذریعہ اس کی ان قوتوں میں کوئی اضافہ ممکن نہ تھا۔ جن کے ذریعہ وہ یہاں بطور خلیفہ کام کر رہا ہے۔ بلکہ واقعات مستقطل کے سامنے پردوں کا نصب کرنا ہی دراصل اس شوق علم کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ یوں وہ اپنے طور پر غیوب مستقبل کے لیے نقب زنی کرنے اور کھوج لگانے کی سعی کرتا رہتا ہے۔ اس طرح وہ زمین کے اندر پوشیدہ رازوں کو ڈھونڈتا ہے۔ وہ سمندر کے سینے کو چیرتا ہے۔ وہ آسمان کی فضاؤں میں دور تک دوڑتا ہے۔ وہ اس کائنات کے پوشیدہ رازوں کا انکشاف کرتا ہے۔ اور انسانوں کے لیے بھلائی کے جو راز ہیں ، ان کو وہ دریافت کرتا رہتا ہے۔ وہ زمین سے مواد اور عناصر کی تحلیل کرتا ہے۔ اس کی ترکیب اور شکل و صورت میں کیمیاوی عمل کرتا ہے اور زندگی کی انواع و اقسام اور طرز و طریقوں میں تبدیلیاں لاتا ہے۔ اور اس طرح اس زمین کی تعمیر و ترقی میں نہایت ہی اہم کردار ادا کررہا ہے اور جن ذمہ داریوں کے ساتھ اللہ نے انسان کو منصب خلافت دیا تھا انہیں پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہا ہے
صرف انسان ہی کو علوم غیبہ سے محروم نہیں کیا گیا۔ زمین و آسمان میں جس قدر مخلوق بھی ہے اسے محروم کیا گیا ہے ، خواہ ملائکہ ہیں یا جن ہیں یا دوسری کوئی مخلوق ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ ان سب کو علم غیب نہیں دیا گیا اس لیے کہ ان کو اس کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس لیے تمام غیبی علوم اور واقع ہونے والے حوادث کا علم صرف اللہ کو ہے۔
قل لا یعلم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (27: 65) ” کہو ، آسمان اور زمین میں کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا ، اللہ کے سوا “ یہ ایک قطعی نص ہے ، اور اس کے ہوتے ہوئے کوئی شخص علم غیب کا دعویٰ نہیں کرسکتا اور نہ اس سلسلے میں اوہان و خرافات پر یقین کرنے کی کوئی گنجائش رہتی ہے۔
غیب کی عمومی نفی کے بعد اب قیام قیامت کی خصوصی نفی کی جاتی ہے۔ کیونکہ عقیدہ توحید کے بعد اہل شرک کے ساتھ مسلمانوں کا بڑا نزاع یہی تھا۔ وما یشعرون ایان یبعثون (27: 65) ” اور وہ تو نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے “۔ یعنی وہ لوگ جن کی پوجا تم کرتے ہو ، ان کو تو قیامت کا شعور تک نہیں ہے۔ جب ان کو قیامت کا شعور ہی نہیں تو علم کیسے ہوگا تو قیام قیامت ان مغیبات مکیں سے ہے جن کا علم زمین و آسمان میں کسی کو نہیں ہے بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ہی بہت محدود ہے
بل ادرک علمھم فی الاخرۃ (27: 66) ” بلکہ آخرت کا تو علم ہی ان سے گم ہوگیا ہے “۔ یہ اپنے حدود میں بہت
دور چلا گیا ہے اور لوگوں کا اس تک پہنچنا دور رہ گیا ہے۔ اور اس کے اور ان کے درمیان پردے حائل ہوگئے ہیں۔
بل ھم فی شک منھا (27: 66) ” بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں “۔ ان لوگوں کو اس قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ ان کو اس کے آنے کے وقت کا کوئی علم ہو یا اسکے وقوع کے بارے میں وہ انتظار کر رہے ہیں
بل ھم فی شک منھا (27: 66) ” بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں “۔ ان لوگوں کو اس قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ ان کو اسکے آنے کے وقت کا کوئی علم ہو یا اس کے وقوع کے بارے میں وہ انتظار کر رہے ہیں
بل ھم منھا عمون (27: 66) ” بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں “۔ یعنی وہ تو اس کے بارے میں اندھے ہیں۔ قیامت کے حوالے سے ان کو کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ نہ اس کی نوعیت کے بارے میں وہ کچھ یاد کریں گے۔ ان کی یہ دوری پہلی اور دوسری دوری سے بھی زیادہ ہے۔
Ayah 27:67وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔ انا لمخرجون (27: 67) ۔ کفار کے سامنے یہی عقیدہ تھا کہ جب ہم مرجائیں گے اور قبروں میں ہمارے جسم مٹی ہوجائیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جیسا کہ یہ مشاہدہ ہے کہ تمام مردے دفنائے جانے کے کچھ عرصہ بعد اسی طرح ہوتے ہیں۔ شاذو نادر ہی جسم محفوظ رہتے ہیں۔ جب ہم بھی ایسے ہوجائیں گے اور ہمارے آباؤ اجداد بھی ایسے ہی جائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ نکالا جائے گا ، زندہ کیا جائے گا جبکہ ہمارے اجسام کے ذرے مٹی میں مل چکے ہوں گے۔ یہ تو بڑی مسعبد بات ہے۔ وہ یہ بات کرتے ہیں اور مادہ کے بارے میں ان کا جو تصور ہے وہ ان کے لیے حیات اخروی کے تصور کو مشکل بنا رہا ہے لیکن وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ان کو پہلے بھی پیدا کیا گیا اور اس پیدائش سے قبل وہ کچھ بھی نہ تھے۔ کسی کو پتہ نہ تھا کہ اس کے جسم میں جو خلئے اور جو ذرات ہیں اور جن سے ان کی زندگی کا یہ ہیکل بنا ہوا ہے۔ یہ کہاں کہاں سے جمع ہوئے ، یہ زمین کے اطراف اور سمندر کی گہرائیوں میں بکھرے ہوئے تھے اور یا اس کائنات کی فضاؤں میں اڑ رہے تھے۔ زمین سے مٹی لی گئی ، ہواؤں سے ذرات لیے گئے ، پانی کے ذرات کہاں کہاں سے کس کس بادل نے اٹھا کر لائے ، اور بعض ذرات تو سورج سے آئے۔ پھر جو بدستور بذریعہ تنفس ، نباتات نیز ، حیوانات کے دودھ اور گوشت ، پھر بخارات کے ذریعہ جس میں داخل ہوتے ہیں ، پینے کے ذریعے جو چیزیں جسم کا حصہ بنتی ہیں۔ پھر سورک کی گرمی سے جو جسم اثر لیتا ہے۔ یہ سب متفرق چیزیں جن کی تعداد تو صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ سب چیزیں انسانی جس میں جمع ہوجاتی ہیں اور یہ انسان اس چھوٹے سے خوردبینی انڈے سے یہاں تک پہنچتا ہے ، اور یہ انڈا رحم مادر کی دیواروں کے ساتھ متعلق ہوتا ہے اور بڑا ہوکر ، مر کر کفن کے اندر یہ سب اجزاء جمع ہوتے ہیں۔ یہ تو ہے اس کی پہلی تخلیق۔ تو اس میں کیا تعجب ہے کہ اس مخلوق کو اللہ قبر سے دوبارہ اٹھالے۔ لیکن وہ لوگ یہ بات بہر حال کرتے تھے اور اس قسم کے لوگوں میں سے بعض آج بھی موجود ہیں جو ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔ وہ یہ باتیں کرتے تھے اور اس کے بعد مزید مزاح اور ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے وہ یہ کہتے تھے۔
Ayah 27:68لقد وعدنا ۔۔۔۔۔۔ اساطیر الاولین (27: 67)
یہ لوگ جانتے تھے کہ ان سے پہلے بھی ، رسولوں نے ان کے آبا کو اسی طرح قیامت سے ڈرایا ہے اور حساب و کتاب اور حشر و نشر کی بات کی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے لیے عقیدہ آخرت بالکل ایک نیا عقیدہ نہ تھا۔ یہ نہ تھا کہ وہ بعث بعد الموت کے معنی ہی نہ سمجھتے ہوں بلکہ ان کا اعتراض یہ تھا کہ صدیوں سے یہ وعدے کیے جا رہے ہیں ان کا تحقق نہیں ہوا۔ چناچہ اس بنا پر وہ اس عقیدے کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور حضرت محمد ﷺ ان کو نقل کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے غافل تھے کہ قیام قیامت کے لیے تو ایک وقت مقرر ہے۔ وہ نہ کسی کی جلد بازی سے جلدی آسکتا ہے اور نہ کسی کی غفلت کی وجہ سے موخر ہو سکتا ہے۔ یہ تو ایک معلوم اور مقرر وقت پر ہوگا اور اس کا علم زمین و آسمان دونوں کی مخلوقات سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) سے یہی کہا ، جب انہوں نے آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔
ما المسؤل عنھا باعلم من السائل ” اس کے بارے میں پوچھے جانے والا پوچھنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا “
یہاں ان لوگوں کو ان لوگوں کی قتل گاہوں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ، جو ان سے قبل ہلاک کیے گئے ، جنہوں نے سچائی کا انکار کیا اور قرآن میں یہاں ان کو مجرمین سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Ayah 27:69قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ المجرمین (27: 69) ” “۔ یہاں ، اس ہدایت ، سیر فی الارض کے ذریعہ ان کی سوچ کے حدود کو وسیع کیا جاتا ہے۔ کیونکہ انسانیت کی کوئی سوسائٹی بھی سجرہ انسانیت سے مقطوع نہیں ہوتی۔ انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو سنن رکھے ہیں وہ سب کے لیے اٹل ہیں۔ اس سے قبل انسانی سوسائٹیوں کے مجرمین کو جو حالات درپیش ہوئے ، بعد میں انے والے بھی لازما ان جیسے حالات ہی سے دوچار ہوں گے۔ کیونکہ اللہ کے سنن اٹل ہوتے ہیں ، وہ کسی کی رو رعایت نہیں کرتے۔ اور زمین میں چلنے پھرنے سے نفس انسانی کی اطلاعات کا دائرہ بہت ہی وسیع ہوجاتا ہے۔ انسان کا دماغ روشن ہوجاتا ہے اور سیرفی الارض کے دوران انسان پر ایسے لمحات آتے ہیں کہ انسان کا ضمیر روشن ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم انسانوں کو اس کائنات کے اٹل اصولوں اور سنن کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے۔ اور انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ ان سنن یا بالفاظ دیگر سلسلہ علت و مطول پر ذرا غور کرو ، اس کی کڑیوں کو دیکھتے چلے جاؤ، تاکہ تمہاری زندگی انسانیت کی مجموعی زندگی سے وابستہ اور متصل رہے اور تمہاری سوچ کی حدود وسعت اختیار کریں۔ تمہاری سوچ محدود ، تنگ اور زندگی کے دھارے سے منقطع نہ ہو۔
ان توجہات کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان لوگوں سے اپنے ہاتھ جھاڑ دیں۔ ان کو چھوڑ دیں کہ وہ جس انجام سے دو چار ہوتے ہوں ہوجائیں۔ جس طرح تاریخ میں ان سے قبل بھی ایسے مجرمین ایسے ہی انجام سے دوچار ہوئے۔ اور یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف جو مکاریاں کر رہے ہیں ۔۔۔۔ ۔ کو کوئی نقصان نہ دے سکیں گی۔ نیز ازروئے ہمدردی ان کے
لیے پریشان بھی نہ ہوں کیونکہ آپ نے تبلیغ اور راہنمائی کا حق ادا کردیا ہے اور ان کو خوب سمجھا دیا ہے۔
Ayah 27:70ولا تحزن ۔۔۔۔۔۔ یمکرون (27: 70) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کس قدر حساس تھے اور آپ کو اپنی قوم کے برے انجام کے بارے میں کس قدر فکر مندی تھی۔ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ جن اقوام نے تکذیب کی ان کا حشر کیا ہوا۔ اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ، اس وقت ان لوگوں نے نبی ﷺ کے خلاف مکاری کے جال بن رکھے تھے۔ اور وہ مسلمانوں ، دعوت اسلامی کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینکنا چاہتے تھے اور حضور ﷺ اس کے بارے میں بہت ہی فکر مند تھے۔
بعثت بعد الموت کے بارے میں ان کے جو خیالات تھے ان کے مزید نمونے یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں ان کو جس برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا ، وہ اس کے ساتھ مزاح کرتے تھے اور کہتے تھے۔
Ayah 27:71ویقولون متی ۔۔۔۔۔ صدقین (27: 71) ۔ یہ وہ تب کہتے تھے جب کبھی ان کو امم سابقہ کی طرح کے برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا ، جن کی بستیوں پر سے وہ رات دن گزرتے تھے مثلاً حضرت لوط کی قوم کی بستی سدوم ، اور حجر میں ثمود کے آثار اور احقاف کے علاقے میں قوم عاد کے آثار اور قوم سبا کے کھنڈرات جو سیل العرم کے بعد تباہ ہوئے۔ تو یہ لوگ کہتے تھے کہ جن باتوں سے ہمیں ڈراتے ہو ، متعین طور پر بتاؤ وہ عذاب کب آئے گا۔ اگر سچے ہو تو بتاؤ کہ وہ کیسا عذاب ہوگا اور کب ہوگا۔ یہاں پھر اس کا جواب بھی ویسے ہی حقارت آمیز انداز میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ دے دیا جاتا ہے۔
Ayah 27:72قل عسی ان یکون ۔۔۔۔۔ تستعجلون (27: 72) ۔ اس طرح اللہ اور حضور اکرم ﷺ ان کے دل میں عذاب اور ہلاکت کے تصور سے خوف پیدا کرتے ہیں۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہارے اسی طرح قریب ہو اور تمہارے ساتھ لگا ہوا ہو جس طرح اونٹ پر سوار شخص کے پیچھے بیٹھا ہوا دوسرا شخص اس کے بالکل قریب ہوتا ہے۔ اور تمہیں اس کا شعور نہ ہو۔ اور اپنی غفلت اور نادانی کی وجہ سے جلدی کر رہے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے پیچھے بیٹھا ہوا ہے اور اچانک تمہیں پکڑ لے گا۔ ردیف کی طرف سے اس طرح اچانک پکڑے جانے سے انسان کا پورا جسم کانپ اٹھتا ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہیں پکڑ لے۔ اس حال میں کہ تم مزاح کر رہے ہو۔ کون جانتا ہے کہ مستقبل میں اور اگلے لمحے میں کیا ہونے والا ہے۔ کیونکہ مستقبل کا غیب تو مستور ہے۔ ہمارے اور اس کے درمیان پردے حائل ہیں۔ کسی کو کیا معلوم کہ پردوں کے پیچھے کیا ہے۔ بعض اوقات چند قوموں کے فاصلے پر ایک خوفناک صورت حالات ہوتی ہے۔ عقلمند شخص تو ہر وقت چوکنا رہتا ہے ، ڈرتا ہے اور ہر وقت اور ہر قسم کی صورت حال کے لیے تیار رہتا ہے کہ کوئی صورت بھی پیش آسکتی ہے۔
Ayah 27:73وان ربک ۔۔۔۔۔۔ لا یشکرون (27: 73)
۔ اور اللہ کا فضل تو ظاہر و باہر ہے کہ اللہ لوگوں کو مہلت دئیے جا رہا ہے اور ان سے عذاب کو موخر کر رہا ہے۔ حالانکہ وہ قصوروار اور گناہ گار ہیں اور گناہوں پر اصرار کر رہے ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان کی اصلاح کی امید ابھی باقی ہے اور عذاب کو موخر کرنا تو اللہ کا فضل ہے۔ اس کا شکر ادا کرنا چاہئے لیکن اکثر لوگ شکر ادا کرنے کے بجائے الٹا مزاح کرتے ہیں۔ اور اپنی گمراہی میں بغیر سوچے سمجھے بڑھے چلے جا رہے ہیں۔
Ayah 27:74وان ربک لیعلم ما تکن صدورھم وما یعلنون (27: 74) ” “ اللہ ان پر عذاب نہیں لاتا اور اسے موخر کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ خوب جانتا ہے کہ اپنئ سینوں میں یہ لوگ کیا چھپائے ہوئے ہیں اور کیا وہ طاہر کر رہے ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی شے اللہ سے غائب اور پوشیدہ نہیں ہے۔