Ayah 30:28ضرب لکم مثلا ۔۔۔۔۔ لقوم یعقلون (28)
یہ مثال ان لوگوں کے لیے دی گئی ہے جو اللہ کی مخلوق میں سے کسی مخلوق کو اللہ کا شریک بناتے ہیں۔ چاہے جن ہوں ، چاہے ملائکہ ہوں ، پتھر ہوں یا درخت ہوں ، لیکن ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے مالوں میں ، اپنے نوکروں اور غلاموں کو شریک نہیں کرتے ۔ اپنے غلام کو شریک کیا ، اپنے برابر انسان کا درجہ بھی نہیں دیتے۔ لہٰذا ان کا یہ رویہ بہت ہی عجیب ہے کہ وہ اللہ کا شریک ان لوگوں کو بتاتے ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں جبکہ اپنے زیردستوں کو اپنے مالوں میں شریک نہیں کرتے۔ یہ ان کا مال خود ان کا تخلیق کردہ بھی نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کا تخلیق کردہ ہے۔ لہٰذا ان کے موقف میں یہ واضح تضاد ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس تمثیل کو نہایت ہی تدریج کے ساتھ بیان فرماتے ہیں۔
ضرب لکم مثلا من انفسکم (30: 28) ” وہ تمہیں خود تمہاری اپنی ہی ذات سے مثال دیتا ہے “۔ یہ مثال تمہاری عملی زندگی سے دور نہیں ہے کہ تم اسے سمجھ نہ سکو۔ اس کے ملاحظے کے لیے کسی دور دراز علاقے کا سفر ضروی نہیں ہے۔
ھل لکم ما ۔۔۔۔۔ فیہ سوآء (30: 28) ” کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں ، کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دئیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں “۔ ظاہر ہے کہ مشرکین مکہ تو یہ بھی نہ چاہتے تھے کہ ان کے غلام ان کی دولت میں شریک ہوں چہ جائیکہ کہ ان کے حقوق ان کے ساتھ مساویانہ ہوں۔
تخافونھم کخیفتکم انفسکم (30: 28) ” اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے آپ سے ڈرتے ہو “۔ یعنی ان کو وہی مرتبہ ومقام دیتے ہو جو تم آپس میں اپنے آزاد شرکاء کو دیتے ہو۔ اور تم ڈرتے ہو کہ وہ تم پر ظلم کریں گے اور تم ان کے ساتھ ظلم کرنے سے احتیاط کرتے ہو کیونکہ ان کو تمہارے ساتھ برابر کا مقام و مرتبہ حاصل ہے کیا تمہارے ماحول میں اور خود تمہارے معاشرے میں ایسا ہوتا ہے ؟ اگر خود تم اپنے غلاموں کے ساتھ مساویانہ سلوک نہیں رتے ہو اور نہ اس پر راضی ہوتے ہو تو بتاؤ کہ ملاء اعلیٰ کے بارے میں کیونکر ایسی بات سوچتے ہو۔ یہ ایک واضح ، سادہ اور فیصلہ کن مثال ہے۔ اس کے بعد اس موضوع پر کوئی جدل وجدال نہیں رہتا۔ یہ مثال ایک نہایت ہی سادہ استدلال اور عقل سلیم پر مبنی ہے۔
کذلک نفصل الایت لقوم یعقلون (30: 28) ” اسی طرح ہم آیات کھول کر پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ ان کے عقائد کے اس پوچ تضاد کو یہاں تک کھول کر بیان کردینے کے بعد اب یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے عقائد کے اندر یہ تضاد پیدا کیوں ہوا۔ اس کا اصل سبب کیا ہے۔ صرف یہ کہ ان کا نفس یہی چاہتا ہے اور جب کوئی شخص خواہشات نفسانیہ کا غلام ہوجائے تو پھر عقل و بصیرت سے محروم ہوجاتا ہے۔
Ayah 30:29بل اتبع الذین ۔۔۔۔۔ لھم من نصرین (29)
ہوائے نفس کا پھر نہ کوئی معیار ہوتا ہے اور نہ کوئی ضابطہ ہوتا ہے۔ بس نفس انسانی کی بدلتی ہوئی خواہشات آگے آگے ہوتی ہیں اور انسان ان کے پیچھے ہوتا ہے۔ جس طرف میلان ہوا ، اسی طرف ڈھل گیا۔ جہاں کوئی ڈر ہوا ، رک گیا ، جہاں ذرا بھی امید اور لالچ پیدا ہوا دوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ نہ ایسا شخص کسی حد پر رکتا ہے ، نہ حق و باطل کا محافظ رکھتا ہے اور نہ حلال و حرام کی تمیز کرتا ہے اور نہ اپنے تصورات و اعمال کو کسی ترازو میں تولتا ہے ۔ جب کوئی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کی ہدایت کی کوئی امید نہیں رہتی ، ایسا شخص گمراہی کی راہوں پر اس قدر دور چلا جاتا ہے کہ واپسی کی کوئی امید نہیں رہتی۔
فمن یھدی من اضل اللہ (30: 29) ” اب کون اس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو “۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ شخص ہوائے نفس کا مطیع فرمان ہوگیا ہے۔
وما لھم من نصرین (30: 29) ” ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہ ہوگا “۔ جو ان کو اس برے انجام سے بچا سکتا ہے۔
اب ان لوگوں کی بات ختم ہوجاتی ہے جو اس دنیا میں بدلتی ہوئی خواہشات کی بندگی کرتے ہیں اور جن میں ہر وقت اضطراب رہتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اپنے دین حق پر قائم رہیں جو دین فطرت ہے۔ جو مضبوط دین ہے اور اس دین اور لوگوں کی فطرت کے درمیان مکمل موافقت ہے ، کیونکہ فطرت کا خالق اور لوگوں کا خالق اور اس دین کا شارع ایک ہے۔ یہ وہ واحد اور نظریہ اور طرز عمل ہے جو صراط مستقیم پر لے جاتا ہے۔ اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ جس طرح کفار کی راہیں ہر وقت بدلتی رہتی ہیں۔ ہر روز کی خواہشات کے لیے ایک نیا دین ہوتا ہے۔
Ayahs 30:30–32فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ کل حزب بما لدیھم فرحون (30 – 32)
” ۔ “۔ یہ ہدایت نہایت بروقت آتی ہے کہ اپنی توجہات اس دین کی طرف کر دو ۔ یہ ہدایت اس وقت آتی ہے جب قرآن نے انسانی فکر کو اس کائنات کی ماہیت ، اس کائنات کے مناظر ، نفس انسانی کی گہرائیوں اور اس کی فطرت کے نشیب و فراز میں خوب گھمایا اور دوڑایا۔ اس سیر اور مطالعہ کے بعد سلیم الفطرت ذہن تسلیم کرنے اور استقبال حق کے لیے تیار ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ ہدایت کہ تم لوگ اپنے چہرے کو دین ضعیف کی طرف پھیر دو ، بہت بروقت ہدایت ہے۔ اس کے مقابلے میں منحرفین اور مکذبین کی حالت یہ ہے کہ ان کے سامنے عقل و خرد اور دلیل وبرہان کے تمام ہتھیار کند ہوگئے اور انہوں نے مان کردینے سے صاف صاف انکار کردیا۔ باوجود اس کے کہ یہ ان کے پاس کوئی دلیل اور حجت نہیں ہے۔ یہ ہے وہ دلیل اور برہان اور لاجواب انداز گفتگو جس کے ذریعہ قرآن کریم حق کو پیش کرتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں کوئی عقل ٹھہر نہیں سکتی اور نہ فطرت سلیمہ انکار کرسکتی ہے۔
فاقم وجھک للذین حنیفا (30: 30) ” پس یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جمادو “۔ اور سیدھے سیدھے اس دین کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ کیونکہ یہی دین ایسا ہے جو انسان کو متفرق خواہشات سے بچا سکتا ہے ان خواہشات کی پشت پر حق بالعموم نہیں ہوتا۔ یہ علم اور تحقیق پر مبنی نہیں ہوتیں۔ یہ محض طبیعی شہوت اور مادی میلانات پر مبنی ہوتی ہیں اور ان کی پشت پر کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا تمام سمتوں کو چھوڑ کر دین اسلام کی سمت اختیار کرلو۔ سیدھے سیدھے۔ اس کے سوا تمام سمتوں کو پس پشت ڈال دو ۔
فطرت اللہ ۔۔۔۔۔ لخلق اللہ (30: 30) ” اس فطرت پر جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی “۔ یوں یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ فطرت انسانی اور اس دین کے اندر گہرا ربط ہے۔ یعنی دونوں اللہ کی مصنوعات و تخلیقات ہیں۔ دونوں اس ناموس کے مطابق ہیں جو اس کائنات کی روح ہے اور دونوں ایک دوسرے کے موافق اور ہم رخ اور ہم سمت ہیں۔ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا اسی نے یہ دین نازل کیا کہ یہ انسانوں کی زندگیوں میں نافذ ہو اور انسانوں کی پوری زندی اس کے مطابق چلے۔ یہ دین ہی فطرت انسانی کا علاج ہے ، اسے روحانی بیماریوں سے بچاتا ہے اور صحیح راہ سے منحرف ہونے نہیں دیتا۔ کیونکہ اللہ اپنی مخلوق کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے۔ وہ تو نہایت باریک بین اور بہت بڑا خبردار ہے۔ جس طرح فطرت ثابت ہے اسی طرح دین بھی ثابت اور مستحکم ہے۔
لا تبدیل لخلق اللہ (30: 30) ” اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدل نہیں سکتی “۔ جب نفس انسانی فطری راہ سے منحرف ہوجائے تو صرف یہی دین اسے فطرت کی راہ پر ڈال سکتا ہے کیونکہ فطرت کائنات ، فطرت انسانی اور فطرت دین ایک ہی ہیں۔
ذلک الدین ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (30: 30) ” یہی بالکل راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ چناچہ وہ بغیر علم کے اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ اور یوں راہ راست سے بھٹک کر بہت دور چلے جاتے ہیں “۔ یہ حکم کہ اپنے چہرے کو دین قیم کی طرف کو لو اگرچہ لفظا حضور اکرم ﷺ کو ہے لیکن اس کے اندر تمام اہل ایمان بھی آتے ہیں لہٰذا
آگے کی تفصیلات میں ان کو بھی شامل کردیا گیا۔
منیبین الیہ واتقوہ ۔۔۔۔۔ بما لدیھم فرحون (30: 31 – 32) ” اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ، اور ڈرو اس سے ، اور نماز قائم کرو ، اور نہ ہوجاؤ ان مشرکین میں سے جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے “۔ انابت سے مراد اللہ کی طرف رجوع ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں۔ جب انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے اور وہ حساس ہوجاتا ہے تو وہ خفیہ اور کھلے بندوں ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے خدا کا شعور ہوتا ہے۔ پھر وہ اس شعور اور حساسیت کے اعلیٰ مقام صلوٰۃ کی طرف دوڑتا ہے۔ اس شعور سے تمام ماسوا اللہ مٹ جاتا ہے لہٰذا وہ موحد ہوجاتا ہے اور مشرکین سے جدا ہوجاتا ہے اور مشرکین کون ہوتے ہیں۔
الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا (30: 32) ” جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا اور گروہوں میں بٹ گئے “۔ شرک کے بھی کئی رنگ اور اقسام ہیں۔ بعض لوگ جنوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملائکہ کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آباؤ اجداد کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملوک و سلاطین کو ، بعض کاہنوں اور مولویوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پتھروں اور درختوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض سیاروں اور ستاروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں اور بعض خواہشات اور اغراض کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پیروں اور فقیروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ غرض شرک کی بیشمار قسمیں ہیں اور
کل حزب بما لدیھم فرحون (30: 32) جبکہ دین قیم ایک ہے ، اس میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ دین حق کے پیروکار صرف ایک اللہ ، ایک قبلہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس اللہ کی طرف جس نے ان آسمانوں کو تھام رکھا ہے۔ وہ آسمانوں کا بھی بادشاہ ہے اور زمین کا بھی اور سب اس کے مطیع فرمان ہیں۔
Ayahs 30:33–37درس نمبر 184 نظر میں
اس سورة کا یہ سفر اور یہ باب اس کے حقیقی موضوع پر ہے۔ یعنی اس کائنات کے واقعات و حادثات اور انسانی زندگی کی اقدار و حادثات کے اندر گہرا ربط ہے۔ اس کائنات کے نوامیس قدرت ، اس زندگی کے قوانین اور اس دین کے قوانین شریعت باہم موافق ، ہم آہنگ ، مربوط اور بلا تضاد ہیں۔
اس سبق میں بتا یا جاتا ہے کہ انسانی خواہشات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سنت الٰہیہ کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ دین قیم کے اصولوں کے مقابلے میں شرکیہ عقائد پائے چوبیں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر اس سبق میں انسانی نفس کی کیفیات کی مختلف حالات میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ حالت امن میں نفس انسانی کی حالت کیا ہوتی اور حالت خطرہ میں کیا ہوتی ہے۔ روح کی قبض کی حالت میں وہ کیسا ہوتا ہے اور بسط کی حالت میں کیا کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب تک انسان اللہ کے پیمانوں کے مطابق اپنی اقدار اور تصورات کا ناپ و تول نہ کرے اس وقت تک انسانی قدروں اور اس کی روح میں ٹھہراؤ اور سکون نہیں آسکتا۔ ہاں جب انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کا رزق کشادہ کرتا ہے اور کسی کا تنگ کرتا ہے۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں رزق اور مال کو بڑھانے کا بھی ایک مستحکم طریقہ ہے۔ کسی طریقے سے مال بڑھتا ہے اور کس سے گھٹتا ہے۔ کس سے پاک ہوتا ہے اور کس سے ناپاک ہوتا ہے اور مالیات کا قانون بھی وہی درست اور قیم ہوگا جو دین قیم کے مطابق ہو اور اس سے ماخوذ ہو۔ اس کے بعد سامعین کو لوٹا کر اس ذات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو خالق اور رازق اور زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم شریک ٹھہراتے ہو ، وہ تو یہ کام نہیں کرسکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر زمان و مکان میں شرک موجب فساد ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو دوبارہ یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس راست اور درست دین پر جم جائیں۔ اور جو کچھ کمانا ہے اس دن کے آنے سے قبل ہی کما لیں جہاں کوئی عمل اور کوئی کمائ نہ ہوگی۔ وہاں تو اعمال کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے کیا کیا سہولیات دنیا میں پیدا کی ہیں۔ بعض چیزیں ان کی حیات مادی کے لیے ہیں ، مثلا پانی آسمانوں سے برستا ہے اور زمین زندہ اور تروتازہ ہوکر تمہارے لیے سب کچھ پیدا کرتی ہے۔ پھر سمندروں میں تمہارے لیے کشتی رانی کا سامان اور تمہاری روحانی زندگی کے لیے یہ آیات بینات ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر اتر رہی ہیں۔ جن سے دل و دماغ زندہ اور سرسبز ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ لوگ نہ ہدایت لیتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہیں اس دنیا میں زندہ رہ کر اللہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اس دن پھر کسی سے کوئی معذرت قبول نہ ہوگی اور نہ معافی کی درخواستیں طلب ہوں گی اور آخر میں رسول اللہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ ثابت قدمی سے اپنا کام جاری رکھیں ، صبر کریں یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ ۔۔۔۔ بن کر سامنے آجائے۔ اللہ کا وعدہ حق الیقین ہے اور اٹل ہے۔
درس نمبر 184 تشریح آیات
33 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 60
واذا مس الناس ضر دعوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون (33 – 37)
یہ ایک ایسے انسان کی نفسیاتی تصویر ہے جس کو پختہ رنگوں سے نہیں بنایا گیا ۔ جو مستقل اقدار حیات نہیں رکھتا اور جس کے سامنے واضح منہاج حیات نہیں ہے۔ اس شخص کا نفس وقتی انفعال اور وقتی تاثرات کے درمیان ڈول رہا ہے جو تصور ذہن میں آیا اس کی طرف لپکا۔ حادثات اور وقتی واقعات کی وجہ سے وہ بدلتا رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ، رب کو یاد کرتے ہیں اور اس حقیقی قوت کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کے سوا کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔ اور اس کے دربار میں گڑگڑانے کے سوا کوئی نجات نہیں ہوتی۔ اور جب مشکلات کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور سختی دور ہوجاتی ہے اور اللہ کی رحمت آجاتی ہے۔
اذا فریق منھم بربھم یشرکون (30: 33) ” تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں “۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو صحیح عقیدے کا سہارا نہیں لیتے۔ جن کی قدریں مستقل نہیں ہوتیں۔ کیونکہ اللہ کی رحمتیں اور دنیا کی سہولیات ان کو ان مجبوریوں سے نکال دیتی ہیں جن کی وجہ سے ایسے لوگ اللہ کی طرف متوجہ تھے۔ وہ اچانک اپنے وہ مشکل کے دن بھول جاتے ہیں جن میں وہ خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔ چناچہ وہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت کی ناشکری کر کے اور اللہ کی رحمتوں کو چھوڑ کر کفر کی طرف چلے جاتے ہیں حالانکہ حالت رحمت میں خصوصاً مصیبت کے بعد رحمت میں ان کو تو شکر اور انابت الی اللہ پر جم جانا چاہئے تھا۔
ایسے لوگ رسول اللہ ﷺ کے دور میں موجود تھے ، اللہ بھی نہایت مختصر الفاظ میں جلد سے ان کو دھمکی دیتے ہیں اور ان کو یوں خطاب ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے دور میں متعین افراد پش نظر ہیں۔ اس لیے خطاب کا صیغہ استعمال کیا گیا۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا ، مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ سخت خوفناک تہدید ہے۔ اگرچہ براہ راست نہیں ہے۔ انسان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ ایک معمولی حاکم اور رئیس کی دھمکی سے بھی ڈرتا ہے۔ اللہ جل شانہ کی دھمکی تو بہت ہی خوفناک ہے کیونکہ اللہ کے سامنے کوئی بات مشکل نہیں ہے۔ ہر بات لفظ کن سے وجود میں آجاتی ہے۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ جلدی اور اختصار کے ساتھ یہ دھمکی دینے کے بعد اب ان کے اس موقف پر سخت برہمی کے ساتھ گرفت کی جاتی ہے کہ یہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کے باوجود شرک کرتے ہیں اور کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ آخر اس پر ان کے پاس کیا دلیل ہے ؟
ام انزلنا ۔۔۔۔۔ بہ یشرکون (30: 35) ” کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو ، اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں “۔ اس لیے کہ کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے عقائد و نظریات اللہ کے سوا کسی اور ماخذ سے لے۔ کیا ہم نے کوئی دلیل شرک پر نازل کی ہے ؟ نہیں۔ یہ سخت سرزنش اور استنکاری سوال ہے۔ نیز اس میں مزاح اور حقارت کا رنگ بھی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان کا یہ رویہ نہایت ہی احمقانہ ہے۔ اس پر کوئی حجت اور دلیل اور سلطان نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ایک تقریری سوال بھی ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ کوئی عقیدہ اللہ کی نازل کردہ وحی کے بغیر ثابت نہیں ہوتا جب اللہ نے شرک پر کوئی دلیل نہیں اتاری تو گویا عقیدہ شرک باطل ہے۔ بےاصل ہے ، ضعیف ہے۔
اب انسان کی ایک دوسری نفسیاتی تصویر۔ جب وہ خوش حال اور خوش وخرم ہوتا ہے تو وہ ہلکا اور مغرور ہوجاتا ہے۔
واذا اذقنا الناس ۔۔۔۔۔ ھم یقنطون (30: 36) ” جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں “۔
یہ بھی ایک ایسے شخص کی نفسیاتی تصویر ہے ، جو اپنے معاملات کی ماہیت کو ایک مستقل پیمانے کے مطابق سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ان کا رویہ ایسا نہیں ہوتا کہ ہر حال میں ایک معیار اور پیمانہ ان کے سامنے رہے۔ ایسا مستقل پیمانہ کہ وہ کبھی بدلتا نہیں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جن کی قدریں اور پیمانے مستقل اور دائمی نہیں ہوتے۔ جب اچھے دن آتے ہیں تو آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور یہ اچھے دن عطا کرنے والے کو بھول جاتے ہیں اور ہوا میں ہوتے ہیں ۔ عیش و عشرت میں غرق ہوجاتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے جو منعم حقیقی ہے اور وہ یہ بات پیش نظر نہیں رکھتے کہ اللہ کی رحمت اور خوشحالی بھی ایک امتحان ہوتا ہے لیکن جب اللہ کی مشیت ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر مصیبت لاتی ہے تو پھر وہ اندھے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ یقین نہیں کرتے کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے اور یہ بدحالی کی آزمائش ہے۔ لہٰذا اللہ کو یاد کریں اور صبر کریں کہ وہ مشکلات دور کر دے۔ اس کے بجائے وہ مایوس ہوجاتے ہیں اور واہی تواہی بکتے ہیں۔ یہ تصویر ان دلوں کی ہے ، جو اللہ سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو وہ سنن الہیہ کو جانتے ہیں نہ حکمت الہیہ ان کے سمجھ میں آتی ہے۔ یہ لوگ دراصل نہیں جانتے۔ بےعلم ہوتے ہیں ۔ یہ زندگی کے ظاہری حالات کو دیکھ کر ہی فیصلے کرتے ہیں۔
اس نفسیاتی تصویر کشی کے بعد ایک سخت تہدیدی سوال کیا جاتا ہے جس میں ان کے معاملے پر سخت تعجب کا اظہار بھی ہے۔ ان کے اندھے پن اور بےبصیرتی پر ماتم بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خوشحالی اور بدحالی دونوں اللہ کے ایک مستقل قانون قدرت کے مطابق آتی ہیں۔ ان کا تعلق سنن الہیہ اور اللہ کی مشیت سے ہے کیونکہ رحمت بھی وہی کرتا ہے اور مصیبت بھی وہی لاتا ہے۔ وہی رزق میں کشادگی کرتا ہے اور وہی تنگی کرتا ہے۔ سب کچھ اس کی حکمتوں کے تقاضے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس جہان میں ہر وقت اس اصول کے مطابق واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن لوگ اندھے بن جاتے ہیں ، دیکھتے ہی نہیں۔
اولم یروا اللہ ۔۔۔۔۔ ویقدر (30: 37) ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے ، جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے “۔ لہٰذا جب رزق کشادہ ہوجائے تو تکبر اور غرور نہ کرنا چاہئے۔ پھولنا مناسب نہیں ہے اور جب رزق تنگ ہوجائے تو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ یہ تو عارضی حالات ہوتے ہیں ، حکمت الہیہ کے مطابق آتے رہتے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے قلب مومن تو یقین کرلیتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ سنت الہیہ اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ اللہ کا نظام مستقل ہے۔ اس کی حکمت کے مطابق روزوشب بدلتے رہتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (30: 37) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں “۔ چونکہ رزق کی کشادگی اور رزق کی تنگی صرف اللہ کے اختیار میں ہے ، وہی ہے جو دیتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے اپنی مشیت کے مطابق لہٰذا وہ تمہیں بتا دیتا ہے کہ تمہاری معیشت کی ترقی کی راہ کون سی ہے اور وہ کون سے معیشت ہے جو ترقی نہیں کرتی۔ حالانکہ لوگ اسے ترقی پذیر معیشت سمجھتے ہیں ، ہدایت ہوتی ہے۔
Ayahs 30:38–39فات ذا القربی ۔۔۔۔۔ ھم المضعفون (38 – 39)
جب تصور یہ ہے کہ تمام دولت اللہ کی ہے اور اللہ نے اپنے بندوں میں سے بعض کو زیادہ اور بعض کو کم دے رکھی ہے۔ اس تصور کے مطابق اللہ تعالیٰ تمام اموال کا مالک اول ہے۔ تو وہ حکم دیتا ہے کہ جو لوگ نادار ہیں ان کی طرف دولت کو منتقل کیا جاتا رہنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اسے ناداروں کا حق کہا ہے۔ یہاں ان ناداروں میں بعض لوگوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
والمسکین وابن السبیل (30: 38) ” رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافر کو “۔ جس دور میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اس میں زکوٰۃ کا تعین نہ ہوا تھا۔ نہ اس کے مستحقین کے مدات کا تعین ہوا تھا ۔ اصولاً یہ بات متعین کردی گئی تھی کہ تمام مال دراصل اللہ کی ملکیت میں ہے ، کیونکہ رازق اللہ ہے۔ محتاج لوگوں کا اس مال میں ایک حق متعین ہے اور یہ حق مال کے اصل مالک نے دیا ہے۔ یہ حق ان تک اس شخص کے واسطہ سے پہنچتا ہے جس کے ہاتھ میں مال جمع ہے۔ مال کے بارے میں اسلام کا یہ بنیادی نظریہ ہے۔ اسلام کے اقتصادی اور معاشی نظریات کی اساس یہی تصور ہے کہ اصل مالک اللہ ہے۔ جب مال اللہ کا ہے تو اللہ کی جانب سے عائد شدہ واجبات سب سے پہلے ادا ہوں گے۔ مال کے بارے میں اللہ کے احکام ملکیت ہوں۔ یا احکام ترقی اور تنبیہ ہوں یا احکام انفاق ہوں ، یہ سب لازمی احکام ہیں اور مال کا قابض آزاد نہیں ہے کہ اپنے مال میں جس طرح چاہے تصرف کرے۔
اب یہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جن کو اس نے بطور امانت یہ مال دیا ہے ، کہ تم لوگ کس طریق کار کے مطابق اس مال کو بڑھاؤ گے اور ترقی دو گے۔ بڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے رشتہ داروں ، مسافروں اور مسکینوں پر خرچ کیا جائے۔ یہ سب اللہ کے راستے میں خرچ ہوگا۔
ذلک خیر للذین ۔۔۔۔۔ ہم المفلحون (30: 38) ” یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں “۔ بعض لوگ اپنا مال بطور ہدیہ مالدار لوگوں کو دیتے تھے تاکہ وہ ہدیہ کے جواب میں زیادہ لوٹا دیں۔ دوگنا ، تین گنا ، تو اللہ نے بتایا یہ مال بڑھانے کا طریقہ نہیں ہے۔
وما اتیتم من ۔۔۔۔۔ عند اللہ (30: 39) ” اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہوکر وہ بڑھ جائے تو اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا “۔ روایات میں اس آیت کا یہی مفہوم بتایا گیا ہے لیکن قرآن کی نص عام ہے اور وہ تمام سودی معاملات اس کی زد میں آتے ہیں جن کے ذریعے سے لوگ مال بڑھاتے ہیں چاہے اس کی شکل و صورت جو بھی ہو۔ رہا کے طریق
کے مطابق مال بڑھانے کے بجائے یہ بتایا گیا کہ حقیقی ترقی کی صورت کیا ہے۔
وما اتیتم من زکوۃ ۔۔۔۔ ھم المضعفون (30: 39) ” اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی کے لیے دیتے ہو ، اس کے دینے والے درحقیقت اپنا مال بڑھاتے ہیں “۔ یہ ہے وہ ذریعہ اور طریقہ جو مال کے بڑھانے کا یقینی طریقہ ہے۔ یعنی مال مفت عطا کرو ، کسی جوابی انعام کا انتظار نہ کرو ، کوئی معاوضہ نہ ہو۔ خالص فی سبیل اللہ اور لوجہ اللہ خرچ کرو اس لیے کہ وہی اللہ ہے جو رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور وہی رزق کو تنگ کرنے والا بھی ہے۔ دینے والا اور روکنے والا وہی ہے۔ جو لوگ اللہ کے لیے خرچ کرتے ہیں وہ ان کو کئی گنا زیادہ دیتا ہے اور جو لوگ لوگوں کی خوشنودی کے لیے خرچ کرتے ہیں ، ان کے اموال میں وہ کمی کرتا ہے۔ یہ سودی کاروبار دنیا کا انتظام ہے اور وہ حساب آخرت ہے اور اس میں کئی گنا مال ملتا ہے۔ یہی نفع بخش تجارت ہے ، یہاں بھی اور وہاں بھی۔ اب رزق اور کسب کے زاویہ سے شرک کے مسئلہ کو لیا جاتا ہے ۔ موجودہ لوگوں میں شرک کے آثار اور امم سابقہ میں شرک کے آثار بتائے جاتے ہیں۔
Ayahs 30:40–41اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔ اکثرھم مشرکین (40 – 42)
اللہ ان کی زندگی کی حقیقی صورت حال ان کے سامنے رکھتے ہیں اور ان کے ایسے حالات ان کے سامنے پیش فرماتے ہیں جن کے بارے میں انہیں شک نہیں ہے کہ ان حالات کا موجد اللہ ہے ، یا ایسے حالات جن کے بارے میں وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ان کے مزعومہ خدا اور الٰہ ان حالات کے موجد ہیں ، یا شریک ہیں ، یہ کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ وہی ہے جو تمہارا رزاق ہے ، وہی تمہیں مارتا ہے ، وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ جہاں تک تخلیق کا تعلق ہے ، اس کا وہ اقرار کرتے تھے ، جہاں تک رزق کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں بھی وہ یہ دعویٰ نہ کرسکتے تھے کہ ان کے مزعومہ الٰہ ان کو رزق دیتے ہیں۔ رہا مارنا تو وہ اس بات کے سوا اور کوئی دعویٰ نہیں کرسکتے تھے کہ اللہ ہی مارنے والا ہے۔ رہا مسئلہ بعث بعد الموت کا تو اس میں وہ شک کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مسلمات کے ساتھ بعث بعد الموت کو بھی فہرست مسلمات میں پیش فرماتے ہیں تاکہ ان کا شعور جاگ اٹھے۔ اور اس طرح وہ اس کے قائل ہوجائیں۔ یہ براہ راست ان کی فطرت اور وجدان سے ہمکلامی ہے۔ اگرچہ ان کی فطری سوچ کے اندر انحراف آگیا تھا لیکن اگر فطرت کو اصل حالات پر چھوڑا جائے اور انسان فطری انداز میں سوچے تو بعث بعد الموت کے عقیدے کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان سے پوچھتے ہیں۔
ھل من شرکاء کم ۔۔۔۔۔ من شئ (30: 40) ” کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے ، جو
ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو “۔ اس سوال کے جواب کا انتظار نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ ایک ایسا سوال ہے جو تردید کے لیے ہے اور ساتھ ساتھ سرزنش بھی جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ بس اس کے بعد یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اللہ اس قسم کے شریکوں سے پاک ہے۔
سبحنہ وتعلیٰ عما یشرکون (30: 40) ” اللہ پاک ہے ، بہت بالا و برتر اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔
اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانی زندگی کی اصلاح و فساد کا تعلق لوگوں کے اعمال سے ہے۔ جب لوگوں کے دل بگڑ جائیں ، ان کے اعمال خراب ہوں اور ان کے عقائد خراب ہوں تو اس سے نظام ارضی میں خلل پڑجاتا ہے اور خشکی اور تری دونوں اس فساد کی لپیٹ میں آجاتی ہیں۔ لوگوں کی اقدار حیات پر یہ فساد غالب آجاتا ہے۔
ظھر الفساد ۔۔۔۔۔ ایدی الناس (30: 41) ” خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے “۔ دنیا کے نظام میں فساد کا ظہور اور اس کا پھیل جانا بےمقصد نہیں ہوتا۔ اور نہ اچانک بطور اتفاق ہوجاتا ہے۔ یہ اللہ کی تدبیر اور اس کے قوانین فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔
لیذیقھم بعض الذی عملوا (30: 41) ” تاکہ مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال گا “۔ یعنی جب وہ ایسے اعمال کر رہے ہوں جو شر و فساد کا باعث ہوں اور جب اس عمومی فساد کی لپیٹ میں وہ آجاتے ہیں اور اس کی جلن اور تپش محسوس کرتے ہیں تو امکان پیدا ہوجاتا ہے۔
لعلھم یرجعون (30: 41) ” شاید کہ وہ باز آجائیں “۔ اور عزم کرلیں کہ ہم اس فساد کا مقابلہ کریں گے اور اللہ کی طرف رجوع کرکے عمل صالح شروع کردیں گے اور زندگی کے راست اور درست نظام کو اپنا لیں گے۔ اس سبق کے آخر میں ان کو اس انجام سے ڈرایا جاتا ہے جو زمانہ ما قبل کے مشرکین کو نصیب ہوا۔ اہل مکہ ان میں سے اکثر کے انجام سے واقف بھی تھے کیونکہ وہ اپنے سفروں میں ان کے آثار دیکھا کرتے تھے۔ یہ آثار امام مبین پر تھے۔
Ayah 30:42قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ اکثرھم مشرکین (30: 42) ”(اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ زمین میں چل کر پھر کر دیکھو۔ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوچکا ہے ، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے “۔ ان کا انجام وہ بار بار دیکھتے تھے جب وہ زمین میں پھرتے تھے۔ یہ انجام ایسا تھا جو کسی کو اس رویے پر آمادہ نہ کرتا تھا جو ان لوگوں نے اختیار کیا ہوا تھا۔ یہاں آکر اب دوسرا راستہ بھی بتا دیا جاتا ہے جس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ اور ایک دوسرے بلند افق کی طرف ان کی نظریں مبذول کرائی جاتی ہیں جس کی طرف جانے والے کبھی نامراد نہیں ہوتے۔
Ayahs 30:43–45فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ انہ لا یحب الکفرین (43 – 45)
دین قیم کی طرف متوجہ ہونے والے کے لیے قرآن جو شکل تجویز کرتا ہے وہ نہایت ہی اثر انگیز ہے اور یہ بتاتی ہے کہ متوجہ ہونے والا شخص اپنی پوری توجہ سے اس طرف مڑ گیا ہے۔ وہ سنجیدہ اور سیدھا ہے۔
فاقم وجھک للدین القیم (30: 43) ” اپنا رخ مضبوطی کے ساتھ جما دو دین راست کی سمت میں “۔ نہایت اہتما ، نہایت توجہ ، صددر حکم کے انتظار کی طرح ، نہایت پختگی کے ساتھ اپنا رخ عالم بالا کی طرف کر دو جس طرح ایک فوجی (اٹن شن) کی حالت میں ہوتا ہے۔ دین قیم کی طرف رخ جما دینے کا حکم پہلی مرتبہ اس سورة میں اس وقت آیا تھا جب بات لوگوں کی خواہشات نفسانیہ کے پیچھے وڑنے کے موضوع پر ہو رہی تھی اور مختلف احزاب مختلف سمتوں میں دوڑ رہی تھیں۔ یہاں شرکاء کے مقابلے میں یہ حکم آیا ہے۔ رزق کے اضافے کے مضمون کے موقعہ پر ہے۔ شرک کی وجہ سے فساد پیدا ہونے اور لوگوں کی بدعملی کی وجہ سے پوری دنیا میں فساد پھیلنے کے مضمون کے موقعہ پر یہ حکم آیا ہے۔ اس کے بعد یہاں بتایا جاتا ہے کہ جس نے اچھے عمل کیے تو وہ اچھا پھل پائیں گے اور جس نے برے کام کیے تو اس کا برا نجام ہوگا۔ یہ دن ایسا ہوگا کہ جہاں لوگوں کے دو فریق ہوں گے ، اہل ایمان اور اہل کفر اور ہر ایک کا اپنا انجام ہوگا اور یہ دن اٹل ہوگا۔
من کفر فعلیہ ۔۔۔۔۔ یمھدون (30: 44) ” جس نے کفر کیا ہے اس کے کفر کا وبال اس پر اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے ، وہ اپنے ہی لیے (فلاح کا راستہ) صاف کر رہے ہیں “۔ یمھد کا مفہوم ہے تیار کرنا ، کنڑول میں لانا ، پنگھوڑا تیار کرنا جس میں بچہ آرام سے رہتا ہے ، راستہ تیار کرنا ، بستر تیار کرنا ، جس پر آرام کیا جاتا ہے۔ تمام مفاہیم کا مطلب یہ ہے کہ اپنے لیے کسی چیز کو ہموار کرتے ہیں۔ یمھدون سے عمل صالح کے مزاج ، نوعیت اور اس کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کرتے ہیں وہ دراصل خود اپنے لیے آرام ، خوشگواری اور مسرت کا ماحول تیار کرتے ہیں ، یعنی حالت عمل میں بھی ان کو یہ نتائج مل جاتے ہیں ، بعد کی بات تو اور ہے۔ قرآن کے انداز تعبیر یمھدون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔
لیجزی الذین ۔۔۔۔۔ من فضلہ (30: 45) ” تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے “۔ فضل سے جزاء دینے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان جنت کا مستحق صرف اپنے اعمال ہی پر نہیں ہوسکتا۔ انسان جس قدر اعمال بھی کرے ان سے وہ اللہ کے ایک معمولی فضل کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتا۔ جنت صرف فضل ربی سے مل سکتی ہے۔ اللہ سبحانہ کافروں کو بہت ہی ناپسند کرتے ہیں۔
انہ لا یحب الکفرین (30: 45) اب یہاں اللہ کی بعض نشانیوں کی سیر کرائی جاتی ہے۔ اللہ کی نشانیاں ہونے کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لیے وہ فضل و رحمت بھی ہیں۔ ان نشانیوں کی وجہ سے انسان کو رزق فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ان کے لیے ہدایت ہے لیکن وہ اللہ کی ان نشانیوں میں سے بعض کو پہچانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔
Ayahs 30:46–51ومن ایتہ ان یرسل ۔۔۔۔۔ من بعدہ یکفرون (46 – 51)
ان آیات میں بظاہر نہایت مختلف النوع موضوعات کو جمع کیا گیا ۔ بشارت دینے والی ہوائیں ، رسولوں کو معجزات اور نشانیوں کے ساتھ بھیجنا ، مومنین کا رسولوں کے ذریعہ مدد کرنا ، ایسی بارشوں کا نزول جو مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں اور بعث بعد الموت کا مسئلہ۔ یہ اجتماع بامقصد ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب سنت الہیہ کے مظاہر ہیں ، یہ سب اس کائنات کے نظام کے تحت ہیں ، رسولوں کو ہدایت کے ساتھ بھیجنے اور مومنین کی نصرت کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ سب آیات الہیہ کے مختلف نمونے ہیں۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے متعلق ہیں۔ لوگوں کی زندگی ان سب امور پر موقوف ہے اور یہ سب امور نظام کائنات کے ساتھ متعلق ہیں۔
ومن ایتہ یرسل الریاح مبشرت (30: 46) ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے “۔ یہ ہوائیں بارشیں برساتی اور پھیلاتی ہیں۔ یہ لوگ بارش برسانے والی ہواؤں کو خوب جانتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کو مہارت اور تجربہ حاصل تھا۔ جب ایسی ہوائیں چلتیں تو یہ لوگ خوش ہوتے۔
ولیذیقکم من رحمتہ (30: 46) ” تاکہ وہ انہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرے “۔ اس رحمت کے نتیجے میں سرسبزی اور شادابی اور روئیدگی ہوتی ہے۔
ولتجری الفلک بامرہ (30: 46) ” تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں “۔ یہ کشتیاں اس طرح بھی چلتی ہیں کہ یہ ہوائیں انہیں چلاتی ہیں اور یوں بھی کہ ہواؤں سے بارش برستی ہے ، دریا بہتے ہیں اور ان میں کشتیاں چلتی ہیں۔ یہ ان ظاہری اسباب کے باوجود امر الٰہی سے چلتی ہیں۔ اس سنت الہیہ کے مطابق جس کے مطابق اللہ نے اس کائنات کو بنایا ہے۔ اللہ کے اس نظام تقدیر کے مطابق کہ اللہ نے ہر چیز کے اندر ایک خاصیت مقدر کردی ہے۔ مثلاً یوں کہ پانی کی سطح پر کشتی کو ہلکا بنایا اور وہ چلنے لگی۔ اور یوں کہ یہ کشتی ہوا اور موجوں کے رخ پر اور ہوا اور موجوں کے رخ کے تصاد میں چلے۔ اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق بنایا ہے۔
ولتبتغوا من فضلہ (30: 46) ” تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو “۔ یعنی تجارتی سفروں میں اور فصل کاٹنے میں ، لین اور دین میں یہ سب امور اللہ کے فضل سے ہیں اور اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق پیدا کیا ہے۔ ۔۔۔ پورا پورا۔
ولعلکم تشکرون (30: 46) ” تاکہ تم شکر کرو “۔ یہ سب امور فضل الٰہی ہیں اور ان پر تم شکر کرو۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جن کے مقابلے میں بندگان خدا کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی ان نعمتوں کے مناسب رویہ اختیار کریں۔ ہواؤں کے بھیجنے کی طرح رسولوں کا بھیجنا بھی انسانوں پر اللہ کا فضل و کرم ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔ بالبینت (30: 47) ” اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے “۔ لیکن لوگوں نے اللہ کی اس رحمت کا انتظار نہ کیا حالانکہ اللہ کی یہ رحمت ایسی تھی کہ ان کو اس کا استقبال تو ہواؤں سے زیادہ کرنا چاہئے تھا۔ ان لوگوں نے رسولوں سے کوئی استفادہ نہ کیا حالانکہ یہ نفع زیادہ اور دائمی نفع تھا بمقابلہ بارش اور پانی کے منافع کے اور رسولوں کے مقابلے میں یہ لوگ بٹ گئے۔ ایک گروہ ان ، مجرمین کا تھا جو ایمان نہ لاتے تھے۔ اللہ کی آیات پر تدبر نہ کرتے تھے۔ رسولوں کو اذیت دینے سے بھی نہ چوکتے تھے ، اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے باز رکھنے کے جرم سے بھی باز نہ آتے تھے۔ دوسرا گروہ ان مومنین کا تھا جو اللہ کی آیات کو سمجھ جاتے تھے۔ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے ، اللہ کے وعدوں پر اعتماد کرتے تھے اور وہ ان مجرمین کے ہاتھوں اذیتیں برداشت کرتے۔ بہت زیادہ اذیتیں۔ چناچہ انجام وہی ہوتا تھا جو اللہ کے عدل کے مطابق تھا اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ پختہ ہوتا ہے۔
فانتقمنا من الذین ۔۔۔۔۔ نصر المومنین (30: 47) ” پھر جنہوں نے جرم کیا ان سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں “۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے اوپر مومنین کی امداد فرض کرلی۔ اور اسے مومنین پر محض فضل و کرم کے بجائے ان کا حق قرار دیا۔ اسے اس انداز میں موکد قرار دیا اور لازمی قرار دیا کہ اس امداد میں کوئی شک و شبہ نہ رہا اور شک و شبہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب وعدہ کرنے والا اللہ ہو ، جو قوی ، عزیر اور جبار ہے۔ وہ بلند اور اپنے بندوں پر کنٹرول کرنے والا اور حکیم وخبیر ہے۔ یہ اللہ فرماتے ہیں جس کا ارادہ کبھی رد نہیں ہوتا اور اس کی سنت کبھی بھی ٹلنے والی نہیں ہوتی کیونکہ اس کا ناموس فطرت اس پوری کائنات میں جاری ہے۔
بعض اوقات یہ نصرت بظاہر دیر میں آتی ہے لیکن یہ دیر انسانوں کے اپنے اندازوں کے مطابق ہوتی ہے کیونکہ لوگ معاملات کا حساب اپنے پیمانوں سے کرتے ہیں ، اللہ کے پیمانوں سے نہیں کرتے۔ معاملات کا اندازہ اللہ کے اندازوں کے ساتھ نہیں کرتے اور اللہ حکیم اور خبیر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ امداد کا صحیح وقت کون سا ہے۔ اس کا وعدہ اس وقت سچ ہوتا ہے جس وقت اللہ کی مشیت ہو۔ اس کی حکمت کا تقاضا ہو ، اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے اس کی حکمت بعض اوقات انسانوں کو معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات معلوم نہیں ہوتی لیکن اللہ جو چاہتا ہے ، وہی بہتر ہوتا ہے اور اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے وہی صحیح ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کا وعدہ قطعی ہے اور عین الیقین ہے اور صبر کرنے والے ، اس پر بھروسہ کرنے والے بڑے اطمینان سے اس کا انتظار کرتے ہیں۔
اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے ، جو بارشیں برساتی ہیں۔ جن سے زمین زندہ ہوتی ہے حالانکہ وہ مر چکی تھی۔ بس یہی انداز ہوگا حشر میں لوگوں کے اٹھائے جانے کا ۔ یہی انداز ہوگا۔ فصل کی طرف لوگ زمین سے اگ آئیں گے۔ یہ دونوں اس کائنات کے طبیعی سنن ہیں۔
اللہ الذی یرسل الریع (30: 48) ” اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے “۔ یہ ہوائیں اس کے قانون قدرت کے مطابق چلتی ہیں اور یہ قانون اس کائنات میں اچھی طرح متصرف ہے۔
فتثیر سحابا (30: 48) ” وہ بادل اٹھاتی ہیں “۔ اور یہ ہوائیں پانی کے بخارات اٹھاتی ہیں۔ ان بخارات کو وہ آسمانوں میں پھیلاتی ہیں۔ فیبسطہ فی السمآء کیف یشآء (30: 48) ” پھر ان کو آسمانوں میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے “۔
ویجعلہ کسفا (30: 48) ” پھر انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے “۔ یعنی جمع کرتا ہے۔ وہ کثیف اور بوجھل بن جاتے ہیں۔ وہ پھر ایک دوسرے کے اوپر اور نیچے تہوں میں جم جاتے ہیں۔ بعض ٹکڑیوں کا بعض کے ساتھ تصادم ہوتا ہے۔ پھر بجلیاں چمکتی ہیں ۔ فتری الودق یخرج من خللہ (30: 48) ” پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکتے چلے آتے ہیں “۔ ودق کے معنی بارش کے ہیں جو بادلوں سے نکلتی ہے۔
فاذزا اصاب ۔۔۔۔۔ یستبشرون (30: 48) ” یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے ، برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہوجاتے ہیں “۔ اسی خوشی کو اچھی طرح وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی زندگی بارش پر موقوف ہوتی ہے۔ عرب اس منظر سے اچھی طرح واقف تھے جن کی پوری معیشت آسمانوں کے پانیوں پر موقوف تھی اور ہے اس کا تذکرہ وہ اپنے اشعار اور اپنی روایات و محاورات میں بڑی محبت سے کرتے ہیں اور بڑے فخر و مباہات کے ساتھ کرتے ہیں۔
وان کانوا من۔۔۔۔۔ قبلہ لمبلسین (30: 49) ” حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے “۔ یہ تو ہے ان کی حالت اس وقت جب بارش نہ برسی ہوئی تھی۔ وہ مایوس ہوتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ گویا وہ مرنے ہی والے ہیں۔ لیکن جب بارش آجاتی ہے تو وہ خوش و خرم ہوتے ہیں۔
فانظر الی اثر رحمت اللہ (30: 50) ” دیکھو ، اللہ کی رحمت کے اثرات کو “۔ ذرا ان خوش و خرم چہروں کو دیکھو جو بالکل مایوس ہوگئے تھے اور اس زمین پر ان آثار کو دیکھو جو تباہ شدہ تھی اور مردہ تھی۔ اور ذرا اس زندگی میں دیکھو جو زمین پر چلتی پھرتی ہے اور اسے ذرا لوگوں کے دلوں میں دیکھو کہ خوشی کی وجہ سے ان میں کیا کیا امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔
یحی الارض بعد موتھا (30: 50) ” کہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو کس طرح جلا اٹھاتا ہے “۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ اسکے دیکھنے کیے ” کسی زیادہ عقل کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی بات دلیل روشن ہے اس پر کہ حشر کے دن اس زمین سے انسان اسی طرح اگ آئیں گے۔ یہ قرآن کریم کا وجدانی طرز استدلال ہے کہ وہ اس کائنات کے قابل مشاہدہ مناظر سے عقائد اور مستقبل کے واقعات اور امکانیات ثابت کرتا ہے۔ قرآن انہی پیش پا افتاد مناظر سے اپنا مدعا ثابت کرتا ہے۔
ان ذلک ۔۔۔۔۔ شئ قدیر (30: 50) ” یقیناً وہ مردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اس زمین پر اللہ کی رحمت کے یہ آثار بتاتے ہیں کہ اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے کہ وہ لوگوں کو اٹھائے گا اور ان کا اچھا یا برا انجام ہوگا ، حسب وعدہ الٰہی
اس حقیقت کی تصویر کشی کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ پانی سے لدے ہوئے بادل لانے والی ہواؤں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور جب وہ اللہ رحمت کے آثار بادلوں اور بارش کی صورت میں دیکھتے ہیں تو خوش و خرم ہوتے ہیں۔ یہی لوگ اگر دیکھیں کہ یہ ہوا اور یہ بادل زرد ہیں ، ان ہواؤں میں پانی کے بجائے گرم ریت اور مٹی بھری ہوئی ہے۔ پانی کا قطرہ بھی نہیں ہے ، اور یہ ہوا ایسی ہے کہ فصلوں کو زرد کرکے رکھ دیتی ہے اور دودھ پلانے والے جانوروں کو خشک کردیتی ہے اور جس سے فصل زرد ہو کر قبل از وقت خشک ہوکر بھوسہ بن جاتی ہے تو ان کی حالت یہ ہوتی ہے :
ولئن ارسلنا ۔۔۔۔۔ بعدہ یکفرون (30: 51) ” اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثرات سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو وہ کفر کرتے رہ جائیں “۔ اس عذاب کو پاکر اور مایوس ہوکر بھی وہ کفر کریں۔ اور اللہ کی قدرت کا اقرار نہ کریں اور اللہ کے سامنے نہ گڑ گڑائیں کہ وہ اس مصیبت کو دور کرے بلکہ کفر کے رویہ ہی پر جم جائیں ، ایمان نہ لائیں اور یہ ہرگز نہ سمجھ سکیں کہ اللہ کی حکمت اور تدبیر کیا کیا کرتی ہیں۔ ان کو ان مصیبتوں کے پیچھے دست قدرت نظر نہ آئے۔ وہ ان واقعات اور حادثات کی تفسیر و تعبیر اس طرح نہ کریں کہ یہ سب کچھ اللہ کے قانون قدرت اور ناموس فطرت کے مطابق ہو رہا ہے ۔ بلکہ ابدی کافرانہ تاویلات ہیں۔ جب لوگ اس حد تک پہنچ جائیں کہ وہ اس دنیا کے واقعات اور حادثات کی تعبیر بھی اپنی خواہشات کے مطابق کرنے لگیں اور ان واقعات کے اندر جو اللہ کے نشانات و اشارات پنہاں تھے ، ان کو سمجھنے کی سعی ہی نہ کریں۔ اپنے ماحول کے اندر غور ہی نہ کریں۔ ان مشاہدات میں ان کو اللہ کی قدرت اور حکمت نظر ہی نہ آئے تو رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ بس ایسے لوگوں کو ہدایت دینے سے آپ ﷺ معذور ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کے مزاج کے حوالے کردیں کیونکہ ان کی بصیرت اور بصارت دونوں ختم ہوچکی ہیں۔
Ayahs 30:52–53فانک لا تسمع الموتی ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (52 – 53) ، “۔
یہ لوگ مردے ہیں ، ان میں زندگی کی رمق نہیں ، یہ بہرے ہیں ، کوئی آواز نہیں سن سکتے۔ یہ اندھے ہیں ان کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ جو شخص اپنے احساس کے دروازے اس کائنات ثوامیس فطرت کے لیے بند کردیتا ہے اور اسے فطرت کے یہ نشانات نظر نہیں آتے وہ مر چکا ہے۔ اس میں حیات نہیں ہے۔ اگر کوئی زندگی ہے تو پھر یہ حیوانی زندگی ہے بلکہ وہ حیوانوں سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ حیوانوں میں ایک فطری شعور ہوتا ہے اور وہ شعور کبھی بھی غلطی نہیں کرتا۔ جو شخص اللہ کی ان نشانیوں کی پکار نہیں سنتا وہ بالکل بہرہ ہے۔ اگرچہ اس کے کان ہوں اور ان کے ساتھ آواز ٹکراتی ہو۔ جو شخص اس کائنات میں بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا ، وہ اندھا ہے اگرچہ حیوان کی طرح اس کے بڑے بڑے موٹے موٹے دیدے ہوں۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (30: 53) ” تم صرف انہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں “۔ ایسے ہی لوگ دعوت کو سنتے ہیں کیونکہ ان کے دل زندہ ہوتے ہیں اور زندہ دراصل دل کی زندگی ہوتی ہے۔ ان کی آنکھیں بینا ہوتی ہیں۔ ان کی قوائے مدر کہ صحیح و سلامت ہوتی ہیں ، لہٰذا وہ سنتے ہیں۔ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ دعوت کی پکار ان کی فطرت سے ٹکراتے ہی ان کے اندر انابت پیدا کرتی ہے۔ اب ذرا انسان کو خود اس کی ذات اور اس کے جسم کی دنیا میں گھمایا جاتا ہے ۔ اپنے ماحول سے لاکر خود اپنے نفس کی وادیوں میں پھرایا جاتا ہے کہ تم پیدا کیسے ہوئے ؟ اس زمین پر تمہاری پیدائش کیسی ہے ؟ زندگی کیسی ہے اور تم مر کس طرح جاتے ہو ؟ اور پھر قیامت کا منظر کیا ہوگا ؟
Ayahs 30:54–57اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرتھم ولا ھم یستعتبون (54 – 57 یہ ایک بہت ہی طویل مطالعاتی سفر ہے۔ اس کا آغاز تو انسانی زندگی کے آغاز سے ہوتا ہے اور یہ ہمارے سامنے ہے اور آئے دن کا مشاہدہ ہے۔ اس کا آخری حصہ نہایت ہی اگرچہ مشہور نہیں ہے لیکن قرآن کی تصویر کشی ایسے الفاظ میں کرتا ہے کہ گویا وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ یہ ایک ایسا مطالعاتی سفر ہے کہ چشم بینا رکھنے والوں کے لیے اور کھلے کان رکھنے والوں کے لئے اور کان لگا کر سننے والوں کے لیے اس میں سامان عبرت ہے۔
اللہ الذی خلقکم من ضعف (30: 54) ” اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی “۔ یہ کہا کہ تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ یہ نہ کہا کہ تمہیں ضعیف پیدا کیا۔ گویا ان کی حیات کے آغاز کا عنصر ہی ضعیفی ہے اور یہاں جس ضعف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے کئی مفہوم اور مظاہر ہیں اور یہ مظاہر انسان کے اندر قابل مشاہدہ ہیں اور مزید مشاہدات ہوتے جاتے ہیں۔ وہ چھوٹا سا خلیہ جس سے جنین بنتا ہے جو بہت ہی خوردبینی اور چھوٹا سا ہے اور ضعیف ہے۔ پھر جنین اور اس کے تمام مدارج حالت ضعف ہیں۔ پھر زمانہ طفولیت سب کا سب حالت ضعف ہے ، اس وقت تک جب انسان مکمل نوجوان ہوجاتا ہے۔ پھر وہ مادہ جس سے انسان بنتا ہے ، ضعیف ہے مٹی۔ اگر اس میں نفخ زبانی نہ ہوتی تو یہ مٹی ہی ہوتی یا نباتات ہوتے یا حیوانات ہوتے۔ جو انسان کے مقابلے میں سب حالات ضعف ہیں۔ پھر انسان اپنی خواہشات کے سامنے کمزور ہے۔ امتحانات ، میلانات سے اسے مجبور کردیتے ہیں ، اگر اللہ کی جانب سے نفخ روح نہ ہوتا تو انسان اس احسن تقدیم میں نہ ہوتا۔ اس کے اندر یہ صلاحیتیں نہ ہوتیں اور یہ بھی دوسرے حیوانات کی طرح ایک ضعیف اور لاچار حیوان ہوتا۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ (30: 54) ” پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی “۔ ایسی قوت اور ان معنوں میں قوت جن معنوں میں ضعف بیان ہوا۔ جسمانی قوت ، انسانی ساخت میں قوت ، انسان کی نفسیاتی اور روحانی قوت اور انسان کی فکری اور عقلی قوت۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ضعفا وشیبۃ (30: 54) ” پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا “۔ انسانی جسم ڈھیلا پڑگیا ، بڑھاپا دراصل انسان کی تمام قوتوں کے اندر طفولیت کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے اندر نفسیاتی گراوٹ بھی آجاتی ہے اور انسان ضعیف الارادہ ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات ایک بوڑھا اس طرح لایعنی باتیں کرتا ہے جس طرح ایک بچہ ہوتا ہے۔ اس کے ارادے کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی۔ بڑھاپے کے ساتھ بالوں کی سفیدی دراصل بڑھاپے کو مجسم کردیتی ہے اور بالوں کی سفیدی کے ساتھ قوائے انسانی کا ضعف سامنے نظر آتا ہے۔ یہ ادوار ، جس سے کوئی فانی چیز نہیں بچ سکتی اور جس شخص کو طویل عمر نصیب ہو ، ان کے اندر کبھی کوئی دور غائب نہیں ہوتا ، کبھی یوں نہیں ہوتا کہ ان میں سے کوئی دور اپنے وقت پر نہ آئے۔ ان ادوار کا اسی ترتیب کے ساتھ ہر شخص پر آنا اس بات کا مظہر ہے کہ یہ انسان کسی مدبر ہستی کے کنڑول میں ہے۔ وہ ہستی جو چاہتی ہے ، تخلیق کرتی ہے ، جو چاہتی ہے ، مقدر بناتی ہے اور جس طرح چاہتی ہے ، ہر مخلوق کے لیے اس کے حالات اور طور طریقوں کا منصوبہ بناتی ہے۔ یہ سب کام اللہ کے پختہ علم ، اس کی تقدیر اور گہری ٹیکنالوجی کے مطابق انجام پاتے ہیں۔
یخلق ما یشآء وھو العلیم القدیر (30: 54) ” وہ جو کچھ چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ، جو سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا اس محکم اور ٹیکنیکل اور نقشے کے مطابق بنی ہوئی اس مخلوق کا کچھ با معنی انجام بھی ہے۔ ہاں اس کا ایک نہایت ہی با معنی انجام اور فلسفہ ہے اور دیکھو اسے ایک منظر میں جو قیامت کے مناظر میں سے ایک پر تاثیر منظر ہے اور حرکت اور مکالموں سے ہر منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔
ویوم تقوم الساعۃ ۔۔۔۔۔ غیر ساعۃ (30: 55) ” اور جب وہ ساعت برپا ہوگی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں “۔ ان کے احساس میں دنیا میں گزرا ہوا پورا زمانہ سکڑ جائے گا۔ اس لیے وہ اپنے احساس کے مطابق قسم کھائیں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قبروں میں گزرے ہوئے زمانہ کے بارے میں یہ کہہ رہے ہوں کہ
یہ زمانہ اس قدر مختصر تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد پورا زمانہ ہو۔ یعنی زمین کی زندگی کا اور پھر قبروں میں رہنے کا۔
کذلک ۔۔۔۔ یوفکون (30: 55) ” اسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکہ کھایا کرتے تھے “۔ اور حق سے منہ پھیرتے تھے اور دنیا میں بھی انہوں نے واقعات کا صحیح اندازہ نہ لگایا تھا۔ چناچہ اہل علم اور اہل ایمان ان کے اس خیال کی تصحیح کردیں گے۔
وقال الذین ۔۔۔۔۔ کنتم لا تعلمون (30: 56) ” مگر جو اہل علم اور ایمان سے بہرہ مند کیے گئے تھے ، وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم روز حشر تک پڑے رہے ہو ، سو یہ وہی روز حشر ہے ، لیکن تم جانتے نہ تھے “۔ یہ صاحبان علم و بصیرت وہی تھے جو اہل ایمان تھے۔ جنہوں نے حشر پہ یقین کیا ہوا تھا۔ اور انہوں نے وہ حقائق بھی جان لیے تھے جو اس ظاہری دنیا کے پیچھے تھے۔ یہ لوگ بھی معاملے کو اللہ کے علم کے سپرد کردیتے ہیں۔
لقد لبثتم ۔۔۔۔۔ یوم البعث (30: 56) ” درحقیقت اللہ کی کتاب میں تم یوم حشر تک رہے ہو “۔ یہ ہے وہ میعاد مقرر۔ اور اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ حشر تک پہنچتے پہنچتے تمہیں کتنی دیر لگی۔ یہ تھا مقررہ دن اور یہ آگیا دیکھ لو۔
اب یہ منظر ایک اجمالی کلیہ کی شکل میں ختم ہوتا ہے اور اس میں بتایا جاتا ہے کہ اب ظالموں کو کیا حالات پیش آنے والے ہیں جو حشر اور قیامت کی تکذیب کرتے تھے۔
فیومئذ لا ینفع ۔۔۔۔۔ یستعتبون (30: 57) ” پس یہ وہ دن ہوگا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا “۔ نہ ان کی کوئی معذرت قبول ہوگی اور نہ کوئی ان پر عتاب کرے گا کہ تم نے ایسا ایسا کیوں کیا ہے۔ مانگو معافی ، توبہ کرو ، کیونکہ آج تو سزا ہوگی ، یہاں کسی کو کوئی سرزنش نہ ہوگی ، یہ یوم عقاب ہوگا ، یوم عتاب نہ ہوگا۔ اب اس برے اور مایوس کن منظر سے واپس لاکر انہیں ان کے اس حال میں لایا جاتا ہے جس میں وہ اپنے عناد اور تکذیب میں ڈرے ہوئے تھے۔ یہ تھا عناد کا انجام اور یہ تھا تکذیب کا خاتمہ۔