32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

اور کیا ان لوگوں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا کہ ہم ایک بےآب وگیاہ زمین کی طرف پانی بہا لاتے ہیں اور پھر اسی زمین سے وہ فصل اگاتے ہیں جس سے ان کے جانوروں کو بھی چارہ ملتا ہے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں ؟ تو کیا انہیں کچھ نہیں سوجھتا

اولم یروا انا ۔۔۔۔۔ افلا یبصرون (27) یہ مردہ زمین ، تباہ حال زمین ، یہ دیکھتے ہیں کہ قدرت خداوندی اس کی طرف پانی چلاتی ہے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ یہی مردہ زمین سرسبز و شاداب ہو کر زندگی سے بھرپور ہوگئی ہے اور لہلہاتی ہے۔ فصلیں اگتی ہیں۔ لوگ بھی کھاتے ہیں اور ان کے مویشی بھی کھاتے ہیں۔ مردہ زمین کا منظر جس پر بارش برستی ہے اور وہ زندہ و تابندہ ہوجاتی ہے۔ یہ منظر دراصل دلوں کے بند دروازوں کو کھولنے کے لیے نہایت ہی موثر منظر ہے۔ دیکھو ہر طرف زندگی اور نباتات کا اگاؤ اور لوگوں اور مویشیوں کی خوشیاں اور ان کا استقبال۔ زندگی کی مٹھاس اور تروتازگی کا شعور۔ پھر اس سرسبز زندگی اور خوبصورت اور تروتازہ ماحول کی خوبصورتی۔ قرب اور محبت کی فضا میں زمزمے ، جن میں اللہ کی قدرت کا جمال ہر طرف نظر آتا ہے اور اس کی صنعت کاریوں کے نمونے جابجا بکھرے پڑے ہیں اور جن سے اس کائنات کے صفحات پر ہر طرف زندگی اور خوبصورتی کے مناظر نظر آتے ہیں۔ یوں قرآن مجید دل انسان کو زندگی کے مختلف نشیب و فراز کی سیر کراتا ہے۔ جہاں زندگی بھی ہے اور نشوونما بھی ہے اور سرسبزی و شادابی بھی ہے اور اقوام سابقہ کی ہلاکتوں کے میدان اور آثار بھی ہیں۔ ہر جگہ قرآن کریم کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح قلب انسانی کے اندر حرکت پیدا ہو ، وہ جاگے اور اسے اس جہان کے ساتھ الفت پیدا ہو۔ اس جہاں اور اس کی بوقلمونیوں پر سے محض غافل ہو کر نہ گزرے۔ آنکھوں پر سے پردے دور کر دے۔ ان مشاہد اور مناظر قدرت کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش کرے۔ واقعات سے عبرت حاصل کرے اور تاریخ سے برہان اور دلائل حاصل کرے۔ آخر میں اس طویل سیاحت کے بعد سورة کا مقطع آتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے آجانے میں جلدی کرتے ہیں ، جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے۔ دراصل یہ لوگ اس ڈراوے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی نصیحت کو مشکوک بات سمجھتے ہیں ان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے ، وہ حق ہے اور حقیقت بننے والی ہے۔ اس دن ان کا ایمان ان کو کوئی نفع نہ دے گا۔ اور اس وقت ان سے جو غلطی ہوچکی ہوگی اس کی تلافی ممکن نہ ہوگی اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ ان کو چھوڑ دیا جائے وہ اپنے حتمی انجام تک پہنچنے والے ہیں۔
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ” یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو ؟ “

ویقولون متی ھذا ۔۔۔۔۔ وانتظ انھم منتظرون (28 – 30) اچھا ” انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو ، یہ بھی منظر ہیں “۔ فتح دراصل فریقین کے درمیان اختلاف کے فیصلے کو کہا جاتا ہے۔ وہ عذاب جس سے حضور اکرم ﷺ ڈرا رہے تھے اس کا آنا بھی فتح ہے۔ یہ لوگ غافل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہرحال کسی حکمت کی وجہ سے اس کے آنے کی میعاد موخر کی ہوتی ہے۔ وہ اگر سو بار بھی مطالبہ کریں اللہ کا کام اپنے وقت پر ہوتا ہے اور جب وہ آئے گا تو یہ لوگ اس کی مدافعت نہ کرسکیں گے اور اس سے بچ کر نہ نکل سکیں گے۔ قل یوم الفتح ۔۔۔۔۔ ولا ھم ینظرون (32: 29) ” ان سے کہو ، فیصلے کے دن ایمان لانا ان لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوگا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر ان کی کوئی مہلت نہ ملے گی “۔ خواہ فیصلے کا دن اس دنیا میں ہو۔ اس وقت ان کو دھر لیا جائے گا جبکہ وہ کافر ہوں گے۔ پھر ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ نہ ان کا ایمان لانا اس وقت نافع ہوگا اور یہ فیصلے کا دن آخرت میں ہوگا۔ اس وقت یہ مہلت طلب کریں گے اور مہلت نہ دی جائے گی۔ یہ جواب اعصاب تمکن ہے اور اس سے دل دہل جاتے ہیں اور آخری ضرب ان پر یہ لگائی جاتی ہے۔
Ayahs 32:29–30

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

ان سے کہو ” فیصلے کے دن ایمان لانا ، ان لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوگا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر ان کو کوئی مہلت نہ ملے گی

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو ، یہ بھی منتظر ہیں

فاعرض ھم وانتظر انھم منتظرون (32: 30) ” “۔ اس فقرے کی تہ میں دراصل بالواسطہ ایک دھمکی چھپی ہوئی ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ دامن جھاڑ لیں اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں تو انجام معلوم ہے۔ اس آخری ضرب پر یہ سورة ختم ہوتی ہے ۔ اس میں طویل مطالعاتی سفر ہے ، اشارات و ہدایات ہیں اور قسم قسم کے مشاہدات اور دلائل دئیے گئے ہیں اور قلب انسانی کو ہر پہلو سے متاثر کرنے کی سعی کی گئی ہے اور ہر راستے سے اس کو کھینچ کر ہدایت کی طرف لانے کے لیے حملہ کیا گیا ہے۔