Ayahs 32:1–3سورة السجدہ
آیت نمبر : 3 ۔ 1
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب کریم رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جس نے اپنی نعمت کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے۔ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان کیا ہے ‘ یہی کتاب کریم ہے۔ ان میں ہر وہ چیز موجود ہے ‘ جو ان کے احوال کو درست اور ان کے اخلاق کی تکمیل کرتی ہے۔ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘ بایں ہمہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے ظالم کہتے ہیں کہ اس کتاب کو محمد ﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے انکار کی سب سے بڑی جسارت اور محمد مصطفیٰ ﷺ پر سب سے بڑے جھوٹ کا بہتان لگانا ہے ‘ نیز یہ بہتان لگانا ہے کہ مخلوق بھی خالق کے کلام جیسا کلام تخلیق کرنے پر قادر ہے۔
مذکورہ بالا باتوں میں سے ہر ایک بات بہت بڑا جرم ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قول ” اس کو محمد ﷺ نے گھڑا ہے۔ “ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (بل ھو الحق) ” بلکہ یہ حق ہے “ جس کے سامنے سے باطل آسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ یہ کتاب کریم قابل تعریف اور دانا ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے (من ربک) ” آپ کے رب کی طرف سے۔ “ جس نے اسے اپنے بندوں پر رحمت کے طور پر نازل کیا ہے (لتنذر قوما ما اتھم من نذیر من قبلک) ” تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے ڈرانے (متنبہ کرنے) والا نہیں آیا۔ “ یعنی رسول کے بھیجے جانے اور کتاب کے نازل کیے جانے کی انہیں سخت ضرورت ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔۔۔ بلکہ یہ لوگ اپنی جہالت میں سرگرداں اور اپنی گمراہی کے اندھیروں میں مارے مارے پھرتے ہیں ‘ لہٰذا ہم نے آپ پر کتاب نازل کی (لعلھم یھتدون) شاید کہ یہ گمراہی کو چھوڑ کر راہ راست پر گامزن ہوں اور اس طرح حق کو پہچان کر اس کو ترجیح دیں۔
یہ تمام امور جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے ‘ ان کی تکذیب کے متناقض ہیں۔ یہ تمام امور ان سے ایمان اور تصدیق کامل کا تقاضا کرتے ہیں کیونکہ یہ (من رب العالمین) ” رب کائنات کی طرف سے ہے “ اور یقیناً یہ (الحق) ” حق ہے “ اور حق ہرحال میں قابل قبول ہوتا ہے۔ (لاریب فیہ) ” اس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں “ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو شک و ریب کی موجب ہو۔ یہ کتاب کریم کوئی ایسی خبر بیان نہیں کرتی جو واقع کے غیر مطابق ہو اور نہ اس میں کوئی ایسی چیز ہی ہے جس کے معانی میں کوئی اشتباہ ہو یا وہ مخفی ہوں نیز وہ رسالت کے سخت ضرورت مند تھے اور اس کتاب کریم میں ہر قسم کی بھلائی اور نیکی کا راستہ دکھایا گیا ہے۔
Ayahs 32:4–9آیت نمبر : 4 ۔ 9
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : (اللہ الذی خلق السموٰت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام) ” وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔ “ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا ‘ حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے ‘ مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ (ثم استوی علی العرش) ” پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ “ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔
(مالکم من دونہ من ولی) ” اس کے سوا تمہارا کوئی دوست نہیں “ جو تمہارے معاملات میں تمہاری سرپرستی کرے (ولا شفیع) ” اور نہ سفارش کرنے والا۔ “ یعنی اگر تمہیں سزا ملے تو وہ تمہاری سفارش کرے ‘ (افلا تتذکرون) ” کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے “ کہ تمہیں علم ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ‘ جو عرش عظیم پر مستوی ہے ‘ جو تمہاری تدبیر اور تمہاری سرپرستی میں یکتا ہے اور تمام تر شفاعت کا وہی مالک ہے ‘ اس لیے عبادت کی تمام انواع کا وہی مستحق ہے۔
(یدبر الامر) امر کونی و قدری اور امر دینی و شرعی کی تمام تدابیر وہ اکیلاہی کرتا ہے اور تمام تدابیر قادر مطلق بادشاہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں (من السمآء الی الارض) ” آسمان سے زمین کی طرف۔ “ پس وہ ان تدابیر کے ذریعے سے کسی کو سعادت مند بناتا ہے اور کسی کو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے ‘ کسی کو دولت مند بنا دیتا ہے اور کسی کے نصیب میں فقر و فاقہ لکھ دیتا ہے ‘ کسی کو عزت سے نوازتا ہے اور کسی کو ذلت دیتا ہے ‘ کسی کو اکرام و تکریم سے بہرہ مند کرتا ہے اور کسی کے دامن میں رسوائی ڈال دیتا ہے ‘ کچھ قوموں کو رفعت اور عروج سے سرفراز کرتا ہے اور کچھ قوموں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور وہی آسمانوں سے رزق نازل کرتا ہے۔
(ثم یعرج الیہ) ” پھر وہ اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔ “ یعنی امر اس کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اسی کی طرف چڑھ جاتا ہے (فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون) ” ایک روز میں جس کا اندازہ تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا۔ “ یعنی یہ امر عروج کرکے ‘ ایک لمحہ میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
(ذلک) ” وہ “ یعنی جس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا ‘ جو عرش عظیم پر مستوی ہے اور اکیلا ہی اپنی مملکت کی تدبیر کرتا ہے (علم الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم) ” پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ‘ غالب ‘ رحم کرنے والا ہے۔ “ پس اس نے اپنی وسعت علم ‘ اپنے کامل غلبے اور اپنی بےپایاں رحمت کی بنا پر ان مخلوقات کو وجود بخشا اور ان میں بیشمار فائدے ودیعت کیے اور ان کی تدبیر کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔
(الذی احسن کل شیء خلقہ) تمام مخلوق کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا ‘ اسے بہترین تخلیق عطا کی۔ اس نے ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے ماحول کے موافق ہے اور یہ عام ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے فضل و شرف کی بنا پر اس کی تخلیق کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وبدا خلق الانسان من طین) ” اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔ “ یہ ابتدا ابوالبشر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے ہوئی۔ (ثم جعل نسلہ) ” پھر کیا اس کی نسل کو “ یعنی ذریت آدم کی پیدائش کو (من مآء مھین) گندے اور کمزور نطفہ سے (ثم سوہ) پھر اس کا گوشت پوست ‘ اس کے اعضا ‘ اس کے اعصاب اور اس کی شریانوں کے نظام کو درست طور پر بنایا ‘ اسے بہترین تخلیق و ہیئت سے سرفراز کیا اس کے ہر ہر عضو کو ایسے مقام پر رکھا جس کے سوا کوئی اور مقام اس کے لائق نہ تھا۔ (ونفخ فیہ من روحہ) ” اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے تب وہ جمادات کی شکل سے نکل کر زندگی سے بہرہ ور انسان بن جاتا ہے۔ (وجعل لکم السمع والابصار) اور وہ تمہیں آہستہ آہستہ تمام منفعتیں عطا کرتا رہا حتیٰ کہ تمہیں سماعت و بصارت کی مکمل صلاحیتوں سے نواز دیا (والافئدۃ الیلا ما تشکرون) ” اور دل (بنائے) مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو “ اس ہستی کا جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہاری صورت گری کی۔
Ayahs 32:10–11آیت نمبر : 11 ۔ 10
قیامت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کی تکذیب کرنے والوں نے کہا : (ء اذا ضللنا فی الارض) جب ہم بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو کر زمین میں ایسی ایسی جگہوں میں بکھر جائیں گے جن کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوگا (ء انا لفی خلق جدید) تو کیا ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا۔ ان کے خیال میں یہ بعید ترین چیز ہے اور ایسا خیال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالق کائنات کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرتے ہیں اور ان کا یہ کلام تلاش حقیقت کی خاطر نہیں ‘ بلکہ یہ تو ظلم ‘ عناد ‘ اپنے رب کی ملاقات سے انکار اور کفر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا : (بل ھو بلقآئی ربھم کفرون) ” بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات سے انکار کرتے ہیں۔ “ ان کے کلام ہی سے ان کی غرض وغایت معلوم ہوجاتی ہے ورنہ اگر ان کا مقصد بیان حق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے ایسے قطعی دلائل بیان کرتا جو بصیرت کے لیے اتنے ہی نمایاں ہوتے جتنا بصارت کے لیے سورج۔ ان کے لیے یہی جان لینا کافی ہے کہ ان کو عدم سے وجود میں لایا گیا۔ ابتدا کی نسبت اس کا اعادہ آسان تر ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین پر بارش برساتا ہے ‘ زمین اپنی موت کے بعد جی اٹھتی ہے اور اپنے اندر بکھرے ہوئے بیجوں کو اگاتی ہے۔
(قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم) ” کہہ دیجیے کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے وہ تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے۔ “ یعنی ارواح کا قبض کرنا جس کے سپرد کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ مددگار فرشتے بھی ہیں۔ (ثم الی ربکم ترجعون) ” پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ “ پس وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔ تم نے قیامت کا انکار کیا ہے اس لیے دیکھو اللہ تعالیٰ تمہاری ساتھ کیا کرتا ہے۔
Ayahs 32:12–14آیت نمبر : 14 ۔ 12
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز ان کے اپنی طرف لوٹنے کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد ‘ اپنے حضور ان کی حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ولو تری اذالمجرمون) ” اور اگر آپ دیکھیں ‘ جب کہ گناہ گار “ جنہوں نے بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کیا (ناکسوا رء وسھم عند ربھم) خشوع و خضوع اور انکساری کے ساتھ سرنگوں ہوکر ‘ اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہوئے ‘ واپس لوٹائے جانے کی درخواست کرکے عرض کریں گے : (ربنآ ابصرنا وسمعنا) ” اے ہمارے رب ! ہمنے دیکھ لیا اور سن لیا۔ “ یعنی تمام معاملہ ہمارے سامنے واضح ہوگیا ہم نے اسے عیاں طور پر دیکھ لیا اور ہمارے لیے عین الیقین بن گیا۔ (فارجعنا نعمل صالحاً انا موقنون) ” ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں بلاشبہ ہم یقین کرنے والے ہیں۔ “ یعنی جن حقائق کو ہم جھٹلایا کرتے تھے اب ہمیں ان کا یقین آگیا ہے ‘ تو آپ بہت برا معاملہ ‘ ہولناک حالات ‘ خائب و خاسر لوگ اور نامقبول دعائیں دیکھیں گے ‘ کیونکہ مہلت کا وقت تو گزر چکا۔
اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر ہے کہ وہ ان کے اور کفر و معاصی کے درمیان سے نکل گیا۔ بنا بریں فرمایا : (ولو شئنا لاتینا کل نفس ھدھا) ” اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔ “ یعنی ہم تمام لوگوں کو ہدایت سے نواز کر ہدایت پر جمع کردیتے۔ ہماری مشیئت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے مگر ہماری حکمت یہ نہیں چاہتی کہ تمام لوگ ہدایت پر جمع ہوں ‘ اسی لیے فرمایا : (ولکن حق القول منی) ” لیکن میری یہ بات بالکل حق ہوچکی ہے۔ “ یعنی میرا حکم واجب ہوگیا اور اس طرح ثابت ہوگیا کہ اس میں تغیر کا کوئی گزر نہیں۔ (لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) ” کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔ “ یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا جس سے کوئی مفر نہیں۔ اس کے اسباب ‘ یعنی کفر و معاصی ضرور متحقق ہوں گے۔
(فذوقوا بما نسیتم لقآء یومکم ھذا) ” پس چکھو تم (عذاب) اس دن کی ملاقات کو بھول جانے کی وجہ سے۔ “ یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا ‘ جن پر ذلت طاری ہوچکی ہوگی اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کر رہے ہوں گے تاکہ اپنے اعمال کی تلافی کرسکیں واپس لوٹنے کا وقت چلا گیا ‘ اب عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں ‘ لہٰذا اب تم دردناک عذاب کا مزا چکھو ‘ اس پاداش میں کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا۔ نسیان کی یہ قسم نسیان ترک ہے ‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرا اور اس کی خاطر عمل کو ترک کردیا گویا کہ تم سمجھتے تھے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے نہ اس سے ملاقات کرنی ہے۔ (انا نسینکم) ” بیشک ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا۔ “ یعنی ہم نے تمہیں عذاب میں چھوڑ دیا۔ یہ جزا تمہارے عمل کی جنس میں سے ہے۔ جس طرح تم نے بھلائے رکھا اس طرح تمہیں بھی بھلا دیا گیا۔ (وذوقوا عذاب الخلد) کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب کا مزا چکھو کیونکہ جب عذاب کی مدت اور انتہا مقرر ہو تو اس میں کسی حد تک تخفیف کا پہلو پایا جاتا ہے ‘ رہا جہنم کا عذاب۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس عذاب سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔۔۔ تو اس عذاب میں کوئی راحت ہوگی نہ ان پر یہ عذاب کبھی منقطع ہوگا۔ (بما کنتم تعملون) ” تمہارے اعمال کی وجہ سے۔ “ یعنی کفر ‘ فسق اور معاصی کی پاداش میں۔
Ayahs 32:15–17آیت نمبر : 15 ۔ 17
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عذاب کا ذکر کرنے کے بعد ‘ جو اس نے اپنی آیتوں کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے ‘ اہل ایمان کا ذکر فرمایا اور ان کے ثواب کا وصف بیان کیا ‘ جو ان کے لیے تیار کیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (انما یؤمن بایتنا) یعنی جو ہماری آیتوں پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور جن میں ایمان کے شواہد پائے جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں (الذین اذا ذکروا) جن کے سامنے جب قرآن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے ‘ رسولوں کے توسط سے ان کے پاس نصیحتیں آتی ہیں ‘ انہیں یاد دہانی کرائی جاتی ہے تو وہ اسے غور سے سنتے ہیں ‘ ان کو قبول کرکے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور (خروا سجدا) اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے سامنے فروتنی کرتے ہوئے ‘ ذکر الٰہی کے خضوع اور اس کی معرفت کی فرحت کے ساتھ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں (وسبحوا بحمد ربھم وھم لا یستکبرون) ” اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔ “ وہ اپنے دلوں میں تکبر رکھتے ہیں نہ بدن سے اس کا اظہار کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل نہ کریں بلکہ اس کے برعکس وہ آیات الٰہی کے سامنے سرافگندہ ہوجاتے ہیں ‘ ان کو انشراح صدر اور تسلیم و رضا کے ساتھ قبول کرتے ہیں ‘ ان کے ذریعے سے رب رحیم کی رضا حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔
(تتجا فی جنوبھم عن المضاجع) ان کے پہلو نہایت بےقراری سے ان کے آرام دہ بستروں سے علیحدہ رہتے ہیں اور وہ ایسی چیز میں مصروف رہتے ہیں جو ان کے نزدیک ان آرام دہ بستروں سے زیادہ لذیذ اور زیادہ محبوب ہے۔ اس سے مراد رات کے وقت نماز اور اللہ سے مناجات ہے۔ اسی لیے فرمایا : (یدعون ربھم) دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول اور دینی و دنیاوی نقصانات کو روکنے کے لیے اپنے رب کو پکارتے ہیں (خوفاً و طمعا) خوف اور امید دونوں اوصاف کو یکجا کرکے ‘ اس خوف کے ساتھ کہ کہیں ان کے اعمال ٹھکرا نہ دیئے جائیں اور اس امید کے ساتھ کہ ان کے اعمال کو شرف قبولیت حاصل ہوجائے گا ‘ نیز اس خوف سے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں نہ آجائیں اور اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ انہیں ثواب سے سرفراز فرمائے گا۔
(ومما رزقنھم) ” اور اس میں سے جو ہم نے انہیں دیا ہے “ خواہ وہ تھوڑا رزق ہو یا زیادہ (ینفقون) ” خرچ کرتے ہیں۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کو کسی قید سے مقید نہیں کیا اور نہ اس شخص پر کوئی قید لگائی ہے ‘ جس پر خرچ کیا جائے تاکہ آیت کریمہ عموم پر دلالت کرے ‘ لہٰذا اس میں تمام نفقات واجبہ مثلاً زکوٰۃ ‘ کفارات ‘ اہل و عیال اور اقارب وغیرہ پر خرچ کرنا اور نفقات مستحبہ بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا شامل ہے۔ مالی طور پر احسان کرنا مطلقاً نیکی ہے خواہ کسی محتاج کے ساتھ یہ احسان کیا جائے یا کسی مال دار کے ساتھ ‘ اقارب کے ساتھ کیا جائے یا اجنبیوں کے ساتھ ‘ مگر اس احسان کے افادے میں تفاوت کے مطابق اجر میں تفاوت ہوتا ہے۔
یہ تو ہے ان کا عمل ‘ رہی اس کی جزا ‘ تو فرمایا : (فلا تعلم نفس) یہاں سیاق نفی میں نکرہ کا استعمال ہوا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تمام مخلوق کے نفوس شامل ہیں یعنی کوئی نہیں جانتا (مآ اخفی لھم من قرۃ اعین) ” کہ ان کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔ “ یعنی خیر کثیر ‘ بیشمار نعمتیں ‘ فرحت و سرور اور لذتیں۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان پر فرمایا : ” میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دلر میں کبھی اس کا خیال آیا ہے۔ “ جس طرح وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتے رہے ‘ اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہے ‘ انہوں نے اپنے عمل کو چھپایا پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے عمل ہی کی جنس سے جزا عطا کی ہے اس لیے ان کے اجر کو چھپا دیا ‘ اسی لیے فرمایا : (جزآءم بما کانوا یعملون) ” یہ اعمال کی جزا ہے جو وہ کرتے رہے ہیں۔ “
Ayahs 32:18–20آیت نمبر : 20 ۔ 18
اللہ تبارک و تعالیٰ ‘ دو متفاوت اور متباین چیزوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں عقل انسانی کو متنبہ کرتا ہے ‘ جن کے درمیان عدم مساوات متحقق ہے۔ نیز آگاہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان عدم مساوات اس کی حکمت کا تقاضا ہے ‘ اس لیے فرمایا : (افمن کان مؤمنا) ” کیا وہ جو مومن ہو “ یعنی جس کا قلب نور ایمان سے منور اور اس کے جوارح شریعت کے تابع ہیں ‘ نیز اس کا ایمان اپنے آثار اور ان امور کو ترک کرنے کے موجب کا تقاضا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہیں جن کا وجود ایمان کے لیے ضرر رساں ہے۔ (کمن کان فاسقا) ” اس کی مثل ہے جو فاسق ہے “ جس کا قلب غیر آباد اور ایمان سے خالی ہے اور اس کے اندر کوئی دینی داعیہ موجود نہیں ‘ اس لیے اس کے جوارح جلدی سے ظلم اور جہالت کے موجبات کی وجہ سے ہر قسم کے گناہ اور معصیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور وہ اپنے فسق کے سبب سے اپنے رب کی اطاعت سے نکل جاتے ہیں۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ (لایستون) عقلاً اور شرعاً کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ جس طرح دن اور رات ‘ روشنی اور تاریکی برابر نہیں ہوتے اسی طرح قیامت کے روز مومن اور فاسق کا ثواب بھی برابر نہیں ہوگا۔
(اما الذین امنوا و عملوا الصلحت) ” رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔ “ یعنی جو فرائض اور نوافل ادا کرتے ہیں (فلھم جنت الماوی) ” تو ان کے رہنے کے لیے باغ ہیں۔ “ یعنی وہ جنتیں جو لذتوں کا ٹھکانا ‘ خوبصورت چیزوں کا گھر ‘ مسرتوں کا مقام ‘ نفوس اور قلب و روح کے لیے نعمت ‘ ہمیشہ رہنے کی جگہ ‘ بادشاہ معبود کے جوار رحمت ‘ اس کے قرب سے متمتع ہونے ‘ اس کے چہرے کا دیدار کرنے اور اس کا خطاب سننے کا مقام ہیں (نزلا) یہ سب نعمتیں ان کی ضیافت اور مہمانی کے لیے ہوں گی (بما کانوا یعملون) ” ان اعمال کی وجہ سے ہے جو وہ کرتے رہے۔ “ پس وہ اعمال جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز کیا ‘ انہی اعمال نے ان کو ان عالی شان منزلوں تک پہنچایا ہے ‘ جہاں مال و دولت ‘ لشکر ‘ خدام اور اولاد کے ذریعے سے تو کیا جان و روح کو کھپا کر بھی نہیں پہنچا جاسکتا اور نہ ایمان اور عمل صالح کے بغیر کسی دوسری چیز کے ذریعے سے ان منزلوں کے قریب ہی پہنچا جاسکتا ہے۔
(واما الذین فسقوا فما وھم النار) ” اور رہے وہ لوگ جنہوں نے نافرمانی کی تو ان کے رہنے کے لیے دوزخ ہے۔ “ یعنی ان کا دائمی مستقر اور ٹھکانا جہنم ہوگا جہاں ہر نوع کا عذاب اور ہر قسم کی بدبختی جمع ہوگی اور وہ ان سے ایک گھڑی کے لیے بھی علیحدہ نہ ہوگا۔ (کلمآ ارادوآ ان یخرجوا منھآ اعیدوا فیھا) عذاب کی انتہائی شدت کیوجہ سے جب کبھی وہ نکلنے کا ارادہ کریں گے ‘ انہیں دوبارہ جہنم میں دھکیل دیا جائے گا ‘ ان سے آرام اور چین رخصت ہوجائے گا اور غم اور رنج و ملال ان پر شدت اختیار کرجائے گا۔ (وقیل لھم ذوقوا عذاب النار الذی کنتم بہ تکذبون) ” اور ان سے کہا جائے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو۔ “ یہ جہنم کا عذاب ہے جہاں ان کا ٹھکانا ہوگا ‘ رہا وہ عذاب جو اس سے پہلے اور اس کا مقدمہ تھا ‘ یعنی عذاب برزخ تو اس کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے :
Ayah 32:21آیت نمبر : 21
ہم رسول کی تکذیب کرنے والے فاسقوں کو نمونے کے طور پر کم تر عذاب کا مزا چکھائیں گے اور وہ برزخ کا عذاب ہے۔ پس ہم برزخ کے عذاب کا کچھ مزا ان کے مرنے سے پہلے انہیں چکھائیں گے اس سے مراد قتل وغیرہ کا عذاب ہے ‘ جیسے غزوہ بدر میں مشرکین کو قتل کیا گیا یا اس سے مراد موت کے وقت کا عذاب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اس کا ذکر آتا ہے : (ولو تری اذالظلمون فی غمرت الموت والملکۃ باسطوآ ایدیھم اخرجوآ انفسکم الیوم تجزون عذاب الھون) (الانعام : 6/39) ” اور کاش آپ دیکھتے ‘ جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے عذاب کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے ‘ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جانیں ‘ آج تمہیں رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی۔ “
پھر برزخ میں ان کا یہ کم تر عذاب مکمل ہوجائے گا۔ یہ آیت کریمہ عذاب قبر کے واضح دلائل میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ولنذیقنھم من العذاب الادنی) اور ہم انہیں قریب کے کم تر عذاب میں سے چکھائیں گے یعنی اس عذاب کا کچھ حصہ ‘ لہٰذا یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ” عذاب اکبر “ یعنی جہنم کے عذاب سے پہلے بھی ان کو عذاب ادنیٰ میں مبتلا کیا جائے گا۔
چونکہ عذاب ادنیٰ کا مزا جو انہیں دنیا میں چکھایا جائے گا ‘ بسا اوقات اس سے موت واقع نہیں ہوتی ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ انہیں عذاب ادنیٰ کا مزا اس لیے چکھاتا ہے تاکہ یہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ظھر الفساد فی البرو البحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون) (الروم : 03/14) ” بحر و بر میں فساد برپا ہوگیا لوگوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ‘ تاکہ وہ ان کو مزا چکھائے ان کے بعض اعمال کا ‘ شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔ “
Ayah 32:22آیت نمبر : 22
یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور زیادتی کرنے والا کون ہوسکتا ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی ہو جنہیں اس کے رب نے اس کے پاس پہنچایا ہو اور وہ اپنے رسولوں کے ہاتھوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان اور اپنی نعمت کی تکمیل کرنا چاہتا ہو۔ وہ آیات اسے اس کے دینی اور دنیاوی مصالح کے بارے میں نصیحت کرتی اور حکم دیتی ہیں ‘ اسے دینی اور دنیاوی ضرر رساں امور سے روکتی ہیں۔ وہ اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ان کو ایمان و تسلیم اور شکر و اطاعت کے ساتھ قبول کیا جائے ‘ مگر اس ظالم نے ایسے طریقے سے ان آیات کا استقبال کیا جو ان کے لائق نہ تھا۔ یہ ظالم ان پر ایمان لایا نہ ان کی پیروی کی بلکہ ان سے اعراض کرتے ہوئے ان کو چھوڑ دیا اور ان کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا یہ ان مجرموں میں سب سے بڑا مجرم ہے جو سخت سزا کے مستحق ہوتے ہیں ‘ بنا بریں فرمایا : (انا من المجرمین منتقمون) ” بیشک ہم گناہ گاروں سے بدلہ لینے والے ہیں۔ “
Ayahs 32:23–25آیت نمبر : 25 ۔ 23
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنی ان آیات کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کو نصیحت کی ‘ اور وہ قرآن مجید ہے جو اس نے نبی مصطفیٰ حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ‘ تو اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ یہ قرآن کوئی انوکھی کتاب ہے نہ اس کتاب کو لانے والا رسول کوئی انوکھا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی جو کہ تورات ہے وہ قرآن کی تصدیق کرتی ہے اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے ‘ دونوں کا حق ایک دوسرے کے مطابق اور موافق ہے اور دونوں کی دلیل ثابت ہے (فلا تکن فی مریۃ من لقآۂ ) ” پس آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑنا “ کیونکہ حق کے دلائل وبراہین ثابت ہوچکے ہیں اس لیے شک و شب ہے کا کوئی مقام نہیں۔
(وجعلنہ) ” اور ہم نے اس کو بنایا “ یعنی اس کتاب کو جو ہم نے موسیٰ کو عطا کی (ھدی لبنی اسرآء یل) ” بنی اسرائیل کے لیے ہدایت۔ “ یعنی وہ اپنے دین کے اصولوں و فروگ میں اس کتاب سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ اس کی شریعت اور قوانین صرف اسرائیلیوں کے لیے اور اس زمانے کے مطابق تھے۔۔۔ رہا یہ قرآن کریم تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے تمام انسانوں کے لیے ہدایت بنآیا ہے کیونکہ یہ اپنے کامل اور عالی شان ہونے کی بنا پر قیامت تک کے لیے تمام مخلوق اور ان کے دینی اور دنیاوی امور میں رہنمائی عطا کرتا ہے۔ (وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم) (الزخرف : 34/4) ” اور بیشک یہ لوح محفوظ میں درج ہے جو ہمارے ہاں بہت عالی مرتبہ ‘ حکمت والی کتاب ہے۔ “
(وجعلنا منھم) ” اور ہم نے ان میں سے بنائے “ یعنی بنی اسرائیل میں سے (ائمۃ یھدون بامرنا) ایسے علماء جو شریعت اور ہدایت کے راستوں کا علم رکھتے تھے۔ وہ خود ہدایت یافتہ تھے اور اس ہدایت کے ذریعے سے دوسروں کی رہنمائی کرتے تھے۔ جو کتاب ان کی طرف نازل کی گئی وہ سراسر ہدایت تھی اور اس پر ایمان رکھنے والے دو اقسام میں منقسم تھے :
(1) ائمہ ‘ جو اللہ کے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔
(2) جو ان ائمہ سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔
پہلی قسم کے لوگ انبیاء و رسل کے بعد سب سے بلند درجے پر فائز ہیں اور یہ صدیقین کا درجہ ہے۔ یہ بلند درجہ انہیں اس لیے حاصل ہوا کہ انہوں نے تعلیم و تعلم ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت اور اس کے راستے میں پیش آنے والی اذیتوں پر صبر کیا اور نفوس کو معاصی اور شہوات سے روکا۔ (وکانوا بایتنا یوقنون) اور وہ آیات الٰہی پر ایمان میں درجۂ یقین پر پہنچ چکے تھے۔ یقین سے مراد وہ علم تام ہے جو عمل کا موجب ہے۔ وہ درجۂ یقین پر اس لیے پہنچے کہ انہوں نے صحیح طریقے سے علم حاصل کیا اور ان دلائل کے ذریعے سے مسائل کو اخذ کیا جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں۔ وہ مسائل سیکھتے رہے اور کثرت دلائل سے ان پر استدلال کرتے رہے یہاں تک کہ وہ درجۂ یقین پر پہنچ گئے۔ پس صبر اور یقین کے ذریعے سے دین میں امامت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔
کچھ مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں بنی اسرائیل میں اختلاف واقع ہوا ان میں سے کچھ لوگ صحیح راہ پر تھے اور کچھ عمداً یا غیر ارادری طور پر راہ صواب سے محروم تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یفصل بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون) ” وہ ان کے درمیان ان باتوں میں جن کے متعلق وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ “ اور یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے کچھ مسائل کا ذکر کرتا ہے جس کی تصدیق قرآن کریم میں موجود ہے ‘ وہی حق ہے ‘ اس کے علاوہ وہ تمام اقوال جو اس کے خلاف ہیں ‘ باطل ہیں۔
Ayahs 32:26–27آیت نمبر : 27 ۔ 26
کیا رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے ان کفار پر واضح نہیں ہوا اور انہیں راہ صواب نہیں ملی کہ (کم اھلکنا من قبلھم من القرون) ” ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا “ جو ان کی گمراہی کے مسلک پر گامزن تھے۔ (یمشون فی مسکنھم) ” ان کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں “ اور وہ عیاں طور پر ان کے مساکن کا مشاہدہ کرتے ہیں ‘ مثلاً قوم ہود ‘ قوم صالح اور قوم لوط کے مساکن۔ (ان فی ذلک لایت) ” بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں “ جن کے ذریعے سے وہ رسولوں کی صداقت اور شرک اور شر پر مبنی اپنے موقف کے بطلان پر استدلال کرسکتے ہیں ‘ نیز جو ان جیسے کرتوت کرے گا اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو ان لوگوں کے ساتھ ہوا تھا ‘ نیز وہ اس پر بھی استدلال کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور حشر کے لیے ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ (افلا یسمعون) ” کیا وہ سنتے نہیں ہیں۔ “ کیا وہ آیات الٰہی کو سن کر یاد نہیں رکھتے کہ ان سے فائدہ اٹھائیں ؟ اگر ان کی سماعت صحیح ہوتی اور وہ عقل سلیم سے بہرہ مند ہوتے تو اس حالت پر کبھی بھی قائم نہ رہتے جس میں ہلاکت یقینی ہے۔
(اولم یروا) کیا انہوں نے اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ ہماری نعمت اور ہماری حکمت کاملہ کا مشاہدہ نہیں کیا ؟ (انا نسوق المآء الی الارض الجرز) ” ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں۔ “ یعنی اس زمین کی طرف جو بےآب وگیاہ ہے اللہ تعالیٰ بارش کو لاتا ہے جو اس سے قبل موجود نہ تھی وہ اس زمین پر بادل برساتا ہے یا دریاؤں سے اسے سیراب کرتا ہے۔ (فنخرج بہ زرعا) پس ہم اس پانی کے ذریعے سے مختلف انواع کی نباتات اگاتے ہیں (تاکل منہ انعامھم) ” جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں۔ “ اس سے مراد مویشیوں کا چارہ ہے (وانفسھم) ” اور وہ خود بھی “ اس سے مراد آدمیوں کا کھانا ہے۔
(افلا یبصرون) کیا وہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو دیکھتے نہیں جس کے ذریعے سے اس نے زمین اور بندوں کو زندگی بخشی ؟ اگر وہ دیکھتے تو انہیں صاف نظر آتا اور اس بصارت اور بصیرت کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی حاصل کرتے ‘ مگر ان پر اندھا پن غالب اور غفلت چھائی ہوئی ہے ‘ لہٰذا انہوں نے اس بارے میں عقل مند کی طرح نہیں دیکھا۔ بس انہوں نے اس کو غفلت کی نظر سے اور محض عادت کے طور پر دیکھا ‘ اس لیے انہیں بھلائی کی توفیق نہیں ملی۔
Ayahs 32:28–30آیت نمبر : 30 ۔ 28
یعنی مجرم جہالت اور عناد کی بنا پر عذاب میں جلدی مچاتے ہیں جس کا ان کے ساتھ ان کے جھٹلانے کی پاداش میں وعدہ کیا گیا ہے۔ (ویقولون متی ھذا الفتح) ” اور کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا ؟ “ جو ہمارے اور تمہاری درمیان فیصلہ کردے اور تمہارے زعم کے مطابق ہمیں عذاب میں مبتلا کردے (ان کنتم صدقین) اے رسول ! اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو (قل یوم الفتح) ” کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن “ یعنی جس روز تمہیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمہیں ایمان حاصل ہوجائے تو تمہیں مہلت کا ملنا ممکن ہے تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کرلو کیونکہ یقینی طور پر معاملہ ابھی تک تمہارے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب فیصلے کا دن آئے گا تو تمام معاملہ ختم ہوجائے گا اور امتحان و ابتلا کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا ‘ اس وقت (لاینفع الذین کفروآ ایمانھم) ” کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ “ کیونکہ اس ایمان کی حیثیت اضطراری ایمان کی سی ہوگی۔ (ولا ھم ینظرون) اور نہ ان کو کوئی مہلت دی جائے گی کہ عذاب کو مؤخر کردیا جائے اور یہ اپنے معاملے کو سدھار لیں۔
(فاعرض عنھم) ” پس آپ ان سے اعراض کریں۔ “ جب ان کا خطاب جہالت کی حدود کو چھونے لگے اور وہ عذاب کے لیے جلدی مچانے لگیں (وانتظر) اور اس عذاب کا انتظار کیجیے جو ان پر نازل ہونے والا ہے کیونکہ یہ عذاب ضرور نازل ہوگا ‘ مگر اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجائے گا تو وہ آگے پیچھے نہیں ہوگا۔ (انھم منتظرون) وہ بھی آپ کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور برے وقت کے منتظر ہیں حالانکہ اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔