33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 33:1–3

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے پیغمبر خدا سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا بیشک خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور جو (کتاب) تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اسی کی پیروی کئے جانا بیشک خدا تمہارے سب عملوں سے خبردار ہے

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور خدا پر بھروسہ رکھنا اور خدا ہی کارساز کافی ہے

سورة الاحزاب آیت نمبر : 3 ۔ 1 یعنی اے وہ ہستی ! جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا اور اپنی وحی کے لیے چن لیا اور تمام مخلوق پر فضیلت بخشی ‘ اپنے اوپر اپنے رب کی اس نعمت پر تقویٰ کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیجیے جس کے دوسروں کی نسبت آپ زیادہ مستحق ہیں اور اسے اختیار کرنا دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ فرض ہے۔ اس کے اوامرو نواہی پر عمل کیجیے ‘ اس کے پیغامات کی تبلیغ کیجیے ‘ اس کے بندوں تک اس کی وحی کو پہنچایے اور تمام تمام مخلوق کی خیر خواہی کیجیے کوئی آپ کو آپ کے مقصد سے ہٹاسکے نہ آپ کی راہ کو کھوٹی کرسکے اور کسی کافر کی اطاعت نہ کیجیے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے عداوت ظاہر کی ہو اور نہ کسی منافق کی اطاعت کیجیے کیونکہ اس نے تکذیب اور کفر کو اپنے باطن میں چھپا رکھا ہے اور ان کے برعکس تصدیق و ایمان کا اظہار کرتا ہے۔ بس یہی لوگ ہیں جو حقیقی دشمن ہیں ‘ لہٰذا بعض معاملات میں جو تقویٰ کے متناقض ہیں ان کی بات نہ مانیے اور ان کی خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے ورنہ وہ آپ کو راہ صواب سے ہٹا دیں گے۔ (و) ” اور “ لیکن (اتبع ما یوحی الیک من ربک) ” جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کی جاتی ہے اسی کی اتباع کیجیے۔ “ کیونکہ یہی ہدایت اور رحمت ہے اس کی پیروی کرکے اپنے رب کے ثواب کی امید رکھیے کیونکہ وہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے ‘ وہ تمہیں تمہارے اچھے اور برے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔ اگر آپ کے دل میں یہ بات ہو کہ آپ نے ان کی گمراہ کن خواہشات نفس کی پیروی نہ کی تو آپ کو ان سے کوئی نقصان پہنچ جائے گا یا مخلوق کی ہدایت میں نقص واقع ہوجائے گا تو اس خیال کو اپنے دل سے نکال پھینکیے اور اللہ پر بھروسہ کیجیے۔ ان کے شر سے سلامتی اور اقامت دین میں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ‘ اپنے رب پر اس شخص کی مانند اعتماد کیجیے جو اپنی ذات کے لیے کسی نفع کا مالک ہے نہ نقصان کا ‘ جو موت پر اختیار رکھتا ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرسکتا ہے ‘ لہٰذا اس امر کے حصول کے بارے میں ہرحال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ (وکفی باللہ وکیلا) ” اور اللہ کافی کارساز ہے۔ “ اس لیے تمام معاملات کو اسی کے سپرد کردیجیے وہ ان کا اس طریقے سے انتظام کرے گا جو بندے کے لیے سب سے زیادہ درست ہوگا ‘ پھر وہ ان مصالح کو اپنے بندوں تک پہنچانے کی پوری قدرت رکھتا ہے جبکہ بندہ ان پر قادر نہیں۔ وہ اپنے بندے پر اس سے بھی کہیں زیادہ رحم کرتا ہے جتنا بندہ خود اپنے آپ پر رحم کرسکتا ہے یا اس پر اس کے والدین رحم کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے بندے پر ہر ایک سے زیادہ رحمت والا ہے خصوصاً اپنے خاص بندوں پر ‘ جن پر ہمیشہ سے اس کی ربوبیت اور احسان کا فیضان جاری ہے اور جن کو اپنی ظاہری اور باطنی برکتوں سے سرفراز کیا ہے ‘ خاص طور پر اس نے حکم دیا ہے کہ تمام امور اس کے سپرد کردیئے جائیں ‘ اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کی تدبیر کرے گا۔ تب آپ نہ پوچھیں کہ ہر معاملہ کیسے آسان ہوگا ‘ مشکلات کیسے دور ہوں گی ‘ مصائب کیسے ختم ہوں گے ‘ تکلیفیں کیسے زائل ہوں گی ‘ ضرورتیں اور حاجتیں کیسے پوری ہوں گی ‘ برکتیں کیسے نازل ہوں گی ‘ سزائیں کیسے ختم ہوں گی اور شر کیسے اٹھا لیا جائے گا۔۔۔ یہاں آپ کمزور بندے کو دیکھیں گے جس نے اپنا تمام معاملہ اپنے آقا کے سپرد کردیا ‘ اس کے آقا نے اس کے معاملات کا اس طرح انتظام کیا کہ لوگوں کی ایک جماعت بھی اس کا انتظام نہ کرسکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے معاملات اس کے لیے نہایت آسان کردیئے جو بڑے بڑے طاقتور لوگوں کے لیے بھی نہایت مشکل تھے۔ وباللہ المستعان۔
Ayahs 33:4–5

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

خدا نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا یہ سب تمہارے مونہوں کی باتیں ہیں اور خدا تو سچی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

(مومنو ! ) لے پالکوں کو ان کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو کہ خدا کے نزدیک یہی بات درست ہے اگر تم کو ان کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن جو قصد دلی سے کرو (اس پر مواخذہ ہے) اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت نمبر : 5 ۔ 4 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسے امور میں گفتگو نہ کریں جن کی کوئی حقیقت نہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں فرمایا جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔ یہ ان کی اپنی بات ہے جو جھوٹ اور باطل ہے ‘ جس پر شرعی برائیاں مرتب ہوتی ہیں۔ یہ ہر معاملے میں گفتگو کرنے اور کسی چیز کے وقوع و وجود کے بارے میں ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے نہ کیا ہو ‘ خبر دینے میں ایک عام قاعدہ ہے ‘ مگر مذکورہ چیزوں کو ان کے کثرت وقوع اور ان کے بیان کرنے کی حاجت کی بنا پر مخصوص کیا ہے ‘ لہٰذا فرمایا : (ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ) ” اللہ نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے۔ “ یہ صورت کبھی نہیں پائی جاتی۔ پس کسی کے بارے میں یہ کہنے سے بچو کہ اس کے پہلو میں دو دل ہیں ورنہ تم تخلیق الٰہی کے بارے میں جھوٹ کے مرتکب بنو گے۔ (وما جعل ازواجکم الی تظھرون منھن) ” اور (اللہ نے) انہیں بنایا تمہاری عورتوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو “ یعنی تم میں سے کسی شخص کا اپنی بیوی سے یہ کہنا ” تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ یا ‘ جیسے میری ماں “ تو نہیں بنایا اللہ تعالیٰ نے انہیں (امھتکم) ” تمہاری مائیں۔ “ تیری ماں تو وہ ہے جس نے تجھے جنم دیا ‘ جو تیرے لیے تمام عورتوں سے بڑھ کر حرمت و تحریم کی حامل ہے اور تیری بیوی تیرے لیے سب سے زیادہ حلال عورت ہے ‘ تب تو دو متنقاض امور کو کیسے ایک دوسرے کے مشابہ قرار دے رہا ہے جبکہ یہ ہرگز جائز نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (الذین یظھرون منکم من نسآءھم ماھن امھتھم ان امھتھم الا الی ولدنھم وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا) (المجادلۃ : 85/2) ” تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیتے ہیں ‘ وہ اس طرح ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ‘ بلاشبہ وہ ایک جھوٹی اور بری بات کہتے ہیں۔ “ (وما جعل ادعیآء کم ابنآء کم) ” اور تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے نہیں بنایا۔ “ (ادعیآء) دعی کی جمع ہے اور اس لڑکے کو کہتے ہیں جس کے بارے میں کوئی شخص اپنا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرے مگر وہ اس کا بیٹا نہ ہو ‘ یا اسے متبنیٰ ہونے کی وجہ سے بیٹا کہ جائے ‘ جیسا کہ ایام جاہلیت اور اسلام کی ابتدا میں یہ رواج موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس رواج کو ختم کرنے کا ارادہ فرمایا ‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اس رواج کی برائی بیان کی اور واضح کیا کہ یہ باطل اور جھوٹ ہے۔ باطل اور جھوٹ کا اللہ تعالیٰ کی شریعت سے کوئی تعلق ہے نہ اللہ تعالیٰ کے بندے اس سے متصف ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو ‘ جن کو تم بیٹا کہتے ہو یا وہ تمہارا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تمہارا بیٹا نہیں بنایا۔ حقیقت میں تمہارے بیٹے وہ ہیں جو تم میں سے ہیں اور جن کو تم نے جنم دیا ہے اور رہے دوسرے لوگ جن کے بارے میں تم اپنے بیٹے ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو وہ تمہارے حقیقی بیٹوں کی مانند نہیں ہیں۔ (ذلکم) یہ بات جو تم منہ بولے بیٹوں کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے ‘ اس شخص کے لیے جو اس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ‘ یا اس کا باپ فلاں ہے (قولکم بافواھکم) ” تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ “ یعنی یہ ایسی بات ہے کہ جس کی کوئی حقیقت ہے نہ معنی۔ (واللہ یقول الحق) ” اور اللہ حق بات کہتا ہے۔ “ یعنی جو صداقت اور یقین پر مبنی ہے اس لیے اس نے تمہیں اس کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ اس کا قول حق اور اس کی شریعت حق ہے ‘ تمام باطل اقوال و افعال کسی بھی لحاظ سے اس کی طرف منسوب کیے جاسکتے ہیں نہ اس کی ہدایت سے ان کا کوئی تعلق ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو صرف صراط مستقیم اور صدق کے طریقوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اگر یہ اس کی مشیت کی مطابق واقع ہوا ہے تو اس کی مشیت اس کائنات میں جو بھی خیر و شر موجود ہے ‘ سب کے لیے عام ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ حکم دیا کہ پہلی صورت کو ترک کیا جائے جو قول باطل کو متضمن ہے ‘ چناچہ فرمایا : (ادعوھم) ” ان کو پکارو “ یعنی اپنے منہ بولے بیٹوں کو (لابآءھم) ان کے حقیقی باپوں سے منسوب کرتے ہوئے جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ (ھو اقسط عنداللہ) یہ زیادہ قرین عدل ‘ زیادہ درس اور ہدایت کے زیادہ قریب ہے۔ (فان لم تعلموآ ابآءھم) ” پس اگر تم ان کے (حقیقی) باپوں کو نہیں جانتے “ (فاخوانکم فی الدین و موالیکم) تو وہ اللہ کے دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے موالی ہیں۔ تم انہیں اخوت ایمانی اور موالات اسلام کی نسبت سے پکارو۔ جس شخص نے ان کو متبنیٰ بنایا ہے اس کے لیے اس دعویٰ کو ترک کرنا حتمی ہے۔ یہ دعویٰ جائز نہیں۔ رہا ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارنا ‘ تو اگر ان کا نام معلوم ہو تو ان کی طرف منسوب کرکے پکارو اور اگر ان کا نام معلوم نہ ہو تو صرف اسی پر اکتفا کرو جو معلوم ہے اور وہ ہے اخوت دینی اور موالات اسلامی۔ یہ نہ سمجھو کہ ان کے باپوں کے ناموں کے بارے میں عدم علم اس بات کے لیے عذر ہے کہ تم ان کو متبنیٰ بنانے والوں کی طرف منسوب کرکے پکارو ‘ کیونکہ اس عذر سے حرمت زائل نہیں ہوسکتی۔ (ولیس علیکم جناح فیما اخطاتم) ” اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ “ یعنی اگر تم میں سے کوئی غلطی سے اس کو کسی شخص کی طرف منسوب کرکے پکارے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں یا ظاہری طور پر اس کے باپ کا نام معلوم ہے اور تم اس کو اسی کی طرف پکارتے ہو حالانکہ وہ باطن میں اس کا باپ نہیں ہے ‘ تب اس میں کوئی حرج نہیں جبکہ یہ غلطی سے ہو۔ (ولکن) ” مگر “ وہ صرف اس چیز میں تمہارا مواخذہ کرتا ہے (ماتعمدت قلوبکم) ” جس کا تمہارے دلوں نے عمداً ارتکاب کیا ہے۔ “ جو تم نے جان بوجھ کر ناجائز بات کہی ہو۔ (وکان اللہ غفورا رحیما) اس نے تمہیں بخش دیا اور تمہیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیا کیونکہ اس نے تمہیں تمہارے سابقہ گناہوں پر سزا نہیں دی ‘ تم نے جو غلطی کی اس پر درگزر کیا اور شرعی احکام بیان کرکے تم پر رحم کیا جن میں تمہارے دین اور دنیا کی اصلاح ہے۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

پیغمبر مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں ان سب کی مائیں ہیں اور رشتہ دار آپس میں کتاب اللہ کی رو سے مسلمانوں اور مہاجرین سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو (تو اور بات ہے) یہ حکم کتاب (یعنی قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے

آیت نمبر : 6 اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایک ایسی خبر بیان کرتا ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول مصطفیٰ ﷺ کے احوال اور آپ کے مرتبے کو پہچان سکتے ہیں تاکہ وہ اس حال اور مرتبے کے مطابق آپ کے ساتھ معاملہ کریں ‘ اس لیے فرمایا (النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم) ” نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔ “ یعنی انسان کے لیے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ مومن کے لیے خود اس کی ذات پر بھی مقدم ہیں کیونکہ آپ ﷺ ان کی خیر خواہی کرتے ہیں ‘ ان کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں۔ مخلوق میں سب سے بڑھ کر رحیم اور سب سے زیادہ مہربان ہیں۔ ان پر مخلوق میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کا احسان ہے کیونکہ انہیں اگر ذرہ بھر بھلائی حاصل ہوئی ہے یا ان سے کوئی ذرہ بھر برائی دور ہوئی ہے تو آپ کے ہاتھ سے اور آپ کے سبب سے ہوئی ہے۔ اس لیے جب کبھی اس کے نفس کی مراد یا کسی اور شخص کی مراد ‘ رسول اللہ ﷺ کی مراد سے متعارض ہو تو اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مراد کو مقدم رکھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے قول سے ‘ کسی شخص کے قول کا ‘ خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو ‘ مقابلہ نہ کریں ‘ آپ ﷺ پر اپنی جان ‘ مال اور اولاد کو فدا کردیں ‘ آپ کی محبت کو تمام مخلوق کی محبت پر مقدم رکھیں ‘ جب تک کہ آپ بول نہ لیں ‘ ہرگز نہ بولیں ‘ اور آپ سے آگے نہ بڑھیں۔ رسول مصطفیٰ ﷺ ‘ مومنوں کے باپ ہیں ‘ جیسا کہ بعض صحابہ کرام ؓ کی قرأت میں پڑھا گیا ہے ‘ آپ اہل ایمان کی اسی طرح تربیت کرتے ہیں جس طرح باپ اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے۔ اب اس باپ ہونے پر یہ اصول مترتب ہوتا ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہوں ‘ یعنی حرمت ‘ احترام اور اکرام کے اعتبار سے۔ گویا یہ زید بن حارثہ ؓ کے قصے کا مقدمہ ہے جو کہ عنقریب آئے گا ‘ زید بن حارثہ ؓ اس سے پہلے ” زید بن محمد “ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (ماکان محمد ابآ احد من رجالکم) (الاحزاب : 33/04) ” محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نسب اور آپ کی طرف انتساب دونوں منقطع کردیئے۔ اس آیت کریمہ میں آگاہ فرما دیا کہ تمام اہل ایمان ‘ رسول ﷺ کی اولاد ہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی اختصاص حاصل نہیں۔ اگرچہ کسی کا منہ بولا بیٹا ہونے کا انتساب منقطع ہوگیا مگر نسب ایمانی منقطع نہیں ہوا اس لیے اسے غم زدہ اور متاسف نہیں ہونا چاہیے۔ اس آیت کریمہ سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہیں لہٰذا آپ کے بعد وہ کسی کے لیے حلال نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں صراحت فرما دی ہے : (ولآ ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا) (الاحزاب : 33/35) ” اور نہ تمہارے لیے یہ جائز ہے کہ تم کبھی بھی آپ ﷺ کی بیویوں کے ساتھ نکاح کرو۔ “ (واولوالارحام) یعنی رشتہ دار ‘ خواہ وہ قریب کے رشتہ دار ہوں یا دور کے رشتہ دار۔ (بعضھم اولی ببعض فی کتب اللہ) ” آپس میں کتاب اللہ کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے۔ پس وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کریں گے۔ قرابت کا تعلق دوستی اور حلف وغیرہ کے تعلق سے بڑھ کر ہے۔ اس آیت کریمہ سے پہلے ‘ ان اسباب کی بنا پر رشتہ داروں کی بجائے منہ بولے بیٹے وارث بنتے تھے۔ اس آیت کریمہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تو اس توارث کو منقطع کردیا۔ اپنے لطف و کرم اور حکمت کی بنا پر حقیقی اقارب کو وارث بنادیا کیونکہ اگر معاملہ سابقہ عادت اور رواج کے مطابق چلتا رہتا تو شر اور فساد پھیل جاتا اور قریب کے رشتہ داروں کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے حیلہ سازی بکثرت رواج پا جاتی۔ (من المؤمنین والمھجرین) خواہ یہ قریبی رشتہ مومن اور مہاجر ہوں یا غیر مہاجر ہوں ‘ بہرحال رشتہ دار مقدم ہیں۔ یہ آیت کریمہ تمام معاملات میں قریبی رشتہ داروں کی ولایت پر دلیل ہے ‘ مثلاً نکاح اور مال وغیرہ کی ولایت (الا ان تفعلوآ الی اولیئکم معروفا) ” مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔ “ یعنی ان کا کوئی مقرر شدہ حق نہیں ہے یہ صرف تمہارے ارادے پر منحصر ہے۔ اگر تم ان کو نیکی کے طور پر کوئی عطیہ دینا چاہو تو دے دو ۔ (کان) یہ حکم مذکور (فی الکتب مسطورا) کتاب میں لکھ دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو مقدم کردیا ہے ‘ لہٰذا اس کا نفاذ لازمی ہے۔
Ayahs 33:7–8

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے اور عہد بھی ان سے پکا لیا

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کہنے والوں سے انکی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

آیت نمبر : 8 ۔ 7 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے تمام انبیائے کرام سے عام طور پر اور آیت کریمہ میں مذکور پانچ اولوالعزم رسولوں سے خاص طور پر نہایت پختہ اور موکد عہد لیا کہ وہ اللہ کے دین پر اور اس کے راستے میں جہاد پر قائم رہیں گے۔ اقامت دین اور جہاد ایسا راستہ ہے جس پر گزشتہ انبیاء ومرسلین گامزن رہے اور یہ سلسلہ افضل الانبیاء والمرسلین سیدنا محمد ﷺ پر آکر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ انبیاء کے نقش قدم پر چلیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انبیائے کرام اور ان کے متبعین سے اس میثاق کے بارے میں پوچھے گا کہ کیا انہوں نے اس عہد کو پورا کیا اور اپنے عہد پر پورے اترے تاکہ انہیں نعمتوں بھری جنت عطا کی جائے ؟ یا انہوں نے کفر کیا تاکہ انہیں دردناک عذاب دیا جائے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ) (الاحزاب : 33/32) ” اہل ایمان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا۔ “
Ayahs 33:9–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

مومنو ! خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جو (اس نے) تم پر (اس وقت کی) جب فوجیں تم پر حملہ کرنے کو) آئیں تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل) کئے جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان کو دیکھ رہا ہے

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

وہاں مومن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے

آیت نمبر : 11 ۔ 9 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمت یاد دلا کر انہیں اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ان کے اوپر سے مشرکین مکہ اور مشرکین حجاز کے لشکر اور نیچے سے کفار نجد کے لشکر ان پر حملہ آور ہوئے اور حملہ آوروں نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ رسول ﷺ اور صحابہ کرام کا قلع قمع کرکے دم لیں گے۔ یہ غزوہ احزاب کا واقعہ ہے۔ ان یہودی گروہوں نے بھی ان کی مدد کی جو مدینہ منورہ کے اردگرد رہتے تھے ‘ وہ بھی بڑے بڑے لشکر لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے اردگرد دفاع کے لیے خندق کھود لی۔ کفار نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کرلیا۔ معاملہ بہت سخت ہوگیا ‘ کلیجے منہ کو آگئے اور لوگوں نے جب بہت سخت حالات اور اسباب دیکھے تو بہت سے لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ ایک طویل مدت تک مدینہ منورہ کا محاصرہ جاری رہا۔ معاملہ ایسے ہی تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا : (واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر و تظنون باللہ الظنونا) ” اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے برے گمان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمے کی تکمیل کرے گا۔ (ھنالک ابتلی المؤمنون) اس وقت اہل ایمان اس عظیم فتنے کے ذریعے سے آزمائے گئے (وزلزلوا زلزالا شدیدا) اور ان کو خوف ‘ قلق اور بھوک کے ذریعے سے ہلا ڈالا گیا تاکہ ان کا ایمان واضح اور ان کے ایقان میں اضافہ ہو۔۔۔ ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔۔۔ ان کے ایمان اور ان کے یقین کی پختگی اس طرح ظاہر ہوئی کہ وہ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ جب غم کی شدت بڑھ گئی اور سختیوں نے گھیر لیا تو ان کا ایمان عین الیقین کے درجے پر پہنچ گیا۔ (ولما را المومنون الاحزاب قالوا ھذا ما وعدنا اللہ و رسولہ وصدق اللہ و رسولہ وما زادھم الا ایمانا و تسلیما) (الاحزاب : 33/22) ” اور جب اہل ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ کیا تھا ‘ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس واقعے نے ان کے ایمان و تسلیم میں اضافہ کردیا۔ “ یہاں منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہوگیا اور وہ چیز سامنے آگئی جسے وہ چھپایا کرتے تھے۔
Ayah 33:12

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ خدا اور اس کے رسول نے تو ہم سے محض دھوکے کا وعدہ کیا تھا

آیت نمبر : 12 یہ منافق کی عادت ہے کہ مصیبت اور امتحان کے وقت اس کا ایمان قائم نہیں رہتا۔ وہ موجودہ حالت میں اپنی کوتاہ عقل سے غور کرتا ہے اور اپنے ناقص گمان کی تصدیق کرتا ہے۔
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی کہ اے اہل مدینہ (یہاں) تمہارے لئے (ٹھہرنے کا) مقام نہیں تو لوٹ چلو اور ایک گروہ ان میں سے پیغمبر سے اجازت مانگنے اور کہنے لگا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف بھاگنا چاہتے تھے

آیت نمبر : 13 (واذ قالت طآئفۃ منھم) ” اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی “ یعنی منافقین کی جماعت۔ وہ جزع فزع اور قلب صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہوگئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا ‘ لہٰذا اس گروہ نے کہا : (یاھل یثرب) ” اے اہل یثرب ! “ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انہوں نے مدینہ منورہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ (یآاھل یثرب لامقام لکم) ” اے اہل یثرب ! (یہاں) تمہارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔ “ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق کے ایک طرف تھا۔ (فارجعوا) مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ‘ لہٰذا یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہوگیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انہیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔ انہوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کردیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ویستاذن فریق منھم النبی یقولون ان بیوتنا عورۃ) ” اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی ﷺ سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔ “ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کردے ‘ اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جاکر اپنے گھروں کی حفاظت کریں ‘ حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ (وماھی بعورۃ ان یریدون الا فرارا) ” حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔ “ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں ‘ مگر انہوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنالیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔
Ayah 33:14

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر (فوجیں) اطراف مدینہ سے ان پر آ داخل ہوں پھر ان سے خانہ جنگی کے لئے کہا جائے تو (فوراً ) کرنے لگیں اور اس کے لئے بہت کم توقف کریں

آیت نمبر : 14 (ولو دخلت علیھم) ” اور اگر ان پر داخل کیے جائیں (لشکر) “ مدینہ منورہ میں (من اقطارھا) یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہوجاتے۔ (ثم سئلوا الفتنۃ) پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا ‘ یعنی دین سے پھرجانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی (لاتوھا) تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑجاتے (وما تلبثوا بھآ الا یسیرا) ” اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔ “ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے ‘ بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہوجائے ‘ تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ یہ ان کا حال ہے۔
Ayah 33:15

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ پہلے خدا سے اقرار کرچکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھیریں گے اور خدا سے (جو) اقرار (کیا جاتا ہے اس) کی ضرور پرسش ہوگی

آیت نمبر : 15 (عاھدوا اللہ من قبل لایولون الادبار وکان عھد اللہ مسؤلا) ”(حالانکہ) انہوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہو کر ہی رہے گی۔ “ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا ‘ وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ؟
Ayah 33:16

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تم مرنے یا مارے جانے سے بھاگتے ہو تو بھاگنا تم کو فائدہ نہیں دے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائدہ اٹھاؤ گے

آیت نمبر : 16 (قل) ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انہیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے : (لن ینفعکم الفرار ان فررتم من الموت او القتل) ” اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمہارا بھاگنا تمہیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ “ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے ‘ تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضا و قدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آجاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہوجاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔ (واذا) یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہوجاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو (لاتمتعون الا قلیلا) تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمہارے فرار ہونے ‘ اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔
Ayah 33:17

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے یا اگر تم پر مہربانی کرنی چاہے (تو کون اس کو ہٹا سکتا ہے ؟ ) اور یہ لوگ خدا کے سوا کسی کو اپنا نہ دوست پائیں گے اور نہ مددگار

آیت نمبر :17 پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرلے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ (قل من ذالذی یعصمکم) ” کہہ دیجیے : تمہیں کون بچا سکتا ہے ؟ “ (من اللہ ان ارادبکم سوء ا) ” اللہ سے اگر وہ تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔ “ (وارادبکم رحمۃ) ” یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔ “ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا ‘ نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کرسکتا ہے نہ کوئی برائی دور کرسکتا ہے۔ (ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا) ” اور یہ لوگ اللہ کیس وا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔ “ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے (ولا نصیرا) ” اور نہ مددگار “ جو ان کی مدد کرکے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کردے ‘ اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضا و قدر نافذ ہوچکی ہے ‘ اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔
Ayah 33:18

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

خدا تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو (لوگوں کو) منع کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کم

آیت نمبر : 18 اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں ‘ فرمایا : (قد یعلم اللہ المعوقین منکم) ” یقیناً اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں “ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے (والقائلین لاخوانھم) اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں ‘ کہتے : (ھلم الینا) واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا یہ قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے : (یآھل یثرب لامقام لکم فارجعوا) (الاحزاب : 33/31) ” اے یثرب کے لوگو ! تمہارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔ “ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ (لایاتون الباس) خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے (الا قلیلا) ” مگر بہت تھوڑے۔ “ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں ‘ نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔
Ayah 33:19

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

(یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) انکی آنکھیں (اسی طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان لائے ہی نہ تھے تو خدا نے ان کے اعمال برباد کر دئیے اور یہ خدا کو آسان تھا

آیت نمبر : 19 (اشخۃ علیکم) ” تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔ “ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ (فاذا جآء الخوف رایتھم ینظرون الیک) ” جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں “ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو (من الموت) ” موت کی وجہ سے “ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے ‘ جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے ‘ اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بےسدھ کردیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انہیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ (فاذا ذھب الخوف) ” پس جب خوف جاتا رہتا ہے “ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں (سلقوکم بالسنۃ) ” تو تمہارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔ “ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ (اشحۃ علی الخیر) ” اور مال میں بخل کرتے ہیں “ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے ‘ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے ‘ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے ‘ اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم ‘ خیر خواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہو۔ (اولئک) ” یہ لوگ “ جو اس حالت میں بھی (لم یومنوا) ” ایمان نہ لائے “ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کردیے (وکان ذلک علی اللہ یسیرا) ” اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ “ رہے اہل ایمان ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انہیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا اس لیے انہیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمے کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں ‘ بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ‘ اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔
Ayah 33:20

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

(خوف کے سبب سے) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں رہیں (اور) تمہاری خبریں پوچھا کریں اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم

آیت نمبر : 20 (یحسبون الاحزاب لم یذھبوا) وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے ‘ مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہوگئے۔ (وان یات الاحزاب) اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں (یودوا لو انھم بادون فی الاعراب یسالون عن انبآئکم) یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب و جوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمہاری خبر معلوم کر رہے ہوں اور تمہارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری ؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوسری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ (ولو کانوا فیکم ما قتلوآ الا قلیلا) ” اور اگر وہ تمہارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔ “ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔
Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی امید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو

آیت نمبر : 21 (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ) ” یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔ “ آپ ﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے ‘ جنگی معرکوں میں حصہ لیا ‘ آپ صاحب شرف و کمال ‘ بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیٰ ﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے ‘ جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہوجائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔ اسوہ کی دو اقسام ہیں : اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیۂ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ ‘ تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ” اسوۃ سیۂ “ ہے مثلاً جب انبیاء و رسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے : (انا وجدنآ ابآء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مقتدون) (الزخرف : 34/22) ” بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ‘ ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ “ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان ‘ اللہ تعالیٰ کا خوف ‘ اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انہیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی

آیت نمبر : 22 یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا ‘ چناچہ فرمایا : (ولما را المؤمنون الاحزاب) ” اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا “ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں) کا خوف جاتا رہا۔ (قالوا ھذا ماوعدنا اللہ ورسولہ) ” وہ کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے : (ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم مستھم الباسآء والضرآء و زلزلوا حتی یقول الرسول والذین امنوا معہ متی نصر اللہ الا ان نصر اللہ قریب) (البقرہ : 2/412) ” کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں ‘ ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انہیں ہلا ڈالا گیا حتیٰ کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے ‘ پکار اٹھے : اللہ کی مدد کب آئے گی دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔ “ (وصدق اللہ و رسولہ) ” اور نہیں زیادہ کیا ان کو “ یعنی اس معاملے نے (الا ایمانا) ” مگر ایمان میں “ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ (وتسلیما) ” اور ماننے میں “ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔
Ayah 33:23

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار انہوں نے خدا سے کیا تھا اسکو سچ کر دکھایا تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا

آیت نمبر : 23 اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے ‘ مگر انہوں نے اس کے عہد کو توڑ دیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا ‘ فرمایا (من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ) ” مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کر دکھایا “ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کردیا ‘ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا (فمنھم من قضی نحبہ) ” تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔ “ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کردیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کردیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کردی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔ (ومنھم من ینتظر) اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے ‘ اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کرچکا ہے ‘ وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ (وما بدلوا تبدیلا) ” اور انہوں نے اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی “ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے ‘ بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں۔ وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں ‘ مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔
Ayah 33:24

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ خدا سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو عذاب دے یا (چاہے) تو ان پر مہربانی کرے بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت نمبر : 24 (لیجزی اللہ الصدقین بصدقھم) ” تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے “ یعنی ان کے اقوال ‘ احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملے میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ھذا یوم ینفع الصدقین ط لھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ابدا) (المائدۃ : 5/911) ” آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی ‘ ان کے لیے جنتیں ہیں ‘ جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ‘ جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ “ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں ‘ مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک و تعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے (و یعذب المنفقین) ” اور منافقوں کو عذاب دے “ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کرسکے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ (ان شآء) اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا ‘ یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا ‘ بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔ (او یتوب علیھم) یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔ اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے ‘ اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت ‘ اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ (ان اللہ کان غفورا رحیما) ” بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ “ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے ‘ خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں (رحیما) وہ ان پر نہایت مہربان ہے ‘ کیونخح اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی پھر ان کی توبہ قبول کی پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انہوں نے ارتکاب کیا تھا۔
Ayah 33:25

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور جو کافر تھے ان کو خدا نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کرسکے اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا اور خدا طاقتور (اور) زبردست ہے

آیت نمبر : 25 (و رد اللہ الذین کفروا بغیظھم لم ینالوا خیرا) ” اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انہوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انہیں وہ چیز حاصل نہ ہوسکی جس کے وہ سخت حریص تھے ‘ وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے تھے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے ‘ اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے ‘ ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا ‘ ان کی جتھے بندوں نے ان کو خود پسندی میں مبتلا کردیا تھا انہیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کردیا ‘ ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا ‘ ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا ‘ ان کے حوصلوں کو توڑ دیا ‘ ان پر رعب طاری کردیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہوگئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ (وکفی اللہ المؤمنین القتال) ” اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عادت) اسباب مہیا فرمائے۔ (وکان اللہ قویا عزیزا) ” اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔ “ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے ‘ جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے ‘ وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کرسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
Ayah 33:26

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو انکے قلعوں سے اتار دیا اور انکے دلوں میں دہشت ڈال دی تو کتنوں کو تم قتل کردیتے تھے اور کتنوں کو قید کرلیتے تھے

آیت نمبر : 26 (وانزل الذین ظاھرو ھم) ” اور ہم جنہوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔ “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے حملہ آوروں کی مدد کی (من اھل الکتب) ” اہل کتاب میں سے “ یعنی یہودیوں میں سے (من صیاصیھم) ” ان کے قلعوں سے “ یعنی انہیں سلام کے حکم کے تحت مغلوب کرکے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا (وقذف فی قلوبھم الرعب) ” اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ “ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہوگئے۔ (فریقا تقتلون) تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے (وتاسرون فریقا) اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔
Ayah 33:27

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور انکی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنادیا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

آیت نمبر : 27 (و اور ثکم) ” اور تمہیں وارث بنایا۔ “ یعنی تمہیں غنیمت میں عطا کیا (ارضھم ودیارھم و اموالھم وارضالم تطؤھا) ” ان کی زمین ‘ ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمہارے قدموں نے روندا نہیں تھا۔ “ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بےیارومددگار چھوڑ دیا ‘ تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا ‘ ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ (وکان اللہ علی کل شیء قدیرا) ” اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمہارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔ اہل کتاب کا یہ گروہ ‘ یہودیوں میں سے بنو قریظہ کا قبیلہ تھا ‘ جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انہوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر قائم رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔ جنگ خندق میں جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انہوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کردیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی ‘ اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انہوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہوگئے اور آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کرلیا تو انہوں نے حضرت سعد بن معاذ ؓ کو ثالث تسلیم کرلیا۔ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے ‘ ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنالیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی ‘ ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بےیارومددگار چھوڑ کر ان کو قتل کرکے اور ان میں سے بعض کو قیدی بناکر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔
Ayahs 33:28–29

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے پیغمبر اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت و آرائش کی خواستگار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح رخصت کردوں

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں ان کے لئے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

آیت نمبر : 29 ۔ 28 رسول اللہ کی ازواج مطہرات ؓ نے جمع ہو کر آپ ﷺ سے کچھ ایسے مطالبات کیے جن کو ہر وقت پورا نہیں کیا جاسکتا تھا مگر وہ متفق ہو کر اپنا مطالبہ کرتی ہی رہیں۔ یہ چیز رسول اللہ ﷺ پر بہت شاق گزری۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ آپ کو ان کے ساتھ ایک ماہ کے لیے ایلا (زوجہ کے قریب نہ جانے کا عہد) کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کے معاملے کو آسان اور آپ کی زواج مطہرات کے درجات کو بلند کرنا چاہتا تھا اور آپ کی ازواج مطہرات سے ہر اس بات کو دور کرنا چاہتا تھا جو ان کے اجر کو کم کرے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی ازواج کو (اپنے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دے دیں۔ فرمایا : (یایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا و زینتھا) ” اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو۔ “ یعنی اگر دنیا کے سوا تمہارا کوئی مطلب نہیں اور تم دنیا کی زندگی پر راضی اور اس کے فقدان پر ناراض ہو اگر تمہارا یہی حال ہے تو مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔ (فتعالین امتعکن) ” تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں۔ “ یعنی میرے پاس جو بھی سروسامان ہے ‘ وہ تمہیں عطا کردوں (اسرحکن) اور تمہیں الگ کردوں (سراحا جمیلا) یعنی کسی ناراضی اور سب و شتم کے بغیر ‘ بلکہ خوش دلی اور انشراح صدر کے ساتھ ‘ اس سے قبل کہ حالات نامناسب سطح تک پہنچ جائیں تمہیں آزاد کردوں۔ (وان کنتن تردن اللہ و رسولہ والدار الاخرۃ) ” اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طلب گار ہو۔ “ یعنی اگر آخرت کا گھر تمہارا مطلوب و مقصود ہے اور جب تمہیں اللہ ‘ اس کا رسول اور آخرت حاصل ہوجائیں تو تمہیں دنیا کی کشادگی اور تنگی ‘ اس کی آسانی اور سختی کی پروا نہ ہو اور تم اسی پر قناعت کرو جو تمہیں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے میسر ہے اور آپ سے ایسا مطالبہ نہ کرو جو آپ پر شاق گزرے (فان اللہ اعد للمحسنت منکن اجرا عظیما) ” تو (جان لو) اللہ نے تم میں سے نیکوکار عورتوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان کے وصف احسان پر اجر مرتب کیا ہے کیونکہ اس اجر کا سبب اور موجب یہ نہیں کہ وہ رسول ﷺ کی بیویاں ہیں بلکہ اس کا موجب یہی وصف ہے۔ احسان کا وصف معدوم ہوتے ہوئے مجرد رسول ﷺ کی بیویاں ہونا کافی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے تمام ازواج مطہرات ؓ کو اختیار دے دیا۔ تمام ازواج مطہرات ؓ نے اللہ ‘ اس کے رسول اور آخرت کو اختیار کرلیا ‘ ان میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہی۔ اس تخییر سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ کے لیے اہتمام کرنا اور اس پر غیرت کا اظہار کرنا ‘ آپ کا ایسے حال میں ہونا کہ آپ کی ازواج مطہرات کے بہت سے دنیاوی مطالبات کا آپ پر شاق گزرنا۔ (2) اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج مطہرات کے حقوق کے بوجھ سے سلامت ہونا ‘ اپنے آپ میں آزاد ہونا ‘ اگر آپ ﷺ چاہیں تو عطا کریں اور اگر چاہیں تو محروم رکھیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ) (الاحزاب : 33/83) ” نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی حرج نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کردیا۔ “ (3) اللہ تعالیٰ کے رسول کا ان امور سے منزہ ہونا جو اگر ازواج مطہرات میں ہوتے ‘ مثلاً اللہ اور اس کے رسول پر دنیا کو ترجیح دینا۔۔۔ تو آپ ان کے قریب نہ جاتے۔ (4) آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کا گناہ اور کسی ایسے امر سے تعرض سے سلامت ہونا جو اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی کا موجب ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ پر ان کی ناراضی کو ختم کردیا ‘ جو آپ کی ناراضی کا موجب تھی ‘ آپ کی ناراضی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی عذاب کی موجب ہے۔ (5) ان آیات کریمہ سے ‘ ازواج مطہرات کی رفعت ‘ ان کے درجات کی بلندی اور ان کی عالی ہمتی کا اظہار ہوتا ہے کہ انہوں نے دنیا کے چند ٹکڑوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ ‘ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اپنا مطلوب و مقصود اور اپنی مراد بنایا۔ (6) ازواج مطہرات کا اس اختیار کے ذریعے سے ایک ایسے معاملے کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہونا جو جنت کے درجات تک پہنچاتا ہے ‘ نیز اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ تمام ازواج مطہرات دنیا و آخرت میں آپ کی بیویاں ہیں۔ (7) اس آیت کریمہ سے نبی ﷺ کے اور آپ کی ازواج مطہرات کے درمیان کامل مناسبت کا اظہار ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کامل ترین ہستی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ آپ کی ازواج مطہرات بھی کامل اور پاک عورتیں ہوں۔ (والطیبت للطیبین والطیبون للطیبت) (النور : 43/62) ” اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔ “ (8) یہ تخییر قناعت کی داعی اور اس کی موجب ہے۔ جس سے اطمینان قلب اور انشراح صدر حاصل ہوتا ہے ‘ لالچ اور عدم رضا زائل ہوجاتے ہیں جو قلب کے لیے قلق ‘ اضطراب اور غم کا باعث ہوتے ہیں۔ (9) ازواج مطہرات کا آپ کو اختیار کرنا ‘ ان کے اجر میں کئی گنا اضافے کا سبب ہے ‘ نیز یہ کہ وہ ایک ایسے مرتبے پر فائز ہیں جس میں دنیا کی کوئی عورت شریک نہیں۔
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول اللہ کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی اس کو دونی سزا دی جائے گی اور یہ بات خدا کو آسان ہے

آیت نمبر : 30 جب ازواج مطہرات ؓ نے اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور آخرت کو چن لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے کئی گنا اجر کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی ذکر کردیا کہ ان کے گناہوں کی سزا بھی کئی گنا ہوگی تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور اجر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اگر ان میں سے کوئی فحش کام کا ارتکاب کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دو گنا عذاب مقرر فرمایا ہے۔
Ayah 33:31

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو تم میں سے خدا اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور عمل نیک کرے گی اس کو ہم دونا ثواب دیں گے اور اسکے لئے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے

آیت 31 (ومن یقنت منکن) یعنی تم میں جوئی کوئی اطاعت شعار ہوگی (للہ و رسولہ وتعمل صالحاً ) ” اللہ کی اور اس کے رسول کی اور وہ نیک عمل کرے گی۔ “ خواہ وہ عمل تھوڑا ہو یا بہت (نوتھآ اجرھا مرتین) ” ہم اسے دگنا اجر دیں گے “ یعنی وہ اجر جو ہم دوسروں کو عطا کرتے ہیں، ان کو ان سے دوگنا اجر عطا کریں گے (اعتدنا لھا رزقا کریما) ” اور ہم نے اس کے لئے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔ “ اس سے مراد جنت ہے، چناچہ ازواج مطہرات نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، نیک عمل کئے تو اس سے ان کا اجر وثواب بھی معلوم ہوگیا۔